Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh NovelR50439 Intezaar Ishq Episode 31 (Last Episode)
Rate this Novel
Intezaar Ishq Episode 31 (Last Episode)
Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh
کیا ہوا بولو؟”وہ اسے رکتا دیکھ پوچھنے لگے
“یہ دونوں مجھے بہت عزیز ہیں حیدر”وہ پھر رکی محض اس لیے نہیں کے یہ میری اولاد ہے کیونکہ اولاد سے ماں کی محبت فطری ہوتی ہے “وہ پھر رکی اور ان کے آگے ہاتھ پھیلایا جو ہمیشہ کی طرح حیدر نے اپنے مظبوط ہاتھ میں لے لیا
“مجھے یہ بے تحاشہ عزیز ہیں اس لیے کے یہ آپ کے وجود کا حصہ ہیں اور مجھے ان سے محبت ہے “ایسے گھوما پھرا کے کیے اظہار نے حیدر کو کنفیوز کردیا وہ مسکرائی
“مجھے آپ سے محبت ہے ” وہ ان کی آنکھوں میں جھانکتی بولی
اتنے انتظار کے بعد میسر ہونے والا یہ لمحہ حیدر کے لیے کتنا قیمتی تھا کوئی حیدر سے پوچھتا
“لوگ کہتے ہیں کے عورت اظہار محبت کرتی اچھی نہیں لگتی “وہ کہہ کر رکے رائنا کا چہرہ پھیکا پڑا حیدر نے اسکا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں تھام کر لبوں سے لگایا
“لوگ غلط کہتے ہیں ،محبوب کا اظہار محب کو نئی زندگی دیتا ہے ،اور اس پل تم مجھے کس قدر حسین لگی ہو میں الفاظ میں نہیں بتا سکتا “
انہوں نے بات پوری کی اور قریب ہوئے اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکرایا
رائنا مسکرائی یہی مان دے کر تو اس شخص نے ہواؤں کا رخ موڑا تھا ،دل کی دنیا ہی بدل دی تھی
————![]()
پانچ سال بعد !
“نیکسٹ”اس نے تھوڑا زور سے کہا اور سامنے میز پر پڑی بیل پریس کی
باہر کوئی مریض نہیں تھا اج کی اپاونٹمنٹز پوری ہوگئی تھی ویسے بھی کلینک کا وقت ختم ہونے والا تھا باہر موجود نرس اسے یہی اطلاع دینے اندر ا نے لگی تھی جب سامنے سے اتے سوٹڈ بوٹڈ ادمی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے منہ کھولنے سے روکا
نرس نے جائزہ لیا بلیک سوٹ میں اندر وائٹ شرٹ پہنے ٹائی لگائے ،سلیقے سے اسٹائل سے سیٹ کیے گئے بالوں صاف رنگت کھڑے نقوش سے سجے چہرے پر ہلکی ہلکی شیو کے ساتھ مسکراہٹ دبائے عنابی لبوں کے ساتھ وہ کافی لمبا چوڑا سا شخص تھا جو بے شک کوئی اپالو نہیں تھا نا دیوتاوں جیسا وجیہہ تھا مگر پرسنلٹی کے حساب سے شاندار تھا
وہ شخص آہستہ سے دروازے کھول اندر داخل ہوا
سامنے ہی ڈارک براؤن کلر کی میز کے پیچھے کمفرٹیبل چئیر پر ایک خاتون نما لڑکی براجمان تھی جس کی عمر کا حساب لگانا مشکل تھا کے
نا وہ بہت پکی دیکھتی تھی نا ہی الہڑ پن تھا اس کے انداز میں
بھورے بال جو غالبا آگے سے لہریا کٹ لیا گیا تھا
