Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh NovelR50439 Intezaar Ishq Episode 7
Rate this Novel
Intezaar Ishq Episode 7
Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh
وہ مسلسل اسے ادھر سے ادھر ٹہلتا دیکھ رہے تھے۔۔۔ چائے کے وقت اور ڈنر پہ بھی وہ بےچین تھی۔۔۔۔ ابھی فون ہاتھ میں لیئے سگنلز ڈھونڈنے کی کوشش میں تھی۔۔۔۔
کافی تگ و دو کے بعد تنگ آکر صوفے پہ بیٹھ گئی
وہ بظاہر کام میں مصروف تھے مگر اسی کا جائزہ لے رہے تھے۔۔۔۔
“کیا ہوتا اگر حیدر مجھ سے پوچھ لیتے کہ میرا دن کیسا گزرا۔۔۔؟ اپنے گھر تھی تو امی ہر پرچے کے بعد ساری تفصیل سنتی تھیں۔۔۔ ابو فون کر کے دریافت کرتے تھے۔۔۔۔۔
ابھی وہاں ہوتی تو دونوں کتنا خوش ہوتے یہ تو ہم تینوں کا خواب تھا۔۔۔۔
میں حیدر سے کچھ زیادہ ہی توقعات رکھ رہی ہوں۔۔۔۔ وہ جس ماحول کے پروردہ ہے۔۔۔۔ وہاں عورت کا کام صرف کٹھ پتلی جیسا ہے۔۔۔۔ اس میں بھی وہ کچھ ڈھیل دے رہے ہیں یہی بہت ہے۔۔۔۔” وہ دل ہی دل خود ہی سے شکوے خود ہی کو سمجھا بھی رہی تھی۔۔۔۔۔
جب اچانک کسی نے اس کے کندھے پر اپنا بازو پھیلایا۔۔۔۔
اس نے چونک کر دوسری سمت دیکھا تو برابر حیدر کو بیٹھے پایا۔۔۔۔ وہ کب ادھر آکر بیٹھے اسے خبر نا ہوئی۔۔۔۔
“دن کیسا گزرا تمہارا۔۔۔۔؟ کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی۔۔۔۔
“نہیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی” وہ آہستہ سے مروتا مسکرائی۔۔۔
زہن ہنوز فون میں اٹکا تھا۔۔۔ اس نے دوسری بار دیکھا سگنلز نا آنے تھے نا آئے۔۔۔۔
“کیا الجھن ہے آخر۔۔۔۔”
“سگنلز کیوں نہیں آرہے۔۔۔؟”
“کبھی کبھی ہو جاتا ہے مسئلہ اس میں اتنا پریشان ہونے کی کیا بات ہے”
وہ ٹوک کر بولے پھر اس کا چہرہ بغور دیکھا اور اسکے ہاتھ سے سیل فون لے کر رکھا۔۔۔ اور دونوں ہاتھ تھامے۔۔۔۔
“جو فون پر آنٹی سے کہنے کو بےچین ہو وہ مجهے بتادو۔۔۔ یقین کرو بہت اچھا سامع ثابت ہونگا۔۔۔۔
،i know it was your1st day and i do want to know how it went “
“رئیلی۔۔۔؟ وہ خوشکن لہجے میں پوچھنے لگی۔۔۔
“آف کورس بھئی روز تم مجھ سے پوچھتی ہو آج میں پوچھ لیتا ہوں نو بگ ڈیل۔۔۔” وہ مسکرائے۔۔۔۔
وہ مسکرائے تو رائنا بھی مسکراتے انھیں پورے دن کی رواداد بتانے لگی۔۔۔۔۔
————![]()
آج اسے سیلری ملی تھی۔۔۔ جو امید سے تھوڑی کم تھی پر وہ خوش تھی۔۔۔۔ واپسی میں اسنے ڈرائیور کو مال جانےکو بولا۔۔۔۔
مگر اسے پہلےصبح ہی اسنے حیدر سے اجازت ضرور لی تھوڑا مشکل سےسہی مگر وہ مان گئے۔۔۔۔ مگر ساتھ میں بہادر کو بھی ساتھ کیا۔۔۔ اس طرح گن مین کے ساتھ گھومنا اسکے لئے مشکل تھا۔۔۔۔ بٹ سہہ گئی کے حیدر نے بتایا تھا کے انکے پولیٹکس میں آنے اور سر پنج بنے کے بعد سیکورٹی ساتھ لینا ضروری ہے۔۔۔۔
