Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh NovelR50439 Intezaar Ishq Episode 21
Rate this Novel
Intezaar Ishq Episode 21
Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh
“رائنا رائنا “وہ بلند آواز میں اس کو پکارے۔ رائنا جلدی سے باہر آئی وہ سمجھ گئی تھی انہیں سکینہ کی بیڈروم میں موجودگی کھلی ہے
“وہ حیدر میں نے کام سے روکا تھا,تم جاؤ سکینہ “سکینہ نے بھی دوڑ لگائی
” یہ کیا فضولیات ہے رائنا کیو کیو تھی یہ اس کمرے میں ,”میرے کمرے میں” ” وہ اس کا بازو تھامے پوچھنے لگے آواز اونچی نا تھی پر انداز میں ناگواری ضرور تھی
“سوری مجھ سے غلطی ہوگئی تھی میں سمجھی میرا بھی تھوڑا حق ہے اس کمرے پر “وہ دکھ سے سنجیدہ چہرے کے ساتھ کہتی پیچھے ہوئی اس کے لہجے پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑی تو وہ وہاں سے انہیں کوئی موقع دیے بغیر چلی گئی
جبکے حیدر کو بھی اپنے الفاظ کے غلط ہونے کا انداز ہوا مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا
باقی سارا وقت وہ ان سے اکھڑی رہی خاموش رہی یہاں تک کے شازر کے ہاں جانے کے لیے بھی دونوں تیار ہوگئے پر اس کی چپ نا ٹوٹی آخر کر جب وہ فائنل ٹچ دیتی ڈوپٹہ سیٹ کرہی تھی تب حیدر نے پیچھے اس کے سر پر اوڑھنی سیٹ کی وہ کہسکتی اس سے۔پہلے ہی انہونے راستہ روک دیا اور شانوں سے تھام لیا
“بیوٹی فل “وہ اسے پیار سے دیکھتے بولے پھر اس کا رخ شیشہ کی جانب کرتے وہ چین پہنانے لگے جو آج ہی آرڈر کرکے منگوائی تھی
وہ پلٹی “اس کی کیا ضرورت تھی؟”انداز سرد تھا
“بس کرو رائنا کسی غیر کے لیے آپس میں کیسی ناراضی”
“حیدر آپ کو کیا لگتا ہے یہ چیزیں سب کچھ ہے، میری سیلف ریسپیکٹ کوئی ہے ہی نہیں، آپ کو اس طرح آگ بگولہ دیکھ وہ گئی ہے اسے پتا چل گیا ہوگا کے میری حثیت آپ کے دل میں محض ایک من پسند کنیز کی سی ہے”اس کی بات پر حیدر کا غصہ عود آیا بازو سے پکڑے قریب کیا
“دماغ درست ہے تمہارا کچھ اندازہ بھی ہے کیا الفاظ استعمال کیے ہیں بیوی ہو میری بہت عزت ہے تمہاری فضول باتیں کیو کرتی ہو؟
“پھر کیا بولوں آپ نے کیا بولا وہ یاد ہے “میرا کمرہ ” اور اگر وہ تھی یہاں تو اس میں اشتعال کی کیا بات ہے حیدر”
“ادھر دیکھو میری طرف میں باہر سے آکر اس کمرے میں صرف ایک عورت کو دیکھنا چاہتا ہوں رائنا وہ عورت جو میری بیوی ہے تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں اور بیڈروم میں ایسے کسی کی موجودگی صحیح نہیں ہے ,اور جہاں تک بات ہے کمرے کی ملکیت کی تو جب کمرے والا تمہارا ہے تو کمرہ کیا حثیت رکھتا ہے “
