Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh NovelR50439 Intezaar Ishq Episode 4
Rate this Novel
Intezaar Ishq Episode 4
Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh
وہ دو دن سے اپنے میکے میں تھی۔۔۔ وہ خود اسے خوشی خوشی چھوڑ گئے تھے وہ حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبوں سے ہمکنار تھی۔۔۔۔
ماں باپ سے ملتے ہی اسکے شکوے دم توڑ گئے تھے۔۔۔ یاد تھا تو بس اتنا کے عرصہ بعد اپنوں میں آئی تھی اسے خود پر غصہ آ یا جو اتنے پیار کرنے والے ماں باپ سے خفا تھی۔۔۔ جو کیا تھا اس کے لیے ہی کیا تھا۔۔۔ ان کا اپنا تو کوئی مفاد نا تھا یہ دو دن اسکی پچھلی زندگی کے دوران جیسے تھے۔۔۔۔
وہ وہی پہلے والی رائنا بن گئی اسے لگا جیسے کوئی خواب تھا۔۔۔ وہ ماہ جو اسنے حویلی میں گزارے تھے اب وہ اس خواب سے حقیقت میں اپنے گھر آ گئی۔۔۔ مگر تیسرے ہی دن اسکا خواب حقیقتاً ٹوٹ گیا۔۔۔
صبح ہی حیدر کی کال آ گئی تھی وہ آ ج شام اسے لینے آ رہے تھے۔۔۔ وہ لب بھینچے فون کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“کیا ہوا رائنا۔۔۔۔؟
کسکی کال تھی۔۔۔؟”
سائرہ (رائنا کی والدہ)اسے یوں ایستادہ دیکھ پوچھ بیٹھیں۔۔۔۔
“وہ آ رہے ہیں شام تک لینے “وہ افسردہ مرے مرے لہجے میں بولی۔۔۔۔۔
“کون حیدر۔۔۔؟ یہ تو اچھی بات ہے تم نے بولا انہیں کے کھانا ہمارے ساتھ کھائیں آ ج۔۔۔۔۔
“اس نے ان کے سوال پر شرمندہ ہوکر نا میں سر ہلایا۔۔۔۔”
بہت بری بات ہے رائنا۔۔۔ ایسا شوہر قسمت سے ملتا ہے۔۔۔ بھول جاؤ کے کیسے ملے تم لوگ حال میں جیو گڑیا اب دیکھو وہ تمہارے ماں باپ کا ہی کتنا کرتے ہیں۔۔۔”
“کیا کیا کرتے ہیں امی۔۔۔۔؟”وہ چونکی۔۔۔۔۔
کوئی ایک چیز ہو تو بولوں بھی۔۔۔۔ کبھی گاؤں کی سوغاتیں۔۔۔۔ کبھی کچھ۔۔۔۔ ابھی تو ایک لڑکا بھی بھیجا اسنے۔۔۔ سہولت کے لیئے۔۔۔۔ بل وغیرہ جمع کرانے تمہارے ابو کو ڈاکٹر کے ہاں لانے لیجانے کے کام کے لئیے۔۔۔۔
داماد ہے۔۔۔۔۔ اچھا نہیں لگتا میں نے روکا تو بولا جب رائنا میرے گھر اور گھر والوں کو اپنا سکتی ہے۔۔۔۔ تو اپکا بھی حق بنتا ہے۔۔۔۔ مگر میں بھی ماں ہوں تمہاری جانتی تھی۔۔۔۔ وہ صرف میری تسلی کے لیئے بول گئے تھے۔۔۔۔ اور اب میرے شک پر مہر لگ گئی تم وہیں اسی ناسمجھی اور غیر یقینی کی کیفیت میں ہو۔۔۔۔ جب سے آ ئی ہو میں نے ایک بار بھی تمہیں حیدر کو یاد کرتے کال کرتے نا دیکھا۔۔۔۔ یہ اچھی بات نہیں ہے رائنا شوہر ہے تمہارا۔۔۔۔ جو عورت شوہر کو ستاتی ہے نا تو جنت میں بیٹھی حور اسے کوستی ہے۔۔۔۔ اپنے شوہر کو دل سے اپناؤ خیال رکھو اسکا۔۔۔۔۔
