406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 25

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

وہ پوری طرح سے اسکو حصار میں لئے ہوے تھے ،نامعلوم شوٹرز کے جانے کے بعد ،بہادر اندر آکر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ گیا جب کہ حیدر بھی سمبھل کے بیٹھ گئے رائنا کے حواس منتشر تھے ،وہ حیرانی سے انھے دیکھ رہی تھی جو ایسے مطمئن تھے جیسے کچھ نا ہوا ہو

“باہر کیا صورت حال ہے ہمارے آدمی ٹھیک ہیں “وہ بہادر سے مخاطب تھے

“سا ئیں صب سب خیریت سے ہے،بندے کو کال کئ ہے میں نے مکرم نے ثبوت بھی بھیجے ہیں کال والی دھمکیوں کے “

“خوب ! ارحم راندهاوا کو اسی کے کھودے گڈے میں پھینک دیں گے “وہ مسکرا کر بولا انکا اطمینان رائنا کو بیچین کر رہا تھا انہونے نے اس کی بےچینی کو محسوس کرکے بہادر کو اگے دیکھنے کا اشارہ کیا

” کیا ہوگیا رائنا سب ٹھیک ہے کسی کو کچھ نہیں ہوا “وہ اسے مسکراتے تسلی دینے لگے

وہ اس مطمئن انداز پر مزید پریشان دکھی انہونے اسکا ہاتھ تھام لیا اور سر اپنے شانے پر رکھا

“کچھ مت سوچو آنکھیں بند کرو اور پر سکون ہوجاؤ گھر آنے والا ہے “

اس نے بھی بنا حیل و حجت انکی بات پر عمل کیا وہ فل وقت خاموش رہ کر حیدر کئ سانسو کو سن کر اطمنان حاصل کرنا چاہتی تھی

کچھ دیر بعد گھر اگیا تھا

انہوں نے اسکی حالت کے پیش نظر اسے کمرے میں بھیج دیا اور خود بی اما کے پاس فیکٹری کئ فائل لئے چلتے بنے انھے شرجیل سے حساب چکتا کرنے تھے

💖————💖

“بھائی سرکار کتنے دنو بعد دیکھا آپ کو آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں “وہ بی اما سے سلام دعا کرکے فارغ ہی ہوئے تھےکے شرجیل چلا ایا انہونے ہی پیغام بھجوا کے بلایا تھا

“کاش میں بھی یہی کہہ پاتا کے انکھیں ٹھنڈی ہوگیئں افسوس صد افسوس کے تم ہمیں یہ موقع کبھی نہیں دیتے ہو “ان کا طنزیہ لہجہ اس کے ہوش اڑاگیا بی اما کی طرف دیکھا جو ہکا بکا تھیں لاعلمی ان کے چہرے پر درج تھی

“ببب بھائی سر سس سرکار کیا کیا ہوا آخر آپ کو ؟”وہ گڑبڑایا

حیدر نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ ڈرتا بیٹھا تو انہونے فائل اٹھا کر اس کے او اپنے درمیان پڑی میز پر پھینکی

شرجیل نے کانپتے ہاتھوں سے فائل کھولی اسے دنیا گھومتی ہوئی محسوس ہوئی

فائل میں اس کے سارے گھپلے درج تھے “اس کا مطلب بھائی سرکار کب سے نظر رکھے تھے “

یہ سچ بھی تھا حیدر نے مزید ثبوت حاصل کرنے کے لئے مکرم کو بھی فیکٹری میں موجودہ لوگو کو اپنی طرف کرکے مزید معلومات حاصل کرنے کو کہا تھا

انھے شرجیل کو یہاں مصروف رکھے اس لڑکی کا پتا کرنا جس کے بارے میں رائنا نے ان کو بتانا چاہا تھا مگر وہ اسے سختی سے خاموش کرا گئے تھے وہ بیوی سے گھر والو اور گھر والو سے بیوی کئ برائی سننا نہیں چاہتے تھے دوسرا وہ رائنا کو اس سب سے الگ رکھنا چاہتے تھے

