Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh NovelR50439 Intezaar Ishq Episode 10
Rate this Novel
Intezaar Ishq Episode 10
Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh
حال۔۔۔۔
فارم ہاؤس کراچی کے ملير كينٹ کے علاقہ میں تعمیر شدہ تھا کافی دیر ڈرائیو کرنے کے بعد آخر کار حیدر نے ڈرائیور کو چابی سونپ دی اور خود رائنا کے ساتھ پیچھے بیٹھ گئے تھے۔۔۔۔
آخرکار سفر تمام ہوا اور وہ لوگ منزل مقصود کو پہنچے۔۔۔۔
“چلو اٹھو رائنا پہنچ گئے ہیں ہم “انہونے اپنے کندھے پر سر رکھے سوئی رائنا کو جگایا تو وہ جھومتی جانتی اٹھی۔۔۔۔
وہ اسے اپنی ہمراہی میں اندر لے گئے یہاں پہ بھی ایک ملازم اپنی بیوی کے ساتھ موجود تھا۔۔۔۔ لپک جھپک کر آگے آیا اور ان دونوں کا چھوٹا سا بیگ لے کر اندر بڑھ گیا۔۔۔۔
رائنا اب آنکھیں پھیلائے جائزہ لینے میں مگن ہو گئی۔۔۔۔
بڑا سا سوئمنگ پول جو صاف ستھرا دیکھائی دے رہا تھا۔۔۔ اور تھوڑا گہرا بھی اس کا کٹ بیضوی تھا ،گو کے یہ جگہ درختوں سے بھری تھی۔۔۔۔ مگر ایک خصوصی ایریا ایک طرف کونے میں بنا تھا جہاں خوبصورت سبزہ تھا اطراف میں درختوں کی چھاؤں نے پر سکون ماحول بنا دیا تھا۔۔۔۔ وہاں ایک سفید رنگ کا خوبصورت جھولا بھی تھا جس پر پھولوں سے سجاوٹ کی گئی تھی۔۔۔۔
ایک طرف نہایت ہی خوبصورت فوارہ تھا جس میں بنی ہوئی سفید مرمری ہنس کی چونچ سے پھوار کی صورت پانی نکل رہا تھا اسے یہ سب بہت پسند آیا۔۔۔۔
ابھی وہ جائزہ ہی لے رہی تھی کے اسے کندھے پر جانے پہچانے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا۔۔۔ وہ بنا پلٹے بھی جانتی تھی کے یہ کون ہے۔۔۔۔
“کیسا ہے سب۔۔۔؟” وہ اسے اپنی طرف گھماتے بولے “
بہت خوبصورت،سب سے شکر کی بات یہ ہے کے یہاں پہ بطخیں نہیں ہے۔۔۔۔” وہ ہنستے بولی تو وہ بھی ہنس دیے یہ بھی ایک ہی قصہ تھا۔۔۔ جب حیدر نے حویلی میں باغ نما حصہ تعمیر کرایا تھا۔۔۔۔ تب وہاں بطخیں بھی رکھوائی گئی تھیں اور رائنا کو ہر پرندے سے شدید قسم کا خوف آتا وہ کاکروچ کو خود مارنے والی اور پرندوں سے گھبرانے والی ایک نرالہ ہی لڑکی تھی۔۔۔۔ ان دونوں کو ہی وہ دن نہیں بھولتا تھا جب چیختی چلاتی رائنا آگے آگے تھی اور بطخیں اس کے پیچھے ابھی بھی یہ منظر یاد کرکے وہ دونوں ہی ہنس پڑے۔۔۔۔۔
وہ اپنی پرشوق نظریں اس پر جمائے اسکی شفاف جھرنے کی سی ہنسی میں کھو گئے۔۔۔۔ وہ انہیں اس طرح دیکھتا پا کر گھبرا سی گئی کونفیڈنت آؤٹ اسپوکن رائنا کو حیدر بخت کی نظریں شرمانے پر مجبور کر دیتی تھی۔۔۔۔۔
“حیدر ہمیں سب کو لانا چاہیے تھا فیملی پکنک ہوجاتی نا کتنا مزہ آتا۔۔۔” وہ دھیان بٹانے کی کوشش کرتی بولی۔۔۔۔