اسنے امی کے لئے سوٹ ابو کے لئے کف لنکس اور آمنہ زر گل اور بی جان کے لئےشال لئے۔۔۔ بی جان اور یہ لوگ بہت مہنگی چیزیں استمال کرتی تھی۔۔۔ اسلئے اسنے حیدر کے دیے پیسے بھی اس میں خرچ کئے تاکہ انکے شایان شان لے سکے۔۔۔ آخر میں اسکا دل کیا کے حیدر کے لئے صرف اپنی سیلری میں سے کچھ خریدے۔۔۔۔ مگر جانتی تھی کے وہ بہت مہنگا امپورٹڈ برانڈ کی ہر چیز استعمال کرتے ہیں جو اسکی سیلری میں آنے سے رہا۔۔۔۔۔
آخر بہت سوچ بچارکر اسنے ایک اچھی خاصی مہنگی گھڑی لی جسکے بعد اسکی 30000 کی سیلری میں کچھ نا بچا۔۔۔۔
————![]()
گھر آکر اسنے بی جان اور آمنہ اور زر گل کو ڈرتے ڈرتے گفٹ پیش کئے۔۔۔ جسے آمنہ اور زرگل نے بہت شوق سے وصول کیا۔۔۔۔ جبکے بی جان نے بھی خلاف ِتوقع تعریف کی۔۔۔۔
اور سرپر پیار دیا اب بےچینی سے حیدر کا ریکشن دیکھنا تھا۔۔۔۔
————![]()
“یہ آپ کے لئے “
“میرے لئے۔۔۔۔؟”
وہ حیران ہوئے اور گفت کھول کر دیکھا۔۔۔۔
“زبردست۔۔۔۔ اچھی ہے شکریہ تم میرے اورسب کے لئے تحفہ لائی۔۔۔۔” انہوں نے سراہا۔۔۔
مگر اسے پھیکا لگا۔۔۔۔” لاکھ روپے کی گھڑی والے یہ کہاں پہنے گے۔۔۔۔ ہائے میرے دس ہزار
“اسنے دل ہی دل دکھڑا رویا۔۔۔۔
“شکریہ کس بات کا آپ بھی تو لاتے ہیں اور آپکا کافی قرض ہے میں وہ بھی آہستہ آہستہ چکا دونگی۔۔۔”
“قرض کیسا قرض۔۔۔؟” وہ الجھے
تو اس نے دراز کی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔
“اگر تم چاہتی ہو تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں تمہاری جاب بند کردیتا ہوں۔۔۔۔ تاکے تمہارے دماغ سے یہ فضولیات نکلے۔۔۔۔ تمہاری جاب تمہارے شوق کے لئے ہے یہ فرار کا راستہ نہیں ہے۔۔۔۔” لہجہ اور لفظ دونوں ہی سرد تھے انکی سیاہ بھنورا آنکھوں میں وہ نرم سا تاثر نہیں تھا۔۔۔ جو اسے دیکھ ابھرتا تھا وہ ایک لمحہ کو سہم گئی۔۔۔۔
“میں نے ایسا کیا کہا ہے یہ سوچ تو میرے زہن تک سے نہیں گزری۔۔۔۔ میں آپ کو راستہ چھڑانے والی لگتی ہوں۔۔۔۔” وہ نہایت افسوس سے دیکھتی بولی
اسکے تاثرات دیکھ وہ پگھلے اور انھے اپنے سخت الفاظ کا اندازہ ہوا۔۔۔۔
“ادھر آؤ۔۔۔” انہوں نے ہاتھ بڑھا یا پر وہ جھٹک گئی۔۔۔۔
“رائنا۔۔۔” انہوں نے اسے دونو بازو سے تھام کرقریب کیا۔۔۔۔
“سوری میری جان۔۔۔”
“میں تو صرف اپنا بوجھ خود اٹھانا چاہتی تھی۔۔۔۔ اچھا ہوا آپ نے یہ بول دیا جن پیار بھری نگاہوں سے ہر وقت دیکھتے ہیں ان کے پیچھے کتنی بدگمانی چھپی ہے۔۔۔”
وہ ایک بار پھر دکھ سے بولی اس کا زخمی لہجہ انہیں گھائل کر گیا۔۔۔ انہوں نے آہستہ سے اسے قریب کیا اور ساتھ لگا لیا۔۔۔۔
“سوری جان حیدر۔۔۔ دیکھو بوجھ کیسا بھلا بیوی ہو تم میری۔۔۔۔ میری نصف بہتر۔۔۔ میرا حصہ ہو تم۔۔۔ بوجھ کیسا رائنا۔۔۔ جو میرا ہے وہ تمہارا ہے۔۔۔ میری بیوی ہو تم۔۔۔۔ جانتا ہوں بہت سخت بول گیا۔۔۔۔ پر تم نے بات ہی ایسی کی تھی۔۔۔۔ جیسے میں کوئی غیر ہوں۔۔۔ تمہارا محرم ہوں ایسے بےاعتنائی برتی ہو تو برا لگتا ہے۔۔۔۔”
