406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 5

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

وہ نشے میں دھت پڑا تھا۔۔ شہرینہ چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے اسکی بکواس سن رہی تھی۔۔۔ یہ اس کا نا شوق تھا نا ہی خوشی بس مجبوری تھی۔۔۔ برسوں پہلے اس کے سوتیلے باپ نے اسےاور اسکی بہن کو بیچ دیا تھا۔۔۔ جب وہ محض 18 اور اسکی بہن سولہ برس کی تھی۔۔۔

وہاں کوٹھے پر ہی شرجیل بخت کی نگاہ اس پر پڑی پھر پلٹنا بھول گئی۔۔۔ اس نے اسے اپنے لئے مخصوص کرا لیا تھا۔۔۔ وہ نائیکہ کے لئیے سونےکا انڈہ دینے والی چڑیا تھی۔۔۔۔

خود بھی یہ بات جانتی تھی۔۔۔ یہ زندگی بہت ازیت ناک تھی اس نے نائیکہ سے منتیں کیں کے وہ شرجیل کے ساتھ رہ لے گی۔۔۔ مگر وہ اسکی بہن کو پڑھنے دے ورنہ وہ کبھی اس درندے کے ساتھ نہیں جائے گی۔۔۔۔ بلآخر اس نے ہامی بھر لی تو وہ شرجیل کے ساتھ چلی گئی۔۔۔

وہ انسان نہیں درندہ تھا یہ اسے گزرے دو سالوں میں اچھے سے سمجھ آ گیا تھا۔۔۔۔ وہ اکثر اسے مطلب پورا ہونے کے بعد بے تحاشہ مارتا پیٹتا تھا۔۔۔۔ ملغظات بکتا وہ اس کے سامنے اکثر اپنی بیوی کے بارے میں بھی ملغظات بکتا۔۔۔ وہ اس شخص سے شدید نفرت کرتی تھی۔۔۔ جو بنا کسی مجبوری کے اس غلاظت میں ڈوبا تھا۔۔۔ نفرت تو وہ خود سے اور اس کوٹھے پر بسنے والی ہر عورت سے بھی کرتی تھی۔۔۔ مگر سب سے زیادہ نفرت اسے ان خریداروں سے تھی۔۔۔۔ جن کیلئے یہ بازار سجےتھے۔۔۔۔

وہ سر جھکائے انھیں سوچوں میں تھی کہ اس نے اسکا منہ اپنے پنجے میں دبوچا۔۔۔

“گالی کیا سوچ رہی ہے تجھے سوچنے لایا ہوں چل اٹھ ناچ کے دکھا چل۔۔۔” وہ اسے بیڈ سے دھکا دیتے چیخا وہ آ نسو ضبط کرتی اس کے حکم کی تعمیل کر نے کے لئیے کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔۔ یہ سب وہ مجبوری میں کر رہی تھی۔۔۔ اس کی بہن اٹھارہ برس کی ہوگئی تھی اسے اسکے لئیے پیسا جمع کرنا تھا۔۔۔۔ اور شرجیل پیسے کے معاملے میں بہت فراغ دل تھا۔۔۔

اوریہ سب کرنا تو ویسے بھی اس کی مجبوری تھی مگر جو پیسے شرجیل اس پر الگ سےلٹاتا تھا۔۔۔۔ وہ اس سے کم از کم اپنی بہن کو ہی اس غلاظت سےبچا سکتی تھی۔۔۔

💖————💖

وہ لوگ یونی پہنچ گئے تھے۔۔۔ رائنا کے ذہن میں گزرے دن گردش کرنے لگے۔۔۔

پانچ سال اس جگہ پر دوستوں کے ہمراہ گزارے تھے۔۔۔ اس نے اسکی زندگی کے خوبصورت پانچ سال ایک ایک کونے سے بے شمار یادیں تھی۔۔۔۔ اسکی آنکھیں بھر آئیں پر پھر وہ خود کو کمپوز کر گئی۔۔۔۔

ڈاکومنٹ کا کام لمبا تھا۔۔۔ اور عمومی طور پر اس میں کئی چکر لگتے ہے۔۔۔ پر اول تو وہ کافی کام ایاز کے ذریعے سے کراچکے تھے۔۔۔ جس میں انکے اثر رسوخ کا بھی عمل دخل تھا۔۔۔۔ آج بھی انکی موجودگی کےکارن وہ جلد فری ہوگئے۔۔۔۔

“آپ کو پرابلم نا ہو تو میں اپنے کچھ فرینڈز سے مل لوں وہ یہیں ہاؤس جاب کرتے ہیں یونی سے ملحق ہسپتال میں۔۔۔”

“اوکے بٹ جلدی ،چلو پھر۔۔۔۔” وہ دونوں ہسپتال کی جانب چل دیے۔۔۔۔

💖————💖

واپسی میں وہ بہت خوش تھی۔۔۔ وہ شادی کے بعد پہلی بار اسے اتنا خوش دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔

وہ اپنے ماحول میں آکر خوش تھی۔۔۔ ماحول انسان کے مطابق نا ہو تو وہ مرجھا جاتا ہے۔۔۔ جیسے رائنا مرجھا گئی تھی۔۔۔۔

