406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 30

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

فلک کی کال پر داور نفری کو لے کر کوٹھے میں گھس آیا رندھاوا کے علاؤہ کئی بڑے لوگ آج سامنے آئے تھے باہر نکلتے ہی میڈیا نے انہیں دھر لیا اور تابڑ توڑ سوالوں کی بوچھار کردی رندھاوا اب بھی نشے میں تھا میڈیا کے سوالوں نے میٹر ہی گھمادیا تھا

“پہنسا رہیں ہیں میرے کو ،یہ اس آغا نے کیا بلکہ نننہیں وہ وہ حیدر بخت نے کیا ہے “وہ میڈیا کو بیان دیتے اول فول بک رہا تھا

“چھوڑوں گا نہیں میں اس کو جان لے لوں گا “وہ لوگوں کے ہنسنے پر مزید دھمکیوں پر اتر آیا

اس کے دست راست نے سر جھٹکا اور صورتحال سنبھالنے کی ناکام کوشش کرنے لگا

💖————💖

اس دن حیدر کے آفس میں بنائے گئے پلین کے مطابق ہی شہرینہ واپس کوٹھے پر گئی تھی اور بائی کیا تھا ،وہ عجیب سا لاکٹ جو اس نے فلک کو پہنایا تھا اس میں رندھاوا کی فوٹیج تھی یہ لاکٹ کا بندوبستی حمزہ نے کیا تھا

اس کے بعد حیدر نے پولیس سے رابطہ کر انہیں اعتماد میں لے کر آگے کا لائحہ عمل طے کیا

میڈیا ٹرائل بھی حیدر کی کال پر ہوا تھا

اس سب میں لڑکیوں کی بھی فوٹیج ریکارڈ ہوئی مگر حیدر نے وہ ہٹوادی تھی( کچھ قرض جو اتارنے تھے)

سعود نے سب سوچتے سر دھنا”حمزہ صحیح تھا لوہے کو لوہا ہی کاٹتا “

“اب آپ ہاشم والی ویڈیو کا کیا کریں گے “

سعود کے سوال پر حیدر نے اسے اجنبیت سے دیکھا

“آپ کا کام ختم ہوا اب بنا پیچھے دیکھے آگے بڑھ جائیں”

وہ بولتے چل دیے جبکہ سعود پہلے تو منہ کھولے دیکھتا رہ گیا “ہنہہ بھنوٹ آدمی “

💖————💖

اس سب میں لڑکیوں کی بھی فوٹیج ریکارڈ ہوئی مگر حیدر نے وہ ہٹوادی

سعود نے سب سوچتے سر دھنا”حمزہ صحیح تھا لوہے کو لوہا ہی کاٹتا “

“اب آپ ہاشم والی ویڈیو کا کیا کریں گے “

سعود کے سوال پر حیدر نے اسے اجنبیت سے دیکھا

“آپ کا کام ختم ہوا اب بنا پیچھے دیکھے آگے بڑھ جائیں”

وہ بولتے چل دیے جبکہ سعود پہلے تو منہ کھولے دیکھتا رہ گیا “ہنہہ بھنوٹ آدمی “

💖————💖

وہ حویلی جانے کے لیے نکل رہے تھے جب اچانک گاڑی پر فائرنگ ہوئی

💖————💖

“یہ ادائے بے نیازی ابےوفا مبارک

مگر ایسی بھی کیا بے رخی کے سلام تک نا پہنچے “

اس نے کمرے میں پیر دھرا ہی تھا کہ کھینچ کر “شعر” مارا گیا ،وہ ان سے ناراض تھی کم سے کم بات کرتی تو وہ اشعار سنا کر زچ کرتے اس واقعے (فائرنگ والے)کو چار دن ہوگئے تھے

رندھاوا پر حیدر نے اقدام قتل کے ساتھ ہاشم کے قتل کا کیس بھی کھلوا دیا تھا وہ برا پھنسا تھا

“آپ کھانا کیو نہیں کھا رہے ؟”وہ سخت تیور لیے پوچھ رہی تھی

“میں نے کب کہا نہیں کھا رہا میں نے کہا کھلادو”انہوں نے بازو میں بندھی گئی پٹی کی طرف اشارہ کیا گولی محض چھو کر گزری تھی کوئی جانی نقصان نا ہوا تھا مگر رائنا کی ناراضی قائم تھی ،ذنہیں اس کا خود سے لپٹ کر رونا یاد آیا بہت کچھ کہہ گیا تھا وہ پل ان سے

