406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 8

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

حال۔۔۔

وہ منہ نقاب سے ڈھکے رکشہ کرتی ہاسٹل جانے لگی۔۔۔ وہ بے چینی سے اپنی منزل کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔ کب وہ وہاں پہنچے اور اپنی بہن سے مل سکے۔۔۔۔

اسے مہینوں میں ایک آدھ بار ہی یہ موقع ملتا تھا۔۔۔ جب شرجیل نامی عزاب گاؤں جاتا۔۔۔ اسے اس کے وہاں جانے کے اپنے لئے جہاں خوشی ہوتی وہیں اس کے بیوی بچوں کا سوچ کر برا لگتا۔۔۔ ایسا غلیظ شخص جو انکا سرپرست ہے۔۔۔۔

آج وہ نائیکہ کی بہت منتیں کرکے اس قید خانے سے نکلی تھی۔۔۔۔

وہ ہاسٹل پہنچ چکی تھی سر سے پاؤں تک ڈھکے چہرہ چھپائے اندر گئی۔۔۔۔ رسمی کاروائی کے بعد وارڈن نے اسکی فلک کو بھیج دیا۔۔۔ اسے دیکھ فلک دوڑ کے اس کے گلے لگ گئی۔۔۔۔”

اتنے عرصے بعد آ ئی ہو اپیا۔۔۔” وہ روتے بولی شہرینہ نے نم آنکھوں سے اسے الگ کیا اور پچکارتے بولی۔۔۔۔

” اپیا کی جان تم سے دوری بھی ضروری ہے۔۔۔ ورنہ میری زات سے منسلک سیاہ ناگ تمھیں ڈس لیں گے۔۔۔۔ تم بس پڑھائی کرو کوشش کرو کے اسکولر شپ حاصل کرو۔۔۔ تاکہ یہاں سے باہر جا سکو۔۔۔” وہ اسے سمجھاتی بولی۔۔۔

“ہم دونو جائیں گے اپیا۔۔۔” فلک امید سے بولی ۔۔۔۔

“میں جاؤ یا نا جاؤ تمہیں جانا ہوگا فلک۔۔۔” وہ اسے خود میں بھینچتے عزم سے بولی۔۔۔ پھر الگ ہو کر اسکی آنکھیں صاف کی۔۔۔

” یہ لو کچھ پیسے ، مگر سارے خرچ نا کرنا بلکہ جمع کرنا تاکہ بعد میں آسانی ہو۔۔۔”

اس کی بات پر فلک نے اثبات میں سر ہلایا فلک 18 برس کی تھی۔۔۔۔ اپنی بہن کے رازوں سے خوب واقف تھی۔۔۔۔ اسے اپنی بہن سے بہت محبت تھی۔۔۔۔ وہ اسے اب بھی عزت دار ہی سمجھتی تھی۔۔۔۔ کیونکہ جانتی تھی اسکی بہن مجبور ہے۔۔۔۔ وہ ان سفید کالر والے منافقوں سے لاکھ درجے بہتر ہے۔۔۔ جو دن میں کچھ رات میں کچھ ہوتے ہیں۔۔۔ جو ویسے تو لوگوں کو دن رات حیا کے لیکچرز دیتے ہیں۔۔۔ اسکی بہن جیسیوں کو دھتکارتے ہیں۔۔۔ اور رات کے اندھیروں میں انہیں کے پاس جاتے ہیں۔۔۔۔

اسکی بہن تو قسمت کی ستائی تھی لیکن اب اسے بچانے کیلیے کیسے سرگرم تھی۔۔۔ وہ بہن کے بارے میں سوچتے آبدیدہ ہوگئی۔۔۔

💖————💖

“حیدر اس دن بھی تمہارے بارے میں پوچھ رہے تھے۔۔۔۔ شہر میں کام کے بہانے تم کس کام میں ہو۔۔۔ سب سمجھتی ہوں یہ تو حیدر کا اندھا اعتماد ہے مجھ پر جو بچ جاتے ہو۔۔۔ تھوڑا خود کو لگام ڈالو شرجیل سائیں ورنہ جس دناسے پرا لگا حیدر کا عتاب آئے گا۔۔۔ اور نشانہ ہوگے تم اس کا غصہ جانتے ہونا آئے دن آمنہ زخمی رہتی ہے کیسے کیسے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں مجھے۔۔۔”

