Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20
ماضی
اس سے جتنی جلدی ہوسکا ۔۔ وہ اس رفتار سے آئی سی یو میں پہنچا ۔۔۔خادم حسین کی حالت بہت زیادہ نازک تھی ۔۔۔
شاید اس کے پاس وقت کم تھا ۔۔۔
۔۔۔۔وہ کچھ کہنے کی کوشش کر رہا تھا ڈاکٹر اسے بولنے سے منع کر رہے تھے ۔۔۔۔
وہ جیسے ہی پہنچا ۔۔۔اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے پاس بلانے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔
” ت۔۔ت تم میری بیٹی بانو کا خیا۔۔ل ۔۔۔رک۔۔۔ھنا۔۔۔” اس سے وہ چند الفاظ بھی بمشکل ادا ہوئے ۔۔۔۔
اس کی سانسوں کی ڈور ٹوٹ گئی ۔۔۔۔
اس کا ہاتھ ڈھیلا پڑا ۔۔۔اس کے ہاتھ سے چھوٹ کے نیچے لڑھک گیا ۔۔۔۔۔
سعادت گھبرا کے دو قدم پیچھے ہٹا ۔۔۔
” یہ کیا ہوگیا ۔۔۔۔یہ تو اس نے کبھی نہیں چاہا تھا ۔۔۔
ابھی تو اس نے کچھ کیا بھی نہیں تھا یہ سب کیا ہو رہا تھا ۔۔۔”
ابھی وہ اسی سوچ میں گم تھا کچھ بھی تھا ۔۔۔اسے ان دونوں سے خاص انسیت ہو چکی تھی ۔۔ ۔۔۔ایک نرس تیزی سے اس کی طرف آئی ۔۔۔
” آپ۔کی بیوی کی حالت کافی خراب ہے جلدی سے خون کا بندوبست کریں ۔۔۔:”
پہلے تو اسے اس نرس کی بات سمجھ نہ آئی ۔۔۔پھر اسے یاد آیا ۔۔شھربانو کی آپریشن کے وقت اس نے ہی اس کے شوہر کی جگہ سائن کیے تھے ۔۔۔
وہ تیزی سے باہر کی طرف بھاگا ۔۔۔
اسد اور زوہیب بھی اس کے پیچھے آئے ۔۔۔
” اسد آپ انکل کا جسد خاکی لے جائیں ۔۔۔۔میں آتا ہوں ۔۔۔۔”
زوہیب اور وہ خون کا بندوبست کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرنے لگے ۔۔
انہیں خون کے بدلے خون تو مل۔گیا تھا ۔۔۔۔
لیکن شھربانو کی حالت اب بھی خراب تھی ۔۔
ایک نرس اس کے پاس آئی اسے مبارک دینے ۔” مبارک ہو آپ کو بیٹی ہوئی ہے
۔۔وہ یہ نہیں جانتا تھا ۔۔۔اس کے پیچھے ۔۔۔۔کھڑا راحیل بھی یہ سب سن رہا ہے ۔۔۔۔
” نرس آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔یہ ہیں اس بچی کے والد ۔۔
عنبر کی آواز پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔۔راحیل کی موجودگی سے اس کا خون کھول۔اٹھا ۔۔
” یہ تو ڈی این اے کی رپورٹ سے پتہ لگ جائے گا ۔۔۔
راحیل زیر لب بڑبڑایا ۔۔
” راحیل ۔۔۔” عنبر غصے سے پھنکاری۔۔۔
” تم اب یہاں کیوں آئے ۔۔۔ہو ۔۔۔اب کیا رہ گیا ہے تمہارا ۔۔۔۔” وہ اس پر غصے سے غرایا ۔۔۔
” دیکھیں آپ لڑے نہیں یہ ہاسپیٹل ہے ۔۔۔۔بے بی کو چائلڈ وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا ہے ۔۔۔مس آپ بے بی کو دیکھ لیں ۔۔”
نرس اسے اور راحیل کو عجیب نظروں سے دیکھ کر چلی گئی ۔۔۔
وہ اب حقارت سے سامنے کھڑے راحیل کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
۔۔۔” شھربانو کے والد کو تو مار چکے ہو اب کسے مارنے آئ ہو ۔۔؟؟؟”
زوہیب جو کافی دیر سے خاموش کھڑا تھا ۔۔۔
آخر کار اس کا ضبط بھی جواب دے گیا تھا ۔۔۔
” میں نے کسی کو نہیں مارا سچ کہا تھا جس کو سننے کی سکت ان لوگوں میں نہیں تھی ۔۔”
