406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 16

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

وہ آمنہ کی باتوں کے زیر اثر تھی دماغ دہری کفیت کا شکار تھا بہرحال آرام کرکے حالت بہتر ہوئی تو اس نے بڑا سوچتے آمنہ کی بات پر عمل کرنے کا سوچ ہی لیا۔۔۔۔

اب وہ ڈارک گرین اور بلیک کومبینیشن کے جوڑے میں ہلکا ہلکا سا نو میک اپ لک کیے ریڈی تھی کانوں میں وہ آویز ے جو شاید حیدر کو پسند تھے۔۔۔ کیونکہ وہی لائے تھے جو بھاری ہونے کی بنا پر اسے پسند نا تھے مگر آج پہن ہی لیے۔۔۔

بال کھولے وہ ریڈی تھی ،تبھی رکھی اطلاع دینے آئی “بیبی سرکار بڑے سرکار آگئے بی اماں بلارہیں ہیں”

“ہاں آئی ،تم نے سب سامان تیار کر لیا چائے کے ساتھ “

“جی جو آپ نے بولا تھا کرلیا”

وہ گہری سانس بھرتی چل دی۔۔۔

💖————💖

وہ کمرے میں آکر کوٹ اتارنے آگے بڑھی تو انہونے ہاتھ سے روک دیا اور اس کے نکالے کپڑے چھوڑ کر خود کپڑے نکال کر باتھروم میں گھس گئے۔۔۔

رائنا نے ہار مان لی پورا وقت باہر بھی اسے نظر انداز کیا تھا۔۔۔ اور اب بھی یہی حال تھا۔۔۔

“ناراض وکیل کو کیسے مناؤں”وہ سوچتی پریشان ہوئی۔۔۔۔

وہ باہر آگئے تھے مگر اس پر کوئی توجہ نا تھی

آخر وہ دل کڑا کر کے آگے بڑھی۔۔۔

“ناراض ہیں آپ ” کوئی جواب نا آیا۔۔۔

“حیدر ” اب پھر پکارا وہ نظر انداز کرتے آگے بڑھے۔۔۔

“حیدر پلیز” اب کے آگے آگئی پریشان پریشان چہرہ سجا سنورا سراپا سب منانے کی ہی کوشش تھی۔۔۔۔

“حیدر ناراض نا ہو میں نہیں سمجھی تھی “

۔۔۔۔۔۔۔بھول جائیں پلیز ۔۔۔”

انہوں نے ایک لمحہ دیکھا اور پھر ہاتھ سے پکڑ کر قریب کیا۔۔۔۔

“اس سب کا فائدہ نہیں رائنا جب رشتے میں یقین ہی نا ہو ،محبت نہیں کرسکتیں اعتبار تو کرو ،اتنا بےغیرت سمجھتی ہو مجھے کے کوئی میری بیوی پر کیچڑ اچھالے گا میں چپ رہوں گا۔۔۔ نہیں مانگی تھی میں نے تم سے وضاحت اور وجہ صرف اعتبار تھی جو مجھے تم پر ہے “

وہ اسے قریب کیے کہہ رہے تھے۔۔۔

“میں سمجھی نہیں تھی حیدر آپ کا طریقہ پر اعتبار تھا کے آپ نہیں یقین کریں گے سچ میں “وہ وضاحت دیتی بولی۔۔۔۔

“پورا دن سوچتی رہی کے آپ کو کیسے مناؤں مجھے نہیں آتا منانا میں کیا کروں۔۔۔

“وہ روہانسی ہوئی حیدر کے دل نے ہتھیار پھینکے اور اسے قریب کرلیا۔۔۔۔

وہ اس اچانک اقدام پر سٹپٹائی۔۔۔۔

“آئیندہ تم نے اس طرح مجھے رد کیا نا رائنا پھر دیکھنا”

نرم لہجے کی دھمکی پر وہ دور ہوتی شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھنے لگی۔۔۔

“اا آپ ہاتھ اٹھائیں گے ؟” اس کے لیے یہ تصور ہی محال تھا۔۔۔۔

اس کا ہراساں چہرہ حیدر کے لبوں پر مسکان لے ہی آیا۔۔۔

انہوں نے اسے بازوں تھام کر بیڈ پر بٹھایا اور ہاتھ تھام لیے۔۔۔۔

“تم پر ہاتھ تو کیا آواز بلند نہیں کرتا میں کر ہی نہیں سکتا۔۔۔ اور کبھی کروں تو بےشک چھوڑ جانا۔۔۔ ایسے خیالات کہاں سے لاتی ہوں جان من “

