406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 23

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

وہ سسر صاحب کے ساتھ بیٹھے شطرنج کی بازی میں مصروف تھے جب دوبارہ چائے کا سیشن چلا اور رائنا ٹرے لیے آئی اب وہ دونوں کی چائے میں اپنے حسب منشاء دودھ ڈال رہی تھی اور چینی اس نے دونو کی پیالہ میں نہیں ڈالی تھی دونوں داماد سسر اپنی اپنی جگہ گھور کر رہ گئے اب وہ اپنی پیالہ میں چائے کا چمچ بھر کر چینی ڈال رہی تھی گھر پر تو حیدر بھی بدلے کے طور پر روک دیتے تھے یہاں پیچ وتاب کھا کر رہ گئے یہی حال سسر صاحب کا تھا “حیدر میاں آپ نے معصوم منافقت دیکھی ہے”وہ بیٹی کی حرکت کو نظر میں رکھتے داماد سے مخاطب ہوئے

“میرے سامنے ہورہی ہے جناب “وہ بھی سمجھ گئے کس معصوم منافقت کی بات ہورہی ہے

“ہائے اب کیا کریں معصوم منافقت سے بھرے صیاد کی قید میں ہیں اور کوئی ااج سے نہیں 24 سالوں سے”پدرانہ شفقت سے بھرے لہجے میں علی صاحب نے مزاح کے پیرائے میں بات کی مگر اس میں بھی ہر ٹیپکل باپ کی طرح اولاد کی عمر ایک سال پیچھے کرنا نا بھولے بیگم نے بیٹی کے پیدائش سے ہی اس کے باپ کو یہ گھٹی دی تھی

ان کی اس مشفقانہ چالاکی نے حیدر کو خوب لطف اندوز کیا مگر بظاہر ظاہر نا کیا

“اب تو آپ تھوڑے آزاد ہیں ہے نا؟”

علی صاحب نے داماد کے سوال پر انہیں ایسے دیکھا جیسے کہہ رہے ہو “میاں تم نہیں سمجھو گے”

پھر نگاہوں کو زبان بھی دے دی

“میاں اس قید سے کون آزاد ہونا چاہتا ہے اس قید میں گرفتار ہونے کو اس صیاد کو تو دعاؤں میں مانگتے تھے ہم “وہ ہلکے سے آبدیدہ ہوگئے حیدر نے رشک سے باپ بیٹی کو دیکھا انہیں اپنی بہن کا باپ سے رشتہ یاد آیا

جو والد سرکار سے ہوکر جو حکم سرکار تک محدود تھا کیسے بد نصیب باپ ہوتے ہیں جو اپنی بیٹی کی محبت کی قید سے آزاد ہوتے ہیں چچ

رائنا کپ لے کر والدہ اور خالہ دادی کے پاس جا چکی۔ تھی اس گفتگو سے لاعلم تھی اب وہاں ان دونوں خواتین کے ساتھ بیٹھی داماد اور سسر کی جاری کو گھور رہی تھی

“اپنے باپ کو دیکھو زرا” خالہ دادی چھریا تیز کیے ریڈی ہوئیں سائرہ نے سر پکڑا

“ہاں “رائنا نے منہ بنایا

“داماد میں ہی گھس گئے ہیں جیسے خون ہو”

“یہی تو” رائنا نے ان کی گل افشانی پر ہاں میں ہاں ملائی

“بھلا یہ بھی کہیں ہوتا ہے “وہ مزید گویا ہوئیں

“کیا خالہ دادی آپ بھی منفی پہلو نا ڈھونڈا کریں اور رائنا شکر ادا کرو کے تمہارا شوہر تمہارے خاندان کے ساتھ اچھا ہے ورنہ تو ساری عمر گزر جاتی ہے دامادوں کی گردن کا سریا نہیں نکلتا اور عورت بیچاری دو پاٹوں میں پس جاتی ہے پھر گھر خراب ہو تو الزام عورت پر “سائرہ نے منافق معاشرے کو برہنہ کردیا

“صحیح کہہ رہیں ہیں آپ امی میں تو بس مذاق کر رہی تھی اور خالہ دادی کتنی بری بات ہے ایسے آگ میں گھی نہیں ڈالتے”وہ اب خالہ دادی کو چڑا رہی تھی

“ائے ہائے بنو تم تو بے پیندے کا لوٹا ہو ” وہ سخت تپیں

اب وہ وہیل چیئر چلاتی وہاں چلیں رائنا نے ان کی مدد کی جہاں حیدر اور ابا تھے ابا کال آنے پر اٹھے تو وہ پنجے تیز کر بیٹھیں

