406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 14

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

“حویلی کی بڑی سرکار سچ ،کہہ رہا ہوں یہ کام مناسب نہیں ہے۔۔۔” وہ مزید تیل چھڑکتا بولا بی اماں خاموشی سے حیدر کا جائزہ لے رہیں تھیں۔۔۔ جن کی نظریں تو شرجیل کے آ ئیفون پر تھیں چہرہ غصے کی شدت سے سرخ یقینا رائنا کی شامت آنی تھی انہیں زرا دکھ ہوا مفت میں بیٹھے بیٹھے” ۔۔

چچ بیچاری۔۔”

“ٹھاہ ” زوردار آواز آئی حیدر نے پوری قوت سے سیل فون کھینچ کر اس دیوار پر مارا تھا۔۔۔ جس کے آگے شرجیل کی کرسی رکھی تھی۔۔۔ بی اماں سکتے میں چلی گئیں ،وہ اب آگے بڑھے اور شرجیل کے کھلے گریبان والے کاج میں انگلی پھنساتے اسے کھڑا کیا اور کھینچا۔۔۔۔

” ہر عورت کو ایک ہی ترازو میں تولنا چھوڑ دو ،وہ عورت جس کی تم بات کررہے ہو میری بیوی ہے۔۔۔ تمہاری جرات کیسے ہوئی اس پر جاسوسی کرنے کی کیا کر رہے تھے وہاں۔۔۔” وہ دھاڑے۔۔۔

“بھائی سرکار میمم۔۔میں بس فیکٹری کے ملازم کی خیریت۔۔۔”

“فیکٹری کے ملازم کی خیریت اور تم۔۔۔۔؟”وہ استہزایہ بولے۔۔۔۔

“زبان اور دماغ کا استعمال صحیح سے کیا کرو یہ نا ہو کہ ۔۔۔مجھے بھولنا پڑے کے تم سے میرا رشتہ کیا ہے۔۔۔۔”

وہ ایک جھٹکے سے اسے چھوڑتے بولے وہ بدحواس سا کرسی پر گر گیا بی اماں تک کو چپ کا روزا لگ گیا تھا۔۔۔

“یہ گریبان بند رکھا کرو شریفوں کے طور طریقے اپناؤ

تمہاری معزرت کا انتظار کریں گی تمہاری بھابھی سرکار۔۔۔”

وہ جاتے جاتے پھر رک کر اس کے شانے پے دباؤ ڈالتے بولے شرجیل کو ہڈی ٹوٹتی لگی۔۔۔

“ججی ۔۔بھائی سرکار۔۔۔” وہ کہلایا تو وہ کمرے سے نکلتے چلے گئے۔۔۔

دروازے پر کسی کام سے آئی آمنہ نے سب دیکھا وہ ہکا بکا کھڑی تھی۔۔۔ بی اماں سر ہاتھوں میں دیے بیٹھے تھیں شرجیل نے آمنہ کو دیکھا تو کھسیانی ہوئے گریبان صحیح کرتا اٹھا اور باہر چلا گیا۔۔۔

آمنہ کو رائنا کی قسمت پر رشک کے ساتھ ترس بھی آیا۔۔۔۔

کے کہاں وہ اچھی خاصی پرسکون زندگی سے یہا ں کی سیاستوں میں پھنس گئی۔۔۔ رشک اس لیے کے اس کے ساتھ اس کے ہمسفر کا ساتھ تھا۔۔۔۔

💖————💖

وہ پل پل ازیت میں تھی اس پر کسی نے اس کے مقدس پیشے کو نشانہ بنا کر کیچڑ اچھالا۔۔۔۔ اور اس کے ہمسفر نے کسی وضاحت کے بنا اسے جانے کو کہہ دیا۔۔۔۔

اسے رونا پسند نہیں تھا مگر شاید یہ حویلی کے درودیوار کو پسند تھا۔۔۔۔ روتی ہوئی حویلی والیوں کو دیکھنا۔۔۔

