Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh NovelR50439 Intezaar Ishq Episode 19
Rate this Novel
Intezaar Ishq Episode 19
Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh
وہ صحن میں کپڑے دھوتی تھی جب کوئی اندر کودا
“جان من “وہ اسے گھسیٹتا دیوار سے لگا گیا اب اسے دیوانہ وار تک رہا تھا وہ بدحواس ہاتھ پیر مار رہی تھی
“کیسا سحر انگیز حسن ہے اس پر آنکھیں ،پہلی نگاہ میں گھائل کردیں انسان کو”وہ اور قریب ہوا سکینہ نے اس کے ہاتھ پر زور سے کانٹا اور بھاگی دانیال پیچھے کھڑا ہنسنے لگا
“بس چند دن جان من پھر میرے پاس ہوگی “
اندر جاتی سکینہ نے اس شخص کو دیکھا حس نے محبت کے نام پر اس کا جینا حرام کر رکھا تھا جو اسےبنا اجازت بنا کسی رشتے کے چھوتا اور کہتا کے کیا ہوا تو تو میری عزت بنے گی جیسے عورت کی عزت اس کی اپنی نا ہو اس سے وابسطہ مردوں کی ہو وہ دکھ سے سوچتی
وہ باقی سارا وقت کمرے میں چٹخنی چڑھائے پڑی رہی گو اس کی ماں کو چٹخنی چڑھانے پر غصہ چڑھتا تھا اس کے خیال میں جوان لڑکیاں الگ کمروں میں بند رہے تو بگڑ جاتیں ہے اب وہ کیا سمجھاتی کے جب گھروں میں ہی راہزن گھس جائیں تو چٹخنیاں ضروری ہوتیں ہیں
اسنے آنکھیں بند کی تو چھم سے وہ بارعب بلند وجود آنکھوں میں اترا مرید عشق تو وہ تب سے تھی جب اس کے باپ نے اسے کالج بھیجنا چاہا تب حیدر کے والد سردار تھے اور کمیوں اور عورتوں کی تعلیم کے مخالف پر حیدر میں ان کی جان تھی حیدر نے ہی گاؤں میں اسکول کھلوایا کمیوں کی تعلیم کو بڑھاوا دیا ،پھر دل اصل ان کے قدموں تب جا بیٹھا جب ایک بار وہ کالج سے گھر آرہی تھی وین اسے بڑی دور چھوڑتی تھی اس دن اسے تانگہ تک نا ملا تھا جس کی بدولت وہ پیدل ہی روانہ تھی تب گاؤں کے اوباش اس کا راستہ روکنے کے درپے ہوئے،لیکن تب ایک بڑی سی گاڑی سے ایک بلند قامت شخص نکلا اس کی ایک للکار نے اوباشوں کے حوصلے پست کر دیے حیدر نے اسے نا قصوروار ٹھہرایا نا کچھ بھلا برا کہا نا ہی ہمدردی جتائی ان لوگوں کو بھگا کر اپنی راہ کوہولیے تب سکینہ کا دل حیدر کے قدموں میں جا بیٹھا اسے یاد تھا وہ وقت جب بڑے سرکار کا ولیمہ تھا سارا گاوں جمع تھا تب حیدر نے روایت شکنی کرتے رائنا پر اپنی چادر ڈالتے اسے بڑی سرکار کا لقب دیا تھا ورنہ یہ رتبہ محض خاندانی بیوی کو دیا جاتا تھا تب سکینہ کو حیدر کے عشق سے عشق ہوگیا تھا حاصل کرنے کی ہوس سے پاک عشق محبوب کے محبوب تک سے عقیدت رکھنے والا عشق وہ رائنا سے مل کر خوش تھی بڑی سرکار کتنی اچھی تھی بنا نخرے والی نرم سی وہ سوچے گئی جانے کب نندیا اس پر مہربان ہوگئی
————![]()
وہ صبح صبح نکلنے کی تیاری میں تھے اور رائنا کے نام کی پکاریں جاری تھی
“آگئی بس “وہ جلدی سے چینج کرکے آتی انہیں کوٹ پہنانے لگی
“گھڑی تو پہن لیتے آپ خود “وہ چڑی
“تم سے پہنتا ہوں جانتی ہو نا “وہ پیار سے اسے دیکھتے بولے جو ان کی چوڑی کلائی پر گھڑی باندھ رہی تھی بھوری لٹیں کومل چہرے پر رقصاں تھیں انہونے دل کی آواز پر لبیک کہتے دوسرے ہاتھ سے انہیں کان کے پیچھے اڑسا
وہ ان کی بولتی نظروں سے گھبرائی “کیا دیکھتے رہتے ہیں آپ ؟”
“تمہیں کیا پتا محبوب کو دیکھنا کیسا فرحت بخش ہوتا ہے ،کیسا سکون ملتا ہے “
“عجیب منطق ہے ،محبوب کو اتنا تنگ کون کرتا ہے اتنے کام کون کرواتا ہے”وہ چھیڑتے بولی
انہوں نے گہری سانس بھرتے دونوں ہاتھ اس کے شانوں پر دھرتے قریب کیا اور سر سے سر ٹکرایا
“میری جان یہ بھی محبت کی ایک قسم ہے ،کتنی پیاری لگتی ہو جب میرے آس پاس پھرتی ہو سارے دن کے کام اسان لگتے ہیں ،اتنا سکون بخشتی تمہاری موجودگی مجھے “وہ ان کے گہرے لہجے میں کھو گئی
“حیدر”
“بولوں جان حیدر”