رائنا انہیں اپنی اور آمنہ کے بچو کی تصویریں دیکھا رہیں تھی

“یہ یہ اس آدمی کے ہیں؟”انہیں نیا صدمہ لگا

“نہیں بھئی یہ میرے بھتیجے ہیں خالہ دادی ” حیدر نے اس کی طرف دیکھا کیسے مان سے میرے بھتیجے کہا تھا ،وہ پہلے دن سے بی اماں تک کو بی اماں کہتی تھی اور وہ علی صاحب کو انکل دل نے کہیں دور ان کو کوسا

“اللہ کی پناہ یہ کب ہوا سائرہ تم نے بتایا نہیں یہ گنجے سرتاج نے کیا چن چڑھایا تمہارے”اب توپوں کا رخ علی صاحب پر تھا جو ابھی واپس آئے تھے اور ہونق تھے

“رائنا کا مقصد میرے میرے بھتیجے میرے بھائی کے بیٹے تھا خالہ دادی ابا کے پوتے نہیں “

وہ انہیں سمجھاتے بولے یکلخت علی صاحب چونکے داماد د نے پہلی بار ابا کہا تھا بزرگ دل خوشی سے کھل اٹھا کبھی کبھی ہمارا چھوٹا لفظ کسی کو بڑا مان بخشتا ہے مگر اکثر یہ بڑی سی خوشی ہم اپنے ہی آنا کے دائرے میں چکر لگاتے گنوادیتے ہیں اور بعد میں دکھی ہوتیں ہیں کے کوئی ہمیں اپنا نہیں مانتا یا مان نہیں دیتا

رائنا دل ہی دل حیدر کی اس قدم پر خوش ہوئی تھی

اچانک زور دار الارم بجا اور خالہ دادی اچھلی گلے میں دوڑی سے لٹکا ہے ٹکی پیک موبائل کو آنکھیں سکیڑے دیکھا پھر شور مچایا “سائرہ سائرہ جلدی جاؤ جلدی جاؤ میرا کینو لے کر آؤ اور ہاں سیب بھی “انہوں نے وہ شور مچایا کے حد نہیں

حیدر نے سوالیہ نگاہیں رائنا کی جانب کی “خالہ بی ہیلتھ کونشس ہیں صرف صحت کو فایدہ پہچانے والی چیزیں کھاتیں ہیں باقاعدہ الارم لگا کر ” وہ بے حد دھیمی آواز میں سرگوشی کرتے بولی۔

حیدر کو اپنا سر گھومتا محسوس ہوا

“کسی دن یہ خاتون پکا مارننگ شو میں آئیں گی”وہ دل ہی دل پر یقین تھے

💖————💖

“یہ شیراز کیو اداس ہے آمنہ ؟”بی اماں نے بھتیجے کا اترا چہرہ دیکھا تو پوچھ بیٹھیں

“بابا کو یاد کر رہا ہے کہتا ہے بابا کو مجھ سے ملنے کا شوق نہیں “آمنہ نے منوعن بتایا

“تو تو کس لیے ہے بول باپ مصروف ہے “وہ اسے ہی ڈپٹتی بولیں

“بولا ہے پر بڑے ہورہے ہیں بچے نہیں بہلتے اب ان بہلاوں میں “وہ عاجز ہوئی

“تیرا لہجہ دیکھ لگتا نہیں تو نے سمجھایا ہوگا یاد رکھ آمنہ تجھے کاری کرا دونگی اگر میرے بھائی پر آنچ بھی آئی تو نے زرا زبان جھولی سرکار کے آگے یا اپنی کچھ لگتی بڑی سرکار کے آگے اس دن دیکھنا حشر اور اگر میرے۔۔”آمنہ کی چٹیا دبوچے وہ مزید بولتیں تبھی شیراز جو کب سے باہر چھپا کھڑا تھا تڑپ کر اندر آیا

“چھوڑیں میری اماں کو چھوڑیں “وہ روتا زور سے بولا

“نہیں ہوں گی کاری میری اماں نہیں ہیں وہ ایسی”وہ چھوٹا تھا مگر ایسے ماحول بچوں کو وقت سے پہلے بڑا کردیتے ہیں “نہیں کہا اماں نے کچھ “

“شیراز تم اس عورت کے لیے مجھ سے گستاخی کر رہے ہو پھوپھی سرکار سے اپنی ,یہ ہے تربیت تمہاری آمنہ “

وہ آمنہ کو چھوڑ کر اب جاہ جلال سے شیراز کی طرف متوجہ تھیں

“اماں اماں کا رتبہ اللہ نے بڑا رکھا ہے بی اماں یہ اماں نے نہیں ٹیچر نے بتا یا اور اور قاری صاحب نے بھی “

