406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 12

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

“یا میرے اللہ یہ سب کیا ہے ،ہر مریض کے وائٹلز کیسے اتنے مختلف ہیں۔۔۔”

وہ مریضوں کی فائلز چیک کر رہی تھی۔۔۔ جب اس نے غور کیا کے روز دن کے پانچ وقت چیک کیے جانے وائٹلز میں ایک وقت کے سب مریضوں کے حد سے زیادہ الگ ہیں۔۔۔۔

وہ شش و پنج میں تھی کے کیسے اتنے الگ ہیں اس نے ڈاکٹر کا سائن چیک کیا وہ سعود تھا۔۔۔ کیونکہ وہ سائن کی جگہ نام لکھا کرتا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ لمحہ بھر میں پہچان گئی۔۔۔

وہ اٹھی اور ہاؤس آفیسرز کے لیے بنے کومن روم پہنچ گئی ،جہاں سعود صاحب چند اور ڈاکٹر کے درمیان بیٹھے ان کا دماغ چاٹ رہے تھے۔۔۔۔

یہ تحریر وہ سب کے چہرے پر باآسانی پڑھ سکتی خدا ہی جانے سعود کو کیوں نہیں دیکھتا تھا۔۔۔ یا دیکھتا تھا تو شاید وہ اسے غیر ضروری گردانتہ تھا۔۔۔

“اوہ بھائی بھائی کلاشنکوف زرا دھیرے صبر بیچاری ڈاکٹر رائنا کب سے کچھ کہنے کلیے کھڑی ہے تو سانس لے لے تھوڑا “

آخر کار ڈاکٹر صبیح کی نگاہ رائنا پر پڑی اور سعود کو چپ کرایا۔۔۔۔

“سعود یہ وائٹلز آپ نے چیک کیے تھے۔۔۔؟ زرا ان پر غور کریں ،اور دھیان رکھیں “وہ جلدی جلدی کہتی فائلز بڑھا گئی۔۔۔

“اوہ مائی گاڈ ،واٹ آئی ہیو ڈن۔۔۔؟” وہ اپنے امریکی ایکسینٹ میں بولا۔۔۔

آئی ایم سو سوری ایکچولی ڈاکٹر مجھے مائیگرین ہوتا ہے مے بی اس لیے آئی ہوپ یو ول مینج”

سب نے بیزاری سے ڈرامہ دیکھا ایک دو نے ہمدردی بھی کردی اب وہ اپنے مائیگرین کے قصے سنا رہا تھا۔۔۔

“ڈاکٹر سعود آپ جب ٹھیک ہو جائے اپنا کام کر لیجئے گا۔۔۔ اور یاد رہے ڈاکٹر صابر کے راؤنڈ سے پہلے ہو ورنہ آپ تو جانتے ہیں انہیں۔۔۔”

وہ ٹھنڈے لہجے میں اسے سینئر ڈاکٹر کی دھمکی بھی لگا گئی سعود کو اس بھولی شکل سے ایسی صاف گوئی کی امید نا تھی۔۔۔

وہ اس کو جاتا دیکھ منہ بسور گیا جبکہ باقیوں نے دل ہی دل رائنا کو سراہا۔۔۔۔

💖————💖

وہ وارڈ میں مصروف تھی جب حیدر کی کال پر کال آنے لگی اس نے وقت دیکھا دن کے دوبجے تھے۔۔۔۔”

کہا تو رات کا تھا پھر ابھی کیوں کال کر رہیں ہیں۔۔۔؟سب خیر ہو”

اس نے فون واپس پاکٹ میں ڈالا ،کام سے جیسے ہی فارغ ہوئی اس نے کامن روم میں جا کر حیدر کو کال ملائی۔۔۔۔

“سوری حیدر میں وہ کام۔۔۔۔” سلام دعا کے بعد اس نے وضاحت دینی چاہی۔۔۔۔

“کوئی بات نہیں جانم۔۔۔۔ اچھا سنو میں زرا جا رہا ہوں کام کے سلسلے میں کل رات کو واپسی ہوگی۔۔۔ ٹھیک ہے”

“جی ٹھیک ہے۔۔۔۔” وہ بھلا کیا کہتی پھر کچھ خیال آنے پر بولی۔۔۔

“خیال رکھیے گا اپنا۔۔۔”

“پوچھ تو لو کہاں جا رہا ہوں۔۔۔؟”

وہ متبسم بولے آواز میں شرارت تھی پھر خود ہی جواب دیا”

ایک دوست باہر سے آیا ہے اس سے ملنا ہے۔۔۔”

“ر کنے کی کیا وجہ ہے۔۔۔؟” وہ حیران ہوئی۔۔۔

“جانم پارٹی کے کام ہیں تم پریشان نا ہو۔۔۔۔ اور یہ ہاسپٹل میں بھی زیادہ کام نا کرنا۔۔۔ کھانا ٹھیک سے کھانا اور موبائل چارج رہے۔۔۔ میں پھر کال کروں گا۔۔۔”

“کس سے ٹاک شاک چل رہی تھی۔۔۔”یہ اس کی کولیگ رودابہ تھی۔۔۔

“ان کے ہسبینڈ ہوگے آئی جسے میٹ ہم ٹو ڈیز بیک۔۔۔”

سعود کی زبان پر خارش ہوئی۔۔۔

“رائنا میرڈ ہو۔۔۔” رودابہ نے حیرت سے پوچھا۔۔۔۔

“الحمداللہ۔۔۔” رائنا پر اعتماد نظر آنے کی کوشش میں لگی۔۔۔

“بڑے رچ اور شاندار ہیں ان کے ہسبینڈ۔۔۔” سعود نے لقمہ دیا۔۔۔

رائنا کو گھبراہٹ ہونے لگی اب سب اس سے سوال کر رہے تھے۔۔۔ کہ وہ اور حیدر اتنے مختلف بیک گراؤنڈ سے تھے تو کیسے ملے۔۔۔۔