“آپ بلکل ۔۔۔” وہ ہچکچائی
“کیا بلکل بولو”انہوں نے اکسایا
“بلکل میرے بابا جیسے ہیں وہ بھی ایسی ہی باتیں کرتے تھے ان فیکٹ وہ بھی یہی کہتے تھے کے مجھے دیکھ ان کی آنکھوں کو سکون پہنچتا ہے “
حیدر کا دماغ بھک سے اڑا تھا یہ کونسا وقت تھا والد صاحب کو یاد کرنے کا انہوں نے اس کا چہرہ دیکھا جو سنجیدہ تھا کوئی شرارت نا تھی اگر یہ رومینس کی کوشش تھی تو بڑی بھونڈی کوشش تھی
“رائنا “انہوں نے بیچ میں ٹوکا
“دیر ہورہی ہے”وہ کہتے آگے بڑھ گئے وہ بھی کندھے اچکاتی چلی
————![]()
وہ صبح صبح سلینڈر پر ناشتہ بنا رہی تھی تب ہی وہ اپنی ماں کے ساتھ چلا آیا اور تھوڑی دیر اندر بیٹھنے کے بعد باہر آٹھ آیا اسے پیچھے سے پکڑ کر دیوار سے لگا دیا
“مت بھاگ اتنا دور سکینہ دل کڑھتا ہے میرا عاشق ہوں تجھ پر کیو ناشکری کرتی ہے ایک بار میری ہوجا تجھے تخت پر بٹھا کے رکھوں گا “اسے مزاحمت ترک کرتے دیکھ نرمی سے کہتے دانیال نے ہاتھ اس کے منہ سے ہٹا یا اب وہ دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ بھرے آگے ہوا سکینہ نے آزاد ہاتھ سے تھلے پر پڑا مرچی کاڈبا اٹھایا اور اسکے چہرے پر انڈیل دیا
دانیال کلبلا گیا آہوں بکا شروع کردی وہ گالیاں دیتا اس سے پانی مانگ رہا تھا وہ زہریلی مسکراہٹ سے دیکھتی باہر بنے ڈربے نما کمرے میں بھاگ گئی دانیال کی بے بسی نے اسے وہی لطف بخشا تھا جو دانیال کو اسے ہراساں دیکھ ملتا تھا
وہ جلد سے جلد حویلی جانے کی تیاری میں تھی بڑی سرکار (رائنا) نے اس کا احوال سن کر اسے شیراز اور فراز کی وقتی ٹیوٹر رکھ لیا تھا اس کی اماں تپی تو پر بڑی سرکار کو کیسے ٹالتی اب سکینہ کا کم سے کم سامنا ہونا تھا دانیال سے
رائنا نے حیدر کو بڑی مشکل سے قائل کیا تھا بی اماں الگ سلگ رہی تھیں رائنا کی نیت صاف تھی وہ صرف ایک محنتی لڑکی کی مدد کرنا چاہتی تھی اسے دلدل سے نکالنا چاہتی تھی دیا روشن کرنا چاہتی تھی اب یہ تو آنے والے وقت نے بتانا تھا کے دیے نے روشنی بکھیرنی ہے یا دامن جلانا ہے
————![]()
“خیر سے زرگل امید سے ہے تائی سفورا کی بیٹی بھی امید سے ہے آپ کے بعد شادی ہوئی تھی “
بی اماں اپنا پسندیدہ موضوع کھولیں بیٹھی تھیں وہ ان کا بی پی چیک کرکے سامان سمیٹ رہی تھی اور پیچ وتاب کھا رہی تھی
“ماشاءاللہ”حیدر نے کہا اب اور کیا بولتے بھلا
“ہممم , انشاء اللہ ہمیں بھی نصیب ہوگی یہ خوشی” بی اماں بولیں تو دونوں نے ہی امین کہا رائنا نے دل میں جبکے حیدرکی آواز بلند تھی
“اب خوش قسمت تو بہت ہیں بہو بیگم جو ایسا خیال کرنے والا شوہر ہے سب کو کہاں نصیب ہوتا ہے ایسا شوہر جو بیوی کی خواہشات کا سوچے ایسے چونچلے تو بس باپ ہی اٹھاتیں ہیں “بی اماں سنا تو رائنا کو رہی تھی لگ حیدر کو گیا “حد ہے باپ باپ ۔۔”وہ پیچوتاب کھاتے اٹھے “بی اماں اجازت دیجیے دیر ہورہی ہے” کہتے باہر کی جانب ہو لیے
————![]()
وہ آفس میں تھے جب شازر آیا۔۔۔۔
“آج بھی سکون نہیں تھا رات کو آئینگے تمہاری طرف بھئی”وہ خوشگواریت سے بولے
“ہاں یار بس گزر رہا تھا تو سوچا تمہیں یاد کرادوں “
اسی وقت حیدر کی سیل پر کال آئی
“جسٹ آ سکینڈ “انہوں نے دیکھا “رائنا کالنگ ” سکرین چمک رہی تھی ٹائم دیکھا “اس وقت کیسے”
وہ پریشان ہوئے “سب ٹھیک ہو خیریت ہو “وہ کہتے فکر مندی سے نمبر ملانے لگے
“فکر دیکھو ابا میاں کی”شازر کی چلبلی طبیعت باز نا آئی
اور حیدر وہ نئے سرے سے کھول گئے بس اس کی کسر تھی،انہیں سسر صاحب سے پرخاش نہیں تھی مگر بیوی کے باپ سے ملائے جانا بھی قبول نا تھا”بھئی شوہر شوہر ہوتا ہے “وہ دل ہی دل جھنجھلائے
انہوں نے اسے گھورا وہ حقیقتا سہم گیا تب ہی رائنا نے کال اٹھالی اور شازر کی جان خلاصی ہوئی۔۔۔۔
