406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 24

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

وہ امی سے سر میں تیل لگواتے باتیں کر رہی تھی “امی مجھ سے میرا بھی تو پوچھے کیسی ہوں کیسے رہتی ہوں حیدر کے علاوہ بھی باتیں ہیں “وہ چڑ کر بولی

“تم رچ بس گئی ہو وہاں یہ تمہاری باتوں سے دکھتا ہے اب ،اور حیدر کو دیکھ کر پتا چلتا ہے کے کیوں رچ بس گیں اتنے جلدی ایسے مختلف ماحول میں اور جس کئ وجہ سے میری بیٹی کو آسانی ہوئی اسکا خیال کرنا نہیں چاہیے کیا “سائرہ بولیں

وہ محظ مسکرا کر رہ گئی اب کمرے میں آکر اسی نحج پر سوچنے لگی کیا واقعی میں خوش ہوں ،ہاں مجھے اچھا لگتا ہے حیدر کا ساتھ انکی محبت انکا احساس کرنا مگر خوشی صرف یہی نہیں ہوتی ، اگر حیدر سے وہ جگہ وابستہ نا ہوتی تو زندگی کتنی حسین ہوتی آپ نے ٹھیک کہا امی میں وہاں رچ بس گئی ہوں اور وجہ حیدر کا ساتھ ہے مگر یہ بھی سچ ہے کے اگر زندگی میں یو -ٹرن ہوتا تو میں یو ٹرن کا ہی انتخاب کرتی مگر زندگی میں یو ٹرن نہیں ہوتے زندگی میں بس وقت آگے بڑھتا ہے جو اسکے ساتھ آگے بڑھتے ہے کامیاب ہوتے ہیں جو بار بار پیچھے دیکھتے ہیں یا یو ٹرن ڈھونڈھتے ہے وہ زندگی کئ تیز رفتاری میں وقت کئ دوڑ میں کھو جاتے ہیں اور میں کھونا نہیں چاہتی اسلئے آگے بڑھ گئی ہوں

وہ انہیں سوچوں میں تھی جب خالہ دادی چلی آئیں “کیا بات ہے یہ کیو نچڑی ہوئی بلی بنی بیٹھی ہو “اشارہ اس کے تیل سے لپے سر پر تھا بال ہلکا تھا اس کا تیل لگا کر پتلے لگتے تھے

“خالہ دادی کبھی میٹھی بات بھی کر لیا کریں “وہ بیزار ہوئی

“اچھا اچھا یہ بتاؤ وہ تمہارا میاں کیسا ہے ؟”تجسس سے پوچھنے لگیں

“اچھے ہیں کا فی “وہ بولی تو وہ پہلے تو اسے گھورتی رہیں

“تم کہہ رہی ہو تو مان لینا پڑے گا ورنہ مجھے پسند نہیں آیا “

“کوئی بات نہیں اچھی بات ہے میں چاہتی بھی نہیں میرے شوہر کسی اور خاتون کو پسند آئیں “وہ مطمئن انداز سے آگ لگا گئی

“خالہ دادی نے قریب پڑی کتاب سر پر دے ماری(رائنا کے سر پر) “بہت بان چل رہی ہے ہاں”

“اچھا اچھا سوری” اسے ہنسی آگئی

“یہ بتاؤ مارتا تو نہیں ہے”رائنا نے نفی میں سر ہلایا ،”جلاتا ہے”اگلے سوال پر وہ قہقہہ ضبط نا کر پائی

” نہیں خالہ دادی ایسا کچھ نہیں ہے ,اور اللہ نا کرے مسئلہ ہوا تو میری خالہ دادی ہیں نا “وہ انہیں بہلاتے بولی خالہ دادی کی اپنی کہانی تھی دو بیٹے تھے،بڑے بیٹے کی بیوی کم عمری میں۔ چل بسی بیٹا اس کے غم میں مدہوش رہنے لگا اکلوتی بیٹی تھی اسکی جس کو خالہ دادی نے پالہ تمیز تہذیب سلیقہ اچھا جہیز سب دیا نصیب نا دے سکیں وہ روز ظلم سہ کر آتی یہ ہر ٹیپکل روایتی ماں کی طرح ضبط کرنے کا کہہ کر پھر بھیج دیتیں ۔اور ایک دن وہی ہوا وہ توپلٹ کر نا آئی اور جنازہ آگیا اس کا ۔اس دن نے خالہ دادی کے زہن پر بہت اثرات مرتکب کیے وہ بیٹیوں کے معاملے میں بہت نازک ہوگئیں تھی اور وہ بیٹی کا بھید بھاؤ نہیں کرتی تھی کون اور کس کی ان کے لیے بیٹی جس کی بھی ہو بیٹی ہوتی تھی اب رائنا انہیں دیکھ سوچنے لگی حیدر نے ٹھیک کہا تھا ہر کسی کی اپنی کہانی ہے کوئی پھولوں کی سیج پر نہیں سوتا

