406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 9

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

وہ بہت ریش ڈرائیونگ کر رہے تھے۔۔۔ رائنا نے غور سے انکا چہرہ دیکھا چہرہ ضبط سے لال ہونٹ بھینچے ہوئے۔۔۔۔

“یہ کس بات پر اتنے خفا ہیں، یہ کہیں شک تو نہیں کر رہے ایسے کیسے شک کر سکتے ہیں اگر شک کیا تو میں کوئی وضاحت نہیں دونگی جب میرا کردار صاف ہے تو۔۔۔۔” وہ دیکھتی سوچنے ہی لگی تھی کہ۔۔۔

“اسٹاپ لوکنگ ایٹ می۔۔۔۔ شک نہیں کر رہا تم پر۔۔۔

اسکے ٹکٹکی باندھنے پر انہوں نے ٹوکا وہ انکی بات پر دنگ رہ گئی۔۔۔۔ یہ شخص اس کا زہن پڑھ لیتا تھا کچھ اس کا اپنا چہرا اس کے دل کی عکاسی کر تا تھا۔۔۔

“واٹ میکس یو سو فیوریس (furious) حیدر۔۔۔؟” اس نے سنبھل کے سوال کیا۔۔۔

“میری بیوی اپنا میرٹل (marital) سٹیٹس چھپائے اور اس پرخوش ہوں میں۔۔۔؟” اب کے ان کی زبان پر شکوہ آ ہی گیا۔۔۔

“میں نےکیوں چھپانا ہے بھلا۔۔۔؟ ہر جگہ میرڈ ہی ظاہر کرتی ہوں۔۔۔ اب وہ نیا آیا ہے نا اسنے پوچھا نا ایسی کوئی بات ہوئی۔۔۔

he himself assumed me un married its not my fault just a misunderstanding

آپ اتنی سی بات پر اوور رییکٹ کر گئے۔۔۔۔” اسکی لمبی وضاحت پر انکا تناوّ کم ہوا۔۔۔

“اب یہ اتنی سی بات بھی نہیں ہے پر تم یہ نہیں سمجھ سکتی۔۔۔ اپنی ملکیت کے لئے انسان خصوصی طور پرمرد کتنا جنونی ہوتا ہے۔۔۔”

وہ جو بڑے غور سے سن رہی تھی۔۔۔ لفظ ملکیت پر حلق تک کڑوی ہوگئی۔۔۔۔

“ملکیت نہیں ہوں میں آپ کی۔۔۔”

اسکے تصیح کرنے والے انداز پر وہ چونکے ماتھے پر بیشتر سلوٹیں پڑگئی انہونے سرد نگاہیں اس کے چہرے پر مرکوز کیں۔۔۔۔

“ملکیت نہیں ہوں عزت ہوں بیوی ہوں چلتی پھرتی سوچتی بولتی انسان ہوں زمین کا بے جان ٹکڑا تو نہیں ہوں۔۔۔ اگر ایسا ہوتا تو دل نا ہوتا میرے پاس جذبات نا ہوتے۔۔۔ آپ کے پیار کو محسوس کرنےکی صلاحیت نا ہوتی۔۔۔۔ آپ شوہر ہیں میرے آپ کا خیال میرا فرض ہے۔۔۔ کوتاہی کی صورت میں جوابدہ ہوں گی۔۔۔ اسی طرح میرے بھی کچھ فرائض آپ پر لاگوں ہیں۔۔۔۔ جس کے آپ جوابدہ ہوں گے۔۔۔ ہم دونوں کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں کم یا زیادہ پر ہیں۔۔۔ جب دونو کا ہی حق ہے ایک دوسرے پر۔۔۔ تو یہ تو ایک خوبصورت رشتہ ہوا لفظ ملکیت تو اس کا سارا حسن ہی کھا جاتا ہے۔۔۔۔ رنگ برنگے رشتے کو بے رنگ سمجھوتے کی شکل دیتا ہے۔۔۔ تو بتائیے اب کے کیا ہوں میں۔۔۔”