“کیا سوچ رہے ہیں۔۔۔؟” وہ اپنے دھیان میں تھے جب رائنا کے سوال نے گاڑی میں چھایا سکوت توڑا۔۔۔۔

“تمہیں کب سے میرے سوچنے سے فرق ہونے لگا۔۔ جو سوال پریشان کر رہا ہے وہ پوچھو۔۔۔”

وہ اس بات پر دنگ رہ گئی۔۔۔ در حقیقت من ہی من وہ پریشان تھی کے اسکے دوستوں سے مل کر وہ کیا سوچ رہے ہیں۔۔۔

وہ آج ربیعہ اور ارشد سے ملے تھے۔۔۔ ربیعہ ہائی سوسائٹی کی پرورش تھی۔۔۔ سو اسکے لباس میں بھی وہی نظر آتا تھا یہ الگ بات ہے کے ربیعہ بہت اچھی لڑکی تھی جبکے ارشد لڑکا تھا تو اسے لگا وہ متعرض ہونگے۔۔۔ گو وہ سب دوست ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔۔۔۔ اور کبھی کوئی حد سے بڑھی بےتکلفی کسی نے نا دکھائی تھی۔۔۔ پھر بھی وہ حیدر کا ردعمل جاننا چاہتی تھی۔۔۔۔

“آپ کو میرے دوست کیسے لگے۔۔۔۔” آخر اسنے پوچھ ہی لیا اسے بےچینی تھی جاننے کی بظاہر تو وہ سب سے اچھے سے ملے تھے۔۔۔۔ اور اپنے ہاں مدعو بھی کیا تھا۔۔۔ اس نے اپنے دوستوں کو ولیمہ کا عندیہ نہیں دیا تھا۔۔۔ اسے لگا تھا وہ جتائیں گےاس بات کو مگر وہ دونوں نارمل ہی رہے تھے۔۔۔۔ شاید ایاز پہلے ہی بات سنبھال چکا تھا۔۔۔

“ایک ملاقات میں کسی کو کیا جج کروں۔۔۔ بظاہر تو اچھے تھے ارشد سے میں پہلے بھی مل چکا ہوں ویسے۔۔۔” انہوں نے ابرو اچکائے۔۔۔

“ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔؟” اسکے منہ کھولے دیکھنے پر وہ مسکرائے۔۔۔۔

“کسی کا لباس انداز ہماری حدود کے مطابق نا ہو تو اسکا مطلب یہ نہیں کے ہم اسے غلط سمجھیں۔۔۔۔،مذہب پر ہم چاہے کتنا عمل کرلیں اسکا قطعً مطلب نہیں کہ ہمیں دوسروں کو جج کرنے کا حق ہے۔۔۔۔ ہمیں کیا پتا کون اللہ‎ کے زیادہ قریب ہے۔۔۔ کس کی کونسی بات اللہ‎ کو زیادہ پسند ہے۔۔۔” وہ اب کے واضح کرتے ہے بولے۔۔۔

واقعی آپ نے درست کہا۔۔۔

” one should not judge a book by its cover”

اسنے بھی دل میں اعتراف کیا

💖————💖

وہ باقی کے دن بہت مصروف رہے تھے۔۔۔۔ رائنا کا سارا دن ملازموں کے بیچ گزرتا۔۔۔ یا کبھی وہ اسے ڈرائیور اور گارڈ کے ہمراہ اسکی والدہ کے ہاں بھیج دیتے۔۔۔

اس دوران ان پر رائنا کی کافی خوبیاں آشکار ہوئیں وہ کافی سمجھ دار سلجھی ہوئی پریکٹیکل لڑکی تھی۔۔۔ اسنے انھیں کام کے دوران ذرا نا تنگ کیا نا بار بار حویلی یا۔۔۔ اپنے والدین کے ہاں جانے کا تقاضا کیا۔۔۔ نا کوئی اور فرمائش کرکے تنگ کیا۔۔۔۔

وہ پڑھی لکھی تھی اسی لئے کام کی اہمیت سمجھتی تھی۔۔۔۔ آج وہ فارغ تھے انہوں نے رائنا کو تیار ہونے کا کہہ دیا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد وہ شاپنگ مال میں تھے۔۔۔۔ رائنا نے تو بس ضرورت کی چند چیزیں لیں اور اپنےاور حیدر کی فیملی کے لئے گفٹس لئیے جب کہ حیدر نے کافی خریداری کی۔۔۔ خصوصا رائنا کلیئے کافی دریسز اور آرائش کی دوسری چیزیں لی۔۔۔ وہ وہاں سے فارغ ہوکر نکلے ہی تھے۔۔۔۔ جب سامنے سے گزرتی ایک لڑکی پر رائنا کو اس کا گمان ہوا۔۔۔

اس سے پہلے کے وہ اس کے پیچھے لپکتی حیدر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔۔۔”

کیا ہوگیا کہاں جا رہی ہو کچھ چاہیے کیا۔۔۔۔؟ وہ فکرمندی سے پوچھ رہے تھے تبھی انکی نگاہ سامنے پڑی ایک سایہ سا انکے چہرے پر لہرایا مگر انہوں نے فوراً ہی قابو پالیا۔۔۔۔

