406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 27

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

“ڈاکٹر نے کہا ہے حالت خطرے سے باہر ہے ،پر سر پر چوٹ لگی ہے اس لیے آج ایڈمٹ رہیں گی ٫رات کو وقتا فوقتاً چیک کریں گے وہ ابھی تو سی ٹی اسکین نارمل ہے ،کل ایک اور سی ٹی اسکین کرایا جائے گا اس کے بعد ہی چھٹی ملے گی “

حیدر آگئے تھے اس نے ان کو ساری تفصیل بتائی گاؤں میں موجود ہسپتال سے طبی امداد کے بعد آمنہ کو قریبی علاقے میں موجود ہسپتال میں لے آئی تھی بی اماں کے تو ہاتھ پاؤں پھولے تھے وہی تھی جس نے سب سنمبھالا تھا

شرجیل تو جانے کہاں بھاگا تھا

“بچوں کو اطلاع دیں گے ؟” اس نے پوچھا

حیدر نے نفی میں سر ہلایا دماغ ماؤف ہو رہا تھا

💖————💖

“بتا بہن کہاں ہے تیری بتا ؟”ہیرا فلک پر بری طرح چیخ رہی تھی

اس نے اس کا موبائل فون بھی چھینا اور پورے کمرے کی تلاشی لی مگر کچھ ہوتا تو ملتا

“اپپپی آپی کہاں گئی بائی کوئی لے گیا اسے ؟”فلک نے روتے بولا تو ہیرا کا دماغ بھی اس پر گیا ،وہ پوش علاقے میں” ہیر آنٹی ” تھی ،اہل علاقہ کی کمپلین پر بھی اس کا کام چوپٹ نا ہوا تھا یہ لڑکیاں ان کے باپ نے بدنام زمانہ علاقے کے مشہور کوٹھے پر بیچی تھیں وہیں سے یہ ہیرا بائی عرف ہیر آنٹی نے خریدیں تھیں ،انتہائی سیدھی اور حسین آج تک کوئی کوشش نا کی تھی انہوں نے بھاگنے کی وہ فلک کو گھورتی باہر کی جانب بڑھی

فلک نے اس کے جانے کے بعد کافی اطمینان کر کے

میز پر سجے چوڑے گلدان سے پھول ہٹا کر سپنج بھی ہٹایا اور اس کے نیچے چھپایا سعود کا دیا ٹکی پیک فون نکالا اب کن انکھیوں سے باہر دیکھتے اس کی انگلیاں جلدی جلدی سعود کو میسج بھیج رہیں تھی

“یا اللہ آپی خیریت سے ہو ،اسے بچا لے نا اللہ پلیز “دعائیں اس کے لبوں سے جدا نا ہورہیں تھیں

💖————💖

“استاد اے استاد !”وہ چیختی اپنا شوخ لباس چیختے میک اپ سے سجا تھل تھل کرتا وجود سنمبھالتی باہر گئی

“کیو چلا رہی ہو کچھ ملا اس کے پاس سے ہم نے آدمی دوڑائے رکھے ہیں جانے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا اس کو”

“ان لڑکیوں میں تپڑ نا ہے بھاگنے کا اور اب بھاگ کر کیا کرے گی وہ (شہرینہ )،یہ فلک تو چڑیا ہے چڑیا آواز اونچی ہوئی نہیں اور یہ روئی نہیں ،یہ لڑکیوں کا نہیں شرجیل بخت کا کام ہے دینے کو پیسے ہے نہیں تو دھونگ رچا دیے کمینے نے “اس نے دانت پیسے

“اچھا سن آ ج محفل میں رندھاوا صاحب آئیں گے ،یہ فلک کو پیش کردے “

“ایسے ہی پیش کر دوں پہلے صرف جھلک جھلک دکھا کے ترسا کے رقم بڑھاؤں گی ،تو جا زرا شرجیل بخت کا پتا کر مجھے تو اسی پر شک ہے شہری میں اتنا تپڑ کہاں “

اس نے کہا تو استاد سر ہلانے لگا

💖————💖

اس نے فلک کے میسجز دیکھے یعنی فلک پر گھیرا بھی تنگ ہوگیا تھا اور شہرینہ الگ غائب

“کہیں یہ شرجیل بخت کا ڈرامہ نا ہو” وہ حیدر کے ساتھ بیٹھا تھا جب رائنا کا فون آیا آگے کی بات سن حیدر اسے ایسے ہی بیٹھا چھوڑ بھاگے تھے

