406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 29

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

وہ لوگ آگے کے معملات طے کر رہے تھے جب سعود بولا

“اس سے پہلے تو آپ صاف منع کر چکے تھے مدد کرنے سے اب کیا وجہ ہے یہ ویڈیو(ہاشم کی موت کا ثبوت) ؟

“اس وقت آپ کو میری ضرورت زیادہ ہے ین فضول سوالوں میں وقت نہ خرچ کیجیے “انہونے اپنے مخصوص رعب دار اندازمیں چپ کرادیا

سعود منہ بنا کر رہ گیا

💖————💖

زاہد شرجیل کے ٹیسٹ رپورٹ انکے سامنے لئے کھڑا تھا اسکی آنکھیں نم تھیں

“یہ یہ دیکھے شرجیل بھائی “ایچ آئی وی پازیٹو ہیں ،یہ کیسا امتحاں ہے بھائی “وہ رو پڑا

حیدر خود سکتے میں تھے اسے کیا تسلی دیتے اٹھ کر شرجیل کے پاس گئے

وہ ابھی بھی چت لیٹا تھا

حیدر کئ آنکھوں میں آنسو آگئے

اللہ‎ نے اسے بڑی سزا دی تھی اسکا پردہ بھی سركا دیا تھا

اب تک سواے حیدر کے کسی اور کو نہیں پتا تھا اسکے ساتھ کیا ہوا تھا گو سکی چیخ و پکار کافی کچھ عیاں کر گئی تھی مگر ۔۔۔۔ایک پردہ تو تھا جو اب سرک گیا تھا

ڈاکٹر کے مطابق یہ ازیت ناک شرم ناک بیماری سالہا سال چلنے والی تھی ،یہ اندر سے انسان کو کھوکھلا کرتی اور پھر انسان ہر جراسیم کے لئے آسان شکار بن جاتا ان میں سے کچھ جراثیم سرطان (کینسر )کو بھی جنم دیتے ہیں

اس کا علاج بیماری کو جڑ سے نہیں اکھا ڑ سکتا البتہ اثرات کو کم کر سکتا ہے

💖————💖

“شرجیل بخت کسی کا جھوٹا نہیں کھاتا “اسکے کانوں میں اپنے ہی کہے ہوے مکروہ الفاظ اور قهقهہ گونجا

“یہ پابندیاں یہ سب عورت کے لئے ضروری ہیں مرد کو حفاظت کئ کیا ضرورت “ایک اور جملہ سکی آنکھیں ترکر گیا گرم سیال جیسے آنسو گال پر بہ گئے

“ہاں تو تیرے جیسیا استعمال کے لیے ہوتی ہیں ،یہ جو جینز شرٹ پہن کر گھومتی ہو یہی توچاہتی ہو تم لوگ “

“یہ تو تجھے مجھ پر بھروسہ کرنے سے پہلے سوچنا تھا مرد کا کچھ نہیں جاتا اب رو ساری زندگی”

“ہوں بڈھی !جوتی ہے جوتی بن کر رہ”

“تو تو میرا کھلونا ہے من پسند کھلونا جسے خرید رکھا ہے میں نے “

ماضی کے تکبر سے بھرے الفاظ اسکے کانوں میں گونج رہے تھے

اسے لگ رہا تھا جیسے سوراخ کر رہے ہوں

وہ سر پٹخ پٹخ کر رونے لگا اذیت کا کوئی انت نا تھا ابھی تو بس شروعات تھی

💖————💖

وہ بالكاونی میں کھڑے تھے ،جب وہ اٹھی اور انکے ساتھ آکر کھڑی ہوگئی حیدر نے آنکھوں میں آئ نمی جھٹکی

بھائی جیسا بھی تھا تھا تو بھائی نا

رائنا نے بازو انکے اطراف پھیلانے کئ کوشش کئ اور تسلی دینے کے انداز سے انکی پیٹھ پر ہاتھ رکھا

“مجھے اکیلا رہنے دو سو جاؤ جا کر “وہ سخت لہجے میں گویا ہوے وہ انکی حالت سمجھ رہی تھی

جانے کے بجاے اس نے اپنا سر انکے کندھے پر ٹکا دیا

وہ بھی شاید یہی سہارا چاہتے تھے

انہونے اسے قریب کیا

“میں اسے اس حال میں دیکھتا ہوں تو اپنا آپ گناہگار لگتا ہے ،میں خود کو عقل کل سمجھنے والا اپنے گھر میں ہو نے والی غلطیاں نا دیکھ سکا “