وہ پیار سے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتے بولے
وہ ہنوز منہ بنائے تھی
“اب بس کرو جانم “
“آپ ہر چیز پر اپنی چلاتے ہیں ہر معاملے میں میں نے باہر جانے کو بولا پوری بات بھی نہیں سنی منع کردیا”
“یہ میں پہلے بھی منع کر چکا ہوں اور آگے بھی منع ہی رہے گا”وہ سنجیدہ ہوئے
“حیدر آپ پوچھ تو لیتے میں نے کیا پہلے آپ کے منع کرنے پر حجت کی تھی ؟نہیں نا ابھی سب متوجہ تھے اور سیرسلی ایسے دیکھ رہے تھے جیسے مجھ پر ترس آرہا ہو کیسے ہینڈل کیا یہ سب میں نے آپ نہیں۔ سمجھیں گے”
“ادھر دیکھو کچھ معاملات پر میں لچک نہیں دیکھا سکتا وجہ آہستہ آہستہ خود سمجھ جاؤ گی تم ، جاناں جہاں بھی جانا ہو مجھے بولو ،دیکھو رائنا ہم ہر جگہ نہیں جا سکتے پر جدھر ممکن ہوا تمہاری تفریح کا اہتمام کروں گا گارڈز کے بغیر ایسے ہی بنا جان پہچان والوں کے ساتھ تمہیں نہیں بھیج سکتا میں ,اس معاملے میں تمہیں کمپرومائز کرنا ہوگا”
“اوکے؟”وہ پھر پوچھنے لگے
اس نے بجھے دل سے گردن ہاں میں ہلادی
“اور یہ جو حق جتانے کی بات ہے تو تم جو میری چائے میں زبردستی چینی نہیں ڈالتی میرے کپڑے نکالتے وقت زرا نہیں پوچھتی کونسے کیسے ،یہ سب حق جتانا نہیں ہے ہمم ؟” وہ اب کے موڈ فریش کیے پوچھ رہے تھے
“اتنے مظلوم نہیں ہیں آپ “وہ۔ ٹھنکی
“موڈ صحیح کرو,پلیز “
“ایک شرط پر ہم کراچی جا رہیں آپ نے کچھ دن رکنے کا بھی بولا تھا تو میں۔ امی ابو کے ہاں رکوں گی تین دن”
“تین بہت زیادہ ہی۔ چار دن کا ہی اسٹے ہے بس اس میں تین دن چچ ظلم ہے یہ “
“اور جو مجھے یہاں چھوڑ کر خود آپ ہفتے ہفتے باہر رہتے ہیں آپ ے کام سے وہ میں مینج کرتی ہوں کولیگز سے نائٹ ڈیوٹیز سوئچ کرکے”وہ بولی تو حیدر کے دماغ میں پھر شازر کی بات گونجی
“تم آدھا وقت یہاں آدھا وہاں ہوتے ہو تو بھابھی یہاں انتظار کریں یا وہاں کوئی فرق تو نہیں ہاں یہاں وہ کمفرٹیبکی پریکٹس بھی کرسکیں گی” انہیں اب اس کی بات خاصی موزوں لگی۔ جبکہ رائنا انہیں خاموش دیکھ دوبارہ گویا ہوئی
اچھا دودن”وہ بارگینگ شروع کر چکی تھی حیدر کو ہنسی سی آئی
“چلو ٹھیک ہے بس اب مسکرادو تھوڑا ” مان ہی گئے وہ آخر اور اس کے ماتھے پر مہر محبت ثبت کرتے رضامندی دے دی
تو وہ بھی مسکرا اٹھی
“ریڈی ہو پھر ،سامان رکھا ؟”
“جی پیک ہے چلیں ” وہ مصنوعی گھوری سے نوازنے لگے
“گڈ سب طے تھا یعنی؟, چالاک “
“دور اندیشی کہتے ہیں اسے چلیں اب”وہ ہنستی بولی تو بھی مسکرا دیے