“وہ مکمل طور پر اس کی برین واشنگ کررہی تھیں۔۔۔”
“آپ پر ایسی بوجھ تھی میں کہ جیسے ہی موقع دیکھا کسی کے پلے باندھ دیا۔۔۔۔”
اب بھی مجھے وقت نہیں دے رہیں آ پ سنبھلنے کا۔۔۔۔ امی مجھے میرے ماں باپ سے ایسی امید نا تھی کہ آپ لوگ روایتی ماں باپ کی طرح مجھ سے شادی کے بعد آ نکھیں پھیر لیں گے۔۔۔۔”وہ رونکھی ہوئی۔۔۔۔
“رائنا تمہیں لگتا ہے کہ ہم بوجھ سمجھتے تھے تمھیں۔۔۔۔ اس لئیے تمہں حیدر سے بیاہ دیا۔۔۔۔ اس وقت حل ہی کیا تھا بولو۔۔۔۔ اپنی عزت یا اس ڈر سے تمہیں رخصت نہیں کیا کے کہیں اس در پر نا بیٹھی رہ جاؤ۔۔۔ بیٹی ہم تو عمر بھر تمہیں سینے سے لگا کر رکھ لیتے۔۔۔۔ اگر تمہاری زندگی کو خطرہ نا ہوتا۔۔۔۔ ایک صورت میں ہی تمہں محفوظ کر سکتے تھے سو کردیا۔۔۔۔ اپنا نہیں صرف تمہارا سوچا اور ابھی بھی صرف تمہاری بھلائی کے لیئے کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔ اچھا بتاؤ سچ سچ کیا حیدر نے شادی کے بعد تم سے برا برتاؤ کیا۔۔۔۔؟ یا کسی اور نے تمہیں مارا یا تنگ کیا۔۔۔۔ ،تمہیں عزت نہیں دی۔۔۔؟”انہوں نے پوچھا تو اسنے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔
“پھر تمہیں بھی انہیں عزت دینی چاہیئے۔۔۔۔ ورنہ یہ تو کم ظرفی ہوگی نا اور ہاں ہم نے حیدر کو تمھارا سائبان سمجھ کر تمہیں محفوظ چھاؤں میں رخصت کیا ہے،۔۔۔۔ لیکن اگر کبھی یہ چھاؤں تپتی دھوپ بن جائے تو تمہارے ماں باپ کے دروازے کھلیں ہیں تم پر۔۔۔۔۔ میں جانتی ہوں میری بیٹی اس کا غلط فائدہ نہیں اٹھائے گی۔۔۔۔” وہ آ خر میں آبدیدہ ہوگئیں تو وہ ان کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔
امی کی باتوں نے اسے شرمندہ کردیا تھا۔۔۔۔ اسنے اس گھر کو دل سے کہاں اپنایا تھا۔۔۔۔ بس مارے باندھے بندھی تھی سب سے۔۔۔
حیدر بخت وہاں کےسردار تھے۔۔۔۔ انکی بیوی کی حیثیت سے اسکا فرض تھا کہ وہاں کی عورتوں کے اور حویلی کے زنان خانے کے مسئلے سنے۔۔۔۔۔ انھیں حل کرے پر اسنے کبھی توجہ نا کی۔۔۔۔ اسلئے یہ اختیار ابھی بھی حیدر کی بڑی بیوہ بہن بی اماں کے ہاتھ تھا۔۔۔۔
