406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 6

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

کراچی کے وزٹ نے ان دونوں کی زندگی پر خوش گوار اثر چھوڑا تھا۔۔۔۔

ان دونوں نے ہی ایک دوسرے کی خامیوں اور خوبیوں سمیت قبول کر لیا تھا۔۔۔

رائنا کے برتاو میں بہت مثبت تبدیلی آئی تھیں۔۔۔ حویلی کے ریت رواج کو اس نے آہستہ آہستہ قبول کرنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔

بی جان سے تلخ کلامی کرنا بندکر دی تھی۔۔۔۔ ہاں انکی غلط باتوں پہ سر وہ اب بھی نہیں جھکاتی تھی۔۔۔۔

حیدر بخت کے اچھے برتاو سے اسکے دل میں جگہ کر دی تھی۔۔۔۔ ان کےکام تو وہ پہلے بھی کرتی ہی تھی۔۔۔ مگر مارے باندھے مگر اب وہ یہ سب کام باخوشی بجا لاتی۔۔۔۔

وہ گھر آتے تو ان کے دن کا احوال سننا ان سے باتیں کرنا۔۔۔۔ اب اسکی روٹین کا حصہ بن گیا تھا۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں ان کے لیۓ بدگمانی اور بے اعتباری کی جگہ احترام نے لے لی تھی۔۔۔۔

اس کی ان تبدیلیوں نے جہاں حیدر کو سرشار کیا تھا۔۔۔۔ وہیں بی ماں بھی قدرے مطمئن تھیں۔۔۔۔ ان کے بھائی کی زندگی صحیح ڈگر پر آگئی تھی۔۔۔۔

“کافی خوش نظر آرہی ہو۔۔۔۔؟” آمنہ نے اسے فریش پا کر پوچھا۔۔۔۔

“یہ دیکھیں ڈاکومنٹس میرے۔۔۔، خیر سے ڈگری یافتہ ڈاکٹر ہوگئی۔۔۔۔” اسنے فخر سے انہیں ڈاکومنٹس دیکھائے جوصبح ہی کوریر سے وصول ہوئے تھے۔۔۔۔۔

“ماشاءالله ماشاءالله۔۔۔۔ بہت مبارک ہو منہ کب میٹھا کرا رہی ہو۔۔۔۔”

“بس اب ہاؤس جاب لگے پھر دیکھیے گا “

“جاب۔۔۔۔؟” آمنہ نے تشویش سے پوچھا۔۔۔

“بڑے سرکار اجازت دینگے۔۔۔۔؟ دیکھو رائنا میں تمہیں بہن سمجھ کے صلح دونگی اتنے بڑے خواب نا دیکھو ایسا نا ہو تمہیں ہی نقصان ہو۔۔۔۔”

آمنہ اسکا ہاتھ تھام کے تشویش سے بولی۔۔۔۔

جبکے رائنا دکھ سے چپ رہ گئی یہ اسکا بچپن کا خواب تھا۔۔۔۔ جس کے لئے اتنے قیمتی سال لگے تھے پیسے خرچ کئے تھے۔۔۔۔ محنت کی تھی اب جب صلہ ملنے کا وقت تھا۔۔۔۔ تو اسکا حق زندگی میں چند ماہ پہلے آنے والے شخص کو مل گیا تھا۔۔۔۔

💖————💖

“مجھے میرے ڈاکومنٹس مل گئے ہیں۔۔۔۔” وہ لیپ ٹاپ میں مصروف تھے جب رائنا نے اطلاع دی۔۔۔۔

“ہم اچھا۔۔۔۔” انہونے ہنوز توجہ نہ دی۔۔۔۔

مگر اسنے ہمت نا ہاری۔۔۔۔، وہ حویلی کے ریت رواج قبول کرنے کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔۔۔ اس نے اپنا پہناوا تک بدل لیا تھا۔۔۔۔ بس اس ایک بات پر وہ ہار نہیں ماننا چاہتی تھی۔۔۔۔ وہ زمانہ طالب علمی میں تھی۔۔۔۔ جب اکثر ٹیچرزطعنہ دیتے کےفیمیل ڈاکٹرز صرف اچھے رشتے کے لئے ڈاکٹر بنتی ہے۔۔۔۔۔ اور سیٹ کاضیاع کرتی ہیں۔۔۔۔ جبکہ آ ئے دن کتنے ہی لوگ یہی سیٹ حاصل نا کرنے کے غم میں ہاتھ سے جاتے ہیں۔۔۔۔ وہ اس بوجھ تلے دب کر نہیں رہ سکتی تھی اس نے حیدر کو منانے کا سوچ لیا۔۔۔۔