بی اماں شرجیل کو گھرکتے بولیں۔۔۔

“آپ نہیں بچائیں گی مجھے ،ارے نہیں میں کہاں چہیتا ہوں آپ کا چہیتے تو وہ ہیں آپ کے سوتیلے بھائی۔۔۔” وہ ہمیشہ کی طرح انہیں جزباتی طور پر گھیرتے بولا۔۔۔

“سوتیلا ہوا تو کیا باپ تو ایک ہی ہے ،میرے لئیے دونو سگے ہو بلکہ تینوں ہی کیو ایسی باتیں کرتے ہو۔۔۔”

“نہیں کروں گا بس یہ چھوڑنے کا نا بولا کیجئے آپ ایسے چھوڑ دینگی مجھے۔۔۔” اس نے پھر پتا پھینکا۔۔۔

اور سمجھدار سی بی ماں بھائی کی محبت کے دام میں پھنس گئی۔۔۔۔

“ایک تو تم نا سمجھنا کبھی میرے دل کا سکون ہیں۔۔۔ میرے بھائی تم تینوں کو اکھٹا رکھنا ہی میرامقصد اب چاہے اس کے لیے تمہاری شخصیت کے راز چہپانے کلیے حیدر سے جھوٹ ہی کیو نا بولنا پڑے۔۔۔۔” وہ یہ سب بول محبت میں رہی تھیں یہ جانے یہ سوچے بغیر کے ایک بھائی کا اعتبار توڑ رہی ہیں۔۔۔ دوسرے کی خراب اخرت مزیدخراب کر رہی ہیں۔۔۔۔

بے جا لاڈ پردہ داریاں صرفتباہ ہی کرتیں ہیں۔۔۔ یہ مرد عورت کی تفریق سزا و جزا دیتے معاشرہ کرتا ہے۔۔۔ خدا نہیں اس کے لیے مرد کا گناہ بھی گناہ ہے اقر عورت کا بھی بے شک وہ سب سے بہتر منصف ہے وہ دونوں اس بات کوبھولے بیٹھےتھےمگر فرشتے سب حساب لکھ رہےتھے۔۔۔۔ حیدر کاعتاب اتا نا اتا اللہ کا عتاب کوئی نہیں ٹال سکتا۔۔۔

💖————💖

ماضی۔۔۔!

وہ اسے کہاں لے گئے وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔ جو وہ جانتی تھی تو وہ یہ کے وہ اغواہ ہوچکی ہے۔۔۔ اور یہ لوگ کوئی عام لوگ نہیں ہیں۔۔۔ وہاں وہ دو آدمی اسے مارتے گالیاں دیتے وہاں دو عورتیں بھی تھی۔۔۔ جو اتنی ہی پتھر دل تھیں ان سب میں سب سے خطرناک وہ لمبا چوڑا شخص تھا۔۔۔

بظاہر عزت دار دکھنے والا خطرناک انسان۔۔۔ رائنا کو اس گھپ اندھیرے سے بھری کوٹھری میں رکھاگیا تھا۔۔۔ طرح طرح کے کیڑے مکوڑوں سے بھری اس کوٹہری میں پاؤں میں بندھی زنجیروں کے ساتھ وہ بہادر لڑکی انسانو سے خوفزدہ تھی کے۔۔۔ انسان سے بڑا حیوان کوئی نہیں اسے اپنی عزت کا خطرہ تھا۔۔۔ جو فلحال محفوظ تھی،کئی بار اسے ایاز کے باہر لڑنے کی آوازیں آئیں وہ امید باندهتی مگر جلد ہی اندازہ ہوگیا کے وہ بےبس ہے۔۔۔۔

💖————💖

حال۔۔۔!!

