Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh NovelR50439 Intezaar Ishq Episode 17
Rate this Novel
Intezaar Ishq Episode 17
Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh
نیا نیا یونی میں ایڈمیشن ہوا تھا ڈی فارمیسی کے پہلے سال میں وہ ہوا میں اڑ رہی تھی ،حجاب باندھیں چال میں اعتماد لاتی وہ یہ نئی دنیا دریافت کرنے نکلی تھی وہ پڑھائی میں بہت تیز نہیں تھی مگر لگن تھی اس کے چچا نے خرچا اٹھانا کا عندیہ کیا اس کی اسی لگن کو دیکھ کر مگر وہ بھی میرٹ پر ہی پڑھا سکتے تھے اور میرٹ پر نا اس کا ایم بی بی ایس میں ہوا نا بی دی ایس میں وہ اداس تو ہوئی پر چچا اور چچی نے ہمت بندھائی کے یہ نہیں تو فارمیسی میں لے لو کراچی یونیورسٹی کا ٹیسٹ دیا اور چن لی گئی ابا پریشان تھے خاندان میں صرف چچا ہی روشن خیال تعلیم پسند تھے انہونے جب لڑکی میں لگن دیکھی تو پڑھائی کا خرچا اٹھانے کا فیصلہ کیا اور گھر میں جگہ بھی ۔اس نے بھی یہ سنہری موقع نا گنوانا چاہا اور ابا کو منا ہی لیا اولاد کا راشن مستقبل کسے کھلتا ہے بھلا ابا نے بھی کمر کس لی مگر خاندان اللہ کی پناہ ایسی کاوں کاوں مچی کے حد نہیں مگر یہ دنیا تو بڑے بڑے مثالی رہنماؤں کو نابخشتی تو یہ کونسے کھیت کی مولی تھے ،اگے بڑھنے کا جذبہ سب سیکھا دیتا ہے خصوصاً جب نیت نیک ہو اللہ ایسے نادر موقع سب کو نہیں دیتا تو بس سکینہ عمر آگئی یونیورسٹی
————![]()
اس کے دن بہت اچھے گزرے رہے تھے یونی کا ۔احول بھی اچھا تھا چند ایک گندے مینڈک تو ہر جگہ ہی ہوتے ہیں کیا شہر کیا گاؤں وہ بہت حیران تھی یہ دنیا اس دنیا سے مختلف تھی جو اکثر ڈراموں کہانیوں میں دیکھاتے تھے نا تو وہ کلاس کی واحد حسین لڑکی تھی گو کے وہ تھی حسین نا ہی اب تک کوئی لڑکا اس کے راستے میں آیا نا ہی کسی نے حد سے بڑھی ریگنگ کی نا ہی کسی نے اس کے حجاب کا مزاق بنایا اور ناہی وہ واحد حجابی تھی وہاں ۔سب زیادہ تر اپنے کام سے کام رکھ رہے تھے ایک آدھ گروپ بھی لوگوں نے قائم کیے تھے۔۔وہ فلحال سب کچھ بغور دیکھنے کی کوشش کررہی تھی بہرحال وقت اچھا گزر رہا تھا۔اج جب وہ یونی کے بعد باہر نکلی تو کسی لڑکے سے ٹکرا گئی ان دونو ں نے ہی خجالت سے معزرت طلب کی اور اس نے سکینہ کی کتابیں اٹھا کے دیں اور دونوں اپنے اپنے راستے ہو لیے ،مگر دو آنکھوں نے یہ منظر اپنے طریقے سے لیا وہ ابھی آگے پہنچی ہی تھی کے کسی نے خود کو تھڑد کلاس فلم کا ہیرو سمجھتے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا وہ ہڑبڑائج چلاتی اس سے پہلے ہاتھ منہ پر رکھ کر آواز کا گلا گھونٹا اور جیپ میں پھینکنے کے انداز سے ڈالا
“یہ کیا بدتمیزی ہے دانیال بھائی میں کوئی زرخرید ہوں آپ کی ایسے کون سلوک کرتا ہے بھلا ،اور آپ یہاں آئے کیو ؟”وہ چیخی
“آواز ہلکی کرو وہ چیخا عورت ہو عورت ہوکر چیخی کیسے؟”وہ دھاڑا
“گلے سے چیخی آپ مجھے ایسے ماریں گے پھینکے گے تو چیخوں بھی نا”وہ آنسوں پیتی بولی
“ہاں کروں گا ایسا اور خبردار جو تم کچھ بولی تو کیا سوچ کر انکار کیا رشتے سے لنگڑا ہوں لولا ہوں ،عیاش ہوں کھاتا کماتا نہیں ہوں بولوں وہ اب اس کامنہ دبوچے بول رہا تھا
“مجھے پڑھائی کرنی ہے اور آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی میں آپ کیو نہیں سمجھتے”
وہ بمشکل دکھتے منہ سے بولی
