Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh NovelR50439 Intezaar Ishq Episode 26
Rate this Novel
Intezaar Ishq Episode 26
Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh
شرجیل باؤلا ہوا پھر رہا تھا سمجھ نہیں آرہا تھا کے کونسی زمین دکھائے بھائی سرکار کو
آمنہ کو اس کی حالت دیکھ ہنسی آئی کہاں تو وہ منشی جی کی لڑکی سے شادی کے خواب دیکھ رہا تھا بی اماں نے کس مشکل سے روکا تھا اور اب اسے اپنے حلیے کی فکر نا تھی
“ہاں سن یہ شہری کو اس کوٹھے پر بھیج دینا تھوڑے دن ٹہر کر اور چپ چاپ ہو سارا کام “” گئی میسینی”اس نے آمنہ کو جاتے دیکھ داد بخش(شرجیل کا خاص آدمی)کو کال ملا کر ہدایت کی
حیدر نے جس طرح اس پر نظر رکھنی شروع کی تھی ایسے میں یہ شہرینہ کو اپنے ساتھ کسی بھی گھر میں نہیں رکھ سکتا
اسے اب کسی نا کسی طرح پیسوں کا یا زمین کا بندوبست کرنا تھا صبح سے اپنے جیسے کئی عیاش لوگوں کو جو تھے تو اس کے دوست فون کر چکا تھا
حیدر ہر بار سامنا ہونے پر “ٹائم از رننگ “کی دھمکی سے نوازتے اس کی اپنی پراپرٹی کونسی اور کتنی تھی حیدر کو پتا تھا آمنہ کے جہیز میں ملی زمین وہ پہلے ہی جبرا قبضہ کرکے پیچ چکا تھا
اب بیٹھا سر کے بال نوچ رہا تھا
باہر سے اندر آتی۔ آمنہ کو دیکھ شاطرانہ چمک آنکھوں میں ابھری
“ہاں یہ کام ہو سکتا ہے ،بس رام کرنا ہوگا وہ کونسا مشکل ہے”
وہ کمینگی سے ہنسا آمنہ نے تعجب سے دیکھا اور سر جھٹکا
×=×=×=×=×=×=×==×=×=×=×=×=×
ہاسپٹل کا کام جلد ہی نمٹ گیا تھا سب ڈاکٹرز کو کال کر لیا گیا تھا ،ہاوس جاب ختم ہونے میں بھی کم ہی وقت بچا
تھا سعود کافی دنوں سے غائب تھا رائنا کو اس کے آنے کا انتظار تھا وہ ویڈیو والا معاملہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی اسے حیدر کو ثبوت دکھانا تھا
کئی دنوں سے طبیعت الجھی الجھی تھی بات بات پر چڑچڑا پن اور بیزاری الگ تھی
اس نے آج چیک اپ کرایا شک تو اسے پہلے بھی تھا مگر اب ٹیسٹ کے بعد تصدیق بھی ہوگئی تھی
وہ یہ ٹیسٹ رپورٹ ابھی حیدر کو نہیں دکھانا چاہ رہی تھی ۔یہ الگ بات کے خوشی اس سے سنمبھالے نہیں سنمبھل رہی تھی
“کیا بات ہے رائنا بہت خوش ہو”ڈاکٹر فریدہ نے پوچھا “وہ ایسے ہی بس آپ بتائیں کل آف کیا تھا خیر تھی”
“بھئی ویڈنگ اینی ورسری تھی میری چار سال ہوگئے خیر سے یہ دن ہم پورے دن ساتھ بتا سیلیبریٹ کرتے ہیں ” ڈاکٹر فریدہ نے مزے سے بتایا
“تمہاری کب ہے ویسے “اب وہ اس سے پوچھ رہی تھیں
“پہلی ہے چند دن میں “اس نے ڈیٹ بتائ
