406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 3

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

میں کل کچھ دنوں کے لیئے کراچی جارہا ہوں۔۔۔” انہوں نے حقہ گڑگڑاتی بی ماں کو اطلاع دی۔۔۔”

رائنا میرے ساتھ ہی جائے گی۔۔۔” انکی اگلی اطلاع پر وہ چونکیں۔۔۔

“خیریت۔۔۔؟”

“شادی کے بعد سے اپنے والدین سے بھی نہیں ملی۔۔۔۔ اور کچھ اسکی ڈگری کے معاملات ہیں جس میں اسکی موجودگی ضروری ہے۔۔۔” اب کے انھونے تفصیل سے جواب دیا۔۔۔

“وہ وہاں کیسے جاسکتیں ہیں۔۔۔؟ آپ کے نکاح میں ہیں غیر برادری میں نہیں جاتی ہماری عورتیں اور یہ ڈگری شگری کی کیا حاجت نوکری کریں گی کیا۔۔۔؟” بی ماں ناگواری چھپاتیں بولیں۔۔۔۔

“اس کے والدین ہیں وہ ان سے اس طرح الگ رکھنا ظلم ہے۔۔۔ غیر برادری سے ہم لائے ہیں اسے۔۔۔ خود سے چل کر تو نہیں آئیں۔۔۔ نکاح میں ہے وہ میرے میری غلامی میں تو نہیں ہے۔۔۔ جہاں تک بات ہے ڈگری کی تو سالوں کی محنت ہے اسکی۔۔۔ مناسب حدود میں رہ کر کام کاج میں کوئی حرج نہیں۔۔۔۔ اور تب تو ویسے ہی مقدس پیشہ ہےجائز کام ہے۔۔۔۔ ،اپنی بیوی کی خوشی کا خیال رکھنا میرے فرائض اور آپ جانتی ہے میں اپنے فرائض سے چوکتا نہیں ہوں۔۔۔”

“اور بیوی اس کے فرائض کے بارے میں کیا کہیں گے۔۔۔؟ وہاں تو مجھے کوئی فرائض کا خیال نظر نہیں آتا۔۔۔”

وہ طنزا ًبولی۔۔۔

“وہ اس تبدیلی سے پریشان ہے فلحال۔۔۔ اور جواب تو مجھے اپنے اعمال کادینا ہے۔۔۔ مجھے بس آپ کی دعائیں درکار ہیں بی اماں۔۔۔” وہ انکا ہاتھ تھام کر لگاؤ سے گویا ہوئے۔۔۔۔ انکا یہ انداز ہمیشہ بی اماں کی مخالفت بہا لے جاتا تھا۔۔۔۔ ابھی بھی وہ بھائی کی محبت میں موم ہوگئیں۔۔۔۔

“بہرحال عورت زات کو اتنی اہمیت دینا خطرے سے خالی نہیں بڑی شاطر مخلوق ہے۔۔۔”

“آپ کا ارشاد سر آنکھوں پر۔۔۔ مگر گستاخی معاف یہاں اختلاف ہے۔۔۔۔ مجھے آپ سے برسوں پہلے جب اپنی بیوہ بہن کو حویلی کے ویران کمرے سے نکال کر عزت بخشی تھی۔۔۔ جو کے حق تھی آپ کا تب بھی لوگوں نے مجھے یہی کہا تھا۔۔۔ مگر خدا کا فضل ہے کے میری کھری نیت کا صلہ آج میری بہن میرے لئیے فخر کا باعث ہے۔۔۔” وہ بہن کو اعتماد سے دیکھتے مان بھرے لہجے میں بولے۔۔۔۔

بی اماں لاجواب ہو گئی تھیں۔۔۔ حیدر نے فیصلہ کر لیا تھا وہ جان گئی تھیں۔۔۔ وہ دلیلوں میں انھیں مات نہیں دے سکتی تھی۔۔۔۔ نا ہی دینا چاہتی تھیں۔۔۔۔ وہ بس اپنے بھائی کی خوشی چاہتی تھیں۔۔۔۔