اور سے لیے باہر کی جانب ہو لیے اور ملازم کو کمرے سے سامان جو کے وہ پہلے ہی پیک کر کی تھی لے کرگاڑی میں رکھنے کو بولا
————![]()
اشازر کے ہاں ان کا پر تپاک استقبال ہوا ،وہ کافی خوش ہوئی شازر کی وائف سے مل کر اسے اچھا لگا واپسی کے وقت وہ اسٹیک پر دلہن کو ملنے جا رہی تھی حیدر جگہ پر ہی بیٹھے شازر کے ساتھ بات کر رہے تھے تب اس کا کسی سے ٹکراؤ ہوا سنمبھلنے پر سامنے موجود لڑکی کو دیکھ رائنا کا دل چاہا زمین پھوٹے اور وہ اس میں اس لڑکی کو ڈال دےوہ اس کی یونی فیلو تھی جو اس سے بہت بغض برکھتی تھی کٹر دشمن تھی اور اس تماشے کی گواہ بھی تھی جو ہوسٹل میں اس دن ہوا تھا
آج جب وہ اس سی ٹکرائی تو رائنا کو حقیقتاً لگا
کے اس کے ستارے ہی گردش میں ہیں بمشکل وہ اس سے مسکرا کر ملی مگر وہ کہاں باز آنی تھی
“یار بڑا افسوس ہوا تمہاری شادی آئی مین ٹریجڈی کا سندس کی فیملی میں ہی شادی ہوئی ہے کڈنیپر سے ہی ہوئی کیا؟تمہارے دوست بڑا کور کر رہے تھے ایسا نہیں ہے کڈنیپر کو سزا دلوائی گئی ہے بٹ وہ آل بنو فیوڈل سسٹم “وہ استہزایہ بولتی چلی گئی
“اقرا تم انٹرسٹد کس میں ہو یار میری لائف میں یا فیوڈل لارڈز میں آر یو ریگریٹنگ کے اس دن تم کیو نہیں تھی میری جگہ کیونکہ سب ہی جانتے ہے کے تم کتنی انٹرسٹد ہو فیوڈلز میں ،اور ناولز میں کڈنیپنگ اور ریپ تمہارا فیورٹ جینر تھا رائٹ؟”
“اور تمہیں کتنی چڑ تھی ہیں نا اب دیکھو چچ بٹ یار تم دیکھو رسی جل گئی بل نا گیا ” اقرا اس کا پر اعتماد وہی پرانا شکست دینے والا انداز دیکھ سلگ اٹھی تھی
“کہاں جلی ہے وہ دیکھو میرے ہسبنڈ اسے جلنا کہتے ہیں ؟”وہ مجال ہے جو گھبرائی ہو
اقرا چند مزید کوششوں کے بعد چلی گئی مگر رائنا کا موڈ تباہ ہوگیا تھا اس نے اقرا کو وضاحت نہیں دی تھی کے اس کی شادی اغواکار سے نہیں ہوئی وہ جانتی تھی وہ مانے گی ہی نہیں
کسی کے سامنے باہمت بننا الگ ہے مگر بلاوجہ کی تحضیک انسا ن کو ازیت دیتی ہے وہ بھی اسی اذیت میں تھی شادی میں مختلف لوگوں نے مختلف سوال کیے ہی تھے کہاں ملے کیسے ملے وہ تھک گئی تھی کہانیاں بناتے سناتے اس کا پریشان ہونا حیدر نے بھی محسوس کیا واپسی وہ دونوں کافی لیٹ ہوگئے تھے تو حیدر نے اپنے ہی کراچی والے گھر جانے کا بولا وہ اس وقت جاتے تو رائنا کے والدین بھی ڈسٹرب ہوتے وہ بھی سمجھ کر مان گئی وہ اس کی بے کلی ملاحضہ کر رہے تھے پوچھا بھی پر وہ ٹال گئی وہ گھر پہنچ کر بات کرنے کا سوچتے خاموش ہوگئے
————![]()