اس نے آنسو صاف کیے ڈریس چینج کیا اور سونے لیٹ گئی۔۔۔۔ اس کا کوئی ارادہ نا تھا حیدر کو دیکھنے کا۔۔۔

💖————💖

سعود نے آج دوبارہ ڈاکٹر رودابہ سے کہہ کے نائٹ ڈیوٹی لگوائی تھی۔۔۔

اس کا ارادہ آج ہی اپنے شک کی تصدیق کرنے کا تھا۔۔۔ وہ اب اس پرائیوٹ کمرے کی جانب بڑھا جس میں وہ لڑکی تھی۔۔۔

“ڈاک ڈاکٹر صاب کہاں جارہے رہے ہو۔۔۔؟ ادھر پردہ ہے صرف لیڈی ڈاکٹر ہی آسکتی ہے۔۔۔” وہ ایک گنوار سی ملازمہ تھی جو اس لڑکی کی اٹینڈینٹ تھی۔۔۔

“بی بی تمہاری بی بی کو ضرورت ہے ویکسین کی اور لیڈی ڈاکٹر تو ہیں نہیں کوئی۔۔۔”

“کوئی نہیں ہیں، اتنی سار ی ابھی دیکھی ہیں۔۔۔”

“ہیں پر وہ دوسرے وارڈ کی ہیں یہاں کا میں ہوں اماں فکر مت کریں۔۔۔ میں آپ کی بیبی کا علاج کرنے آیا ہوں۔۔۔ آپ ایسا کرو یہیں بیٹھ جاؤ میں دیکھوں گا تب تک بی بی کو۔۔۔”

وہ باتو کا شیر تھا گول جلیبی جیسی گفتگو میں ملکہ حاصل تھا۔۔۔ وہ عورت شیشے میں اتر گئی اور مان گئی لڑکی نیند میں تھی۔۔۔ کافی دیر وہ ایسے برتاو کرتا رہا جیسے بڑا کام کر رہا ہو فائلز میں منہ چھپائے کھڑا تھا۔۔۔

عورت مطمئن ہوگئی تو اس نے ایک اور پتا پھینکا”

اماں صبح سے یہاں ہو ،کچھ کھایا پیا ہے ایسا کرو کچھ کھاؤ پیو بی بی کے اٹھنے سے پہلے۔۔۔

“ہمدردی کا چارہ ہو اور سامنے غریب مظلوم انسان نا پھنسے ممکن نا تھا صبح کی تھکی ہاری عورت کیسے نا پھنستی بھلا۔۔۔

“ہائے پت سچ کب سے بھوکی ہوں پر بیبی اٹھ گئی تو ؟” وہ تذبذب کا شکار تھی۔۔۔۔

“ارے آپ جاؤ بی بی اٹھی تو میں کہہ دوں گا کام سے میں نے بھیجا ڈاکٹر کے آگے نہیں کہے گا کوئی کچھ۔۔۔”

ایسا ہمدردانہ لہجا عورت نہال ہوگی۔۔۔

“جیوندا رہ میں گئی اور آئی۔۔۔” وہ بلائیں لیتی رخصت ہوئی سعود فاتحانہ مسکرایا

“ٹیلنٹڈ آدمی ہوں میں۔۔۔” خود کو سراہتے لڑکی کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔

اسے اٹھایا ہاتھ سے ہلاکر۔۔۔

شہرینہ نے آنکھیں کھولتے ہی جو ایک ڈاکٹر کے لبادے میں شخص کو اتنی رات کو کھڑے پایا تو ڈر گئی۔۔

جانتی تھی یہاں اس کمرے مرد منع ہیں۔۔۔

اس سے پہلے وہ چیختی یا کچھ بولتی اس نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور دوسرے ہاتھ سے موبائل میں تصویر نکال کر دیکھائی۔۔۔

“یہ تم ہو نا۔۔۔؟ رشید احمد کی بیٹی سائرہ خاتون کی بیٹی۔۔۔ میں افضل تمہارے ماموں کا بیٹا ہوں۔۔۔ انہوں نے بھیجا ہے مجھے تمہیں اور تمہاری بہن کو ڈھونڈنے۔۔۔” وہ ایک ہی سانس میں سب بتاتا چلا گیا اسے اس عورت کے لوٹنے کی فکر تھی۔۔۔

