Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh NovelR50439 Intezaar Ishq Episode 18
Rate this Novel
Intezaar Ishq Episode 18
Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh
وہ حسب معمول کام میں مصروف تھے ،جب شازر چلا آیا
“تم حقیقتا اتنے ہی فارغ ہو؟”وہ طنزیہ بولے
“وڈیرے صاحب یہ میں آپ کو اپنی بہن کی شادی کا کارڈ دینے آیا تھا سائیں لیجیے نا شرف بخشی گا ہم کو” وہ نوٹنکی کرتا بولا
“ماشاءاللہ،مبارک کو ضرور آئینگے میں اور رائنا,پھر تم واپس جاؤ گے باہر؟
“ہاں بھئی چھٹیاں الموسٹ ختم ہیں”
“تمہیں کہا تھا کے ایک بار ہماری طرف بھی آنا فیمیلی کے ساتھ مگر لے دے کر میرے دفتر آجاتے ہو”
“یار بڑا کام ہوتا ہے شادی کے گھر میں تھوڑی دیر یہاں آنا الگ بات ہے ویسے تم تھکتے کبھی گاؤں کبھی یہاں نئی نئی شادی ہوئی ہے بھابھی کو تو وقت دو ایم شیور تم لوگ ابھی کہیں گھومنے پھرنے بھی نہیں گئے ہوگے “
“یہ کام تو پچھلے کئی سالوں سے ساتھ ہے اب ہاں گاؤں کی سرپرستی کی زمداری کا اضافی ہوا ہے ،باہر تو نہیں گئے ہم لوگ پر ویسے اکثر لاتا ہوں اسے کراچی اپنے ساتھ”وہ سرکاری سا بولے”بڑے غریب امیر آدمی ہو دت گھر کی باندی اور بے چاری بیوی کو محض کراچی پر ٹرخا رہے ہو،یار یہ خواتین بڑی خوابوں خیالوں کی فینٹیسی میں ہوتیں ہیں رومانوی کہانیوں کے خمار میں ایسے خشک رویے سے ٹوٹ جاتی ہیں “وہ ناصحانہ انداز میں بولا کے حیدر کی خشک فطرت جانتا تھا مگر یہ نہیں “جانتا تھا کے اب معاملہ پلٹ چکا ہے اب حیدر خود کسی کی رومانس پروف فطرت کا شکار ہیں انہیں شازر کی باتوں پر رک کر ہنسی آئی جبکے وہ بچارا ہکا بکا تھا
“عجیب ہی آدمی ہو “وہ بڑبڑایا جبکے وہ ہنوز ہنس رہے تھے
تبھی سیل فون کی گھنٹی بجی انہوں نے دیکھا تو رائنا کی کال تھی ا نہوں نے فورا سے پیشتر کال بیک کی
” اسلام علیکم !حیدر ؟”
“جان حیدر بولو ہمہ تن گوش ہوں “وہ سلام کا جواب دیتے بولے لہجہ محبت سے بھرپور تھا وہ اس وقت شازر کی موجودگی فراموش کر بیٹھے تھے
“آپ ۔۔اپ آئیں گے نا گھر آج رات کو ؟”وہ جھجھکتے پوچھ رہی تھی
“میری جان کہے گی تو ابھی آجاؤں گا “وہ پھر رومینٹک ہوئے اس کی آواز وجود میں توانائی بھر دیتی تھی کوئی کام بھاری نا لگتا پھر
“میں بس ۔۔بس پوچھ رہی تھی “وہ خجل سی ہوئی
“رات کو آؤں گا انشاء اللہ ،اور کچھ؟”
“نہیں بس یہی معلوم کرنا تھا بی اماں پوچھ رہی تھی،انہیں کوئی کام ہے شاید” جواب ارمانوں پر اوس گرا گیا
“ٹھیک ہے رکھتا ہوں “وہ سنجیدہ تھے اب
“فی امان اللہ ،سنیں “
“ہمم بولو”