“حیدر وہ سامنے۔۔۔” وہی تھی۔۔۔” رائناا زور دے کر بولی۔۔۔

“کم آ ن نہیں تھا کچھ بھی ایسا وہم ہوگا تمہارا۔۔۔ چلو بس گاڑی میں بیٹھو۔۔۔۔” وہ اسے ساتھ لگاتے گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔۔۔

اسکے بعد پورا ٹائم وہ الجھی ہی رہی۔۔۔ ڈنر کے دوران بھی وہ اسی کیفیت میں تھی ۔۔۔

“کیا ہوگیا رائنا ٹھیک سے کھاؤ ۔۔۔ پسند نہیں آیا کیا۔۔۔۔” وہ اسکو دیکھتے فکر مندی سے گویا ہوئے۔۔۔

وہ دونوں اس وقت شہر کے سب سے معروف ریسٹورنٹ میں تھے حیدر نے ایک پرائیویٹ ایریا بک اور ڈیکوریٹ کرایا تھا۔۔۔ یہ اوپن پلیس تھی سامنے خوبصورت سا سمندر نظر آرہا تھا۔۔۔۔ سب کچھ بہت خوبصورت تھا۔۔۔۔ ایک لمحےکو تو وہ سحر زدہ ہوگئی۔۔۔”

اچھا لگا تمہیں۔۔۔ حیدر نے اسے مگن سا پایا تو پوچھا۔۔”

جی بہت اچھا ہے سب۔۔۔” وہ مسکرا کر بولی تو حیدر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر ڈائمنڈ کی خوبصورت سی رنگ پہنائی اس رنگ کا ڈیزائن بہت یونیک تھا۔۔۔۔

“خوب صورت ہے بہت۔۔۔” وہ دل سے بولی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوبصورت وقت گزار کر واپس گھر چلے آئے کل انہوں نے حویلی کے لئے نکلناتھا ۔۔۔۔

💖————💖

وہ بستر پر دراز آج کے دن کو سوچ رہی تھی۔۔۔ آج کا دن واقعی بہت خوبصورت تھا۔۔۔

اسنے اپنے ہاتھ میں پہنائی حیدر کی رنگ کو دیکھا پھر برابر میں سوئے حیدر کو۔۔۔ اونچا قد چوڑے شانے،صاف رنگت پر گھنے کالے بال کھڑی ناک گھنی مونچھوں تلے عنابی لب بے بہا دولت رتبہ وہ کسی طور نظرانداز نہیں کیے جا سکتے تھے۔۔۔۔

مگر رائنا علی کا دل اسنے کبھی ان چیزوں کی خواہش نا کی تھی۔۔۔ اسے تو سیدھی سادی زندگی جینی تھی۔۔۔ اس کہ تو الگ ہی خواب تھے۔۔۔ محنت کر کے اپنامقام بنانے کے۔۔۔ وہ تو محنت سے راستہ بنانے والی لڑکی تھی۔۔۔ اسے اپنے مقدس پیشے سے عشق تھا۔۔۔۔

“اگر یہ سب نا ہوا ہوتا تو۔۔۔۔ زندگی کتنی الگ ہوتی وہ سوچنے لگی سوچتے سوچتے اسے وہ یاد آئی اور ساتھ ساتھ آج کا واقعہ۔۔۔”

میں نے خود اسے دیکھا تھا کیا پتا حیدر نے بھی دیکھا ہو پر وہ کیوں چھپائیں گے وہ مضطرب ہو کر اٹھ بیٹھی ۔۔۔”

اسکے جھٹکے سے اٹھنے نے حیدر کو بھی جگا دیا۔۔۔

“کیا ہوگیا۔۔۔ کیا سوچ رہی ہو۔۔۔؟” وہ نیند بھری آواز میں بولے پھر اسکا چہرہ بغور دیکھا

“ابھی تک اسی بارے میں سوچ رہی ہو۔۔۔؟

“وہ وہی تھی حیدر۔۔۔” وہ بےبس لہجہ میں گویا ہوئی۔۔۔

“رائنا تمہیں پہلے بھی کہہ چکا یہ ہر وقت ماضی کی راکھ کریدنا چھوڑ دو۔۔۔ ہر وقت یہی سوچو گی تو یہی لگےگا۔۔۔ ،کہہ چکا ہوں وہم تھا تمہارا۔۔۔” وہ سختی سے گویا ہوئے۔۔۔۔

“آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ۔۔۔،میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسے۔۔۔۔””” وہ بھی جھنجھلا ئی۔۔۔

” بات ختم ہوچکی رائنا بس اب تم بھی ختم کردو سو جاؤ۔۔۔” وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے سرد لہجے میں اسے چپ کرا گئے۔۔۔۔

“شاید میرا وہم ہی ہو اگر وہ وہی ہوتی تو حیدر کیوں چھپاتے۔۔۔”

وہ خود کو یقین دلاتے دل میں سوچنے لگی۔۔۔۔۔