Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21
وہ بار بار بات کرتے کرتے آنکھیں بند کر کے لیٹ جاتا ۔۔
” کچھ نہیں کھلایا ۔۔۔بس پین کلر دی تھی ۔۔۔مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا ۔۔۔بتا یہ دروازہ کیسے کھلے گا ۔۔۔کوڈ بتا ۔
وہ اب بغور اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے پانی کا گلاس اٹھایا پانی ۔۔۔زور سے اس کے منہ پے دے مارا ۔۔
وہ ہڑبڑا کہ اٹھ بیٹھا ۔۔
۔” یہ کیا بدتمیزی ہے محصور تم ہو یا ۔۔میں ۔۔۔مجھے لگتا ہے میں مغوی ہوں ۔۔۔تیرے پاس ۔۔۔”
“زیادہ بک بک نہ کر ۔۔کوڈ بتا ۔۔۔۔ورنہ ۔۔۔۔۔”
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ۔۔۔کچن کی جانب بڑھی اس نے سبزی کاٹنے والی چھری اٹھائی ۔۔۔۔
واپس مطھر کی جانب آئی ۔۔۔۔
وہ ایک دم سے بیڈ پر ہی کھڑا ہو گیا ۔۔۔” اوئے یہ کیا کر رہی ہے ۔۔
اسے اس پر رہ رہ کے غصہ آرہا تھا ۔۔۔
” تیرا خون ۔۔اب شرافت سے چل۔اور کوڈ بتا ۔۔
وہ اس پر چھری تانے کھڑی تھی ۔۔
” میری بات مان ۔۔۔وہاں ۔۔۔” اس نے بات بیچ میں ہی کاٹ دی ۔۔۔
” میں یہ بکواس پہلے بھی سن چکی ہوں ۔۔۔۔تو اب شرافت سے چل ۔۔۔۔”
” اگر میں نہ چلوں ۔۔۔” وہ بھی کچھ زیادہ ہی ڈھیٹ تھا ۔
اس نے چھری سے اس کے بازو پہ وار کر دیا ۔۔
وہ۔چلا اٹھا ۔۔۔۔” تو کیا سمجھا میں تجھ پر مری جا رہی ہوں ۔۔۔تجھے کچھ نہیں کروں گی ۔۔۔اب اٹھ ۔۔۔۔” وہ بازو پہ ہاتھ رکھے بیڈ سے اترا ۔۔۔وہ شعلہ بار نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا ۔۔۔۔پر سامنے پرواہ کسے تھی ۔۔
وہ اس کے آگے تھا ۔۔۔۔وہ چھری ہاتھ میں لیے اس کے پیچھے چل۔رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے دروازے پر کوڈ کی جگہ اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔دروازہ کھلتا چلا گیا
باہر کا منظر نہایت ہی دلکش تھا ۔۔
۔۔۔آسمان پہ ستارے جگمگا رہے تھے ۔۔۔۔ایسا منظر شہر میں اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔۔اسے لگ رہا تھا وہ آسمان کے نزدیک ہے ۔۔۔
” ہم اس سرنگ سے اندر آئے تھے ۔۔۔وہاں بھی ایک دروازہ ہے ۔۔۔۔جس پر ان کا اپنا کوڈ۔۔ لگا ہے ۔۔۔مطلب جو شخص ہمیں یہاں لایا تھا ۔۔۔ان کا ہاتھ ٹچ کرنے سے ہی وہ مین گیٹ کھلے گا ۔۔۔”
وہ تو اس منظر میں کھوئی تھی ۔وہ کیا کہہ رہا تھا اسے تو جیسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ٹھنڈ بہت زیادہ تھی ۔۔۔
اس نے کب چھری والا ہاتھ نیچے کر لیا تھا ۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی ۔۔۔
” اب اندر چلیں کچھ اور بھی دیکھنا ہے ۔۔۔۔سردی بہت زیادہ ہے ۔بیمار پڑ جائو گی ۔۔۔
اسے احساس تک نہ ہوا ۔۔کہ وہ اس منظر میں ایسی کھوئی یہ تک یاد نہ رہا وہ یہاں تک کیسے پہنچی ہے ۔۔
” بہت خوبصورت منظر ہے نا ۔۔۔” وہ گول گول گھمنے لگی ۔۔
” آزادی کتنی خوبصورت ہے نا۔۔۔”
☆☆☆☆☆☆☆☆
اس نے اس پر چھری سے وار کر دیا ۔۔۔۔اسے یہ اندازہ نا تھا ۔۔۔کہ وہ اس حد تک جائے گی ۔۔۔۔
اس نے ہاتھ زخم پر رکھا ۔۔۔خون رسنے لگا تھا ۔۔۔
لیکن اس سفاک لڑکی کی آنکھوں میں ۔۔۔
رحم نام کی کوئی چیز نہ تھی ۔۔۔۔۔
اس نے اتنی سخت دل لڑکی اپنی زندگی میں نہیں دیکھی تھی ۔
وہ اس کے ساتھ اس دروازے کی جانب گیا ۔۔۔۔
