Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22
شھربانو کو میکےمیں آئے ابھی کچھ دن ہی ہوئے تھے اچانک ممتاز بیگم کی طبعیت خراب ہو گئی ۔۔۔
اس نے لینڈ لائن سے ۔۔۔راحیل کو کال کی ۔۔۔
” میڈم وہ ابھی ابھی ہاسپیٹل سے باہر گئے ہیں ۔۔”
سامنے سے ایک لڑکی نے جواب دیا ۔۔
اس نے پھر دوسرا نمبر ڈائل۔کیا ۔۔
لیکن سامنے سے کسی نے کال نہیں اٹھائی تھی
ممتاز بیگم کی حالت بگڑنے لگی ۔۔
اسے مجبورن اسی شخص کو کال کرنی پڑی ۔۔جس شخص کا وہ کبھی سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔
لیکن اس وقت اسے اپنی ماں کی فکر تھی ۔۔۔
اب تو وہ دل۔سے دعا کرنے لگی کاش اس کا نمبر مل جائے ۔
سامنے سے” ہیلو ” کہا گیا ۔۔۔۔
اس کی تو جیسے آواز حلق میں ہی پھنس چکی تھی ۔۔۔
” سادی امی کی حالت ٹھیک نہیں ۔۔۔” آگے سے کچھ نہ کہا گیا ۔
اور کال۔بند کر دی گئی ۔
” میں جانتی تھی تم بدل گئے ہو ۔۔۔تم وہ رہے ہی نہیں
وہ اب رو رو کر خود سے ہی ہمکلام تھی ۔۔۔۔اور مسلسل نمبر ڈائل۔کر رہی تھی ۔۔۔
ممتاز بیگم بے ہوش ہو گئی تھئ اس نے ایمبولینس راحیل کے ہاسپیٹل سے بلوا لی تھی ۔۔۔
دس منٹ بعد سحر کی کال بیک آئی ۔۔۔
اس نے ابھی کال ریسیو ہی کی تھی ۔
سعادت تقریباً دوڑتا ہوا اندر داخل۔ہوا ۔
اس نے ممتاز بیگم کو اٹھایا ۔۔۔
” تم جلدی سے گاڑی میں بیٹھو ۔۔۔”
اس نے جلدی سے چادر لی سھل کو اٹھایا اور باہر کی طرف لپکی ۔۔۔جلدی سے دروازے پر لاک لگایا ۔۔سعادت تب تک ممتاز بیگم کو پچھلی سیٹ پر لیٹا چکا تھا ۔۔
وہ اسی سوچ میں تھی کہ جائے یا نہ جائے ۔۔۔۔
” دیکھ کیا رہی ہو وقت نہیں ہے ۔۔۔”
وہ بھی سھل۔کو گود میں اٹھائے گاڑی میں بیٹھی ۔۔۔
ممتاز بیگم کو آئی سی یو میں ایڈمٹ کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔اس کی آنکھوں کا پانی تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔۔
” میں نے سحر کو فون کر دیا ہے وہ اور اس کاشوہر آتے ہی ہوں گے ۔
سعادت اس کے ساتھ ہی بیٹھا تھا ۔۔۔جب اسے سامنے سے راحیل۔آتا ہوا نظرآیا ۔۔۔۔
” شھربانو گھر چلو ۔۔۔” اس نے کلائی سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا ۔
سعادت ایک طرف چلا گیا ۔۔۔
” امی آئی سی یو میں ہے راحیل ۔۔۔اور تم “
” چلنا ہے کہ نہیں ۔۔۔؟؟؟”
اس نے تو جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں تھی ۔۔۔
” سحر آرہی ہے وہ دیکھ لے گی چل رہی ہو کہ نہیں ۔۔۔؟؟؟”
وہ دیکھ رہی تھی راحیل کی آنکھوں میں سعادت کو دیکھ کر خون اترا ہوا تھا ۔۔
” راحیل میں نہیں جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔” اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو ٹپک رہے تھے ۔۔۔
” تو میں اپنی بیٹی لے کہ جا رہا ہوں ۔۔۔تم رہو اپنے عاشق کے ساتھ ۔۔۔
” راحیل ” وہ گویا چلا اٹھی ۔۔۔۔
” میم یہ ہاسپیٹل ہے ۔۔۔” ایک نرس نے انہیں مطلع کیا ۔۔۔
وہ سھل اسے تقریباََ چھیننے والے انداز میں لے گیا ۔۔۔
” راحیل وہ بہت چھوٹی ہے ۔۔۔”
” تم ماں بیٹی سے ایک کو چنو ۔۔۔”
وہ اب خونخوار نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” آپ بس کچھ دیر رک جائیں آپی آئے میں چلتی ہوں ۔۔۔”
اس کے لہجے میں التجا در آئی ۔۔۔