بیضوی چہرے کے اطراف میں سیٹ تھے ,لائٹ پنک کلر کے خوبصورت بریزے کے جوڑے میں پاؤں میں سفید دوپٹہ کی چپل سر پر سوٹ کا ہی ہم رنگ دوپٹہ لیے وہ کافی ڈیسنٹ اور پرکشش تھی
“آئیے بیٹھیے “اس کے کہنے پر مقابل مرد کی سرد آنکھو ں میں نرم سی چمک ابھری آنکھیں اس کے چہرے کے طواف میں مصروف ہوگئیں
وہ ہنوز فائل کی جانب متوجہ تھی کوئی آواز نا پا کر چونکی
“جی فرمائیے کس شکایت سے آئے ہیں “اب کے اس نے نگاہ گائک سے اٹھا کر اس شخص کی طرف دیکھا اس کی ڈارک براؤن سی آنکھوں میں حیرت در آئی
“مریض عشق ہوں ڈکٹر صاحبہ اپنی دوائی لینے آیا ہوں “وہ شخص اپنی آنکھیں اس پر گاڑے تھا جن میں وہی نرم گرم سا تاثر تھا جو اس کے لیے مخصوص تھا
“اور میری دوائی آپ ہیں ،چلیے”وہ ٹہر کر حکمیہ سے انداز سے گویا ہوا
رائنا کا قہقہہ بے ساختہ تھا “حد ہی ہوگئی حیدر اتنے کرنجی ڈائیلاگ “
“بدذوق لوگوں کو عشق کرنج ہی لگتا ہے “وہ بھی مسکرائے
“اب چلیں ؟”
“باہر پیشنٹس ہیں؟ ،ویسے ٹائم تو ختم کلینک کا “
وہ نرس کو بلائے پوچھ رہی تھی
“جی ڈاکٹر صاحب ختم “
“گڈ”اس نے کہا
————![]()
وہ دونوں اس وقت گاڑی میں تھے حیدر کے پولیٹکس میں آنے کے بعد شاز شاز ہی ایسا موقع ہوتا جس میں وہ ایسے تنہا نکلتے تھے جس میں حیدر ڈرائیو کرتے تھے
آج ان کی ویڈنگ اینیورسری تھی جو پچھلے دو سال حیدر بھول گئے تھے اس سال ازالے کا پورا ارادہ تھا
اس نے بچوں کو کال لگائی اب وہ دونوں اس سے ویڈیو کال پر بات کر رہے تھے
“مما سرکار میں نے ہومورک کرلیا ہے ” عائشہ (بیٹی) نے چھوٹتے ہی قابلیت جتائی
“میں نے بھی ” اسد(بیٹا) بھی اچھلا
“مما اس نے باباسرکار کے فائل پر جوس گرادیا” عائشہ کی شکایت پر رائنا نے گہری سانس لی جبکے حیدر نے اسٹیرنگ پر ہاتھ مارا
مرحومہ خالہ دادی نے گھٹی کسے دی تھی وہ جلد ہی پتا چل گیا تھا اسد نے باپ کو ٹارگٹ بنا رکھا تھا وہ حیدر کی گود میں آتے ہی نیپی گیلی کرتا
رات کو تب تک روتا جب تک حیدر کی آنکھ نا کھلتی (یہ سب رائنا کو حیدر کا وہم ہی لگتا تھا جو کے کافی حد تک درست تھا)اسد ویسے کافی اچھا بچا تھا مگر حیدر کی روز کوئی نا کوئی چیز دانستہ یا نا دانستہ طور پر اس کے ہاتھوں کی کھجلی کا شکار ہوجاتی
“سی ؟پھر تم کہتی ہو میں غصہ کرتا ہوں “وہ بولے تو وہ ہاتھ سے انہیں شانت ہونے کی گزارش کرنے لگی اب وہ اسد کو ہلکا سا ڈانٹ دہی تھی
“اچھا بچوں ماما بابا لیٹ ہوں گے آپ نے چاچی سرکار(آمنہ ) کو تنگ نہیں کرنا,کھانا کھا کر سوجانا”ان دونوں نے ہی بچوں کو خدا حافظ کیا
آمنہ کے ساتھ بچے بہت اٹیچ تھے اور اسی وجہ سے رائنا بھی سکون میں تھی یہ اس کا اورحیدر کاتعاون ہی تھا جو وہ ہفتے میں تین دن گاؤں میں اور ایک دن دوسرے ہاسپٹل میں کلینک کرنے لگی تھی
