406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 15

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

وہ اپنے کام سے تھوڑی فراغت پاتے ہی اس پرائیوٹ کمرے کی جانب بڑھی جہاں وہ لڑکی تھی۔۔۔ جو بقول شرجیل ان کی فیکٹری کی ایمپلائی تھی۔۔۔

وہ حیران تھی ایک معمولی ایمپلائی کے لیے کمرہ۔۔۔ اور ملازم کا بندوبست لڑکی اگر شادی شدہ تھی۔۔۔ تو شوہر کیو نا آیا نا ماں باپ لے دے کر دو ملازمہ ٹائپ عورتیں تھیں۔۔۔ جو اس کے ساتھ تھیں ایک صبح ہوتی تھی ایک رات میں۔۔۔ وہ آگے بڑھی ہی تھی کے سینئر ڈاکٹر سے ٹکرا گئی۔۔۔”

کہاں جا رہی ہیں آپ ڈاکٹر رائنا۔۔۔؟”

“میم روم نمبر 14 کے پیشنٹ کے چیک۔۔”

ابھی بات ادھوری ہی تھی کہ انہونے کاٹ دی۔۔۔

“رہنے دیجے ڈاکٹر اشعر نے منع کیا ہے صرف ڈاکٹر فریدہ دیکھیں گی۔۔۔”

“اوکے میم۔۔۔” وہ کہتی واپس پلٹی اب اسے یقین تھا کے دال میں کالا نہیں ہے پوری دال ہی کالی ہے۔۔۔۔

مگر وہ ابھی حیدر سے نہیں کہہ سکتی تھی۔۔۔ بنا ثبوت کے الزام تراشے گی تو کیا فرق رہ جائے اس میں اور شرجیل میں۔۔۔ اور جو وہ پہلے کرچکا جس پر وہ حیدر سے بھی ناراضی دکھا چکی تھی۔۔۔

اور اب وکیل صاحب کافی ناراض تھے ایک فون نہیں آیا تھا ان کا صبح سے۔۔۔ جو کے خلاف معمول تھا ایسے میں اگر وہ بنا ثبوت یہ مدا اٹھاتی تو اب یہی لگنا تھا کے وہ بدلہ لے رہی ہے۔۔۔۔

“مجھے کچھ سوچنا تو ہوگا۔۔۔” اس کے دماغ میں یکایک خیال آیا اب اس کا رخ ریسیپشن ڈیسک کی جانب تھا۔۔۔

وہاں پہنچ کر اس نے سسٹر سے بہانا کرکے انٹری ریجیسٹر دیکھنے شروع کیے۔۔۔ وہ اس لڑکی کی دیٹلیز دیکھنا چاہتی تھی کسی چیز جس سے شرجیل کا لنک ثابت ہو۔۔۔ مگر کافی دیر کی محنت کے بعد بھی نتیجہ صفر تھا۔۔۔ کسی قسم کا کوئی اندراج نا تھا شہرینہ نامی لڑکی کا اس کا شک مزید تقویت پا گیا کوئی بھی ایسی احتیاط محض ملازم کے لیے نہیں برتا۔۔۔۔

💖————💖

وہ آج چھٹی لے کر فلک کے ہاسٹل کی جانب روانہ تھا۔۔۔

شہرینہ کے مطابق وہ فلک کو لے کر نہیں جا سکتا تھا۔۔۔ کیو کے نائیکہ نے یقیناً نظر رکھ چھوڑی تھی۔۔۔

اس پر اسے بس کسی طرح بغیر کسی کو شک میں ڈالے فلک سے متعارف ہونا تھا۔۔۔

💖————💖

وہ بہت پریشان تھی اس کی آپی کا نمبر بند تھا یہ وہ سیل فون تھا۔۔۔ جو شہرینہ چھپا کر رکھتی تھی۔۔۔ آف کر کے بس خود کبھی کبھار فلک کو کال کرتی ،فلک پریشان تھی۔۔۔