“تم دنیا کی پہلی بیوی ہوگی جو حادثے کا شکار ہوئے شوہر سے احتراز برت رہی ہے”وہ چپ چاپ انہیں کھانا کھلا رہی تھی جب طنز کا تیر پھینکا گیا

“اور آپ خود بہت اچھے شوہر ہیں جو پریگنینٹ بیوی کو صدمے دے رہے ہیں سیاسی حریف کو شکست دینے کے لیے خود پر حملہ کروا کر “

اس کی بات پر وہ چونکے یعنی وہ سمجھ گئی تھی

“تمہیں کس نے بتایا”انہوں نے تیوری چڑھائی “دماغ نے”اس نے جواب دیا

“کچھ زیادہ ہی چلنے لگا ہے،ویسے اس سے پہلے جو ہوا تھا وہ میں نے نہیں کرایا تھا”انہوں نے کلیر کرنا ضروری سمجھا

“جانتی ہوں ,میں ساتھ تھی اس دن آپ مجھے نہیں خطرے میں رکھ سکتے”

“اتنا جان گئی مجھے جان حیدر”وہ پیار سے اس کا گا چھوتے بولے

وہ کسمسائی “بلکل خیال نہیں ہے آپ کو میرا نہیں سوچا کیا حالت ہوگی میری “

انہوں نے مکرم کو زیرلب گالی دی اسی کی غلطی تھی جوخبر حویلی پہنچی

“ایسا ہوسکتا ہے مجھے تمہارا خیال نا ہو,اب بس کرو ،کہا تو ہے کل بھی کے نہیں ہوگا اائیندہ “

وہ اس کا گال سہلاتے بولے

حیدر نے بغور اسے دیکھا اور آگے کو ہوئے اس کے بازو کو تھامے خود سے قریب کیا

“کیو چھپا رہی ہو کہہ کیو نہیں دیتی ؟یہ جو آنکھوں کی بدلتی چمک لہجے میں چٹکتی مسکان سے کہتی رہتی ہو اسے لفظ کیو نہیں دے دیتی “

عجیب سے بے کلی تھی ان کے لہجے میں یہ جاننے کے باوجود کے اس کا دل بدل چکا ہے وہ یہ اظہار اس کی زبان سے سننا چاہتے تھے

وہ سمجھ گئی وہ کیا سننا چاہ رہے ہیں تھوڑا آگے کو ہوکر لب ان کے کان کے پاس لے جاکر گویا ہوئی

“صبر سردار صبر ابھی وقت مناسب نہیں ہے “وہ جو کچھ اور سننا چاہ رہے تھے اسے گھورتے پیچھے ہوئے رائنا کی ہنسی بے ساختہ تھی

اس کے ہنسنے پر ان کو بھی ہنسی آگئی

“ویسے رائنا مجھے تم کو ایک راز کی بات بتانی ہے “سنجیدگی سے بولا گیا کملہ اسے چونکنا کر گیا

“کیا؟”

“اب تک میں نے صرف دو ہی چمچے بریانی کے کھائیں ہیں اور پلیٹ میں بریانی ختم ہوچکی ہے “

ان کے مسکراتے لہجے پر اس نے غور کیا وہ اس روٹھنے منانے کے چکر میں وہ کب سے خود ہی کھائے جا رہی تھی (آف کتنی پیٹو ہوگئی ہوں میں)

اس کا لال پڑتا چہرہ دیکھ حیدر کا قہقہہ بے ساختہ تھا

💖————💖

ایک مہینے بعد

وہ آج گاؤں کے ہاسپٹل آئی تھی ،حالت دیکھ اس کا دل دکھ اور شرمندگی سے بھر گیا اسے یہاں رہتے سال ہوگیا تھا مگر اس نے کبھی توجہ نا کی تھی

“اصل مسئلہ ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کا ہے ،جو یہاں آتے ہیں جلد از جلد تبادلہ کرا لیتے ہیں بڑی بڑی مشینے خرید تو لیں پر عملہ عملہ کہاں سے لائیں “ایاز بتا رہا تھا

“جانے کتنی عورتیں زچگی کے دوران عدم توجہ اور ہائیجن کی کنڈیشن کی وجہ سے سیپسس کا شکا ر ہو جاتی ہیں “تفصیلات اسے شرمندہ کر رہیں تھیں

“اب تم یہیں کام کرتے ہو؟”اس نے ایازسے پوچھا

“جی ،یہاں ضرورت ہے میری”

جواب اسے لاجواب کر گیا تھا

💖————💖

“ہممم کیسا رہا وزٹ سردارنی کا “وہ خیالوں میں گم کھڑی تھی جب انہوں نے اسے حصار میں لیا

