Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh NovelR50439 Intezaar Ishq Episode 11
Rate this Novel
Intezaar Ishq Episode 11
Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh
ماضی
حیدر غیض وغضب کی تصویر بنے عدالت لگائے بیٹھے تھے اور پھوپھی اماں ان کے سپوت بی اماں زاہد ایاز سب موجود تھے۔۔۔۔
“ہمیں جب دوسرے قبیلے والوں نے اطلاع دی ان دونو کے بھاگنے کی تب انہونے بتایا کے وہ لڑکا یعنی ان کا بھائی اپنا فون یہں چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔ جس میں آخری دو ہفتوں کے کال ریکارڈز کے مطابق صرف ایک ہی نمبر سے رابطہ کیا گیا تھا۔۔۔ اور وہ اس لڑکی رائنا علی کا تھا۔۔۔ اور رائنا ہوسٹل کے نام سے محفوظ تھا وہ لوگ اس لڑکی کو پکڑنا چاہتے تھے۔۔۔۔ اور ہر جانے کے طور پر اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔
مگر ہم نے ان سے ایک معاہدہ کیا کے پہلے ہم اس لڑکی سےپوچھ گچھ کرینگے۔۔۔۔ اور سندس کا پتا چلانے کے بعد لڑکی ان کی پھر جوچاہے۔۔۔۔”
ابھی ہاشم کے الفاظ منہ میں ہی تھے۔۔۔۔ کہ ایک زوردار لات سے حیدر نے اسے دور پھینک دیا۔۔۔۔
پھر بالوں سے پکڑ کر اٹھایا ساتھ بہادر کو آواز لگائی جو انکا دست راز تھا۔۔۔
“یہ ہاشم سائیں اور فرہاد دونوکو لے جاو اور کوٹھری کی سیر کراؤ۔۔۔۔ اور ایسے ہی کرانا جیسے مجرمو ں کو کرائی جاتی ہے۔۔۔۔” ایک ایک لفظ پر زور دیتے بولتے دوبارہ پٹخا گیا۔۔۔
“پھپھی اما اور بھابھی صاحبہ آپ انہیں لےکر جاؤ رضیه حویلی کے کسی کمرے میں نظر بند کر دو اور یاد رہے کے کسی قسم کی سہولت فراہم کرنے کی ضرورت نہیں کمرے میں بان کی چارپائی ایک پنکھا بہت ہے اس سے زیادہ کچھ نا ہو پنچایت بیٹھنے تک جاری رہے یہ “
“حیدر۔۔۔” بی اما نے ٹوکنا چا ہا۔۔۔
“بات اصول کی ہے بی اما۔۔۔” وہ قطیعت سے بولے۔۔۔
“کچھ سوال تو آپ کے لئے بھی ہیں۔۔۔ آپ کو نائب رکھا آپ کی سمجھ بوجھ پر بھروسہ کیا پھر یہ سب کیوں ہوا ؟”
“مجھے بتاے بنا میری آنکھوں میں دھول جھونک کر لے آئے تھے۔۔۔ وہ تو مجھے شک ہوا کے کہاں گئی ان کی غیرت کیسے خاموش ہے۔۔۔ بہن کے کارنامے پر جاسوسی کرائی تو راز کھلا لڑکی کو اپنی چھوٹی حویلی کے تےخانے میں رکھاہے۔۔۔۔ پر تب تک معملا الجھ چکا تھا اب لڑکی کو چھڑاتی تو مخالف قبیلہ ٹوٹ پڑتا اس پر”
“اسے حبس بے جا میں کیوں رکھا “