وہ ہنوز خفا تھی جھٹکے سے پیچھے ہوئی۔۔۔۔
“آپ کے الفاظ سخت نہیں تھے بدگمان تھے حیدر”
“بدگمان ! نہیں ہو میں تم سے میں نے تمہیں کہا تھا نا۔۔۔ تمہاری ہر جنبش سے واقف ہو چکا ہوں جانتا ہوں منافقت نہیں ہے تم میں تمہارا چہرہ تمہاری معصومیت کا آئینہ دار ہے یہ الفاظ محض غصہ کا نتیجہ تھے۔۔۔۔
چلواب بس یار کتنا معافی منگواو گی۔۔۔ بس مسکراوں تھوڑا۔۔۔۔” انہوں نے پچکارا وہ اس سے زیادہ معافی نہیں مانگ سکتے تھے یہ بھی غنیمت تھی۔۔۔۔
وہ چپ کرتی جانے کو مڑی جب انہوں نے روکا۔۔۔۔
“ارے کدھر یہ تو پہناوؑں۔۔۔” انہوں نے گھڑی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔
“پہن لیجیئے خود آپ۔۔۔” وہ آف موڈ سے بولی۔۔۔۔
“جب تحفہ دیتے ہیں تو پہناتے بھی ہیں” وہ بضد ہوئے وہ گہری سانس بھرتے آگے ہوئی اور ان کی چوڑی سیاہ روئے سے سجی کلائی پر گھڑی باندھی۔۔۔۔
“اچھی لگ رہی ہے جانتی ہو تمہارے دئیے گئےاس تحفہ کی قیمت میرے لئے ہر شہ سے زیادہ ہے۔۔۔ آج سے بس یہی گھڑی پہنوں گا۔۔۔ یہ میری نصف بہتر کا تحفہ جو ہے۔۔۔۔” وہ نرم نگاہوں سے تکتے محبت سے چور لہجے میں بولے تو وہ انکے لفظوں کی صداقت محسوس کرتے مسکرادی اسے اتنی خوبصورت پذیرائی کی امید نا تھی۔۔۔۔
“مسکراتی رہا کرو اچھی لگتی ہو۔۔۔۔”
اسے مسکراتا دیکھ وہ بھی مسکرادیے۔۔۔۔۔
————![]()
وہ اب زندگی کے اس موڑ سے مانوس ہو چلی تھی۔۔۔ اب نا اسے حیدر برے لگتے نا حویلی یہ زندگی اس کی پسندیدہ نا سہی پر اب قید بھی نالگتی۔۔۔۔
حیدر نے خودکو بہت تبدیل کیا تھا یہ انکا ساتھ تھا جبھی وہ سکون سے ہاؤس جاب کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ اس کی جانب قدم بڑھا چکے تھے اب اسکی باری تھی مگر ماضی بار بار ضیاع کا احساس دلاتا رہتا تھا آج بھی۔۔۔۔
ماضی کی یاد نے آگھیرہ تھا۔۔۔۔
————![]()
“یہ کون ہے۔۔۔؟” اسنے ایاز کے ساتھ ایک لڑکی کودیکھا تو ربیعہ سے پوچھا اسنے بھی جواب میں کندھے اچکائے۔۔۔۔
لڑکی نے اچھا دیدہ زیب لباس اور کڑھائی والی چادر کاندھو پے لی تھی۔۔۔ جب کے سر پر کپڑو کے ہم رنگ دوپٹہ تھا۔۔۔ صاف کھلی ہوئی رنگت پر عام سا ناک نقشہ کل ملا کے اچھی خاصی لڑکی تھی۔۔۔۔
رائنا نے پورا جائزہ لینے کے بعد دل ہی دل میں اچھے خاصی بھی قرار دے دیا اتنے میں ایاز اسے لئے انکے قریب آگیا۔۔۔۔
“رائنا ربیعہ اس سے ملو یہ ہماری تایا زاد ہے سندس ابھی فارمیسی میں داخلہ لیاہے۔۔۔۔”
“اہ نائیس آؤ جوائن اس پلیز۔۔۔” ربیعہ اور رائنا نےگرم جوشی سے ویلکم کیا۔۔۔۔
————![]()
سندس کلاس میں جا چکی تھی جبکے ان کی کلاس آف تھی۔۔۔۔
“ایاز تم نے بتایا تھا تمہاری فیملی اجازت نہیں دیتی عورتوں کی تعلیم کی پھر یہ کیسے ۔۔۔؟” رائنا سندس کے جاتے ہی دل کا سوال زبان پر لے ہی آئی۔۔۔
“پچھلےکچھ سال سے تایا سرکار کی بیماری اور انتقال کے باعث سب کچھ ان کے بڑے بیٹے حیدر بخت بھائی کے ہاتھ میں آگیا ہے۔۔۔۔