پہلے ہی پٹائی کا درد تھا اوپر سے نیا زخم نجانے ابھی اور کیا کیا سہنا تھا ۔۔۔۔
وہ اب دونوں لائونج سے باہر اس قلعہ نما جگہ کہ صحن میں تھے ۔۔۔
نومبر ابھی شروع نہ ہوا تھا لیکن اس جگہ غضب کی سردی تھی ۔۔۔
وہ دونوں عام سے کپڑوں میں تھے ۔۔۔
سھل تو باہر نکل کے جھومنے لگی تھی ۔۔۔۔
اس کے چہرے پہ خوشی تھی ۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں چمک تھی ۔۔۔
کچھ دیر پہلے والی اداس آنکھوں میں زندگی کی رمک تھی ۔۔۔
وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔جو اس کے دل میں اتر رہی تھی ۔۔۔
وہ زمین پہ رہ کے اس کا چاند تھی
وہ نہ پیکر حسن تھی ۔۔۔نہ کوئی اپسرا تھی ۔۔۔لیکن اس کے لیے وہ اس کی قلوپطرہ تھی ۔۔۔۔۔دل اس خطرناک لڑکی کا اسیر بن گیا تھا ۔۔۔۔
وہ اس کے لیے دنیا کی حسین ترین لڑکی تھی۔۔۔۔” شاید اسی کو محبت کہتے ہیں ۔۔۔شاید اسی کو دیوانگی کہتے ہیں ۔۔” ۔وہ زخم دیتی اسے پھول لگتے ہیں ۔۔۔
وہ بھی اسے دیکھ کر مسکرانے لگا درد تکلیف سب اس کی خوشی کے پیچھے گم ہو گئے تھے ۔۔۔۔
اس کا دل کیا وہ اسی طرح خوشی میں جھومتی رہے ۔۔۔اور وہ اسے دیکھتا رہے ۔۔۔
” یہ مجھے کیا ہو رہا ہے ۔۔۔میں کیوں اس پاگل لڑکی سے پیار کرنے لگا ہوں ۔۔۔۔”
کچھ ہی دیر میں وہ چھیکنے لگی تھی ۔۔
وہ جلدی سے اندر کی طرف لپکا۔اسے یاد تھا ایک بیگ تھا اس کے پاس ۔۔۔جس میں اس کے ضرورت کا سامان تھا ۔۔۔وہ ۔اس کہ بیگ سے شال اٹھا لایا۔۔۔اس آنے میں بمشکل دس منٹ ہی لگے تھے ۔۔۔
۔۔جب وہ واپس آیا وہ وہاں تھی ہی نہیں ۔۔۔
اس نے آس پاس نظر دوڑائی ۔۔۔وہ اسے کہیں نظر نہیں آئی ۔۔۔۔وہ جگہ اتنی بھی بڑی نہ تھی ۔۔وہ آس پاس ہوتی تو ضرور نظر آتی ۔۔۔۔۔” سھل ۔۔۔سھل ۔۔۔۔۔”
وہ گھبرا کہ اسے آواز دینے لگا ۔۔۔۔اس کا دل ڈوبنے لگا ۔۔۔۔” وہ کہاں جا سکتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆
صبح کے پانچ بجے گیٹ پر گاڑی کا ہارن بجا ۔۔۔
وہ جانتی تھی ۔۔۔سعادت فارم ہاوس سے واپس آگئے ہیں ۔۔۔
لیکن وہ سعادت سے اس ٹائم بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
وہ جان بوجھ کر اس طرح لیٹی رہی ۔۔۔سامنے والے کو اس کے سوئے ہوئے ہونے کا گماں گذرے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماضی
اسے آخر کار پتہ لگ گیا تھا ۔۔اس کے والد اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔
راحیل نے اسے یہی بتایا تھا یہ سب سعادت کی وجہ سے ہوا ہے ۔
لیکن آخری وہ الفاظ تو آپ کے تھے ۔۔۔پھر آپ کو مجھ پر” یقین کیسے آگیا ۔۔۔حقیقت کیا ہے
” ۔مجھے کچھ سمجھ کیوں نہیں آرہا
۔۔وہ راحیل کی طرف دیکھ رہی تھی
” وہ ایک غلط فہمی تھی ۔۔ختم ہوگئی کوئئ کسی کی وجہ سے نہیں مرتا ۔۔۔ موت کا ایک دن مقرر ہوتا ہے ۔۔۔یہ کفر جیسی باتیں نہ کیا کرو”
راحیل اس سے نظریں چرا رہا تھا
” آپ مجھے امی کی طرف لے چلیں ۔۔۔”
وہ بے چین تھی ۔۔۔اپنی والدہ سے ملنے کو ۔۔۔کیونکہ والد کا آخری دیدار تو وہ کر نہ سکی تھی اسے ایسا لگ ریا تھا والدہ بھی بس کچھ دنوں کی مہمان ہے ۔۔۔
” تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ۔۔ابھی کیسے جاؤ گی ۔تم۔آرام کرو ۔۔
وہ اس کی اس بات سے گویا بھڑک اٹھی ۔۔
” میرے والد دنیا میں نہیں رہے امی کی حالت ٹھیک نہیں اور آپ کہتے میں آرام کروں ۔۔۔”
وہ چلا اٹھی ۔۔۔اس کا صبر جواب دے گیا تھا ۔۔
