Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh NovelR50439 Intezaar Ishq Episode 13
Rate this Novel
Intezaar Ishq Episode 13
Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh
“بول ۔۔۔(گالی) میں تجھ سے بک رہا ہوں کچھ۔۔۔ کب سے تھا یہ گند۔۔۔” وہ اب اسے بے دردی سے بالوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہا تھا۔۔۔
“سس۔۔سا۔ئیں ۔۔ننن۔نہں ۔۔پپپ۔۔پتا۔۔۔معا۔۔فی۔۔۔۔” ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں نا کردہ جرم کی معافی مانگتی شہرینہ اب اس کی لاتوں کی زد پر تھی۔۔۔۔
یہاں تک کے وہ بے ہوش ہو گئی وہ اسے مار مار کر تھک گیا۔۔۔ تب اس نے بے ہوش شہرینہ پر توجہ کی۔۔۔ معاملہ سمجھ میں آتے ہی وہ اسے لیے گاڑی میں ہسپتال بھاگا۔۔۔۔
“سرکار یہاں قریبی جو ہسپتال ہے وہاں جائیں گے۔۔۔۔” ڈرائیور نے پوچھا۔۔۔
“نہیں تو کیا اس(گالی)کا اشتہار لگائے گا وہاں چل مڈل کلاسیوں کا عام سا ہسپتال ہے۔۔۔ ہمارے جاننے والے وہاں کون ہوں گے بھلا۔۔۔۔” وہ جھٹک کر بولا۔۔۔۔
“اٹھ جا شہری جلدی ٹھیک ہونا جان۔۔۔” وہ اب بے ہوش شہرینہ کی جانب متوجہ تھا وہ اس کا من پسند کھلونا جو تھی۔۔۔۔
————![]()
وہ آج یہ قصہ مکمل طور ختم کرنا تھا۔۔۔ وہ اس وقت شہر کے ایک متوسط علاقے میں بنے کیفے میں تھے۔۔۔۔
ایک فیملی کمپارٹمنٹ بک کیا تھا وہ کوئی خطرہ نہیں چاہتے تھے۔۔۔
جس سے ان کی ازدواجی زندگی کو اور ان کے پولیٹکس میں مستقبل کو ان کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔۔۔
جلد ہی وہ ایاز کے ساتھ براے میں چھپی آتی دیکھائی دی۔۔۔۔
ان کے پہنچنے پر حیدر نے ہاتھ سے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
“تم مجھ سے کیو ملنا چاہتی تھی۔۔۔؟ اب کیا باقی ہے ماضی سے۔۔۔؟ اب تک تمہیں متعدد مواقع فراہم کیے گئے۔۔۔
تمہیں ایک نشئی سے بچا کر تمہارا رشتہ ایاز سے کرایا۔۔۔ تمہیں تعلیم کا سنہرا موقع دیا۔۔۔۔ تمہیں اس حرکت کے بعد بھی جب تمہیں وہ شخص جسے سب مان کر ہر شے کو ٹھوکر پر رکھ کر گئی تھی۔۔۔
تمہیں دھول چٹا گیا تب جب تم نے ایاز سے رابطہ کر اپنے بھائیوں کے عتاب سے بچنے کلیے پناہ مانگی۔۔۔۔
تب بھی ایاز نے تمہارا حیدرآباد میں بندوبست کیا مگر تم ویسی کی ویسی رہیں۔۔۔ تم کراچی چلی آئی جانے کہاں رہیں کیسے رہیں۔۔۔ کہ نشے کی لے لگالی۔۔۔