“یہ اتنی بڑی رقمیں کہاں گئی ،فیکٹری کابجٹ کہاں لگایا، ملازموں کی تنخواہ کھا کر کہاں لگائیں تم نے بولو “اس کی مسلسل خاموشی انہیں طیش دلا گئی

” جواب دو شرجیل ،کہاں گیا سب ،کیا خریدا ہاں ؟یا یوں پوچھوں کے کس کو خریدا بولو جواب چا ہیے مجھے ؟”

“بچو بچو کے لئے ززمیں۔۔”وہ ہکلاتے جھوٹ گھڑنے لگا

“انٹرسٹنگ !بچو کے لئے زمین ،اوکے کاغذات لے کر او دکھاؤ ؟،کیا ہوا ؟نہیں ہے ؟”انکے سوال پر اسنے گڑبڑا کر سر ہلایا

“اببھی نہیں ہیں بھائی بعد میں…”وہ ہکلایا

“ٹھیک ہے ایک ہفتہ ہے تمہارے پاس حساب پورا کلیر چاہیے جاؤ زرا اپنی اولاد کو بھی وقت دو “

وہ اسے باہر کی جانب اشارہ کرتے بولے

اس کے جانب کے بعد وہ حق دق بی اماں کی طرف مڑے

“مجھے افسوس رہے گا بی اماں آپ کی پرداریوں پر ،ایک بھائی سے محبت نبھاتے دوسرے کو دھوکا دینا منظور تھا آپ کو “وہ افسوس سے کہتے چل دیے

💖————💖

“کیا گارنٹی ہے کے یہ ہاشم سچ بول رہا “سعود فون پر حمزہ سے الجھ رہا تھا

“وہ حیدر بخت ایک لڑکی سے شادی کرنے کے لیے اتنا بڑا ڈرامہ کھیلے گا ،ایسے بھی تو اٹھوا سکتا تھا لڑکی کو کیا ضرور ت ہے اسے ان کھیلوں کی”

حمزہ کے بقول ہاشم جو اس وقت بدحالی میں تھا اس نے یہ بتایا تھا کے حیدر نے ہی رائنا کا اغوا کرایا اور سب اس پر تھوپ دیا ۔سعود کو یہ اللوجیکل لگ رہا تھا” یہ سیاست ہے پوری “اس کی چھٹی حس چیخنے لگی

” تیری مرضی نہیں تو نا سہی “حمزہ نے فون کاٹ دیا

💖————💖

وہ پریشان تھی فلک کی کال آئی تھی نائیکہ اسے ناچ گانا سکھانے پر لگا چکی تھی وہ پریشان تھی تو رہی تھی شہرینہ کچھ خیال کرکے سعود کا دیا فون نکالا جس پر عجیب سے نمبر سے کئی کال تھیں فون دوبارہ بجا ” اسی کا ہوگا” اس نے سوچا اور کان سے لگا لیا

“او بھئی یہ انٹرنیشنل کال کے مسڈ کال کے بھی پیسے کٹتے ہیں ,اب بول بھی دو کیا سو گئیں”وہ چڑچڑے پن سے بولا

“اب کیو کال کی ہے؟”وہ چڑی

“قرض لے کر نہیں گیا سب بتا کر گیا تھا ،یقین تو کرنا ہوگا آپ کو بھی “وہ بھی رج کے بد لحاظ ہوتا جب ہوتا

“جب ننہیال آپ کو پوچھے نا ،ماں ایڑیاں رگڑتے مرجائے باپ بیچ دے تب یقین نہیں ہوتا کسی پر”وہ زہرخند ہوئی سعود ایک لمحے کو چپ کر گیا