اس نے راحیل کو مجبور کر دیا
۔۔وہ اسے وہاں لے جائے ۔۔۔ساس کا رویہ تو اب بھی اس کے ساتھ ٹھیک نہیں تھا ۔۔
لیکن راحیل پھر سے اس کی طرفداری کرنے لگا تھا ۔
راحیل اسے اپنی امی کے دروازے پر چھوڑ کر چلا گیا ۔۔
وہ اپنی ماں کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھی تھی ۔۔
ماں بیٹی کافی دیر تک لپٹ کر روتی رہی
صبح سے شام۔ہوگئی گھر میں ماتم سا عالم۔تھا ۔۔۔
راحیل اسے لینے آیا ۔
لیکن وہ کچھ دن اپنی ماں کے ساتھ رہنا چاہتی تھی ۔۔۔
” بیٹی تم چلی جاتی ۔۔۔۔یہاں سعادت آتا رہتا ہے ۔۔۔۔پھر نہ کوئی غلط فہمی ہوجائے ۔۔۔۔”
ممتاز بیگم ۔۔۔کی باتوں سے صاف ظاہر تھا وہ صرف بیٹی کا گھر بسا دیکھنا چاہتی ہے ۔۔۔
” امی مجھے یہ بتائیں ہوا کیا تھا قصور کس کا تھا ۔۔۔۔۔۔سعادت قصوروار ہے یا راحیل ۔۔۔۔؟؟؟ امی خدارا مجھے بتائیں ۔۔۔”
اس کے دل پہ ایک بوجھ تھا اسے یہی لگتا تھا ۔۔سب کچھ اس کی اور سعادت کی وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔وہ یہاں آنا چھوڑ دیتی تو یہ سب نہ ہوتا ۔۔۔
” کسی کا قصور نہیں یہ سب قسمت کا کھیل ہے ۔۔۔۔تم سب کچھ بھول کر اپنی بیٹی اور راحیل پر توجہ دو ۔۔۔اپنا گھر نہ خراب کرو ۔۔۔
پوری زندگی پڑی ہے
۔۔۔اپنی بچی کا سوچو ۔۔۔جو کچھ ماضی میں ہوا اسے بھول کر آگے بڑھو ۔۔۔میری فکر نہ کرو ۔۔۔سعادت اور سحر ہیں نا میرا خیال رکھنے کو ۔۔۔۔ “
اسے نجانے کیوں ایسا لگ رہا تھا اس سے کوئی بات چھپائی جا رہی ہے ۔۔۔
ممتاز بیگم عدت نہ کر سکی ۔۔۔آئے روز اسے ہاسپیٹل جانا پڑتا ۔۔۔
وہ سھل کو گود میں لیے ۔۔۔صحن میں بیٹھی اپنے والد کے تخت کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔جب کسی مانوس سی آواز میں سلام کیا گیا ۔۔۔
اس نے آنسو صاف کیے اور سلام کا جواب دیا
” آگئی تم ۔۔۔راحیل کے ساتھ چلی کیسے گئی۔۔۔۔ایک بار بھی اپنے والد کا احساس نہ ہوا ۔۔۔۔وہ اس کے الفاظوں کے نشتر برداشت نہ کر سکا ۔۔۔زندگی کی بازی ہارگئے ۔۔۔۔
اتنی خود غرض تھی تم ۔۔۔۔شیری تم ایسی تو نہیں تھی ۔۔
اس نے پلٹ کر شعلہ بار نگاہوں سے اسے دیکھا ۔۔۔
” تم ہمارا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔۔۔میرے والد کو مار کے سکون نہیں ملا ۔۔۔۔”
وہ نجانے کیوں اس پر چلا اٹھی ۔۔۔
” میں نے نہیں تمہارے شوہر نے مارا ہے اسے ۔۔۔نہ وہ تم پر تہمت لگاتا ۔۔
وہ کچھ اور کہتا پر وہ چلا اٹھی ۔۔۔
” بس کرووو ۔۔۔راحیل نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔”
☆☆☆☆☆♡♡♡◇◇
وہ اس پر چلا رہی تھی ۔۔۔۔اسے شھربانو کی خود غرضی پر افسوس ہو رہا تھا ۔۔
اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی وہ اسی شخص کی طرفداری کر رہی تھی ۔۔۔
” مجھ پہ چلانا بند کرو ۔۔۔۔۔میں کوئی غلام نہیں ہوں تمہارا ۔۔۔۔میں کسی کے پیچھے نہیں لگا ۔۔۔میں صرف آنٹی کی محبت کی وجہ سے آیا تھا ۔۔۔۔انہیں میری ضرورت تھی۔۔۔۔جن کی تمہارے جیسی خود غرض اولاد ہو ۔۔۔۔انہیں دوسروں پہ یقین کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔تم مجھ پر غصہ کرنے کا حق ۔۔نہیں رکھتی ۔۔۔اس لیے اپنی حد میں رہ کر مجھ سے بات کرو ۔۔۔
اس کا غصہ سوا نیزے پر تھا ۔۔۔۔
وہ جس خاندان سے تھا وہاں عورت کو عزت دی جاتی لیکن بدلے میں انہیں بھی ۔۔احترام چاہیے تھا ۔۔