“رات سے پہلے نکلیے گا پلیز اندھیرا ہو جانے سے پہلے”
“کیا یہ بھی بی اماں نے کہا ہے کہنے کو؟”
“نہیں میں تو بس ۔۔۔فکر ہورہی تھی تو کہہ دیا”وہ سرد لہجے پر خجل سی ہوئی جبکے ان کے چہرے پر رونق بحال ہوئی
“ٹھیک ہے جا ن من ،چلو خیال رکھنا اللہ حافظ”
وہ متبسم لہجے میں بولے اور فون کاٹ دیا
“واہ “شازر کی آواز انہیں بد مزہ کر گئی اس نے ون سائیڈڈ گفتگو بڑی انجوائے کی تھی
“فارغ آدمی “وہ بڑبڑائے
“ویسے وڈیرے تم نے بھابھی کو پریکٹس کرنے کی ہامی تو دے دی مگر یہ بتاؤ کے آگے مسائل نہیں ہوں گے “
“مطلب”وہ ماتھے پر شکنے ڈالے پوچھنے لگے
“بھئی ایک سال کی ہاؤس جاب الگ چیز ہے آگے ریزیڈنسی وغیرہ میں 4-5سال لگیں گے دو گھنٹے کا سفر کیسے مینج کریں گی”
“یار جب اسے اجازت دی تھی نا میں نے تو یہ سوچ کر دی تھی کے تھک کر خود چھوڑ دے گی یا تھوڑا شوق پورا کر لے تو میں ہی منع کردوں گا مگر جتنی لگن اس کی ہے پیشے سے متعلق اور جیسے وہ سنجیدہ ہے اس کام سے میرا ارادہ مکمل طور پر ساتھ دینے کا ہے ,مل جل کر حل نکال ہی لیں گے کوئی نا کوئی”
“کرنا بھی یہی چاہیے یار مجھے جب میرے ابا نے ایم بی اے کے بعد دکان سنمبھالنے بولا تھا تو بڑی آگ لگی تھی مجھے یہ لوگ خواتین بھی انسان ہوتی ہے ان کے بھی کچھ ایمبیشنز ہوتے ہیں یا تو بندہ نہیں پسند کرتا جاب کرانا تو جاب والی نا ڈھونڈے کئی ہے ایسی جو واجبہ تعلیم رکھتی ہیں ان سے شادی کرے ،اب میں تو ابا کی مخالفت کر نکل گیا لوگوں نے حمایت ہی کی مگر یہی حرکت کسی عورت کی ہوتی تو وہ شور مچتا کے حد نہیں طلاق ہاتھ میں دیتے یا اتنا زچ کرتے کے وہ منہ سے مانگ لے اور نام تعلیم اور عورت پر دھرتے خود کو نا دیکھتے “وہ کافی صاف گوئی سے بولا
“ویسے تمہارے معاملے کا حل ہےایک ،تم ویسے بھی ایک پاؤں شہر ایک پاؤں گاؤں میں پہنچائے بیٹھے ہو اکثر یہیں رکتے بھی ہو بھابھی گاؤں ہوتیں ہیں تو ایسا کرو تم یہاں شفٹ کرادو ان کو “
“یہ کیسے ممکن ہے بیوی ہے وہ میری جہاں میں رہوگا وہیں رہے گی “وہ قطیت سے بولے
“بھائی وہاں بھی جب آپ یہاں موجود ہوتے ہیں تمہارا انتظار کرتیں ہیں ،تو جب یہاں ہوں گی تو بس اس کا الٹ ہوگا ،ایک ہی بات ہے”
“دیکھتیں ہیں ،ختم کرو یہ موضوع”وہ ایک بار پھر قطیت سے کہتے چپ کرا گئے
————![]()
وہ آج پھر نائٹ ڈیوٹی پر تھا اور اب آدھی رات کا انتظار کر رہا تھا تاکہ چہل پہل کم ہو اور وہ شہرینہ کے پاس جائے ،اخر موقع مل ہی گیا ملازمہ کو چکما دے کر وہ اندر پہنچ گیا شہرینہ بھی جاگ رہی تھی ،
“کہاں غایب تھے فلک کا کیا بنا “