رائنا کے لیے یہ موضوع تکلیف دہ تھا یہ اسے وہ سب یاد دلا دیتا تھا جو وہ بھولنے کی کوشش کرتی تھی۔۔۔

“ویسے ایج دیفرنس کافی دکھ رہا تھا آپ دونوں کا,کتنا ہے ویسے۔۔۔۔”

سعود کے سوال نے ایک اور شش وپنج میں ڈالا اسے تو حیدر کی عمر نا پتا تھی۔۔۔

“ایج از جسٹ آ نمبر آپ یو ایس سے ہوکر ایسے سوال کیسے کرلیتے ہیں۔۔۔” اس نے خود پر خول چڑھاتے ہنس کر ٹالا اور کام کا بہانہ کیے وہاں سے چلی گئی۔۔۔

💖————💖

وہ پارٹی آفس میں تھے جب ایاز کی کال آئی۔۔۔۔

“حیدر بھائی وہ آپ سے ملنا چاہ رہی ہے۔۔۔” وہ سلام دعا کے بعد مدعے پر آیا۔۔۔

“اسے جتنی ڈھیل دے سکتے تھے دے دی ایاز اسے کہو غنیمت سمجھے۔۔۔ اس دن بھی میری بیوی نے اس عورت کو دیکھ لیا تھا۔۔۔ دوبارہ وہ اس کی وجہ سے پریشان ہوئی تو میں باقی سب رشتے بھول جاؤں گا۔۔۔” وہ تیوری چڑھا کر بولے۔۔۔۔۔

“جی بجا ہے آپ کی بات مگر بھائی اس کی حالت وہ آپ کو نرمل بجیا کا واسطہ دے رہی ہے۔۔۔ آپ ایک بار۔۔” ایاز کچھ کہتے کہتے روکا۔۔۔

“بے شرموں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔۔۔ بول دو آ جائے مگر آخری بار اس کے بعد کوئی آئیندہ نہیں نرمل کے نام پر بھی نہیں ,وہ سامان دے دیا۔۔”

“نہیں بھائی”

“ہمم لے آنا وہ بھی آج سارے قصے ختم ہوں گے اس کے۔۔۔” انہوں نے حتمی لہجے میں کہا اور جگہ طے کرنے لگے۔۔۔

“یہ عورت پھر واپس نہیں آنی چاہیے۔۔۔ اتنی مشکل سے سب کچھ جگہ پر آیا ہے۔۔۔”

وہ رائنا سے ڈرتے نہیں تھے۔۔۔ وہ جانتے تھے وہ چاہے کتنی بھی باغی ہوجائے۔۔۔ ان کی پہنچ کے آگے نہیں ہے۔۔۔

مگر کٹھ پتلی رائنا ان کو نہیں چاہیے تھی۔۔۔ انہیں تو مختلف رنگوں سے گندھی رائنا چاہیے تھی۔۔۔ جو بھلےان سے محبت نا کرتی۔۔۔ پر ان کی وفادار تھی۔۔۔ ان سے اکتاہٹ نہیں رکھتی تھی ان کے خلاف نہیں تھی وہ اسی نہج پر سوچتے طے کر چکے تھے کے کیا کرنا ہے۔۔۔۔

💖————💖

“کیا حال ہے وڈیرے صاحب۔۔۔” یہ شازر تھا حیدر کا دوست جو تعلیمی دور سے ساتھ تھا۔۔۔ کچھ عرصہ پہلے انگلینڈ منتقل ہو گیا تھا۔۔۔ ابھی بھی عزیز کی شادی پر آیا تھا۔۔۔

حیدر کی دوستی بہت کم لوگوں سے تھی۔۔۔ چھوٹی عمر میں رتبے اور زمداریوں نے انہیں ان سب چیزوں سے دور کردیا تھا۔۔۔ شاہزر ہی وہ دوست تھا جس کے ساتھ نے حیدر کو نئی سوچ دی تھی۔۔۔ شاہزر کے علاوہ رائنأ تھی جو ان کے آگے تھوڑا بولتی تھی۔۔۔

“میں بلکل ٹھیک۔۔۔ تم سناؤ۔۔۔” وہ ہشاش بشاش بولے۔۔۔۔

“شادی پر بھی نہیں بلایا یار۔۔۔ ویسے یہ اچانک کیسے دل میں پھول کھل گئے۔۔۔۔؟

حیدر نے اسکو رائنا کو پہلی بار دیکھنے اور پسند کرنے کا واقعہ بتایا۔۔۔ باقی حصہ انہیں مناسب نا لگا تھا بتانا۔۔۔

“بہت خوش ہوں کے تجھے ایک ہمسفر مل گیا۔۔۔ پر بھابھی کیلیے ماحول وغیرہ نیا ہوگا۔۔۔ تیری نرمی اور کوآپریشن سے ہی انہیں آسانی ہوگی۔۔۔” وہ سالوں بعد ملنے پر بھی نصیحت کرتا بولا

“چل اب گھور مت۔۔۔” ان کے مصنوعی گھوری پر بولا تو دونوں ہنستے اندر چل دیے۔۔۔

💖————💖

“بتا کب سے کب سے تھا یہ گند۔۔۔؟

“وہ اسے بالوں سے پکڑے گھسیٹتا حقارت سے دیکھتا بولا۔۔۔