وہ زرا نا گھبرائی اور انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اپنی بات مکمل کی۔۔۔ وہ جو نگاہوں میں تندی لیئے دیکھ رہے تھے۔۔۔ اسکی باتوں پر اس تندی کی جگہ نرم گرم محبت بھرے تاثر نے لے لی۔۔۔ جس طرح رائنا نے انکے رشتے کو خوبصورت مانا بنا ڈرے اپنی بات رکھی اپنا حق جتایا۔۔۔۔

اس نے حیدر کو ایک انوکھی خوشی سے سرشار کردیا۔۔۔ رشتے کا حسن تو اسی مان جتانےمعصومانہ شکوے شکایتیوں میں ہوتا ہے۔۔۔۔ نا کے صرف ایک فریق کے حکم چلانے اور دوسرے کے سر تسلیم خم کرنے میں۔۔۔ ایسا رشتہ تو قید لگتا ہے اور ایسا ساتھی صیاد اور حیدر کو رائنا کا ہم سفر بننا تھا۔۔۔ صیاد نہیں کے صیاد کو بھگتا جاتا ہے جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔۔۔ جبکے ہم سفر کے ساتھ کیا زندگی کے ہر رنگ کوجیا جاتا ہے۔۔۔ ایک دوجے کا ہاتھ تھامے زندگی کے ہر نشیب و فراز کو عبور کیا جاتا ہے۔۔۔۔

“جان حیدر ہو تم۔۔! یہ یاد رکھنا کے میری بیوی ہوتم۔۔۔ میرا نصف ہو تم۔۔۔ میری خوشی تمہاری مسکراہٹ سے ہے۔۔۔ کسی ایسے لفظ سے نہیں جسسے تمہیں تکلیف یا دکھ پہنچے۔۔۔” وہ آنکھوں میں محبت کی نرمی لئے حق جتاتے لہجے میں بولے رائنا کے گالوں پر سرخی دوڑ گئی۔۔۔۔

” آگے دھیان دیجئے گاڑی چلا رہے ہیں آپ۔۔۔” وہ انکی لاپرواہی پر ٹوک بیٹھی۔۔۔۔

“ہمم۔۔۔” انہوں نے گھیرا سانس بھر کر ساتھ بیٹھی رائنا کا جائزہ لیا وہ بہت کم عمر اور کنواری ہی لگتی تھی۔۔۔۔

اچھے قیمتی مگرسادہ سٹائلش لباس میں چھوٹے چھوٹےڈائمنڈ ٹاپس پہنے پونی بناے وہ فریشیر ہی لگ رہی تھی۔۔۔۔

“ہمم۔۔۔ یہ تو مسئلہ ہے۔۔۔ تم میرڈ لگتی ہی کہاں ہو۔۔۔ خیر اسکا بھی حل سوچنا ہوگا۔۔” وہ سوچتے ہوئے گویا ہوئے۔۔۔۔

“سندور لگا لوں اور تو کوئی حل نہیں۔۔۔” وہ جل کربولی۔۔۔

“حد ہے ایک بات پر اٹک جاتے ہیں۔۔۔۔” وہ کڑھی دل ہی دل میں اتنی ساری باتوں کے بعد بھی یہ موضوع دماغ سے نکلا نہیں تھا۔۔۔۔

“ہاہاہا۔۔۔ دیکھتے ہے۔۔۔” وہ ہنس دیے۔۔۔

” یہ اچانک آپ نے کراچی کا کیوں پروگرام بنایا کوئی کام ہے کیا۔۔۔”

“میرا سب سے ضروری کام میری بیوی کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔۔۔ جو کافی دنوں سے ملتوی پڑا تھا۔۔۔ اب تمہارا آف بھی ہے تو سوچا یہ کام بھی ہوجائے۔۔۔”

وہ خوش گوار لہجہ میں کہتے اب سڑک پر موڑ لے رہے تھے۔۔۔۔

“حیدر کیا آپ ایک بار اور نہیں سوچ سکتے۔۔۔ میں سچ میں جانا چاہتی ہوں۔۔۔”

رائنا کے سارے ہاؤس آفیسرز نے پکنک کا پلان کیا تھاکہ مریض آج کل نا ہونے کے برابر تھے۔۔۔

مگر رائنا کو حیدر نے سنتے ہی منع کردیا۔۔۔ اب بھی وہ ایک آخری کوشش کر رہی تھی۔۔۔

“پوچھو گی نہیں کہاں جا رہے ہیں۔۔۔”