“تم اس کے چہرے کی معصومیت پر نا جاؤ ،بہت کوئی تیز چیز ہے اتنی قید ظلم تشدد کے باوجود اکڑ دیکھنے والی تھی،مجھے لگا اسے چھوٹ دی تو اکڑ جائے گی میڈیا تک نا پہنچ جائے۔۔۔۔ گو کے اس میڈیا کو مٹھی میں رکھنا جانتے ہیں ہم مگر کسی کو اتنا سر اٹھانے ہی کیوں دے۔۔۔۔ مگر اس کے بعد تشدد رکوادیا تھا میں نے جو اس پے روا تھا اس کی عزت کی حفاظت کی ورنہ ہاشم تو۔۔۔۔”
حیدر نے دکھ سے رعونت ملاحظہ کی ۔۔۔
“مجھے نرمی سکھا نے والی کا دل ایسا پتھر کب ہوا اتنی رعونت” دل ہی دل میں سوچا۔۔۔
“بہرحال ! یہ ظلم اس لڑکی پر ہوا ہے اور یہ ہاشم اور اس قبیلے کا گھٹیا پن تھا۔۔۔۔ ورنہ لڑکی صاف بےقصور ظاہر تھی سب نظر آرہا تھا کہ اسکو پھنسا کے گئے ہیں ورنہ ایسے ثبوت کون چھوڑتا ہے۔۔۔”
اب کے زاہد نے لب کشائی کی۔۔۔
“ہمم ایسے ان میں سے کوئی نہیں بچے گا مگر غلطی بی اما سے بھی ہوئی ہے۔۔۔۔ آج کے بعد سے تین ماہ تک آپ کوئی معاملے میں دخل نہیں دینگی۔۔۔۔ نا ہی عورتوں کی بیٹھک کے مسائل دیکھیں گی۔۔۔۔ میری غیر موجود گی پنچائت بیٹھ سکتی ہے۔۔۔ وقتی بے ضرر سزا دے سکتی ہے۔۔۔۔ مگر آخری فیصلہ میرا ہوگا میرے آنے پر ہوگا۔۔۔”
وہ کہتے وہاں سے نکلتے چلے گئے۔۔۔۔
————![]()
رائنا کو ہسپتال سے واپس حویلی لے جایا گیا۔۔۔۔ وجہ وہ مخالف قبیلہ تھا بھابھی آمنہ اسکی کافی دیکھ بھا ل کر رہی تھی۔۔۔ دوسری جانب مخالف قبیلے نے طوفان برپا کیا تھا۔۔۔ انکی ڈیمانڈ تھی کے رائنا کو انکے حوالے کیا جائے دوسری جانب رائنا کے والدین الگ بحال تھے۔۔۔۔ ایاز نے انسے معذرت کے ساتھ ساتھ رائنا کی حویلی میں موجودگی اور مخالف قبیلے کی ڈیمانڈ بھی بتا دی تھی۔۔۔۔ حیدر خود معذرت کرنے گئے تھے وہ بےبس اور مجبور لوگ تھے۔۔۔۔ انکے لیے یہی بہت تھا کے انکی بیٹی زندہ ہے۔۔۔۔ عزت سے ہے اور محفوظ ہاتھوں میں ہے۔۔۔
“مجهے میری بیٹی کا قصور بتاؤ بیٹا کیا عزت رہ گئی اسکی۔۔۔ کیسے سامنا کرے گی سب کا کس کس نے وہ تماشا نہیں دیکھا کیا کیا رشتےدار بول کے گئے میری معصوم بچی کے بارے میں۔۔۔”
رائنا کے والد علی صا حب رو پڑے۔۔۔۔
حیدر بھاری دل لئے وہا سے اٹھے۔۔۔۔
مخالف قبلے نے پنچا یت کا مطالبہ کیا انکا کہنا تھا کے رائنا انکے حوالے کی جائے انکا نقصان ہوا ہے انکا بیٹا ایک لڑکی کے پیچھے چلا گیا۔۔۔۔
پنچآیت بیٹھی رائنا کے والد بھی شامل تھے۔۔۔
“میں کسی صورت لڑکی انکے حوالے نہیں کرونگا” حیدر دو ٹوک بولے۔۔۔
“ٹھیک ہے پھر آپ لڑکی کو آزاد کردیں یہ جانے اور لڑکی کے گھر والے۔۔۔” مخالف قبیلے سے ہی کسی نے تجویز پیش کی۔۔۔