“بس اب ہاؤس جاب کے لئے جانا ہے۔۔۔۔” اسنے دوبارہ سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا۔۔۔۔۔

وہاں اب بھی خاموشی تھی وہ مزید حوصلہ جمع کرتی ان کے سامنے جا بیٹھی۔۔۔۔۔

“حیدر۔۔۔۔؟

انھونے آبرو آچکا کر اسے دیکھا وہ سنجیدگی سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

“میں جانتی ہوں یہ آ پ کی روایت کے خلاف ہے۔۔۔۔ پر یہ ضروری ہے میرے لئیے۔۔۔”

وہ ابھی بولی ہی تھی کے انھونے ٹوک دیا۔۔۔۔۔

“کیوں ضروری ہے تمہارے لیئے۔۔۔۔؟ میں مانتا ہوں کے عورت کے پاس تعلیم ہونی چاہیئے۔۔۔۔ تاکے برےوقت میں کام آ سکے۔۔۔۔ اور یہ بھی جانتا ہوں کے جاب آسانی سے نہیں ملتی۔۔۔۔ خصوصی طور پر جب آ پ لمبے عرصے تک جاب نا کریں۔۔۔۔ انٹرن شپ وغیرہ ضروری ہوتی ہے۔۔۔۔ جابز کیلیے مگر یہ سب ان کے لئیے ہے جن کی واحد سیکیورٹی یہی ہو۔۔۔۔ تمہارا معاملہ تو بلکل الگ ہے تم کسی عام سے متوسط طبقے کے شخص کی نہیں۔۔۔۔ حیدر بخت کی بیوی ہو۔۔۔۔ میں نے نکاح کے بعد ہی تمہارے نام فارم ہاؤس کر چکا ہوں۔۔۔۔ میں اس کے علاوہ بھی میں تمہیں ایسے ہی نہیں رہنے دونگا۔۔۔۔

اتنا فائننشلی سیکیور کر دوں گا کے میرے بعد تمہیں میری اولاد پر بھی نربھر نا رہنا پڑے۔۔۔۔ اور باخدا میں یہ کسی غرور یا زعم میں نہیں کہہ رہا۔۔۔۔ صرف تمہاری تسلی کیلیے بتا رہا ہوں۔۔۔۔ اب بتاؤ کیوں ضروری ہے جاب کرنا؟”

وہ بےحد تفصیل سے کہتے اب اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔ جس کی آنکھیں ڈبڈبا چکی تھیں۔۔۔۔

اس کے چہرے پر مایوسی تحریر تھی اس کے کان اپنے خوابوں کے ٹوٹنے کی آواز شاید پہلے ہی سن چکے تھے۔۔۔۔

“میں 6 کلاس میں تھی جب میری دادو کو بریسٹ کینسر ہوا کافی عرصہ وہ چھپاتی رہیں۔۔۔۔ یہ سوچ کر کے انہیں کسی نامحرم کے سامنے بے پردہ ہونا پڑے گا۔۔۔۔ مگر کب تک چھپتا آ خر سامنے آ گیا۔۔۔۔ ڈھونڈ کر ایک اچھی ڈاکٹر بھی مل گئیں کافی علاج ہوا اور بالآخر دادو کی حالت میں بہتری آ گئی۔۔۔۔