“ایاز۔۔۔! راینا کے ڈاکومنٹ کا جو کام کہا تھا کہاں تک ہوا وہ۔۔۔۔؟ “

” جی بھائی بس بھابھی کے سائن رہتے ہیں۔۔۔۔ ڈاکومنٹ بننے میں مشکل آتی بٹ آپ کے بات کرنے سے سلجھ گیا معاملہ۔۔۔”

“ہمم۔۔۔!! ٹھیک اورباقی۔۔۔؟”

“باقی بھی سب خیر خیریت سے ہے۔۔۔ رائنا مطلب بڑی سرکار کے گھر والے بھی اور۔۔۔” وہ بھی۔۔۔” ایاز وہ پر زور دیتا بولا۔۔۔

“کہاں ہے وہ۔۔۔۔؟”

“حیدرآباد”

“ہمممم۔۔۔۔ دھیان رہے ایاز کوئی چوک نہ ہو۔۔۔”

“جی بڑے سرکار بہتر۔۔۔۔”

“اب کس کی زمین کھینچ رہے ہیں۔۔۔۔؟” کمرے میں آتی رائنا نے صرف آخر کی بات سنی تھی۔۔۔۔

“اس فضول لغو سوال کا مقصد۔۔۔؟” وه تیوری چڑھائے اسے دیکھنے لگے۔۔۔

“تو اس میں لغو بھلا کیا بولا آپ فیوڈل لارڈز ایسے ہی تو ہوتے ہیں۔۔۔۔” وه مزید زہر خند ہوئی۔۔۔

اسکے زہر اگلنے پر وہ پہلے تو دیکھ کر رہ گئے پھر اسکے قریب آ کر دونو ہاتھ اسکے شا نوں پہ رکھے۔۔۔

“مقام کا تعین کرکے بات کیا کرو رائنا ہر جگہ تمہارے بولنے کی نہیں ہے تم پیکنگ کرو وہ کرو جوکر سکتی ہو۔۔۔”

اسکی آنکھوں میں دیکھتے آخر میں انکی سنجیدگی کی جگہ دل جلانی والی مسکراہٹ نے لے لی۔۔۔۔۔

اسے ایسے ہی جلتا بھنتا چھوڑ کر وہ با ہر کی جانب چل دیے۔۔۔۔

💖————💖

اسنے نشے میں دھت پڑے اپنے مجازی خدا کو دیکھا اچھا تو ووہ کبھی نا تھا۔۔۔۔ لیکن جب سے یہ کوٹھے اور شراب کی لت لگی تھی۔۔۔۔ تب سے جانوروں سے بدتر ہوگیا تھا۔۔۔۔ مگر قسمت کی ستم ظریفی کے اسے اسی کے ساتھ رہنا تھا۔۔۔ کہ طلاق جائز ہوتے ہوئے بھی معاشرے نے حرام کی ہوئی تھی اسکے لئے۔۔۔۔ پر اس شخص کا زنا سے گناہ ہوتے ہوئے بھی سب نے نظریں پھیری ہوئی تھیں۔۔۔

وہ تھوڑا سا ہوش میں آگیا تھا وہ ڈری کے اب کہیں ہمیشہ کی طرح نشے میں دھت اسے پیٹ نا دے ۔۔۔۔ وہ کچھ بڑبڑا رہا تھا اسنے غورکیا تو وہ اسے آپنے قریب بلا رہا تھا۔۔۔

آمنہ جان گئی وہ کیا چاہ رہا ہے۔۔۔۔ ہر وقت با وضو رہنے والی آمنہ کےلئے اب اسکی قربت ازیت ناک تھی۔۔۔ اسنے ایک نفرت انگیز نگاہ اس پر ڈالی جو اب گالیوں پر اتر آیا تھا۔۔۔۔ وہ ایک فیصلہ کرتی کمرے سے منسلک چھوٹے کمرے میں جا کر دروازہ لاک کرگئی۔۔۔۔ وہ اسکی اس حرکت پر حیرت زدہ ہوا پھر طیش سے بکتا جھکتا اٹھا مگر پی اتنی رکھی تھی کے سہہ نا سکا اور واپس بستر پر گر گیا۔۔۔۔