وہ دیکھ رہا تھا راحیل کے چہرے پہ کوئی ندامت نہ تھی ۔۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇
خادم حسین کی تدفین ہو گئی تھی ۔۔۔
ان سارے مشکل حالات میں وہ ممتاز بیگم اور سحر کے ساتھ کھڑا تھا۔۔
شھربانو کو تو اپنا ہوش تک نہ تھا ۔
شھربانو ہوش میں آتے ہی اپنے والد اور بچے کے بارے میں پوچھنے لگتی
۔۔۔بے بی کو اب اس کے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا تھ ۔۔۔
شھربانو اس کی طرف دیکھ تک نہیں رہی تھی ۔۔۔
وہ تو بس راحیل کی موجودگی پر بہت خوش تھی ۔۔۔
نجانے وہ شخص اب کس مقصد سے وہاں موجود تھا ۔۔۔
مہگگ
☆☆☆☆☆☆☆☆۔۔۔۔۔ ۔۔۔
اسے ہاسپیٹل سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا ۔۔۔
راحیل اسے اپنے گھر لے آیا تھا وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ راحیل میں اتنی جلدی اتنا بدلاؤ کیسے آیا ۔۔۔
وہ اپنی والدہ کا پوچھتی رہی پر اسے کسی نے کچھ مھگٔگے بتایا ۔۔۔۔
” عنبر ۔۔زویا تم لوگوں کے چہرے اترے ہوئے کیوں ہیں امی تو ٹھیک ہے ۔؟؟؟۔۔۔مجھے سب عجیب کیوں لگ رہا ہے ۔؟؟؟۔۔دنیا اتنی خالی کیوں لگ رہی ۔۔؟؟؟؟۔۔”
زویا اور عنبر دونوں ایک دوسرے کے چہرے تکنے لگی ۔۔۔
” مجھے کوئی کچھ بتائے گا ۔۔۔؟؟؟”
کچھ تو تھا جو وہ ان سے چھپا رہی تھی ۔۔دل میں ایک نام آیا پر وہ زبان پر لانے پر ۔۔۔ہزار پابندیاں عائد تھی ۔
(” لیکن سادی تو موجود۔تھا ۔۔۔۔امی ابو نہیں تھے ۔۔
وہ پھر ان دونوں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔
” کیا نام کھا ۔۔۔اس گڑیا کا ۔۔۔؟؟
وہ اس کی گود میں کب سے رو رہی تھی ۔۔۔
” سھل ۔۔۔آسانی ۔۔نرم ۔۔یہ میری زندگی میں آسانیاں لائے گی ۔۔۔”
وہ اب مسکرا کر اس ننھی جان کو دیکھ
حال
وہ جو نیند کی حسین وادیوں میں گم تھا ۔۔۔اچانک ایسا لگا پہاڑ کا کوئی پتھر اس کہ منہ پر آ گرا ہے ۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔۔۔۔اس کی آنکھیں ابھی پوری نہیں کھلی تھی ۔۔۔ایک اور چیز زور سے اسے آن لگی ۔۔۔
اب اس کی آنکھیں پوری کھل گئی تھئ ۔۔۔
ایک دیو اس کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔ہاتھ تھے یا ہتھوڑا ۔۔۔دو
ہاتھوں نے ہی اس کی حالت کر دی ۔۔۔
ہونٹ پھٹ چکا تھا ۔۔۔بھیجہ تو سارا ہل گیا تھا ۔۔
” ارے بھائی کون ہو کیوں مار رہے ہو ۔۔۔فدف
وہ کچھ اور کہتا ۔۔۔اس کہ پیٹ میں ایک اور مکا پڑا ۔
ایک دو تین ۔۔۔اب اس کا اپنے پاؤں پر کھڑا رہنا محال ہو رہا تھا
اسے چکر آنے لگا ۔۔۔ایک زور دار آواز کمرے میں گونجنے لگی ۔۔ککھگءفففےۓچچ
۔” تو کیا سمجھتا ہے تو ہم سے بات نہیں کرے گا ۔۔۔اور وہ بکواس ڈرامے کر کے لڑکی کے قریب جائے گا ۔
۔۔اسے کس کرے گا ۔۔اور ہم تیری فلم دیکھتے رہیں گے ۔۔۔۔
یہ ایک ہلکا ڈوز دیا ہے اب کی بار لڑکی کے قریب جانے سے پہلے سو بار سوچ لینا ۔۔۔ہاتھ پاؤں سلامت نہیں رہیں گے