“ہاسپٹل اچھا ہے پر اسٹاف تو بہت کم ہے حیدر “

“ہاں یار ہر بار بلوایا جاتا ہے مگر تبادلہ کرا لیتے ہیں سب مگر اب ہم الیکشن بھی جیت چکے ہیں اب بجٹ بھی زیادہ ہوگا اور صحیح جگہ لگے گا”وہ پر امید تھے

اسے کھڑکی سے نیچے دیکھ مالی کے ساتھ کام کراتا رکھی کا داماد دکھا

اس دن کی باتیں یاد آئی وہ پلٹی

“گاؤں میں کیسے عجیب رواج ہیں نا ؟”کہتے اس نے سکھاں کی بیٹی کے واقعے کا احوال کہہ سنایا حیدر نے گہری سانس لی

“ہاں یہ ہے تو ظلم مگر ایک طرح سے صحیح بھی ہے لڑکی کو ہمارا معاشرتی دور پھر گھر والے قبول نہیں کر رہے ہوتے ایسے میں اس غریب کے پاس کوئی راہ ہوتی کہاں ہے”

“مگر ایسے تو کرائم ریٹ مزید نہیں بڑھے گا حیدر ؟،کسی ایک کو تو پراپر سزا ملے “

“جاناں یہ معملات بہت الجھے ہوئے ہیں ،جو ویکٹمز ہوتے ہیں اکثر وہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں “

“اور اگر کوئی ایسا ہو کے نا ہٹے تو کیا پنچائیت ظالم کو کڑی سزا دے گی کارو کرے گی؟”

“قبل از وقت کچھ بھی کہنا مشکل ہے بہت سے زاویوں کو دیکھنا ہوتا ہے ،تم ٹینشن نا لو کوشش سے ہی بہتری آتی ہے ابھی تھوڑی آئی تھوڑی اور سجائے گی مگر وقت لگے گا “

انہوں نے کہا تو وہ مسکرائی پہلے میں اور اب میں فرق تھا پہلے ایسی باتیں ایسے قصے سن کر وہ گھبرا کر یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی اب دل کی دنیا کیا بدلی تھی کے سوچوں کا رخ تک بدل گیا اب وہ گھبرانے کے بجائے بہتری بدلاؤ لانے کا سوچتی ،محبت ایسی پر اثر ہوتی ہے وہ اکثر سوچتی اور حیران ہوتی۔

“عجیب شے ہے محبت کہ جس کو ہوجائے

وہ دیکھتا نہیں پھر کہ اس کے چاروں طرف

جو رنگ رنگ کی دنیا تھی وہ اب کیسی ہے

نئے نئے سے اسے منظر وفا دیکھاتی ہے

ہر ایک چیز کی ہئیت بدل سی جاتی ہے

عجیب شے ہے محبت کہ جس سے ہوجائے

ہر ایک روپ میں آنکھیں اسے ہی دیکھتی ہیں

بس ایک شکل ہی رہتی ہے روبرو ہر دم

خود پنے آپ سے کسی اور کی خوشبو آتی ہے

ہر ایک چیز کی صورت بدل سی جاتی ہے

عجیب شے ہے محبت !”

💖————💖

ماموں مامی آگئے تھے سعود نے ایک اچھے علاقے میں دوسرے شہر میں گھر خرید لیا تھا (ابا کے پیسو سے)

وہ لوگ وہاں شفٹ ہوگئے تھے

شہرینہ نے تو خود کو بہت جلد ہی ڈھال لیا تھا مگر فلک اب بھی ڈری سہمی رہتی تھی سعود نے ان دونوں کو سختی سے ماموں کو کچھ بھی بتانے سے منع کیا تھا وہ اپنے ابا کو جانتا تھا