تمہاری بہن نے ایک بار وعدہ لیا تھا کے جب تمہیں مصیبت ہو تمہاری مدد کی جائے۔۔۔ اس بیچاری کو تمہارے بھائی خطرناک لگتے تھے۔۔۔ جبکہ اصل خطرہ تو تم خود تھی اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔۔۔
یہی موقعے تم سے بڑی بہن کو دیے جس کو اس نے تمہاری طرح گنوایا نہیں۔۔۔ مگر تم نے اپنی خواہشات کے ہاتھوں ہر موقع گنوا دیا۔۔۔”
وہ غصے سے بھرپور بنا لگی لپٹی رکھے بے نقط سنا گئے۔۔۔۔ نقاب میں ملبوس سندس نے رونا شروع کردیا۔۔۔۔
“میں بدنصیب کبھی نا سمجھیں کچھ نا سمجھیں سب۔۔۔ سب گنواہ دیا۔۔۔ کھودیا۔۔۔ سب کی مجرم ہوں میں۔۔۔ کراچی گئی تھی میں کیو کے تھک گئی تھی چھپتے چھپتے۔۔۔
وہ میرے بھائی جو میرے خون کے دشمن ہیں۔۔۔ مجھے ڈھونڈتے ہیں۔۔۔ جو پیسے ایاز نے دیے وہ بھی ختم ہوگئے۔۔۔۔
زندگی میں سب ختم ہوگیا۔۔۔ اب اگر ان لوگوں نے ڈھونڈ لیا تو جان سے بھی جاؤں گی۔۔۔”
“یہ سب تمہارے زاتی مسائل ہیں۔۔۔ جو بویا وہ کاٹ رہی ہو۔۔۔۔ اپنے گھروالوں مجھے ایاز رائنا سب کو دھوکہ دیا تھا۔۔۔ تو دھوکہ ہی تمہارا نصیب تھا۔۔۔”
وہ رکے اسے دیکھا پھر دوبارہ گویا ہوئے۔۔۔۔
“یہ نرمل کے زیورات ہیں۔۔۔ جو اس نے مجھے دیے تھے۔۔۔۔ اپنی بیماری کی وجہ سے وہ ہمیشہ اسی اندیشے کا شکار تھی کے وہ زیادہ نہیں جی سکے گی۔۔۔۔
یہ زیورات کی اس نے مجھے وصیت کی تمہیں دینے کی۔۔۔ تمہارے بھائیوں کی بدفطرتی سے ڈرتی تھی وہ۔۔۔ اور تمہارے سے لاعلم تھی بےچاری۔۔۔۔ یہ تمہیں ایازسے تب ملیں گے جب تم رہیبیلیشن سینٹر میں علاج مکمل کراؤں گی۔۔۔۔ اور ڈرگز سے جان چھڑاؤ گی۔۔۔ اور شاید یہ آ خری موقع جو زندگی تمھیں دے رہی ہے۔۔۔ پھر ملے نا ملے اور یہ آخری بار ہے اس کے بعد مجھ سے کوئی امید نا رکھنا۔۔۔”
وہ کہتے اسے روتا چھوڑ اٹھ گئے۔۔۔ گو کے سندس نے اپنی داستان سناتے ڈرگز کا حصہ غائب کردیا تھا۔۔۔۔
مگر ایاز کے زریعے وہ جان چکے تھے پہلے ہی کے سندس ڈرگز کی کے کا شکار بھی ہوگئی۔۔۔
“مج۔۔مجھے رائنا ۔۔۔بڑی۔۔بڑی سرکار ۔۔سے معافی۔۔۔۔”
“ضرورت نہیں ہیں میری بیوی کے سامنے آنے۔۔۔ اس کے زخم کریدنے کی۔۔۔ جب مناسب ہوگا پیغام خود دے دونگا اسے۔۔۔۔ پھر اسکی مرضی وہ معاف کرے یا نہیں۔۔۔ تم سامنے مت آنا۔۔۔”
وہ غصے سے سرد انداز میں کہتے وہاں سے نکلتے چلے گئے۔۔۔۔
پیچھے سندس اپنی حرماں نصیب پر روتی رہی۔۔۔ اور ایاز افسوس سے دیکھتا رہ گیا۔۔۔