ایک بار آمنہ کے دبے لفظوں میں احساس دلانے پر وہ صاف بولی تھی۔۔۔۔۔۔
“میں نے ان کا ٹھیکہ نہیں لیا۔۔۔۔۔ جس کا گاؤں اسے ہی مبارک ہو “
آج امی کی باتوں نے اسے آ ئینہ دکھایا تھا۔۔۔۔ وہ شرمندہ سی فون پر حیدر کو کھانے کی دعوت دینے لگی۔۔۔۔
شام کو حیدر کے آ نے پر وہ اچھا سا تیار ہوئی۔۔۔۔۔ اور وہ اس کے ماں باپ سے بہت عزت سے ملے۔۔۔۔ ان کے ساتھ خوشگوار ماحول میں کھانا کھا کر چل دیئے۔۔۔۔۔
وہ وقت رخصت اپنی والدہ کو اپنی طرف سے اطمینان دلا کر واپس گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
————![]()
گاڑی سبک رفتار سے چل رہی تھی حیدر نےپچھلی سیٹ پر بیٹھے اپنے برابر بیٹھی رائنا کو بغور دیکھا۔۔۔ ہلکے سبز رنگ کے چکن کاری کے سوٹ میں کانو میں چھوٹے مگر خوبصورت ڈائمنڈ ٹاپس پہنے ہلکا سا میکپ کیے روایتی چادر اوڑھے وہ انھیں اپنے دل کے قریب لگی۔۔۔۔۔
والدین سے ملنے کی خوشی اسکے وجود سے جھلک رہی تھی۔۔۔ تبھی اسکا سنولاہٹ مائل گندمی مخروتی انگلیوں سے سجا نازک خوبصورت ہاتھ اپنے مظبوط سفید کا لے روئےسے بھرے ہاتھ میں لے لیا۔۔۔۔ وہ اس بے تکلفی پر سٹپٹائی مگر وہ سکون سے بیٹھے رہے۔۔۔۔
“کیسا گزرا وقت آ ثار تو اچھے لگ رہیں ہیں کافی۔۔۔۔” وہ اسکی تیاری کو دیکھتے متبسم لہجے میں اسکا ہاتھ سہلاتے بولے گرم پر حدت گرفت ان کے دل کا حال بیان کر رہی تھی۔۔۔۔۔
رائنا نے ایک لمحہ کو سوچا کے اپنا ہاتھ چھڑا لے پھر امی کی باتیں یاد آ ئی۔۔۔۔۔ اس نے سمجھوتے کی راہ پر قدم بڑھانے کا فیصلہ کرلیا۔۔۔۔ وہ اب خود بھی اس رشتے کو موقع دینا چاہتی تھی۔۔۔”
اچھا گزرا کافی آ پ کا کیسا گزرا۔۔۔۔ آپ پارٹی کے کام میں مصروف تھے نا کیسا ہوا سب۔۔۔۔” وہ اسکے اس طرح اپنے معاملے میں دلچسپی لینے پر خوشگوار حیرت میں مبتلاء ہوگئے۔۔۔۔۔۔
“فینٹاسٹک سب اچھا گیا۔۔۔۔” انہونے خوش دلی سے جواب دیا۔۔۔۔
اگر میں اچھا برتاؤ رکھوں تو شاید یہ مجھے میرا پروفیشن کنٹنیو کرنے کی اجازت دے دیں۔۔۔۔ اسنے دل میں سوچا اسے اپنی سوچ پر ہنسی بھی آ ئی وقت کا ہیر پھیر تھا اپنے کام کے لیئے اسے ایک ایسے شخص کی اجازت درکار تھی جو کچھ عر صہ پہلے اسکی زندگی میں کہیں نہیں تھا۔۔۔۔ اس کے والد صاحب کہتے تھے کے لڑکیوں کے لیئے آ ج کل کے دور میں فائننشلی اسٹیبل ہونا ضروری ہے۔۔۔۔ تا کہ برے وقت میں مظبوطی سے قدم جمائے رہیں وہ اسے ہر مردوں زن کا بنیادی حق کہتے تھے۔۔۔۔ مگر حیدر روایتی تھے جو سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئے تھے انکے نزدیک یہ چیزیں اتنی کہاں اتنی اہمیت رکھتی ہوگیئں۔۔۔۔