شہرینہ اور فلک کو اس نیٹورک کو پکڑوانے میں

انعام میں رقم ملی تھی جس سے شہرینہ اب کچھ کام کرنے کا سوچ رہی تھی

کل سعود کی فلائیٹ تھی

شہرینہ نے اس کے لیے تھینک یو کا کارڈ اور ایک شرٹ خریدی تھی اظہار تشکر کے طور پر

اس میں اس سوال کا جواب بھی تھا جو اس نے کچھ دن پہلے پوچھا تھا

وہ پیکنگ چیک کر رہا تھا جب اس نے دستک دی

“آؤ آؤ “وہ خوشدلی سے بولا

“یہ تمہارے لیے “اس نے پارسل آگے کیا”تم کل جا رہے ہونا سب تمہیں یاد کریں گے “

“کیا تم بھی؟”وہ پر امید ہوا”نیورمائہنڈ چھوڑو “

وہ پلٹی اور کمرے سے باہر نکل گئی سعود سر پر ہاتھ پھیرتا رہا گیا

اس نے پارسل کھولا شرٹ تھی “گڈ” پھر کارڈ دیکھا اور بےتابی سے کھولا

“اس کے نام جس نے اندھیروں میں اجالے کی امید جگائی

“مجھے میرے باپ نے فروخت کیا ،میں نے خریدار کے روپ میں بھی مرد کا بدترین روپ دیکھا مجھے اس صنف سے نفرت ہو جاتی اگر تم نا آتے

تم نے سوال کیا تھا کہ کیا میں تمہاری زندگی کا حصہ بننا چاہوں گی ؟یہ دوسری بار تھا جب مجھے خود پر رشک آیا پہلی بار تب تھا جب میں اس جہنم سے نکلی تھی

مگر ابھی وقت ہے ابھی مجھے خود کو دریافت کرنا ہے دیکھنا ہے اپنی اڑان کو اپنے آپ کو کھوجنا ہے تمہیں انتظار کرنے کو نہیں کہوں گی

مگر کرو گے تو روکوں گی بھی نہیں ,تمہاری شکرگزار شہرینہ”

وہ پڑھ کر مسکرایا (ٹھیک ہے مجھے بھی ابھی سیٹل ہونے ٹائم لگے گا امید تو برقرار ہے)

💖————💖

وہ بی اماں کے ساتھ منشی جی کے گھر آئی تھی دل ڈوب سا گیا تھا اسے اپنی سکینہ کے ساتھ آخری ملاقات یاد آئی دل میں پچھتاوا سا ابھرا

منشی جی کا گھر کھچا کھچ بھرا تھا بھانت بھانت کی عورتیں جیسے تماشہ دیکھنے آئی تھی ان دونوں کو فورا سے راستہ مل گیا

منشی جی کہ بیوی اجڑی بیوہ کی طرح لگیں وہ انہیں اس کمرے میں لے گئیں جہاں اب سکینہ نامی زندہ لاش تھی

” سکتے میں ہے یہ بڑی سرکار “روتے بتایا گیا

رائنا نے دیکھا اس کے بکھرے بال بکھرا وجود غم سے پھٹی آنکھیں اسے اس جنگلی پر تاؤ آیا

اس نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا

“سب سب ٹھیک ہو جائے گا سکینہ تمہیں کچھ نہیں ہوا “اسے کچھ سمجھ نا آیا کون سے الفاظ میں دلاسہ دے

جب کے سکینہ کے ساکت وجود میں جنبش ہوئی وہ اس سے لپٹ کر رودی اتنے دنوں میں کسی نے یہ نہیں کہا تھا اب تک سب اسے بتا رہے تھے کے وہ برباد ہوچکی ہے ناپاک ہوچکی ہے

اس کے ایسا کرنے پر منشی کی بیوی بہو گھبرا گئیں “کیا کیا کر رہی چھوڑ بڑی سرکار کو”

“آرام سے مت ڈانٹیں “گو اسے خود الجھن ہوئی تھی مگر پھر اس نے آرام سے اسے الگ کیا

جب وہ پھر روتی لپکی “مجھے بچالو بی بی وہ جانور ہے یہ مجھے دے دیں گے اسے جانور ہے وہ بیبی “رائنا نے ضبط کرتے اس کا چہرہ تھپکا اور باہر چلی گئی بی اماں منشی کی بیوی کو سخت سست سنا رہیں تھیں انہیں رائنا کی صحت کی فکر تھی

وہ لوگ گاڑی کی طرف جا رہی تھیں جب کان میں پڑتی آوازوں نے قدم روک دیے

“ہائے دیکھ زرا منشی کی لڑکی کو اکڑ نا گئی “

“چیختی رہے اب سر کا سائیں وہی بنے گا دانیال کی منگ تھی اس کی مرد کو ضد دلائی تھی پاگل نے”

“بند بکواس بند”وہ پورے زور سے چیخی تھی بی اماں تک لرز گئی وہ چلتی ان عورتوں تک گئی

“ابھی کے ابھی یہ گھر سے چلتے بنے سب ورنہ۔۔,پنچائیت کا فیصلہ ہوگا جو ہوگا بڑے سرکار کریں گے فیصلہ اس لیے رائے دینے سے گریزکریں گھر جائیں اپنے تماشہ بنا رکھا ہے”اس کے بولنے کی دیر تھی وہ لوگ کھسکنے لگیں کبھی نا سنتی اگر وہ بڑی سرکار نا ہوتی