وہ بڑی متاثر تھی اپنی ڈاکٹر کے کس طرح وہ انکی پرائیویسی کا دھیان رکھتی ہے۔۔۔۔ دن رات دعائیں دیتی اور تب مجھے ایک لیڈی ڈاکٹر کی حیثیت پتا چلی۔۔۔۔ کتنی ضروری ہے وہ ہماری زندگی میں بلکہ ہر فیلڈ میں کتنی ڈھارس دیتی ہے۔۔۔۔ ایک عورت کی موجودگی دوسری عورت کو۔۔۔ چاہے آپ بنک میں کسی کام سے جاؤ وہاں زیادہ تر مردوں کے بیچ میں چند کام کرتی عورتوں کی موجودگی کتنا حوصلہ دیتی ہے۔۔۔۔ بس میں چڑھو تو اپنے کام پے نکلی ہوئی غریب عورت کی موجودگی اس مردوں کی بھیڑ میں ڈھارس دیتی۔۔۔ اسکول کالج میں فی میل اسٹاف کی موجودگی سے کیسا حوصلہ ملتا ہے یہ آپ نہیں سمجھ سکتے۔۔۔۔ کیونکہ آپ مردوں کو اتنے خطرات نہیں ہیں۔۔۔۔ میں یہ نہیں کہہ رہی مرد کی زندگی سونے کی سیج ہوتی بس یہ کہہ رہی ہوں کے آپ یہ مسئلے نہیں سمجھ سکتے۔۔۔۔

خیر بات ہورہی تھی۔۔۔ میرے لئے یہ جاب وغیرہ ضروری ہونے کی۔۔۔ تو فیصلہ ہوگیا اسی 6 کلاس میں رائنا علی نے ڈاکٹر بننا ہے۔۔۔ جس وقت میرے ہم جولی کھیلتے کودتے۔۔۔۔ میں پڑھتی اور اسی طرح کالج بھی ختم ہو گیا۔۔۔۔ آئے دن رشتے آتے امی ابو مناسب الفاظ میں منع کردیتے۔۔۔۔ کچھ بات سمجھ جاتے کچھ باتیں بناتے۔۔۔

آ ئم شیور آپ کو ایسا سب نہیں جھیلنا پڑا ہوگا۔۔۔۔ خیر چھوڑیئے دن رات پڑھا میں نے کےجانتی تھی میرے ابو بہت محنت کرکے بھی صرف میرٹ پر ہی پڑھا سکتے تھے۔۔۔ آخر ایڈمیشن ہوگیا گھر سے کافی دور روز دو دو بسیں بدلنی پڑتیں۔۔۔ بہت ذہین نہیں تھی ہاں محنتی تھی۔۔۔ ہر وقت پڑھتی کوئی کہتا پڑھ پڑھ کر رنگ خراب ہو جائے گا۔۔۔ یا اتنا پڑھ کر کیا کروگی پر جب ضرورت پڑھتی یہی لوگ پوچھتے۔۔۔۔ بچہ بیمار ہے کونسی دوا دے یا کچھ نہیں تو بلڈ پریشر چیک کرلو۔۔۔۔ میں سوچتی اگر تعلیم اتنی ہی بے بنیاد ہے تو تعلیم یافتہ سے مشورہ کیوں۔۔۔۔؟

مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی جو لوگ کہتے ہیں پڑھ کر کیا ملے گا۔۔۔؟ وہ ضرورت پڑنے پر انہیں لوگوں کے پاس کیوں جاتے ہیں۔۔۔ کبھی ٹیچر کے پاس کبھی ڈاکٹر کے پاس۔۔۔۔ کبھی اکاؤنٹنٹ کے پاس تو کبھی وکیل کے پاس۔۔۔۔ یہ کیسا دہرا رویہ ہے نا۔۔۔۔۔