خیر اس نے سر جھٹکا ان سوچوں سے جان چھڑائ بھلا کیا فائدہ ان باتوں کا اب تو یہ سوچنا تھا کہ حیدر کو قائل کیسے کیا جائے۔۔۔۔۔ اسے حیدر سےاپنے والدین کے بارے میں بھی چند باتیں کر نی تھی ابھی وہ تانے بانے ہی بن رہی تھی کہ انہونے اسکا ہاتھ کو ہلکا دبایا۔۔۔۔۔
“کیا الجھن ہے۔۔۔؟ جو پوچھنا چاہتی ہو پوچھ لو۔۔۔”
وہ اتنے درست اندازے پر دنگ رہ گئی پھر سنبھل کے گویا ہوئی۔۔۔۔
“آپ میرے پیرنٹس کے لئے اتنا کچھ کرتے رہے لیکن مجھے کبھی نہیں بتایا “
“اتنا کچھ۔۔۔” انہوں نے ہنستے ہوئے اسکے لفظ دوہراے۔۔۔۔
“وہ مجھ سے جڑے رشتے ہیں۔۔۔۔ تمہیں اس معاملے میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔۔۔”
بڑا ہی دو ٹوک جواب تھا کہ وہ چند لمحے چپ رہ گئی۔۔۔
” پھر مجھے کیوں روکا ملنے سے جب میں نے کراچی آنے کو کہا تھا “
“میرا ایک بار کا منع کیا یاد ہے۔۔۔۔ مگر خود کتنی بار فون تک پہ بات کرنے سے انکاری ہوئی۔۔۔ کیسے مارے باندھے ان سے بات کرتی تھی۔۔۔۔ وہ شاید تم بھول گئی تم اس شادی کہ کارن ان سےخود ناراض تھی۔۔۔۔ پھر یہ کہ میں کیسے مان لیتاتمہاری بات۔۔۔۔؟ تمہیں احساس کیسے ہوتا کہ وہ کتنی اہمیت رکھتے ہیں تمہارے لئیے۔۔۔؟”
“پر آپ نے تو کہا تھا یہ آپ کے رواجوں کے خلاف ہے پھر کیسے۔۔۔۔؟” وہ الجھی۔۔۔۔
“وہ بھی ایک سچ تھا۔۔۔۔ مگر یہ تمھارے سوچنے کی باتیں نہیں ہیں۔۔۔۔ ویسے اپنے دستاویزات لیے تم نے۔۔۔۔”؟
انکی بات پر وہ دنگ رہ گئی۔۔۔
“جانتا ہوں تم اپنی ڈگری کے لیے بے چین ہو کام ایاز کے سپرد کردیا تھا میں نے اب بس کچھ چیزوں پر دستخط چاہیے” وہ اس کے حیران تاثرات سے محفوظ ہوتے بولے۔۔۔
جس کام سے تمہیں کراچی آنا تھا میں جانتا ہوں بٹ نیکسٹ ٹائم بی کیرفل۔۔۔۔ مجھ سے سیدھے سبھاو سے بات کرنا تمہیں کھولی کتاب کی طرح پڑھ چکا ہوں تمہاری ہر جنبش سے واقف ہوں۔۔۔۔”
وہ شرمندہ سی چپکی بیٹھی رہی۔۔۔۔
*-*-*-*************************
“اٹھو !رائنا گھر آگیا ہے۔۔۔”
“سوری آنکھ لگ گئی تھی۔۔۔۔” انکے شانے سے سر اٹھا تے وہ خفت زدہ ہوئی جانے کب وہ ایسی دھت ہوئی۔۔۔۔
“آؤ اندر چلیں۔۔۔”
وہ نرمی سے کہتے آگے بڑھ گئے۔۔۔۔