حیدر بھائی بڑے انصاف پسند اور تھوڑے سے انقلابی ذہن کے ہے گاؤں میں اسکول بھی انہی کی کوشش سے تعلیم کی بنیاد پڑی۔۔۔ اور اب آہستہ آہستہ عورتوں کی تعلیم کی بنیاد بھی انہی کی کوشش کا پھل ہے سندس کی بڑی بہن بہت اچھی تھی پڑھائی میں پرائیویٹ B.A کیا ہے انہوں نے۔۔۔۔ سندس نے بھی انٹر کے پرائیویٹ امتحان دیے تھے اچھے گریڈ تھے اسکے اب بڑے سرکار کی عنایت پر اسے یونیورسٹی آنے کا موقع مل گیا۔۔۔۔
“ایاز نے بڑے فخر سے اپنے تایا زاد کے کار نامے بیان کئے جن سے رائنا تو ذرا متاثر نا ہوئی الٹا افسوس ہوا کے آج بھی عورت کی بنیادی ضرورت تعلیم کے لئے مردوں سے اجازت کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔۔
“گریٹ۔۔۔! اسکا مطلب حیدر بخت گاؤں کے کرتا دھرتا ہے۔۔۔۔؟ ربیعہ نے سوال کیا۔۔۔۔
“ہاں ایک طرح سے بٹ اصل اختیار تب ملیں گے جب وہ سردار بنیں گے اور سچ یہ ہے کے وہ ڈیزرو بھی کرتے ہیں۔۔۔” ایاز نے مزید تفصیل بتائی۔۔۔
“ارے ہاں! ربیعہ سندس تمھارے ہوسٹل میں شفٹ ہو گی میں وارڈن سے بات کرکے اسکو تمہارے روم میں شفٹ کروا دوں۔۔۔۔ اگر تمہیں اور رائنا کو اعتراض ناہو۔۔۔۔” (رائنا آخری سال میں ہوسٹل شفٹ ہوگئی تھی ربیعہ کے ساتھ تاکے ڈھنگ سے پڑھائی کر سکے )
“ہاں ہاں کیوں نہیں ہمیں کیا پرابلم ہوگی۔۔۔” دونوں نے اسے اطمینان دلایا۔۔۔۔
————![]()
“رائنا آپ مارکیٹ جا رہی ہے۔۔۔؟ “رائنا بیگ لے کے نکل رہی تھی کے سندس آگئی۔۔۔۔
“ہاں” وہ مرے مرے انداز میں بولی۔۔۔۔
“میں بھی چلوں۔۔۔؟ سامان چاہیے۔۔۔”
“آجاؤ۔۔۔” رائنا کو مجبوراً ساتھ رکھنا پڑا۔۔۔۔
وہ اور ربیعہ دونوں سندس کے طور طریقوں پر نالہ تھی وہ اکثر میس جاتیں اور واپس آتیں تو روم اندر سے لاک ہوتا چاہے جتنا نوک کرتی سندس ہمیشہ 15 \10 منٹ بعد کھولتی۔۔۔۔ اور ایک ہی گھسی پٹی وضاحت کے آنکھ لگ گئی تھی یا کپڑے بدل رہی تھی۔۔۔۔ اکثر رات کو بھی چپکے چپکے فون پہ بات کرتی ہوتی ملتی۔۔۔۔
وہ ایاز کی کزن ہی نہیں منگیتر بھی تھی۔۔۔ اسلئے دونوں اسکا تھوڑا زیادہ لحاظ کرتیں۔۔۔ ابھی بھی رائنا اسے لے جانے مانی حالاں کے جانتی تھی۔۔۔ سندس اچانک سے بیچ میں سے غائب ہوجاے گی۔۔۔۔ پھر بڑا ڈھونڈنے بعد ملے گی یہ بھی اسکا ہمیشہ کا تھا۔۔۔
اور اسکی وجہ وہ یہ دیتی کے اسے شہری لڑکیوکی طرح پھرنے کی عادت نہیں۔۔۔ اور راستوں کی سمجھ نہیں اسلئے وہ کھو جاتی ہے۔۔۔۔ اسکی انہی باتوں سے وہ دونوں چڑتی تھی مگر بس دوست کا لحاظ آڑے آجاتا۔۔۔۔
آج بھی mall پہنچنے کے بعد وہ غائب تھی۔۔۔ اور رائنا اسےکالز کی جا رہی تھی۔۔۔ کوئی آدھے گھنٹے کی خواری کے بعد سندس بیبی ملی اپنے گھیسے پٹے ایکسکیوز کے ساتھ۔۔۔۔۔
————![]()
وہ پائے باغ میں جھولے پر دراز ماضی کے یادوں میں کھو کر کب سوئی اسے خبر نا ہوئی۔۔۔۔ نیند میں اچانک اسے کسی کے ہاتھ کا لمس اپنے گال پر محسوس ہوا وہ یکایک چونک کر اٹھ بیٹھی۔۔۔۔