آواز خاموش ہوگئی ۔۔۔کمرے میں آواز کی گونج اب بھی تھی ۔۔۔
سامنے والا دیو اس کے سنبھلنے کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔
” ابے کب کیا تیری بہن کو کس ۔۔۔قریب تو میں اب جاؤں گا ۔۔۔”
ابھی اور کچھ کہتا ایک زوردار گھونسہ اس کے منہ پر پڑا ۔۔۔وہ چکرا کے گر گیا ۔۔۔
آنکھوں کے سامنے اندھیرا آنے لگے ۔۔۔اسے ایک کی جگہ دو دو تین تین آدمی نظر آنے لگے ۔۔۔۔۔۔
وہ دیو اب بھی اسے ایک دو لاتیں مار گیا ۔۔۔
اس کے بعد کیا ہوا ۔۔۔اسے کچھ یاد نہ رہا ۔۔۔
☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇
وہ ہوائی اڈے (ائیرپورٹ airport )پر کھڑی کب سے انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔
اسے کہیں بھی اپنے والدین نظر نہیں آرہے تھے ۔۔۔نہ ہی اس کی بڑی بہن کہیں موجود تھی ۔۔۔
اس کی نظر ایک عورت پر پڑی جو بڑا سا بورڈ اٹھائے کھڑی تھی ۔۔۔جس پر بڑے حروف سے سونیا لکھا تھا ۔۔۔وہ عورت اس بورڈ کو لہرا رہی تھی ۔۔۔
وہ اسی عورت کی جانب بڑھی ۔۔۔
” میں ہو سونیا
ممی پاپا کہاں ہے ۔۔۔۔وہ مجھے لینے کیوں نہیں آئے ۔۔۔”
اسے واقعی میں برا لگا تھا ۔۔
وہ منہ بسورے ان کے ساتھ چلنے لگی ۔۔
بیگ پیچھے نوکر نے اٹھایا ۔۔۔” ۔وہ جی ۔۔۔”
نوکرانی کچھ کہتے ہوئے خاموش ہوگئی ۔۔۔۔
وہ اب گاڑی میں بیٹھ چکی تھی ۔۔۔
گاڑی میں گن مین دیکھ کر وہ پریشان ہوگئی۔۔۔۔
” یہ سب کیا ہے
” وہ جی ۔۔۔چھوٹی بی بی ۔ “
اب وہ اس نوکرانی کے وہ جی وہ جی کرنے پر جھنجھلا گئی ۔۔۔
” کیا وہ جی وہ جی ۔لگا رکھا ہے ۔۔کیا آگے بولنا نہیں آتا ۔۔۔”
نوکرانی نے بھی جھٹ سے جواب دیا ۔۔۔
” وہ جی مجھے نہیں پتہ آپ سب میڈم جی سی پوچھ لینا ۔
اپنے آگے پیچھے اتنے لوگ دیکھ کے اسے جھنجھلاہٹ ہونے لگی ۔۔
☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇
زندان میں اس کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔۔۔۔۔اسے ایسا لگا وہ آزاد ہے ۔۔۔
ایک دم سے اسے کسی کے آنے کی آہٹ سنائی دی ۔
وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر جا کر لیٹ گئی ۔۔
دروازہ اس نے تھوڑا کھلا چھوڑا اسے ڈر تھا پورا بند کرنے سے وہ آٹو لاک ( خود بخود مقفل ) نہ ہوجائے ۔۔۔۔
اسے کچھ دیر بعد ایسا محسوس ہوا ۔۔۔کہ کوئی جا رہا ہے ۔۔۔
وہ آہستہ سے کمرے سے باہر نکلی ۔۔
اسے ایک دیوہیکل نما شخص ۔۔۔ایک مقفل کمرے میں جاتا دکھائی دیا ۔۔۔
جب اسے پورا یقین ہو چکا تھا وہ جا چکا ہے ۔۔۔تب وہ کمرے سے باہر آئی ۔۔۔
وہ کوشش کر رہی تھی ۔۔۔کیمرے کی آنکھ سے بچ سکے ۔۔۔
ایک کمرہ اسے کھلا دکھائی دیا ۔۔۔وہ اس کی جانب آہستہ سے بڑھنے لگی ۔۔۔۔بنا آہٹ کیے وہ اسی جانب بڑھی ۔۔
دروازے کی اوٹ سے مطھر زمین پہ گرا اسے صاف دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔
☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇
وہ رات کے تین بجے گھر پہنچی ۔۔۔۔گھر میں بلکل خاموشی چھائی تھی ۔۔