گمبھیر لہجہ سچ کہہ رہا تھا کبھی ضرورت پڑنے پر انہونے سختی کی بھی تھی تو بڑی نرمی سے کی تھی ،رائنا نے ان کی وارفتہ نگاہوں سے گھبرا کر نگاہ چرائی۔۔۔۔

“بہت حسین لگ رہی ہو “وہ خمار آلود نگاہیں مرکوز کیے بولے اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔

“مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے رائنا ،اعتبار کا دعوا ہے نا تو بھولنا مت “

اسے یقین دہانی کراتے اسے آہستہ سے سندس کا معاملہ گوش گزار دیا وہ لب بھینچے بیٹھی رہی وہ خود اپنی کفیت سمجھ نہیں پارہی تھی۔۔۔

یہ محسوسات عجیب سے تھے اس نے اس شخص کو دیکھا جسے وہ بلکل نہیں جانتی تھی۔۔۔ جو اس کا شوہر تھا اسے اپنا دل اس شخص کی طرف کھینچتا محسوس ہوا۔۔۔

کون سندس کیسی سندس سب کہیں فضا میں تحویل ہوگیا وہ غصہ کرنا چاہتی تھی ان کے اس کی مدد کرنے پر جس نے اسے نقصان پہنچایا تھا۔۔۔ اسے خدشات تھے کیا اس کے ہر گناہگار کو معافی دی جائے گی۔۔۔ اس کے باوجود وہ خود کو ان کی طرف کھینچتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ اس نے اس چہرہ کفیت سے گھبرا کر اٹھنا چاہا۔۔۔ پر حیدر نے اس کے ہاتھ مظبوطی سے تھامے تھے وہ جا نا سکی جا نا چاہتی بھی نہیں تھی بس یہ بات وہ خود بھی جانتی نہیں تھی۔۔۔

“تمہارے ساتھ جو اس نے کیا اس کی کرنی بگھت چکی وہ دھوکے کا جواب دھوکے سے ہی ملا ہے اسے۔۔۔۔ ایک وعدہ تھا جو پورا کیا میں نے وہ وعدہ جو مرحوم بیوی سے کیا تھا۔۔۔ امانت تھی جو لٹائی بس اور کوئی ہمدردی نہیں مجھے اس سے۔۔۔” وہ پہلی بار کسی کو وضاحت دے رہے تھے ،کافی مشکل امر تھا۔۔۔

“کل کو اس کے بھائی آئیں گے معافی مانگیں گے پھر”

وہ خدشات کو زبان دے کر بولی۔۔۔

“تمہیں لگتا ہے ان لوگوں نے واپسی کی کوشش نہیں کی۔۔۔ درخواستیں نہیں آئی۔۔۔۔ سفارشیں نہیں ہوئیں۔۔۔ تمہاری سوچ سے زیادہ شور ہوا۔۔۔ مگر نا فیصلہ بدلا ہے نا بدلے گا۔۔۔ یہ میرے سنبھالنے کی چیزیں جان من مت ہلکان ہو ان میں۔۔۔ تم پر اب کوئی آنچ نہیں آئے گی۔۔۔” وہ اس کے آنسو صاف کرتے بولے۔۔۔۔

“آپ کو بہت پسند تھیں وہ “لہجہ حسد سے پاک تھا بس سوال تھا پھر بھی حیدر کے چہرے پر مسکان لے آیا۔۔۔

“جان حیدر مت پڑو اس سب میں عشق ہو تم میرا مت ہلکان کرو خود کو۔۔۔” وہ اس کے شانوں پر بازو پھیلاتے بولے۔۔۔

“جل نہیں رہی میں بس پوچھ رہی تھی۔۔۔ یہ بات یہ ٹوپک ختم کرتے ہیں حیدر مگر آپ آئیندہ اس سے نہیں ملیں گے۔۔۔ آپ بے شک مدد کیجیے پر ہمدردی نہیں ملاقات نہیں۔۔۔” وہ اچانک عجیب صدی لہجے میں حق جتاتے بولی۔۔۔