“ہمم بلکل مگر پھر کبھی فلوقت میں صرف تمہارے سے وقت گزارنے کا خواہ ہوں تمہارے ساتھ صرف تمہاری اور میری باتیں کرنے کا خواہشمند ہوں۔۔۔۔” وہ اس کے بلش کرتے گھبرائے چہرے کو دیکھتے بولے جبکہ وہ اپنے طور پر کونفیڈنٹ نظر آنے کی کوشش میں مصروف تھی۔۔۔۔۔
“تمہیں یہ بات میرے منہ سے سن کر اچھا لگ رہا ہے نا۔۔۔”
“کیا۔۔۔۔؟” وہ انکی اس بات پر چونک گئی۔۔۔
“اسی لیے تو بار بار مجھ سے کہلوارہی ہو۔۔۔۔” وہ آبرو آچکاتے متبسم لہجے میں ہلکے سے اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکراتے بولے۔۔۔۔
“اچھا چلو اب اندر چلو کھانا لگوا دیا ہے۔۔۔۔” وہ اسے لئے اندر بڑھ گئے۔۔۔۔
————![]()
وہ آج اپنی ہاسپٹل کی جانب سے ملی چھٹی بروئے کار لا کر اپنے پھوپھا کے ایڈریس پر جا پہنچا۔۔۔۔
لوئر مڈل کلاس سے بھی نیچے کے طبقے کا علاقہ تھا وہ ڈھونڈتا ہوا نیلے رنگ کے چھوٹے سے گیٹ پر پہنچا زنگ لگے دروازے پر کالا موٹا تالہ اس کا منہ چڑا گیا وہ کافی دیر وہیں گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا رہا اس امید پر کے شاید کوئی سجائے پھر تھک ہار کر واپس جانے لگا تبھی نگاہ اپنے گھر کے پردے سے جھانکتے عورت پر پڑی نظریں ملنے پر اسنے اسے اپنی اطراف بلایا وہ الجھتا سوچتا اس کی جانب بڑھ گیا
” رشیدے کے رشتدار ہو”؟ اس نے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
اب وہ حیرت سے ناک پر انگلی رکھے اسے سر تا پیر گھورنے لگی جیسے یقین کرنے کی کوشش میں ہو۔۔۔
“او تے اب نہیں رہندا یہاں”
“تو کہاں رہتے ہیں “وہ پر امید سے پوچھ بیٹھا۔۔۔
“تو ہے کون اس دا” ایک بار پھر جائزہ لیتے مشکوک لہجے میں پوچھا گیا۔۔۔
تبھی پیچھے سے ایک مزدور نما شخص نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے پلٹتے مجبور کیا۔۔۔۔
“کون ہو بھائی۔۔۔” اب وہ شخص مشکوک ہورہا تھا سعود کو کوفت ہوگئی۔۔۔۔
“اجی یہ رشیدا کا پوچھ رہیا سی” عورت جھٹ بولی۔۔۔
“تسی کون ہو صاحب”
“میں ڈاکٹر سعود ہوں اور رشید صاحب کی مرحومہ بیگم کا بھانجا ہوں “
اسنے ان لوگوں کے شک وشہبات کو لگام ڈالتے اپنا تعارف بمعہ شبہ بتا دیا اب وہ دونوں شدید متاثر تھے۔۔۔
“تو آونا صاحب بیٹھ کے بات کرتے ہیں اندر آو”وہ اسے لیے اندر بڑھے تو وہ بھی ساتھ ہولیا۔۔۔
اب وہ دونوں ہی بڑے متاثر سے دیکھائی دے رہے تھے انہوں نے اسے شربت کا گلاس پیش کیا مگر امریکا پلٹ سعود نے وہ کہاں منہ سے لگانا تھا مروت کا مارا ہاتھ میں پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔۔
“جی تو کیا آپ بتا سکتےہیں رشید انکل اور انکی بیٹیاں کہاں ہیں اب؟ “
“انکےمنہ سے ان لوگوں کے غائب ہونے کا سن کر وہ قدرے مایوس ہوا تھا۔۔۔
“نا جی اے رشیدا کوئی سیدھا بندا نہیں تھا بڑا کوئی ظالم تھا ،وہ تمہاری پھوپھی کوئی بڑی نیک عورت تھی بچیاں بھی ایڈھی کوئی حسین پر قسمت کی وڈی کوئی ماڑی تھی اے رشیدا نکھٹو مارتا الگ کماتا ڈھیلا نا اور نشہ الگ کرتا پیا سی تیرے نانکو نے کی وكهیيا جو کڑی بیياه دی کڑیا وڈی پولی ہوندیا ہیں ایسے نا رولا کرو دھیاں نو “