وہ اس کی محبت نہیں تھی بچپن کی ساتھی تھی۔۔۔ اس سے چار سال چھوٹی دوست اس کے دھوکے پر وہ ٹوٹا تھا۔۔۔ مگر بکھرا نہیں تھا وہ اسے معاف کر چکا تھا اسے اپنی زندگی میں آگے بڑھنا تھا اور وہ بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
————![]()
وہ ہسپتال پہنچ چکے تھے۔۔۔۔ شرجیل ساتھ تھا۔۔۔
شہرینہ کا جو معاملہ تھا ورنہ ایسے کئی کام وہ کئی بار گھر بیٹھے بیٹھے نپٹاتا تھا۔۔۔۔
شہرینہ اس کا من پسند کھلونا تھی۔۔۔ جسے ٹوٹتا جڑتا دیکھنا اس کا مشغلہ تھا۔۔۔
“تم نے وہ کیس دیکھا بےچاری لڑکی کا مس کیرج ہوا ہے۔۔۔۔ مگر اتنے زخم ہیں اور کچھ نئے ہیں کچھ پرانے جیسے کوئی جانے کب سے اسے ہوس کا نشانہ بنا رہا ہو۔۔۔۔ جو لوگ لائے ہیں وہ ان کی فیکٹری میں کام کرتی تھی۔۔۔۔ بقول ان کے ساتھیوں کے سیڑھیوں سے گر گئی ایڈمٹ کیا ہے۔۔۔”
“یہ تو پولیس کیس بنا۔۔۔۔؟” رائنا نے پوچھا۔۔۔
ہائے بڑے لوگوں کی فیکٹری تھی۔۔۔ جہاں کام کرتی تھی یہ وہ خرچا اٹھا رہے ہیں۔۔۔ اور ہسپتال والوں کی بھی جیب بھردی۔۔۔ ایک کال ہی کافی ہوتی ہے ایسوں کی۔۔۔۔ ابھی تم زرا اس کے ریکارڈز وغیرہ دیکھلو۔۔۔۔ کل تو تم رات سے یہاں تھی جلدی چلی جانا بس یہ دیکھ کر۔۔۔”
ڈاکٹر شہزاد جو سینئر تھیں رائنا کو تفصیلات بتاتی روم نمبر 8 میں بھیج چکی تھی۔۔۔۔
وہ ناک کر کے اندر داخل ہوئی تو سامنے موجود شخص جو دیکھ بھونچکا رہ گئی۔۔۔۔
“آپ۔۔۔؟ آپ یہاں کیسے۔۔۔؟”
رائنا کو دیکھ شرجیل کی زمین ہی قدموں سے سرک گئی۔۔۔۔
“آپ بڑی سرکار۔۔۔؟ یہاں یہاں ہوتی ہے آپ کی جاب۔۔۔۔؟” وہ سنمبھلتا بولا اسے اپنی بے خبری پر افسوس ہورہا تھا۔۔۔۔
“جی۔۔۔۔” وہ الجھے لہجے میں بولی پھر پرسوچ نظروں سے اسے دیکھتی پوچھنے لگی۔۔۔۔
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟ “وہ ایک نگاہ بے ہوش شہرینہ کو دیکھتے بولی جو فلوقت دوائیوں کے زیر اثر تھی۔۔۔۔
“یہ یہ لڑکی بھابھی سرکار ہمارے فیکٹری میں کام کرتی ہے۔۔۔۔ اولاد ہونے والی تھی شاید پتا نہیں۔۔۔۔ ہسپتال والوں نے بتایا ابھی بے چاری کا شوہر بھی ظالم ہے۔۔۔۔ اب اس حال میں آئی فیکٹری جانے کیسے گر گئی۔۔۔۔ یہاں کہاں علاج ہونا تھا۔۔۔۔
پولیس کیس بننا تھا یہ غریب پس جاتی۔۔۔ اسی لیے معاملہ سنبھالنے چلا آیا۔۔۔۔ چلتا ہوں اب بھابھی سرکاراللہ حافظ۔۔۔۔” وہ کہتا نکل گیا۔۔۔۔