“جو ہو چکا اس پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے اس سے سیکھ کر آگے بڑہنا ہی زندگی ہے حیدر ،شرجیل بھائی کے لئے اب ہم یہی کر سکتے ہیں کے کفّارہ ادا کرے ان کے ساتھ بھلا کر کے جن کے وہ مجرم ہیں شاید اسی طرح اللہ‎ انھے معاف کردے ان کے لئے آسانی پیدا کردے “اسکی بات سے حیدر کو شہرینہ والے معا ملے کا احساس ہوا انھے اب سعود کو پہلے نا امید لوٹانے پر شرمندیگی ہوئی

“مجھ سے کہ دیا کرے اپنے دل حال یوں اکیلے سارا بوجھ نہ اٹھا یا کریں “

انہوں نے اسکا پر خلوص چہرہ دیکھا

“ایک تم پر ہی تو کھولتا ہوں اپنا آپ “اس بات پر وہ مسکرائی

“چلیں بس اب آرام کرلیں ” دونوں اںدر بڑھ گئے

💖————💖

بی اما آمنہ کے کمرے میں آئی تھیں

“آپ یہاں ؟”وہ حیران تھی

“”ہاں پیاسا ہی کنویں کے پاس آتا ہے “وہ بیٹھتی بولیں :”بڑے ظلم کیے ہے تجھ پر آمنہ ،اپنے بھائی کئ محبت میں اندھی ہوگئی تھی ،مجھے اور اسے دونو کو اگر ہوسکے تو معاف کر دینا آمنہ ،تجھ پر زور نہیں دونگی بس التجا کرونگی شاید دل کا بوجھ کم ہوجاے “

وہ کہتی اٹھیں

“میرا اپکا حساب ختم بی اما ،میں نے بھلا دیا ،مگر شرجیل سائیں نے جو میرے سا رے خواب توڑے بچپن سے سکھایا گیا تھا کے عورت کئ زندگی میں سب کچھ شوہر سے ہے بڑے ارمان لئے آئی تھی سائیں نے سب پاؤں تلے روند دیا کیا میری زندگی کا وقت واپس آسکتا ہے؟ کیسے کر دوں معاف انکو ؟ ہوسکتا گزرتے وقت کے ساتھ کر بھی دوں پر ابھی یہ نہیں ہوگا مجھسے “وہ کہتے کہتے رو پڑی تو بی اما اپنا کانپتا ہاتھ اسکے سر پر رکھ کر چل دیں

💖————💖

ہیرا بائی آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی جو پھول سے چہرے پر مسکراہٹ سجاے کھڑی تھی “کیا ہوا بائی پہلی بار دیکھ رہی ہو کیا “وہ اٹھلاتی بولی

“یہ تو ہے شہرینہ ؟”وہ ہنوز بے یقین تھی

“نہ میرا بھوت ہے “وہ بد مزہ ہوئی “ویسے جیسے جانور کو بیچا تھا تو نے تیرا حق تو نہیں تھا کہ یہاں واپس آتی پر کیا کیجیے نمک حرام نہیں ہوں آگئی “

“اے زیادہ ہوشیار بنے کی کوشش نہ کر کس عاشق کے ساتھ بھاگی تھی جو چھوڑ گیا تو چلی آئ ،تجھے یہیں تو بھجوا رہا تھا وہ شرجیل بخت “

“ہاہاہاہا۔ ۔۔۔عاشق ؟ ہمارے عاشق نہیں خریدار ہوتے ہیں بائ تو نے ہی تو بتایا تھا جب نئی نئی آ ئی تھی یہاں ” شہرینہ قہقہہ لگا کر بولی پھر سنجیدہ ہوئی “دھول جھونک رہا تھا تیری آنکھوں میں وہ جھل دے رہا تھا ،میں نے چھپ کر باتیں سن لیں تھی اسی لیے فرار ہوگئی اتنا وقت چھپی رہی پھر پتا چلا جس سے چھپ رہی ہوں وہ تو خود ٹوٹا پڑا ہے آگئی یہاں”

ہیرہ غور کرتی رہی شرجیل سے کوئی رابطہ نہ تھا جو تصدیق کرتی ہاں یہ جان گئی تھی کے ایکسیڈنٹ ہوا ہے اسکا ،”سچ بول رہی ہے چھوکری ،آخر میں جیسے پیسے میں آنا کانی کر رہا تھا ،یہی چکر ہوگا “وہ دل ہی دل میں قائل ھوگئی

“شاباش شہری تو تو ہیرہ ہے ،مت ماری تھی میری کے تجھے اس جانور کو سونپا اب نہیں ہوگا “