اس ان پڑھ آدمی کی بات پر سعود جی بھر کے شرمندہ ہوا۔۔۔
اس آدمی کی بیوی بچی کو دیکھنے اٹھی تو وہ مونڈھا اس چارپا ئ کے قریب كهسكا لایا جس پر سعود بیٹھا تھا ۔۔۔
اس کا انداز رازدارانہ تھا
“صاب یہ رشیدا بڑا نشہ کرتا تھا اور وہاں بھی جاتا تھا مینو اک بندے نے دسیا تے اے رشیدا وڈا مال اکھٹا کیا ہے ہورے کوئی نہیں جانتا کیسے بچیاں بھی اب اودے نال نا ہیں پہلے سانو لگا رشتداروں نال ہونگی پر اب سانو شک ہے کے ۔۔۔
“وہ فکر مندی سے بتاتے آخر میں ہاتھ جھاڑتے اشارتا جو بولا سعود سمجھ گیا۔۔۔
وہ جلد ہی وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اس آدمی کی بیٹی کے پاس اسکی پھپھو کی بڑی لڑکی کی تصویر تھی جو خراب کمیرے کے پھٹے پھٹے پکسل کی وجہ سے بہت اچھی نا تھی مگر شکل بہرحال سمجھ آرہی تھی وہ آدمی شیدا جس بدنام زمانہ جگہ پر جاتا تھا ویاں کاپتا بھی بتا چکا تھا۔۔۔
جب سعود وہاں سے نکلا تو دو کیفیات کا شکار تھا اایک طرف اسے اپنی پھوپھی زاد کی فکر تھی اور یہ فکر تھی کے بیمار باپ کو کیا بتائے گا دوسری جانب وہ سرا ملنے پر پرامید تھا۔۔۔
————![]()
رات جانے کس وقت اسکی آنکھ کھلی اسنے برابر میں سوئے حیدر کو دیکھا۔۔۔۔ انکی نیند خراب نا ہونے کے خیال سے وہ دبے پاؤں چلتی باہر لاؤنج میں آگئی گلاس وال سے بلاینڈز ہٹایں تو باہر کا خوبصورت منظر نگاہ کو تراوت پہنچا گیا گہرے نیلا تاروں سے بھرا آسمان چاند کی چاندنی ہر سو منور کر رہی تھی وہ اس منظر کو دیکھ خود کو روک نا سکی اور باہر چلی آئی۔۔۔۔
سوئمنگ پول کےساتھ بنی ماربل کی روش پربیٹھ کر اس نےپاوں ٹھنڈے پانی میں ڈالے ایک جھرجھری سی اسکے بدن میں دوڑگئی ابھی اسے بیٹھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب بالوں پر جانا پہچانالمس محسوس ہوا مزید تصدیق بھاری گمبھیر آواز نے کردی۔۔۔۔
“یہاں کیوں آگئی طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔؟” وہ اب اس کا ماتھاچھوتے بولے۔۔۔
“ٹھیک ہوں میں بس آنکھ کھل گئی تھی تو باہر آگئی “
“آنا ہی تھا تومجھے جگا دیتی موسم میں خنکی ہے شال بھی نہیں اوڑھی تم نے۔۔۔” وہ اس کے برابر میں بیٹھ اس کو حصار میں لیتے اپنی شال اسکے کندھے پر پھیلادی۔۔۔۔
وہ اس قربت پر سمٹ سی گئی۔۔۔ حیدر کا ایک بازو اس کے شانو پر تھا۔۔۔ جبکے دوسرے ہاتھ سے اسکے ہاتھ پر گرفت جمائی ہوئی تھی۔۔۔ ان کے ایسے حصار میں لینے پر اس کا سر ان کے کندھے پر ٹک گیا۔۔۔
حیدر نے اسکے بلش ہوتے چہرے کو دیکھا اور جاندار مسکراہٹ نے لبوں کا احاطہ کر لیا۔۔۔
“ایک بات بتاو ،یہ تم مجھ سے کیوں اتنا شرماتی ہو ویسے تو کافی پراعتماد ہو”