“گڈ ہاں یاد ہے تو ہسبنڈ پر مت ظاہر کرنا ،ورنہ ساری عمر تم ہی پہل کرتی رہوگی” فریدہ نے تجربہ جھاڑا
“نو نو میرا ایکسپیرینس الگ ہے میں نے ایک بار یاد رکھی ہنسبنڈ میرا بھول گیا میں نے خوب اچھے سے ڈیکوریٹ کرکے کیک اور گفٹس کے ساتھ وش کیا ،اینڈ گیس واٹ وہ اتنا ایمپریس ہوگیا کے اب شادی کے بعد بھی وہ یاد رکھتا ہے احسان الگ کے پہلی میں نے یاد رکھی ،اس لیے بھول جائے نا تب بھی دن خراب مت کرنا ہیپی میموریل بناؤں یار “ڈاکٹر رودابہ نے اپنا تجربہ بتایا
“ہمم لیٹس سی میں کونسی کیٹیگری میں آتی ہوں حیدر کو یاد ہوتا ہے بھی کے نہیں ،گفٹ تو میرا بیسٹ ہے “
وہ بولی تو ان دونو کو تجسس ہوا
“ایسا کیا گفٹ ہے بھئی”
“جس کا ہے اسی کو بتاؤں گی یہ تو”وہ کھلکھلائی وہ اس طرح کی باتیں شاید پہلی بار ہی شوق سے سن اور کر رہی تھی
×=×=×=××=×=×=×=×=×=×=×=×=×
وہ حویلی پہنچی تو حیدر پہلے سے بی اماں کے پاس بیٹھے تھے جھٹکا اسے سکینہ کی موجود گی کا لگا
جو رکھی کی جگہ چائے سروو کرہی تھی
اسے کافی عجیب لگنے لگا تھا اس کا برتاؤ ،کئی بار رائنا نے اسے ایسے آنکھیں گھماتے پایا جیسے کسی کو ڈھونڈھ رہی ہو
اس دن تو حد ہی ہوگئی تھی جس دن اس نے پنچائیت کا فیصلہ سنا تھا
وہ خود سے مٹھائی بنا کر لائی جب آئی تو
” بیبی سرکار یہ یہ مٹھائی , لائی ہوں ہم جیت گئے فیصلہ ہوگیا جان چھٹی میری” وہ بہت خوش تھی اس کی ایکسائیٹمنٹ نے رائنا کوبھی خوش کیا
اس کا دل رکھنے کو ڈبا کھولا جس کے دو پورشن تھے
“یہ دو حصے کیو ؟”
“وہ سر سرکار کے لیے بھی ہے ” بات سے زیادہ انداز ٹھٹکانے والا تھا شرماہٹ لیے ہوئے اسے برا لگا جلن سی ہوئی
اس نے ایک چھوٹا ٹکرا اٹھایا اور ٹفن بند کر اسے دیا
“یہ لے جاؤ ،میں نے تو لے لی مگر سرکار نہیں چکھیں گے یہ مجھے پتا ہے “وہ دکھائی سے کہتی اسے دیکھے بغیر اندر کی جانب مڑ گئی
“اب دو ہفتے ہوگئے ہیں بچے جا چکے ہیں آج کیو آئی ہے یہ “
مزید ٹینشن اسے بی اماں پر ہورہی تھی جو اس سے پیر دبوا رہیں تھی
“کیا یہ آگ اور تیلی کا کھیل کھیلنا چاہتی ہیں “
اسے ان کی رات کی باتیں یاد آئیں جب وہ حسب معمول ان کا چیک اپ کرنے آئیں تھیں
“سال ہونے والا ہے شادی کو آپ کی ، اولاد کے آثار نہیں “
“بی اماں سال ہونے میں اور کئی سال ہونے میں فرق ہے “وہ چپ نا رہی
“آپ کا ہی نقصان ہے دیر میں حیدر کو مل ہی جائے گی اولاد آپ نا سہی کوئی اور سہی آپ رہ جائیں گی خالی “انہوں نے جھوٹی ہمدردی جتائی شرجیل کو جب سے حیدر نے اس کی حمایت میں مارا تھا تب سے وہ اسے بہانے بہانے سے زچ کر رہیں تھی