وہ کوئی پچیسویں کافی تھی جو وہ پی چکا تھا پرانی عادت تھی ٹینشن میں کافی پینے کی اے چند دنوں میں یو -ایس جانا تھا تھوڑے وقت کے لیے وہ جانے سے پہلے شہرینہ کو ہر چیز سے آگاہی دینا چاہتا تھا ،اسی وقت اس کا فون رنگ ہوا یہ اس کا وہی دوست تھا جس سے اس نے شرجیل کی معلومات پوچھیں تھی وہ فورا الرٹ ہوا اور رسمی گفتگو کے بعد سیدھا مدے پر آیا
” یار یہ شرجیل بخت خود سوائے(فرضی گاؤں)کے سردار کے بھائی ہونے کے خود کوئی خاص انفلینوس نہیں رکھتا بھائی ہاں البتہ کافی پاورفل ہے وہ پارٹی ہیں نا (فرضی نام) اس سے اپنے علاقے کا ٹکٹ ملا ہے اسے فسٹ ٹائم ہے”
سعود علاقے کا نام سن کر چونکا’کہیں یہ وہی تو نہیں ڈاکٹر رائنا کا ہسبنڈ”
“نام نام کیا ہے اس کا؟”
“سردار حیدر بخت,وائٹ کالر آدمی ہے یا تو کچھ غلط کرتا نہییں ہے یا شاید بڑا چلاک ہے کے کوئی سرا چھوڑتا نہیں ہے یہ شرجیل بخت البتہ متنازع ہے مگر کبھی کوئی ٹھوس ثبوت ویڈیو یا خاتون کا کیس ابتک تاحال سامنے نہیں آیا “
“اوہ ٹھیک سن انفرمیشن ڈھونڈتے رہنا”
“کیا چکر ہے برو ؟”
“سب بتاؤں گے سب پتا چل ہی جائے گا “اس نے کہہ کر ٹال دیا اور کال کاٹ دی
“پوور (poor)ڈاکٹر رائنا چچ واٹ از شی ایون میری ان ٹو(what is she even marry into) “اسے حقیقتاً دکھ تھا
شہرینہ کا فون ہنوز بند تھا اب اس نے فلک سے بات کرنے کا سوچا
————![]()
“ہڈیاں تو تیری بلکل ٹھیک ہیں “وہ شہرینہ کا منہ پنجے میں دبوچے بولا حالانکہ شہرینہ کی ٹانگ میں ہنوز لنگراہٹ تھی
“بہت آرام پسند ہوگئی ہے تو شہری “وہ بے تاثر چہرے سے بیٹھی تھی اس نے ایک زور دار لات رسید کی شہرینہ نے اسکی دبائی یہی سسکیاں تو اس زہنی بیمار احساس برتری کے شکار مریض کے سکون کا باعث تھیں اور وہ اسے سکون پہنچانے کی خواہشمند نا تھی اسے اسی بے بسی کی حالت میں دیکھنے کی منگنی تھی جس میں وہ دوسروں کو دیکھنا پسند کرتا تھا
“چل آٹھ زرا ناچ کے دیکھا “وہ سسکیاں دباتی بمشکل اٹھی اور اس کی خواہش پر نا چاہتے ہوئے بھی عمل کیا
“خوب بہت خوب بس رک جا”گھنٹے بعد اسے ترس آیا اور روکا شہرینہ نے ڈیک آف کردیا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ سمجھ گئی ایک اور بڑی آزمائش منتظر ہے
کمرے کی لائٹ آف کردی گئی تھی اس کے نصیب کی طرح اندھیرا چھا گیا تھا
————![]()
وہ بہت آف موڈ کے ساتھ کمرے میں گئی حیدر کو کچھ کام تھا تو وہ اسے انتظار کرنے کا کہہ کر باہر ہی رکے