“گیا تھا وہاں ایسے ہی ویزا نہیں ملتے ،اور پھر میرے دماغ میں دوسرا راستہ آیا ہے دونوں پر عمل کریں گے تاکہ ایک میں تو کامیابی ہو”
“مطلب “وہ چونکی
“مجھے بتاؤ یہ شرجیل کے بارے میں کیا کیا جانتی ہو تم”
“کیا مقصد اس کا “
“اس کا خاندان کچھ تو پتا ہوگا”
“تھوڑا بہت وہ کسی گاؤں کے جو شاید یہاں سے دو گھنٹے دور ہے کیو کے جب وہ یہاں لایا تب اس نے کہاتھا کے اب وہ مجھ سے صرف دو گھنٹے دور کے فاصلے پر ہے نام نہیں پتا گاؤں کا مجھے ،وک وہاں کوئی سردار ہے یا کسی سردار کا بیٹا ہے بہت پہنچ ہے
اکثر ایک عورت کی کال آتی ہے جسے “اماں “یا شاید “بی اماں “کہتا ہے اور ہاں ایک ہے اس کے خاندان میں کوئی بھائی ہے یا باپ نہیں معلوم بڑے سرکار کہتا ہے وہ آدمی جب کال کرتا ہے یہ بلکل بدل جاتا ہے “وہ سوچتی زہن پر زور ڈالے بولی
“یہ آدمی تمہارے سامنے یہ باتیں کر لیتا ہے؟تمہیں فون بھی دیا ہے؟ آجا بھی سکتی ہو؟اسٹرینج شک نہیں کرتا”
“نہیں کیو کے اسے پتا ہے بے یارو مددگار ہوں کبھی بھاگی نہیں وہاں سے کہیں رابطہ نہیں کیا شروع میں کرتا تھا پھر مکمل تحقیق کرکے یقین آگیا اسے کے یہ کھلونا کہیں نہیں جا سکتا “وہ زہرخند ہوئی تو سعود کو بھی اپنے ایسے سوال پر شرمندگی ہوئی
“بائی دی وے یہ معلومات کافی کم ہے ایسے تو اس کو چیک میٹ نہیں کر سکتے”
“کیو کیو کرنا ہے چیک میٹ بس فلک کو نکالو میں بھی کچھ بندوبست کر لوں گی”وہ زچ ہوئی
“کیا کرلو گی ؟اور یہ آ ج تم کل کوئی اور کوئی اینڈ بھی ہونا چاہیے اس کا یا نہیں,عجیب ہی لوگ ہو،فلک کو ویزا ملے گا یہ کنفرم ہے کیا اتنا آسان ہے دو راستے ہونے چاہیے کم سے کم سیف وے کون بندھ کرتا ہے بھلا اپنا “وہ بولتا گیا پھر رکا”میں نے ایک دوست کو شرجیل کی معلومات نکالنے بولا ہے وہ رپورٹنگ میں بھی رہ چکا ہے کچھ پتا چلے گا تو آگے کا پلان کریں گے تب تک تم لنگڑا کے چلو جب فزیوتھراپی کرائی جائے تاکہ یہاں قیام کر سکو میں تمہیں ایک فون اور سم لادوںگا اس سے رابطہ رکھیں گے کیونکے کیا پتا تمہارا فون ٹریس کیا جا رہا ہو “
وہ سمجھانے لگا
“ٹھیک ہے پر مہربانی ہوگی تمہاری مجھے غلط مت سمجھو میں احسان مند ہوں تمہاری مگر جلدی جو کرو جلدی فلک اٹھارہ کی ہوگئی ہے یہ وقت بھی بائی نے میری منت سماجت اور پیسہ بھرنے پر دیا تھا اب وہ اسے لانچ کرنا چاہے گی “وہ روتے بولی
سعود گہری سانس بھر کر رہ گیا وہ تسلی بھی نا دے سکا بھاری دل لیے وہاں سے نکلا
————![]()
اسے آج بھی ہلکا سا ٹیمپریچر تھا تھکن الگ وہ ہوسپٹل سے گھر آکر سوئی نہیں تھی اب بھی بستر پر کروٹ بدل رہی تھی سر درد ہورہا تھا ،اس کی بےچینی پر حیدر بھی متوجہ ہوا ,لیپٹاپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اس سے مخاطب ہوئے