پیار کے بدلے پیار احترام کے بدلے احترام ۔۔
اس کا رخ اب ممتاز بیگم کی طرف تھا ۔۔۔
” آنٹی میں کچھ دن نہیں آسکتا ۔۔۔ایک ضروری کام سے شھر سے باہر جا رہا ہوں ۔۔۔”
اس نے دل پہ پتھر رکھ کے ممتاز بیگم سے جھوٹ بولا ۔۔۔۔
وہ شھربانو کی موجودگی میں وہاں آنا نہیں چاہتا تھا۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ اسے ہکا بکا چھوڑ کے اندر چلا گیا ۔۔۔اور پانچ منٹ کے بعد تیزی سے باہر نکلا ۔۔
” میں اب یہاں نہیں آئون گا کم سے کم جب تک آپ یہاں پر موجود ہے ۔۔۔۔تب تک تو نہیں ۔
وہ جا چکا تھا ۔۔۔۔اسے اپنے رویے پر افسوس ہوا ۔۔۔وہ۔جانتی تھی سب کچھ راحیل کی باتوں کی وجہ سے ہوا تھا ۔۔۔۔لیکن وہ پھر بھی سعادت پر غصہ کر رہی تھی ۔۔۔۔
اس دن کے بعد سعادت وہاں نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
” میں کچھ دن کے لیے گھر جا رہی ہوں ۔۔۔جب تم اپنے گھر جانا تو مجھے اطلاع ضرور کرنا ۔۔۔۔اور یہ نمبر سعادت کا ہے اس نے دیا تھا ۔
۔۔امی کی حالت ٹھیک نہیں رہتی کسی بھی وقت ضرورت پڑ سکتی ہے ۔۔۔۔
وہ ایک چٹ اسے پکڑاتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔۔
” تو اس کے نمبر کی کیا ضرورت ہے جیجو اور راحیل ہیں نا ۔۔۔
” راحیل کا تو نام بھی مت لو ۔۔” سحر غصے میں دانت پیستے ہوئے بولی ۔۔۔۔
” میرا نمبر بھی ڈائری میں درج ہے ۔۔۔۔کچھ بھی ہو کال ضرور کرنا ۔۔۔سعادت کے پاس اپنی گاڑی ہے اس وجہ سے کہا ۔۔۔”
وہ سعادت کی وکالت کر کے وہاں سے جا چکی تھی ۔۔۔۔
لیکن ان سے سامنا دوبارہ شاید قسمت میں لکھا تھا ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
حال
وہ اسے نظر آگئی تھی ۔۔۔۔۔وہ ایک چٹان کے اوپر کھڑی اسے آواز دے رہی تھی ۔۔۔۔۔
” تم نے صحیح کہا تھا ۔۔۔یہاں پہ چٹانوں سے دیوار بنی ہے ۔۔
وہ اس چٹان سے اترتے اس سے مخاطب تھی ۔۔۔
” تم وہاں اوپر کیا کرنے گئی تھی ۔۔۔۔۔”
وہ دونوں آپس میں چلا کہ بات کر رہے تھے ۔۔
فاصلہ اتنا نا تھا ۔۔۔پر آواز کی رفتار کم تھی ۔۔
وہ نیچے اتری تو اسکی سانس پھول رہی تھی ۔
اس نے اس موبائل چھینا ۔۔۔۔جیسے ہی اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی اس نے انگلی کے اشارے سے خاموش رہنے کا کہا ۔۔۔
وہ موبائل پر کچھ ٹائپ کرنے لگی ۔۔۔
ٹائپ کر کے موبائل اسے واپس کردیا ۔۔
وہ ٹیکسٹ پڑھنے لگا ۔
وہ دونوں اب گھر کے اندر لائونج میں موجود تھے ۔۔۔۔
” اس کمرے کی طرف چلتے ہیں ۔
شال اس نے خود ہی اس کے ہاتھ سے لے لئ ۔۔ وہ دینے تو اسے شال آیا تھا لیکن ۔۔اسے شال دینا یاد نہ ریا ۔
” اسی کمرے سے آدمی باہر آیا تھا ۔۔۔” وہ اب ہر بات موبائل پہ ٹیکسٹ کر رہے تھے ۔۔۔
تاکہ ان کی آواز اغوا کاروں تک نہ پہنچے ۔۔
وہ اس کمرے کی جانب گیا لیکن اسنے دروازے کو ہاتھ نہ لگایا ۔۔۔
۔☆☆☆☆☆☆☆☆
۔۔کسی بھی غیر ضروری چیز کو چھونے سے سائرن بجنے لگتے ہیں۔۔۔۔
اسے اب اور زیادہ محتاط رہنا تھا ۔۔۔۔
۔ان اغوا کاروں کو ذرا بھی بھنک پڑ گئی ۔۔۔تو وہ ان کے ساتھ کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔
دونوں کا رخ اب اپنے کمروں کی جانب تھا ۔۔۔
وہ جانتا تھا وہ لڑکی اسے صرف استعمال کر رہی ہے ۔۔۔
لیکن باہر نکلنے کے بعد ۔۔۔!!! بقول اس شخص کے اس کی زندگی کو واقعی میں خطرہ ہوا ۔۔۔!!!!