“میں اپنی مدد آپ کرلوں گی “کہتے شہرینہ نے اسے دوائیوں کا قصہ سنایا

“تم وہ گولیاں خود کھاؤ گی یا اسے دو گی اس سے کیا فایدہ خود کھاؤ گی تو مر جاؤ گی اسے دو گی تو اس اچانک موت پر اگر تحقیق کرائی اس کے طاقتور بھائی نے تو جیل میں چکی پیسنا ایک تو قتل پھر امیر کا قتل “

اس نے سارے پلین کو بوگس قرار دے دیا

“”یہاں سے جان تو چھٹے گی میری “

“تمہارے لیے خبر ہے ڈیڈ ابا میرے ابھی نہیں آرہے اور میں تین دن میں یہاں ہوں گا ،میرے دوست کو کچھ معلومات لگیں ہیں ہاتھ وہ بھی مل جائیں گی تمہاری آزادی کے دن دور نہیں کاونٹ ڈاون شروع کردو”

“اللہ ہی بہتر جانے “وہ ابھی بھی غیر مطمئن تھی

💖————💖

اسے آج صحیح معنوں میں احساس ہوا تھا حیدر کا وجود اس کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے کل تک یوٹرن کا سوچنے والی آج دعاؤں میں حیدر کی حفاظت کی دعاگو تھی اسے اب کوئی یوٹرن نہیں چاہیے تھا

وہ بہت برے موڈ سے اندر آئے انہیں اٹھتا دیکھ وہ بھی جائے نماز سمیٹتے آئی “ابھی کوئی سوال نہیں رائنا”وہ کچھ بولتی کے انہوں نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا

وہ کہتے باتھ روم میں گھس گئے باہر آئے تو وہ بھی سونے کی تیاری میں تھی

“حیدر آپ ٹھیک تو ہیں نا “اس نے انہیں مسلسل سر دباتے دیکھا تو بول اٹھی

“ٹیبلیٹ دے دو بس”اس نے اٹھ کر ٹیبلیٹ اور پانی لاتھمایا

“آپ لیٹے میں سر دبا دیتی ہوں “وہ انہیں آج الگ لگی

وہ سرہانے بیٹھی سر دبانے لگی اور ان پر نیند مہربان ہونے لگی رائنا نے انہیں سوتے دیکھ پھیلے بازو پر آہستہ سے سر رکھا اور دایاں ہاتھ ان کے سینے پر دھرا وہ یہ سانسیں محسوس کرنا چاہتی تھی

💖————💖

اگلے کچھ دنوں تک ماحول سرد رہا تھا سب اپنے اپنے دائرے میں گم تھے ،حیدر بھائی اور بہن کی دھوکا بازی پر غصہ تھے،بی اماں الگ پریشان تھیں ،امنہ بچو کے جانے پر اداس تھی ،زرگل اور زاہد کی اپنی الگ دنیا تھی شرجیل الگ بھنائے تھا ایسے میں صرف رائنا تھی جو نارمل تھی گو کے وہ حیدر کے لیے پریشان تھی ،جو جھنجھلائے پھر رہے تھے ایسے میں وہ ہی کمپوز کیے ان کا خیال رکھ رہی تھی

آج کی صبح نئے ہنگامے سے طلوع ہوئی تھی منشی جی اپنا مدعا لے کر آئے تھے دانیال پھر ماں کے ساتھ تھا انکار پر ہاتھا پائی تک کر ڈالی وہ اب اور برداشت نا کرسکے اور مدعا لیے چلے ائے

بی اماں نے منشی جی کا معاملہ حیدر کو پہنچا دیا تھا(وہ فیصلے کرنے سے برطرفی کردی گئیں تھیں) انہوں نے کل دونوں کو ڈیڑے پر بلایا تھا