۔ گھر میں مکمل سناٹا تھا ۔۔۔۔۔
یہ تو وہ جان گئی تھی سھل گھر میں نہیں ہے ۔۔۔اس کے ہوتے ہوئے رات میں بھی دن کا سماں ہوتا۔۔۔ہے
ایسا لگتا تھا گھر میں نوکروں کے سوا کوئی موجود ہی نہیں ۔۔۔
وہ زیادہ تر پاکستان سے باہر رہی تھی ۔۔
لیکن پھر بھی اس نے اچھا خاصا وقت اسی گھر میں گذارا تھا ۔۔۔
ایک آواز سے اس کی سوچ کا تسلسل ٹوٹا ۔۔۔
” آگئی تم ۔۔” لہجہ بے حد سرد ۔۔۔نہ سامنے والی شخصیت پر ۔۔۔خوشی کا تاثر تھا نہ رنج کا ۔۔۔ ۔۔۔
” ماما ۔۔۔۔آئی مس یو سو مچ ۔۔۔۔۔” وہ بانہیں پھیلائے سامنے کھڑی شخصیت کی طرف بڑھی ۔۔۔
اس ہستی نے بھی اسے گلے لگا کر اس کا جواب دیا ۔۔۔ ۔۔۔
” تم آرام کرو باقی باتیں صبح ہوں گی ۔۔۔۔”
وہ پریشان سی کھڑی تھی ۔۔۔ابھی تو اس نے کوئی بات شروع بھی نہیں کی تھی ۔۔۔اور آگے سے ۔۔۔
بات نہ کرنے کا سگنل دے دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔ وہ چھوٹے قدم اٹھاتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔۔
(وہ سھل سے بلکل مختلف تھی ۔۔نہ ضدی نہ لڑاکو ۔۔وہ بلکل اس کا متضاد تھی ۔ لیکن وہ شھربانو کا عکس تھی ۔۔۔ان کی طرح خوبصورت اور ۔۔۔نرم مزاج ۔۔۔۔۔دوست اور رشتے دار ان کی تعریف کرتے نہ تھکتے ۔
۔۔سحر بھی سونیا کے انتظار میں تھی کب وہ اپنی تعلیم پوری کرے تاکے وہ اسے اپنی بہو بنا ئے ۔۔اپنے چھوٹے بیٹے کے لیے سونیا کا رشتہ مانگے ۔۔۔
سھل تو ان سب کی ناپسندیدہ شخصیت بن گئی تھی ۔۔۔
طبعیت کی تیز بگڑی لڑکی ۔۔ ۔۔سھل ان باتوں کی وجہ سے اور زیادہ نک چڑھی اور ضدی ہوتی گئی ۔
۔۔ان کے کزن بھی اسے نہیں سونیا کو پسند کرتے تھے ۔۔۔
۔۔۔زیادہ قریبی رشتے دار تو تھے نہیں ۔۔۔قریب میں بس ایک خالہ تھی ۔
سونیا کے کزن کم تھے ۔۔۔کیونکہ وہ سعادت اور شھربانو کی بیٹی تھی ۔۔۔
البتہ سھل کا ددھیال تو تھا ۔۔
۔جو ان سے کب کا لاتعلق ہو چکا تھا ۔۔۔سھل یہ تک نہ جانتی تھی ان کے والد (راحیل) کے بھائی بہن بھی ہیں یا نہیں ۔۔
اس کی سوچ پھر بھٹک کر ۔۔۔سھل کے کمرے کی جانب گئی ۔۔اسے بھی اپنی بہن سے خاص لگاؤ نہ تھا۔
۔۔لیکن نجانے کیوں اسے آج سھل کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
اسے سھل سے دور کرنے میں اس کی خالہ سحر کا کافی کردار تھا
۔اسے آج بھی یاد تھے وہ الفاظ ۔۔۔۔۔
۔۔( سونی بیٹا تم اس نک چڑھی سے ذرا دور ہی رہو نہیں تو ایسی ہی بن جائو گی بے بدتمیز ۔۔۔
۔۔۔وہی باتیں اس کے کچے ذہن میں گھر کر گئی تھی ۔
سونیا نے دروازے کا لاک گھمایا ۔۔۔
دروازہ لاک تھا اس نے ہلکی سے نوک کی لیکن سامنے سے مکمل سکوت تھا ۔۔۔
اس کا شک یقین میں بدل گیا ۔۔۔کہ سھل گھر میں موجود نہیں ہے ۔۔۔
وہ واپس لائونج کی جانب بڑھی ۔۔
” حمیدہ ۔۔۔سھل سو گئی کیا ۔؟۔۔؟؟؟۔۔” وہ مضطرب سے کھڑی تھی ۔۔۔اسی کشمکش میں وہ ہے کہ نہیں ۔۔۔۔
” ہاں وہ سو گئی ہے ۔۔۔” جواب حمیدہ کی طرف سے نہیں بلکہ اس کی امی کی طرف سے تھا ۔۔۔