“جانم کیا ہوا ؟ٹھیک ہو تم ؟”وہ پیار سے اس کے بال سہلاتے بولے وہ اٹھ بیٹھی “ہمم بس سر میں درد ہے”
“چچ دوائی لی پھر؟”وہ تشویش سے بولے
“لی ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے اثر کرنے میں وقت تو لے گی “وہ کہتی اٹھ بیٹھی
“لیٹو واپس میں سکھاں کو بلاتا ہوں تمہارا سر دبا دے گی “وہ اٹھنے لگے
“حیدر ٹائم تو دیکھیے “
“کچھ نہیں ہوتا ٹائم کو “
“ایسی ہی فکر ہے تو آپ دبا دیجے سر تھوڑی دیر”
“میں!میں سر دباوں ؟”وہ انتہائی حیرت جس میں ناگواری ہلکورے لے رہی تھی اس سے سوال کر رہے تھے
“میں بھی دباتی ہوں آپ کا سر “اس نے جیسے یاد دلایا
“وہ الگ بات ہے “وہ الجھے اب کیا بتاتے ان کے والد سردار تھے اور وہ ان کے پہلے بیٹے یعنی مستقبل کے سردار بچپن سے ہی سب کو اس رتبے کا احترام کرتے پایا یہ خدمت تو کبھی ان کے ماں باپ نے نا لی ان سے اور اب یہ لڑکی جو انتہائی عام سے انداز میںفرمائش کر رہی تھی
“الگ بات ہے؟”وہ حیرانی سے بولی”ٹھیک ہے سمجھ گئی کوئی بات نہیں خود ہی ٹھیک ہوجاوگی”وہ سمجھ کر گیری سانس لیتی کروٹ بدل گئی اختلاف کے باوجود اس کا ارادہ نہیں تھا کچھ کہنے کا
حیدر نے اسے دیکھا جو ہنوز بےچین تھی “کوئی بات نہیں ایک ہی دن کی تو بات ہے” انہونے سوچا پھر ہاتھ بڑھا کر آہستہ سے اس کی پیشانی پر رکھا
“رہنے دیں حیدر”وہ نرمی سے بولی
“چپ کرکے آنکھیں بند کرو اور سو جاؤ “وہ ٹوک کر بولے
رائنا نے سکون سے آنکھیں بند کرلیں تھوڑی دیر میں ہی وہ گہری نیند میں تھی انہونے دیکھا تو چہرے پر مسکراہٹ در آئی ہاتھ کھینچتے سونے لیٹ گئے زہن میں شازر کی باتیں گونج رہی تھیں انہوں نے ایک ہاتھ سوتی رائنا کے سر کے نیچے رکھا اور تھوڑاقریب کیا فیصلہ مشکل تھا پر کرنا تو تھا وہ فلحال کے لیے سب سوچیں جھٹکے آنکھیں موندھ گئے،
————![]()
“سکینہ تم نے یونی ورسٹی سے کل گاؤں جانا ہیں نا ؟”
چاچی پوچھ رہی تھیں
“ہاں چاچی سامان بھی باندھ لیا ہے”وہ اداسی سے بولی
“ارے اداس کیو ہے چند دن کی بات ہے ماں راہ تکتی ہو گی تیری”چاچی نے سمجھایا تو وہ مسکرا کر رہ گئی
اس کا دل بھی چاہتا تھا کے گھر جائے ابھی بھی چھٹیاں تھی ہفتے بھر کی تو ماں نے بلا لیا وہ خوش تھی پھر ساری خوشی کافور ہوگئی جب یاد آ یا کے وہاں کیا ہو گا یقینا خالہ پھر رشتہ ڈالے گی ،وہ سکینہ عمر ،منشی عمر اکرم کی بیٹی تھی جو کے سردار خاندان کے منشی تھے