وہ اسے چھیڑتے بولے۔۔۔
“حیدر ! تنگ نا کریں پلیز دیکھے کتنا خوبصورت ماحول ہے۔۔۔۔ اچھا بتایں آپ کو اس سب میں کیا سب سے اچھالگ رہا ہے۔۔۔”
وہ مکمل طورپر ماحول کی خوبصورتی میں کھوئی تھی۔۔۔
“تم”
ایک لفظی جامع جواب اس کا دل دھڑکا گیا۔۔۔
“میں اپنی زندگی کا سب سے حسین وقت جی رہا ہوں وہ اس کے گال پر ہاتھ پھیرتے بولے۔۔۔۔
“بہت قیمتی ہو میرے لیے میرےساتھ رہو میری ہو کر تمہارا کوئی خواب رائیگاں نہیں جائے گا ،میں اپنے وعدوں میں بہت کھرا ہوں رائنا ،آس دینے پر نہیں عمل پر یقین رکھتا ہوں تم اپنے دل کی ہر بات کہ سکتی ہو میں تمہیں سنوں گا۔۔۔۔” اس نے ان کا چہرہ دیکھا کسی قسم کی کوئی ریاکاری نا تھی۔۔۔ محظ محبت تھی وہ بھلا کیسے نا یقین کرتی وہ اب انکے حصار میں ریلکس ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
“میرا آج جانتے ہیں کیا دل چاہ رہا ہے۔۔۔” انکے دیکھنے پر وہ رکی۔۔۔
“آپ کو جاننے کا “
“کیا جاننا چاہتی ہو تمہارے سامنےتو ہوں “
” ایسے نہیں مطلب آپ کی بھی تو کوئی خواہشات ہونگی۔۔۔۔؟”
“میری خواہش تو میرے پاس ہے باقی ہے اولاد کی وہ بھی اللہ جلد کرم فرماے گا ” انکی بات پر وہ جھینپ گئی۔۔۔
“آپ مٹال رہے ہیں”
“جان حیدر سچ کہہ رہا ہوں “وہ یقین دلاتے بولے۔۔۔
ہاں ایک اور مقصد بھی ہے کے یہ جو سرداری مجھے سونپی گئی ہے اس میں کھرا اتروں یہ بظاہر اعزاز ہے پر در حقیقت امتحان ہے “
“آپ بہت سنجیدہ ہیں ان معملات میں ،خصوصی طور پر اپنے گاؤں سے آپکا لگاوں اور فکر واضح طور پردیکھتا ہے”
“جانتی ہو رائنا میں نے آج تک یہ باتیں کسی سے نہیں کی ،مگر تم سے کر رہا ہوں “
وہ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں قید کیے بولے۔۔۔
بہت كهلتی تھیں ہمیشہ سے مجھے یہ فرسودہ روایاتیں میں نے اپنی ماں کو باپ سے دبتا دیکھا۔۔۔۔ ہمیشہ پھر جب میں پڑھائی کے سلسلے باہر گیا لوگو سے ملا باہر کی دنیا دیکھی مختلف دوست بناے تب مجھے احساس ہوا کہا ں کیا کیا غلط ہے۔۔۔۔ جب ہم بیوی کو دبانے کے چکر میں ہوتے ہیں در حقیقت ہم اپنی نسل خراب کرتے ہیں۔۔۔۔
جس عورت کو نچلا درجہ دیتے ہے اسسے اولاد کی تربیت کیسے ہوگی۔۔۔۔ جو خود کے حقوق نھیں جانتی ہوگی وہ حق دینا اور لینا کیسے بتا ے گی میں اپنے دوستوں کے والدین کی زندگی دیکھتا اور اپنے والدین کی دیکھتا اور سمجھتا کے ہم کہاں غلط ہیں۔۔۔۔ ،ہم مزاروں کو تعلیم نا دے کر ان پر کیسا ظلم کررہے ہیں۔۔۔۔ اسکا اندازہ بھی مجھے تعلیم کے دوران ہوا فلحال میری زندگی کا ایک مقصد میرے گاؤں کی ترقی ہے بہت مسائل ہے بس میں ہمّت نہیں ہارنا چاہتا “
آخر میں ان کالہجہ تھکا تھکا سا تھا۔۔۔
رائنانے انکے ہاتھ پر اپنے دوسرے ہاتھ سے گرفت کی۔۔۔۔