💖————💖

وہ شام میں فریش ہو کر ابا کے ساتھ ٹیبل ٹینس کھیل رہی تھی جب ربیعہ چلی آئی وہ ویسے بھی آتی جاتی رہتی تھی وہ دونوں ایک دوسرے کی وہ دوستیں تھی جنہیں ایک دوسرا کا پورا خاندان جانتا ہوتا ہے

دکھ سکھ میں ساتھ دینے والے دوست ہم نوالہ و ہم پیالہ۔

وہ ابا کو ہرا کر ربیعہ کے پاس چلی آئی ابا ہنوز ہار ماننے پر تیار ہی نا تھے

“آپ کیا بچوں سے الجھے ہیں ایسا کریں مٹھا ئی لائیے رائنا کو بتانا بھی تو ہے گڈ نیوز “

سائرہ بیگم نے بولا تو سب چونکے “ہاں ہاں صحیح کہا میں بھی باتوں میں لگ گیا لاتا ہوں ابھی”

وہ سر دھنتے سب کو شش وپنج میں چھوڑ چلے گئے

‘کیسی نیوز امی “رائنا نے پوچھا

“بھئی صبر کرو تھوڑا “وہ مزید پر اسرار بنیں

“تم سیٹل ہونا رائنا “ربیعہ نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تنہائی ملتےہی

“ہاں یار ،حیدر اچھے ہیں پر زیادہ اچھا ہوتا اگر وہ حیدر ہوتے سردار حیدر نہیں “وہ گہری سانس بھر کر بولی”مجھے کبھی کبھی دم گھٹتا لگتا ہے جب مجھے احساس ہوتا ہے کے اسی حویلی میں ایک عورت بنا کسی خواب کسی رنگینی کسی انسانیت کے جی رہی ہے ،جہاں ایک عورت دوسری عورت کی زندگی اجیرن کیے ہے ،جہاں ہر دوسرے بچے بچی کی شادی اس کی پیدائش پر ہی کسی شخص سے منسوب کردی جاتی ہے ،ہر دوسری لڑکی تعلیم سے محروم ہے ،تعلیم یافتہ عورت کو ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے وہ کوئی کرپٹ عورت ہو ،ایوری تھنگ از سو پرابلمیٹک یار “

وہ بےبسی سے بولی “میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو صرف اپنے بھرے پیٹ کو دیکھ کر کہتے ہیں کے ملک میں خوشحالی ہے،میں ان میں سے بھی نہیں ہوں جو یہ کہتے ہیں کیا ہوا جو ہمارے ملک میں مسئلے پڑوسی ملک کے حالات دیکھو یعنی اپنے گھر میں آگ لگی ہے اور خوش ہیں کے دوسرا گھر بھی تو جل ہی رہا ہیں نا “

“ہوا کیا ہے ؟کوئی۔ خاص بات ؟”ربیعہ جانتی تھی کوئی بات ضرور ہے جو اسے کھا رہی ہے

جوابا اس نے سکینہ کا حال سنا یا

“یہ تو واقعی غلط ہے ظلم ہے “ربیعہ نے افسوس کیا

“اسی لیے میں نے سوچا ہے اس کی مدد کروں,اسکی ایڈوکیشن کی فیس وغیرہ کے معاملے میں ،ویسے بھی میری اپنی سیلری ہے اور حیدر الگ جیب خرچ دیتے ہیں جو سیرسلی کم ہی استعمال ہوتا ہے تو بہتر ہے اسے کسی اچھے کام پر خرچ کروں”

“ہاں اچھا آئیڈیا تمہیں کوئی ہیلپ چاہیے ہو تو ڈو لیٹ می نو”