“حکم دے رہی ہو۔۔۔”رعب سے پوچھا گیا۔۔۔

“آپ نہیں ملیں گے مانیں گے نا بات۔۔۔” وہ ہنوز اسرار کر رہی تھی بڑی آس سے ہاتھ پھیلائے مان سے حق جتا رہی تھی۔۔۔ حیدر کے دماغ نے کہا چھوڑو عورت ہے سر چڑھ جائے گی دل اس کی وکالت پر اتر آیا۔۔۔ عشق ہے تمہارا تم سے چاہ سے کہہ رہی ہے۔۔۔ رد کرو گے اسے اور دل جیت گیا حیدر نے ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ رضامندی دے دی۔۔۔

وہ مسکرائی نم آنکھوں سے کتنا بھلا منظر تھا وہ بے اختیار ہوئے اور ہاتھ بڑھا کر لٹ کان کے پیچھے اڑس دی۔۔۔

“آہ کون کسے منانے آیا تھا کون کسے منا بیٹھا “وہ سرد آہ بھر کر بولے تو وہ ہنس دی۔۔۔۔

“ہاں تو ٹھیک ہے نا آپ کی زمداری زیادہ ہے”

“وہ کیسے”عجیب منطق تھی بچپن سے سنا تھا شادی نبھانے کی زمداری عورت کی ہے۔۔۔

“دیکھے مرد کو اس رشتے عورت پر فضیلت ہے ،ہے نا، کیو صرف نان ونفقہ کے لیے نہیں بلکہ اس لیے کے وہ فزیکلی مظبوط ہے عورت سے سمجھدار ہے کیسے ؟ پتا ہے آپ کا بلڈ مجھ سے زیادہ ہے،قوت مدافعت زیادہ ہے،دماغ کی ایک لیئر بھی زیادہ ہے،اپ کی کاٹھی مجھ سے زیادہ مظبوط ہے یعنی پریشر جھیلنے کی طاقت زیادہ ہے ،جبکہ مجھے اللہ نے جزباتی بنایا دماغ کا وہ حصہ جو جزباتی فیصلے کرتا ہے میرا کام کرتا ہے میرے ایموشنز زیادہ ہیں تو اس سب سے پتا چلا کے صبر برداشت کام کرنے کی صلاحیت اللہ نے آپ کو دی ہیں اسی لیے حکمران بنایا اور حکمران کے لیے بڑے سخت رولز بھی دیے اب اتنا سب کچھ ملا ہے تو زمداری بھی زیادہ ہوگی نا حکمرانی پھولوں کی سیج تھوڑی ہے یہ تو کانٹوں سے بھرا رستہ ہے اس لیے میاں بیوی کے رشتے کو نبھانے میں مرد کی زمداری زیادہ ہے ،جیسے اولاد کے معاملے میں عورت کو یعنی ماں کو فضیلت ہے اس کی زمداری باپ سے زیادہ ہے ایسے شوہر کو بیوی پر ایک درجے فضیلت ہے اسی لیے رشتے کو نبھانی کی زمداری بھی اس کی زیادہ ہے” وہ دانشوری سے دلائل سے بات کررہی تھی۔۔۔

وہ دل ہی دل میں کچھ متفق بھی تھے مگر تسلیم صرف دل میں ہی کیا۔۔۔

“تم تو بہت چلاک نکلی رائنا خاتون “وہ اس کی ناک دبا کر بولے۔۔۔

اس نے گھور کر دیکھا اتنی تقریر پر یہ تعریف پھر ان کو مسکراتے دیکھ خود بھی ہنس دی دودن سے چھایا مطلع صاف ہوگیا تھا بدگمانی کے بادل چھٹ ہی گئے تھے۔۔۔

💖————💖

سعود نے فلک سے قریبی کتب خانے آنے کو کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کے وہ اپنے ڈاکومنٹس لے کر آئے مگر وہ گھنٹہ ہوا لاپتہ تھی اس نے کئی بار کال ملائی مگر کوئی نتیجہ برآمد نا ہوا ،

” واٹ دا ہیل از شی کریزی؟(کیا مصیبت ہے کیا یہ پاگل ہے)

“وہ سخت جھنجھلایا پھر اس کو ٹیکسٹ میسج بھیجا

“پک اپ دا فون اف یو لو یور سسٹر ” (فون اٹھاؤ اگر بہن سے پیار ہے تو)

اس کے بعد دوبارہ کال ملائی جو صد شکر اٹھا لی گئی ۔

“شکریہ لیڈی ڈیانا آپ نے کال تو اٹھائی”وہ دانت پیس کر بولا۔۔

“آپ کون ہیں کیو پیچھے پڑے ہیں میرے کیسے جانتے ہیں مجھے میری بہن کو”