ہیرا شہد بھرے لہجے میں بولی

“کیوں شریف عورتوں کئ طرح بیٹھا کر کھلاو گی “شہرینہ نے طنزکیا

“بڑی تیز ہوگئی ہے ،مطلب تھا اب کے ایسے ہی کسی کے حوالے نہیں کرونگی اچھے پیسے لگواونگی “

اسکی بات پر شہرینہ ہنس کر اٹھی “واہ بائی تیرا انصاف ،میں ذرا ہاتھ منہ دھو کر فریش ہوں “

💖————💖

وہ فلک کے کمرے میں آئی اسے دیکھ فلک سن جگہ پر بیٹھی رہ گئی

شہرینہ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا

“سب ٹھیک ہوجاے گا فلک اللہ‎ ہمارے ساتھ ہے ،وہ راستے بنا رہا ہے “پھر اسکے آنسو صاف کیے اب جو میں کہوں وہی کرنا ہوگا “

💖————💖

انسپکٹر داور کب سے اس سیکس ٹریفکنگ میں ملوث نیٹ ورک کے پیچھے تھا اب یہ ثبوت جو حیدر بخت کئ جانب سے موصول ہوے وہ امید افزا تھے

تبھی فون بجا

“کیسا لگا پھر تحفہ “حیدر کئ بھاری آواز سپیکر پر ابھری

“جی سردار صاحب،تحفہ شاندار ہے مگر رندھاوا جیسی بڑی مچھلی کو ٹرائل میں بٹھانے کو نہ کافی “

“اور اگر راندها وا جائے وقعہ پر پکڑا جاے پھر ؟”

داور چونکا “یہ کیسے ممکن ہے “

“ممکن ہے ،مگر اس کیے بعد اس نیٹ ورک کو پکڑنے کا کام اپکا ہم صرف وہاں تک پوھچائیں گے “وہ آہستہ آہستہ اسے سب بتانے لگے

💖————💖

“دیکھ شہری سمجھا لے اسکو ،خوش نصیب ہے راندها وا خرید رہا ہے اسے منہ نہ لٹکا ے اب “

بائی کو فلک کیے اترےمنہ پر تاؤ آیا

“چھوڑ اسکو صحیح ہو جائے گی خود ہی ،کب تک لینگے اسے یہاں سے “

“کل رات کو “بائی نے بولا

“یہیں بلوا لو اسے پہلی بار ہے ،یہ کوئی گڑ بڑ نہ کردے یہ “شہرینہ راز داری سے بولی بائی نے بھی فلک کا رویا رویا چہرہ اور بدلہ انداز دیکھا شہرینہ بول رہی تھی” یہاں ہوئی تو تیرے میرے بس میں رہے گی وہاں جاکر بپھر گئی تو “

اس کی بات پر ہیرا نے بھی غور کیا” پھر تو رندھاوا اسے کیا ہمیں بھی نہیں چھوڑے گا،شہری تو صحیح کہتی ہے میں صاحب سے بات کرلوں “

اس کے جانے کے بعد شہرینہ نے دروازہ بند کرکے فون ملایا

💖————💖

فلک رو رہی تھی شور مچا رہی تھی، اسے تیار کرنے میں دشواری ہورہی تھی

“بس کر یہ رونا دھونا نصیب ہی یہی ہے تیرا ،چپ کر کیے مکیپ کرا “شہرینہ نے چیخ کر اسے چپ کرایا اسکے انداز باکو پکا اعتماد کرا گئے یہی وہ چاہ رہی تھی ،فلک کو بھی اس نے سب سمجھا دیا تھا فلک کا رونادھونابہرحال ڈرامہ نہیں تھا وہ حقیقتا ڈری ہوئی تھی

“جلدی بھیج اسے “بائی ائی

“ہاں بس تیار ہے ،نظر نالگے ” شہرینہ نے کہا “ایک کمی ہے وہ گئی اور ایک گول پھول والا خوبصورت لاکٹ جسکا ڈیزائن اچھوتا تھا وہ فلک کیے گلے میں سجا دیا “لے جاؤ اسے “پھر مڑ کر بائی سے بولی

💖————💖

“یہ سکھاں کا داماد ہے “رائنا کو حیرت نے اگھیرا پکی عمر کا عجیب سا مرد اٹھارہ سالہ لڑکی کا شوہر تھا جو سامان اٹھا رہا تھا

“ہاں بھابھی یہ سکھاں ایسے تو کبھی نہ دیتی اپنی بیٹی اسے وہ تو اس کمبخت نے عزت پر ہاتھ ڈال دیا تھا اسکی تو پنچائیت نے یہ فیصلہ دیا کے اس سے بیاہ دی جائے “