۔اس کی بیوقوفی کی وجہ سے ۔سھل کو کچھ ہو گیا ۔۔۔تو کیا وہ خود کو معاف کر پائے گا ۔۔۔اس کے ذہن میں سوالوں اور اس اٹھنے والے خدشات کا ہجوم تھا ۔۔۔۔
اس کے پاس دو راستے تھے ۔۔۔۔یا تو وہ ان اغواکاروں کی بات مان کے تین مہینے وہی محصور رہے اور ان کے ساتھ تعاون کرے ۔
۔۔یا تو پھر سھل کی بات مان کے وہاں سے نکلنے کی کوشش کرے ۔۔۔اتنا تو وہ بھی جان چکا تھا ۔۔۔تین مہینے کے بعد بھی راستے نہیں کھلیں گے ۔۔۔۔
اسے وہاں سے بھاگ جانے والی بات ہی درست لگی ۔۔
۔۔اسے اب وہاں کچھ گڑ بڑ ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔اس کی چھٹی حس اسے کسی بڑے خطرے سے آگاہ کر رہی تھی ۔۔
۔۔۔لیکن ان وادیوں سے رہا ہونا اتنا آسان نہ تھا ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆◇◇♡♡◇◇◇◇
اس کی آنکھ کھلی تو سعادت اس کے سامنے صوفے پہ بیٹھا اسے ہی گھور رہا تھا ۔
۔۔۔وہ جانتئ تھی سعادت کے ارادے نیک نہیں ۔۔
وہ اسے نظر انداز کر کے فریش ہونے چلی گئی ۔۔
۔۔وہ واپس آئی تب بھی وہ وہی اسی صوفے پر موجود تھا ۔۔
وہ آئینے کے سامنے بیٹھ کر بال خشک کرنے لگی ۔۔۔۔
وہ اب بھی اسے چھبتی ہوئی نظروں سے گھور رہا تھا ۔۔۔
وہ اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا ۔۔۔۔
” تم اب اس کمرے سے باہر نہیں جاؤ گی ۔۔۔۔بہت ہوگیا چوہے بلی کا کھیل ۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہا تھا ۔۔
وہ بھی اٹھ کر اس کے مقابل آگئی ۔۔۔۔
” کس کو دے رہے ہو دھمکی ۔۔۔۔میں بھی مسز سعادت ملک ہوں ۔۔۔
۔۔جانتی تھی تم یہ سب کرو گے ۔۔۔۔اس لیے اپنا بندوبست کر چکی ہوں ۔۔۔۔تم مجھے شام تک بھی بند نہیں رکھ سکتے ۔۔۔۔مجھے تو کیا ۔۔۔میرا موبائل تک اوف نہیں کر سکتے ۔۔
وہ رخ بدل کر واپس ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھ گئی ۔۔
” تم مسز سعادت ملک ہو سعادت نہیں ہو۔۔”
اس نے اس کا موبائل اٹھا کر اس سے سم نکالی ۔۔۔۔۔اور اسے زور سے زمین پر پٹخہ ۔۔۔۔
موبائل نیچے پھینک کر وہ اپنے بوٹ سے اسے مسلنے لگا ۔
شھربانو اپنی جگہ سے ہلی تک نہ تھی ۔۔۔۔۔وہ وہی دونوں بازوں سینے پہ لپیٹے ۔۔۔اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
” ہو گیا ۔۔مقابل کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔
پر وہ تو جیسے اس منظر سے محظوظ ہو رہی تھی ۔۔
” تم اب اس کمرے سے باہر نہیں جائو گی ۔۔۔۔سمجھی ۔۔۔”
۔۔وہ ابھی جانے کے لیے پلٹا ہئ تھا ۔۔۔۔۔سامنے سے سونیا اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔شھربانو اپنا پہلا پتا پھینک چکی تھی ۔۔۔
” کیا ہوا پاپا ۔۔۔۔” شھربانو قہقہے لگانے لگی ۔۔۔۔وہ سعادت کی ہار کا ماتم کر رہی تھی ۔۔