یہ شادی والی دھمکی ان کی پرانی تھی اس کے لیے ،اسے فرق نہیں پڑتا تھا ایک تو حیدر کی فطرت بھی جان گئی تھی جب تک نا چاہے کوئی ایسے ہی ان سے کوئی کام نہیں کراسکتا تھا
دوسرا وہ سوچتی کے اسے بھلا کیا فرق پڑے گا وہ خود حیدر کی دوسری بیوی بنی ہے اور اس کی کونسی پسند کی شادی ہے پر اب اسے فرق پڑ رہا تھا
اس لڑکی کی نظریں کھل رہیں تھیں
وہ تیر کی تیزی سے اندر آئی با آواز بلند سب کو سلام کیا
جس کا جواب حیدر نے اونچا بول کر اور بی اماں نے بدبداکے دیا
“تم آج یہاں کیا کر رہی ہو،وقت پورا ہو گیا بچے بھی ہاسٹل جا چکے اب کیا جواز ہے ،گھر پر رہو “اس نے لتاڑا
“رکھی رکھی۔۔۔”اس نے زور سے آواز دی وہ بھاگی آئی
“یہ تمہارا کام ہے نا گاؤں سے منشی جی کی بیٹی آکر کرے ،حویلی کی بدنامی نہیں ہوگی ،ائیندہ سے نا دیکھے مجھے یہ لاپرواہی “اس نے اسے بھی لتاڑا
بی اماں اور حیدر دونوں ہی حیران تھے
پہلی بار اس کے انداز میں حویلی کی بڑی سرکار دیکھی تھی
حیدر کو مزا آنے لگا
“تم میرے پاس آؤ مجھے بات کرنی ہے”اس نے سکینہ سے کہا اور چل دی
وہ بھی پیچھے ہولی
“انداز دیکھے آپ نے ؟”بی اماں تک کر حیدر سے مخاطب تھیں
“ہوں !ویسے یہ لڑکی اب تھی کیو یہاں “انہیں تو اس کا یہ روپ مزا دے گیا تھا سرسری سا پوچھنے لگے
“سوغات بنا کر لائی تھی ،اب کمی لوگ ایسے ہی خوش ہوتے ہیں ہماری خدمت کرکے “وہ غرور سے بولیں
“ہوں مگر میں نے رائنا کو بھی یہی کہا تھا آپ کو بھی کہہ رہا ہوں زیادہ مت گھسائیں حویلی میں اسے ،بگاڑ نہیں دیکھنا مجھے یہاں “
انہوں نے ہاں میں سر ہلایا بگاڑ تو انہیں بھی دکھ گیا تھا
کل ہی تو شرجیل گوڈا پکڑا بیٹھا تھا
“منشی کی بیٹی سے نکاح کرادیں اس میں کیا قباحت ہے”وہ ان گرے آنکھوں کا دیوانہ ہوگیا تھا
“یہاں حیدر تمہارے کارنامے کھول رہیں ہیں ،چاردن مزید انہوں نے میرے رونے دھونے پر تمہیں دیے ہیں اور یہاں تم عورت زات سے نہیں نکل رہے”وہ زچ ہوگئیں تھی
“آپ یہ کام کریں میں وہ کروں گا مگر کیسے بھی بندوبست کریں “وہ ایک ہی ضدی تھا
اسی لیے وہ سکینہ کو پرکھ رہیں تھیں مگر جلد ہی انہیں اندازہ ہوگیا سکینہ کس کے لیے یہاں آتی ہے اند ہی اندر کمینی سی خوشی بھی ہوئی مگر ایک طرف شرجیل اس کے پیچھے لگا تھا اب اگر حیدر اس کی جانب متوجہ ہوگئے تو بھائیوں کو ساتھ رکھنے کےجو جائز ناجائز جتن کیے تھے آج تک پانی میں مل جانے تھے عورت زات سے بڑا فتنہ ان کی نظر میں کوئی نہیں تھا
“صحیح کہہ رہیں ہیں حیدر ،بڑی سرکار کو کسی اور طرح تنگ کر سکا جا سکتا ہے مگر یہ فتنہ میرے بھائیوں کے لیے خطرناک ہے ‘.