سکینہ کے علاوہ ان کے دو بیٹے تھے ،بڑا عرصہ پہلے بیوی کو لے کر الگ ہو چکا تھا اسی گاؤں کا رہائشی تھا چھوٹا جبکے کالج کا طالب علم تھا اور شہر میں رہتا تھا اس سے بڑی سکینہ تھی جو کے اب بی -فارمیسی کے پہلے سال میں تھی گاؤں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکول پہلے پرائمری تک تھا پھر چھوٹے سردار نے جگہ سنمبھالی اور اب گاؤں کی ترقی کا دور شروع ہو چکا تھا پرائمری اسکول اب سیکینڈری اسکول بن چکا تھا ڈسپنسری چھوٹے سے ہسپتال میں تبدیل ہوگئی تھی یہ دوسال میں ہی کافی ترقی کی گئی تھی
منشی جی ترقی پسند تھے پڑھے لکھے تھےتھوڑا بیت تعلیم کو ضروری گردانتے تھے بڑے لڑکے نے تو خیر پڑھ کر نا دیا البتہ چھوٹے دونوں اچھے نکلے سکینہ کو بھائی نے پڑھانے کا کہا وہ شہر میں چھوٹا سا جنرل اسٹور چلاتا تھا تو وہ خاندان کی مخالفت مول کر سکینہ کو شہر روانہ کر بیٹھے ۔ دانیال سکینہ کا خالہ زاد تھا اس سے 8 سال بڑا جب بچپن میں ہی سکینہ کو اس کی گود میں دیا گیا تو ضد کر بیٹھا کے یہ تو گھر لے کر جاؤں گا اور اتنا رویا کے حد نہیں تب ماں نے سمجھایا کے ابھی تو گڑیا چھوٹی ہے بعد میں لے آئیں گے اس وقت وہ بہل گیا مگر اڑیل گھوڑے کے دماغ میں بات کہیں پھنس گئی تھی اس کی ماں نے بچپن میں ہی جب رشتہ ڈالا تب منشی جی نے صفا بٹ انکار کردیا”ابھی تو بچے ہیں بڑے ہوں گے پھر آنا “
“تو بھائی زبان دو پہلے پھر آؤں گی تو سکینہ میرے دانیال کو ہی دو گے”
“اماں ! کوئی کھلونا ہے جو ہر صورت دوں گا”منشی جی ہنسے”بی بی بیاہ کا معاملہ ہے ٹھوک بجا کر رہی طے کرتے ہیں “انہوں نے سمجھایا بیوی اور سالی دونوں ناراض ہوئی برادری الگ چڑی مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئے دانیال اور اس کی ماں نے مشہور کردیا کے سکینہ ہے دانیال کی سب کو یقین بھی آگیا کیا کمی تھی دانیال میں ڈنگر ،زمین،مناسب تعلیم ،اچھی شکل ،خاندان سب تو تھا ،سکینہ کے لیے صورت حال مختلف تھی دانیال نے اس کا بچپن ہی کھا لیا تھا وہ سات سال کی تھی باہر کھیل رہی تھی جب پندرہ سالہ دانیال ہاتھ سے پکڑ کر گھسیٹتا لایا “ماسی دیکھ اس کو کیسے کھیل رہی ہے باہر اتنے مرد لڑکے گزرتے ہیں سب دیکھیں گے اسے “
“سوہنے ابھی بچی ہے کھیلنے دے “سکینہ کی ماں دلار سے بولی اور چولہے کی طرف بڑھی اس نے کھانا چڑھانا تھا
“ماسی تم بھی نا”وہ چڑا اور پاؤں پٹختا چلا گیا
رات کو وہ آنگن میں بیٹھی کھیل رہی تھی اماں ابا اندر تھے تب وہ اندر کودا اسے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا وہ کسمسائی اور چلانا چاہا اس نے ہاتھ کر منہ بند کردیا
“زیادہ مچل مت ! بچی نہیں ہے اتنی ،سن اب باہر نا دکھنا