نائیکہ نے کل اسے کالج سے ڈائیریکٹ کوٹھے پر بلایا تھا۔۔۔ وہ اب فلک کی ٹرینینگ شروع کرانا چاہتی تھی۔۔۔۔

وہ 18 کی ہوگئی تھی فلک کے امتحانات تقریبا ہو چکے تھے۔۔۔ بس پریکٹیکل دینے رہتے تھے جس کے بعد اسے ہمیشہ کے لیے وہاں جانا تھا۔۔۔ جہاں کا سوچ کر اس کی روح کانپتی تھی۔۔۔ اس نے بہن کے کہنے پر سکالرشپ کے لیے مختلف ملکوں کے فارمز دیکھنے شروع کردیے تھے۔۔۔ لیکن ہر چیز کے لیے کئی دستاویزات کی ضرورت تھی اس نے ایپلیکشن دینا بہرحال شروع کردی تھی۔۔۔

💖————💖

وہ آج پھر ان کے آفس میں تھا اب یہ تو طے تھا کے جب تک وہ یہاں ہے۔۔۔۔ اور جس دن حیدر آفس آئیں گے وہ بھی آئے گا۔۔۔ دوست سے مل کر وہ بھی خوش تھے۔۔۔ مگر آج اس کی باتیں سر پر ہتھوڑے کی طرح بج رہیں تھیں۔۔۔

انہونے کوئی پچیسویں بار فون چیک کیا۔۔۔۔ نا کوئی کال نا میسج ان کا خون کھول کھول گیا۔۔۔۔

“لاپرواہ عورت۔۔۔۔” وہ بڑبڑائے۔۔۔

“مجھ سے کچھ بولے تم۔۔۔”وہ بھی ٹر ٹر روک پوچھ ہی بیٹھا آخرکار۔۔۔

“نہیں۔۔۔۔،تم اپنے بیانات جاری رکھو۔۔۔” وہ مزید تپ گئے۔۔۔۔

شازر نے غور سے یہ چڑچڑا لہجہ ملاحظہ فرمایا۔۔۔

“کیا ہوا ہے اتنے برہم کیو ہو۔۔۔”

“کچھ نہیں۔۔۔۔” وہ جھنجھلائے اور پھر لیپ ٹاپ کھول لیا۔۔۔

“زاہد۔۔۔۔؟ ہاں بھئی کہاں ہو تم وہ منشی جی سے لیے حساب کتاب زمینوں کے۔۔۔۔” اب فون پر زاہد کی شامت تھی۔۔۔۔

“لیتا ہوں بھائی بس تھوڑا کام رہتا ہے۔۔۔” وہ اس اچانک آفت پر ہڑبڑایا۔۔۔

“فون کب سے بزی تھا۔۔۔” وہ چڑے کافی دیر سے کوشش کر کے کال لگی تھی۔۔۔

“بھائی وہ زرگل کی کال تھی وہ۔۔۔” وہ جھجھکتے ہوئے بولا زرگل امید سے تھی فلحال اس کی نازبرداریاں عروج پر تھیں۔۔۔۔

“کام بھی کرلو اب۔۔۔۔” ایک اور پھنکار ،پھر فون بند کردیا۔۔۔۔

“بس یہی کر والو۔۔۔۔” وہ بڑبڑائے ایک تو کام زیادہ تھا پھر رائنا کی لاپرواہی۔۔۔ وہ صحیح معنوں میں آگ اگل رہے تھے۔۔۔۔

شازر جو اب چپ کر کے موبائل پر گیم کھیل رہا تھا۔۔۔۔ سب سمجھ رہا تھا کونسا غصہ کہاں پر نکل رہا ہے۔۔۔۔

جبکے وہ اب سیکرٹری سے فائلز لانے کا کہہ رہے تھے۔۔۔۔

💖————💖

وہ ہاسپٹل سے گھر آگئی تھی۔۔۔ کافی سردرد تھا۔۔۔۔ آج دن میں ایک بار بھی حیدر کی کال نہیں آئی تھی۔۔۔

وہ لاشعوری طور پر اس ہر لمحہ کی توجہ کی عادی ہوگئی تھی۔۔۔ آج اسے بہت کچھ غائب غائب سا لگا۔۔۔۔