“سن ستر کی ہیروئن صاحبہ میں ڈاکٹر سعود آپ کے ل پرانے لاپرواہ اور نئے نئے پرواہ کرنے والے ماموں کا 25 سال پرانا بیٹا ہوں انہونے مجھے آپ کے اور آپ کی بہن کے ریسکیو کے لیے بھیجا جہاں جوب کرتا ہوں وہاں اللہ کے کرم سے آپ کی بہن سے ملاقات ہوئی وہ وہاں ٹوٹی پڑی ہیں اور فکر آپ کی زیادہ ہے ان کا کہنا ہے پہلے آپ کو فرار کرایا جائے اب اگر اطمینان ہوگیا ہو تو آجاؤ ڈاکومنٹس سمیت تاکہ تمہیں روپوش کرانے کی کوشش کر سکوں

“وہ حد سے زیادہ چڑا ہوا تھا “ایک تو یہ کسی کام کو ادھورا نا چھوڑنے کا مرض مجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گا”وہ دل میں کلسا۔۔

“میں کیسے مان لوں؟”وہ ہنوز مشکوک تھی

“اب کیسے یقین دلاؤں ؟”

“آپی کہاں ہے”

“بتایا تو ہے ہسپتال میں ہے نہیں کرسکتی کال ٹوٹی پڑی ہے”

“کتنا بے حس ہے” اس کے ایسے بولنے پر وہ سوچ کر رہ گئی

“تمہاری بہن تمہیں اسکولرشپ پر باہر بھیجنا چاہتی ہے “ان “لوگوں سے دور,ہیں نا”

“ہاں آپ کو سچ میں آپی نے ہی بھیجا ہے”اسے اب کے تھوڑا یقین آ ہی گیا کیو کے یہ بات اس کے اور شہرینہ کے ہی درمیان تھی

“ہاں ہاں ہاں “وہ سڑ چکا تھا

“میں ابھی آئی”وہ جھٹ بولی،اور عبایا پہنتی باہر نکلی

💖————💖

” کیا بنا اس گالی کا ،اب تک بیمار ہے”وہ بدمزہ ہوا شہرینہ کو دیکھنے نہیں جا سکتا بی اماں نے اسے شہرینہ کو وہاں سے نکالنے پر منع کیا تھا اور جانے سے بھی رائنا کے ساتھ ساتھ حیدر بھی مشکوک تھے وہ کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔

اس نے چڑ کر فون رکھا شہرینہ کو دل ہی دل گالیاں سنائی۔۔

تبھی سامنے سے آتی آمنہ دکھی گورا۔

رنگ ،سوہنے نین نقش ،سڈول سراپا اسے اچھے سے سر تا پیر دیکھنے کے بعد وہ کڑیلے جیسا منہ بنا گیا

“بڈھی”

آمنہ کو اس شخص کے کسی خطاب سے اب فرق نا پڑتا وہ اسے حشرات العرض سے بدتر لگتا تھا جس میں کسی چیز کی کوئی تمیز نہیں تھی حشرات العرض اس شخص سے زیادہ مہذب ہوگے کچھ تو اصولوں ضوابط ہوںگے ان کے وہ اکثر سوچتی

وہ اسے حقارت سے تکتا نکل گیا آج اس کا ارادہ ہیرا بائی کی طرف جانے کا تھا۔۔۔

آمنہ سر جھٹکے فون کی طرف بڑھ گئی اس کے گیارہ سالہ بیٹے کا ہاسٹل سے فون آنا تھا دونو بچے گھر آرہے تھے تیسرا تو اس کے پاس ہی ہوتا تھا وہ چار سال کا تھا اس کی سوکن کا بیٹا مگر آمنہ کے لیے تینوں ایک برابر تھے۔۔

“وعلیکم اسلام ماں کی جان کیسے ہو تم دونوں ماں بیتاب ہے دیکھنے کو”وہ آواز سنتے ہی تڑپی

“ہم ٹھیک ہیں اماں بس کل ڈرائیور کو جلدی بھیجیے گا ،بہت بے چین ہیں آپ سے ملنے کو”اب وہ باری باری متانت بھری آواز میں سب کی خیریت پوچھ رہا تھا

“بیٹا اپنے بابا کا نہیں پوچھو گے”

“ہاں کیسے ہیں وہ”لاتعلقی سے پوچھا گیا وہ پوری کوشش کرتی کے بچے نا جان پائیں مگر اس کی پہلی اولاد بہت سے رازوں کی ہمراز تھی بہت وہ یہ بات ماں پر ظاہر نا کرتا تھا پر قسمت کی ستم ظریفی سے بہت کچھ جان چکا تھا۔۔۔