جبکے رائنا پوش علاقے میں بنے سادہ مگر خوب صورت گھر کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
“آ و ,ہم یہاں کم ہی آتے ہیں۔۔۔ پر دیکھ بھال کے لیئے چند ملازم ہیں یہاں۔۔۔” وہ اسے گھر دیکھاتے بولے یہ گھر چھوٹا تھا مگر ہر سہولت سے آ راستہ پیراستہ ویل فرنشڈ صاف ستھرا تھا۔۔۔۔
حیدر کے بلا نے پر ملازم بچہ کواٹر سے ایک درمیانہ عمر کی عورت کو بلا لایا۔۔۔۔
“رائنا یہ کبرا ہے یہاں کام کرتی ہے اور کبری یہ تمھاری بڑی سرکار ہیں۔۔۔۔ ابھی کچھ دن یہاں ہیں ہم دھیان رکھنا کوئی پریشانی نا ہو انھیں۔۔۔۔۔”
“رد بلائیں دور بلائیں کبرا ہے نا کوئی پریشانی نہیں ہوگی میری بڑی سرکار کو۔۔۔۔ ہائیں کتنی سوہنی بنائی ہے مولا سائیں نے مولا سائیں سلامت رکھے۔۔۔۔”
وہ عورت خوشی سے بلائیں لیتی کہنے لگی۔۔۔۔۔
“آ مین “
حیدر نے خوشدلی سے کہتے اسے بخشیش تھمائی تو دعاوں کا سلسلہ کچھ اور بڑھ گیا۔۔۔۔”
اچھا اب رحیم سے کہو ہمارا سامان گاڑی سے نکال کر ماسٹر بیڈروم میں پہنچا دے۔۔۔۔” وہ رائنا کے شانوں پر بازو پھیلاتے اسے لئیے کمرے کی اور بڑھ گئے۔۔۔
————![]()
وہ اس سے اگلے دن کی صبح تھی۔۔۔۔۔
“ہم یہاں کب تک ہیں۔۔۔۔؟”
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی بال سلجھا رہی تھی چار ماہ میں کافی کچھ بدلہ تھا ااسکے شانو سے تھوڑا نیچے آنے والے بال اب کمر چھونے لگے تھے۔۔۔۔
اسکی بات پہ وہ جو فائل میں مگن تھے اسے دیکھنے لگے انکے ایسے مبہوت ہونے پر وہ گڑ بڑائی۔۔۔۔۔
“کیا دیکھ رہےہیں۔۔۔۔”
“اپنی بیوی کے بال۔۔۔۔ اب کم سے کم یہ حق تو اپنا نظر انداز نہیں کرونگا میں۔۔۔۔ نا انصافی اپنے ساتھ بھی نہیں برتنی چاہیے”
انکا لہجہ متبسم تھا جبکہ رائنا انکی معنی خیز بات کے معنی پا چکی تھی۔۔۔۔۔
اسکی حجاب آ لود خاموشی کو محسوس کرکے وہ مسکراے پھر بولے۔۔۔۔
“ایک ہفتے یا شاید دو ہفتہ قیام ہو۔۔۔۔ تم کل ریڈی ڈاکومنٹ بھی رکھ لینا۔۔۔ تاکے تمہاری ڈگری کے کام بھی نپٹا دیے جائیں “
انکے کہنے پر وہ جانے کیوں انہیں دیکھنے لگی آج پہلی بار اسے اپنے شوہر کی وجاہت کا اندازہ ہوا۔۔۔۔۔
“کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔؟ چلو دیکھ لو آخرحق ہے تمہارا فرض نا سہی حق ہی سہی “
وہ ایک بار پھر طنز سے باز نا آئے۔۔۔
رائنا نے واک آؤٹ کرنے کو ہی غنیمت جانا۔۔۔۔۔