” آپ خود ایک ڈاکٹر کچھ تو رحم کھائیں “
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ اسے روتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔۔۔اس کا ہر آنسو سعادت کے دل۔پہ گر رہا تھا ۔۔۔
لاکھ کہے اسے نفرت ہے ۔۔۔۔
لیکن نفرت میں بھی محبت تھی ۔۔۔
اس کا دل کیا اس شخص کا خون کر دے جو شھربانو کو آنسو دے رہا تھا ۔۔۔
لیکن وہ۔چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہا تھا ۔۔
وہ۔اسے تڑپتا بلکتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” اس کمینے انسان کو تو میں زندہ نہیں چھوڑوں گا اسے سبق سکھانا ہی پڑے گا ۔۔۔”
☆







اس کی التجا کا کچھ اثر تو ہوا اس نے کچھ دیر رکنے کی حامی بھر لئ ۔۔
جس طرح راحیل کی ماں نے راحیل کو اس کے خلاف بھڑکایا تھا ۔۔۔راحیل کا غصہ ہونا بجا تھا ۔۔۔کوئی بھی شوہر یہ برداشت نہیں کر پاتا ۔۔۔
جس کے ساتھ اس کی بیوی کے بارے میں افواہیں چل رہی ہوں اس کی بیوی اس کے ساتھ موجود ہو ۔۔۔
راحیل وہی کھڑا بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
آدھے گھنٹے بعد اسے سحر آتی دکھائی دی ۔۔۔
” کیا ہوا امی کو وہ ٹھیک تو ہیں ۔۔۔۔؟؟؟”
اسے تو خود کچھ پتا نہ تھا وہ سحر کو کیا بتاتی ۔۔۔
” میں بانو کو لے کہ جارہا ہوں ۔۔۔مسلسل ٹینشن سے اس کی طبیعت خراب ہو گئی ہے ۔۔۔”
وہ دیکھ رہئ تھی ۔۔۔راحیل نے کیسے کھڑے کھڑے بہانہ تراش لیا تھا ۔۔۔
” ہاں تم اسے لے جائو میں ہوں یہاں سعادت بھائی بھی ہیں ۔۔۔”
اس نے ایک نظر راحیل پر ڈالی جس نے اشاروں سے چلنے کا کہا ۔۔۔
اس نے بھی سر کو ہلکی جنبش دی
وہ جاتے ہوئے بھی بار بار پلٹ کر آئی سی یو کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔
آنسو اب بھی ٹپک رہے تھے ۔۔
وہ اسے گھر تو لے آیا تھا ۔۔۔لیکن اس کادل اپنی ماں ہی کی طرف لگا رہا ۔۔۔۔ہر آہٹ پر چونک جاتی ۔۔۔ہر کال پر دوڑی آتی ۔
صبح سے شام ہو گئی لیکن کوئی خبر نہیں آئی ۔۔۔۔
اس کی آپریشن کو بھی ابھی اتنے دن نہ گزرے تھے ۔۔۔
راحیل اسے گھر چھوڑ کے اپنے ہاسپیٹل جا چکا تھا ۔۔۔۔۔
وہ جانتئ تھی اس کے پیٹھ پیچھے بہت کچھ ہو چکا ہے تبھی راحیل کا رویہ اتنا بدلا بدلا ہے ۔۔
” تم پھر آگئی ۔۔۔۔چھوڑ دو راحیل کا پیچھا ۔۔۔سب کچھ تو ہے اس لڑکے کے پاس اس کے پاس چلی جا “
اس کی ساس اسے سنانے پہنچ گئی تھی ۔۔۔لیکن اس کے پاس جواب دینے کو کچھ نہیں تھا ۔۔۔اسکی ماں موت اور زندگی کی کشمکش میں تھی ۔ایسے میں وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتی تھی۔ جس سے حالات پھر سے خراب ہوں ۔۔
خدا خدا کر کے رات کے نو بجے سحر کی کال آئی ۔۔۔
” بانو امی اب ٹھیک ہے ۔۔۔اس کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔۔۔تم پریشان مت ہونا میں ہوں امی کہ ساتھ تم بس اپنا خیال رکھنا “
وہ یہ سب سن رہی تھی ۔۔۔۔۔اس نے بس ہاں میں جواب دے کر کال بند کر دی تھی ۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا ۔
پریشانی میں بھوک کا احساس تک نہیں ہوا ۔۔۔لیکن اب اسےبھوک لگی رہی تھی ۔۔۔
وہ کچن کی طرف گئی ۔۔۔اسے کھانے پینے کو کچھ نظر نہیں آیا ۔
” راحیل آئے تو دروازہ بند کر دینا میں سونے لگی ہوں “