ایک طرفہ گفتگو اسے اتنا سمجھا گئی تھی کے ہو نا ہو یہ شرجیل سے ریلیٹڈ ہے

اس نے اس کے بعد کئی فون کیے حیدر کو جس میں ایک اٹھا لیا گیا اس کے استفسار پر ان کا جواب کچھ یوں تھا۔

“ڈھونڈ رہیں ہے اسے جب ملے گا بتا دوں گا ،اب وہ آپ کی کزن کو نہیں شک پہنچا سکے گا اس کی گارنٹی دیتا ہوں “وہ تپ کے رہ گیا (ہنہہ ملے گی تو زک پہنچائے کہحیدر نے نفی میں سر ہلایا

“بہت ہڑبڑی میں گیا تھا بڑا پریشان تھا ،امنہ کی حالت خراب تھی ہم وہیں لگ گئے وہ بھی کملی ہے نا مرد سے بھی کوئی الجھتا ہے اسے نہیں الجھنا چاہیے تھا “وہ روتے کہہ رہیں تھیں آخری بات نے حیدر کو انگاروں پر لٹا دیا

“آپ کو یاد ہے بی اماں جب وہ اسکول میں بچوں کو مارتا تھا اور ملازمین کو تنگ کرتا تھا آپ تب بھی یہی کہتی تھیں کے ان بچو کو اسے بھڑکانا نہیں چاہیے تھا اورمیں بھی مان جاتا تھا کے اگر اسے بھڑکاتے نا تو وہ مارتا نا،

پھر کچھ بڑا ہوا تو اس نے لڑکیوں کو ستانا شروع کیا ،اپ نے کہا ان عورتوں کو ایسے نہیں پھرنا چاہیے تھا میں بھی قائل ہوگیا

وہ ایک لڑکی سے جبرا شادی کر بیٹھا (شرجیل کی دوسری بیوی)آپ نے کہا اس کو پہلے ہی مان جانا چاہیے تھا ہم سب پھر قائل ہوگئے

ایسے ہی وہ غلطیاں کرتا چلا گیا اور غلطیوں سے گناہ آپ سب چیزوں کو قصوروار ٹہراتی کبھی انسانو کو تو کبھی حالات کو اور ہم قائل ہوتے جاتے ،اج احساس ہورہا ہے “جسے نہیں کرنا چاہیے تھا وہ شرجیل تھا “وہی قصوروار تھا اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور قصوروار ہے تو وہ آپ اور میں ہیں آپ نے اس کے گناہوں پر پردہ ڈالا اور میں نے آنکھوں پر پٹی باندھے آمنا صدقنا کہا

ہم ہیں اول گنہگار خطاکرا اور اسی لائق ہیں کے آج اس کی لاش بھی نہیں مل رہی ہمیں “وہ ایک لفظ پر زور دیتے رنج سے بولے آج پہلی بار بی اماں کے ضمیر نے انہیں لعن طعن کی اب جانے ان پچھتاوں نے کبھی دامن بھی چھوڑنا تھا یا نہیں

💖————💖

“توہ ایسے ہی منہ کھولے ٹوتھ پیسٹ سے بھرے منہ کا ڈسپلے لگائے کھڑا تھا جب وہ اسے دھکا دیتی اندر گھسی خود ہی ہکا بکا سعود کو اندر کھینچ کر دروازہ بند کیا

“تم غغغ “وہ اب بولنے کے قابل ہوا

“پہلے منہ صاف کر آؤں کلی کرکے “وہ نخوت سے بولی

وہ اسے گھورتا باتھ روم میں گیا واپس آیا تو اسے دیکھا جو اب اسکارف کھول کر پنکھے کے نیچے بیٹھی تھی

“دل چاہ رہا منہ پر کس کر چار تھپڑ لگاوں اور گنوں ایک ” وہ خونخوار ہوا

“پانی پانی پلاو پلیز”

سعود اس کے کہنے پر چڑ کر گلاس میں پانی بھر کر لایا اور میز پر دھرا وہ غٹاغٹ سارا پانی چڑھا گئی