جسکا صاف مطلب تھا کے وہ اس موضوع کو بند کرچکے ہیں۔۔۔۔

پھر اسکا اترا چہرہ دیکھ کر بولے۔۔۔

“میں تمھارے ساتھ اچھا وقت گزارنے نکلا ہوں یہ ہمارا وقت ہے۔۔۔ اس میں ایسے اداس نا ہو جان حیدر۔۔۔ چیر اپ مجھے مسکراتی ہوئی رائنا چاہئے۔۔۔۔”

وہ پیار سے اسکا گال کھینچ کر بولے۔۔۔۔ رائنا بھی ہلکا سا مسکرادی روٹھ کر کوئی فائدہ ہی نہیں تھا۔۔۔۔

“چلو تم نا بھی پوچھو خود ہی بتا دیتا ہوں۔۔۔ یہ فارم ہاؤس ہے کراچی میں ہی اپنا۔۔۔ پہلے تو سوچا ہوٹل میں ٹہرے پر پھر سوچا تم نے اپنا فارم ہاؤس دیکھا ہی نہیں۔۔۔” وہ لفظ اپنا پہ چونکی۔۔۔۔

“حیران کیوں ہو پہلے بتایا تھا تمہارے لئے خریدا تھا۔۔۔ ابھی وکیل کو پیپرس کا بولا ہے۔۔۔ جلد مکمل ہو جائے گا۔۔۔” وہ تفصیل سے بولے۔۔۔۔

“مگر اسکی کوئی ضرو۔۔۔”ابھی وہ کچھ بولتی کے انہوں نے بات کاٹ دی۔۔۔۔

“تمہیں ہو نا ہو مجھے تھی اسکی ضرورت مجھے حق ہے کہ میں اپنی بیوی کا مستقبل محفوظ کرنے کی کوشش کروں تاکہ مجھے بھی اطمینان رہے۔۔۔”

وہ کچھ لمحہ اس شخص کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔ جو اپنے ہر رشتے سے مخلص اور ہر رشتے کو نبھانا والا تھا۔۔۔

“تھینک یو حیدر گو کہ میں یہ مانتی کے مردوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے جو چیز ضروری ہے۔۔۔ وہ ہے تعلیم۔۔۔ خودکفیل ہونااور اس کے خاندان کا ساتھ اور اعتماد آپ کی فکر آپ کا ساتھ میرا اصل تحفظ ہے۔۔۔” وہ ممنونیت اور خوشی کے ملے جلے تاثر سے بولی اسے اس فارم ہاؤس میں دلچسپی نا تھی۔۔۔۔ بلکہ اپنے شوہر کے اس قدر خیال نے اس کو ممنون کر دیا تھا۔۔۔ اور یہ بات حیدر بھی خوب سمجھتے تھے۔۔۔

💖————💖

“یہ اپنی منہوس شکل گم کر بڈھی پھونس عورت”

27 سالہ آمنہ جو آج دو بیٹوں کے بعد بھی اتنی ہی حسین تھی۔۔۔ اپنے مجازی خدا کے منہ سے شادی کے دوسرے سال سے ہی ایسے القابات کی عادی تھی 18 سال کی بالی عمر میں ہی اسے بے کشش بڈھی کا خطاب ملا اس کے بعد اس پر سوکن کو لا بٹھایا گیا۔۔۔

اسے اپنی سولا سالہ سوکن پر بھی ترس ہی آتا تھا جو شادی کے دوسال میں دودفعہ مسکیرج کا شکا ر ہوکر تیسرے سال ایک بچے کو جنم دیتے اس فانی دنیا سے کوچ کر گئی۔۔۔

جو عمر اس کے پڑھنے لکھنے کی تھی اس میں اسے عورت بنا دیا گیا تھا۔۔۔

آمنہ خود اس ازیت سے گزری تھی اس لیئے سوتن کی اولاد کو بھی کلیجہ سے لگا کر پالا اس کے صبر کا پیمانہ لبریز تب ہوا جب شرجیل نے کوٹھوں پر جانا شروع کیا۔۔۔

