406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 1

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

آج بھی نیند اسکی آنکھوں سے کوسو ں دور تھی۔۔۔ اس نے برابر میں سوۓ وجود کو دیکھا۔۔۔

ایک ہاتھ اسکے سر کے نیچے رکھے وہ دنیا سے بےخبر سو رہے تھے۔۔۔۔ انکی نیند کو دیکھتے اسے ایک الگ سے رشک و حسد نےآ گھیرا۔۔۔۔

وہ جھنجھلا کر بیڈ سے اترنے لگی اسی اثنا میں کسی نے اسکا بازوں تھام کر اسے ایسا کرنے سے روکا۔۔۔

“کیا پریشانی ہے۔۔۔؟ کب سے بے چین ہو۔۔۔، سو کیو نہیں رہیں۔۔۔؟ ” وہ اسے اپنی خمار آلود نگاہوں سے تکتے بولے۔۔۔”

نیند نہیں آرہی۔۔۔” وہ بے بسی گویا ہوئی ۔۔۔

انہو نےاسے شانو سے تھام کر واپس لیٹا دیا۔۔۔۔

“ماضی کی راکھ کریدتی رہو گی تو کیسے آے گی نیند۔۔۔؟

آج میں جینا سیکھو آنکھیں بند ہو بس اب۔۔۔” اس پر چادر برابر کرتے اسکے ماتھے پر بوسہ دے کرحکم صادر کیا وہ بھی مجبورا ًہی سہی آنکھیں موندھ گئی۔۔۔۔

💖–** -** -** -** —💖

وہ ابھی حویلی کے پچھلے حصے میں بنے باغیچہ سے لوٹی تھی کہ ۔۔۔ برآ مدہ میں تخت پر جاہ و جلال سے بیٹھی بی جان کے عتا ب کا شکار ہوگئی۔۔۔۔

بہت خوب بڑی دلہن۔۔۔ شو ہر کے گھر آنے کا وقت ہے۔۔۔ اور یہاں آپ کو آپنے اللے تللو ں سے ہی فرصت نہیں حلیا تو دیکھیں۔۔۔ حو یلی کی بڑی سرکار ہیں آپ۔۔۔” انہونے لتاڑ نے کے ساتھ اسکے سادہ کپڑوں اور بن میں لپیٹے بالوں کو نشانہ بنایا۔۔۔

“اب جائے اور جا کر حلیہ سدھاریں کتابیں پڑھا نے نہیں لاۓ آپ کو “

“تو کیوں لائے تھےمجھے کس نے منت کی تھی یہ یاد رکھیے بی اماں کے۔۔۔ میری یہاں موجود گی میں عمل دخل آپ لوگو کا آپ کی غلطیوں کاآپ کی فرسودہ روایتوں اور زہنیت کاہے”

وہ بھی بنا لگی لپٹی رکھے کہتی چلتی بنی۔۔۔ جبکہ بی اماں کھولتی رہ گئیں اگر حیدر کا لحاظ نا ہوتا تو اسے انکے عتاب سے کوئی نابچا پاتا۔۔۔

💖–** -** -** -**–💖

“کیوں الجھتی ہو بڑی نندہے مگر ساس کے جیسا رتبہ ہے ،احترام فرض ہے انکا”

آمنہ بھابھی جو اپنے چھوٹے کو لیکے برآمدے میں جا رہی تھی۔۔۔ اسے بکتا جھکتادیکھ ٹو ک بیٹھیں جواب میں اسنے سب انکے گوش گزار دیا۔۔۔

“غلطی تمھاری بھی ہے پتاہے بڑے سرکار آنے والے ہیں۔۔۔ اوریہ اصول ہے کہ شوہر کے لیے سج دھج کی جائے توتم کیو یہ اولجلول حلیہ لیے پھررہی ہو”

آپ بھی ایسا کہیں گی ا ب جب میرے دل ہی نہی کرتا تو کیسے تیار ہوں۔۔۔ وہ بھی ان کے لیے جن کی وجہ۔ ۔۔۔” وہ جھنجھلائی جبکہ آمنہ نے اس کی بات بیچ میں ہی روک دی۔۔

“ہاں انکے لیے سجو سنوروں اور زندگی کوایسے ہی قبول کرلوتمھارے اپنے اختیا ر میں کچھ نہی۔۔۔ توسمجھوتا ہی کرلو۔۔۔ ویسے بھی تمہاری ساری وقعت یہاں انہی کےکارن ہے۔۔۔ ورنہ بی اما کسی کی اتنی نہیں برداشت کرتیں۔۔۔،