“ارے ہاں ربیعہ یہ بتاؤ تم اب اپارٹمنٹ میں اکیلی رہتی ہو ،ربیعہ کی فیملی اسلام آباد میں تھی پر وہ جاب کی وجہ سے یہاں تھی ارادہ اس کا بھی ایک دو سال میں وہیں جانے کا تھا بس چھوٹی بہن کے لاسٹ ایر کا سیٹ تھا پھر دونو بہنیں ساتھ ہی جاتیں

“ہاں فلحال میں اور ثناء ساتھ ہی رہ رہے ہیں اور ایک اور لڑکی ہے ثناء کی کلاس فیلو ایک روم خالی ہے “

اس نے بتایا تو رائنا نے سر ہلا دیا

یکایک اس کا فون رنگ کرنے لگا

“حیدر کی کال ہے آتی ہوں میں” وہ کہتی اٹھی

“اسلام وعلیکم !”

“وعلیکم سلام کیسی ہو جانم!”وہی مخصوص محبت سے گندھا لہجہ اسے گلنار کر گیا

“ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟”

“ٹھیک بس تھوڑی دیر میں آؤں گا ریڈی رہنا “

“خیریت؟”وہ حیران ہوئی پروگرام تو رات کا تھا

“ہاں خیریت کام ختم میرا تقریبا رات کو واپس جائیں گے “

“اوہ اوکے “اس نے اداسی چھپاتے کہا پھر چند باتوں کے بعد فون رکھ دیا

اور امی کو اطلاع دینے چلی گئی

💖————💖

وہ تیار تھی سامان پیک کیے بیٹھی تھی ،ابا چلے آئے

“اتنے جلدی جا رہا ہے میرا بچا “وہ پیار سے بولے اور بانھ پھیلائی وہ باپ کے سینے سے لگے شفقت کے حصار میں قید ہوگئی

“آپ یاد آتے ہیں ابا!”آنسو ضبط کیے “حیدر اچھے ہیں خیال رکھتے ہیں پر آپ جیسا کوئی نہیں ہے ابا جیسا آپ چاہتے ہیں کوئی چاہ ہی نہیں سکتا جیسی بے لوث محبت ماں باپ کی ہوتی ہے کوئی کر ہی نہیں سکتا ویسی بے لوث محبت “ان کی آنکھیں بھیگ گئی پر اسکی پونچھنی ضروری تھیں ان کے لیے

“ابا کی جان کوئی ابا سے پوچھے کس دل سے اپنے دل کا ٹکڑا جدا کیا ہے ,مجھے پتا ہے وہ جگہ وہاں کا ماحول میرے بچے کے لیے مشکل ہے ،میرے بچا صرف اپنی خوشیوں میں مست رہنے والا نہیں ہے دوسروں کے درد محسوس کرنے والا ہے،میری جان تم وہاں چراغ کی حثیت رکھتی ہو جو اندھیروں میں روشنی کردے ،مایوسیوں کو چھٹا دے، اور تبدیلی بغیر بغاوت کے آرام آرام سے بھی لائی جا سکتی ہے ایک دم سے ہوگی تو دشمن بڑھیں گے آہستہ آہستہ قطرہ قطرہ سوراخ کر نے سے جہالت کی جڑیں کھوکھلی ہو جائیں گی ،سمجھ رہی ہونا بچے”

“جی ابا سمجھ رہی ہوں بلکل سمجھ رہی۔ ہوں “وہ حوصلے سے مسکرائی اسے شمع رو شنی کرنی تھی اسے دیپ جلانے تھے جہالت کی جڑیں کھوکھلی کرنی تھی اور وہ سخت محنتی تھی لگن سے جس کام میں جت جاتی اسے کرکے دم لیتی اپنی اس خوبی سے بخوبی واقف تھی

💖————💖

” مکرم ،شرجیل پر گہری نظر رکھو ثبوت کے ساتھ میرے پاس آؤ ،صرف شک و شبہے سے کام نا چلے “وہ اپنے ورکر سے مخاطب ہوئے “فیکٹری میں نئے ملازم نا رکھنا وہ محتاط ہو جائے گا پرانے ملازمین کو وفادار بناؤ سمجھے”

شرجیل سے وہ ہمیشہ واقف تھے ابھی شک فیکٹری کے نقصان میں جانے پر ہوا پھر رائنا والا واقعہ وہ مشکوک ہوگئے مگر ہر بار ثبوت نا ملتااب وقت اسٹرٹیجی بدلنے کا تھا