اسے اٹھتا دیکھ اپنا ہاتھ چہرے سے ہٹایا اور سیدھے ہوئے۔۔۔
وہ بھی دیکھتی سمٹی۔۔۔
“آپ کب آئے۔۔۔؟”
“ابھی آیا تھا۔۔۔۔”
وہ ریڈ کاٹن کے کڑھائی والے سوٹ میں دمک رہی تھی۔۔۔۔ کانوں میں خوبصورت سے جھمکے اور لمبے بالوں میں سوفٹ کرلز ڈالے تھے۔۔۔۔ ایک ہاتھ میں سونے کی چوڑیاں یہ اہتمام بی اماں کے کہنے پر کیا گیا تھا۔۔۔۔ آج ان کے گھر خاندان کی کچھ خواتین ملنے آئی تھی۔۔۔ بی اماں نے اسے تاکید کی تھی کے اسکی تیاری اچھے سے ہو وہ لوگ چلی گئی تو وہ یہاں آگئی۔۔۔۔ ارادہ تھا کے چینج کرے گی مگر ماضی کی راکھ کریدتے کر یدتے جانے کب نیند نے آگھیرا۔۔۔۔
“ابھی ابھی آیا تھا۔۔۔یہاں کیوں سو رہیں تھیں” کہنے کے ساتھ ہی انہوں نے اسکا گال ہاتھ سے چھوا وہ انکی لو دیتی اپنے سراپے پر مرکوز نگاہوں سے سمٹی۔۔۔۔۔
“آپ فریش ہو جائیے میں کپڑے نکال دیتی ہوں۔۔۔” وہ جلدی سے اٹھی اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔
حیدر اس کی ہڑبڑاہٹ اور شرم ملا حظہ کرتے فریش ہونے چل دئیے۔۔۔
وہ آئینہ کے آگے کھڑی چوڑیاں اتار رہی تھی جب وہ واپس آئے اسے پرشوق نظروں سے تکتے قریب چلے آئے اور کندھوں سے تھام کر اپنی طرف کیا۔۔۔۔
“بہت اچھی لگ رہی ہو ایسے ہی رہا کرو۔۔۔” رائنا کے لبوں پر خودبخود حجاب آلود مسکراہٹ در آئی۔۔۔ اس نے سائیڈ سے جانا چاہا جب حیدر نے پکارا۔۔۔۔
ایسا کب تک چلے گا جان حیدر۔۔۔؟ تمہیں وقت درکار تھا میں سمجھ سکتا ہوں اس بات کو مگر کتنا رائنا۔۔۔؟” انہونے اس کے کندھے پر ہاتھ دھرے اس کا رخ اپنی طرف موڑا۔۔۔
“میں ہر بار تمہاری طرف بڑھتا ہوں مگر تم ابھی بھی وہیں کھڑی ہو اس طرح تو ساری عمر نہیں گزر سکتی۔۔۔۔
کچھ تم میرے ساتھ چلو کچھ میں چلتا ہوں۔۔۔ بھروسہ کر کے دیکھو تمہیں سنبھالا نہیں تو شکوہ کرنا۔۔۔۔” رائنا نے حجاب آلود نگاہیں اٹھائے دیکھا سامنے کھڑا شخص قول میں سچا تھا۔۔۔ وہ جان چکی تھی۔۔ اسکی housejob شہر میں اسکے والدین سے ملانے لے جانا۔۔۔، یہ سب صرف اس ایک شخص کی وجہ سے تھا۔۔۔۔ جو ساری مخالفت خود سہ کر اسے محفوظ رکھ رہا تھا۔۔۔ اسکااحساس ہونے پر اب وہ باہر جاتے دوپٹہ سر پر لینے کےساتھ سائیڈ پر روایتی چادر بھی لینے لگی تھی۔۔۔ ساتھ ساتھ چھٹی کے دن بی جان کے ساتھ عورتوں کے مسائل سننے بھی بیٹھنے لگی تھی۔۔۔ جس سے بی جان بھی خوش تھی۔۔۔۔
یہ سب سمجھوتے کی جانب قدم بڑھا نے کا ہی عندیہ تھا۔۔۔۔
اسنے دوبارہ انکی جانب دیکھا جو ہاتھ بڑھاے منتظر تھے اس کا ذہن ابھی بھی کشمکش میں تھا۔۔۔ مگر اسکی بیتاب دھڑکنیں کچھ اور ہی گیت گا رہی تھیں۔۔۔ اسے انکی باتیں بری نہیں لگ رہی تھی۔۔۔اس نے آہستہ سے ہاتھ انکے ہاتھ میں دے دیا۔۔۔
اسکے اس عمل پہ خوشی سے چور حیدر نے اسکے ہاتھ پہ گرفت کرتے مہرِ محبت ثبت کی۔۔۔۔”
تم دیکھنا رائنا تمہیں مایوسی نہیں ہوگی تم نے مجھ پر اعتبار کیا ہے۔۔۔۔ میں اس اعتبار کو قائم رکھونگا۔۔۔