اس نے اب شہرینہ کے منہ سے ہاتھ ہٹایا۔۔۔

” بڑے جلدی ہوش آیا ماموں جان کو جب ہماری ماں گزر گئی ہم بک گئے بازار کی زینت بن گئے۔۔۔۔” وہ زہرخند ہوئی۔۔۔۔

“چھوڑو یہ شکوے یہ وقت نہیں ہے کس نے خر۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں میرا مطلب۔۔۔ ” وہ لفظ زبان پر لاتے جھجکا۔۔۔۔

“شرجیل بخت بہت طاقتور ہے۔۔۔ جانور ہے۔۔۔ یہ جو یہاں پہنچی ہوں نا اس حال میں ٹوٹتی ہڈیوں کے ساتھ یہ دو سالوں میں کئی بار ہوا ہے۔۔۔” وہ بہت مظبوطی سے بولی۔۔۔

“اسی لیے بھاگ جاؤ یہ معاملے ایسے نہیں سنمبھلنے۔۔۔۔”

“تم بچنا نہیں چاہتی کیا۔۔۔” وہ زچ ہوا۔۔۔

“میری فکر چھوڑو تکے نہیں مارتا میں یواس نیشنل ہوں ایمبسی میں پناہ لے لوں گا۔۔۔۔”

“تم بتاؤ کیا تمہاری بہن بھی۔۔۔؟”

“نائیکہ نے مجھے شرجیل کو بیچا تھا تب میں نے منت کی تھی۔۔۔ کہ فلک کو پڑھنے دے وہ ہوسٹل میں ہے۔۔۔”

شہرینہ نے اسے فلک کے ہوسٹل کا نام بتایا۔۔۔

“تم اسے یہاں سے لے جاؤ میں بس اب مر کر ہی نکل سکتی ہوں۔۔۔”

” وقت سے پہلے باتیں کرنا بے وقوفی ہوتی ہے یہ میرا نمبر پکڑو کوئی آرہا ہے۔۔۔ سوتی بن جاؤ جلدی سے۔۔۔”

وہ آہٹ محسوس کرتا بولا تو شہرینہ سوتی بن گئی۔۔۔

“آگئیں اماں۔۔۔ “وہ عورت کو دیکھ خوشدلی سے بولا۔۔۔

“ہاں الحمدللہ کھانا کھایا پیٹ بھر کر جیوندا رہ اتنی ڈاکٹر آئے صبح سے کسی کو اماں کا خیال نا آیا بڑا ہی نیک ہے۔۔۔”

“ارے اماں جب تک ہو بتانا جب ضرورت ہو۔۔۔ تمہاری بی بی کو ٹیکا لگا دیا ہے کب کا بس تمہاری وجہ سے رکا تھا۔۔۔”

وہ اب اسے احسان مند کر رہا تھا جو وہ ہوگئی اور اب دعا ختم ہونے کا نام نا لے رہی تھیں۔۔۔

💖————💖

وہ کمرے میں آئے تو وہ رات کا لباس پہنے سوتی بن رہی تھی۔۔۔

وہ جانتے تھے وہ جاگ رہی ہے۔۔۔ بدگمان ہے ناراض ہے مگر فلحال انہونے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔۔۔

“اپنے وکیل پر تھوڑا اعتبار کرو جان حیدر۔۔۔” کہتے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا کوئی جنبش نا پاکر گہرا سانس بھرتے کروٹ بدل لی۔۔۔

انہیں یقین تھا صبح کا اجالا اس کی بدگمانی کے اندھیرے کو بھی چھٹا دے گا۔۔۔

جب کے رائنا یہ لاپرواہی دیکھ مزید بدگمان ہوگئی۔۔۔

💖————💖

وہ صبح اٹھے تو وہ تیار کھڑی تھی۔۔۔ ان کی تیاری کے دوران بھی وہ ہاتھ جھاڑے دور کھڑی تھی۔۔۔