“آپ نے ہی کہا تھانا حیدر راستہ لمبا ہو مگر ہمراہی ساتھ ہو تو سفر آسانی سے کٹ جاتا ہے آپ کے ہر سفر میں میں آپ کے ساتھ ہوں کبھی جو آپکے ارادے تھکن سے ٹوٹنے لگے
میرے شانے پر سر رکھے سستا لیے گا “
وہ کتنی خوبصورتی سے اپنی وفاؤں کا عہد کر گئی تھی اظہار ِ محبت نا سہی اظہار وفا ہی سہی وہ مسکرائے۔۔۔۔
“تمہیں دیکھ کر آج مجھے ایک خوبصورت غزل سنانے کا دل چاہ رہاہے۔۔۔۔
“وہ اسکے گال پر پیار سے ہاتھ رکھتے سیاہ بھنورا انکھوں میں جزبات لیے آہستہ سے گویا ہوئے۔۔۔”
تجھ کو معلوم ہی نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم
تیرے چہرے کے یہ سادہ سے اچھوتے سے نقوش
میرے تخیل کو کیا رنگ عطا کرتے ہیں
تیری زلفیں تیری آنکھیں تیرے عارض تیرے ہونٹ
کیسی انجانی سی معصوم خطا کرتے ہیں
خلوت بزم ہو یا جلوت تنہائی ہو
تیرا پیکر میری نظروں میں اتر آتا ہے
کوئی ساعت ہو کوئی فکر ہو کوئی ماحول
مجھ کو ہر سمت تیرا حسن نظر آتا ہے
چلتے چلتے جو قدم آپ ٹھٹھک جاتے ہیں
سوچتا ہوں کہیں تو نے پکارا تو نہیں
گم سی ہو جاتی ہیں نظریں تو خیال آتا ہے
اس میں پنہاں تیری آنکھوں کا اشارہ تو نہیں
دھوپ میں سایہ بھی ہوتا ہے گریزاں جس دم
تیری زلفیں میرے شانوں پر بکھر جاتی ہیں
تھک کہ جب سر کسی پتھر پی ٹکا دیتا ہوں
تیری بانہیں میری گردن میں اتر آتی ہیں
سر بالیں کوئی بیٹھا ہے بڑے پیار کے ساتھ
میرے بکھرے ہوئے الجھے ہوئے بالوں میں کوئی
انگلیاں پھیرتا جاتا ہے بڑے پیار کے ساتھ
کس کو معلوم ہے میرے خوابوں کی تعبیر ہے کیا
کون جانے میرے غم کی حقیقت کیا ہے
میں سمجھ لوں بھی اگر اس کو محبّت کا جنوں
مجھ کو اس عشق جنوں خیز سے نسبت کیا ہے”
انہونے غزل ختم کی تو رائنا غور سے سنتی کچھ کچھ سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔
اسکا چہرہ گواہ تھا کے رائنا علی کے پلے شاعری کا پڑنا مشکل تھا۔۔۔۔
“اچھی ہے پر آپکا لہجہ اور تلفظ بہت اچھا ہے۔۔۔”
وہ کچھ نا سمجھتے بھی یہ سمجھ گئی کے کی تو غزل میں تعریف ہی ہے۔۔۔
اسکا چہرہ پڑھتے وہ گہرا سانس بھرتے مسکراے۔۔۔۔ اور اسکے ماتھے پر محبت ثبت کی۔۔۔۔
“چلو بہت رات ہوگئی ہے اب آرام کرتے ہیں دوپہر کو شاپنگ کے لئے چلیں گے۔۔۔۔” وہ اسے لئے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔۔۔۔
————![]()
اسکے اگلے دن وہ فارم ہاؤس سے رائنا کے والدین کی طرف روانہ ہوے وہاں سے خریداری کے لئے نکل کھڑے ہوے اگلے دن انکی واپسی تھی۔۔۔۔
یہ وقت بہت اچھا تھا اسے حیدر کا دوسرا رخ دیکھنے کو ملا وہ واپسی کے لئے نکلے تھے جب حیدر نے جیولری شاپ کے آگے گاڑ ی روک وادی۔۔۔۔
“اب کیا لینا ہے سب کچھ تو ہے ” وہ حیران ہوئی ابھی کل تو شاپنگ کی تھی۔۔۔
“مجهے دلانا ہے کچھ آؤ “وہ اسے تھام کر اندر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔
وہاں پیرسنگ بھی ہوتی تھی حیدر کاؤنٹر پر گئے۔۔۔۔