” اب بکو بھی کچھ “زچ ہوکر پھر بولا

شہرینہ پر اسرار طریقے سے مسکرائی

“شرجیل نے اپنے ایک پالتو کتے(آدمی) کے ساتھ مجھے کوٹھے روانہ کیا اس سے پہلے یہ کام سیکیورٹی کے ساتھ کیا جاتا مگر آج پیلی ٹیکسی اور صرف ایک کتا میں ٹھٹک گئی ،اس سے پہلے بھی میں محسوس کر چکی تھی کے ہیرا بائی اور شرجیل کی ٹھنی ہے ،موقع اچھا تھا میں نے پہلے تو پرانے۔ فون اور سم کو توڑ پھوڑ کر ختم کیا تمہارے والا فون ساتھ تھا پر اسے بھی بند رکھا کے کہیں فلک سے اگر ہیرا نے تمہارا دیا فون چھین لیا تو میں پکڑی جاؤں گی اور سب چوپٹ “

“تم اس آدمی کو چکما دے کر کیسے بھاگیں “سعود کے سوال شہرینہ کو اس دن میں گھسیٹ کر لے گیا جس دن وہ فرار ہوئی تھی

جب اسے اپنے بھیجوائے جانے کا پتا چلا تو سب سے پہلے اس نے ایک چھوٹا پرس تیار کیا جس میں اس نے پیسے زیور رکھا اس نے چیک کیا اس کے برقع میں جیب تھی اگرچہ چھوٹی تھی پر کام کی تھی کپڑے اس نے وہ نئے پہنے جو اس دن شاپنگ مال سے لائی تھی یہ کپڑے کسی نے نا دیکھ رکھے تھے تھیلا بیگ نما شرٹ اور پلازو جس میں اس کی ساخت سمجھ میں نہیں آنی تھی دیگر چیزیں رکھ کر اس نے کام کی چیز نکالی “سرنج “وہ اب ایک دوا کی شیشی کھولے اسے بھرنے لگی یہ دوائی بھی اس نے فریدہ سے لکھوا کر اسی دن خریدی تھی اور سعود کے کہنے کے باوجود نہیں پھینکی تھی

اب اس نے سرنج کو برقع کی سائیڈ پاکٹ میں رکھا اور موبائل کو گریبان میں چھپایا

نقاب لگا کر وہ اطمینان سے گاڑی میں جا پہنچی،راستہ تھوڑا ہی کٹا تھا کے اس نے پانی کا شور مچا دیا ،جس جگہ یہ لوگ تھے دکان یہاں سے دور تھی آگے بیٹھے شرجیل کے چمچے فرید نے اپنی بوتل اسے پھینک ماری “لے پی لے “

“یہ نہیں کوک پیوں گی لادے نا “وہ ادائے ناز سے چمکار کر بولی اور نقاب گرادی ساتھ اسے آنکھ ماری وہ ہنسا اور ڈرائیور کو بولا “یہ لے پیسے لے اور لے کر آ جلدی”

پھر اس سے مخاطب ہوا “کیو دی بڑی ترنگ میں ہے تو”

“تیرے ساتھ جو ہوں ، آ پیچھے آجا نا “اس نے دانہ پھیکا

“پاگل ہوئی سائیں کو پتا لگا تو ہڈیاں سینک دیں گے تیری بھی اور میری بھی” آفر پرکشش تھی مگر جان کا بھی خوف تھا

” کون بتائے گا ؟”تو؟یا میں ؟یہ ڈرائیور کونسا جانتا ہے سائیں کو ٹیکسی والا ہے”وہ اکساتی بولی وہ بھی ایک سیکینڈ کو سوچا اور باہر نکل گیا شہرینہ گھبرائی کہیں فون نا کردے یہ مگر وہ واپس آگیا اور پیچھے کا دروازہ کھولا

“ڈرائیور کو مزید دور بھیجنے گیا تھا گاڑی بڑی صحیح جگہ رکوائی تو نے دکانیں دور ہیں یہاں سے ,میں مٹھی بھی گرم کر آیا اسکی (پیسے دے کر)”وہ خباثت سے بولتا اب اس کے نزدیک ہوا اور تبھی شہرینہ نے موقع تاک کر انجیکشن پوری قوت سے اسکے بازو میں گھونپ دیا دوائی کی اچھی خاصی ڈوز تھی وہ چیخ کر پیچھے ہوا