” کچھ نہیں مائی ڈال ۔۔۔تیرے پاپا کو تنگ کر رہی تھی ۔۔۔۔آور اسے اتنا غصہ آیا ۔۔۔۔۔کہ ” اس نے پھر قہقہہ لگایا ۔۔۔۔۔
سعادت کہ چہرے کی ہوائیاں اڑ گئی ۔۔۔۔
” کہ یہ جو موبائل توڑ رہا ہے وہ میرا نہیں اس کا اپنا ہے ۔۔۔” اس نے پھر سے اپنا مصنوعی قہقہہ لگایا ۔۔۔۔
سعادت نے غصے سے اس کی جانب دیکھا۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆
شھربانو واقعی میں اس سے دو قدم آگے نکلی ۔۔۔
اچانک سے سونیا کی آمد ۔۔۔اسے چاروں شانے چت کر گئی ۔۔
سونیا کے گھر ہوتے ہوئے ۔۔۔وہ شھربانو پر کوئی سختی نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔
واقعی اس نے غصے میں جو موبائل شھربانو کا سمجھ کر توڑا تھا وہ اس کا اپنا تھا ۔۔۔۔
دونوں کے موبائل سیم ماڈل سیم کمپنی کے تھے ۔۔۔۔
غصہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دیتا ۔۔۔۔اور یہی وہ کمزوری تھی ۔۔۔۔جو سعادت کو مات دے رہی تھی ۔۔۔وہ غصے اور جنون میں اپنا ہی نقصان کر بیٹھتا ۔۔۔
وہ خود کو نارمل کرنے لگا ۔۔۔تاکے سونیا کے آگے اس کا امیج خراب نہ ہو ۔۔۔۔
” اووو سونیا بیٹا تم کب آئی ۔۔۔اور پاپا کو بتایا تک نہیں ۔۔۔۔” وہ سونیا کی پیشانی پر پیار کرتے ہوئے اپنا ایک بازو سونیا کے شانوں پہ رکھا ۔۔
” سونیا کو بلا کہ تم نے اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔”
اور آنکھوں ہی آنکھوں میں شھربانو سے کہہ گیا ۔۔۔۔۔
سعادت کا اب وہاں رکنا بیکار تھا ۔۔۔لیکن وہ خاموش تماشائی بھی بنا نہیں رہ سکتا تھا
اس نے کب شھربانو کی بازی الٹ دی تھی ۔۔۔وہ جان بھی نہ سکی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇
ساری رات جاگنے کی وجہ سے ان دونوں کی آنکھ شور کی وجہ سے کھلی ۔۔
اس خاموش زندان میں اس شور سے وہ جاگ گئے ۔۔۔۔۔” یہ شور کہاں سے آرہا ہے ۔۔۔”
دوسری طرف سھل بھی اپنے کمرے میں جاگ گئی ۔۔۔۔تھا
باہر کچھ آدمی اسے نظر آئے ۔۔
۔۔وہ جیسے ہی باہر جانے لگی اسے مطھر کی ہدایات یاد آنے لگی ۔۔۔
(” سنو کوڈ اب تم اندر سے لگا دینا ۔۔۔جب ضرورت پڑے باہر آجانا ۔۔۔لیکن جب وہ لوگ آئیں گے ۔۔۔۔ان کے سامنے میں ہی ٹچ کروں گا اور تم اندر سے کوڈ لگا دینا ۔۔۔کوئی بیوقوفی مت کرنا ۔۔۔ورنہ اب کی بار پھنسے تو بچنا مشکل ہے ۔۔۔”
اسے اب اس کے آنے کا انتظار کرنا تھا۔۔
وہ لوگ باہر باتیں کر رہے تھے ۔۔۔لیکن ان کی آواز ان تک نہیں پہنچ رہی تھی ۔۔۔۔
” یہ جوکر کہاں رہ گیا ۔۔۔”
اسے اگلے ہی پل مطھر لائونج میں نظر آگیا ۔۔۔
ان دونوں کی نظریں ملی ۔۔۔اس نے گردن ہلا کہ سوال کیا ۔۔۔
سامنے سے اس نے بھی گردن نفی میں ہلا کہ ۔۔۔” کچھ پتہ نہیں کا ” اشارہ دیا ۔
چند منٹ بعد ہی وہ اس دروازے کے قریب آتا دکھائی دیا۔۔۔مطھر نے سر کی جنبش سے اسے دروازے کے قریب آنے کا کہا ۔۔۔