اس کا سانس پھول گیا بی اماں اور سکھاں اسے لیے گاڑی میں بیٹھ گئیں

“پانی دو بیبی کو,”وہ اس ہاتھ سہلاتی بولیں

“کیو فکر پالتی ہو ،کمی کمیں کے معملات ہیں یہ ،ہمیں آپ کو نہیں لانا چاہیے تھا”وہ پریشان ہوئیں انہیں اپنے بھائی کی ہونے والی اولاد کی فکر تھی

“ٹھیک ہوں میں” اس نے کچھ سوچتے انہیں تسلی دی

لان میں کرسی پر بیٹھی سکینہ کا ہی سوچ رہی تھی ،چند دن بعد فیصلہ تھا ،تبھی سکھاں چلی آئی

“بڑی سرکار بی اما نے بهیجوايا ہے “اس نے دودھ کا گلاس میز پر دھرا

“کیا ہوا ؟”اسے ہنوز کھڑا دیکھ رائنا نے پوچھا

“وو وہ بڑی سرکار یہ “اس نے مٹھی میں دبی پرچی آگے کی “وہ یہ میری لڑکی کو منشی کی بیٹی نے دی ہے،دیوار سے دیوار ملا گھر ہے دونو کا “وہ پھر بولی “بڑی زیادتی کرتا ہے بڑا بھائی بہت مارتا ہے ،منشی جی نےکل ہی بیچ میں آکر بچایا “رائنا نے پرچی کھولی جس میں سکینہ نے اس سے بچانے کئ درخواست کی تھی

“تمہاری بیٹی خوش ہے ؟”رائنا سکھا ں سے پوچھا

“بی بی آج سمجھتی ہوں کے ظلم ہوا ،کماتی بھی ہے کھیتوں پر کام بھی کرتی ہے ،سکھ بھی کوئی نہیں ،شوہر تو بڑا ظالم ہے اس کا”

“مجرموں کو سائیں بناؤ گے سر کا تو ظلم ہی ہوگا نا ،چلو جاؤ اب “

💖————💖

“یہ پنچا یت کے معاملات ہیں “اس نے بات شروع ہی کی تھی کے حیدر نے ٹوکا

“یہ انسانیت کے معملات ہیں حیدر “

“پنچایت کا فیصلہ لڑکی کئ بقا کے لئے ہے ،ورنہ کیا کرے گی ،،باپ بستر مرگ پر ہے چھوٹا بھائی خود زیر تعلیم ہے بڑا رکھنے کو تیار نہیں ؟کوئی حل ہے ؟کیا کماے گی کیا کھاے گی “

“عورت کو صرف روٹی کئ نہیں عزت کئ بھی ضرورت ہوتی ہے ،آپ رہ سکتے ہیں اپنے مجرم کے ساتھ

کونسی بقا کئ بات کر رہے ہیں ،یہ فیصلے صحیح ہوتے تو سکہاں کی بیٹی کے بعد سکینہ نا ہوتی چلو وہاں لڑکی بھی مجبورا راضی تھی مگر سکینہ اسٹینڈ لینا چاہتی ہے ،عورت کی رضا کے بغیر پنچایت کون ہوتی ہے نکاح کرانے والی یعنی مجبور کیا جا رہا ہے مجرم کو معاف کرنے کو ،حیدر جو تبدلیاں اپ لانا چاہتے ہیں وہ سخت فیصلوں سے آتی ہیں ،محض اسکول کالج کھولنے سےنہیں جب ایسے ہی پسنا ہے تو کیا فائدہ شعور کا ،اج سکینہ ہمت کر رہی ہے کئی سکیناوں کو بچانے کی روز روز اایسی ہمت کرنے والے نہیں ملتے ،بدلاوں سخت فیصلوں اور قربانیوں سے اتے ہیں”

“بہت عمدہ تقریر تھی ایک وقت میں میں نے بھی بابا سرکار سے ایسے مباحثے کیے ہیں کہنا اسان ہوتا ہے ،یہ اس لڑکی کی زندگی ہے جس سے محض اپنے بدلاوں کے شوق میں نہیں کھیل سکتا”

وہ اٹھے

“آپ کئ بات ٹھیک ہے ،مگر لڑکی خود ذمداری سے یہ فیصلہ لے اپنے مجرم کو معاف کرنے نہ کرنے کا حق اسی کا ہے ؟آپ میری بات نہ سنیے آپ خود سوچیے ایک بار دونو فریق سے مل کر بات کیجیے “