” اتنی جلدی ۔۔
” سونیا پچھلے پہر کے چار بجنے والے ہیں “
لہجہ نہایت ہی سخت تھا ۔۔۔جس کا مطلب تھا آگے سوال نہ کیے جائیں ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اسے لگا مطھر اب اس دنیا میں نہیں رہا۔۔۔
وہ جس طرح سے بے سدھ زمین پر پڑا تھا ۔
۔کچھ پل کے لیے اسے ایسا لگا اس کا دل کسی نے مٹھی میں دبوچ لیا ہے ۔۔
ایک پاوں من وزن کا لگ رہا تھا ۔
وہ آہستے سے چلتی اس کے نزدیک گئی ۔
گھٹنے کے بل اس کے قریب بیٹھ کر اس نے اپنا ہاتھ اس کے ناک کے قریب کیا ۔۔۔
اس کا سانس چل رہا تھا ۔۔
اسے لگا اس کا وجود ہلکا ہو گیا ۔۔۔۔۔اسے زندہ دیکھ کر ایک عجیب سی خوشی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
” اٹھو ۔۔۔جوکر ۔
وہ اسے جھنجھوڑ رہی تھی ۔۔۔
“لگتا ہے یہ بے ہوش ہے ۔۔۔” وہ اٹھ کر کچن کی جانب بڑھی ۔۔۔
اس نے نل کھولا ۔۔۔گلاس میں پانی ڈالنے لگی ۔۔۔” اتنا ٹھنڈا پانی ۔۔۔”
وہ ٹھنڈا یخ پانی لیے مطھر کی جانب بڑھی ۔۔
گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کا سر اپنی
۔۔۔گود میں رکھا ۔۔۔
زور سے اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارنے لگی
۔مطھر کے وجود میں اسے حرکت محسوس ہوئی۔۔
اس نے آنکھیں کھولی ۔۔۔اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ایک مدھم سی مسکراہٹ مطھر کے چہرے پہ پھیلی گئی ۔
وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی ۔۔
مطھر کا سر دھڑام سے زمین پہ لگا ۔۔۔۔
(” جوکر ۔۔کو ۔اس حالت میں بھی چھچھورپن سوجھ رہا ہے ۔۔۔”) وہ دانت پیس کر رہ گئی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇
اس نے آنکھیں کھولی ۔۔۔سامنے اسی کا چہرہ تھا ۔۔
جس کا چہرہ اب اسے پوری دنیا میں سب سے زیادہ خوبصورت لگنے لگا تھا ۔۔۔
اس کے نرم ہاتھوں کا لمس وہ اپنے چہرے پہ محسوس کر رہا تھا ۔۔۔
اسے وہ پل زندگی کا خوبصورت ترین پل لگا ۔۔۔
اس کا دل کیا وہ آنکھیں کھولے ئی نہ ۔۔۔
اسی طرح یہ پوری زندگی گذر جائے ۔۔۔۔
وہ اسی طرح اس کا سر اپنی گود میں رکھے ۔۔اس کا چہرہ ہلکے سے تھپتھاتی رہے۔۔۔۔
پر اسے آنکھیں کھولنی پڑی جب اتنی سردی میں اس پر ٹھنڈا یخ پانی پڑا ۔۔۔
اس کے گال پہ تھپکی نہیں بلکے تھپڑ پڑنے لگے
۔۔۔رہی سہی کسر اس نے اس کا سر زمین پر مارنے سے پورا کر دیا ۔۔
وہ جو پل تھمنے کی باتیں سوچ رہا تھا
وہ تو ایک جھٹکے سے بھاپ کی طرح اڑ گئی ۔۔۔
وہ اب سر پکڑے اسے غصے سے گھور رہا تھا ۔۔۔
” اس سے اچھا تھا ۔۔
۔مجھے بے ہوش رہنے دیتی ایک تو پہلے ہی تیری وجہ سے مار کھا کھا کے کچھومر نکل۔ گیا ہے ۔۔۔اوپر سے اتنی زور سے زمین پر سر پٹخ دیا ۔۔
۔۔کچھ تو خیال کرتی سامنے والا بندہ زخمی ہے ۔۔۔”
وہ اسے اپنے دکھڑے سنا رہا تھا۔۔۔
اور وہ سامنے سے ہنسے جا رہی تھی ۔۔۔
ہنسنا کیا تھا قہقہے مار رہی ۔۔تھی ۔
وہ جس تکلیف میں تھا ۔۔۔اتنی مار کھائی تھی ۔۔۔ اس پر وہ تالی مار مار کے ہنسے جا رہی تھی