“تمہیں کیا ہوا ؟”رائنا نے سوجی سوجی آنکھیں لیے آئی سکینہ کو دیکھ کر پوچھا

“وہ رات کو پھر تماشہ ہوا اب ابا کو سرکار نے بلایا ہے اور اس کو بھی “

“ہاں تو ٹھیک ہے معاملہ ختم ہوگا “رائنا کو اس کے رونے کی وجہ نا سمجھ آئی

“بیبی سرکار نا ہوا تو “وہ خدشات سے لرز رہی تھی

“کچھ نہیں ہوگا انشاء اللہ”رائنا نے اسے دلاسہ دیا پریشان تو وہ خود بھی تھی

💖————💖

منشی جی آج بی اماں کے پاس آئے تھے بیٹی بھی ساتھ تھی وہ دانیال اور اسکی ماں کی شکایت لائے تھے انہوں نے انکا جینا دشوار کر چھوڑا تھا کل بھی دانیال ماں کے

ساتھ رشتہ ڈالنے آیا تھا منع کرنے پر ہاتھا پائی پر اتر آیا تھا وہ اسی لیے سردار کے پاس چلے آئے سکینہ اندر بچو کو پڑھانے جا رہی تھی تبھی اسکی نظر سامنے صحن میں کھڑے حیدر اور رائنا پر پڑی وہ رائنا سے کچھ کہتے اس کی چادر درست کر رہے تھے اور وہ کھلکھلا رہی تھی اسے یکایک حسد کی آگ نے آگھیرا وجہ شاید کل گھر پر ہوا تماشہ بھی تھا

اس نے رائنا کو ناقدانہ انداز سے دیکھا ہلکی سانولہاٹ مائل گندمی رنگت بھورے چمکدار بےحد سیدھے لمبے بال ،بھوری سادہ سی آنکھیں بے حد معصومیت لیے خوبصورت چہرہ جو اگرچہ بےحد حسین نا رکھتا پر خوبصورت ضرور تھا اس نے دیوار گیر آئینے میں نقاب ڈھیلا کیا خود کو دیکھا گوری دودھ سی رنگت ،گرے آنکھیں بال اس کے بھی خوبصورت تھے کالی گھٹاؤں سے وہ کسی سے کم نا تھی پھر کیو سامنے کھڑا شاندار شخص اس کا نہیں تھا

وہ اپنی سوچوں پر خود ہی کانپ گئی “یا اللہ مجھے مجھے معاف فرما “وہ بگٹٹ بچو کے کمرے کی طرف بھاگی ،اسے حقیقتاً اپنی سوچ سے کراہیت آرہی تھی مگر کہیں نا کہیں دل کہہ رہا تھا”کیا غلط ہے تم کونسا کوئی غلط کام سوچ رہی ہو ،شادی کا تو سوچا ہے ” عجیب کسشمکش تھی

💖————💖

وہ اگلے روز ڈیرے پر جانے کی تیاری میں تھے جب اس نے روکا

“کیا ہوا ؟”وہ حیران ہوئے

“مجھے آپ سے منشی جی کی بیٹی کے بارے میں بات کرنی ہے “

“رائنا !تمہیں کیا یہ معملات اتنے آسان لگتے ہیں ؟کیا بولنا ہے اچھا بتاؤ پھر “

جوابا اس نے دانیال کی سکینہ کو ہراساں کرنے کا بتا دیا

“ایسے زبردستی کون کسی سے شادی کرتا ہے بھلا”

“آج دونو طرف کا معاملہ سنوں گا تبھی فیصلہ ہوگا’ وہ کہتے چل دیے

💖————💖

دونوں طرف کے معملات سننے کے بعد فیصلہ ہوگیا تھا

منشی جی کسی طور بیٹی کی شادی دانیال سے کرنے پر رضامند نا تھے

“زور زبردستی کا سوال نہیں ہوتا تم رشتہ ڈال سکتے ڈال دیا ہاں یا نا کی مرضی ان لوگوں کی ہے “