“——(گالی) یہ کیا کیا تو نے ” کہتے سر گڑبڑایا اور ہوش گنوا بیٹھا وہ باہر نکلی بیگ سے سامان لیا برقع وہیں اتارا تاکے پکڑی نا جائے آنکھوں پر کال چشمہ منہ پر ماسک اور سر پر جدید طریقے سے اسکارف لپیٹا وہ کافی مختلف لگ رہی تھی اس نے اگنیشن سے گاڑی کی چابی نکالی اور وہاں سے بھاگی ،کافی دور بھاگتے بھاگتے چند دکانیں اور رکشے نظر آئے اس نے سانس بحال کرتے رکشہ پکڑا اس نے رکشے والے کو اسی علاقے میں جانے کا کہا جہاں شرجیل نے اسے رکھا تھا۔ وہ جانتی تھیں وہاں یہ لوگ اسے نہیں ڈھونڈیں گے ،وہاں پہنچ کر اب مسئلہ تھا وہ اسی طرح چھپتی چھپاتی رہی اور آج وہ سعود کے دروازے پر تھی

ساری داستان سننے کے بعد وہ سر پکڑے بیٹھا تھا “تم مجھے بتا تو سکتی تھی “

“مجھے جس دن بھیجنا تھا ان لوگوں نے اسی دن انہوں نے بتایا تھا مجھے ،ایسے میں جو سمجھ میں آیا وہ میں کرتی گئی”

“اور تم کہاں رہیں ؟”

“ایک خاندان پر لندن پلٹ ظاہر کیا خود کو پیسے پکڑائے اور رہائیش حاصل کی”

“مان کیسے گئے”وہ ہنوز حیران تھا “اتنے لالچی لوگ سیکیورٹی بھی نہیں سوچی اپنی”

“مجبور مجبور لوگ “اس نے تصیح کی “غریب تھے دو بچے بیمار تھے پیسہ عیاشی نہیں ضرورت تھا انکی “

وہ تلخ ہوئی

“خیر چھوڑو ،میرا ایڈریس کہاں سے ملا “

“اس کارڈ پر جس پر تم نے نمبر لکھ کے دیا تھاپہلی ملاقات میں یاد ہے اسی کے پیچھے ہوم کرکے یہ پتا تھا “

سعود کو یاد آیا کے ان دنو وہ رینٹ پر گھر ڈھونڈ رہا تھا اور فون پر حمزہ سے اس نے ایڈریس کارڈ کے پیچھے لکھا تھا

“آر یو کریزی ،یہی گھر ہوتا ضروری تھا ؟مطلب تم پاگل ہو ؟ وہ کارڈ اب تک سنمبھالا تھا تم نے حد ہے،کچھ ہو جاتا پھر”

“کیا ہو جاتا اس سے زیادہ کیا ہوجاتا جو ہوچکا رسک نا لیتے ہی اب تک اس دلدل میں دھنسی اب رسک لے لیا ،اور وہ کارڈ میری امید تھا پہلی امید اسی لیے رکھا تھا سنمبھالا کر”وہ بولتی چلی گئی پھر ٹہری”فلک کی کیا خبر ہے “

سعود گہرا سانس بھرے اسے فلک اور شرجیل کے متعلق بتانے لگا

💖————💖

وہ آمنہ کو سوپ پلا کر نکلی تھی کے اس کے سیل پر میسج آیا ،اس نے کھولا ” ڈاکٹر رائنا ! آپ کو سردار حیدر کے معاملے میں کچھ بتا نا ہے ،یہ نمبر بلاک نا کرنا ،ورنہ تمام عمر حیدر کی قید میں پہنسی رہ جاؤ گی “

یہ میسجز جن میں ایسی کئی باتیں ہوتیں اسے کافی دنوں سے موصول ہو رہے تھے

وہ پہلے بھی ایک نمبر بلاک کر چکی تھی

“کون ہے یہ اور کیا بتانا چاہتا ہے ا”ب اس نمبر سے کال آنے لگی اس کی دھڑکن تیز ہوئی

“تمہیں مجھ پر یقین کرنا ہوگا رائنا ویسا یقین جیسا میں تم پر کرتا ہوں “حق لیقین “پھر کچھ بھی کہے تم نہیں یقین کروگی “اس کے کانوں میں حیدر کی پچھلی کہی بات گونجی اس نے وعدہ کیا تھا ان سے

فون اب بھی بج رہا تھا رائنا نے لمحے بھر سوچا اور کال کاٹ دی

وہ فلحال حیدر کو نہیں بتانا چاہتی تھی وہ پہلے ہی پریشان تھے “سب ٹھیک ہو جائے گا انشاء اللہ” اس نے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی

💖————💖

وہ آفس میں بیٹھے تھے مکرم نئی خبر لایا تھا

“سرکار ! رندھاوا کے بارے میں کچھ معلومات ہے اس میں “

“ایمپریسو”وہ فائل دیکھتے بولے فائلز میں رندھاوا کے بارے میں رپورٹ تھیں وہ سیکس ٹریفکینگ میں ملوث تھا جہاں سے لڑکیاں خرید دوسرے ممالک میں سپلائی کرتا تھا