ایسا لگتا تھا ۔۔جیسے اس کے سامنے ۔کوئی کارٹون فلم چل رہی ہے
اوپر سے اس کی باتیں ۔۔۔وہ بھی کتنا پاگل تھا ایک پتھر سے ۔۔۔موم بننے کی امید لگا رہا تھا ۔۔۔
اس کے دل میں اس کا احساس تک نہ تھا ۔۔
” ابے جوکر ۔۔۔۔بڑا مرد بنا پھرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔مردانگی صرف ایک مغوی لڑکی کو دکھاتا ہے ۔۔
۔مرد سامنے آیا تو ۔۔۔ایک دو گھونسوں پر ڈھیر ہو گیا ۔۔۔” ۔
وہ اس پر قہقہے مار کے ہنسے جا رہی تھی ۔۔
ہنس کیا رہی تھی اس کی مردانگی کا مذاق اڑا رہی تھی
” میں سو رہا تھا ۔۔۔اس نے مجھ پر سوتے ہوئے وار کیا ہے ۔۔۔۔سمجھی ۔۔۔
کچھ دیر پہلے آتے پیار پر اب غصہ حاوی ہونے لگا تھا ۔۔
” ابے تو کس نے کہا تھا ۔۔۔گدھے گھوڑے بیچ کر سو ۔۔۔ویسے یہ محاورہ پرانا ہوگیا ہے ۔
۔۔اب بھلا آج کے دور میں گدھے گھوڑے کون رکھتا ہے ۔۔۔۔
زرا محاورہ بدل لیتے ہیں۔۔۔ تو کس نے کہا تھا موبائل بائیک بیچ کر سو جا ۔۔کوئی ہوش ہی نہیں تھا ۔ کیسا لگا میرا نیو محاورہ ۔۔۔”
اس لڑکی نے اسے آنکھ ماری ۔۔۔
وہ دانت بھینچے غصے سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جو ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی ۔۔۔
الٹے سیدھے محاورے سناتی اور ہنستی جا رہی تھی
اس کی ہنسی اسے زہر لگ رہی تھی ۔۔۔
” ابے جوکر یہ تھا تیرا پلان ۔۔۔۔۔مار کھانے کا۔۔۔
وہ ہنستے ہنستے اس پر طنزیہ جملہ کس دیتی ۔۔۔
” چپ کرو
وہ زور سے چلایا تھا ۔۔۔
ایک لمحے کے لیے سناٹا چھا گیا ۔۔۔
سامنے سے وہ بھی ایک جھٹکے میں خاموش ہو گئی تھی ۔۔۔
” کیا چپ کروں تجھ سے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔:”
وہ بلکل اس کے قریب اس کا گریبان پکڑے اس کے کان کے قریب پھنکاری ۔۔۔
مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا ۔۔۔۔وہ شخص اس کمرے کی جانب گیا تھا ۔۔۔”
اس نے ایک کمرے کی جانب اشارہ کیا
وہ اب سنجیدہ لگ رہی تھی ۔۔۔
اس نے گردن موڑ کر دیکھنا چاہا پر درد سے آہ نکل گئی ۔۔۔
اسے محسوس ہوا ۔۔۔سھل کے چہرے پر بھی ہلکی شکن ابھری تھئ ۔۔۔
وہ اٹھ کر باہر چلی گئی۔وہ اٹھ کر اب بیڈ پر لیٹ گیا تھا ۔۔۔
وہ شخص اسے اچھی خاصی مار دے گیا تھا ۔۔۔پورا جسم درد کر ریا تھا ۔۔
پانچ منٹ بعد وہ پھر کمرے میں داخل تھی۔۔۔
اس کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس اور گولیاں تھی ۔
اس نے وہ گولیاں اس کی جانب بڑھائی ۔۔۔
کیا تھی وہ لڑکی کبھی سخت کبھی نرم ۔۔کبھی سرد کبھی گرم ۔۔۔۔کچھ بھی تھا اسے اس کی فکر تو تھی ۔۔۔
دل اتنی سی بات پر خوش ہونے لگا ۔۔۔
آگے کے انجام سے انجان ۔۔۔” گولیاں کھا لو ۔۔” ۔
” مجھے نہیں کھانی ۔۔۔۔کیوں کھاؤں میں ۔۔۔۔”
اس نے ایک جھٹکے سے اسکے بالوں کو پکڑا ۔۔۔اس کا سر اوپر کر کے ہاتھ میں پکڑی گولیاں اس کے منہ میں ٹھونس دی ۔۔