راحیل کی ماں اس پہ حکم صادر کر کے خود سونے جا چکی تھی
کچن کی حالت بھی کافی خراب تھی ۔۔۔کھانے پینے کو کچھ نظر نہ آیا ۔۔۔
فرج میں بس دودھ ہی رکھا تھا۔۔۔
اس نے ابھی وہ گلاس میں انڈیلا ہی تھا ۔۔۔دروازہ زور سے بجنے لگا ۔۔۔
” لگتا ہے راحیل آگیا ۔۔۔” وہ تیزی سے دروازے کی طرف لپکی ۔
دروازے پر راحیل ہی تھا پر وہ جس حالت میں تھا ۔۔اسے دیکھتے ہی اس کے ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑنے لگے ۔۔۔” راحیل تم نشہ کر کے آئے ہو ۔۔۔”
وہ لڑکھڑاتا ہوا اندر داخل ہوا ۔۔۔
” بکواس بندکرو اپنی مجھے نیند آرہی ہے ۔۔”
وہ لڑکھڑا تا ہوا بیڈ پر ڈھیر ہوگیا ۔۔۔۔
وہ بت بنی اسے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔” راحیل اور نشہ ۔۔۔؟؟؟؟” اس کی سوچ الجھ کر رہ گئی ۔۔۔
اسنے راحیل کے جوتے اتارے اس پر چادر ٹھیک کئ ۔۔۔
وہ پوری رات اسی پریشانی میں سونہ سکی ۔۔۔
اس کی آنکھ فجر کی آذان کے بعدکب لگی ۔۔اسے کچھ پتا نہ لگا ۔۔۔
اس کی آنکھ کھلی تو راحیل تیار کھڑا تھا ۔۔۔۔
” تم کب اٹھے مجھے جگا دیتے ۔۔”
” اس کی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔میں کھانے پینے کا سامان لے آیا ہوں اپنے لیے کچھ بنا لینا ۔۔۔میں گھر کھانہ نہیں کھاتا ۔۔
وہ اٹھ کر راحیل کے سامنے آئی ۔۔۔
” راحیل تم شراب پینے لگے ہو ۔۔۔”
وہ اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” پینے تو زہر گیا تھا ۔۔۔نجانے کیوں شراب پی لی ۔۔۔”
اس نے ایک طنزیہ نگاہ سے اسے دیکھا ۔۔
” راحیل میرا قصور کیا ہے ۔۔۔کیوں خود کو اور مجھے سزا دے رہے ہو “
” قصور تمہارا نہیں میرا ہے ۔۔۔جو تجھ سے محبت کر بیٹھا ۔۔اب اس کی سزا مجھے ملنی چاہیے ۔۔۔”
” کیا مطلب ” وہ تڑپ اٹھی ۔۔۔
” کچھ نہیں شام کوتیار رہنا آنٹی کی طرف چلیں گے ۔۔
وہ اب بھی اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اس نے کوٹ اور بیگ اٹھایا ۔۔۔
” راحیل ۔۔” اس نے جس نظر سے دیکھا ۔۔اس کے الفاظ دم توڑ گئے ۔۔۔وہ چلا گیا وہ کچھ کہہ نہ سکی ۔۔۔۔
غلط فہمی نے یقین کا روپ دھار لیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ راحیل کو اپنی آنکھوں کے سامنے ٹوٹتا ہوا دیکھ رہئ تھی ۔۔
وہ مسکراتا ہنس مکھ سب کا خیال رکھنے والا راحیل کہیں کھو گیا تھا ۔۔۔
وہ روز اسے دو گھنٹے کے لیے ہاسپیٹل چھوڑ آتا ۔۔۔
اور واپس لے آتا ۔۔۔بس اپنے کام سے کام رکھتا ۔۔۔
اسے ہر ضرورت کی چیز اس کے کہے بنا۔۔۔مل جاتی ۔۔۔لیکن اسے چیزوں کی نہیں راحیل کی ضرورت تھی ۔۔۔
جو اب اس کے پاس نہ تھا ۔۔۔۔۔
راحیل کی ماں نے اسے شھربانو کا تو نہیں رہنے دیا ۔۔۔لیکن وہ اب اس دنیا کا بھی نہیں رہا تھا ۔۔
” تمہاری امی کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے ۔۔۔چاہو تو تم اپنی امی کہ گھر دو چار دن رہ لو ۔۔۔”
وہ اب بھی نظر جھکائے اس سے بات کر رہا تھا ۔۔۔
” نہیں بس دیکھ کہ واپس آجاوں گی ۔۔”
راحیل نے سر کو ہلکی جنبش دی ۔۔۔
” تیار ہوجاؤ میں تمہارا باہر ویٹ کرتا ہوں ۔۔۔”
ان میں اب زیادہ بات چیت نہ ہوتی ۔۔۔بس چند جملے ہی بولے جاتے ۔
” بانو اب تم کچھ دن امی کہ پاس رکو ۔۔
” میرا رکنا مشکل ہے ۔۔”
وہ بے بسی سے کہنے لگی ۔۔۔وہ جانتی تھی اسکی والدہ کو اسکی ضرورت ہے ۔۔۔