حیدر دوٹوک بولے

“وہ میری منگ ہے سرکار”دانیال نے جھوٹ گھڑا

“جھوٹا ہے سرکار یہ میں نے کبھی رضامندی نہیں دی اس کو اس کی ماں کو مکر کر رہا ہے”منشی جی بےبسی چیخے

“دانیال اگرچہ وہ تمہاری منگ تھی تب بھی وہ بچپن کی بات تھی دوسرا کوئی ثبوت کے وہ منگ تھی تمہاری

(ان کے ہاں منگ طے کرتے وقت نشانی کے طور پر لڑکی کا باپ لڑکے کو اپنی طرف سے چھلا دیتا ہے اور لڑکے کی ماں لڑکی کو ساتھ لڑکی ناک بھی چھیدائی جاتی ہے)”

دانیال کے پاس کوئی چھلا نا تھا مذید جھوٹ پر مذید شامت ائی

پنچائیت نے فیصلہ دے دیا تھا کے چونکہ دانیال سکینہ کو منگ نہیں ثابت کر پایا اور منشی جی سکینہ کی شادی اس سے نہیں کرانا چاہتے اس لیے اب سے دانیال کی ماں یا وہ خود انہیں تنگ کرے گا تو سزا پائے گا دوست جھوٹاا دعوا کرنے پر دانیال کو جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا وہ پیچ وتاب کھاتے گھر روانہ ہو جب کے منشی جی خوش تھے

×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×

“لومڑی سا شاطر ہے یہ شخص ,دیکھا کیسے بچ نکلا سب تیاری کر رکھی تھی اس نے”وہ کرخت نقوش کا شخص فون پر غرا رہا تھا

کبھی اس کا ملازم اندر کسی کو لے کر آیا

“جناب یہ ہاشم ہے ،جسے آپ ڈھونڈھ رہے تھے “اب کے خاموش کھڑا اس کا دست راست بولا

وہ آنکھوں میں چمک لیے اس بدحال آدمی کو دیکھنے لگا اور قریب آنے کا شارہ کیا

“جو ہم نے کہا ہے وہ کرو گے”

“پر مجھے کیا ملے گا”

“اس بدحالی میں بھی یہ تنتنا “اس نے مکروہ۔ قہقہہ لگاتے اسے گریبان سے پکڑ کر جھٹکا

“مال اسی کی بھوک ہے نا ملے گا ،بتا کیا اور کیسے بولے گا “

ہاشم اسے پریکٹس کرکے بتانے لگا تھوڑی دیر بعد مطمئن ہوتے

اس نے اسے بھیج دیا

بھاءجی ! آخر اسی کو کیو میڈیا کے سامنے نہیں لاتے آپ ؟”

دست راست حیران تھا

” وہ اس لیے کے یہ مرد اوپر سے کرپٹ اس کے تو اپنے کچے چھٹے کھل جائیں گے ، حیدر بخت کی بیوی عورت ،اور عورت کیا ہوتی ہے مظلوم اس کے آنسو کی بات ہی کچھ اور ہے “

“پر وہ کیو مانے گی بھلا ،پیسہ تو ہے اس کے پاس حیدر بخت کی بیوی جو ہے”

“وہی کمزور کڑی تو اس نے بتائی ہے ،جیسی صورتحال تھی اس میں چند جھوٹے ثبوت اسے یقین کرادیں گے کے اس کا مجرم اس کا شوہر ہر پھر پڑھیں لکھی عورت وہ نکلی تو موم بتی برادری بھی ٹریگر ہوجائے گی رائتہ ایسا پھیلے گا کے سنمبھالے نہیں سنمبھلے گا “وہ مکروہ قہقہہ لگاتے بولا

“یہ یہی ثبوت کافی ہے اس عورت کو یقین دلانے کے لیے “

اشارہ ہاشم کی طرف تھا جسے ملازم باہر لے جا رہا تھا

“کام نا بنا تو ؟”

“تو کیا تجھے نہیں پتا “

اب کے دونوں ہی ہنسے تھے