“سائیں وہ جو احمر رندھاوا دھمکیا دے رہا ہے اس کا کیا سوچا آپ نے “

کرنے دو رسی ڈھیلی چھوڑ دو اسکی اسکی دھمکیاں میں نے ریکارڈ کرائی ہیں وہ ایک آدھ صحافی بھی پکڑے جائیں گے جو یہ خرید رکھے بیٹھا ان کو خرید کر اس کی بے ایمانیوں کے۔ کچے چڑھے کھولوں گا,یہ اپنی قبر آپ کھودے گا اپنے پولیٹیکل کیریر کی قبر خود خود کھو دے گا”

“سائیں جو اس نے حملہ کروادیا تو”مکرم وفادار تھا ان سے مخلص بھی

“پوری سیکیورٹی کا دھیان رکھیں گے ہر چیز کا ،مجھے یقین ہے وہ حملہ کرے گا اور یہ اس کے پولیٹیکل کیریر کی۔ اگر میں آخری کیل ہوگی”

“جی سائیں پلین اچھا پر “وہ ان کے لیے فکر مند تھا

“سیکیورٹی بھرپور رکھوں پیشگی رپورٹ بھی جمع کرادو رسک تو لینا پڑتا ہے “وہ حتمی لہجے میں بولے مکرم کو خاموش ہونا پڑا۔۔۔۔

💖————💖

وہ سعود کے فون سے بہت مایوس ہوئی تھی

“ہنہہ میںہی پاگل تھی جو مرد سے امید لگا بیٹھی جس کا باپ اس کا اپنا نا ہو سکا اس کا کوئی اور کیا مددگار بنے گا ،میں خود کروں گی جو کرنا ہوگا”

اس نے بیگ کھولا اسے سیڈیٹوو(sedative)کی پرچی ملی “یہ دوائی کم مقدار میں دی جاتی ہے زیادہ مقدار میں نقصان دہ ہے “اسے ڈاکٹر فریدہ کے الفاظ یاد آئے جب اس درد کی وجہ سے یہ دیے گئے تھے تب اس ڈاکٹر نے نرس کو بتائی تھی یہ بات بعد میں شہرینہ نے جھوٹی سچی کہانی بنا کر اس سے پرسکرپشن لکھوائی تھی تاکہ میڈیکل اسٹور سے خرید سکے ۔

اب اسے باہر جانے کے لیے شر جیل کو رام کرنا تھا۔۔۔۔

💖————💖

وہ نیم عریاں لباس میں تھی اسے اپنا آپ غلیظ لگ رہا تھا یہ اس کی مجبوری تھی وہ آچکا تھا شہرینہ نے اسے حرام مشروب دلفریب انداز سے پیش کیا

“واہ ۔۔۔۔(گالی)بڑی ترنگ میں ہے تو تو آج “وہ اپنی آنکھوں میں حوس بھرے اسے دیکھتا نگاہوں سے چھلنی کرتا بولا

“آپ جو آئے ہیں سرکار “وہ ادائے دلربائی سے گویا ہوئی ضمیر نے کوڑے مارے دل گھائل ہوگیا مگر اس نے خود کو ڈھیٹ کر کیا

“چل باتیں نا بنا ٹانگیں دبا”وہ رام ہو گیا تھا بس باہر سے آکر دکھا رہا تھا بڑی بڑی گہرائیوں میں نہیں پڑتا تھا وہ جانوروں جیسا بے لگام سطحی سا شخص تھا

“میں ہوں وہ ننگ فلک جسے کہتی ہے خاک

اس کو بنا کے کیو میری مٹی خراب کی

“سائیں باندی کے پاس نا اچھے کپڑے ہیں اب نا زیور آپ کے لیے سج دھج کیسے کیا کروں “وہ اسے پھنسا کر مدے پر آئی وہ نشے میں غرق تھا

“ہیں ہیں تو کس نے روکا ہے جا جا ک کر جی بھر کر خرید “وہ سخی بنا

“آپ کی اجازت ہے ؟”

“ہیں ہاں (گالی )کم سنائی دیتا ہے تجھے ،اور سن تو میری خریدیں ہوئی چیز ہے صرف میں دیکھ سکتا ہوں تجھے پیسے میں خرچ کروں تفریح سب کو نہیں نہیں سمجھ گئی نا “

“جج جی چھپ کر جاؤنگی”

اسے اس مقصد کے لیے پردہ کرتے خود سے شرم آتی تھی اس شخص کو جانے کیو کسی چیز سے شرم نہیں آتی تھی۔۔۔۔