“دیکھے حیدر آپ سر پنچ ہے مگر فیصلے میں پنچا یت کے باقی ارکان کی رضا مند ی شامل ہونی ضروری ہے۔۔۔۔”
“شرع کی رو سے بھی آپ کو اسے تحو یل میں رکھنا ٹھیک نہیں “
” کیا شرع کی رو سے لڑکی کو حبس بے جا میں رکھنا جائز ہے یہ کس شرع کے تحت لے جانا چاہتے ہیں “
حیدر کی آواز بلند ہوئی تو ایک منٹ خاموشی چھا گئی۔۔۔۔
“ہمم نکاح کرایں گے اسکا اپنے بڑ ے بیٹے سے۔۔۔۔” مخالف قبیلے نے اپنے بڑ ے سپوت کو پیش کیا جو رائنا سے دگنی عمر اور دو بیویوں والا تھا۔۔۔۔
،”بولئے حیدر سرکار کیا جواب ہے اپکا اگر نا ہے تو آپ کرینگے نکاح اس لڑ کی سے بولئے۔۔۔” وہاں سے پتا پھینکا گیا۔۔۔۔
“علی احمد صاحب میں آپ سے اس پنچایت کے سامنے آپ کی بیٹی کا ہاتھ مانگتا ہوں۔۔۔” حیدر نے ایک نگاہ سب پر ڈالی۔۔۔
علی صاحب نے ایک نظر حیدر کو اور دوسرے لوگو کو دیکھا۔۔۔”
منضور ہے۔۔۔۔ وہ جانتےتھے کے اگر پنچا یت جانے بھی دے تب بھی مخالف قبیلہ انہیں نہیں چھوڑے گا انکی رائنا اب صرف حیدر کے ساتھ ہی محفوظ تھی۔۔۔
————![]()
آناً فانا ً نکاح کی تیاری ہوئی رائنا نے بہت احتجاج کیا۔۔۔”
وہ سب ایک جیسے ہے امی یہ کیسا انصاف ہے ہم رپورٹ کرینگے “
“کوئی فائدہ نھی رائنا وہ مخالف قبیلا نہیں چھوڑے گا تمہیں ،وہ لوگ بہت طاقتور ہم نہیں کر سکتے مقابلا۔۔۔۔ ہاں حیدر ضرور کر سکتا ہے۔۔۔ مکھیا ہے وہاں کا کوئی آنکھ نھیں اٹھاۓ گا۔۔۔۔ دیکھو رائنا تمہارا باپ نے حامی بھرلّی اب انکار کی صورت میں انسے بھی دشمنی نہیں۔۔۔ بچی ہاں کردو ہم اور حیدر دونو نے یہ قدم تمہاری حفاظت کے لئے اٹھایا ہے “
وہ بےبس مجبور ہوگئی تھی یہ تو وہ بھی جان گئی تھی کے یہاں سے بچے تب بھی وہ دوسرا قبیلہ اسے نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔
“بابا آپ کیسے مان گئے ” اس نے شکوہ کناں نظروں سے باپ کو دیکھا پھر انکے چہرے پر لکھی مجبوری پڑھ لی۔۔۔۔
اسکے سر جھکانے نے علی صاحب کے کندھے جھکا دئے اگر اسکو خطرہ نا ہوتا تو وہ کبھی حامی نا بھرتے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھے انہونے آنسو ضبط کیے
————![]()
حیدر نے بی اماں کو کیسے منایا یہ ایک الگ کہانی تھی ایک تو وہ خود اس قصے میں شامل تھیں پھوپھی اماں نے اپنے بیٹوں کو رائنا کو لانے کے بعد انہیں خبر کی تھی۔۔۔ وہ حیدر کی آمد سے قبل یہ معاملہ نپٹانا چاہتی تھیں۔۔۔ دوسرے وہ حیدر کی چاہ دیکھ چکی تھیں اسلئے مخمل میں ٹاٹ کے پیوند پر رضامند ہوگئیں(ان کی دانست میں) ان کے بھائی کی پہلی شادی بیس سال میں ہوئی تھی اور ایک سال بعد ہی ہی اہلیہ وفات پاگئیں۔۔۔