————![]()
آمنہ عورتوں کے مسائل سن کر اٹھی تھی یہ منسب رائنا اور حیدر نے باہمی رضامندی سےاسکے حوالے کیاتھا بی اماں خود ہی ہر طرف سے الگ تھلگ اب بچوں میں رہتی تھی یا شرجیل کے ایثال ثواب کے لیے دعائیں پڑھتی رہتی تھیں
وہ فارغ ہی ہوئی تھی کے شیراز چلا آیا وہ پندرہ سال کا سمجھدار لڑکا تھا
اس کے اطوار نیک ماں کی تربیت کا منہ بولتا ثبوت تھے وہ ابھی ماں کو اپنے واپس جانے کا بتانے تھا
“ابھی تو آئے تھے اب دو دن بعد واپس جا رہے ہو”
ماں تھی آنکھیں سیر ہی نہیں ہوتی تھیں
“جی اماں بس پڑھائی کا معاملہ ہے”
“اللہ میرے چاند کو ترقی دے،صبح صبحکہاں گئے تھے میں اٹھی تو نہیں تھے تینوں بھائی “اس نے پوچھا
“وہ باباسرکار کی اور دادا سرکار کی قبر پر فاتحہ پڑھنے گئے تھے”اس نے بتایا
آمنہ کو وہ دن یاد تھا جب باپ کی بیماری سے دگردوں حالت دیکھ وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا
“اماں بابا کہتے ہیں وہ بہت گناہ گار ہیں میں ان کے لیے کچھ کروں میں کیا کروں”اس کی بات نے آمنہ کا دل پسیجا تھا
“تم تینوں اپنے بابا کے لیے بس یہی کر سکتے ہو کے اتنے نیک ہوجاوں کے باپ کے لیے ثواب جاریہ بن جاؤ “شیراز کو بھی ماں کے یہ الفاظ آج بھی یاد تھے دو سال پہلے ہی شرجیل کی وفات ہوئی تھی تب اس کے آخری لمحات میں اس کی اذیت کو دیکھتے آمنہ نے اسے معاف کردیا تھا اور اس کے بعد اس نے خود بہت ہلکا پھلکا ہر بوجھ سے آزاد محسوس کیا تھا جیسے وہ بیڑیوں سے آزاد ہوگئی تھی وہ انہی سوچوں میں تھی شیراز چلا گیا اٹھ کر اسے پتا نا لگا باہر سے عائشہ کی شیراز بھائی کو پوئم سنانے کی آواز آرہی تھی
آمنہ کو یاد آیا جب بی اماں نے بچپن میں ان بچوں کے رشتے طے کرنے کی بات کی تھی تب رائنا نے سخت قدم اٹھاتے صاف منع کیا تھا
“یہ باتیں ابھی کرنے یا سوچنے کی نہیں ہے بچوں کو ان کی زندگی جینے دیں ایسی باتوں سے بچپنا خراب ہوتا ہے “
آمنہ کو اس کی باتیں صحیح لگی تھی غلط بات پر کہیں تو فل اسٹاپ لگنا چاہیے تھا
آج شیراز اور عائشہ کو دیکھتے اسے یہ فل اسٹاپ بلکل صحیح لگا اس نے دھیان بٹایا
اور اٹھ کر کھڑکی میں آکر نیلے آسمان کی طرف دیکھا اس نے ایک وعدہ کیا تھا خود سے اور شرجیل سے کے ان کی اولاد کو شرجیل جیسی نہیں بننے دے گی اسے اب وہ وعدہ کسی حد تک پورے ہوتے دیکھتا شیراز میں باپ کی جھلک تک نا تھی
“سائیں میں نے آپ کی اولاد کو آپ کے لیے ثواب کا ذریعہ بنادیا ،یہ احسان میں نے آپ پر نہیں خود پر کیا مجھ میں سب مزید آمنائیں دیکھنے کی خواہش نہیں ہے”