“اسے یہ عقیدت و محبت سے گندھا لمس بہت اپنا سا لگا آج اس نے دل کی رضامندی سے اپنا آپ اپنے محرم کو سونپ دیا۔۔۔
————![]()
“نشان کیساہے۔۔۔۔؟
آمنہ بی کو سلام کرنے آئی تو اسکے چہرے پر لال نشان دیکھ وہ چونکیں۔۔۔۔
“شرجیل سایؑں کی سوغات ہے بی اماں۔۔۔۔” آمنہ زہرخند ہوئی۔۔۔۔
“اوقات میں رہ آمنہ اور یہ اشتہار کیا لگا رہی ہے توچاہتی ہے بڑے سرکار دیکھے تاکے تو مظلوم بنے جا چھپا اسے۔۔۔۔” بی بی ماں نے بری طرح لتاڑا اسی لمحہ حیدر بخت نے نوک کیا۔۔۔۔”
ارے میرے چندہ اجازت کیسی آؤ۔۔۔۔ وہ شہد ہوئیں۔۔۔۔
آمنہ منہ چھپاتی سلام کہتی رخصت ہوئی تو حیدر نے اسکے انداز کو تعجب سے دیکھا۔۔۔۔
“بھابھی آمنہ کو کیا ہوا یہ چہرہ کیوں چھپا رہی ہے۔۔۔؟
“ارے چھوڑو اسے میرے چاند وہی عورتوں کی حرکتیں منہ پہ تھوپا تھا کوئی بازاری کریم اسی سے چہرہ جل گیا تھوڑا “
بی بی ماں نے بات گھمائی۔۔۔
“اہ رائنا آے تو دیکھا لیں اسے۔۔۔۔”
“چھوڑو اسے رائنا کا کیا سوچا تم نے۔۔۔؟”
“رائنا کا۔۔۔؟”
“ہاں بھائی کب تک نوکری کا شوق پورا کرے گی میں صرف تمہاری خاطر خاموش ہوں برسوں بعد میرا بھائی بھی دوسروں کی طرح زندگی جی رہا ہے۔۔۔۔ بہن ہوں سوتیلی بھی پر ماں کیطرح پالا ہے۔۔۔
دس سال کی تھی اور دس سال کی عمر میں تم لوگوں کی ماں بن گئی تھی۔۔۔۔ اللہ بخشے بابا سائیں نے دو شادیاں کی۔۔۔ مگر دونوں ہی بیویاں جلد ہی دنیا سے چل بسیں اللہ بخشش فرماے دونوں ماؤں کی بیوگی کے بعد جس طرح تم نے مجهے سمبھالا بہن کی جگہ ماں کا حق دیا سمجھو وصول ہوگئی پروش پر کیا کروں لالچی عورت ہوں اب تمہارے بچوں کو بھی گود میں کھلانا چاہتی ہوں۔۔۔۔ وہ نیک بخت شادی کے پہلے سال ہی چل بسی (حیدرکی پہلی بیوی) نا تمہاری عمر نا اسکی بس جو اللہ کو منظور ورنہ اکیس برس کی عمر تھی تمہاری محظ ،اب جا کے تمہارا کفر ٹوٹا ہے۔۔۔۔ تم نا بولو تب بھی جانتی ہوں رائنا خاص ہےتمہارے لئے۔۔۔۔ مگر چندہ اب گھر بنا لینا چاہیے۔۔۔ تم خیر سے تیس بتیس کے ہو تو وہ بھی بچی نہیں ہے۔۔۔ پچیس کی تو ہوگی خداکا دیا سب کچھ ہے کیا ضرورت ہے روز اتنے دور جاکے نوکری کے لئے خوار ہونے کی یہاں بیٹھے گھر بساے تم سے ڈیڑھ سال چھوٹا شرجیل بھی تین بیٹوں کا باپ ہے۔۔۔۔ زاہد کے ہاں بھی خوش خبری ہے اب تمہاری اولاد دیکھنے کی حسرت ہے۔۔۔۔”
بی ماں جو بولی تو بولتی ہی چلی گئی۔۔۔۔
“بی ماں آپ کی ممتا کا قرض نا اترا ہے۔۔۔ نا اتر
سکتا ہے جانتا ہوں جو آپ کہتی ہے درست ہے۔۔۔۔ کسی حد تک رائنا کی روٹین تھوڑی الگ ہے ہماری گھر کی دوسری عورتوں سے مگر خیال رکھتی ہے۔۔۔۔ میرا میری خوشی کا۔۔۔ خوش ہوں میں اس سے۔۔۔ اور جہاں تک معاملہ اولاد کا ہے۔۔۔۔ وہ جب رب کو منظور عورت کی عزت آپ نے سکھائی ہے۔۔۔۔ ہمیں بیوی کی خوشیاں کااحترام بھی ضروری ہے۔۔۔۔ چھوڑیے ان باتوں کو بھی نیا کام شرو ع کرنے کا ارادہ کیا ہے۔۔۔۔ اور آ پ کا مشورہ اور دعاء میرے لئیے کتنا اہم ہے آپ واقف ہیں اس سے۔۔۔۔”