وہ اس کئ بات پر سوچ میں پڑ گئے

💖————💖

پنچایت بیٹھ چکی تھی

دونوں فریق موجود تھے

دانیال بہت پر اعتماد تھا

حیدر نے بغور اس کے رویے کو دیکھا دوسری جانب نڈھال سکینہ تھی

“تم پر الزام ہے منشی جی کئ صاحبزادی کیے ساتھ زیادتی کا ؟یہ سچ ہے ؟”نگاہیں اس پر گڑھی تھی

“سائیں غلطی ہوگئی بہک گیا تھا میں مجھے لوگو نے اسکی وجہ سے بےغیرت کہا کے میری منگ مجھے چھوڑ کر شہر میں کالج میں معاشقے کر رہی ہے ،میں کیا کرتا سائیں “وہ روتا ڈرامہ کرتا بول رہا تھا

“جب پنچا یت فیصلہ دے چکی تھی کے تمہاری منگ نہیں ہے یہ لڑکی تو احترام کیو نہیں کیا اس فیصلے کا “وہ دھاڑے

“سرکار غلطی ہوگئی سرکار “وہ پیروں میں گر گیا حیدر نے لات سے پیچھے کیا

“آپ لوگ کیا کہتے ہیں کے کیا جائے “باقی ارکان سے پوچھا

“سائیں قانون تو یہی ہے جس نے برباد کیا وہی آباد کرے اسے گھر میں “

“منشی جی اور سکینہ بی بی آپ کو قبول ہے یہ نکاح کا فیصلہ “منشی جی رو دیے مگر سکینہ اٹھ کھڑی ہوئی ٹانگے کانپ رہیں تھی دل لرز رہا تھا مگر آج نہیں تو کبھی نہیں

“مجھے قبول نہیں ہے یہ سمجھوتہ سرکار نہہی ہے ،ظلم نہ کرے خدا کے لئے “وہ ضبط نہ کر سکی روتے روتے بولی

چے مگوئیاں شروع ہوگئیں ،سب کو چپ کرایا گیا

“مولوی صاحب !”حیدر نے موجود مولوی صاحب کو مخاطب کیا “لڑکی کئ رضا کے بنا نکاح جائز ہے ؟”

“ممکن نہیں سرکار نکاح کا اپنا تقدس ہے “

“زنا بلجبر بدکرداری کے زمرے میں آتا ہے کے نہیں “

“آتا ہے سرکار “

“اور بدکردار کو گاؤں میں کاری کیا جاتا ہے ،چونکہ دانیال گناہ قبول کر چکا ہے سردار کی حثیت سے میں سردار حیدربخت پنچایت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے دانیال کو کارو کرنے کا حکم دیتا ہوں “

فیصلے پر سناٹا چھاگیا

دانیال کھڑے قد سے گرا تھا غرور اکڑ چکنا چور ہوگئی تھی وہ عبرتناک انجام کو پہنچا تھا

کون کیا بول رہا تھا حیدر کے کانوں میں محض سکینہ سے کی گئی ملاقات کے جملے گونج رہے تھے جو رائنا کے سمجھانے پر کئ تھی

“اندر سے وہ مار چکا ہے آپ باہر سے مار دیجیے سرکار ،کاری کردیں مجھے پر اس سے بچا لیں “اسکی سسکیاں دل لرزانے والی تھیں

وہ مزید سکینائیں نہیں دیکھنا چاہتا تھے اس کے لئے دانیال کئ سزا ضروری تھی

💖————💖

“کیسی ہیں امی ؟”وہ امی سے محو گفتگو تھی

“بلکل ٹھیک بیٹا تم بتاؤ سب ٹھیک ہے ؟”

“جی شکر ہے خالہ دادی کا مسلہ حل ہوا ؟”خالہ دادی کو انکے بیٹے نے واپس نہیں بلایا تھا اب وہ ضد میں رائنا کے والدین کے گھر کے ساتھ بنے چھوٹے پورشن میں شفٹ ہوگیں تھی” سمجھتے ہیں ماں کمزور ہے اکیلی نہیں رہ سکتی ارے جب میاں کے بعد پال سکتی ہوں تو اولاد کےبنا رہ بھی سکتی ہوں” وہ بھی ضد پر اڑی تھیں

“کہاں بیٹا وہیں کے وہیں معملہ ہے کوئی نوکرانی ٹکتی نہیں ہے “

“اوہ”