وہ اس کا اعتراف اس کے سامنے کھلم کھلا کرتا اکثر اسے پاس بلاکر اسے مارتا پیٹتا اور اپنی عیاشیوں کے قصے سناتا۔۔۔۔

آمنہ نے اپنی بقا کے لیے اس کی موجودگی میں کمرے سے منسلک چھوٹے کمرے کو اپنی حفاظت گاہ بنا لیا وہ اب اسکی وحشت کا نشانا نہیں بنتی تھی وہ خود اس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔۔۔

اب آمنہ نے کئی بار شرجیل کی حرکتوں کو بے نقاب کرنے کا سوچا مگر ہر بار بی اماں کی کاری قرار دینے والی دھمکی اس کے قدم روک لیتی اسی لیے وہ چپ کر گئی۔۔۔

ابھی بھی وہ گالیاں سنتے کمرے سے باہر چلی گئی کیونکہ شرجیل اس کی شکل دیکھنا نہیں چاہتا تھا وہ شہرینہ کے پاس جا رہا تھا جب بی اماں نے روک لیا۔۔۔

“کدھر جانے کو پر تول رہے ہیں شرجیل سائیں۔۔۔” وہ چتون تیکھے کیے اس سے مخاطب ہوئی

“شہر جا رہا ہوں بی اماں بہت ضروری کام ہے۔۔۔” وہ پر تولتے بولا۔۔۔۔

“حیدر کو شک ہے شرجیل وہ اس بار مطمئن نہیں لگا مجھے اسی لیے گھر پر ٹکو اور یہاں کے کام پر دھیان دو ،فیکٹری جاؤ اور وہاں جانے سے گریز کرو کم از کم دو ماہ “

“سرکار تو نہیں ہیں نا یہاں بعد میں۔۔۔” وہ کچھ بولا ہی تھا کے بی ماں نے پھر ٹوک دیا۔۔۔

“نہیں ہے پر زاہد تو یہاں ہے حیدر اگر مشکوک ہوا تو زاہد تو گواہ ہوگا نا جیسا میں کہہ رہی ہوں کرو ورنہ اس بار شاید نا بچا سکوں”

ان کے فوٹون کہنے پر وہ تپ کر پاؤں پٹختا اندر کی جانب بڑھ گیا تب سے ہی سب کی کمبختی آئی ہوئی تھی خصوصاً آمنہ کی

💖————💖

وہ اپنی انٹرن شپ کے لیے پاکستان آیا تھا اس کے گھر والے امریکہ میں برسوں سے مقیم تھے تب سے جب سے اس کے والد نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی اور ان کے والد نے انہیں بےدخل کردیا تھا تب سے وہ لوگ پاکستان مقیم تھے اس کے والد اپنے گھروالوں سے سخت ناراض تھے اسی لیے عرصہ سے رابطہ نہیں تھا مگر پچھلے چند سال سے انہیں انکی بہن خواب میں آرہی تھی جس کا انتقال کافی پہلے ہوچکا تھا اس کی دو بچیاں تھی انکی بہن نے کافی تکلیفات جھیلی تھیں اس نے ہی ان سے بعد میں بھی رابطہ قائم رکھنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے شوہر ایک بار دونو کو فون پر بات کرتا پا کر ان کو خوب زلیل کیا ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی بہن نے فون واپس جھپٹ کر بھائی سے سب رشتے توڑنے کا عندیہ دیا وہ اس وقت غیض و غصب میں نہیں سمجھے اسکی مجبوری مگر اس کے انتقال کی خبر نے ان کی اکڑ کو توڑ دیا تھا اور اب اتنے سال بعد اس کے خواب میں آکر رونے نے ان کے اندر کے بھائی کو جگا دیا انہیں ان معصوم بچیوں کی یاد آئی جو انکی بھانجیاں تھی کیسے جی رہی ہوں گی کہاں ہوگی یہ سوچے اب ان کو سونے نہیں دے رہیں تھیں وہ خود تو اس قابل نہیں تھے کے سفر کرتے بیٹے کو بھانجیوں کی خبر کرنے کی زمیداری سونپ دی اور چند ضروری معلومات بہنوئی کے بارے میں جو ملی تھی وہ بھی اسے بتا دیں وہ معلومات بلکل بھی حوالہ افزا نہیں تھیں سعود باپ کے دیے اس مشن پر سر دھنتے یہی سوچ رہا تھا اس گتھی کا کوئی سرا فلحال اس کے ہاتھ نہیں لگ رہا تھا

