406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 2

Intezaar Ishq by Mariyam Shekih

وہ انکے پیچھے چلتی کمرے میں آئی۔۔۔

کافی کشا دہ قیمتی سامان سے سجا یہ کمرہ اس کے لئے کسی کشش کا باعس نہیں تھا۔۔۔

اس نے دیکھا وہ آج اس کو کچھ بھی کہے بغیر اپنا کوٹ اتار کر سنگھار میز کے سامنے رکھی کرسی پر ڈال چکے تھے۔۔۔

اس نے ان کی الماری سے شب خوابی کا لباس نکال کر آگے بڑھایا تو وہ چند لمہے اسے گھورتے رہے پھرسخت لہجے میں گویا ہوئے۔۔۔

اسے بھی رکھ دو کہسکادو اور اگر پھر بھی سکون نا ملے تو پھینک کر دو مجھے۔۔۔” اسکے ہاتھ سے کپڑے جھپٹنے کے انداز سے لیتے غسل خانہ کی جانب مڑے۔۔۔ جبکہ رائنا نے اپنی غلطی کا احساس کرتے انکا راستہ روکا۔۔۔

“سوری حیدر۔۔۔ میرا ایسا کوئی مقصد نا تھا آئی دونٹ نو مجھے کیا ہوجاتا ہے۔۔۔” وہ سچ میں شرمندہ تھی اسے اندازہ تھا کہ کبھی کبھی اسکا انداز بلاوجہ ہی ہتک آمیز ہوجاتا ہے۔۔۔

اسے روہانسا دیکھ وہ نرم پڑ گئے۔۔”

اچھا بس ریلکس آئندہ خیال رکھنا” وہ گہری سانس بھرتے اسکا سر تھپکتے آگے بڑھ گئے

جانے کیو وہ ایسے ہی بے بس تھے اس کےمعاملے میں۔۔۔

💖–**-**-**-**-**–💖

وہ دو گھنٹےسے فائل کھولے حساب کتاب میں مگن تھے۔۔۔

اسکے باوجود اسکی بے چینی سے بار بار اٹھتی نظروں سے واقف تھے۔۔۔

کام ختم ہوتے ہی وہ اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔ جو صوفہ پر دراز کتاب پڑھنے کی اداکاری کر رہی تھی۔۔۔۔

“یہ کتاب رکھو اور یہاں آؤ۔۔۔

میں تم سے کچھ کہ رہا ہوں۔۔۔”

اس کے نا سنے پر وہ کچھ خفا ہوئے تو وہ چپ چاپ اپنی جگہ پر آگئی۔۔۔۔۔

جو بھی تھا انکے سامنے اسکی ساری جرات ہوا ہوجاتی تھی۔۔۔۔

جس شخص کے رعب میں سارا گاوں ہو اس کے آ گے وہ کیا شہ تھی۔۔۔

مگر انکے آگے تھوڑی بہت مزاحمت کی جراءت بھی اسکی ہی تھی۔۔۔

وہ بھی انکی ہی بخشش تھی یہ الگ بات کے وہ مانتی نہی تھی۔۔۔

“کیا بات ہے کچھ کہنا ہے۔۔۔؟” وہ اسکو بازو سے تھام کر قریب کرتےگویا ہوئے۔۔۔

“مجھے کراچی جانا ہے۔۔۔” وہ جو انکی قربت میں سٹپٹا گئی تھی حوصلہ کرتی بولی۔۔۔

“کراچی۔۔۔؟ کس خوشی میں۔۔۔؟ کیا چاہیے بول دو آجائے گا۔۔۔ جا نہیں سکتی یہ اصول ہے۔۔۔”

“میں جانا چاہتی ہوں گھر والے ہیں میرے۔۔۔ باقی بھی تو جاتی ہیں (اس کا اشارہ حیدر کی بھابھیوں آمنہ اور گلرخ کی طرف تھا) تو میں کیوں نہیں جاسکتی۔۔۔۔” وہ بضد ہوئی۔۔۔