وہ کہتی تھی جب آمنہ اس کے لیے سوپ لے آئی۔۔۔

“یخنی ہے پی لو۔۔۔” وہ اس کی طرف بڑھاتے بولی وہ دونو آپس میں بےتکلفی تھیں۔۔۔ اور اصل رشتے سے بلانے کے بجائے۔۔۔ آمنہ اس کے چھوٹے ہونے کی بنا پر اس کا نام لیتی تھی اور رائنا اسے کبھی آپی کبھی بھابھی کہتی تھی۔۔۔

آمنہ یہاں اس کی تب سے غم خوار تھی جب سے اسے قید سے نکالا گیا تھا۔۔۔

“آپ نے کیو تکلیف کی۔۔۔”

“تکیلف کیسی زرگل کے لیے بنایا تھا تمہارے لیے بھی بنا دیا۔۔۔۔”

“آپی یہ کیا پورے نو ماہ بس لیٹی ہی رہے گی۔۔۔” اس نے تشویش سےزرگل کے خوفناک قسم کے بیڈریسٹ کا پوچھا۔۔۔

“بڑا سمجھایا ہے تم نے بھی میں نے بھی مانے تب بات ہو۔۔۔”

“ہمم “وہ سر ہلاگئی۔۔۔

“آپی اگر کوئی آپ سے خفا ہو تو کیا کرتے ہیں کیسے مناتے ہیں۔۔۔”

اس نے پرسوچ انداز میں پوچھا۔۔۔۔

“اوہ تو اس لیے بیمار ہیں آپ۔۔۔ بڑے سرکار ناراض ہیں۔۔۔؟ تو بیمار کیو پڑیں بس پیا جی کے لیے زرا سج لیتی ساری ناراضی ختم ہوجاتی۔۔۔”

آمنہ شرارت سے گویا ہوئی رائنا نے اس دیکھا کتنے صاف دل کی نرم سی تھی۔۔۔ حسین پھولوں جیسی کومل اور نصیب ہائے

“قسمت بھی کیسے کیسے نصیب پھوٹتی ہے،ایک بھابھی آمنہ ہیں بے چاری اور ایک میں جو کسی ایسے شخص کی ناراضگی کے لیے فکر کر رہی ہوں جو چند ماہ پہلے میری زندگی میں نا تھا۔۔۔ میں کچھ بھی تو نہیں جانتی ان کے بارے پسند نا پسند تو دور مجھے تو یہ بھی نہیں پتا کے ان کی عمر کیا ہے۔۔۔۔ تعلیم کیا ہے ،کام کاج کیا ہے,میری زندگی تو بلکل کوئی ڈرامہ بن کر رہ گئی ہے۔۔۔”وہ سر جھٹک کر سوچ سے نکلی۔۔۔

“نہیں بھابھی میں تو بس چھوڑیں۔۔۔۔”وہ ٹال گئی۔۔۔

“سنو ناراض شوہر کو منانا کوئی عزت گھٹانے جیسا نہیں ہے ،پھر بھی جھجھک ہو تو اچھے سے تیار ہوکر جب وہ آئیں تو ان سے چائے پانی پوچھنا دیکھنا ٹھیک ہو جائیں گے بہت نرم ہے دل ان کا تمہارے معاملے میں۔۔۔”

“کیسے پتا بھلا؟”

“نرمل بھابھی کے ساتھ بیاہ کر آئی تھی بے چاری بہت کم زندگی لکھوا کر لائی تھیں ،بڑے سرکار اچھے تھے ان سے یہ فطرت ہے ان کی شاید رشتوں سے اچھا ہونا مگر نرمل دیوانی تھیں ان کی پھر کی کی طرح اس پاس منڈلاتی تھیں۔۔۔ مگر جس طرح وہ ہر لمحے تمہاری جانب متوجہ ہوتے ہیں لاڈ کرتے ہیں وہ سب نرمل بھابھی کے نصیب میں نہیں تھا۔۔۔”آمنہ یاد کرتی بولی بڑا ناصحانہ انداز تھا۔۔۔