“ایسے اور ثبوت چاہیے مکرم “انہوں نے پیٹھ تھپک ے کے ساتھ ساتھ ہدایت کی

“کیا آپ یہ سب لیک کریں گے ؟”

“اگر اس نے میرے خاندان پر ہاتھ ڈالا تب، ورنہ تم جانتے ہو میں نے الیکشن تو ویسے بھی جیتنا ہے،پارٹی ہماری کاکردگی سے خوش ہے اور عوام بھی پر امید ہے

رندھاوا لاکھ چالاک صحیح طاقت کے نشے میں حواس کھو بیٹھتا ہے اس کی ایسی کئی غلطیاں ہمیں ملیں گی جو کام آئیں گی “

“بلکل سرکار “

تبھی مکرم کا فون بجا جسے ریسیو کرنے کے بعد اس کا رنگ فق ہوگیا

“سرکار شرجیل سائیں کی خبر ہے”

حیدر تیزی سے کھڑے ہوئے

💖————💖

وہ بستر پر کونے میں ٹانگیں سکیڑے بیٹھا تھا آنکھیں غیر مرئی نکتے پر مرکوز تھیں سامنے سے آتے حیدر کو دیکھتے اس نے اپنے اپنے زخم زخم وجود کے ساتھ چلانا شروع کردیا ہر مرد کو دیکھ اس کی یہی حالت ہوجاتی تھی چاہے وہ اس کا بھائی ہی کیو نا ہو

حیدر کے کانوں میں اس کی حالت دیکھ ڈاکٹر کی آواز گونجی

“آپ کے بھائی کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے ایک سے زیادہ افراد تھے غالبا “

مکرم کو انسپیکٹر کی کال آئی تھی شرجیل وہیں سے ملا تھا جہاں کچھ دن پہلے اس کی ٹوٹی پھوٹی گاڑی ملی تھی

اس کے جسم پر جابجا نئے پرانے زخم تھے ،کئی فریکچرز تھے

وہ اب چت لیٹا چھت کو گھوررہا تھا وہ نمی چھپاتے وہاں سے ہٹے

💖————💖

وہ چت لیٹا چھت کوگھور رہاتھا دماغ میں گزشتہ وقت کی ریئل چل رہی تھی

اس دن وہ گاڑی دوڑاتے کہاں نکل گیا اسے نہیں معلوم تھا بڑا سنسان علاقہ تھا سردیوں کے موسم کی وجہ سے دھند بھری تھی اسنے بریل لگانے چاہے مگر جھنجھلاہٹ ڈر اس پر حاوی تھی گاڑی شدید ڈسبیلینس ہوتی درخت سے جا ٹکرائی

آگے کا دروازہ ٹوٹ کر کھلا اور وہ نکل کر گر پڑا چوٹ شدید تھی ازیت ناک حواس الگ گم تھے مگر وہ زندہ تھا اسے لگا یہ اس کی خوش قسمتی ہے وہ دعائیں مانگنے لگا کے کوئی تو یہاں آئے

کافی دیر بعد ایک جیپ چلی آئی وہ چار لمبے چوڑے مرد تھے ہاتھوں میں لوہے کے ڈنڈے تھے چہرے پورے کالے ماسک سے ڈھکے تھے انہوں نے اسے دیکھ اونچے قہقہے لگائے ایک دوسرے کو زومعنی اشارے کرتے شکار کی طرف بڑھے وہ کانپا اسے لگا وہ لٹیرے تھے اور وہ واقعی لٹیرے تھے جنگلی وحشی گمراہ قوم لوط سے تعلق رکھنے والے وہ اسے لے گئے اور بعد میں بری طرح زدوکوب کر کے وہیں پھینک گئے

ڈاکٹرز کے خیال میں ایسے ایکسیڈینٹ کے بعد بچنا معجزہ تھا ان کی نظر میں یہ اس کی خوش قسمتی تھی کے وہ بچ گیا تھا مگر وہی جانتا تھا یہ اس کی خوش قسمتی نہیں تھی سر پر چوٹ لگنے اور تشدد کے باوجود اس کی یاداشت سلامت تھی حواس سلامت تھے یہ معجزہ نہیں تھا یہ خدا کی لاٹھی تھی جو بے آواز اس پر پڑی تھی اور اس کی چیخیں گونج رہیں تھیں۔۔۔۔