یونی میں ٹیچرز اکثر کہتے کے خواتین گھر بیٹھ جاتیں ہے۔۔۔۔ سیٹ کا ضیاع کرتیں ہیں۔۔۔۔ اور اکثر بچے انہیں سیٹس کے نا ملنے پر خودکشی کرلیتے ہیں۔۔۔۔ وہ ہم لوگوں سے وعدہ لیتے کے ہم ایسا نہیں کرینگے اور ہم بیوقوف ہامی بھرتے۔۔۔۔ یہ باتیں لوگ لڑکیوں سے کیوں کرتے ہیں۔۔۔۔ اپنے اپنے اردگرد کے لوگوں کو کیو نہیں سمجھاتے۔۔۔۔ ہمیں بتاتے جیسے یہ قصور بھی ہمارا ہو ہاہاہا۔۔ گویا یہ ہمارے اختیار میں ہو۔۔۔ میں نے خود سے عہد لیا تھا کے یہ سیٹ ضائع نہیں کرونگی۔۔۔۔ پر تب میں اپنے والد کے گھر تھی جو پرایا ہوتے ہوئے بھی میرا تھا۔۔۔۔ اور اب آپ کے گھر میں ہوں تو وہی کرنا ہوگا جو آپ چاہیں گے۔۔۔۔ ہیں نا ورنہ لوگ کہیں گے کے علی نے بیٹی کو پڑھایا دیکھا گھر نا بسا سکی میں تو ہر صورت خسارے میں ہوں۔۔۔۔ پر خیر کر ہی کیا سکتی ہوں۔۔۔ غلطی میری ہے مجھے خواب نہیں دیکھنے چاہیئے تھے۔۔۔۔۔

مجھے اپنی زندگی کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیئے تھا۔۔۔۔ مجھے تو جیتی جاگتی کٹھ پتلی جیسا ہونا چاہیئے تھا۔۔۔۔”

وہ ایک دکھ کی کفیت میں اپنے دل کا سارا غبار نکال گئی۔۔۔۔۔ اور اب لب بھینچے آ نسو صاف کرہی تھی۔۔۔۔ وہ روتی نہیں تھی وہ تب بھی نہیں روئی تھی۔۔۔۔۔

مگر آ ج آنسو جانے کہاں سے اس کے گال تر کر گئے۔۔۔۔ جو اس نے بولا وہ ایک ایک لفظ سچ تھا۔۔۔۔۔ معاشرے کا دہرا معیار ،حیدر نے لب بھینچے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اسکے گال سے اشک چنے لگے کہ اچانک اسنے ان کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔

“بس ایک آ خری بات کیا آپ میرے لئیے بی اماں کے لئیے یا اس حویلی کی کسی بھی عورت کو کسی بھی علاج کے لیے کبھی ہسپتال لے کر جائیں گے تو آ پ کیا ان کیلیے لیڈی ڈاکٹر نہیں ڈھونڈیں گے۔۔۔۔؟ اگر نہیں تو آ پ جیتے میں ہاری اور اگر ہاں تو غور کیجیے گا میری باتوں پر۔۔۔۔

وہ کہتی اٹھنے لگی تو انہوں نے اسکے شانوں پر ہاتھ رکھے دوبارہ بیٹھا دیا اور ایک ہاتھ سے اسکا چہرہ اونچا کیا اور اسکے آ نسو صاف کئیے۔۔۔

“ساری آ نکھیں سجا دیں تم نے اب اپنی کہہ چکیں تو میری بھی سن لو۔۔۔ ایاز سے پہلے ہی بات کر چکا ہوں روز کراچی جانا مشکل ہے۔۔۔۔ مگر یہاں قریبی علاقے میں ایک ہاسپٹل ہے۔۔۔ ہے تو گاؤں میں بھی مگر وہاں سے لائسنس نہیں مل سکتا سو اس لئیے اس کا پتا کروایا ہے۔۔۔۔

تم کل ریڈی رہنا اپنی سی وی وغیرہ کے ساتھ”وہ نرمی سے کہہ رہے تھے۔۔۔۔ اور وہ حیران پریشان سی انھیں سن رہی تھی۔۔۔۔

“اگر آ پ خود پتا کروا رہے تھے تو پھر مجھ سے کیوں وہ سب کہا۔۔۔۔؟ وہ الجھ ہی تو گئی تھی۔۔۔۔

” کیا کہا۔۔۔۔؟ صرف یہی تو بتایا کے تم سے غافل نہیں ہوں۔۔۔ اور بس یہ جاننا چاہا کے تمہارے لئے کتنا ضروری ہے یہ پیشہ۔۔۔”

“آ پ تنگ کر رہے تھے مجھے۔۔۔؟”