دانیال نے اپنی سحر انگیز آنکھیں اس پر گاڑیں “ادھر دیکھو پہلی بار جب تمھیں خالہ نے گود میں دیا تھا نا تب سے سب تمہیں میری گڑیا کہتے ہیں تمہاری آنکھیں ،وجود ،سب میرا ہے “وہ اسے چھوتا بولا اور یہ لمس اس کے وجود میں انگارے بھر گیا وہ کلستی پیچھے ہوتی گئی اور دانیال وہ ہنسا “ہائے تمھاری ادا جانم”اس کی دلکش ہنسی سکینہ کو رلا گئی
“میں گڑیا نہیں ہوں انسان ہوں مجھے بھی حق ہے پسند کا آپ کی پسند کا احترام اپنی جگہ مجھے بھی اپنی زندگی پر حق ہے اس میں جبر جائز نہیں”وہ ڈر بھگاتے سسکیاں ضبط کرتے بولی اور جوبولی برحق بولی “چٹاخ !میرے علاوہ کسی کو نا سوچنا یہ جو گل چھڑے اڑاتی آرہی ہو نا دیکھ چکا ہوں میں ،میری ہو تم میری محبت ،نا کرو مجھ سے محبت بنوگی میری ہی بیوی ااور بچو کی ماں “وہ زبردستی ہاتھ تھامتا چھوتا اسے ہراساں کر رہا تھا اس کے نزدیک یہ محبت تھی مگر درحقیقت یہ محض جنسی طور پر ہراساں کرنا تھا
وہ اس کے ہاتھ پرے کرتی رخ موڑ کے بیٹھی
“یہ محبت نہیں زیادتی ہے یہ محبت ہے جس میں محب کی مرضی کی کوئی اہمیت نہیں “
“عورت ایک بار جس کی پوری طرح سے ہو جائے پھر شریف ہو تو کہیں نہیں جاتی تم بھی ایک ہی رات کی مار ہو میری جان”وہ معنی خیزی سے بولتا اسے مزید ہراساں کر گیا وہ دل ہی دل ورد کرنے لگی
وہ اسے ایسے دیکھتے خود کو طرم خان سمجھے ہنسنے لگا
“جان بس چند دن اور ہاں اماں کو بھیجوں گا اب کے ہاں ہو “
وہ چچا کے گھر کے قریب اتارتا اسے پھر اسی غلیظ احساس سے دوچار کرتا امر کی ہوس کو محبت کے لبادے سے ڈھانپتا بولا وہ متحوش ہوکر بگٹٹ بھاگی اور گھر کی طرف بڑھ گئی اسے اپنے ہی وجود سے بے تحاشہ گھن آرہی تھی
————![]()
وہ کئی گھنٹے سے باتھ روم میں بند تھی فرحین چچی کتنی بار دروازہ بجا چکی تھیں وہ خود سے مل مل کر نادیدہ غلاظت صاف کرہی تھی ،اس کی وجہ سے وہ زہنی مرض میں مبتلا ہوگئی تھی بار بار ہاتھ دھونا اس کا معمول ہوگیا تھا ہر مرد یہاں تک کے باپ اور چچا سے بھی خوف آتا یونی میں الگ ہراساں ہرنی جیسی رہتی
وہ اپنے جائز حق کو استعمال کرنے پر ہراساں کی جارہی تھی وہ سوچتی باپ کو بتائے تو ڈر لگتا کے پھر تو وہ دوبول پڑھا کر اسی شخص کے ساتھ باندھ دیں گے ہوگا وہ اچھا پر اسے نہیں لگتا تھا پھر اس کارویہ جیسے سکینہ انسان نہیں کوئی کھلونا ہو یہ صورتحال اسے خوف سے مارے ڈال رہی تھی
————![]()
وہ چاروں کوئی گھنٹے سے سعود صاحب کو ہینڈز اون ایگزمینیشن سکھانے میں مصروف تھے پر نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات اب بھی ڈمی پر وہ غلط ہی ایگزمین کر رہا تھا ،
“نا بھائی معافی اسے نہیں آنے کا میری توبہ میں بھول جاؤں گا “سب سے پہلے اشعر تو کٹ ہی لیا
“ہم کل کل کوشش کریں گے “روحی بھی بھاگی
“چلو کچھ نہیں ہوتا لیٹس ٹرائی اگین”رائنا نے پھر کمر کس لی دانیال نے بھی سکھانے کی بھرپور کوشش کی مگر سعود جتنا اچھا تھیوری میں تھا اس سے دگنا برا ہینڈز اون میں اتنے دنوں کی ہاؤس جاب میں مجال ہے جو ایک بھی فولی پاس کیا ہو ،یا سویلنگ ڈیٹیکٹ کی ہو
“سعود چھوڑو بس “دانیا تھک کر بولی
“ہاں کل کریں گے”رائنا نے ٹالا
“آج کا کام کل پر نہیں چھوڑتے دیکھو اب صحیح ہاتھ میرا ایسے ہی پیلپیٹ (palpate)کریں گے نا liver”
وہ پھر متوجہ ہوئیں