“وہ برادری سے ہیں۔۔۔ غیر خاندان میں نہیں جاتیں ہماری عورتیں۔۔۔

“آپ بھول رہے ہیں۔۔۔ میں بھی وہیں سے ہوں۔۔۔ انہی غیروں میں سے۔۔۔” وہ ایک ایک لفظ چبا تی ہوئی بولی۔۔۔

” تھی۔۔۔۔ تم تھی ان میں سے اب مجھ سے ہو جڑی ہو۔۔۔ اور کچھ عرصے سے یا یوں کہوں شادی ہوئی تب سے۔۔۔۔

تم ناراض ہو ان سے پھر اب یہ شوق کیوں۔۔؟ ” وہ اسکی آنکھو میں جھانکتے ہوۓ بولے۔۔۔

جبکہ وہ انکی بات کا جواب دئیے بنا لیٹ کر کروٹ بدل گئی۔۔۔ اور اب انگلیاں چٹخا رہی تھی۔۔۔

وہ اسکی اضطراب کی وجہ سمجھتے تھے۔۔۔ وہ لاکھ پردے ڈالتی۔۔۔ مگر حیدر مختصر عرصہ میں ہی اسکو پوری طرح سمجھ چکے تھے۔۔۔

رائنا نامی کتاب حیدر کے دل و دماغ کو ازبر ہوگئی تھی۔۔۔

“مت تھکاو خود کو سوجاؤ۔۔۔ “

اسکو بےچین دیکھ وہ اسکا سر تھپکتے ہوئے بولے۔۔۔

اور سونے کی تیاری کرنے لگی۔۔۔۔ جبکہ اسکی آنکھوں سے نیندآج بھی دور تھی۔۔۔۔

💖–**-**-**-**–💖

“رائناکوٹ۔۔۔ ؟

یہ تمہاری آنکھوں کوکیا ہوا۔۔۔؟

وہ اسکی سوجی آنکھیں دیکھ ٹھٹک گئے۔۔۔

“انھیں بھی میری طرح نصیب پہ صبر نہیں آتا۔۔۔” وہ کوٹ پہنا تی کڑواہٹ انڈ یل گئی۔۔۔

“تمھارے احتجاج میری سمجھ سے پرے ہیں جو چاہتی ہو میسر کر دیا جاتا ہے کیسا رونا دھونا ہے۔۔۔؟

اسے بازو سے پکڑ کر سختی سے گویا ہوئے۔۔۔

” آپ مجھےمین ہینڈل کر رهے ہیں”وہ انکی سخت گرفت پر مچلتے ہوے بولی

اسکی بے چینی اور بےبسی اور اس پر اکڑ دیکھ کے وہ ہنس پڑے اور گرفت ڈھیلی کردی۔۔۔

“ڈرو اس وقت سے جس دن میں نے حقیقتاًً man handle کرا آپ کو۔۔” انہو نے اسکا چہرہ ہاتھو کے پیالے میں لیکر پیشانی پی بوسہ دیا اور چلتے بنے۔۔۔

جبکہ وہ سن سی کھڑی ان کے لفظوں کے معنی تراشنے لگی۔۔۔

💖–**-**-**-**–💖

وہ چاروں اس وقت کیفے میں بیٹھے تھے جبھی وہ بھورے بالو ں والی دوڑتی آئی۔۔۔

“کیا بات ہے رائنا اوليمپیك جتنی ہے “یہ ارشد تھا جو اسے ہانپتا دیکھ ٹوک بٹھا “

“یار یہ ایاز کے ساتھ یہ لمبا سا رعب دار آدمی کون تھا۔۔۔؟ میں اور ایاز بک شوپ سے آرہے تھے۔۔۔ انھیں دیکھ کر ایاز نے مجھے چلتا کیا”ارشد ک تبصرہ نظر انداذ کئے ایک ساتھ سوال پہ سوال کئے گئ۔۔۔