اس نے خودکلامی کی اور آپ ہی آپ مسکرائی
————![]()
وہ ہا سپٹل سے آج جلدی گھر آیا تھا،ارادہ اپنی تین سال پرانی بیگم کو سرپرائز دینے کا تھا ،جب کومن میں اس نے صوفے پر بیٹھی شہرینہ کو روتا پایا “کیا ہوا شہرینہ ؟وائے آر یو کرائنگ ؟”
وہ پریشان ہوا
اس نے موبائل آگے کیا فلک یو کے میں کلرک شپ کے لیے گئی تھی وہیں کی پیکچرز تھی
“ہوا کیا ہے یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہے؟”وہ زچ ہوا
“میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کے ہم دونوں بہنیں اتنی اچھی زندگی گزاریں گے “
سعود نے سر ہی پیٹ لیا(اپنا) پاکستان کی مظبوط شہرینہ اب یہاں آکر لاڈ پیار پا کر آبلہ بن چکی تھی جو کسی بھی وقت پھٹ (روپڑتا)پڑتا
“یار تمہاری آنکھوں کو نا رونے کی بیماری ہے کل ہی چلیں گے اسپیشلسٹ کے پاس،ہنسنے کے موقعے پر ڈھاڑے مارنے لگتی ہو”
اس کے بولنے پر شہرینہ کاوچ پر پڑا تکیا اس کے منہ پہ کھینچ مارا اور اٹھ گئی “کھانا لاتی ہوں موٹے”
سعود کا وزن مزیدار کھانے کھا کر مزید بڑھ گیا تھا
“جم کروں گا نا پھر دیکھنا”
“جب کرو گے دیکھ بھی لوں گی “وہ بھی جانتی دھن کا پکا جو کا ٹھان لیتا کر کے ہی دم لیتا تھا
اس نے امریکن اسٹائل کھلے کچن سے سامنے دیکھا
کل اور آج میں بڑا فرق تھا زندگی نے اسے ایک چیز کا سبق دیا تھا ناامید نا ہونے کا کوشش کرتے رہنے کا سروائیو کرنے کا کے یہ جنگ ہی سرائیوول کی ہے
————![]()
“آپی تم نے بجٹ بنا لیا “سکینہ کچن میں مصروف تھی ابھی تو کالج سے آئی تھی جہاں وہ فارم ڈی کا ہی سبجیکٹ پڑھاتی تھی ڈیمونسٹریٹر کے طور پر ساتھ آگے کی تیاری بھی کر رہی تھی
خالہ دادی کے انتقال کے بعد اس کا بھائی اسے اور امی کو ساتھ لے کر کرایے کے مکان میں رہ رہا تھا پہلے گزارا مشکل تھا پر اب بنک میں اچھی جاب لگ گئی تھی تو سکون سا آگیا
“آپی تم نے کیا سوچا خلیل صاحب کے بارے میں ،دیکھو آپی وہ بہترین تو نہیں ہیں مگر بہتر ہیں پر میں تم پر زور نہیں دوں گا سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا “وہ لسٹ لے کر چلا گیا
وہ بھی امی کو کھانا دے کر کمرے میں آگئی وہ ماں سے ناراض تھی خالہ دادی کی زندگی میں بھی جب اماں نے کوشش کی رابطے کی اس نے منع کردیا ان کی وفات کے بعد سکینہ کا دل موم ہوگیا انہوں نے ہی کہا تھا
“ماں کو رد کرتے ہو تم بچے ضد لگاتے ہو ارے مائیں بھی مجبور ہوتی ہیں ماؤں سے ضد نہیں لگاتے بیٹا ان سے محبت کرتے ہیں “
ان کے الفاظ اس کے لیے حکم کی حثیت رکھتے تھے اس بظاہر سخت عورت نے اسے سکھایا تھا کے زندگی جینے انجوائے کرنے خود سے محبت کرنے میں کوئی برائی نہیں بشرطیکہ جائز حد میں ہو