وہ انھے متطمئن کرتے موضوع بدل گئے۔۔۔۔۔
————![]()
آج بی ماں کی باتوں نے انھے ماضی میں دھکیل دیا انہیں رائنا سے اپنی پہلی ملاقاتیں یاد آئی۔۔۔
یہ واقعی سچ تھا کے وہ بہت شروع میں متاوجہ کرگئی تھی۔۔۔
پہلے تب جب وہ ایاز کے پاس یونی گئے تھے۔۔۔۔ تب ایاز کے ساتھ ایک لڑکی تھی اسی کی ہم عمر ہوگی پر چہرے سے انٹر کی سٹوڈنٹ لگی بہت معصوم چہرہ پر بھورے چمکیلے بالوں کی پونی بنائے لمبی گھٹنوں سے کافی نیچے تک آتی کرتی گلے میں مفلر کی طرح لپیٹا چھوٹا سا سکارف۔۔ جینز اور پیروں میں جوگرز ،مناسب نین نقش اور ہلکی سی سنولاہٹ لئیے گندمی نمکین سی رنگت اسکے وجودمیں سب سے خوبصورت چیزاسکے بال اور مناسب قد کاٹھ تھا۔۔۔۔
مگرحیدر کو جس چیز نے کھینچا وہ اسکی آنکھیں تھی ایسا نہیں تھا کے اسکی آنکھیں بہت حسین تھی بس کچھ الگ تھا یا حیدر کو لگا جیسے اسکی آنکھی کچھ کہتی سی کچھ سوال کرتی سی تھی صاف شفاف سچی آنکھیں، حسن کےمقابلہ پر اور دنیا کے بناے بیوٹی سٹینڈرڈ پر وہ شاید پوری نا اترتی پر کہتے ہیں نا حسن دیکھنے والی آنکھ میں ہوتا ہے تو یہی بات تھی جو حیدر بخت کی نگاہ کو رائنا علیب بھا گئی۔۔۔۔
ایاز انہیں دیکھ کے لڑکی کو کچھ کہتا انکی طرف آگیااور وہ حیرانگی سے ان دونوں کو دیکھتی دوسری طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
دوسری بار انہوں نے تب دیکھا جب وہ” اس ” سے ملنے گئے تھے جس نے سب شرو ع کیا تھا۔۔۔۔
———-![]()
“سندس سے ملنے کوئی ہینڈسم سا شخص آیا ہے “اس اطلا ع پر رائنا اور ربیعہ نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔
“لگتا ہے بلکے لگتا کیا ہے ایازہی ہوگا”
“ابھی جا کے پوچھتے ہیں اس بندر سے منگیتر سے ملنے آیا ہے “
“تم جاؤ میں شرٹ چینج کرکے سندس کو بھی لے آتی ہوں۔۔۔۔ ربیعہ بولی
“ٹھیک ہے ڈور نوک کرو پہلے سو نا گئی ہو میڈم 15 منٹ سے واش روم میں ہے “
رائنا کہتی اٹھی تو ربیعہ ہنسی۔۔۔۔
———–![]()
روم میں پہنچی تو ایاز پیٹھ کئے کھڑا تھا۔۔۔۔
“ہیلو ہینڈسم !قسم سے جب اقصیٰ نےکہا سندس سے کوئی ہینڈ سم شخص ملنے آیا ہےمیری ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔۔۔ باقی الفاظ منہ میں رہ گئے کیوں کے سامنے موجود وجود پلٹا تھا۔۔۔۔ اور وہ کم از کم ایاز نہیں تھا۔۔۔
اب رائنا کو اپنی بیوقوفی کا احساس ہوا ایاز ہینڈ سم تھا مگر سامنے موجود شخص بلند اور کافی چوڑی کاٹھی کا حامل تھا۔۔۔ جب کہ ایاز مناسب قدوقامت کا لڑکا تھا۔۔۔۔ دوسرا وہ اس طرح قمیض شلوارپر ویسٹ کوٹ نہیں پہنتا تھا۔۔۔۔
“آہ سورری مجھے لگا ایاز ہے آپ کون ہیں۔۔۔” اسکی بات پر حیدرنے سوالیہ ابرو اچکائے۔۔۔۔
“میں دراصل سندس کی روم میٹ ہوں اور ایاز کی کلاس فیلو۔۔۔” اسنے وضاحت دی۔۔۔۔