میری غیرت جاگتی ہے سمجھی اتنی سوہنی ہے جیسے ملائی کی بنی ہو تیرے اوپر میرا حق ہے ،ابھی میں پندرہ کا ہوں تین سال میں اٹھارہ کا ہوجاو گا تو تجھے بیاہ کے جاؤں گا”وہ اس کے منہ سے ہاتھ ہٹاتا کو دیتی نگاہوں سے تکتا بولا
“ممم۔ممیں ۔۔ابب۔ابا ۔۔ککو بببتاوں گی”وہ سسکتے بولی تو وہ پھر اس کا منہ بندھ کرتا بولا
“بتا دے پھر جو تین سال بعد ہونا ہوگا وہ آج ہی ہوجا ئیے گا میں تو بس تیری کم عمری کی وجہ سے رکا ہوں ,چل آ بتادے آ”
وہ ہنستا بولا اور اس کا گال چھوتا چلا گیا وہ اس کے ہاتھ کا لمس چہرے سے ہٹا نے لگی یہ کوئی ایک واقعہ نا تھا درجنوں تھے جس سے اس کا بچپن جوانی بھرا تھا
وہ اٹھارا سال کا ہوا تو خالہ چلی آئی ابا نے کہاعمر دیکھو میری بیٹی کی ابھی نہیں جب اٹھارہ کی ہوگی تب دیکھوں گا
وہ دل ہی دل دعا کرتی کبھی اٹھارہ کی نا ہوئی پر یہ بھی کوئی ممکن تھا وہ منحوس دن آگیا اور چند دن بعد خالہ بھی
اب کے ابا نے بھی سوچنا شروع کیا اور ماں اور خالہ نے بیاہ کی تیاری تک شروع کردیں اس سے کوئی نا پوچھتا آخر ابا کو ہی خیال آیا کے وہ کیو پیلی پڑیبہے کیو بیمار ہے
“ادھر دھی رانی کیا چیز کھا رہی ہے تجھے “باپ نے ساتھ لگایا تو لاڈو کی آنکھوں سے دریا بہہ گیا
“ابا پڑھنا ہے مجھے دیکھا تھا نا میرے نمبر کتنے اچھے آئے تھے “وہ دکھی ہوئی بولی
“دھی دانیال کہتا ہے نہیں روکے گا تجھے پڑھنے دے گا”
وہ کلسی جس نے بچپن میں کھیلنے نا دیا وہ کیا پڑھنے دے گا
“ابا دل نہیں مانتا دل ڈوبتا ہے”وہ بے بس ہوئی اس دن تو منشی جی نے بہلادیا مگر گزرتے دن سوکھ کے کانٹا ہوتی پیلی پھٹک بیٹی کو دیکھ خود کا دل بھی ڈوبا کونسی عزت کیسی برادری سب بھول گئے اور نا کہلا دی
مگر دانیال کو یہ ہتک عزت لگا اس کی ماں نے بھی شور کیا مگر منشی جی اٹل رہے
“یہ میرا میری دھی کا حق ہے کوئی زبردستی ہے کیا “
آخر انہوں نے سکینہ کو پڑھنے بھائی کے ہاں بھیج دیا وہ سمجھے معاملہ ختم ہوا مگر معاملہ ابھی ختم ہوا ہی کہاں تھا
————![]()
وہ ابھی بھی ہیرا بائی کے کوٹھے پر تھا اور آج واپسی کا قصد تھا
“تیرے کوٹھے پر اب کوئی ہیرا رہا نہیں ہیرا بائی اب”وہ اس سے بولا جو پان پر کتھا لگا رہی تھی
“آپ جو لے گئے سائیں “اشارہ شہرینہ کی طرف تھا
“ایکسپائر ہوگیا وہ ہیرا اب کچھ نیا لا”وہ کہتا پان چباتا اٹھا۔
“سارے ہیرے انہیں دے دوں پھر یہ مخصوص کر لیں دھندا چوپٹ کر دوں اپنا “وہ منہ بناتی رہگئی پیچھے
————![]()
“کیا بات ہے منشی جی اتنی غلطیاں آپ سے پہلے تو کبھی نہیں ہوئیں “وہ حیرانی سے الجھے الجھے منشی جی کو دیکھ رہے تھے