وہ بیچاری دل کی مریضہ تھی گو کے حیدر کو اس سے ایسی محبت نا تھی مگر وہ رشتوں کو نبھانے والے شخص تھے۔۔۔۔ اس سے مخلص تھے اس کے بعد سے انھونے پھر کسی کو شامل نہیں کیا مگر آج انکی آنکھوں میں اس لڑکی کے لئیے فکر دیکھ وہ ٹھٹکی تھی۔۔۔۔ حیدر نے پھوپھی اور انکے بیٹوں کو گاؤں بدر کر دیا تھا۔۔۔
خاندان کے سرپرست کی حثیت سے سب کو پابند کردیا گیا تھا انکی مدد کرنے سے پنچآ یت نے انکی دو زمینے بھی ضبط کی تھیں جن میں ایک رائنا کے والد کو کفارہ کے طور پر دی گئی تھی علی صاحب راضی نہیں تھے مگر حیدر کے کہنے پر ماننا پڑا۔۔۔
رائنا قسمت سے روٹھی ما ں باپ سے نالا حیدر کے نکاح میں حویلی آگئی۔۔۔۔
————![]()
درجًا بھر رسمیں ہوئیں اسکے بعد اسے حیدر کی خواب گاہ میں لے جايا گیا۔۔۔۔
سب کے جانے کے بعد اسنے اس شاندار کمرے کا جائزہ لیا کافی کشادہ کمرہ تمام سہولیات سے آراستہ پیراستہ تھا۔۔۔ بلیک اینڈ وائٹ کی تھیم سے سجا یہ کمرہ قیمتی جدید فیشن کے فرنیچر سے سجا تھا سامنے کی دیوار پر بڑا سا lcd تھا۔۔۔ دیواروں پر خوبصورت پینٹنگ تھی مختلف نواردات نے کمرے کی خوبصورتی میں اضافہ کیا تھا۔۔۔
وہ جائزہ ہی لے رہی تھی جب دروازہ کھلا اور بھاری قدمو کی آہٹ ہوئی۔۔۔
حیدر دھیمی چال چلتے اس کے قریب جا بیٹھے۔۔۔ جو ڈیپ ریڈ اون ریڈ کومبینشن کے عروسی لباس میں سلیقے سے کیے گئے میک اپ جس میں سرخ لپ کلر ہی نمایاں تھا۔۔۔ اس کے بال بمشکل کندھو تک اتے تھے۔۔۔ اس نے ایکسٹینشن بیوٹیشن کو لگانے دی نہیں تھی۔۔۔ تو اس نے بلو درائے کرکے اس کے فل لیرز میں کٹے بالوں کو سیٹ کر کے آگے کے بالو کا فرینچ ہیڈ بینڈ بنادیا جو اس پر بہت سوٹ کررہا تھا۔۔۔ بھاری طلائی زیور نے اس کو چاند لگا دیے تھے۔۔۔ گھونگٹ وہ پہلے ہی ہٹا کے بیٹھی تھی۔۔۔ اب ان کی نظریں اس کے چھکے چھڑا رہی تھیں۔۔۔ اس نے بمشکل ان کے سلام کاجواب دیا۔۔۔
حیدر نے ایک ہاتھ سے اس کا چہرہ اٹھایا
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔” گمبھیر اواز میں بولتے وہ اب اس کا ہاتھ تھا م چکے تھے۔۔۔ اب اس کے ہاتھ کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے۔۔۔
“مہندی نہیں لگوائی تم نے۔۔۔” وہ سرسریسا پوچھ رہے تھے۔۔۔۔ رائنا کو اس نارمل برتاو نے مشکوک کر دیا اسے گھبراہٹ نے آ گھیرا اس نے بے چینی سے۔۔۔۔ ہاتھ کھینچا تو انہونے گرفت مظبوط کرتے اس کو تھوڑا قریب کیا۔۔۔