اور اس کے لیے سہارے کی ضرورت نہیں بس دل زندہ ہونا چاہیے رشتے خود بخود بنتے ہیں
“وہ اکثر کہتی تھیں لوگ مجھے جتنا مارنے کی کوشش کرین گے میں اتنا جی کر دکھاؤں گی جب تک اللہ نے مجھے سانس دی ہے تب تک جیونگی “
وہ خلیل صاحب کے رشتے کے بارے میں سوچنے لگی وہ جاب کے ساتھ ساتھ ایک غریب علاقے میں پڑھاتی چھٹی کے دن وہ بھی وہیں پڑھاتے تھے کالج میں بھی جاب کرتے تھے
سادہ سے ڈریس سوٹ میں شریف سے مہذب سے 30 سالہ خلیل صاحب متاثر کن تھے کم عمری میں شادی کی تھی بیوی حیات نہیں تھی ایک بیٹی تھی جو ان کے ساتھ ساتھ رہتی تھی سکینہ سے مانوس تھی
اسے آج کا واقعہ یاد آیا جب خلیل صاحب نے اس سے بات کی تھی
“میں بہت عام سا شخص ہوں لگی بندھی تنخواہ والا ایک بیٹی کا باپ آپ سے محبت کے دعوے نہیں کروں گا مگر آپ کی عزت کرتا ہوں
آپ کا ساتھ ہوگا تو مل کر ترقی بھی کریں گے
باقی جیسے آپ کو ٹھیک لگے” وہ پہلے بھی سکینہ کا رشتہ خالہ دادی کی زندگی میں بھیج چکے تھے اس کے ماضی سے واقف تھے اب پھر آئے تھے
عزت یہ لفظ سکینہ کے لیے بہت قیمتی تھا
اس نے ان کی آنکھوں میں سچائی دیکھی تھی گزرے وقت نے ثابت کیا تھا کے حیدر سے محبت صرف سیراب تھی اسے صرف حیدر سے عقیدت تھی وہی عقیدت اب اسے رائنا سے بھی تھی جس نے اسکی غلط نیت جانتے بھی اس کی مدد کی تھی
“شادی سب کچھ نہیں ہے مگر اگر کہیں ایسا شخص ملے جو تمہیں ایسا لگے کے اس کے ساتھ زندگی گزر سکتی ہے تو ہاتھ تھامنے میں کوئی حرج نہیں “اسے خالہ دادی کے الفاظ یاد آئے
پھر خلیل صاحب سے آج کی اتفاقیہ ہوئی ملاقات اور ان کی گفتگو اس کے لب مسکرائے
“ہاں کوئی حرج نہیں ہے”وہ دل سے مسکرائی
————![]()
وہ دونوں اسی ریسٹورنٹ گئے تھے جہاں وہ پہلی بار آئے تھے
نیلے آسمان تلے سمندر کا منظر رائنا کو دلکش لگتا تھا
“کتنا وقت گزر گیا نا حیدر “وہ کیک کاٹنے کے بعد ان کے شانے پر سر دھرے بولی
حیدر نے اس کو حصار میں لیا
“عرصے بعد ہم ایسے وقت گزار رہیں ہیں “وہ بھی بولے
“کچھ غزل سنائیں نا “اس نے فرمائیش کی
یہ تیرا ساتھ ہے اے ہمسفر
جو اندھیرے فنا ہوئے
یہ اونچی نیچی کٹھن راہیں
تیرے ساتھ سے اساں ہوئیں
یہ تیرے حصار میں قید ہوے
میری مشکلیں آسان ہوئی
یہ تیرا ساتھ ہے اے ہمسفر
کے زندگی رواں چلی
ان کے لفظ رائنا کے دل کی آواز بن چکے تھے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیے انہوں نے بہت سی بری روایتوں شکست دی تھی بہت سے پہاڑ سر کیے تھے ایک دوسرے کے خوابوں کو پورا کیا تھا
اور مزید کی جانب گامزن تھے
آسمان پر چمکتے چاند نے اس جوڑی کی نظر اتاری جو ایک دوسرے کے شانے پر سر رکھے تھکن اتار رہے تھے