وہ روم میں آئی جلدی سے چینج کیا اور سو نے لیٹ گئی اقرا کی باتیں ہتھوڑے کی طرح سر پر بھی رہیں تھیں اس کی زندگی کیا محض لوگوں کی تفریح کا سامان ہے یہ سوچ اسے کرلا رہی تھی اس وقت وہ سب سے خفا اپنے خول میں بند ہوگئی تھی نیند اسے سب سے بہتر آپشن لگی
حیدر کمرے میں۔ آئے تو اسے بنا کوئی بات چیت کیا اس طرح منہ لپیٹے سوتا دیکھ خون کھول سا گیا “یعنی کے میں اور میری بات دونوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ “وہ اسے سوتا دیکھ چڑ کر سوچنے لگے دل کیا کے جھنجھوڑ کر اٹھا دیں مگر غصہ ضبط۔ کرتے اس پر کمفرٹر ٹھیک کیا اور۔ کمرے سے نکل گئے اتنا تو سمجھ ہی گئے تھے کے کوئی بات ضرور ہوئی ہے مگر رائنا سے نالاں بھی تھے
————![]()
وہ آج پھر ادھمکا تھا ڈھیٹ لفظ شاید ایجاد ہی اس کے لیے ہوا تھا
وہ اب اس کا راستہ روکے تھا وہ رات کے برتن دھو رہی تھی اور یہ آفت نازل ہوگئی وہ دل ہی دل کلسی
“کیا بات ہے بڑا تپڑ ہیں زرا حویلی میں کام کیا مل گیا اوقات ہی بھول گئی”
“راستہ چھوڑ دانیال بھائی”
“بھائی نہیں ہوں تیرا سمجھی “اس نے منہ پنجے میں دبوچا “کیا کرے گی راستہ نہیں چھوڑا ابا کو بتائے گی چل جا بتا خود عزت کے ڈر سے تجھے میرے حوالے کردے گا اور میری چڑیا سی جان تو کسی اور سے بیاہی جا بھی نہیں سکتی تو تو صرف میرے لیے تخلیق ہوئی ہے “
“میں بڑی۔ بڑی سرکار کو۔۔”وہ کانپتے بول بھی نا پائی کے وہ ہنسا
“ہاہا ہاہا۔۔۔۔یہ بھی کر پھر وہ تیرے گھر والوں کو سرکار کو بتائیں گی اور غیرت کے تقاضے کے طور پر تو میرے ہی کھاتے میں آئے گی بچنا چاہتی ہے مجھ سے؟”اچانک اس نے پوچھا
سکینہ بنا سوچے سمجھے اثبات میں گردن ہلاگئی
دانیال مسکرایا پھر طنز سے بولا
“ایسا کر سرداروں کے خون کے آدمی کی بیوی بن جا ، چچ بن کیسے سکتی ہے کیونکہ تو تو کمیں کی بیٹی ہے۔چچ بیاہی۔ تو مجھ سے جائے گی یا تبا ہ ہوگی “وہ اس کے گال تھپتپاتا اسے لرزتا کانپتا چھوڑ چلا گیا وہ منہ پر ہاتھ رکھے زمین پر بیٹھتی گئی کیا بے بسی تھی کیا تھی وہ موم کی گڑیا جسے بھا جائے وہ خرید لے کھلونا جو ایک صدی بچہ مانگ بیٹھا تھا،عطر کی بوتل جو جس کو بھا گئی وہ چھڑکنے کو لے گیا ،زمین کا ٹکڑا جس کی اپنی کوئی مرضی نا تھی بس دوسروں کاتسلط وہ سسکتے سوچنے لگی۔ کیا عورت کی یہی زندگی ہے کے جسے محبت ہو جائے پسند آجائے وہ اپنانے پر تل جائے کیا اس کی کوئی پسند کوئی رضا نہیں کیا یہ دین ہے نہیں یہ دین تو نہیں ہے پھر کیو یہ لوگ اس کو پوج بیٹھے ہے جو دین ہی نہیں ہے سکینہ کی بے بسی عرش پر جا رہی تھی اور فرش والے بے خبری کے نشے میں مست تھے