زرگل نے تفصیل بتائی تو رائنا اچھل اچھل گئی

“کیا یہ سزا لڑکی کو دی کے ادمی کو ؟کیسا اندھاقانون ہے “اسے دکھ ہوا

“یہی ہوتا ہے پھر لڑکی کو کون بیاہے گا “زرگل لاپرواہی سے بولی

“بیياه سب کچھ نہیں ہوتا بیچاری “اسے اب اس لڑکی کی روتی صورت کئ وجہ سمجھ آئی زرگل لاپرواہیسے کندھے جھٹک گئی

💖————💖

“سنا ہے بڑی پڑھائیاں کر رہی ہے تو” وہ سہیلی کے گھر جا رہی تھی کےدانیال نے کالی بلی کی طرح راستہ کاٹا اس دن کے بعد اج سامنا ہوا تھا

وہ ڈر کر پیچھے ہوئی

“دڑ نہیں کچھ نہیں کہتا ،اطمنان سے رہ ،پڑھائیاں کر ،بس کہیں کچھ غیر متوقع نا ہو، چل چلتا ہوں بیسٹ اف لک “وہ مزے سے کہتا چلتا بنا سکینہ کو اسکی باتیں بے ربط لگیں” کیا کہہ رہا تھا یہ آخر ،لگتا ہے پنچائیت کے فیصلے کے بعد مزید پاگل ہوگیا لعنت بھیج سکینہ “

وہ سرجھٹکتی اگے بڑھ گئ

💖————💖

وہ اسے لال آنکھوں سے گھورتا رقص کرتے دیکھ رہا تھا

“بس کر اب ادھر آ “رندھاوا کی فرمائش پر فلک کے پاوں کانپے وہ ساونڈسسٹم بند کرتی کپکپاتی اس کی طرف بڑھ گئی وہ پاس جا کر کھڑی ہوئی تو اس کی کپکپاہٹ نے اس وحشی کو لطف اندوز کیا

اس نے کھینچ کر اپنے ساتھ بیٹھا لیا وہ پوری جان سے لرز گئی

“نام کیا ہے تیرا ؟” اسکے گال کو اپنی بھدی انگلیوں سے چھوتے پوچھا

“فل فل فلک “

” ڈر لگ رہا ہے ” اس نے پوچھا

“ججی “وہ مزیدد ڈری آنسو بیتاب ہوے

وہ اب اسکے بال چھو رہا تھا

“پیگ پیگ بناؤں جی؟”وہ لرزتی پوچھنے لگی

“ہاہاہا ۔۔۔چڑیا ،چل بنا لے “

وہ اٹھی سامان اٹھایا اور ٹیبل تک لائی نظر بچا کر اسنے وہ سفوف شراب کی بوتل میں ملا دیا تھا جو شہرینہ نے دیا تھا

وہ اب اسکے سامنے ٹیبل کیے پاس پڑی کرسی پر جا بیٹھی تھی ججو اونچی تھی جس کئ وجہ سے وہ اب برابر کے سطح پر تھے رندھاوا ویسے بھی چھوٹے گھٹے ہوئے قد کا ادمی تھا

اکے دور جا بیٹھنے پر وہ زور سے ہنسا “ڈرپوک !چڑیااب تو یہ روز کا کام ہے تیرا ،کچھ دن مجھے خوش کرنا پھر میں جہاں بھیجوں گا اسے خوش کرنا “وہ شراب کی چسکیاں بولا “ابھی تو ڈر رہی ہے ساری ڈرتی ہیں پھر کام کرتی ہے “وہ گلاس پر گلاس چڑہاتھا

اس کا سر بھاری ہونے لگا تھا

“آآپ بھیجتے ہو ؟ “فلک نے اس پر دوا کا اثر ہوتے دیکھ پوچھا

“بھیجتے نہیں بیچتے ہیں سمجھی ادھر ادھر ا آ “اس نے بھاری ہوتے سر کو تھام کر اسے بلایا وہ وہیں بیٹھی رہی

“بہت ہوگئے نخرے ابھی بتا تا ہوں کہتے اس نے روتی ہاتھ پاوں چلاتی فلک کو اٹھا کر بیڈ پر ڈالا اور اس پر جھکنے ہی والا تھا ۔ کے فلک کی دعائیں رنگ لائیں اور وہ سائیڈ پر گر کر بےہوش ہوگیا

فلک تیزی سء انسو پوچھتء سسکیاں روکتی اٹھی ساونڈسسٹم کا ریکارڈر بند کیا جو اس نے تب آن کیا تھا جب رندھاوا نے گانا بند کرکے پاس بلایا تھا

اب وہ گلدان میں شہرینہ کا پہلے سے چھپایا فون نکالنے لگی اور تیزی سے نمبر ڈائل کیا