💖————💖

وہ دونوں ہاتھوں میں سر گرائے بیٹھی تھی ابھی نائیکہ نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا اسے شرجیل نامی ملعون کی طرف سے دوماہ کی چھٹی نصیب ہوئی تھی دوماہ بعد وہ اسے اپنے گاؤں کے ہی قریبی علاقے میں شفٹ کرانے والا تھا۔۔۔

اگر وہ یہاں سے چلی جاتی تو اپنی بہن کو کیسے بچا سکے گی وہاں سے نکلنا تو اس کے لیے ناممکن ہی ہونا تھا۔۔۔۔

“دو مہینے شہرینہ دو مہینے میں ہی تو نے اپنی بہن کے لیے کوئی نا کوئی بندوبست کرنا ہے ” وہ ادھر سے ادھر ٹہلتی خود سے ہمکلام تھی

💖————💖

ماضی۔۔۔!

اسے جانے قید ہوئے کتنے ہی دن بیتے تھے۔۔۔ اسے نا یہ معلوم تھا کونسی تاریخ ہے۔۔۔۔ نا ہی یہ جانتی تھی کے کب دن ہے کب رات۔۔۔ وہ بس یہی جانتی تھی کے وہ قید میں ہے۔۔۔۔ اس جرم کےلیے جو اس سے سرزد نہیں ہوا تھا۔۔۔ باہر سے اس وقت کسی کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔

“ایک مظلوم لڑکی کو پکڑ کے کونسی غیرت دکھا رہے ہو۔۔۔ سب سندس کا کیا دھرہ ہے اس نے سب کا دھیان اپنے پر سے ہٹانے کلئے رائنا کا فون استعمال کیا تا کہ ہم ادھر لگ جائیں۔۔۔”

یہ ایاز کی آواز تھی وہ روز ان سب کو سمجھاتا کئی بار ہاتھا پائی تک ہوئی پرکوئی فائدہ ناہوتا۔۔۔ رائنانے تھک ہار کر سر دیوار سے لگایا۔۔۔

“جب وہ پہلی بار اس سے ملنے یہاں آ یا تھا تب رائنا نے اس سے بھی منہ موڑ لیا تھا۔۔۔ وہ ان سب کو ایک صف میں کھڑا سمجھنے لگی تھی۔۔۔ ایاز خود بھی اس کی حالت کلئیے شرمندہ تھا۔۔۔ مگر ان لوگوں پر بس نہیں تھا اسکا۔۔۔ باہر سے اب بھی دھینگا مشتی کی آ وازیں آ رہی تھیں۔۔۔

اچانک باہر خاموشی چھا گئی پھر کسی کے منمنا نے اورکسی کے دھاڑ نے کی آواز آئی۔۔۔ جس کے بعد دروازہ کھلا قدموں کی چاپ پر رائنا کا دل دھڑکا۔۔۔”

یا اللہ‎ اب کون سا عذاب باقی ہے۔۔۔” اسکی عزت محفوظ تھی اور ہر لمحے اسکا دل یہی دعا گو تھا۔۔۔ کہ اسکی عزت محفوظ ہی رہے۔۔۔ قدموں کی بڑھتی آہٹ پر اسکے حواس گم ہوئے۔۔۔ وہ ایک لمبا تڑنگا آ دمی تھا۔۔۔ جو اسکے قریب آ کر رکا اور گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔ آنےوالے نے اسکا چہرہ اوپر کیا۔۔۔ وہ اب اسکے چہرے پر پڑے زخم ملاحظہ کیئے۔۔۔ جبکہ رائنا نے بے حد کمزوری کے باوجود اپنا سر جھٹک کر اس کے ہاتھ سے پرے کیا۔۔۔ اور بغور دیکھنے کی کوشش کرنے لگی اسے یہ چہرہ دیکھا دیکھا لگا۔۔۔ وہ جانے کتنے دن کی بھوکی پیاسی تھی کے اچانک اس کا سر چکرایا اور وہ حواس کھو بیٹھی۔۔۔