” امی بس سن لیا ۔۔۔تبھی کہا تھا ۔۔۔۔میرے گھر چلو یہاں اکیلے تو نہیں رہ سکتی نا آپ ۔۔۔”
وہ یہ سب شھربانو کو سنا رہی تھی ۔۔۔
” آپی آپ ابھی کچھ دن رکیں ۔۔۔میں اگلے ہفتے آجاوں گی ۔۔
شام کو اسے راحیل لینے آگیا تھا ۔۔۔
” راحیل ۔۔۔” اس نے مدھم سے لہجے میں راحیل پکارا راحیل نے بس ہممم کہا
” مجھے کچھ شاپنگ کرنی ہے ۔۔۔حوریہ کو ساتھ لے جاتی ہوں ۔۔۔( حوریہ اپنے بڑے بھائی کے گھر رہتی تھی ۔۔) ” راحیل نے سر کو ہلکی جنبش دی ۔۔
اور گاڑی اپنے بھائی کے گھر کی طرف موڑ دی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇
راحیل سھل کو لے کر گھر آگیا ۔ ان دونوں کو وہ شاپنگ سینٹر چھوڑ آیا تھا ۔۔۔
راحیل پل پل مر رہا تھا ۔۔۔۔اس کی غیرت اسے اب شھربانو کے ساتھ رہنے نہیں دے رہی تھی ۔۔
اور اس کی محبت اس خود سے الگ نہیں ہونے دے رہی تھی ۔۔۔
وہ ہر بار سعادت کو اسکا ماضی سمجھ کر ۔۔۔بھلا دینا چاہتا تھا ۔۔۔لیکن وہ بار بار جہاں شھربانو ہوتی وہاں موجود ہوتا۔۔۔
اسے لوگوں کی اور اپنی ماں کی ہر کہی بات سچ لگنے لگی تھی ۔۔۔
اسے کہیں سکون نہیں مل رہا تھا ۔۔۔
لیکن وہ شھربانو کو ایک اور موقعہ دینا چاہتا تھا ۔۔۔وہ اس کی منکوحہ تھی اس کی محبت تھی ۔۔۔
یہی سوچ کہ وہ پھر اسے واپس لے آیا تھا ۔۔۔
وہ جانتا تھا ۔۔۔شھربانو نہیں آئے گی ۔۔۔اس سے زبردستی سے پیش آنا پڑے گا ۔۔وہ اس کی مجبوری تھی وہ نہایت نازک دور سے گزر رہا تھا۔۔۔اگر اس وقت وہ اسے چھوڑتا تو پھر وہ کبھی ایک ساتھ نہ رہ پاتے ۔۔۔سعادت وہاں موجود رہتا ۔۔۔اسے لے کر لوگ اور باتیں بناتے ۔۔اور اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ۔۔
شھربانو سامنے تھی اس کا غصہ اور بے یقینی کم ہونے لگی تھی ۔
ساری غلط فہمیاں آہستہ آہستہ دم توڑ گئی تھی ۔۔۔۔محبت کا مقدس رشتہ جیت رہا تھا۔۔۔۔۔وہ اس کی محبت تھی اس کی بچی کی ماں تھی ۔۔۔
☆☆☆☆♡♡♡◇◇◇◇♤♡♡♡♡
راحیل اسے لینے آگیا تھا ۔۔۔۔” آپ آگئے میری تو شاپنگ بھی پوری نہیں ہوئی ۔”
” بقایہ حوریہ کر لے گی ۔۔۔
وہ مصنوعی غصہ دکھاتے گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔
وہ گاڑی میں بھی اپنی صفائیاں دینے لگا ۔
۔۔” سھل بلکل چپ نہیں ہو رہی تھی ۔۔” وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” اچھا میں نے کچھ کہا تو نہیں ۔۔
” آئی ایم سوری بانو ۔۔” وہ اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے تھا ۔۔۔
” جو کچھ تھا وہ میرا ماضی تھا ۔۔۔میرا حال میرا مستقبل سب آپ سے ہے راحیل ۔۔۔یوں ہم سے بدگمان نہ ہوا کرے ۔۔۔”
راحیل نے بھی مسکرا کر اسے دیکھا ۔۔۔
دوسرے دن راحیل کی سالگرہ تھی ۔۔۔۔
حوریہ نے اور اس نے مل کر سرپرائز تیاری کی ۔۔۔
اب اسے راحیل کا انتظار تھا ۔۔
وہ دلہن کا طرح سجی سنوری تھی ۔۔۔لیکن اس کی ساری خوشی ادھوری رہ گئی جب راحیل کا فون آیا کہ وہ رات کو نہیں آ سکتا۔۔
” تم امی کو بلا لو ۔۔۔یا ارمان کو ( راحیل کا بھتیجا ) میں آج رات نہیں آسکتا ۔۔ایمرجنسی میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ۔۔”
اسے غصہ تو بہت آیا لیکن وہ ابھی غصہ کر کے اپنے رشتے کو خراب نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔
☆☆☆♡♡♡♡◇◇◇◇
راحیل کو پتا لگ چکا تھا ۔۔۔کہ شھربانو اسے سرپرائز دینا چاہتی ہے ۔۔۔
لیکن اسے بھی شرارت سوجھی ۔۔۔۔کیوں نہ وہ بھی شھربانو کو سرپرائز دے ۔۔۔
اسنے جان بوجھ کر اسے جھوٹ کہا ۔۔۔تاکے وہ انتظار نہ کرے وہ آکر اسے سرپرائز دے ۔۔۔
اس نے سوچا وہ اس سے لڑے گی ۔۔۔غصہ کرے گی ۔۔لیکن سامنے سے ایک پرسکون جواب آیا ۔۔۔” کوئی بات نہیں آپ اپنا خیال رکھیے گا ۔۔۔” نجانے کیوں پر اسے یہ جواب پسند نہیں آیا ۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇♡♡♡◇◇
وہ مایوس ہو کر اپنی سجاوٹ اور کھانہ دیکھنے لگی ۔۔۔
” شاید ابھی بھی راحیل نے مجھے معاف نہیں کیا” وہ خود سے ہمکلام ٹیبل سے برتن اٹھانے لگی ۔۔دروازہ بجنے لگا ۔۔۔
” ارمان آیا ہوگا ۔۔۔یا امی ؟؟؟۔۔ ” اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے راحیل کھڑا تھا
۔اسے اٹھا کر گھمانے لگا ۔۔۔” ۔کیسا لگا میرا سرپرائز ۔۔۔” وہ اسے نیچے اتار کے قہقہے لگانے لگا ۔
” آپ بہت برے ہیں ” وہ بھی منہ بسورے اس کے سینے پہ مکے مارنے لگی ۔۔۔
وہ ایک خوبصورت اور یادگار رات تھی ۔۔۔
لیکن وہ کہتے ہیں نا ۔۔۔خوشیوں کے پل بہت ہی کم ہوتے ہیں ۔۔
۔☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سعادت اب تک یہی سمجھتا تھا ۔۔۔
راحیل شھربانو کو ٹارچر کرتا ہے ۔۔۔
وہ ہر رات اسی ٹینشن میں گزار لیتا ۔۔۔
کبھی سپنے میں شھربانو کو روتا دیکھتا توکبھی لہو لہان ۔۔۔لیکن خواب کی تعبیر ہمیشہ الٹی ہی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔
” بس بہت ہوگیا۔۔۔اب اسے شیری کی زندگی سے نکلنا ہی ہوگا ۔۔۔۔۔زندہ یا مردہ “
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇
وقت پر لگا کہ اڑتا گیا ۔۔۔۔سھل پانچ ماہ کی ہو چکی تھی ۔۔۔۔ممتاز بیگم کا زیادہ وقت اپنی بیٹیوں کے پاس گزرتا ۔۔
لیکن پچھلے دو ماہ سے وہ اپنے گھر ہی تھی ۔۔۔
” بانو تیار ہوجاؤ تمہیں امی کے ہاں چھوڑ دوں ۔۔
۔۔میں ایک ہفتے کے لیے ۔۔۔شھر سے باہر جا رہا ہوں۔۔تب تک جدائی برداشت کر لیں گے ۔۔۔
وہ اسے اپنے بانہوں کے حصار میں لیے ۔۔۔اس کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” آپ کو دیر نہیں ہو رہی ۔۔۔”
اس نے بھی گھڑی دیکھی ۔۔۔
” یار بہت ضروری میٹنگ نہ ہوتی تو کبھی نہ جاتا ۔۔۔نجانے کیوں دل نہیں چاہ رہا جانے کو”
وہ انہیں اپنی امی کے گھر چھوڑنے آیا ۔۔۔۔
۔۔وہ اسے !!! اب بھی ایسے دیکھ رہا تھا ۔۔جیسے پہلی اور آخری بار دیکھ رہا ہو ۔۔۔
اس نے سھل کو پیار کیا ۔
۔جانے کے لیے مڑا ۔۔۔۔عجیب سی کیفیت تھی دل کی ۔۔۔۔دل نجانے کیوں اجازت دینے کو تیار نہ تھا ۔لیکن ۔۔۔جانے والے کو جاناہی ہوتا ہے ۔۔۔اسے جانا تھا وہ چلا گیا ۔۔۔۔۔” بیٹا راحیل کب آئے گا ۔۔؟؟؟؟۔”
۔بیماری نے ممتاز بیگم کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا تھا
وہ چند قدم چل کر ہی تھک جاتی ۔۔۔
” امی آپ پھر کچن کی طرف گئی ۔۔۔۔میں کس لیے ہوں یہاں ۔۔
” بیٹا تم تو چلی جاٶ گی اس کے بعد سب کام مجھے ہی کرنے ہیں کیوں میری عاتیں بگاڑ رہی ہو ۔۔۔۔“وہ تھکی تھکی لگ رہی تھی ۔۔۔
” جب تک آپ ٹھیک نہیں ہو جاتی ۔۔۔ہم کہیں نہیں جا رہے ۔۔
وہ سھل اس کی گود میں دے کر اس کے پاس بیٹھ گئی ۔۔