×=×°×=××=×=×=×=×=×=×=×=×=×==
“تمہارا کام ختم ہو چکا ہے یہاں اور وہ وجہ بھی اس لیے اب یہاں آنے کی تمہاری کوئی وجہ نہیں رہی ،یہ کتابیں پکڑو جو تمہیں چاہیے تھیں ،اور انہیں میں دل لگاؤ “
وہ بہت روکھے لہجے میں تھی سکینہ کو پہلی بار وہ سردارنی لگی اسے اس سے خوف آیا
“جج جی بڑی سرکار بہت بہت کرم نوازی آپ کی “
وہ ممنون ہوئی تو رائنا کا لہجہ دھیما پڑا (تم ہو سکتا ہے بے ضرر ہو پر شیطانی فطرت والے بہت ہیں یہاں) اس نے دل میں سوچا
“اور سنو پڑھائی سے یا اس کے علاوہ اگر تمہیں کبھی کوئی بہت اشد ضرورت بھی پڑے تو مجھ سے رابطہ کرنا ،بڑے سرکار کو ان چھوٹے چھوٹے معملات میں الجھانے کی غلطی نا ہو تم سے ٫,تمہارا خیال کیا ہے ،یہ یاد رکھنا”
سکینہ نے تھوک نگلتے اثبات میں سر ہلایا
“جاؤ اب “
×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×
وہ آنسو پوچھتی حویلی سے گھر آئی تھی ،جس چیز پر اس نے عرصے سے پردہ ڈالا تھا وہ زرا سا سرک گیا تھا وہ بھی اس کی محسنہ کے سامنے ،
“صحیح تو کہہ رہی تھی اتنا خیال میرا اور میں اسی کے شوہر پر نظریں رکھی تھی ،مجھے آگے پڑھنے کا موقع ملا بڑی سرکار کی امداد بھی میں کیو شیطان کے بہکاوے میں آگئی ،اللہ مجھے معاف کردے “وہ خود سے کہتی رونے لگی پھر آنسو صاف کر کے وہ نمبر مٹایا جو اس نے آمنہ کے بچو کو بیوقوف بنا کر لیا تھا ،اس نے اس پر ایک دو بار شاعری بھیجی تھی مگر کوئی جواب نا آیا اس نے نمبر دیکھا “سردار حیدر”دل پر پتھر رکھ اس نے یہ نمبر ہمیشہ کے لیے مٹادیا دل دکھی ضرور تھا
×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=
وہ کھڑکی کے پاس کھڑی سوچ رہی تھی اس نے سکینہ کے ساتھ صحیح سلوک کیا یا نہیں “مطلب حد ہے میں جب بھلائی کروں گی مجھے یہی صلا ملے گا ،اس لڑکی کو صحیح سمت میں محنت کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ فتنہ پروری اس کے ساتھ دوسروں کی زندگی اجیرن کرے گی”وہ اسی نہج پر سوچ رہی تھی جب حیدر چلے آئے انہوں نے اسے پیچھے سے مکمل حصار میں قید کر لیا رائنا کو ان کی ڈھرکنو کا شور سکون دے گیا
“کیا سوچ رہی ہے میری شیرنی ” وہ اس کے کان کی لو کے پاس سرگوشی کرتے اسکی ڈھرکنوں کا شور بڑھا گئے
“اپنے شیر کو سوچ رہی تھی ،اج کافی دن بعد شیرنی کی یاد آئی ورنہ تو غصہ ناک پر دھرا تھا “یہ نیا لقب اسے بھایا تھا
اس کے معصومانہ شکوے پر وہ ہنس دیے اور رخ اپنی جانب کیا
“تو شکوہ ہورہا ہے “اب ہاتھ اس کے چہرے پر آئی لٹوں سے کھیل رہے تھے وہ اس کا بدلا بدلا انداز بغور دیکھنے لگے بدل تو کافی دن سے رہی تھی انہیں فرصت آج میسر ہوئی