“میں اماں کی حفاظت کروں گا اماں کو کاری کیا تو میں بھی کاری ہوں گا “اب وہ رو رہا تھا بی اماں صدمے کی سی کفیت میں وہاں سے اٹھ گئیں وہ سب کچھ کر سکتیں مگر اپنے بھائیوں اور ان کی اولادوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں تھیں ان کی نظر میں بری نہیں دکھنا چاہتیں تھیں مگر شیراز کے لفظوں نے ان کا دل چیر دیا تھا

آمنہ نے تڑپ کر بیٹے کو گلے لگایا اپنے ننھے محافظ کو

“اتنا بڑا ہوگیا میرا شیرو”وہ ماتھا چوم کر روتی بولی

“اماں رونا نہیں اب کوئی کچھ کہے مجھے بتا نا میں اپنی اماں کا خیال کروں گا بڑی سرکار نے اس دن بتایا تھا اماں کا خیال کرنا بہت ضروری ہے اما کی حفاظت ضروری ہے”

آمنہ نے دل سے اس لڑکی کو دعا دی جو بنا جتائے بنا کریدے اس کی مددگار تھی

💖————💖

“یہ سب تماشہ ہوگیا آپ مجھے سب بتا رہیں ہیں بی اماں “شرجیل ٹرخا “دوانچ کا بھولتا اور یہ زبان”

“حواس قائم رکھیں شرجیل سائیں اولاد خصوصا بیٹے پر ہاتھ نہیں اٹھاتے کمزور بنائیں گے اسے آپ “

بی اماں نے سختی سے ٹوکا

“تو کیا کروں اس آمنہ کو سر پر نچوائوں اپنے “

وہ ٹرخا

“فلحال اڑنے دیں ویسے بھی آمنہ کی اڑان اتنی ہی ہے چھٹیاں ختم ہو بچے جائیں اس کے پر خود بخود جھڑ جائیں گے “وہ لاپرواہی سے بولیں

“حیدر کو شک ہے آپ پر”انہوں نے موضوع بدلا

“دوسال پہلے میں کچا کھیلاڑی تھا بھائی سرکار نے پکڑ لیا تھا صد شکر والد سرکار کا وقت تھا بچت ہو گئی اب پکڑا گیا تو ۔۔چچ”

“حیدر دور اندیش ہیں سب سمجھتے ہیں جانتے ہیں کے کچھ گڑبڑ ہے مسلسل نظر ہے ایک ثبوت اور سب ختم “بی اماں پریشان تھیں وہ پنچائیت اور دیگر فیصلوں سے ہٹائی جا چکی۔ تھیں مزید غلطی کی گنجائش نا تھی

,”بھائی سرکار بنا ثبوت نہیں کہیں گے کچھ اور ثبوت میں چھوڑتا نہیں ، جانے آنے کے لیے وہاں(کوٹھے اور شہرینہ )میں چھوٹی گاڑی استعمال کرتا ہو جس کے بارے میں گھر میں کوئی نہیں جانتا نمبر پلیٹ تک جعلی ہے ،منہ چھپا کر جاتا ہوں ,ملازم سوائے داد بخش کے کوئی گاؤں سے نہیں رکھا ورنہ بیغیرت منہ کھول دیتے ہیں “اس نے بڑے فخر سے احتیاطی تدابیر بتائیں ۔

“ہوں !”بی اماں نے ہنکارا بھرا وہ اتنی مطمئن نا تھیں

💖————💖

“ہائے اللہ !چاچی یہ تو نا کہہ میں کہاں رہوں گی بھلا”وہ رو دینے کو ہوئی

“جھلیے رونے کی کیا بات ہے زرا سے مہینے کی بات ہے تو کہیں اور بندوبست کر لیں بعد میں آجانا “چاچی جس خود بھی جانتی تھی کے زرا سی بات نہیں ہے پھر بھی آرام سے بولی اس کے گھر والے دوسرے گاؤں سے مہینے بھر اس کے ہاں ٹہرنے آرہے تھے پورا ٹبر وہاں رہتے سکینہ کی جگہ نا بنتی۔

سکینہ الگ پریشان تھی کے کیا کرے ہوسٹل کے پیسے نا تھے نا ہی ابا مانتا ،اور کوئی رشتیدار بھی نا تھا شہر اس کا ایگزامز سر پر تھے تین بعد ہر صورت واپس جانا ضروری “اللہ جی میں کیا کروں اب”

💖————💖

وہ وہاں کافی دیر بیٹھے خا کہ دادی چونکہ “ٹیبلیٹ”پر ارتغل دیکھ رہیں تھی اس لیے امن۔ میں رہیں اور انہیں بھی رہنے دیا وقتاً فوقتاً ہینڈ فری لگائے وہ اچھلتی اور کوئی نا کوئی ڈرامے پر تبصرہ کرتیں