“نہیں تمہیں سننا تمہیں جاننا چاہ رہا تھا۔۔۔ تاکہ یہ سفر آسانی اور خوبصورتی سے کٹے۔۔۔۔ بہت لمبا ساتھ ہے ہمارا اور ساتھ چلنا ہے۔۔۔ ہمیں ہم قدم ہوکر تم میری بیوی ہو میرے زندگی کے اندھیروں اجالوں کی ساتھی۔۔۔ میرے دکھ سکھ کی ساتھی۔۔۔۔ میں تمہارا شوہر ہوں رائنا تمہارا محرم تمہارے راستوں میں پتھر نہیں اٹکاوں گا۔۔۔۔ بلکہ ان اونچے نیچے راستوں پر تمہارا سہارا بنوں گا بس وہ راستہ جائز ہو۔۔۔” وہ اسے پیار سے سمجھانے لگے۔۔۔۔

“حیدر۔۔۔؟” وہ جانے لئیے اٹھے تو اسنے پکارا۔۔۔

“ہمم۔۔۔۔” انہوں نے ہنکارا بھرا۔۔۔

“تھینک یو میری راہ کا ساتھی بنے کے لئیے۔۔۔” وہ ممنونیت سے بولی اسکے انداز میں ان کے لئے عزت تھی احترام تھا اور حیدر کو یقین تھا کے ایک دن محبت بھی ہوگی۔۔۔

“یور ویلکم۔۔۔ بس اب جاؤ اپنی سی وی وغیرہ دیکھو مجھے کام کرنا ہے۔۔۔” وہ گھڑی دیکھتے مصروف سا بولے اور واپس لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوگئے۔۔۔ رائنا اس بات پر انہیں گھورتے اٹھ کھڑی ہوئی پھر کچھ سوچ کر گہری سانس بھرتے بولی۔۔۔۔

“میں چائے لے آتی ہوں آپ کیلیے”

آج اسکا انکی کوئی بات مائنڈ کرنے کا موڈ نا تھا

جبکہ لیپ ٹاپ میں مصروف حیدر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ سج گئی۔۔۔

💖————💖

یہ اسکی ہاؤس جاب کی پہلی صبح تھی وہ جلدی جلدی تیار ہوئے نکلنے کو تھی۔۔۔۔، جب اسنے شیثے میں خود کو ااروور آل میں دیکھا۔۔۔۔” ہاے کاش کوئی اسس وقت میری خوشی بانٹنے والا ہوتا۔۔۔۔” اسنے دل ہی دل میں سوچا۔۔۔”

رائنا بیگم زیادہ ڈیمانڈنگ نابنو ابھی تو بی اماں کا سامنا بھی کرنا ہے ناشتہ پر۔۔۔” اسے تشویش ہوئی۔۔۔۔

“السلام و علیکم۔۔۔” وہ مرتا کیا ناکرتا کے مصادق صدر کرسی پر براجمان حیدر بخت کے بائیں طرف رکھی کرسی گھسیٹ کر بیٹھی۔۔۔۔۔

“آگیی بنو۔۔۔۔! تو اب شوہر کو بھی دیکھ لو تھوڑا خود سے فرصت ہو تو۔۔۔۔” دا ئیں جانب بیٹھی بی اماں نے سلام سے فارغ ہوتے ہی گھرکا۔۔۔۔

“عجیب اب یہ چھوٹے بچے ہے۔۔۔۔ جو میں ناشتہ کراؤں۔۔۔۔ یا اللہ‎ لگتا ہے مجھے بھوکے پیٹ ہی جانا ہوگا۔۔۔۔ اگر میں پہلے ہی دن لیٹ ہوگئی تو۔۔۔۔”

وہ دل ہی دل میں پریشان ہوتی حیدرکے لئے چائے کپ میں بنا کر پراٹھے پر مكهن لگانے لگی ہی تھی کہ حیدر نے ہاتھ سے دونوں چیزیں لے لی۔۔۔”

دیر ہورہی ہے تمہیں۔۔۔۔ میں خود لے لونگا جو چاہیے ہوگا۔۔۔۔” انہوں نے کہا اور ساتھ ساتھ ڈبل روٹی پر جیم لگا کے اسکےآگے رکھا۔۔۔۔