فون رکھے بھی وہ اسی سوچ میں تھی اسے حیدر کی بات ہاد ائی خالہ دادی کو کسی ایسے کی ضرورت تھی جو خود مجبور ہو ،دماغ تانےبانے جوڑنے لگا کل ہی تو زکہاں نے سکینہ کے ساتھ ہونے والے برے سلوک کا بتایاتھا منشی جی کی وفت کے بعد زندگی اس پر تنگ ہوگئی تھی

💖————💖

“میں تمہارے لئے بس یہی کر سکتی ہوں کے تم کو تعلیم اور شیلٹر دے سکوں ،اب اپنے اچھے برے کئ تم خود ذمدار ہو ” یہ رائنا کے اسکو خالہ دادی کے پاس بھیجوانے سے پہلے کے الفاظ تھے جو اس نے پلو سے باندھ لیے یہی الفاظ حیدر نے اسکے چھوٹے بھائی کو سمجھاے تھے “میں تمہاری خبر گیری کرتا رہوں گا آپا “وہ اسے دلاسا دے کر گیا تھا

خالہ دادی کافی مشکل خاتون ثابت ہوئی تھی مگر بعد میں اسکا رات کو نیند میں چیخنا ان پر بہت کچھ افشاں کر گیا تھا وہ اب سراپا ماں تھی اس کے لئے وہ ان کو مرحوم پوتی کئ یاد دلاتی تھی

گو اسے اب باہر نکلتے خوف آتا مگر وہ یونیورسٹی جاتی تھی تعلیم کا موقع نہ بار بار ملتا ہے نہ سب کو ملتا ہے وہ جان گئی تھی یہی اسکی بقا کا زریعہ تھا دنیا میں

💖————💖

چند ماہ بعد

وہ بیڈ پر بیٹھے تھے جب بھابھی آمنہ چلی آئیں انکے دستک دینے پر حیدر کئ نگاہ پڑی” آئیے بھابھی”

“وہ میں بڑی سرکار کے لیے فروٹ لائی تاھی سوچا تھا زبردستی پورا کھلاونگی اب وہ کہاں ہیں” جب سے twins کا پتا چلا تھا آمنہ اور بی اما ا نے رائنا کو ہتھیلی کا چھالہ بنالیا تھا

آمنہ کئ بات پر وہ مسکراے (بھلا کھانے کے لئے اسے زبردستی کئ ضرورت ہے )”باتھ روم میں ہے وہ “

“چلیں پھر میں یہاں رکھ دیتی ہوں “وہ کہتی چلنے کو ہوئی

“شکریہ بھابھی “انہونے کہا تو وہ مسکرا تی چلی گئی

“یہ بھابھی آمنہ لائی ہے “وہ آئی تو حیدر نے بتا یا

“بہت خیال ہے انھے میرا بھوک بھی لگی تھی وہ کتاب اٹھاتی سیب کھاتی بولی (مجھے پہلے ہی پتا تھا پیٹو لڑکی )وہ دل میں سوچتے ہنسے

“آپ خود نظر لگا دیں گے میری صحت کو ” وہ ان کے ہنسنے پر مشکوک ہوئی

“ویسے مجھے تمہیارے اور بھابھی کے تعلقات دیکھ خالہ دادی کی بات صحیح لگی کےتم دونو کے تعلقات قابل رشک سے زیادہ قابل شک ہیں یقین نہیں اتا اتنی دوستی اصل میں ہے یا ڈرامہ کر رہی ہیں دونوں “

اس نے گھورا

“خالہ دادی تو اور بھی بہت کچھ کہتی ہے بتاوں ایک ڈیمانڈ ہے ان کی ؟”

“کیسی ڈیمانڈ “

“وہ ایک بچے کو گھٹی خود د ینگی ” اس نے بتایا

“یہ کیا ڈیمانڈ ہے ؟اس سے کیا ہوگا “

“کںفرم تو نہیں پتا مگر بچا شاید گھٹی دینے والے کئ عادات پاتا ہے “وہ کندھے اچکاتے بولی

“آئی کانٹ ٹیک دس رسک نہیں دینے دینا کچھ بھی کرکے “وہ فورا سے بولے پھر اس کے متوجہ نا ہونے پر کتاب چھینی

“میتھ کی بک” وہ حیران تھے

“ہاں جدید ریسرچ کے مطابق پریگننسی کے دوران بچا چیزیں سیکھتا ہے اسی لیے ایسی activities کرنی چاہیے جس سے بچے کا ذہن شارپ ہو ” وہ سنجیدگی سے بولی