“اس میں اتنا گھبرانے کی کیا بات ہے۔۔۔ شادی کی پہلی رات ہے۔۔۔ ہماری اپنی بیوی کو نہیں تو کسے سراہوں گا۔۔۔۔” پھر اس کی متحوش شکل دیکھی تو مزید گویا ہوئے۔۔۔۔
“شادی جیسے ہوئی اسے بھول جاو اب ہوگئی یہ یاد رکھو اب میرے ساتھ ہی رہنا ہے۔۔۔ یہ شادی نا کوی کونٹریکٹ ہے نا سمجھوتا باقاعدہ نکاح ہوا ہے ہمارا۔۔۔۔ جب تمہیں پہلے دیکھا تھا تب سے میرے دل میں تمہاری تصویر ہے۔۔۔۔ اور تب تم سے دستبردار ہوگیا تھا۔۔۔ ہمارے بیچ موجود فرق کو سوچ کر تمہارے لیے۔۔۔ مگر اب جب خدا نے خود تمہیں سونپ دیا تو اب دستبرداری کا سوال نہیں ہے”
“مجھے وقت چاہیے ،اس ۔۔۔ اس رشتے کو سمجھنے کا بہت الگ الگ ہے سب” وہ آخر کار بول پڑی۔۔۔۔
“آپ میری بات سمجھ رہے ہیں نا حیدر۔۔۔”
“حیدر ” زیر لب دہرا کے وہ چونکے۔۔۔۔
یہاں بیویاں سائیں بلاتی ہے شوہر کو۔۔۔ تمہارے لبو پر میرا نام مگر خوب جچ رہا ہے۔۔۔ جان حیدر۔۔۔۔” اور اس کے ہاتھ کو ہلکا سا دبا یا۔۔۔
“باقی باتیں بعد میں میں ذرا فریش ہو لوں “
اسکی فرمائش کو اگنور کرتے وہ باتھ لینے چل دیے۔۔۔۔
وہ پہلے تو کافی دیر ہکا بكا رہ گئی یہ ایمرجنسی شادی پھر یہ محبت کا اظہار اس کا دماغ ماؤف کر گیا۔۔۔ وہ خود کو سنبھالتی اٹھی پھر چلتی ڈریسنگ ٹیبل تک آئی سامنے آئینہ میں اپنا سجا سنور ہ وجود اسے اپنا منہ چراتا لگا اسنے غصے سے ہاتھ بڑھا کر earrings اتار نے لگی کے اچانک حیدر باتھ روم سے واپس آگئے وہ اسے نگاہ میں قید کیے اسکے قریب آئے۔۔۔
اور اسکا earrings اتارتا ہاتھ تھام لیا۔۔۔
“ایسی بھی کیا جلدی ہے “اسکے گال پر ہاتھ پھیرتے گویا ہوئے۔۔۔
“پلیز “رائنا نے مزاحمت کرتے ہوئے انکا ہاتھ ہٹانا چاہا۔۔۔
“آیندہ میرا ہاتھ نہیں جھٹکو گی تم۔۔۔” وہ اسکا ہاتھ پکڑتے قدرے سخت لہجے میں بولے۔۔۔۔ پھر اس کی سراسیمگی کا ملاحظہ کیا تو اسے آہستہ سے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے رکھی کرسی پر بٹھا دیا اور خود اس کے سامنے دوزانو ہوئے رائنا مزید سٹپٹائی۔۔۔۔۔
“جانتا ہوں پریشان ہو سب کچھ الگ ہے غیر متوقع ہے تمہیں سمبھلنے کو وقت درکار ہے۔۔۔ نو پرابلم بس یہ یاد رکھنا کے جتنا جلدی سمجھو گی اتنا بہتر ہے تمھارے لئے۔۔۔ تم میرے لئے کیا ہو بتا چکا ہوں قدر کرو گ تو فائد میں رہو گی۔۔۔۔ میری محبت کا جواب محبت سےنا سہی مگر وفا سے دینا دل میں جگہ دی ہے۔۔۔ تمہیں زندگی کے ساتھ ساتھ۔۔۔ “
وہ اب اسکا گال سہلا کر کہتے اسے آہستہ سے گرفت سے آزاد کر گئے۔۔۔