“میں کون ہوں یہ آپ کو مجهے ہینڈ سم کا خطاب دینے والی نے نہیں بتایا۔۔۔۔؟” وہ اسکے صاف شفاف ہلکی سی سانولاہٹ لئے گندمی چہرے کونظر بھر کے دیکھتےگویا ہوئے۔۔۔۔ اور لطیف سا طنز کیا پھر تھوڑے توقف کے بعد اسکی نادم شکل دیکھ کر بولے۔۔۔۔
سندس کو کہیے گا حیدر بخت ملنے آئے ہیں ۔۔۔”
“جی۔۔۔” وہ کہتی جان چھڑا تی پلٹی اس شخص کی گہری نگاہیں اسے ڈسٹرب کر رہی تھی۔۔۔ جبکہ حیدر کی نگاہوں نے نا چاہتے ہوئے بھی اسکا دور تک پیچھا کیا۔۔۔۔
روم پہنچ کر سندس کو پیغام دیتے ہی وہ عظمیٰ کی کلاس لینے گئی۔۔۔۔۔
————![]()
دوسری ملاقات میں حیدر کو رائنا بہت الگ لگی اپنے رہن سہن سے وہ انکے خاندان کی عورتوں سے الگ تھی اور حیدر کی اپنی آئیڈیل عورت سے بھی ،انکی پہلی بیوی جو محظ شادی کے ایک سال زندہ رہی رائنا کا الٹ تھی اسکے لئے حیدر کی بات حرف ِآخر تھی بہت عطاعت گزار تھی حیدر اسکی قدر ضرور کرتے تھے مگر جس طرح رائنا نے محض دو ملاقاتوں میں سکون لوٹا تھا اس مقام تک وہ بیچاری نا پہنچ پائی تھی وہ میچور تھے جانتے تھے کے پودے کے لئے انجان زمین غیر موا فق ہوتی ہے یہ لڑکی انکے ماحول کے لئے موافق نا تھی وہ صرف اپنے دل کے سکون کے لیے اب اس کا سکون درہم برہم نہیں کرنا چاہتے تھے انہوں نے اسکا خیال جھٹک دیا یہ الگ بات ہے دل اسے دوبارہ دیکھنا چاہتا تھا کوئی ایسا عشق یا محبت نہیں تھا وہ خوبصورت تھی مگر کوئی ایسی حسین بھی نا تھی کے بار بار دیکھنے کودل کرے بس ایک انجا ن سی کشش تھی۔۔۔۔۔
————![]()
انکے فائنل ایئر کے امتحان ہوگئے تھے سب سٹوڈنٹ اپنے گھر جا رہے تھے ربیعہ بھی پرسو جاچکی تھی رائنا کی ایاز نے منت کی تھی کے آایک دن مزید رک جا ے وہ کل اس کو لے کر گھر جائے گا اسے دوستو کے ساتھ فارم ہاؤس جانا تھا اور ہوسٹل خالی تھا تقریبن سب لڑکیاں اپنے گھر جا رہی تھی رائنا نے حامی بھرلی جس پر اسکی اپنی امی نالاں تھی۔۔۔۔
“رائنا اپی فون پلز “سندس کچھ دن سے اسکا فون استمال کررہی تھی یہ کہ کر کے اسکا اپنا فون خراب ہو چکا ہے”
رائنا نے اسے فون تھما دیا۔۔۔
“آپی ایاز کا کال آئی ہے وہ کہ رہے ہیں کے حویلی سے ڈرائیورلینے پہنچنے والا ہے آپ بھی گھر والوں کو بلا لیں “
سندس نے کہا تو رائنا نے سکون کی سانس لی اور گھر کال کی
————![]()
“کون ہو تم لوگ کہاں گھستے آرہے ہو “؟ ایک ساتھ اتنے مصلح فراد کو دیکھ تہلکہ مچ گیا
“یہ کس کا نمبر ہے بولو وہ جو بھی تھا نمبر کہ کر دھاڑا ۔۔۔
وارڈ ن نے نمبر پہچانا “یہ تو رائنا کا ہے “
“بلاؤ اس ۔۔۔۔گالی کو “
“تو تو ہے رائنا کیوں بھگایا کہا ہے وہ بول گالی بول ” یہ ایک لمبا چوڑا شخص تھا انکھوں سے وحشت برس رہی تھی رائنا نے یاداشت پر زور ڈالا اس نے اسکو دیکھ رکھا تھا سندس کے ساتھ غالباً اس وحشی نے اسے بالوں سے گھسیٹا
وہ لاکھ انکار کرتی رہی کے وہ نھی جانتی وہ اسی طرح گھسیٹتا اسے لے گئے۔۔۔۔