وہ دیدے پھاڑے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔گولیاں اس کے منہ میں ٹھونس کر دودھ کا گلاس اس کے منہ سے لگا دیا ۔۔۔
اس نے جیسے تیسے کر کے وہ گولیاں نگلی ۔۔
” میں کوئی تیری گرل فرینڈ یا بیوی نہیں لگی ۔۔۔جو تیرے نخرے اٹھاؤں ۔۔۔شرافت سے دوائیاں کھا ۔۔۔ ۔۔۔اور میری باہر نکلنے میں مدد کر ۔۔۔جس ایک کروڑ کے لیے ۔۔تو ان دو نمبر آدمیوں کی مدد کر رہا ہے ۔۔۔۔میں تمہیں دو کروڑ دوں گی ۔۔۔اگر تو میری یہاں سے نکلنے میں مدد کرے گا ۔۔
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے بول رہی تھی ۔۔۔۔وہ اسے کیا سمجھ رہا تھا ۔۔۔
وہ پیار تو دور کی بات انسان بھی نہیں سمجھ رہی تھی ۔۔۔
یہ لڑکی کیا کبھی کسی سے پیار کر پائے گئ ۔۔۔
اسے تو صرف خود سے پیار ہے۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا۔۔۔کیونکہ اس لڑکی سے اظہار محبت کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔۔
وہ ایک بے حس لڑکی تھی ۔۔۔
☆☆☆☆☆♡♡♡♡
پیار محبت خوشی غم ان سب جذبات سے عاری تھی ۔۔ان سے اظہار محبت اپنی تذلیل کروانے کے برابر تھی ۔۔ ۔۔۔
” توں کیا سمجھتی ہے ۔۔۔میں نے یہ سب لالچ میں کیا۔۔۔
تم نے غریبی بے بسی دیکھی کہاں ہے ۔۔۔”
اس نے بھی پلٹ کر اسے جواب دیا ۔۔۔
” تو کیا !!!! بے بسی میں تو اپنی ماں بہن بیچ دے گا ۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے ہوئے تھی ۔۔
” ماں بہن نہ بکے اس لیے خود کو بیچ دیا ۔۔
شاید سامنے والے ہستی لاجواب ہو چکی تھی ۔۔
” نہیں یہ جھوٹ ہے ۔۔۔تم نے یہ سب لالچ میں کیا ۔۔۔۔
پتہ ہے اس قید میں میرے سامنے ۔۔۔دو شخصیات بے نقاب ہوئی ۔۔۔ایک تم ۔۔!!! ایک میرے پاپا ۔۔!!!!۔۔میرے پاپا سعادت ملک جسے میں دل و جان سے چاہتی تھی ۔۔
۔وہ حیرت زدہ تھا ایسا کیا دیکھ لیا اس نے ۔۔
سھل کی آنکھیں نم تھی ۔۔۔۔” کیا مطلب ہے تمہارا ایسا کیا دیکھ لیا تم نے اپنے پاپا کے خلاف ۔۔۔۔اور میں تو کھلی کتاب ہوں تیرے سامنے ۔۔۔”
اس کے الفاظ اس کے ذہن میں چلنے لگے ۔۔۔ایک تم !!!!۔۔۔۔کیا میں ؟؟!!!! بھی اس کے لیے خاص تھا ۔۔۔
کیا اسے نفرت تھی ۔!!!۔۔مجھ سے یا پیار ۔؟
اسے ایک شرارت سوجھی ۔۔۔
” میں کیسے بے نقاب ہوا ۔۔۔ذرا وضاحت دیجئے ۔۔۔”
اس کی ہونٹوں پہ شریر سی مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔
” وضاحت ۔۔۔۔یہ کیا ہوتی ہے ۔۔۔پلیز اتنی مشکل۔اردو مجھے نہیں آتی ۔
وہ مسکرایا ۔۔۔۔” وضاحت مطلب تفصیل ۔۔
سھل نے اس کی جانب دیکھا ۔۔۔۔آنکھوں میں پانی تیر رہا تھا ۔۔
اس کے دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں دبوچ لیا ہو ۔۔۔
اسے اس آنکھوں میں نمی برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔۔
” سھل ۔۔۔۔” اس نے پیار سے اس کا نام پکارا ۔۔۔۔
لیکن وہ اس کے کمرے سے جا چکی تھی ۔۔۔
☆☆☆♡♡♡♡♡♡♡♡♡
اس نے جس پیار سے اس کا نام لیا تھا۔۔
نجانے کیوں اس کا دل کیا وہ اسے لپٹ کر رو دے ۔۔