اسکی اتنی لمبی وضاحت نے اسے شش و پنج میں مبتلا کردیا۔۔۔۔”
یہ کب سے اتنے ہمدرد ہوگئے فیکٹری کی ایمپلاوئی کلیے وہ بھی۔۔۔ گھر کے حالات تک پتا ہیں اپنے بیٹوں کا اسکول بھی شاید نا پتا ہو عجیب معاملہ ہے۔۔۔”
وہ اسی نہج پر سوچتی کام نپٹانے لگی۔۔۔
————![]()
سعود نے اس لڑکی محض ایک جھلک ہی دیکھی تھی۔۔۔ مگر اسے یہ وہی لگ رہی تھی جس کو کب سے ڈھونڈھ رہا تھا۔۔۔
رات کو اس شخص نے (رشیدکا پڑوسی) اسے فون پہ بتایا کے اس کا جاننے والا جو شیدے کا دوست تھا۔۔۔
اس نے پتا لگایا ہے کے شیدا دو سال پہلے ہی لڑکیا بیچ چکا تھا۔۔۔ پھر سارا پیسا جوا میں اڑا کر اب شاید کسی ہسپتال میں بھرتی ہے۔۔۔۔
جانے اس کے ساتھ کیا ہوا ہے حالت خراب ہے۔۔۔”
یہ خبر سعود کے قدم اکھیڑ چکی تھی اب کیسے ملنی تھی۔۔۔ بھلا وہ لڑکیاں وہ مایوس تھا مگر آج امید پکی کرن نظر آگئی تھی۔۔۔ اس کی یاداشت بہترین تھی اور چہرے وہ کبھی نہیں بھولتا تھا۔۔۔
————![]()
رائنا گھر آگئی تھی۔۔۔ وہ کافی تھکی ہوئی تھی بی اماں سے مل کر اس نے پہلا کام سونے کا کیا تھا۔۔۔
حیدر کی آمد رات کومتوقع تھی۔۔۔ اور وہ سونا چاہتی تھی۔۔۔ تھوڑی دیر تاکہ فریش ہو ان کی آمد تک۔۔۔ اسے اچھا لگتا تھا ان کے لیے تیار ہونا۔۔۔۔ ان کی توجہ ،سن کر تعریف ،دل کا طرز بدل گیا تھا۔۔۔ اور وہ ہنوز لاعلم تھی۔۔۔۔
————![]()
“رائنا نے دیکھا تمہیں تمہیں ضرورت ہی کیا تھی جانے کی۔۔۔۔” بی اماں پریشان تھیں رائنا گل رخ یا آمنہ نہیں تھی جسے بہلایا یا ڈرایا جاتا۔۔۔
پریشان وہ بھی تھا آج ویسے بھی حیدر نے آنا تھا۔۔۔ اور اگر رائنا نے بتا دیا تو۔۔۔؟ مگر اس کے پاس حل تھا شیطانی حل۔۔۔۔
اس نے موبائل میں ویڈیو لگا کر بی اماں کو دی جس میں رائنا ایک نہایت سوکھے سے مریض کی جنرل ایگزامنیشن کر رہی تھی۔۔۔۔
“اس میں کیا ہے ایسا علاج کر رہی ہے وہ حیدر کو بھی پتا ہے۔۔۔” بی اماں بے زار ہوئیں۔۔۔
“ہاہاہا۔۔۔ جانتا ہوں مگر عورت کو جب توڑنا ہو تو پہلا حملہ اس کے کردار پر کرو۔۔۔۔ یہ آ خری ہوتا ہے۔۔۔ ابھی حیدر سرکار دیکھیں گے۔۔۔ تو جاننا کے علاج کرتی ہے۔۔۔ الگ بات ہے اور دیکھنا الگ۔۔۔ پھر اس پر آپ کا میرا تڑکا۔۔۔ اور خاندان کی عزت کے داؤ پے لگنے کا مصالحہ۔۔۔ بڑی سرکار کے پر کاٹ دے گا۔۔۔ کچھ نا بھی ہو تب بھی اس کے بعد اگر وہ میرے بارے میں کچھ بتائیں گی۔۔۔ تو سرکار یہی سمجھے گے عورت زات بغض نکال رہی ہے۔۔۔”