وہ بھی اسی اشارے کی منتظر تھی ۔۔۔۔
تیز تیز قدم اٹھاتی وہ کوڈ لگانے کی جگہ تک پہنچی ۔۔۔
کوڈ اس نے ہی لگایا ۔۔۔۔
دروازہ کھل چکا تھا ۔۔۔۔۔وہی آدمی اب ان کے بیچ کھڑا تھا ۔۔جسے مطھر خان لالہ کہہ کہ پکار رہا تھا ۔۔۔۔
” لڑکی تم جلدی سے تیار ہو کہ آجائو ۔۔۔۔کیوں کیا کس لیے کا وقت ہمارے پاس نہیں دس منٹ ہیں تمہارے پاس ۔۔۔اور لڑکے تم بھی ۔۔۔دس منٹ مطلب دس منٹ گیاروہ منٹ نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔”
وہ شخص رعب اور دبدبے سے ان پر حکم چلا رہا تھا ۔۔۔
وہ اس شخص کی نقلیں اتارتی ۔۔کمرے میں چلی گئی ۔۔۔کمرے کا دروازہ بند کیا ۔۔۔اور تیار ہونے چلی گئی ۔۔۔۔
ان کی بات ماننا فلحال ان کی مجبوری تھی ۔۔۔۔جب تک وہ اپنے پلان پہ عمل نہیں کر لیتے ۔۔۔
☆☆♡◇◇◇◇
وہ سھل کو جاتا دیکھ کر خود بھی تیار ہونے چلا گیا ۔۔۔۔اسے آٹھ منٹ ہی لگے تھے ۔۔۔
لیکن سھل نوے (9) منٹ تک بھی نہیں آئی تھی ۔۔۔
دس منٹ پورے ہوچکے تھے ۔۔۔۔اس شخص نے گھڑی دیکھی ۔۔۔اپنے ایک آدمی کو اشارے سے اندر جانے کا کہا ۔۔۔
وہ یہ سب دیکھ کہ سمجھ گیا تھا ۔۔۔
” میں دیکھتا ہوں ۔۔۔”
اسنے ہاتھ کہ اشارے سے اسے روکا اور کمرے کا رخ کیا ۔۔۔وہ دروازے تک ہی پہنچا تھا سھل باہر آتی دکھائی دی ۔۔۔۔
وہاں پانچ آدمی موجود تھے ۔۔۔ان میں ایک حلیے سے مولوی لگ رہا تھا ۔۔۔جس کے ہاتھ میں کچھ کاغذات تھے ۔۔۔
” تم دونوں تیار ہو نکاح کے لیے ۔۔۔”
دونوں کے منہ سے بیک وقت نکلا ۔۔۔۔” نکاح ” ۔ ☆☆☆☆☆☆
” نکاح مائی فٹ ۔۔۔نکاح اور اس جوکر سے ۔۔تم ہی کر لو مسٹر لنگور ۔۔۔”
وہ تو نکاح کے نام سنتے ہی آگ بگولہ ہوگٸی۔۔
پھر کچھ سوچ کہ وہ نکاح نامہ اٹھا کر دیکھنے لگی
” ویسے کتنے دن کے لیے ۔۔۔۔ہو گا یہ نکاح ؟؟ ۔۔۔”
نکاح نامے کا بغور جائزہ لینے لگی ۔۔۔
وہ سب ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے ۔۔۔۔
” اچھا چلو ٹھیک ہے ۔۔۔ہم تیار ہیں ۔۔۔”
” لیکن میں تیار نہیں ۔۔۔”
نکاح اور اس لڑکی سے !!!! اس نے سوچا تک نہ تھا ۔۔۔ جس لڑکی کو رشتوں کا تقدس ہی نامعلوم ہو۔۔۔
ویسے بھی وہ نہیں مانے گی ۔۔۔ابھی وہ اسی سوچ میں گم تھا ۔۔۔۔سھل نے نکاح کے لیے حامی بھر لی ۔۔۔واقعی وہ لڑکی کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتی تھی اس سے کچھ بعید نہ تھا ۔۔۔
” لیکن میں راضی نہیں ہوں ۔۔۔۔نکاح کیا مذاق ہے جو کسی بھی وقت کسی سے بھی کر لیا جائے ۔۔۔”
” تو اپنا بکواس بند رکھ ۔۔۔ہمیں حکم کا تعمیل کرنا ہے ۔۔۔۔تجھے جو کہا جائے وہ کر ۔۔۔مشورہ نہیں مانگا تجھ سے ۔۔۔تو پیسے کے لیے کام کرتا ہے ۔۔۔پیسے لینے والا بڑ بڑ نہیں کرتا ۔۔۔”
سامنے بیٹھا شخص اپنی مخصوص اردو میں گویا ہوا
واقعی میں وہ یہ بات تو بھول چکا تھا اس نے خود کو بیچ ہی ڈالا ہے ۔۔۔