یہ سب کوئی خواب نہیں ہے حقیقت ہے جسے جتناجلدی قبول کرلو بہتر ہوگا۔۔۔”

آمنہ اسکا شانہ تھپکتی تصویر کااصل رخ واضح کرتی چلتی بنی۔۔۔۔

💖–**-**-** -**–💖

” یار آخر میں آلم شاہ مر جاتا ہے۔۔۔ قسم سے بڑا دکھ ہوتا ہے۔۔۔ ” چپس کچر کچر کھاتی لڑکی دکھ سے بولی۔۔۔

“اسے ناول کےاسٹارٹ میں ہی مرنا چاہءے تھالےکرضوفی کی زندگی خرابکی” بھورے سیدھےبال پونی میں قید کرتی نمکین رنگت اور معصوم چہرے والی لڑکینے دوٹوک تجزیہ دیا۔۔۔

“ابے یار تم بھی نا بڑی کوئی بہت ہی ان رومنٹک لڑکی ہو بھئی جب ضوفی کواس سے محبت ہو گئ تو تم کیو اپسیٹ ہو” دوسری جھنجھلائی۔۔۔

“ویسے سوچو کوئی تمہیں ایسے اپنانا چاہےپھر۔۔

“چپس کھاتی لڑکی شرارت سے بولی جواب میں پونی والی لڑکی نےاسےکتاب کھینچ ماری۔۔۔

“خدا نا کرے ویسے بھی یہ وڈیرے چٹی حسین صورتوں پہ آتے ہیں ہم تو بچے ہیں۔۔۔ ان سب جھمیلوں سےمجھے ویسے بھی فیوڈل سیسٹم نہیں پسند ایک دن بھی نہیں رہ سکوں میں تو” وہ کانوں کو ہاتھ لگاتی صاف گوئی سے گویاہوئی۔۔۔

“اگر آپ کا رویو ہوگیا تو کلاس میں چل سکتے ہیں”

موبائل میں مگن لڑکا اب بیزاری سےٹوک بیٹھا۔۔۔ جبکہ اسکی بات پہ حہاں وہ تینوں تپ گیئں وہیں۔۔۔ دوسرا لڑکا ہنس پڑا پھر سب اٹھ کر کلاس کی جانب چل دیے۔۔۔۔

💖–**-**-**-**–💖

“سلام بی اماں ” وہ آتے ہی ان کے آگے جھکے اور سر پر پیار لیا۔۔۔

“جیتے رہو رکہھی سرکار کے لیے پانی لا اور سن کھانے کا بھی انتظام کر۔۔۔ بڑی سرکار کہاں ہیں تیری بتا جا کے سرکار آگئے ہیں “

انہونے رکھی کو دوڑایا بھائی کی نگاہیں کسے تلاش رہی تھی وہ سمجھتی تھیں بس ایک وہ کمبخت نہی سمجھتی تھی۔۔۔ آمنہ اور دوسری بھاوج گل رخ بھی اپنے شوہروں کی خاطر میں لگی تھی ایک وہی تھی جسے ڈنڈے کے زور پہ چلانا پڑتا تھا۔۔۔

ابھی بھی انکے بلانےپہ وہ آ گئی تھی۔۔۔ حلیہ بھی قدرے بہتر تھا۔۔۔

اسے دیکھ کر وہ جانے کیوں وہ نا چا ہتےہوئے بھی۔۔۔ پوری جان سے اسکی جانب متوجہ ہوگئے۔۔۔ مگر وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ ان کے لیے چا ئے کپ میں نکالنے لگی۔۔۔ اس کے انداز میں نا آ منہ والی اطاعت تھی۔۔۔ نا گل رخ جیسی نو بیہاتا والا لاڈ۔۔۔ بس مارے باندھے کا کا م تھا۔۔۔ انکی خود پر مرکوز گہری نگاہوں سے گھبراتے

اسنے چائے کاکپ ان کی طرف کہسکایہ۔۔۔۔ وہ چند لمہے اسکی حرکت پر گھورتے رہے پھر جھٹکے سے اٹھ کھڑے ہوے۔۔۔

” میں فریش ہونے جا رہاہوں بی اماں ، کپڑےنکالو” بی اماں سے رخصت لیتے اسے حکم صا در کیا مرتا کیا نہ کرتا کے تحت وہ مرے مرے قدم اٹھا تی انکے پیچھے چل پڑی اور کوئی چارہ بھی نا تھا۔۔۔