“کس نے مارا ہے اسے۔۔۔” حیدر بخت کی بلند گونجدار بارعب آواز گونجی سوالیہ نظریں ان دو آدمیوں پر تھی وہ دو آدمی یعنی سندس کے بھائی جواب میں بلکل خاموش تھے۔۔۔

وہ ان دونوں کی طرف بڑھتے ایاز کو بولے۔۔۔

“ایاز تم لڑکی کو دیکھو ٹھیک نہیں لگ رہی حالت اسکی۔۔۔” انہوں نے ایاز کو اشارہ کیا۔۔۔

“چابی دو۔۔۔” اب کے وہ اس لمبے چوڑے ظالم وحشی سے آدمی سے مخاطب تھے۔۔۔

“ہاشم چابی دو۔۔۔” وہ اب کے دھاڑے جس سے ہاشم سمیت سب لرز گئیے۔۔۔ اس کے چابی دینے کے بعد وہ ہاشم کی جانب بڑھے۔۔۔ جبکے ایاز رائنا کو آزاد کرانے لگا زنجیروں کی قید سے۔۔۔۔

“جواب دو کیوں مارا اسے کس سے پوچھ کر لائے۔۔۔۔” وہ دھاڑ ے اور ساتھ ھی اس کا گلہ پکڑ کر دیوار سے لگایا۔۔۔

“حیدر سرکار ہمیں۔۔۔۔ نہیں۔۔ پتا۔۔۔ تھا یہ۔۔۔بے۔۔ بےقصور ہے۔۔۔۔” بڑے بھائی کی درگت بنتی دیکھ دوسرا پھنسی پھنسی آواز میں اٹکتا بولا۔۔۔۔

“بکواس بند بلکل بند۔۔۔” وہ دھاڑے اور گلے پر دباؤ بڑھا دیا۔۔۔۔

بی اماں اور سندس کی والدہ بھی آ گئی تھی وہ دونوں حیدر کو روک رہی تھی۔۔۔

“چھوڑ دے حیدر خون ہے۔۔۔ اپنا ہوگئی غلطی۔۔۔”

“غلطی ہوگئی یہ غلطی ہے۔۔۔ یہ ظلم ہے بی ما پھوپھی بیگم وہ لڑکی انسان نہیں لگی آپ کو جو یہ حال کیا۔۔۔ اپنی جگہ آپ کو گدی دے کر گیا تھا۔۔۔ یہ تھا اپکا انصاف بی ماں۔۔۔” وہ دھاڑ ے اور ساتھ ہی سندس کے دوسرے بھائی کو لات دے ماری۔۔۔

جسسے وہ دور جا گرا پھوپھی بیگم کا رونا بڑھ گیا۔۔۔ بی ماں ہل گئی حیدر کے اس روپ سے سب ہی کانپتے تھے۔۔۔۔

تب تک ایاز رائنا کو ہوش میں لا چکا تھا گو وہ اب بھی نیم بےہوشی کی کفیت میں تھی۔۔۔

” حیدر بھائی یہ نیم غنودگی میں ہے کافی کمزوری ہے۔۔۔”

حیدر بخت نے ایک نگاہ رائناکو دیکھا پھر ہاشم کے گلے پہ مزید دباؤ ڈ الا اور جھٹ کے سے پھینکا اسکو ایک زوردار لات رسید کرتے۔۔۔ وہ رائنا کی جانب ہوئےاور اسے بازو میں اٹھا لیا۔۔۔

” تم سب ایک جیسے ہو۔۔۔” جو بیہوشی میں بھی ان پر اپنی بدگمانی عیاں کر گئی تھی۔۔۔

“حیدر بھائی ہمیں پہلے ضروری ٹریٹمنٹ دینا ہوگا پھر ہی ہسپتال لے جا سکیں گے۔۔۔”

” بڑے سے بڑا ڈاکٹر بلاؤ ایاز باقی سب میں سنبھال لوں گا۔۔۔۔”

“جی “

وہ دونو اسے لئے وہاں سے چل دئے جب کے بی ما نے گہری نگاہ سے حیدر کو دیکھا جو رائنا کو اٹھائے تھے۔۔۔