” امی اب سعادت نہیں آتا ۔۔۔؟؟”
اس کے بس یاد کرنے کی دیر تھی ۔
” کس نے یاد کیا ہمیں ۔۔۔۔”
اچانک سے اسی کی آواز سماعتوں سے ٹکرائی ۔۔
” اوو امی میں دروازہ بند کرنا بھول گئی تھی ۔۔۔۔۔”
وہ یہ جان بوجھ کر سعادت کو سنا رہی تھی ۔۔۔۔
اس وقت تک وہ ان کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔
شکوہ کناں نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
وہ اٹھ کر اندر جانے لگی ۔۔۔۔
” آنٹی کیسی ہیں آپ ۔۔؟؟”
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇
” اس شخص کو برباد کرو لیکن ۔۔۔اس کی بیوی کا تذکرہ کہیں بھی نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔سمجھے تم لوگ ۔۔۔۔کسی نے بھی اسے بیچ میں گھسیٹا ۔۔۔اس کی تو میں گھسیٹ گھسیٹ کے کھال ادھیڑ دوں گا ۔۔۔
سامنے کھڑے ایک شخص نے خشک لبوں پہ زبان پھیری ۔۔۔۔
” سمجھ گئے نہ تم ۔۔۔۔اب اپنی شکل گم کرو ۔۔۔”
وہ اب پورے پندرہ دن بعد ۔۔۔۔
ممتاز بیگم کے گھر موجود تھا ۔۔۔۔
اس نے دروازے پر نوک کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو دروازہ کھتا چلا گیا۔۔۔جب ممتاز بیگم اکیلی ہوتی وہ دروازہ کھلا ہی چھوڑتی ۔۔۔
(” بیٹا دروازہ اس لیے بند نہیں کرتی کل کراں کو زندگی نے ساتھ چھوڑ دیا ۔۔۔تو کوئی جنازہ اٹھانے اندر تو آ سکے ۔۔۔” )
اور ممتاز بیگم کی اسی بات کو لے کر سعادت کا دل دہل جاتا ۔۔۔
” امی آج تو بڑی رونق لگی ہے پھر بھی دروازہ کھلا تھا ۔۔؟؟؟
وہ اب بھی شھربانو کی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جو اس کی نظروں کے گھیرے سے تنگ ہو رہی تھی ۔۔۔اتنا تو وہ بھی محسوس کر رہا تھا ۔۔۔
” ہاں بیٹا بانو کافی دنوں بعد آئی ہے ۔۔۔”
☆☆☆☆♡♡◇◇◇
وہ اب بھی اسے اپنے نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا ۔۔۔
جس کی تاب سہنا اب اس کے بس میں نہ تھا ۔۔۔۔
وہ اٹھ کر اندر جانے لگی ۔۔۔۔
لیکن سعادت ہاتھ پیچھے کر کے اس کی کلائی کو جھٹکے سے تھام لیا ۔۔۔۔
اس نے ہاتھ مروڑ کے چھڑانا چاہا پر گرفت مضبوط تھی ۔۔۔
سعادت کا رخ ممتاز بیگم کی طرف تھا ۔۔۔۔جس ہاتھ سے اسے پکڑا تھا وہ اس نے پیچھے کیا ہوا ہواتھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
راحیل سات دن کا کہہ کر گیا تھا ۔۔۔لیکن میٹنگ کینسل ہونے کی وجہ سے اس نے چوتھے دن ہی واپس جانے کا ارادہ کر لیا ۔۔۔
” یار میٹنگ کیوں کینسل کر دی ۔۔۔”
وہ اپنے ساتھی ڈاکٹر سے مخاطب تھا ۔۔۔
” سنا ہے انہیں کوئی اور ڈاکٹر مل گیا ۔۔۔۔اور کراچی والی ہاسپیٹل سے بھی تجھے نکال دیا گیا ہے ۔۔”
راحیل کے لیے ایک پریشانی کیا کم تھی ۔۔۔اوپر سے یہ پہاڑ بھی گرا دیا گیا ۔۔
” لیکن میرا قصور ۔۔۔۔بنا کسی گناہ کے مجرم کیوں ٹھرایا جا رہا ہے ۔۔۔۔میں پروفیسر سے بات کیے بنا نہیں جاٶں گا ۔
” لیکن پروفيسر صاحب بھی کراچی میں ہے ۔آپ پروفیسر صاحب سے وہاں جا کر پوچھ لیجئے گا ۔۔۔”
اب اس کا وہاں رکنا ۔۔۔بیکار تھا ۔۔۔۔
اس نے شھربانو اور سھل کے لیے کچھ تحائف خریدے ۔۔۔اور واپسی کا راستہ اختیار کیا ۔۔۔۔
وہ پریشان تو بہت تھا ۔۔۔
لیکن سھل اور شھربانو کا ہنستا مسکراتا سراپا آنکھوں کے سامنے آجاتا۔۔۔ساری پریشانی ختم ہوجاتی ۔۔۔۔