“ایسے کیو دیکھ رہیں جیسے پہلی بار دیکھا ہو”
انہوں نے اسے پھر حصار میں قید کیا
“تمہارا یہ روپ تو پہلی بار ہی دیکھا ہے “وہ ہنسی جھرنوں سی شفاف ہنسی
“حیدر کوئی امپورٹنٹ ڈے یا کام آنے والا ہے ” وہ ان کے کرتے کے بٹن سے چھیڑخانی کرتے پوچھنے لگی اسے تجسس تھا انہیں یاد ہے یا نہیں
“فلحال تو کوئی میٹنگ وغیرہ نہیں اور تم یہ باتوں میں بھٹکاو مت “وہ الگ ہی سمجھے تھے یہ انداز دلربائی نئے تھے انہیں پاگل کر رہے تھے
“کچھ بھی امپورٹنٹ نہیں ” اس نے پھر کوشش کی حیدر نے اسے باہوں میں قید کرلیا
“تم سے اور تمہارے ساتھ گزرنے والے اس وقت سے اور کیا امپورٹنٹ ہوگا”
“(انہیں یاد ہی نہیں )اسے تھوڑی مایوسی ہوئی مگر پھر حیدر کی چاہت نے بہلا لیا
“کن سوچوں میں گم ہو “انہوں نے آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی پھر اسے قریب کیا “کچھ نہیں “اس نے مسکرا کر سر جھٹکا
“ساری فکریں مجھے سونپ دو “وہ اسے حصار میں لیتے مزید قریب کیے سرگوشیاں کرنے لگے
وقت رفتہ رفتہ سرکنے لگا زندگی دور کھڑی مسکراتی انکی نظر اتار رہی تھی
×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=}=×=
آخر سعود اسے دیکھ ہی گیا پریشان پریشان شکل لیے وہ موقع کی تلاش میں تھی۔ جو اسے جلد ہی مل گیا وہ خود اس سے بات کرنا چاہ رہا تھا شہرینہ کو کل واپس کوٹھے بھیجنے والے تھے اس سے پہلے ہی اسے اس کو وہاں سے نکالنا تھا
“کیا ہوا کچھ پریشان ہیں آپ ؟”رائنا کے پوچھنے پر وہ چونکا
“نہیں نہیں تو “اسے بتاؤں یا نہیں وہ کشمکش میں تھا
“آپ کو ڈاکٹر فریدہ کی پیشنٹ یاد ہے ؟”رائنا نے پوچھا
(یہ تو میں پوچھنے والا تھا)
“آپ کیو پوچھ رہیں ہیں “اس کے گڑبڑا کر پوچھنے پر اس نے فون پر ویڈیو لگا کر اسے تھمائی جسے دیکھ سعود کے حقیقتاً توتے اڑ گئے
“یہ نا کے صرف ہاسپٹل کی خلاف ورزی اس پر آپ پر مس کنڈکٹ ،ہراسمنٹ تک کا کیس بن سکتا ہے ،اںب بتانا پسند کریں گے یا میں ڈائیریکٹر کے آفس جاؤں”
سعود نے کوئی چارہ نا پاتے اسے داستان شہرینہ بیان کرنی شروع کی
×=×=×==×=×=×=×=×=×=×=×=×==×=××=
آمنہ حیران تھی یہ شیطان اس پر کیو مہربان ہورہا تھا وہ کل ہی اس کے لیے جوڑا لایا تھا اور آج گجرے گالی دینا تو دور جھٹک تک نہیں رہا تھا
وہ اس سے گزشتہ رویے پر معافی بھی مانگ چکا تھا آمنہ کے پاس چارہ نا تھا معاف کرنے کے سوا ابھی وہ کمرے میں آئی تو اسے سر پکڑا دیکھ پوچھ بیٹھی
“کیا ہوا سائیں پریشان لگ رہیں ہیں “
“میں تجھ سے کیا کہوں آمنہ تجھے کتنا تنگ کیا پر اب نہیں چاہتا تنگ کرنا مگر مجھ سے ہوئی غلطیاں اب سامنے کھڑی ہیں فیکٹری کے گھپلے کیسے کرو کیسے چکاوں “وہ رات زدہ آواز میں بولا