“ایازکے تایا زاد ہونگے ابھی ملا ہوں بڑے پاور فل ہیں۔۔۔ اور رعبدار بھی عمراتنی نہیں ہے۔۔۔ پھر بھی بہت رعب دبدبہ ہے انکا۔۔۔ ایاز بتا تا تھا کے چھوٹی عمر سے گاوں کی پنچائیت کا حصہ بنے۔۔۔ اب سر پنج بنے والے ہیں اور الیکشن میں بھی کھڑے ہونے والے ہیں “

“ایاز نے تمہیں ملوایا مجھے نہیں۔۔۔ جبکہ میرے یا تم لوگ کے گھر سے کوئی بھی آتا ہے۔۔۔ ہم سب دوستوں سے ملواتے ہیں۔۔۔ اور کیا ایاز بھی ایم بی بی ایس کرکے ان کے کلچر کا حصہ بن جا ئے گا۔۔۔ ہم سب کا ہی آخری سال ہے یہاں “وہ ایک سانس میں سب پوچھ گئی۔۔۔

“ہاں جائے گا تو وہ گاوں ہی۔۔۔، اورانکا ماحول مختلف ہے۔۔۔ اسیلئیے ایازنےتمہیں نہیں ملوایا ہوگا۔۔۔ چھوڑو یہ سب تم بتاونا اپنے بارےمیں کیا ارادے ہیں۔۔۔ کیا کرنا ہے ڈگری کے بعد۔۔۔۔؟”

ارشد اسکا دھیان بٹاتے بولا اور کامیاب بھی ہوگیا

رائنا بہت کیریئر اورینٹد تھی۔۔۔ اسلئے یونیورسٹی کے پانچ سال میں اسنے کسی قسم کی کوممٹمنٹ کسی سے نہیں کی تھی۔۔۔

اب بھی وہ جوش و خروش سے اسے اپنے مستقبل کے پلانز بتانے لگی۔۔۔

💖–**-**-**-**–💖

وہ ہمیشہ کی طرح اپنے چھوٹے سے باغ میں تھی۔۔۔۔ جو حویلی کے پچھلی جانب بنا تھا۔۔۔ یہ بھی اسکے حویلی کے باہر کھیتوں میں چہل قدمی کرنے جا نے کی فرمائش کا نتیجہ تھا کہ بڑے سرکار نے حویلی کے پچھلی جانب پڑے حصے کو برو ے کار لاتے ہوئے مختلف خوبصورت پودے اور ایک خوب صورت جھولا نما تخت جسکے اطراف میں پھول سجے تھے۔۔۔ اور ایک خوبصورت ٹیبل سیٹ سے سجوايا تھا۔۔۔

وہ حسب توقعہ وہاں پر جھولے پہ استراحت فرماے کتاب میں مگن تھی۔۔۔ جبھی کسی نے اسکے ہاتھ سے کتاب لی۔۔

وہ چونک کے اٹھ بیٹھی تو نظر سامنے کھڑے بلند وجود پہ گئی۔۔۔

“آپ۔۔۔؟” وہ چونکی اور سمٹ گئی جبکے وہ اسکے برابر ہی بیٹھ گئے۔۔۔

“اپنا سامان باندھ لو ،کل نکلنا ہے “

“کہاں جاینگے ۔۔۔؟ اور کیو۔۔۔؟ “

” کراچی۔۔۔ پارٹی کے کچھ معاملات ہیں۔۔۔ صبح نکلنا ہے تیار رہنا “

“میں نہیں جاؤنگی کہیں آپ جائیے ” .

وہ جو کراچی کا سن کر کھل اٹھی تھی بدگمانی سے بولی۔۔۔

“تمہیں پوچھا نہیں بتایا ہے تیار رہنا۔۔۔” وہ کتاب اس کو دیتے ٹھنڈے لہجے میں بولے۔۔۔

“ہمم اب خود جانا ہے تو ۔۔۔۔ جب میں کہ رہی تھی تب انکار تھا “

وہ تھوڑا اور بدگمان ہوتے انھیں جاتا دیکھنے لگی۔۔۔