آمنہ نے کمرے میں بند اپنی سسکی روکی۔۔۔۔ آخر آج اسنے اپنے لئے قدم اٹھانے کی کوشش کر ہی لی تھی۔۔۔۔

💖————💖

گاڑی سبک رفتار سے رواں دواں تھی۔۔۔۔

ایک گاڑی میں وہ دونو تھے جبکے پیچھے دو گاڑیوں میں گن لئے گارڈ زتھے۔۔۔۔

وہ عموماً خود ڈرائیو نہیں کرتے تھے پر آج نا جانے کیوں یہ کر بیٹھے۔۔۔۔ انہوں نے ایک نظر ساتھ بیٹھے وجود پہ ڈالی۔۔۔۔

بے ساختہ مسکراہٹ نے لبوں کا احاطہ کیا۔۔۔۔ زہن کے پردے پہ کچھ گھنٹے قبل کا منظر روشن ہوگیا۔۔۔

“تم تیار ہو۔۔۔؟” وہ کمرے میں داخل ہوتے ٹھٹکے وہ سفید سادہ فراک میں پونی باندھے بنا میک اپ ( نو میک اپ لک کا کمال) دمک رہی تھی مگر کسی طور حویلی کی بڑی بہو نہ ہی نو بیاہتا لگ رہی تھی۔۔۔۔

“کونسا سوگ منا رہی ہو آج۔۔۔؟

“مطلب ! “وہ انکا طنز نہ سمجھی۔۔۔

جواب میں انہوں نے شانوں سے پکڑ کر اسکا رخ شیشہ کی جا نب کیا۔۔۔۔

“میں ہمیشہ ایسے ہی تیا ر ہوتی ہوں۔۔۔” اس نےکندھے اچکائے۔۔۔۔

“نہ تم ہمیشہ شادی شدہ تھی نہ ہی بڑی سرکار تھی” وہ بھی ترت بولے۔۔۔

“آپ کو مجھ میں بہت خامیاں دیکھتی ہیں۔۔۔ پر باندھے رکھے ہیں اپنے ریت رواج کی خاطر۔۔۔۔ یہ بد لو وہ بدلو کتنا اورکیا کیا بدلوں۔۔۔۔ نہ کبھی میرے امبیشنز کا سوچا بس اپنے رنگ میں رنگنے کی فکر ہے کیوں آخر۔۔۔؟ صرف اس لیے کے آپ کی انا کی تسکین ہو سکے۔۔۔۔؟ پھر بھی چار مہینوں میں اتنا بدل ڈالا مجھے۔۔۔۔ مگر خود آپ وہیں کھڑ ے ہیں میں آپ کی پسند کا اوڑھوں پہنوں آپ جو دل کرے پہنیں جو دل کرے کریں رشتہ بنائیں۔۔۔۔

آپ اپنی ریت رواج کے لئے اور نبھاؤں میں سر پنج بنے والے ہیں آپ اور یہ ہے اپکا انصاف۔۔۔”

وہ روتی ہوئی بولتی چلی گئی یہ پہلی بار تھا کے انکے آگے اتنا بولی۔۔۔۔۔ ورنہ حویلی کے ہر شخص کے آگے چلتی زبان کو انکے آگے تالے لگ جاتے تھے۔۔۔۔

اسکو روتا دیکھ کر انہونے اسے قریب کرا ایسے کے وہ سینے سے آلگی

“صبر۔۔۔۔ صبر بیوی۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائےگا اتنی بدگمانی رائنا۔۔۔؟ رہی بات انصاف کی تو وہ اپنے وقت پہ ہوگا اپنے پلڑے کا خیال کرو رائنا کون جانے کس کی خطا زیادہ ہو۔۔۔”