“سب ٹھیک ہو جائے گا سائیں “
وہ بہانے بہانے سے اس کا زیور مانگ چکا تھا یہ بہروپ تھا ہی اسی لیے ارادہ تھا کے اس کا زیور بیچ رقم حاصل کر حیدر کو مطمئن کر سکے گا حیدر اس کا حصہ عارضی طور پر ضبط کر چکے تھے اس کا اختیار انہیں تھا یہ بابا سرکار کے بنائے اصول تھے
آمنہ بھی اس کا مکر سمجھ رہی تھی وہ اپنی اور بچو کی یہ سیکیورٹی نہیں کھونا چاہتی تھی اسی لیے کانوں میں بات ماردی
وہ باہر گئی تو وہ تپ گیا
“نخرے دیکھو اس کے زرا “کال آنے پر فون کان سے لگایا”ہاں بول بخش پہنچا دیا اس کو “
“سائیں آدمی روانہ کیے تھے پر مسئلہ ہوگیا لڑکی بھاگ گئی سائیں “
“کیا “وہ دھاڑا “اندھے تھے تم لوگ ؟,ہاتھ ٹوٹے تھے “؟
اب داد بخش معافی مانگ رہا تھا شرجیل کو لگا اس کی شریان پھٹ جائے گی
×=×=×=×=×=×=×=×=××=×=×=×=×=×=×=
وہ رائنا کے ذریعے حیدر بخت سے ملا تھا ،اور اب وہ اس کے سامنے بیٹھے تھے
“آپ کے پاس کیا۔ ثبوت ہے کے آپ کی کزن شرجیل بخت کے پاس ہے؟”سعود نے سامنے بیٹھے بارعب شخص کو دیکھا
“آپ اپنے بھائی کے ان مکانوں کی تلاشی کیو نہیں لیتے جو اس نے ان کاموں کے لیے رکھ چھوڑے ہیں “
وہ زہرخند ہوا
“بنا گھما پھرائے بات ہوگی تو بہتر رہے گا ،یاد رہے آپ کو فلحال میری مدد کی ضرورت ہے مجھے نہیں ” وہ دوٹوک بولے سعود ٹھٹک گیا
“میرے پاس ایڈریس ہے جو شہرینہ نے مجھے دودن پہلے ہی بھیجا ہے “
“ہمم”حیدر نے ہنکارا بھرا (اس کی بات پر یقین کرنے کی وجہ تھی وہ خود بھی اس لڑکی کے بارے میں جاننا چاہتے تھے جسے شرجیل ہاسپٹل لایا تھا)
×=×=×=×=×=×=×==×=×=×=××=×=÷=×=×=
سعود بہت پریشان تھا حیدر کے آدمی اس کے ساتھ مطلوبہ جگہ بھی آئے تھے ،پر وہاں شہرینہ نہیں تھی
“اسے رکھا گیا تھا ہیں رکھا تھا “وہ اب حیدر کے سامنے بیٹھا بال نوچ رہا تھا
“آپ آپ کچھ کر یں سر اس کا فون بھی نہیں لگ رہا “وہ پریشانی سے بولا
حیدر خود ٹینشن میں تھے ،یہ گھر (شرجیل کا ان کے علم میں نا تھا
“آپ نے کہا اسے وہاں سے کوٹھے بھیجا جا رہا تھا کیا پتا ہم لیٹ ہوں”
“وہاں اس کی بہن ہے فلک وہ بتا رہی تھی کے وہ نہیں پہنچی وہاں بھی اس کی ڈھونڈ مچی ہے”
حیدر نے لب بھینچے اور مکرم کو کال ملائی”ہاں مکرم کچھ بکا ان لوگوں نے “(شرجیل کے ملازمین کو وہاں تھے )
“جی سائیں وہ لڑکا صحیح تھا وہاں ایک لڑکی کو رکھا گیا تھا اور کل اسے ان کا ایک آدمی کے کر روانہ ہوا مگر راستہ میں لڑکی وہاں سے بھاگ گئی یا کوئی لے گیا کے بقول اس کے وہ گاڑی میں پتا نہیں کیسے سوگئے تھے اٹھے تو لڑکی غایب تھی
حیدر نے فون رکھتے سعود کو تفصیلات بتائی