اور آگے بڑھ کر اسے خوبصورت سا ڈائمنڈ لاکٹ پہنایا۔۔۔
” یہ پہنے رکھنا ،جاؤ چینج کرلو” انہونے اسکا گال چھوتے کہا اور پیچھے ہٹ گئے۔۔۔۔
رائنا کی رکی سانسیں بحال ہوئیں وہ چینج کرکے آئی تو وہ سلیپنگ سوٹ میں بیڈ براجمان تھے۔۔۔۔ اسنے بیڈ سے تکیہ اٹھایا
“کدھر جا رہی ہو، تمہیں اس لئے نبھلنے کلئیے وقت دیا ہے رشتہ کمزور کرنے کیلیے نہیں اسلئے اپنی جگہ پر آؤ “
انہونے اسے ہاتھ سے پکڑ کر بٹھا لیا رائنا پیچ و تاب کھاتی لیٹ گئی وہ اس قید کے بعد سے اکثر ڈرتی جاگتی رہتی تھی۔۔۔ یا کبھی سوتی امڈر کر اٹھ جاتی تھی اس لئیے نیند کی گولیاں لیتی تھی یہ بات انہیں بھابھی آمنہ نے بتائی تھی ابھی بھی ان کے آنکھیں بند کرکے لیٹ جانے کے بعد وہ گولیاں ڈھونڈ نے اٹھنے لگی کے تبھی حیدر نے اس کا ہاتھ تھام کر روکا۔۔۔
:کیا چاہئیے۔۔۔؟”ان کی بھاری آواز گونجی۔۔۔
“ٹیبلیٹس۔۔۔”یک لفظی جواب آیا۔۔۔
“کیو۔۔۔؟”انہونے آبرو اچکائے اسے دیکھا۔۔۔
“نیند نہیں آرہی “وہ اتنے سوال جواب پر بیزار ہوئی۔۔۔
“آج جائے گی “
کہتے اچانک انہونے اسکے سر کے نیچے ہاتھ ڈال کر قریب کیا۔۔۔
ریلکس !سو جاؤ۔۔۔” بھاری آواز میں حکم صادرکیا گیا۔۔۔
“ایسے نہیں سو پاؤں گی “وہ بچارگی سے بولی ۔۔۔
” تم ویسے بھی نہیں سو پا رہی تھیں ایسے ڈرو گی نہیں اور سو بھی پاؤ گی آنکھیں بند کرو اور عادت ڈال لو۔۔۔” کہتے انہوں نے آنکھیں مونڈھ لی۔۔۔
گزرے دنوں میں اسے اندازہ ہوا کہ اپنی خواہش کے بغیر سمجھو تا کرنا کتنا مشکل ہے۔۔۔۔ بی ما اسے اکثر آڑے ہاتھو لیتی کے اسکا ناخو ش روٹھا انداز انہیں کھلتا تھا۔۔۔ وہ آمنہ اور گل رخ کی طرح اطاعت گزار نا تھی۔۔۔ نا ہی حیدر اسکی زندگی کا محو ر تھے۔۔۔ صرف حیدر کی وجہ سے وہ اسے زیادہ ٹف ٹائم نا دے سکتی تھی۔۔۔۔
وہ حویلی کے رواجو ں سے گھبراتی تو کبھی حیدر کی گہری نگاہوں سے۔۔۔ اس کا دل اس محبت پر اعتبار کے لیے تیار نا تھا۔۔۔ وہ گو مگو کی كفيت کا شکار تھی اسے اب تک اس جگہ کے تقريبن ہر شخص سے خوف آتا تھا۔۔۔
یہاں کے لوگو نے اسے نقصان ہی تو پہنچا یا تھا سندس سے لے کر بی اما تک نے کیسے بھروسہ کرتی اسکی زندگی الٹ گئی تھی اسکے خواب ٹوٹ گئے تھے ذہن اندیشوں سے پر تھا ایسے میں اسکا رویہ جائز تھا۔۔۔
حیدر فطرا تا ً بھی ڈومینیٹینگ تھے جس کی وجہ سے وہ اور گھبرا تی تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان دونو ں نے ہی ایک دوسرے کو سمجھنا شرو ع کیا اور ایک دوسرے کی جانب قدم بڑھاے۔۔۔