ہوا یہ تھا یہ جاننے کے بعد کے سعود صاحب نے یوایس کا میڈیکل کا ایگزیم زبردست اسکور سے پاس کیا ہوا ہے بس آخری پڑاؤ رہتا ہے جسے وہ ہاؤس جاب کے بعد پار کریں گے ان لوگوں اپنے پاکستان کے لیے دیے جانے والے ایگزم کے لیے سعود سے ٹیوشن لی مگر سعود نے بھی فیس کے طور پر ان کی۔ خدمات طلب کی جس پر فوراً سے ہامی بھری گئی مگر اب ناکوں چنے چبانے پڑ رہے تھے
کہ ایک تو وہ اناڑی تھا اس پر ہار مانتا نہیں تھا اب بھی لگا ہوا تھا اور انہیں بھی خوار کیا ہوا تھا
————![]()
“آپ کی رپورٹس نارمل ہیں آپ کے ایکس رے بھی ٹھیک آئے ہیں بس کچھ دن اور پھر آپ کو چھٹی دے دی جائے گی “ڈاکٹر فریدہ پروفیشنل انداز سے کہہ رہیں تھی
“کیا ! مطلب مطلب اتنے جلدی”وہ پریشان ہوئی پھر سے اس جہنم میں اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے ابھی تو فلک کا کام ہونے میں بڑا عرصہ لگنا تھا وہ سر پکڑ گئی
“آپ ٹھیک ہیں ؟”ڈاکٹر فریدہ کو تشویش ہوئی
“جی”وہ بمشکل بولی
“اوکے ٹیک ریسٹ “وہ مشکوک سی باہر چلیں گئی
“کتنی عجیب لڑکی ہے”وہ بٹائیں
————![]()
وہ گھر آئی تو فریش ہوئے کتابیں لیے مخصوص کمرے میں چلی گئی جو اسی مقصد کے لیے تھا چھوٹا سا لائیبریری نما یہ حیدر کے بچپن سے تھا وہ اب بھی اکثر وہاں کام کرتے تھے کبھی زاہد بھی استعمال کرتا تھا آج کل رائنا کا اور آمنہ کے بچو کاڈیرہ تھا رائنا ان کی بھی مدد کردیتی تھی ہوم ورک میں اکثر ابھی گئی تو دیکھا کے وہ دونوں بیٹھے ہیں اور شیراز فراز کو ڈانٹ رہاتھا
“کیو بڑے میاں کیو تاو کھارہیں ہیں “وہ شیراز کے بال بگاڑتی بولی
“تائی سرکار دیکھے بار بار غلط کر دیاہے یہ مار کھا کے ہی پڑھے گا”وہ معصومیت بھری سنجیدگی سے بولا
“پر مار کھا کر پڑھائی تو نہیں ہوتی”وہ ٹوکے بنا نا رہ سکی
“مگر ٹیچرز تو ایسےہی۔۔”وہ سوچ میں پڑ گیا
“شیراز سب سے بڑے ٹیچر کے اپنے سیکھنے کا واقعہ سناؤ سنو گے”
“سب سے بڑے؟،سنائیے”
“سب سے بڑے ٹیچر ہمارے پیارے نبی ہیں محمد صل اللہ علیہ وسلم جانتے ہو جب ان پر وحی نازل ہوئی تو وہ نہیں جانتے تھے پڑھنا جبرئیل علیہ السلام ان کے پاس اللہ کا پیغام لائے وہ پہلی وحی تھی انہوں نے فرمایا “اقرا”مطلب پڑھیے پیارے نبی نے کہا مجھے نہیں آتا میں نہیں جانتا ،جبرئیل پھر بولے پڑھیے ,آپ نے پھر وہی فرمایا تب جبرئیل علیہ السلام نے ان کو اپنے ساتھ لگا یا اور پھر فرمایا “اقرا”پھر پتا ہے کیا ہوا اللہ کے فضل سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام کے پیچھے دہرایا ,اس واقعے سے ہمیں سیکھ ملتی ہے کے علم پیار سے احترام سے سکھایا جاتا ہے سختی یا جبر سے نہیں “
وہ اب خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی ،جو سب سمجھ رہا تھا
“پر تائی سرکار یہ ٹیچرز کو نہیں پتا کیا؟؟”معصومانہ سوال چکر میں ڈال گیا
“دیکھو شیراز شاید پتا ہو شاید بھول گئے ہو اب ہم انہیں تو نہیں سکھا سکتے خود سیکھ سکتے ہیں نا سب کو نہیں بدل سکتے خود کو بدل سکتے ہیں جو کر سکتے ہیں وہ تو کرنا چاہیے نا”
وہ سمجھاتے بولی تو وہ متانت سے سر ہلانے لگا
“میں سمجھ گیا تائی سرکار ,آپ بہت اچھی ہیں “
“تم دونوں بھی چلو اب چھٹی کرو شام میں دیکھوں گی ہوم ورک تھوڑا کھیلوں کودوں،ابھی میں بھی تھوڑا پڑھ لوں”
“اوکے تائی سرکار”وہ دونوں چلے تو اس نے بھی لیپٹاپ اور کتاب کھولیں۔۔۔۔