“وہ کہاں جا سکتی ہے آخر اس کا تو اور کوئی مدد گار بھی نہیں تھا ” اس کے اوسان خطا ہونے لگے
×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=÷=××=×
“جانے کیا معاملہ ہوا وہاں “رائنا پریشانی سے ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی جب اچانک شور کی چیخ وپکار ر کی آواز نے متوجہ کیا
÷=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=
وہ پاگلوں کی طرح اسے زدوکوب کر رہا تھا
“بول نہیں دے گی ہاں نہیں دے گی” اس نے اس کے بال کھینچے
“نہیں دوں گی سمجھا آپ کبھی نہیں دوں گی میرا میری اولاد کا حق ہے اس شیور پر طوائفوں پر لوٹانے کے لیے نہیں ہے وہ ” وہ سارا ضبط مصلحتیں بھول چیخی اس شخص نے پچھلے چند دن سے جو ڈھونگ رچا رکھا تھا آج اس کی قلعہ کھل گئی وہ بہانے سے کئی بار اس پر پیسوں کے مسئلے کا زکر کر چکا تھا مگر وہ ہر بار ٹال جاتی آج شرجیل کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا پہلے شہرینہ بھاگ گئی اور اب نائیکہ الگ پیسے مانگ رہی تھی(اس کی سونا کا انڈا دینے والی مرغی جو کھوئی تھی ) اس کے تیور ہی بدل گئے تھے ,پھر حیدر بخت کی دی گئی ڈیڈ لائن کی مدت بھی تقریبا ختم تھی وہ چاروں جانب آگ میں گرا تھا اس پر آمنہ بھی قابو میں نا آئی وہ پاگل ہی ہوگیا
آمنہ کی چیخ و پکار بی اماں اور رائنا کو بھی کھینچ لائی
“شرجیل چھوڑ دیوانہ ہوا ہے مر جائے گی وہ”
بی اماں روئیں
“مرنے دے اس کو “
“چھوڑیں شرجیل بھائی “وہ دونو آمنہ کو بچانے کی سعی کر رہی تھی اسی اثناء میں آمنہ کا سر ٹیبل سے جا لگا
وہ سب ٹھٹک گئے آمنہ بے سود زمین پر پڑی تھی
اس کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا
“یہ کیا کیا آپ نے مل گیا سکون “وہ اب امنہ کی نبض دیکھ رہی تھی آنسو اس کے گال بھگو رہے تھے
بی اماں کی گرفت شرجیل پر ڈھیلی پڑی وہ بھی آمنہ کی طرف بھاگیں
“گاڑی لاؤں بھابھی کو ہسپتال لے جانا ہے “وہ ملازم سے چیخ کے بولی
شر جیل قدم قدم پیچھے ہوتا بھاگا
اور باہر نکلتے ہی گاڑی لیے نکل کھڑا ہوا وہ حواسوں میں نیہں تھا اسے لگا آمنہ مر گئی وہ اسے مارنا نہیں چاہتا تھا
وہ روتے ڈرائیو کر رہا تھا باہر اندھیرا تھا وہ کہاں جا رہا تھا اسے خود نہیں پتا وہ بڑا سنسان علاوہ تھا جہاں وہ پہلے کبھی نہیں آیا تھا پتا نہیں کیسی اونچی نیچی سڑک تھی اس نے گاڑی کی اسپیڈ مزید تیز کردی اندھیرے کی وجہ سے کچھ نہیں دکھ رہا تھا سردیوں کا مہینہ الگ تھا تو دھند بھری تھی گاڑی ڈس بیلنس ہوتے ہونے لگی
“یہ یہ کیا ہورہا “وہ گڑبڑایا بریک لگانے چاہے تو نہیں لگ سکے ,سامنے درخت تھا بے قابو ہوتی گاڑی اس سے جا ٹکرائی اس کی دلخراش چیخ فضا میں گونجی