حیدر کی برتاؤ نے اسے حوصلہ دیا بھروسہ دیاجس کی وجہ سے وہ انکا ہاتھ تھام کر رشتے میں آگے بڑھ گئی۔۔۔۔
رشتےکی بقا ء دونوں فریقین کے ہاتھ میں ہوتی ہے دونوں کو ہی ایک دوسرے کی خواہئش کا ا حترا م کرنا لازم ہوتا ہے صرف ایک فریق کی کوشش سے رشتہ رشتہ نہیں سمجھوتہ بن جاتا ہے وہ دونو ہی اس رشتے کو جی کر گزا رنا چاہتے تھے
————![]()
حال۔۔۔
شرجیل بی اما کی باتوں کو کانوں میں اڑاکر وہاں پہنچ گیا تھا اسنے شہرینہ کی رہایش کا انتظام اپنے گاؤں سے دو گھنٹے دور ایک علاقےمیں کر لیا تھا شہرینہ کے اعصاب پر بجلی گری تھی وہ بد بخت اپنی بہن کو بھی نا بتا پائی اور وہ درندہ اسے لے کر چلتا بنا وہ اس وقت گاڑی میں تھے۔۔۔۔
“جانتی ہے شہری تجھ سے محبت میں اپنی بی اما کی نا سنی بڑی عورتیں آئی بڑی عورتیں برتی مگر تجھ سا نا دیکھا کوئی ،یہ ماتمی شکل ٹھیک کر
” وہ اسکا دکھی چہرہ دیکھ آگ بگولہ ہوا اسکی تھوڑی کو سختی سے پکڑ کر جھٹکا۔۔۔
“کوئی خریدا ر اتنا لاڈ نہیں کرتا سمجھی ،مسکرا۔۔۔
“اسکے دھا ڑنے پر وہ مسکرائی انسو انکھوں کے گوشے بگھونے لگے دل اپنی حرماں نصیبی پر ماتم کناں تھا جبکے دماغ فرار کے تانےبانے بن رہا تھا۔۔۔۔
————![]()
وہ ان سے پیرسنگ والی بات پر خفا تھی ،وہ واپسی کے بعد سے مصروف تھے ہزار طرح کے مسائل تھے جنھے حل کرنا تھا مگر ایسے بھی دن نہیں آے تھے کے وہ اسکے بظاہر نارمل رویے کے پیچھے چھپا ناراض انداز نا جان پاتے ناشتے سے فارغ ہو کر وہ کمرے سے بیگ اٹھاتی نکل رہی تھی جب انہوں نے بازو تھا ما۔۔۔
“واپسی کب تک ہے آج ؟”وہ سیاہ بھنورہ آنکھیں اس پر مرکوز کیے پوچھ رہے تھے۔۔۔۔
“نائٹ ڈیوٹی ہے ” ہنوز روٹھا روٹھا لہجہ۔۔۔
“ایسے ناراض جاؤ گی ؟”قریب کرتے پوچھا گیا۔۔۔
“ناراض نہیں ہوں ” وہی انداز قائم تھا۔۔۔
“جھوٹ نہیں بولتے جا نم وہ بھی تب جب بولنا آتا نا ہو ” طنزیہ مسکراہٹ سجاے بولے۔۔۔
پھر اسکا نروٹھا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔۔۔
“یہ مجھ پر سوٹ نہیں کر رہی۔۔۔” دکھڑا رویا گیا۔۔۔
“یہ تم سے زیادہ کبھی کسی پر اتنا نہیں جچی ہوگی میری جان۔۔۔” پرحدت لہجے پر اسکے گالوں پر سرخی دوڑ گئی۔۔۔
“ہمم بس اب صلح ہوگئی۔۔۔ اپنا خیال رکھنا بہادر ساتھ رہے گا باہر گاڑی کھڑی رہے گی موبائل چارج رہے اور ہاتھ میں رہے سمجھی ،کال کرونگا تمہیں “
انہوں نے اسکے ماتھے پر محبت ثبت کیے ڈھیروں ہدایت دیں۔۔۔
وہ بھی ناراضی ختم کیے سر ہلاتی گئی۔۔۔۔