☆♡♡♡♡♡♡♡
” سعادت میرا ہاتھ چھوڑو ۔۔۔” وہ قریب آ کے پھنکاری ۔۔۔۔
اس نے جیسے ہی ہاتھ چھڑانے کے لیے زور لگایا اس نے ایک جھٹکے سے ہاتھ چھوڑا ۔۔۔۔
وہ دو قدم پیچھے لڑھک گئی ۔۔بمشکل وہ اپنا توازن برقرار رکھ سکی ۔۔۔
” کیا ہوا شیری ۔۔۔۔” وہ ایسے انجان بن کہ پوچھنے لگا ۔۔۔جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہ ہو ۔۔۔
اس نے غصے سے اس کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
مقابل کے چہرے پہ زہریلی مسکراہٹ تھی ۔۔۔
وہ غصے میں ہونٹ بھینچے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔جس کی توجہ کا مرکز اب ممتاز بیگم تھی ۔۔
” ارے بیٹا اتنا سب کچھ کیوں لے آتا ہو ۔۔۔۔۔اکیلی جان کیا کھائے گی ۔۔۔اللہ تجھے لمبی عمر دے جہاں خون کے رشتے بھی دور ہوگئے وہاں ۔۔۔تجھ جیسے فرشتے آجاتے ہیں ۔۔۔
صحیح تو کہہ رہی تھی ۔۔۔وہ بھی نجانے کتنے دنوں بعد ماں کے پاس آئی تھی ۔۔۔
اپنا گھر بچانے میں اس قدر جٹ گئی ۔۔۔
باقی رشتوں کا خیال ہی نہ رہا ۔۔۔
فکر تھی تو بس راحیل کی ۔۔۔
” ارے بانو کیا دیکھ رہی ہے ۔۔۔لے جا یہ سب سنبھال کہ رکھ ۔
وہ غصے سے سعادت کو گھورتی سب چیزیں سمیٹنے لگتی ۔
” امی مہمانوں کو کیوں تکلیف دیتی ہیں آپ کا بیٹا ہے نہ ۔۔
وہ جیسے ہی چیزیں لیکے پلٹی اس کے دوپٹے کو پھر سے سعادت نے پکڑ لیا ۔۔۔
” یہ سعادت “
وہ غصے میں واپس پلٹی تو دوپٹہ اس کی امی کہ تخت میں پھنسہ تھا ۔۔۔
اس نے دوپٹے کو نکالنے کے بجائے ایک جھٹکے سے کھینچا وہ اب سعادت کا غصہ دوپٹے پہ نکالنے لگی ۔۔۔۔دوپٹہ پھٹ گیا ۔۔۔لیکن وہ رکی نہیں چیزیں لے کے کر کچن کی طرف بڑھ گئی ۔۔
جو چیزیں سعادت لایا تھا ان سب کو اپنی جگہ رکھنے لگی ۔۔۔۔”یہ بھی رکھ لو ۔۔
وہ باقی اشیاء لیے اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا ۔۔۔
” تم ۔۔۔۔” وہ ہونٹ بھینچے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” تم کیوں میرے پیچھے پڑے ہو ۔۔۔۔۔ ” وہ باہر جانے لگی تو وہ سامنے آگیا ۔۔۔
” میں اور تمہارے پیچھے ۔۔۔۔سمجھتی کیا ہو تم خود کو۔۔۔تم اس شخص کے لیے مجھے نظر انداز کر رہی ہو ۔۔۔۔”
وہ بلکل اس کے قریب کھڑا تھا ۔۔۔۔
” سعادت وہ میرا شوہر ہے ۔۔۔خدا کے لیے چھوڑ دو میرا پیچھا ۔۔۔میں جس حال میں بھی ہوں خوش ہوں ۔۔۔۔”
وہ ہاتھ جوڑے کھڑی تھی ۔۔
” کیوں چھوڑ دوں ۔۔۔تاکہ وہ شخص تجھے تکلیف دیتا رہے ۔۔۔میں دیکھتا رہوں ۔۔۔۔کیا یہ سچ نہیں ۔۔۔تم نے میری وجہ سے خود کشی کی تھی ۔۔۔”
وہ اب اس کے دونوں شانوں کے پکڑے جھنجھوڑ رہا تھا ۔۔۔
وہ چہرہ دوسری طرف کیے خود کو آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
” سعادت چھوڑ دو مجھے ۔۔کوئی آگیا تو۔۔۔۔۔” اس کی بات بیچ میں ہی رہ گئی ۔۔۔۔
” راحیل۔۔” وہ چلا اٹھی ۔۔۔
اس نے سعادت کو زور سے ایک طرف دھکیلا ۔۔۔
” اگر راحیل کو کچھ ہوا میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی ۔۔
وہ انگلی اٹھائے اسے خبردار کرنے لگی ۔۔۔۔وہ اسی پھٹے دوپٹے سے راحیل کے پیچھے بھاگی ۔۔۔۔
لیکن وہ تب تک گاڑی میں بیٹھ کہ جا چکا تھا ۔۔۔
اس کے ہاتھ میں کچھ تھا جو وہی گر گیا تھا ۔۔۔
وہ تیزی سے کمرے کی طرف گئی ۔۔۔جہاں ممتاز بیگم سھل کو سلانے کے لیے لے گئی تھی ۔۔۔۔ ۔۔۔