حیدر کا ہنس ہنس کر برا حال تھا پھر اسکا منہ بنتا دیکھ ہنسی روک کر ساتھ لگایا “یار بیوی تمہیں بھی گھٹی خالہ دادی نےدی تھی کیا” وہ زچ ہوئی

💖————💖

“فلک بیٹا تم دیکھنا ایک دن تمہارے سعود بھائی کو میچ ضرور ملے گا ریزیڈنسی بھی اچھی ھوگی ” وہ سکائپ کرتا برتن دھو رہا تھا

“اتنی لمبی فیلڈ ہے آپ کی اسی لئے میں نے acca چوز کیا “

“بچے آسان کچھ بھی نہیں ہے یہ چھوڑو منگیترجی کہاں ہے “

“وہ آرڈرز تیار کر رہی ہے “شہرینہ نے سعود اور فلک کے مشورے پر کھانا سپلائی کا کام کیا تھا شروع جو اچھا جا رہاتھا

فلک نے شہرینہ کو فون دیا

“ہاے باورچن “وہ اسے اپرین میں دیکھ ہنسا

“ہاے ویٹر “وہ بھی بدلہ اتار گئی کے سعود فلحال جاب لیس تھا اور پارٹ ٹائم ویٹر کی جاب کرتا تھا جو یو ایس میں نارمل سی بات تھی فلک ان دونو کو نوک جھوک کرتا دیکھ مسکرا کر چلی گئی

شہرینہ اور سعود کی منگنی اس کی اور ماموں کی کوششوں کا نتیجہ تھی “امیاپ یقینا خوش ہوں گی اب “وہ اکثر سوچتی کل کیناور اج کی زندگی میں بہت خوشگوار فرق تھا گو اب بھی مسئلے تھے مامی بھی مزاج کی تیز تھیں مگر یہ پرابلم ان پرابلم سے کم تھیں جو وہ جھیل چکی تھیں

انہیں پرانے پڑوسی کے ذریعے ابا کا پتا چلا تھا وہ معافی مانگنا چاہتے تھے جب سعود نے انہیں بتایا تو دل دکھی ہوا ابا جیسے تھے تھے تو باپ مگر دونوں نے ملنے سےانکار کر دیا وہ ماضی سے تعلق توڑ چکیں تھیں “معاف کرچکے ہم انہیں مل نہیں سکتے” یہ ان دونوں کا پیغام تھا جو سعود نے پڑوسی کو پینچادیا تھا( فون پر) وہ باپ حقیقتا بدنصیب تھا جس نے خود گھر ائی رحمت بیچی تھی

💖————💖

چند ماہ بعد

وہ اپنے ارد گرد کھڑے ہنستے چہروں کو دیکھ رہی تھی کتنا خوش تھے سب ،اسکے اپنے چہرے پر ممتا کا نور بکھرا تھا جنّت جو قدموں تلے آگئی تھی

اس نے حیدر کو دیکھا جو مسلسل اسکا ہاتھ تھامے تھے اس نے ازیت سہ کر انھے ایک بیٹا اور بیٹی سے جو نوازا تھا

“حیدر میا ں “خالہ دادی کی آواز پر انکی توجہ رائنا اور بچو سے ہٹی

“ان میں سے ایک کو گھٹی دے ہی دی میں نے “وہ مزا لیتے بولیں

“کونسے کو ؟”(شٹ کیسے ہوگیا یہ )

“اب بھوجتے رہے “وہ اترا کر بولیں تو سب ہنس دیے

💖————💖

وہ دونو اس قت بچوں کے ساتھ اکیلے تھے ورنہ ھر وقت کوئی نہ کوئی ہوتا

وہ آنکھیں موندے نیم دراز تھی جب حیدر نے پیار سے اسکا ماتھے پر بوسہ دیا

“تھک گئیں جانم “ان کی فکر پر وہ مسکرائی وہ اب بچوں کو دیکھ رہے تھے “کتنے پیارے ہیں چھوٹے چھوٹے سے ،میری بیٹی زیادہ پیاری ہے ویسے “وہ بولے

“دونوں زیادہ پیارے ہیں “اس نے ٹوکا

“ویسے کس کو دی ہوگی خالہ دادی نے گھٹی” ان کا تجسس ہنوز قائم تھا

“آپ بھی نا حیدر خواہ مخواہ سیریس لےرہیں ہیں اس بات کو “

“چلو سوجاو پھر یہ اٹھ جائیں گے “وہ بولے اورلیٹنے کی تیاری کرنے لگے

وہ تذبذب میں تھی “حیدر مجھے ایک ضروری بات کرنی ہے؟ “

اس کے لہجے نے انہیں چونکا دیا