اس منظر کو سب نے ہی دیکھا۔۔۔۔

آمنہ اور گلرخ نے رشک سے زاہد نے متاثر ہو کر جبکے شرجیل نے ناگواری سے۔۔۔۔ اور بی اماں نے صدمے سے۔۔۔۔ حیدر نے اب انکے پراٹھے پر بھی مکھن لگا کر ان کے آگے رکھا۔۔۔۔

مقصد صرف ان دونوں خواتین کو جتانا تھا کے وہ دونوں ہی الگ الگ طور پر اہم ہیں۔۔۔۔ ان کے لئیے مگر بی اماں کا صدمہ ہنوز قائم تھا وہ جان گئی تھی۔۔۔۔ کے اب وہ اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتیں۔۔۔

حیرت اور شرم کے باعث رائنا سے کھانا دوبھر ہوچکا تھا مگر حیدر کےخیال سے جلدی جلدی فارغ ہوئی۔۔۔۔

دوسرا جھٹکا تب لگا جب چھوڑنے جانے ڈرائیور کے ساتھ ساتھ حیدر بھی تھے۔۔۔ وہ بھی درجن بھر گارڈز کے بغیر۔۔۔۔

راستہ لمبا تھا لیکن اپنی ایکسایٹمنٹ میں اسے کب منزل آئی پتا نا چلا۔۔۔۔

“رکو۔۔۔” اسے پہلے وہ اترتی حیدر نے روکا انہوں نے پیچھے رکھا شاپنگ بیگ اٹھا کر اسکی جانب بڑھایا۔۔۔۔

“یہ کیاہے۔۔۔۔؟” وہ حیران ہوئی

“کھول کے دیکھو “

اسنے کھولا تو اندر litman کا لیٹیسیٹ stethoscope تھا۔۔۔۔۔

“واو یہ کس لئے پر۔۔۔۔” وه نا چاہتے ہوئے بھی اپنی خوشی چھپا نا سکی۔۔۔۔

“تم ہمارے خاندان کی پہلی ورکنگ لیڈی بنے جا رہی ہو اسلئے تحفہ تو بنتا ہے۔۔۔” وہ مسکرائے۔۔۔۔

“تھنک یو۔۔۔ بہت خوبصورت تحفہ ہے اور اب تو اسکی ضرورت بھی تھی”

وہ بھی خوش دلی سے بولی تو انہوں نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا وہ جھینپ کر رہ گئی۔۔۔

وہ دونو گاڑی سے اترے تو اچانک اسے خیال آیا۔۔۔۔

“حیدر!کیا آپ میری ایک پک لے سکتے ہیں ایسے اوور آل میں۔۔۔” اسنے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔۔۔

“حیدر نے ہنسی ضبط کی” ضرور۔۔۔”

اور پیچھے بیٹھے حیدر کے دست راست بہادر کی آنکھیں پھٹنے کو ہوئی جب انہوں نے حیدر کو ایک کے بعد دوسری پھر تیسری پک کلک کرتے پایا آخر چوتھی تصویر رائنا کے حسب منشاء آئی اور حیدر کی جان خلاصی ہوئی۔۔۔۔

“تھنک یو۔۔۔۔ یہ آپ واٹس اپ کردے پیلز اللہ‎ حافظ۔۔۔۔”

“اللہ‎ حافظ۔۔۔۔ اینڈ بیسٹ آف لک ڈاکٹر رائنا “

کہتے وہ گاڑی میں جا بیٹھے۔۔۔۔

“احمق “راستے میں اسکی تصویر دیکھتے ان کے لب مسکرا اٹھے۔۔۔۔

💖————💖

واپسی پر اسے لینے ڈرائیور ہی آیا تھا۔۔۔۔ اسکا شدّت سے دل کسی کو اپنے دن کی رواداد سنانے کا تھا۔۔۔۔