اس نے جلدی سے سھل کو اٹھایا۔۔۔
” کہاں جا رہی ہے ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کہ ؟؟؟”
وہ راحیل کے پیچھے ماں کی
پریشانی بھول گئی تھی ۔۔۔
” امی وہ راحیل کی ماں کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے راحیل گھر بلا رہا ہے مجھے جلدی ہے بعد میں آکر پوری بات بتائوں گی ۔۔۔
وہ اور کچھ کہے بنا ۔۔۔تیزی سے باہر کی طرف لپکی ۔۔۔
سعادت نے اس کی کلائی تھامنی چاہی ۔۔۔
لیکن اس کا غصہ عروج پر تھا ۔۔۔۔
اس نے کھینچ کے سعادت کے گال پہ تھپڑ رسید کر دی ۔۔۔۔” بس سعادت بہت ہوا “
یہ کہہ کر وہ بنا رکے باہر چلی گئی
اسے سمجھ نہ آیا ۔۔۔ایسا کیا ہوگیا ۔۔۔کہ وہ راحیل چلا کہ باہر کی طرف بھاگی ۔۔۔
لیکن کچن کے دروازے پر گرے تحائف سے اسے اندازہ ہوگیا۔۔ وہاں کون کھڑا تھا ۔۔۔
وہ شھربانو کو پاگلوں کی طرح ادھر اودھر بھاگتے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اس نے آواز دی پر وہ نہ رکی اس نے کلائی تھام کے اسے روک کر پوچھنا چاہا ۔۔۔
پر جواب ایسا ملا ۔۔۔
جو اس کے دل میں دبی چنگاری کو اور بھڑکا گیا ۔۔۔
شھربانو کا وہ تھپڑ وہ بھی اس شخص کے لیے ۔نفرت اور انتقام کا بیج بو گیا
حال
وہ اس کمرے کی جانب گیا جہاں سھل کو قید کر کے رکھا گیا تھا ۔۔۔یا یوں کہنا ٹھیک رہے گا جہاں وہ عارضی طور پر رہائش پذیر تھی ۔۔۔
اس نے سھل کا بیگ کھولا لیکن اس میں دوپٹے نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔۔۔۔۔
اس نے عبایہ کا حجاب اٹھایا ۔۔۔
اور باہر آگیا ۔۔۔
” یہ پہن لو۔۔۔”
اس نے حجاب اس لڑکی کی جانب بڑھایا ۔۔۔
” یہ ” وہ حجاب کو ایسے دیکھنے لگی ۔۔۔جیسے حجاب نہ ہو کوئی معمہ ہو ۔۔۔
” ہاں یہ ۔۔کیونکہ تمہارے بیگ میں ۔۔دوپٹے نام کی کوئی چیز نہیں ۔۔اور نکاح ہو رہاہے تمہارا کم سے کم سر تو ڈھانپ لو ۔۔۔۔”
” اچھا ” وہ طنزیہ مسکرائی ۔۔
اس نے حجاب آڑا ترچھا اوڑھ لیا ۔۔۔۔
مولوی نکاح شروع کر چکا تھا ۔
” سونیا میری جان تم اتنی جلدی کیوں جاگ گئی “
وہ دیکھ رہی تھی وہ کچھ پریشان سی کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
” ماما سھل کہاں ہے ۔۔؟؟
وہ جانتی تھی سونیا یہی سوال کرے گی ۔
” سونیا تم نے ناشتہ کر لیا ۔۔۔؟؟
اس نے بات بدلنا چاہی ۔۔
” ماما یہ میرے سوال کا جواب نہیں ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇
اسے گھر میں سب بدلا بدلا لگ رہا تھا ۔۔
اسے ٹھیک سے نیند نہیں آئی تھی ۔۔
وہ اپنے پاپا کو سرپرائز دینا چاہتی تھی ۔۔
وہ اسی ارادے سے ۔۔۔شھربانو کے کمرے کی جانب گئی ۔
لیکن آتے ہی کمرے کا منظر کچھ عجیب تھا ۔۔
دونوں کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا ۔۔
وہ لاکھ اسے بہلاتے پر اب وہ بچی نہیں تھی ۔۔۔
اور جس ماحول میں اب رہتی تھی ۔۔۔وہاں وقت سے پہلے بچے بڑے ہوجاتے ہیں ۔۔۔
” میں نے آپ سے سھل کا پوچھا ہے ۔۔۔۔آپ اور پاپآ کیوں لڑ رہے تھے ۔۔۔۔؟؟”
” سونیا ابھی میرے پاس تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں ۔
اگر پوچھنا ہے تو اپنے پاپا سے پوچھو ۔۔۔۔”
وہ تیار ہو کے رکی نہیں ۔
۔۔۔وہ وہی کھڑی رہی شھربانو وہاں سے جا چکی تھی ۔۔
جاری ہے