“رائنا کوٹ دو۔۔۔” وہ آخر بول پڑے۔۔۔

اس نے میکانکی انداز میں ان کی جانب ہینگر بیڈ سے اٹھا کر بٹھا دیا۔۔۔

“یاداشت کمزور ہے۔۔۔؟

پہناؤ۔۔۔” حکمیہ لہجا اسے آگ لگا گیا۔۔۔۔ پھر کچھ سوچ کر آگے بڑھی اور پہنا دیا۔۔۔۔

اس سے پہلے وہ کوئی اور فرمائش کرتے وہ فوراً سے پیشتر باہر نکل گئی۔۔۔۔

حیدر کا دماغ سلگ گیا مشکل سے قابو پاتے وہ باہر گئے۔۔۔۔

💖————💖

وہ ناشتے کے بعد بی اماں کے پاس بیٹھے تھے۔۔۔

رائنا روز بی اماں کا بلڈ پریشر چیک کرکے دوائی دے کر ہی ہوسپٹل جاتی تھی۔۔۔ وہ دونوں وہیں تھے بی اماں خاموش تھی کل والے واقعے نے انہیں محتاط کردیا تھا۔۔۔

تبھی شرجیل چلا آیا رائنا جلدی جلدی سامان سمیٹ اٹھنے لگی تھی کہ۔۔۔۔

حیدر نے ہاتھ تھام کر روک دیا وہ شکوہ کناں نظروں سے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔

“بھابھی سرکار۔۔۔! میرا کل مطلب آپ پر انگلی اٹھانا نہیں تھا۔۔۔ میں بس کہہ رہا تھا کے آپکی شان زیادہ ہے ان کاموں سے۔۔۔” شرجیل دل پر پتھر رکھ کر گویا ہوا وہ حیدر کی خفگی افورڈ نہیں کرسکتا تھا یہ اس کی مجبوری تھی۔۔۔۔

“میں غلط تھا آپ قابل احترام ہیں معز۔۔معز۔۔معزرت چاہتا ہوں۔۔۔۔” کسی عورت سے معذرت کرنا شرجیل کو بے غیرتی لگتی تھی۔۔۔۔ ہائے مجبوری سامنے کھڑی عورت سے معذرت ضروری تھی۔۔۔۔

رائنا جو سر جھکائے لب بھینچے تھی چونک کر سر اٹھایا۔۔۔ اس نے حیدر کو دیکھا جو لاتعلق سے بیٹھے تھے۔۔۔ وہ جان گئی تھی کہ یہ یقیناً حیدر کی بدولت ممکن ہوا ہے۔۔۔۔۔

“اس کا مطلب کل جو رات کو وکیل والی بات ۔۔۔

اوہ۔۔۔” وہ سوچتی اب سب سمجھ گئی تھی۔۔۔۔ اچانک اس نے چونک کر دیکھا حیدر کی گرفت اس کے ہاتھ پر بڑھ گئی تھی۔۔۔۔

وہ سمجھ کر گہرا سانس بھرتی گویا ہوئی۔۔۔

“جو جو ہونا تھا ہوگیا ،ڈاکٹر مرد عورت دیکھ کر علاج نہیں کرتا۔۔۔ مریض دیکھ کر کرتا ہے ،کسی پر تہمت لگانا بہت بڑا گناہ ہےصد شکر آپ کو احساس ہوا شرجیل بھائی دھیان رکھیے گا۔۔۔”

وہ کہتی کھڑی ہوئی تو حیدر بھی کھڑے ہوئے صم بکم بیٹھی بی اماں سے پیار لیا شرجیل کا کندھا تھپکا (جو پیچوتاب کھا رہا تھا پہلی بار ایک عورت کی اتنی سنی تھی ) اور رائنا کو چلنے کا اشارہ کرتے سگے بڑھ گئے۔۔۔

رائنا نے خود سے آگے چلتے اکھڑے اکھڑے” وکیل ” کو دیکھا جس کے کام باتیں طریقے سب اس کی سمجھ سے پرے تھے۔۔۔۔