“مجهے اپنی وائف کی نوس پیرسنگ کروانی ہے مگر دھیان رہے درد کم سے کم ہو۔۔۔””
“آپ اطمینان رکھیے سر آئیے میم “
“حیدر مجهے نہیں کرا نی۔۔۔۔” وہ اٹھتی جانے لگی کے حیدر نے اسے دوبارہ تھام کر بٹھا یا اور رائنا کے لاکھ مچلنے انکار کرنے کا کوئی فائدہ نا ہوا۔۔۔۔
حیدر نے ہی اسکے لئے نوز پن لی اور پے کرنے کے بعد اسے لئے باہر آئے باہر آتے ہی رائنا نے انکا ہاتھ جھٹکا اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔
راستہ بھر وہ دوسری طرف رخ کیے بیٹھی رہی حیدر نے اسے ا بھی کے لیے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔۔۔۔
حویلی پہنچ کر بھی مارے باندھے بی اماں سے مل کر کمرے میں آگئی۔۔۔۔
جب حیدر آئے تو وہ شیثہ کے سامنے بال سنوارتی اشک بہا رہی تھی۔۔۔۔
وہ چلتے اسکے پیچھے آ کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ اسکے کندهوں پر جما دیئے۔۔۔
رائنا نے جھٹکنا چاہا پر انہوں نے گرفت سخت کرتے اسکا رخ اپنی طرف موڑا ۔۔۔۔
“حیدر پلیز آپ بہت من مانی کر چکے اکیلا چھوڑ دیجیے مجهے “
“کتنی حسین لگ رہی ہو کم از کم یہ تو دیکھلو میری آنکھوں میں جان حیدر۔۔۔” ان کے ایسے بولنے پر بھی اس نے انہیں نا دیکھا تو وہ اسکا رخ واپس شیثہ کی جانب کرتے بولے۔۔۔۔
اچھا چلو آئینہ ہی دیکھ لو وہ بھی بتا دے گا کے کتنی حسین لگ رہی ہے یہ تم پر “
“آپ انتہائی خودغرض ہیں ہر چیز ہر بات میں اپنی چلاتے ہیں۔۔۔۔ پہلے بال نہیں کاٹنے دیئے پھر پکنک سے منع کر دیا۔۔۔۔ گارڈ لے کر باہر جاؤ ،اور اب یہ نوز پن۔۔۔ صرف اس لئے کے ایک شخص مجهے ان میرڈ سمجھا۔۔۔ اب سمجھی کراچی بھی آپ مجهے اسلئے لے گئے تھے تاکے گھما پھرا کے رام کر سکیں جیسے بکری کو قربانی سے پہلے کرتے ہیں “
وہ انکی ان رومانوی باتوں پر چڑ گئی بیحد غصّے سے بولتی چلی گئی اور خاموشی سے تیوری چڑھائے سنتے حیدر کی آخری بات پر ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔۔
“ہاہاہا ۔۔۔ تو تمہیں لگتا ہے مجهے یہ کرانے کے لئے تمہیں بہلانے پسلانے کی ضرورت تھی۔۔۔۔ کتنی نادان ہو تم بیوی۔۔۔۔ کراچی لے جانے کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔ میری جان ویسے بھی جانتی تو ہو میں جو کرتا ہو کر ہی لیتا ہوں “
وہ شرارت سے بولے تو رائنا نے حیرت سے دیکھا وہ محض ضرورتاً مسکرایا کرتے تھے کجا کے یہ انداز۔۔۔۔
“آپ کو پتا ہے کے آپ دن بدن “وہ کچھ کہتے کہتے جھجکی۔۔۔
“دن بب۔۔۔
دن بدن کیا رک کیوں گئیں بولو “
“آپ بچے بنتے جا رہے ہیں۔۔۔۔ جیسے ٹینجر ہوتے ہیں عجیب سے۔۔۔۔” صداکی ان رومینٹک رائنا کے لیے یہ کوئی قابل ہضم صورتحال نا تھی۔۔۔۔
اسکی بات پر وہ پہلےتو حیران ہوے پھر بے ساختہ اونچا سا قہقہہ لگایا۔۔۔۔
رائنا انھے قہقهہ لگاتا دیکھ دانت کچکچا کے رہ گئی۔۔۔۔۔