“تم بھول جاؤ سب رائنا نے ہلکان کرو خود کو ایسے وہ جتنا ڈھیل دے رہیں ہیں نا وہ غنیمت ہے یہاں نہیں ملتی ایسی ڈھیل ، دل میں ہو تو دل میں رکھنے کی کوشش کرو ،فرض کرو سرکار کی جگہ اللہ نا کرے میرے منہ میں خاک وہ ہاشم ہوتا اس کے حوالے کردی جاتی پھر۔۔۔”

آمنہ کے کھینچے گئے نقشے پر وہ کانپ گئی۔۔۔

“آپ کو لگتا ہے کوشش نہیں کرتی میں کرتی ہوں کبھی دل کو مار کر کبھی خوشی سے مگر ہر بار ہی ایسا ہوتا ہے۔۔۔۔ کچھ نا کچھ کے دوبارہ ساری سوچیں حملہ آور ہو جاتی ہیں۔۔۔”وہ بے بسی سے بولی۔۔۔۔

“سمجھتی ہوں ،بس دیکھو آج میری بات مانو دل نا بھی کرے تب بھی تھوڑا آرام کرو شام سے پہلے آٹھ جانا۔۔۔”

آمنہ رعب دکھاتی لاڈ کرتی بولی۔۔۔

“یہ نصیب ہے رائنا اس کو ڈھالا جاتا ہے اس سے لڑ نہیں سکتے “رائنا لب بھینچے سمجھتی سر ہلا گئی۔۔۔

💖————💖

سعود فلک کے ہاسٹل کے باہر تھا اس نے شہرینہ کے دیے فلک کے نمبر پر کال کی جو تیسری بار کی کوشش کے بعد اٹھا لی گئی

“ہیلو “ڈرتی ہوئی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔۔۔

“میں سعود ہوں مجھے تمہاری بہن نے بھیجا ہے جلدی سے ہاسٹل کی بالکونی میں آؤ۔۔۔”

فلک پریشان ہی ہوگئی آخر کون ہے یہ آپی نے کیسے بھیجا کس کو۔۔۔ مگر خیر جاننا تو پڑے گا وہ دل ہی دل ورد کرتی بالکونی میں آئی۔۔۔۔

سعود نے گاڑی سے نکلتے اوپر کی جانب دیکھا۔۔۔ ایک سترہ اٹھارہ سالہ لڑکی جو اسے بچی ہی لگی شہرینہ کے ہی جیسی دیکھتی تھی۔۔۔ سعود نے اسے دیکھا اور ہاتھ کو ماتھے کی طرف کرکے سلام کیا۔۔۔۔ اور واپس گاڑی میں بیٹھ گیا مقصد صرف متعارف کرانا تھا فلک کو خود سے, اب وہ اس سے فون پہ بات کر رہاتھا

“سنو فلک جو جو میں بتاؤں غور سے سنو “

وہ یہ کہہ کر اسے شہرینہ سے متعلق بتانے لگا اور آگے کا لائحہ عمل طے کرنے لگا۔۔۔

💖————💖

ڈاکٹر فریدہ اسے دیکھ رہیں تھی اس کے ہاتھ پر فریکچر ہوا تھا۔۔۔ اب وہ پلاسٹر کھول کر صورتحال کا جائزہ لے رہیں تھیں۔۔۔

انہوں نے موومنٹ کرائی تو اس نے ایسی آوازیں نکالی جیسے درد ہو وہ حیران ہوئی۔۔۔

“کیا سچ میں درد ہے۔۔۔؟”

“ججی ججی”

“اوہ “

وہ کسی طرح بھی اپنا قیام یہاں بڑھانا چاہتی تھی

اسی لیے ایسے کر رہی تھی جانے یہ کب تک سودمند رہتا۔۔۔

ڈاکٹر اسے مشکوک نگاہ سے دیکھتی چلی گئی اس نے سر تکیہ پر ڈالا اور گہری سانس بھری۔۔۔۔