وہ اسے الگ کرتے اسکے آنسو پوچھ کر گویا ہوئے۔۔۔۔

تو وہ بھی خود کو سمبھال کے دوپٹہ سیٹ کرنے لگی۔۔۔

حویلی کی عورتیں خاندانی مخصوص کڑھائی والی چادر لیتی تھی۔۔۔ رائنا کا لباس پورا اور باوقار تھا۔۔۔۔ دوپٹہ بھی لمبا تھا اور باوقار انداز میں سر اور شانوں پر تھا۔۔۔۔ وہ غلط نہیں تھی اسنے بہت سی باتوں کو کہے بغیر خیال کیا تھا۔۔۔۔ اب بھی کانو میں انکے دیے ڈائمنڈ ٹاپس ڈال لے تھے۔۔۔ ایک کلائی میں نازک گھڑی تھی۔۔۔۔

وہ خود اور خاندان کے دوسرے مرد جدید انداز سے تیار ہوتے۔۔۔۔ خصوصا جب شہر کا کام ہو یا میٹنگ ہو مگر ملک کے نوے فیصد کی طرح انہیں بھی یہی لگتا تھا کہ ۔۔۔۔ روایت اور شرع کی پاسداری صرف عورت کی ذمداری ہے۔۔۔۔ آج رائنا کے دیکھائے

آئینے میں انہیں اپنا آپ بہت غلط لگا تھا۔۔۔ اسی لیے خاموش ہورہے۔۔۔

“غلطی مجھ سے ہوئی ہے تو تلافی بھی کرونگا تم ٹھیک کہتی ہو رائنا۔۔۔ شادی دو فریق نبھاتے ہیں اکیلے پر بوجھ ڈالا جائے تو ٹوٹھ جاتا ہے میں تمہیں ٹوٹنے نہیں دونگا رائنا۔۔۔”

وہ گاڑی ڈرائیو کرتے سوچے گئے۔۔۔۔

💖————💖

“رونا بند کر آمنہ وہ مرد ہے سارے اختیار رکھتا ہے بھلے چار عورتیں رکھے۔۔۔” بی جان روتی آمنہ کو گھر کتے ہے بولیں۔۔۔۔

“بی اماں آپ جانتی ہے میں تو سوکن تک سہہ گئی تھی کے شرعاً اجازت ہے یہ سوچ کر سوکن کی اولاد کو اسکی وفات کے بعد اپنی اولاد کی طرح رکھا۔۔۔۔ مگر میرا نصیب دیکھیے سائیں کو طوائف لبھانے لگی۔۔۔،

بی جان یہ تو اللہ‎ کا فرمان ہیں نا پاک عورت کے لئے پاک مرد انکی اس حرکت نے تو مجھے خود پہ مشکوک کردیا۔۔۔۔ وہ بچوں کے سامنے پیٹ ڈالتے ہیں اور گندی فحش گالیاں تک دے دیتے ہے۔۔۔۔ ان بدنام علاقے سے تعلق رکھنے والیوں کے قصیدے پڑھتے ہیں اولاد پر کیا اثر پڑے گا۔۔۔۔”

“زبان سمبھال کر بول آمنہ نیک بیبیياں ایسی بکواس نہیں کرتی۔۔۔۔ خبردار جو اب کوئی آواز کی بڑے سرکار تک تیری چوں بھی پہنچی تو یاد رکھنا۔۔۔۔ کاری کرا دونگی تجھے۔۔۔۔ چل اٹھ اور ایسی ہوجا جیسے کچھ نا ہوا ہو۔۔۔”

وہ سنگ دلی سے کہتی اسے جانے کا اشارہ کرنے لگیں۔۔۔

اپنے اشک پوچھتی آمنہ اپنے دل میں اٹھتی ٹیسوں کو دباتی اٹھ گئی۔۔۔

“جو حق مجھے مذہب دے چکا تھا صدیوں پہلے

وہ آج کے مسلمان نے پھر چھین لئے۔۔۔”