وہ اس وقت گاڑی میں بیٹھے ہسپتال کی جانب رواں دواں تھے۔۔۔ وہ ماضی کے اندھیروں میں گم تھے جب ڈرائیور نے پوچھنے کی خبر کی۔۔۔۔ وہ رائناکے آنے کا انتظار کرنے لگے۔۔۔

“کال کی ہے کیا۔۔۔؟” انہونے ڈرائیور سے پوچھا۔۔۔

“جی سرکار، انہونے کہا تھا کے آرہی ہیں۔۔۔۔” ڈرائیور مودب سا بولا۔۔۔۔

“ہمم !”انہونے ہنکارہ بھرتے ہاتھ میں بندھی گھڑی کی جانب دیکھا۔۔۔ تو یکا یک مسکراہٹ نے عنابی

لبوں کا احاطہ کر لیا یہ گھڑی بھی رائنا نے اس بار کی اپنی تنخواہ سے انکے لئے خریدی تھی۔۔۔۔ باقی کی تنخواہ وہ اپنی والدہ کے اکاؤنٹ میں جمع کراتی تھی۔۔۔ وہ اپنے ماں باپ کو جانتی تھی۔۔۔۔

اسکے والد عرصے پہلے ریٹائر ہوچکے تھے انہیں پیسوں کی کمی نا ہو۔۔۔ اس کے لئے وہ یہ پیسے انکے اکاؤنٹ میں جمع کراتی تھی شروع میں اس کے والدین خفا ہوئے پھر اسکی ضد کے اگے سریندر کردیا۔۔۔

وہ اس کے بارے میں سوچ رہے تھے۔۔۔۔ جب وہ آتی دکھائی دی ساتھ میں گورے رنگ کا فربا سابرگر ٹائپ لڑکا تھا۔۔۔ جو مسلسل کچھ بول رہا تھا جو وہ عدم دلچسپی سے سن ررہی تھی۔۔۔ اور آس پاس نگاہ ڈوراتے گاڑ ی ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔ ڈرائیور اسے بلانے اترنے لگا تو حیدر روک کر خود باہر آئے اور اس کی جانب بڑھے۔۔۔

“آپ۔۔۔” وہ انہیں دیکھ انکی طرف لپکی وہ چپکو بھی ساتھ آگے بڑھا۔۔۔۔

“ارے مس رائنا یہ آپنے بتایا نہیں کے آپ کا تعلق پولیٹیکل فیملی سے ہے (اشارہ حیدر کے ابھرتے پولیٹیکل کریر کی جانب تھا”)

” وہ لڑکا سعود جو اس ہسپتال کا نیا انٹرن تھا۔۔۔ اور فطرط بے تکلف بھی تھا اور باتونی بھی حیدر کو پہچان کر جوش سے بولا۔۔۔

“ویسے آپ تو نہیں لگتی فیوڈل ،اب تعارف توکرادیجے مس رائنا۔۔۔” رائنا نے ایک نظر اس چپکو کو دیکھا وہ حیدر کی نا گواری محسوس کر گئی تھی پر اب تعارف تو کرانا تھا۔۔۔۔

“یہ سعود ہے انٹرن ہے میرے ساتھ اور سعود یہ حیدر بخت میرے “

“رائنا کا ہسبنڈ ،سوری ہم ذرا جلدی میں ہیں پھر کبھی ملینگے آپ سے۔۔۔” رائنا کا جملہ مکمل کرتے سعود سے ہاتھ ملایا اور رائنا کے شانو کے گرد بازو حمائل کرتے آگے بڑھ گئے۔۔۔

ڈرائیور کو پیچھے جانے کا اشارہ کیا اور کیز لےلی فرنٹ سیٹ کا دوڑ کھولااور رائنا کو بٹھا یا خود ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی۔۔۔۔

وہ بہت ریش ڈرائیونگ کر رہے تھے۔۔۔ رائنا نے غور سے انکا چہرہ دیکھا چہرہ ضبط سے لال ہونٹ بھیچے ہوے۔۔۔

“یہ کس بات پر اتنے خفا ہیں۔۔۔۔” وہ دیکھتی سوچنے لگی۔۔۔