“بس سرکار میں ٹھیک ٹھیک کر دیتا ہوں “وہ بےچارے گھبرا گئے
“آرام سے گھر لے جائیں سکون سے کر لیجے گا”
“شکریہ سرکار وہ بچی کو بلوادیجے بڑی سرکار سے متاثر ہے پہلے بھی ملی تھی آپ کو یاد ہوگا آج پھر ضد کی نادان ہے آپ کی اور بڑی سرکار کی مہربانی ہے بس”منشی جی ماتھے پر سے پسینہ پوچھتے بولے حیدر کے کہنے پر ملازمہ سکینہ کو لے آئی تھی وہ آج بھی حجاب میں ہی تھی پہلے ایک بار ایڈمیشن ہونے پر منشی فخریہ لے کر آئے تھے حیدر تعلیم کی اور تعلیم یافتہ لوگوں کی قدر کرتے تھے انہونے سراہا اور سکینہ کو رائنا سے بھی ملوایا آج جب منشی آنے لگے تو وہ پھر شہری بڑی سرکار کو دیکھنے کی فرمائش کرنے لگی منشی جی جانتے تھے حیدر تو سلجھے ہوئے ہیں مگر بی اماں یقینا اسے ہتک عزت جیسا سمجھیں گی مگر پھر لے ہی آئے رائنا تو اس سے اچھے سے ملی وہ خوب متاثر ہوئی اس سے ۔
منشی جی اب سامان سمیٹتے چل دیے حیدر کی پرسوچ نظریں ان پر تھیں جب بی اماں آئیں وہ اٹھے تعظیم دی اور بٹھایا “کیا سوچ رہے تھے اپ؟
“منشی جی کیو پریشان ہیں “
“برادری مخالف ہے پریشان کیو نا ہو ،اولاد کی محبت میں سب کو ناراض کر بیٹھے “
“وجہ؟”
“رشتہ دیا تھا سالی نے اچھا بھلا لڑکا مگر انکار بیٹی پڑھنا چاہتی ہے ایسی اولاد کی محبت میں کیا برادری کو خفا کرنا اب بھگتیں خود”
“کوئی غلط بات تو نہیں ہے،اولاد کی خوشی رضامندی ضروری ہے اور بس پھر لوگوں کا کیا ہے ،اولاد کی محبت میں بس اللہ ناراض نہیں کرنا چاہیے دنیا کی خیر ہے”وہ مسکرا کر بولے تو بی اماں ہونٹ بھینچے رہ گئیں
————![]()
منشی اور سکینہ باہر نکلے تو شرجیل سے ٹاکرا ہو گیا
“سلام سائیں “منشی جی مؤدب ہوئے
“ہاں ہاں ٹھیک “وہ لاپرواہی سے بولا پھر حجاب میں لپٹی لڑکی کو دیکھا جس کی خوبصورت آنکھیں نقاب سے بھی سحر طاری کرہی تھیں
“یہ لڑکی ہے تیری ؟”
“جججی سائیں “
“یہاں کیو لائے ؟”
“بڑی بڑی سرکار سے ملنے۔۔”
“اچھا اچھا وہ بات کاٹ کر اندر مڑ گیا اسے ان لوگوں کی تفصیلات میں کوئی دلچسپی نا تھی
منشی جی کی سانس میں سانس آئی سکینہ حیرت زدہ ایک گھر کے دومختلف مردوں کا موازنہ کرنے لگی
————![]()
وہ صحن میں کپڑے دھوتی تھی جب کوئی اندر کودا
“جان من “وہ اسے گھسیٹتا دیوار سے لگا گیا اب اسے دیوانہ وار تک رہا تھا وہ بدحواس ہاتھ پیر مار رہی تھی
“کیسا سحر انگیز حسن ہے اس پر آنکھیں ،پہلی نگاہ میں گھائل کردیں انسان کو”وہ اور قریب ہوا سکینہ نے اس کے ہاتھ پر زور سے کانٹا اور بھاگی وہ پیچھے کھڑا ہنسنے لگا
“بس چند دن جان من پھر میرے پاس ہوگی تم۔۔۔۔