وہ اپنا شیطانی پلان سناتا انہیں دیکھنے لگا۔۔۔۔
“بس بس زیادہ مت اڑو شرجیل سائیں۔۔۔ کرو جو کرنا ہے۔۔۔ بس حیدر کی خوشیوں کو آنچ نا آئے۔۔” وہ تنبیہہ کرتی بولیں تو شرجیل سر ہلاتا ہنسنے لگا۔۔۔
————![]()
وہ سب اس وقت بی اماں کے گرد جمع تھے۔۔۔ شام کی چائے کا اہتمام تھا۔۔۔ کافی دیر سب خوشگوار ماحول میں بیٹھے۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ رخصت لیتے اپنے اپنے کمرے میں چل دیے۔۔۔۔
اس دوران شرجیل بھائی کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔۔۔ جو تناؤ کا شکار تھے۔۔۔۔ اس کے دل کا چور دھڑکا لگا گیا۔۔۔ اس نے میاں بیوی کے درمیان شیطان بننے کی ٹھان لی۔۔۔۔ اب بس تیلی لگانی تھی۔۔۔
سب اٹھ چکے تھے بس شرجیل حیدر اور رائنا تھے۔۔۔ بی اماں کے ساتھ رائنا بی اماں کا بلڈ پریشر دیکھ رہا تھی۔۔۔ حیدر نے فخر سے اسے دیکھا۔۔۔
شرجیل نے پتا پھیکینے کا فیصلہ کرلیا۔۔۔۔
“بھابھی سرکار کافی اچھی معالج ہیں۔۔۔ مگر ہر چیز رتبے کے حساب سے جچتی ہے۔۔۔”
اس کی بات پر جہاں حیدر کی تیسری چڑھی وہیں۔۔۔ رائنا کے اپنا سامان سمیٹتے ہاتھ۔۔۔۔ رکھ بی اماں کا دل ہولا۔۔۔۔ سوچا روک دے آنکھ کا اشارہ بھی کیا مگر وہ کہاں سنے والا تھا۔۔۔۔
“اب دیکھے بڑے سرکار کی بیگم اور ایسے کام شرم کا مقام ہے۔۔۔۔ خاندان کے لیے کہتے اس نے موبائل پر ویڈیو لگائی۔۔۔ جس میں رائنا ایک سوکھے سے مریض کی گردن کی گھٹلیاں ہاتھ سے چیک رہی تھی۔۔۔۔ دیکھا جائے تو صاف پتا لگ رہا تھا کے وہ محض کام کر رہی ہے۔۔۔۔ مگر ایک گندا زہن گندگی اگل چکا تھا۔۔۔۔ رائنا حیدر کے ہاتھ میں موجود موبائل کو دیکھا جو بنا کسی تاثر کے دیکھ رہے تھے ویڈیو۔۔۔۔
“حیدر کیا ہے اس میں۔۔۔۔” وہ پریشان ہوئی تھوڑا سا اتنا تو سمجھ گئی تھی کے اس کی زات پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔۔۔
“تم نے بی اماں کو چیک کر لیا۔۔۔۔”؟ ان کے اس سوال پر وہ مزید الجھی۔۔۔
“جی پر۔۔۔”
“بس تم اب جاؤ کمرے میں اور صبح ہوسپٹل کی تیاری کرو۔۔۔”
‘مگر۔۔۔”
“جاؤ شاباش” سرد لہجہ اسے جانے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔
شرجیل نے حیدر کا تنا چہرہ دیکھا جو ضبط سے سرخ ہو رہا تھا۔۔۔۔ اسے پلان کامیاب ہوتا لگا اب بھابھی سرکار کے پر کٹیں گے۔۔۔۔