وہ باپ سے دور رہتا تھا گو کے شرجیل نے خود بھی بچوں پر کبھی ایک جھپی دوپپی سے زیادہ مہربانی نہیں کی تھی۔۔۔

حالانکہ اسی اولاد کے لیے اس نے اپنی سولہ سالہ بیوی کو موت کے گھاٹ چڑھا دیا اس کے تین مسکیرج ہوئے تھے اور ڈاکٹر کی بات کانوں میں اڑادی گئی تھی چوتھی بار وہ جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھی تھی اب انہیں بیٹوں کے لیے اس کے پاس وقت ناتھا یہ بھی غنیمت تھا ورنہ تو کہیں بچے باپ ہی کا رنگ نا پکڑ لیتے

اب وہ ماں کو ٹالے دوسری باتوں میں لگا گیا تھا

💖————💖

فلک سعود کی ہدایت کے مطابق عام سے طریقے سے چلتی بک شاپ پہنچ گئی تھی وہاں پر پہنچ کر اس نے سعود کے قریب شیلف پر کتابیں دیکھنی شروع کی چند ایک باسکٹ میں ڈالیں پھر منصوبے کے مطابق دو تین کتابوں کا سیٹ کاؤنٹر پر دکاندار کو واپس کردیا مہنگا ہونے کا بہانہ کرکے اس نے سعود کی ہدایت کے مطابق اس میں سامان چھپا دیا تھا اب وہ وہاں سے جا چکی تھی سعود نے موقع تاکتے وہ گھٹل خرید لیا گو کے شہرینہ کے مطابق ان دونوں پر کوئی خاص پابندی یا نظر نا تھی کے نائیکہ اور شرجیل دونوں کے مطابق وہ لڑکیاں نہتی اور تنہا تھیں شہرینہ کے سریندر پر وہ پورے مطمئن تھے ان کی جانب سے مگر سعود کے خیال میں ایسے شاطر لوگوں کو ہلکا نا لے کر احتیاط سے کام۔لینس ہی عقلمندی تھی

💖————💖

آج بچے آرہے تھے رائنا نے دیکھا بھابھی آمنہ نہال تھی پر وہ باپ سرے سے غایب تھا گو کے اسے آمنہ بتا چکی تھی مگر اسے متلق پرواہ نا تھی وہ عیاشی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا تھا

دونوں بچے اچکے تھے ایک گیارہ سال کا تھا دوسرا آٹھ سال کا دونوں بہت اچھے سلجھے ہوئے تھے رائنا سے جلد ہی گھل مل گئے انہیں یہ تائی سرکار بڑی پسند آئی تھیں رائنا نے ان کے لیے خود سے اسپیگھٹیس اور پاستا بنایا تھا وہ سب ہنستے کھیلتے ماحول میں بیٹھے تھے کے حیدر چلے آئے شیراز (بڑا بیٹا) اور فراز (چھوٹا)بھاگ کر ان کی طرف گئے اور گلے لگے انہوں نے ایک باپ کی طرح ان سے ان کے معمول دریافت کیے ،شیراز جب سے آیا تھا باپ کو نگاہیں تلاش رہیں تھی گو منہ سے نا کہتا تھا مگر ۔۔۔باپ کو یاد کرتا تھا اس کا جی چاہتا تھا اس کے ابو بھی اس کے ساتھ وقت گزاریں اس کی ماں کی عزت کریں وہ نارمل خاندان جیسے ہوں، مگر قسمت ،اب حیدر کی بھرپور توجہ سے وہ کھل اٹھا ابھی بھی وہ تیسرے کو گود میں چڑھائے باقی دونوں کوگھیرے میں لیے حال احوال پوچھا رہے تھے

رائنا نے اس خوبصورت منظر کو دل کے ساتھ ساتھ تصویر کی صورت میں بھی محفوظ کر لیا ،وہ عقیدت سے حیدر کو دیکھ رہی تھی ،اسے اپنی ماں کی بات یاد آئی جو وہ اکثر کہتی تھی کہ شادی اس سے کرنی چاہیے جو “فیملی مین ” ہو جو رشتے نبھانے اور ان کی قدر کرنا جانتا ہو اس کے والد بھی ایسے تھے آج اسے حیدر کو دیکھ بھی یہی خیال آیا اس نے اپنے “فیملی مین ” کی سلامتی کی دعا کی۔۔۔۔