💖————💖

وہ مال میں شرجیل کے چمچے کے ساتھ آئی تھی وہ بھی ماسک سے منہ ڈھکے تھا کے کہیں کوئی پہچان نا لے وہ خریداری کرتی کسی طرح اسے چکما دیتی مال میں بنے چھوٹے سے فارمیسی ایریا میں جا پہنچی اور مطلوبہ دوائی خرید لی اور پھر مزید ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بعد واپسی کا قصد کیا۔۔۔۔

💖————💖

وہ آگئے تھے اور فلحال ابا کے ساتھ محو گفتگو تھے وہ ربیعہ کے ساتھ ٹیبل ٹینس کا راؤنڈ کر کے چلی آئی حیدر نے دیکھا اسے بڑی مہارت تھی تب ابا نے بتایا کے وہ یونی میں گولڈ میڈل لے چکی ہے کمپیٹیشن میں

آج خالہ دادی کا مزاج بہتر تھا خوشگوار ماحول میں دوپہر کا کھانا کھایا گیا۔ پھر ابا نے گڈ نیوز والا سسپنس ختم کیا

“بھئی بات یہ ہے کے ہم نے گھر شفٹ کیا تھا (رائنا کے اغوا کے بعد مجبورا )تب سے گھربیٹھے پینشن توڑتے ہڈیاں گھس گئی پھر ہمارا بچا(رائنا)الگ خیال کرتی۔ تو میں نے سوچا بھئی کیو گھر میں ہی دو کمروں کو بروئے کار لا کر ٹیبیلیں کرسیاں رکھ کر ہم میاں بیوی اپنی اکیڈیمی چلائیں (وہ دونوں ہی ٹیچر تھے ابا گورنمنٹ کالج میں اور امیں اسکول ٹیچر تھیں)تاکے بزی رہیں “

“اس کی کیا ضرورت تھی ابا میں ہ۔۔”وہ بولتی کہ ربیعہ نے بات کاٹ دی

“رائنا انکل نے بلکل صحیح فیصلہ کیا آج کل اچھے ٹیچرز کی ضرورت ہے اس طرح تو انکی اور انٹی کی صلاحیتوں کو زنگ لگ جاتا “

“ہوں پر ابا آپ کی بے فکری کا وقت ہے یہ ایسے میں یہ تھکان “حیدر بولے

“نہیں بیٹا یہ تو متحرک رکھے گا اور چلو کوئی مسئلہ ہوا تو چھوڑ دیں گے میرے بچے ہیں نا” وہ دلارسے بولے

تو ماننا ہی پڑا

وہ کسی حد تک قائل تھا فراغت انسان کو خالی کردیتی ہے متحرک رہنا برائیوں سے روکتا ہے

×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×

واپسی میں وہ چپ تھی حیدر نے اسے دیکھا اور ہاتھ تھاما

“ابا کو سوچ رہی ہو”

“ہاں !حیدر کیا بیٹیاں ماں باپ کا سہارا نہیں بن سکتیں میں انہیں بیٹھ کر کھلانا چاہتی ہوں اور۔ وہ۔۔”وہ دکھی تھی

“جاناں بن سکتی ہیں سہارا صرف پیسوں سے نہیں ہوتا جذباتی ہوتا ہے انہوں نے بتایا نا کے وہ فراغت سے تنگ ہیں اور یہ بھی کے اکیڈمی کا خرچا اسی رقم سے کیا ہے جو ان کے پاس تم نے جمع کرائی تھی دیکھو تمہیں ان پر فخر ہونا چاہیے جہاں ستر فیصد لوگ کسی نا کسی چیز کو روگ بنائے بیٹھ جاتے ہیں وہاں وہ زندگی کا نیا مقصد ڈھونڈ رہیں ہیں یہی جینے کا ڈھنگ ہے “

“آپ صحیح کہہ رہیں ہیں ،پر بس فکر ہے مجھے انکی “

اس نے کہا تو حیدر نے اس کا ہاتھ تھپک کر دلاسا دیا۔ وہ گاؤں سے تھوڑا دور تھے جب اچانک گاڑی ڈسبیلینس ہوئی گولیاں چلنے کی آواز آئی

“بہادر نشانہ سادھو”وہ چلائے رائنا بدحواس تھی حیدر نے اسے ساتھ لگالیا اور اسے کور کیا مسلسل گولیاں چل رہیں تھیں۔۔۔۔