بی اماں صبح کہ حیدر کے برتاؤ کے بعد سے چپ ضرورتھی پر موڈ انکا ابھی بھی برہم تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے گل رخ تو گل رخ آمنہ بھی اس سے کٹی کٹی تھی۔۔۔۔ وہ جانتی تھی آمنہ کی مجبوری تو مبرا بھی نا مانا باہر آکر امی کو اور ربیعہ کو کال کک کوشش کرنے لگی یہاں وافی دیوائس تھی پر آج سگنل کا بھی مسئلہ تھا۔۔۔۔

وہ مایوس ہوکے باغ میں ٹہلنے لگی جب اسے ایاز آتا دکھائی دیا۔۔۔۔

“السلام و عليكم بیبی سرکار۔۔۔۔” وہ مودب سا ہاتھ میں پکڑا سامان آگے کرتا بولا۔۔۔۔ جب سے وہ حیدر کے نکاح میں آئی تھی۔۔۔۔ وہ ایسے ہی مخاطب ہوتا تھا۔۔۔۔ پہلے تو رائنا نے اپنی خفگی میں کوئی توجہ نا دی مگر آج جب ماضی کا غصہ کم ہوا تو۔۔۔

وہ ٹوک بیٹھی”

ہم دوست رہ چکے ہیں۔۔۔ اور اس وقت تو بی جان بھی نہیں کے تمہیں ٹوکے پھر اتنا فارمل “

“میں بی جان کے ڈر سے نہیں حیدر بھائی کی دل سے عزت کرتا ہوں۔۔۔ اور اسلئے آپ کو آپ کے رتبہ کے مطابق بلاتا ہوں “

“میں نے یہ نہیں کہا کے انکی عزت نا کرو مجھے بس ایسے بھاری بھرکم طرز مخاطب پسند نہیں میں تمہاری رشتے میں بھابھی بھی تو بنتی ہوں جیسے آمنہ ہے”

“رائنا ٹھیک کہہ رہی ہےایاز تم میرے لئے شرجیل جیسے ہی ہو۔۔۔ اور جب مجھے بھائی بلاتے

ہو تو رائنا کو بھی اسی رشتے سے بلا سکتے ہو۔۔۔۔”

وہ جانے کب آئے مگر انھیں رائنا کا ایاز کو خود کو بھابھی کہنا اچھا لگا مطلب وہ انکے رشتےکومانتی ہے۔۔۔۔

“اور بہت شکریہ سامان لانےکا۔۔۔”

“حیدر بھائی شرمندہ نا کریں میں ذرا بی جان کو سلام کر آوں۔۔۔۔” ایاز مسکرا کے کہتا چلا گیا۔۔۔

“ضرور۔۔۔” حیدر بھی مسکرائے۔۔۔

رائنا بھی اندر کی طرف مڑی۔۔۔۔

“تم کہا جا رہی ہو۔۔۔؟

“رکھی کو چائے کا کہنے۔۔۔”

“ہمم۔۔۔ یہی منگوانا۔۔۔”

وہ سر ہلاتی سامان کا شوپر پکڑ تی اندر گئی کمرے میں آکر شوپر دیکھا تو اس میں اسکے میڈیکل کے بیسک equipment تھے جو اسنے آج خریدنے کاسوچا تھا۔۔۔۔ پیسے ویسے تو حیدر ہر مہینہ بنا مانگے اسکی سنگھار میز کی دراز میں رکھتے تھے۔۔۔۔ جو وہ بہت مجبوری میں ہی استعمال کرتی تھی۔۔۔۔ ارادہ تھا کے تنخواہ ملتے ہی حیدرکا قرض چکائے گی مگر انکی مہربانیاں اسکی تنخواہ سے کہیں زیادہ تھیں۔۔۔۔”

یا اللّہ اتنا قرض۔۔۔” وہ اکثر سوچتی اور پریشان ہوتی وہ نادان اس بات سے بے خبر تھی کے اصل قرض تو اس پہ انکی محبت کا انکے انتظار کا چڑھ رہا ہے۔۔۔۔

“بڑی سرکار چائے لگ گئی۔۔۔۔” رکھی

نے مودب سااطلاع دی۔۔۔۔

تو وہ باہر چل دی۔۔۔۔۔