“سیلجن کردے انہیں کردے سیدھا”اب بھی وہ کسی کو سیدھا کرانا چاہ رہی تھیں

خوشگوار ماحول میں کھانا کھا کر وہ نکلنے کے لیے کھڑے ہوئے رائنا نے تو رکنا تھا

وہ چلتی چھوڑنے باہر تک آئی آ تو ابا رہے تھے مگر امی نے اسے بولا وہ ساس کی عقلمندی کے قائل ہوگئے

“چلو ٹھیک پھر ۔۔پڑسوں تمہیں پک کرنا ہے”وہ بولے لہجے میں اداسی تھی

“جی,حیدر آپ خیال رکھیے گا اپنا”

“موہ پکڑے اس کے روبرو ہو کر دیکھنے لگے یہ سادہ سا چہرہ کتنا عزیز تھا دل چاہا ساتھ ہی لے جائے اسے بھی ، ان کے ایسے دیکھنے پر رائنا کا دل پگھلا ایسے بھی کو ہی چاہتا ہے گھنی پلکیں رخسار پر سایہ فگن ہوگئیں حیدر نے مڑ کر پیچھے دیکھا “کیا دیکھ رہیں ہیں وہاں”وہ حیران ہوئی

“بھئی دیکھ رہا ہوں کے کوئی ا تو نہیں رہا”اطمینان کرنے کے بعد وہ اس کے قریب آئے دونوں ہاتھو میں چہرہ تھاما ور ماتھے پر محبت ثبت کی

“دودن زیادہ نہیں ہیں جاناں “مدھم سرگوشیانہ لہجہ ۔

“اللہ حافظ “اسے خاموش پا کر موڑے

رائنا کا دل اداس ہونے لگا اسے خود بھی سمجھ نا آیا کیو

اس نے ان کا ہاتھ تھام کر روکا

“آپ کل آجائیں گا ,ساتھ واپس جائیں گے”

وہ مدھم سا بولی تو حیدر کو خوشگوار حیرت نے آگھیرا

“اٹس اوکے تم اسٹے کر لو “انہیں اچھا نا لگا ان کی وجہ سے وہ قربانی دے اس کا گال تھپتھپاتے بولے

“نہیں بس یہ ٹھیک ہے ،پر آپ جب آفس جائیں گے میں یہاں اجایا کروں گی”وہ جلدی سے بولی

“ٹھیک,خیال رکھنا جاناں ،اور فون ساتھ رکھنا کال کروں گا”وہ پیار سے گال تھپتھپاتے چل دیے اور گاڑی میں بیٹھ گئے رائنا دیر تک انہیں جاتا دیکھ رہی تھی اپنی کفیت سمجھ سے باہر تھیں اندر سے ابا کے پکارنے کی آوازیں آئیں تو اندر چل دی

💖————💖

“واؤ !گرل یو آر الائیو” وہ شہرینہ کی آواز سن طنزیہ چہکا

” اپنی انگریز دانی بند کرو،اور جلدی بتاو کیا بنا فلک کے معملات کا “شہرینہ تیزی سے بولی شرجیل باہر تھا اس کا ٹٹو بخش داد بھی نہیں تھا تو اس نے سعود کا دیا فون اور سم لگائی اور کال کی

“بیڈ نیوز ہے ،میری فلک سے بات ہوئی تھی وہ تم لوگوں کے لوگ(کوٹھے والے)اسے لے گئے ,مگر گڈ نیوز اس نے اس عورت(نائیکہ)کی باتیں سنی تھی فلحال اس کا ارادہ فلک کو خفیہ رکھنے کا ہے “

“سمجھ نہیں آرہا شکر کروں یا روں “وہ بے بس تھی پھر سنمبھلی “اور وا ڈاکیومننٹز ,ویزا کا کیا بنا”

“نہیں بنا کچھ ایک اور خبر ہے اچھی یا بری تم طے کرنا “

“ابا تمہارے ماموں واپس آرہے ہیں ہمیشہ کے لیے اور میں بھی تھوڑا عر صہ جا رہا ہوں کام سمیٹوانے کے لیے”شہرینہ کے سر پر دھماکے ہونے لگے تھے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے کیا ہورہا تھا کیا ہونا تھا وہ نہیں جانتی تھی سائیں سائیں کرتے دماغ سے سننے لگی جو رپورٹر سے ملی حیدر بخت کے بارے میں معلومات بتا رہا تھا وہ چپ کیے سنتی گئی۔۔۔۔