لیکن وہ ایک کمزور انسان تھا ۔۔
اسے مزدوری کرتا دیکھ کر اسے وہ دنیا کا سب سے طاقت
ور مرد لگا تھا ۔۔۔ جو محنت مشقت تو کر سکتا ہے پر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتا ۔کوئی غلط کام نہیں کر سکتا ۔۔۔۔لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہ غلط تھی ۔۔۔۔۔اس کے سارے نظریے اندازے سب غلط تھے ۔
وہ ان اغوا کاروں کے ساتھ تھا ۔۔۔تو اسے اپنی پسند پر افسوس ہوا تھا ۔۔۔
مطھر اسے ایک سادہ اور نیک انسان لگا تھا۔۔جو نظر آتا ہے وہ ہوتا نہیں وہ اب یہ جان چکی تھی ۔۔۔۔اب شاید وہ کسی شخص پر بھروسہ کبھی کر بھی پائے ۔۔
دو دن پہلے ۔۔۔
اسے دراز میں ایک سی ڈی نظر آئی ۔۔۔
” یہ سی ڈی کہاں سے آئی؟؟؟؟ ” ۔ اس کے ذہن میں ایک سوال ابھرا ۔۔۔۔اس نے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی ۔۔۔ڈی وی ڈی پلیئر اس کمرے میں موجود تھا ۔۔
سی ڈی اس میں ڈالی اور ڈی وی ڈی پلیئر آن کیا ۔۔۔
سامنے جو اس نے دیکھا ۔۔۔
وہ سب جو اس سی ڈی میں ریکارڈ تھا ۔۔۔اسے دیکھ کر
اسے اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آرہا تھا ۔۔
☆♡♡♡♡♡♡◇◇◇◇◇◇◇
رات کا وقت تھا ۔۔اسے نے یہ اندازہ لگایا اسے ابھی سی سی ٹی وی کیمرے میں بھی دیکھنے ولا کوئی نہ ہوگا ۔۔
تھا تو رسک ۔۔پر اسے یہ رسک اٹھانا ہی تھا ۔
وہ واپس مطھر کے کمرے میں اس کے پاس آئی۔۔
شاید وہ دونوں مل کر کوئی راہ فرار ڈھونڈ سکیں ۔
وہ بھی جاگ رہا تھا ۔۔
” کیا ہوا نیند نہیں آرہی ۔۔۔” وہ اٹھنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔۔۔دوائی کا اثر تھا ۔۔۔یا پٹائی کا ۔۔اس پر نقاہت طاری تھی ۔۔
” مجھے باہر کا دروازہ کھول کہ دو ۔!!!!۔کیا تم وہ کھول سکتے ہو ۔۔۔؟؟”
وہ اس کمرے کے اطراف میں نظر دوڑا رہی تھی ۔
” سرنگ سے باہر جانے والے دروازے کو ٹچ کرنے سے سائرن بجنے لگتا ہے ۔۔
باقی ۔اس دروازے سے باہر کچھ نہیں ۔۔۔”
اس نے لائونج کے دروازے کی طرف اشارہ کیا
وہ زبردستی آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔
” میں نے دروازہ کھولنے کا کہا ہے ۔۔۔۔مشورہ نہیں مانگا ۔۔۔اٹھو ۔۔۔اور مجھے لائونج کا دروازہ ( جو باہر کی طرف جاتا تھا) ۔۔۔کھول کہ دو ۔۔۔جلدی کرو ۔
۔کیا لڑکیوں کی طرح ۔۔۔دو گھونسوں پر ۔۔کمبل میں دبک کر بیٹھ گئے ہو ۔۔
وہ دیکھ رہی تھی وہ آنکھیں بھی بمشکل کھول پا رہا تھا ۔۔
لیکن اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی ۔۔۔
” دیکھو مجھے ایک دن کی مہلت دو ۔۔۔میں کل پکا تمہاری مدد کروں گا ۔۔۔”
” بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔۔ورنہ وہ تو تمہارا منہ سلامت چھوڑ گئے ہیں میں نہیں چھوڑوں گی ۔۔۔”
وہ۔غصے میں غرائی ۔۔۔
” تو انہیں بلالو مقابلہ کرنے کے لیے ہر وقت لڑنے کا جنون چڑھا ہوتا ہے تجھے ۔۔
۔۔ایک تو نجانے کیا کھلا دیا ہے تم نے آنکھیں بھی نہیں کھل رہی اوپر سے تیرا بکواس لیکچر ۔۔۔
جاری ہے