نوکر کی تے نکھرا کی ۔۔۔۔
اسے تو بس حکم بجا لانا تھا ۔۔۔۔
وہ غصے میں ان سب کی جانب دیکھنے لگا ۔۔۔
اشاروں سے سھل کو نا کرنے کا کہہ رہا تھا ۔۔۔
پر اس لڑکی کے دماغ میں کس وقت کیا چل رہا ہوتا ہے اس کا اندازہ لگانا ۔۔۔مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا ۔۔۔
وہ اس سے نکاح کے لیے راضی ہوگئی تھی ۔۔۔جسے وہ صرف جوکر کہتی تھی ۔۔۔
۔نکاح خواں نے نکاح پڑھنا شروع کیا ۔۔۔۔
” ایک منٹ ۔۔۔” وہ اٹھ کر اس لڑکی کے کمرے میں چلا گیا ۔۔
☆☆






تیس سالہ نوجوان اب سعادت کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔
” کیا خبر لائے ہو ۔۔۔” سعادت مسلسل اپنئ پیشانی کو انگلیوں کے پوروں سے مسل رہا تھا ۔۔۔
” سر آپ کی طبعیت ٹھیک ہے ۔۔۔”
اسے اس شخص کا طبعیت پوچھنا ۔۔ناگوار گزرا ۔۔۔
” میری طبعیت بلکل ٹھیک ہے تم اپنی معلومات بتاؤ اور یہاں سے دفعہ ہوجاؤ ۔۔۔”
سامنے کھڑا تیس سالہ نوجوان بس یس سر کہہ سکا ۔
” سر ان لوگوں کا پتہ چل گیا ۔۔۔ان لوگوں کو ہم نے پکڑ لیا ہے
جن لوگوں نے اغوا کیا تھا ۔۔۔۔۔۔اب آگے سر جو آپ کا حکم ۔۔۔وہ سب بتانے کو تیار ہیں ۔۔۔”
وہ اب بے یقینی سے اس تیس سالہ جوان کو دیکھ رہا تھا ۔۔بظاہر چہرے پہ کوئی تاثر ن تھا۔
” ہممم گڈ نیوز بہت اچھی خبر لائے ہو ۔۔۔۔انہیں دو دن تک اپنا مہمان بنا کہ رکھو ۔۔۔آگے کیا کرنا ہے وہ میں تمہیں بعد میں بتاؤں گا ۔۔۔۔یہ بات اور کون کون جانتا ہے ؟؟؟؟۔۔۔۔۔”
سعادت جو ہار ماننے والا تھا ۔۔۔اچانک اسے جیت کی نوید سنا دی گئی ۔۔۔
اسے اپنے مینجر کے سامنے کچھ بھی ظاہر نہیں کرنا تھا ۔۔۔نہ خوشی نہ غم ۔۔۔۔
” سر ابھی تک تو کوئی نہیں ۔۔۔۔آپ کہیں تو زمان کے حوالے کر دوں ۔۔۔”
سعادت کو کچھ دن سے زمان کی حرکات مشکوک لگ رہی تھی ۔
لیکن وہ اس نئے بندے پر بھروسہ نہیں کر سکتا تھا ۔۔
” فلحال کسی کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔اور یاد رکھنا یہ بات باہر نکلی تو تمہارا بھی وہ حال ہوگا جو اس ایس پی کا ہوا تھا ۔۔”
سامنے والے شخص کا چہرہ زرد پڑنے لگا ۔۔۔
” میں سدھیر کو بھیجوں گا ۔۔وہ بندے تم ان کے حوالے کر دینا ۔۔۔۔پھر تم یہ بات نہیں جانتے ۔۔۔”
سامنے والے شخص کا شاید حلق خشک ہو گیا ۔۔۔
تھا وہ تھوک نگل کر جی سر کہہ کر وہاں سے جا چکا تھا ۔۔۔
سعادت جو اپنی خوشی کو کب سے چھپا رہا تھا ۔۔۔
۔۔۔” یس ” اس نے خوشی میں مکہ ہوا میں لہرایا ۔۔۔۔
” شیری ڈارلنگ ۔۔دیکھتا ہوں ۔اب اس سانپ کی بچی کو تم کیسے بچاتی ہو ۔۔۔۔”
وہ مسکراتا ہوا ۔۔۔انٹر کام پر ہدایت دیتا باہر چلا گیا۔۔اسے جلد از جلد سدھیر سے ملنا تھا ۔۔۔
جو انڈر ورلڈ ( گناہوں کی دنیا ) کا ڈان ( بڑا ڈاکو ) بن گیا تھا ۔۔
جاری ہے
