406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 20

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

انہوں نے اسے گھورا وہ حقیقتا سہم گیا تب ہی رائنا نے کال اٹھالی اور شازر کی جان خلاصی ہوئی

وہ فون لیے اٹھے ورنہ وہ لقمے دیتے رہتا

“ہاں بولو “

“حیدر مجھے دو ہفتے آف ملا ہے ہاسپٹل کے ایک حصہ ڈیمج تھا چھت گر گئی وہاں کی آب کنسٹرکشن کی وجہ سے آف ہوگا ،باہر گاڑی ہی نہیں ہے آج آپ نے ڈراپ کیا تھا تو،اور ڈرائیور کا سیل آف ہے “

“تم باہر مت جانا اکیلی نا رہنا کسی کولیگ کو روک لو تھوڑی دیر بس میں بھیجواتا ہوں گاڑی حویلی کال کرکے “

“جی ٹھیک ہے پر حیدر سب کولیگز لنچ پر قریبی میک ڈونلڈ جا رہیں ہیں میں بھی…”

“رائنا؟”انہوں نے ٹوکا”نو تم وہیں رکو گاڑی اجائے گی ” لہجہ نرم تھا مگر انداز میں قطیعت تھی

“جی ٹھیک ہے” وہ آہستہ سے بولی

“ڈیٹس گڈ جانم ،اور فون ان رہے ہاتھ میں رہے “

“جی “

“اللہ حافظ”انہوں نے اس کا بھجا بھجا سا انداز نوٹ کیا مگر ان کا ارادہ اس معاملے میں نرمی کا نا تھا

شازر تھوڑی دیر بیٹھا پھر چلا گیا وہ بھی کام میں لگ گئے کچھ ضروری فائلز تھیں جن پر تحقیق ضروری تھی۔۔۔۔

💖————💖

وہ لوگ ہوسپٹل کی ہفتہ بھر کی چھٹی پر حیران تھے اور خوش بھی ماسوائے رائنا کے اور سعود کے سب نے باہر پر جانے کا سوچا رائنا تو حیدر کے صاف جواب سے بڑی تھی پر بظاہر کمپوزڈ تھی اور سب کو ہسبنڈ کے ساتھ پروگرام ہے کہہ کر ٹال دیا تھا ورنہ وہ سب ترس بھری نگاہوں سے اسے دیکھنے لگے تھے جو اسے قبول نا تھا ، جبکہ سب سے زیادہ پریشان سعود تھا جو ان لوگوں کی سمجھ سے اوپر تھا کے اسے ایسا کیا غم ہے ہوسپٹل بند ہونے کا “تم تو ایسے بیٹھے ہو جیسے تمہاری ناکارہ اولاد عمر بھر کی پونجی لٹا آئی ” ڈاکٹر صبیح طنزیہ بولے

“ہاں تو دو ہفتے نا کوئی اوپی ڈی نا کوئی وارڈ نا ہی کوئی سرجری کیسے گزری گی بھائی”وہ ماتم کناں انداز میں بولا تو وہ سب کڑے تیور لیے اسے گھورنے لگے

“سرجری جسے اسسٹ (assist)کرنا تو دور آپ ہاتھ باندھ کر پیچھے کھڑے آئی اوئی کرتے ہیں”رائنا نے طنز کیا

“اوپی ڈی جہاں آپ پلس(pulse)تک غلط لیتے ہیں “اب کے ڈاکٹر رودابہ نے حملہ کیا

“اور وارڈ میں روز اپنے پیشنٹس کے سامنے سینئر سے راؤنڈ پر آپ بارے سنتے ہیں واٹ از سو فسینیٹنگ فار یو” ڈاکٹر صبیح نے بھی سنایا

“اوہ چھوڑو تم لوگ “وہ کوفت سے اٹھا رائنا کی آنکھیں اسی پر تھیں وہ اس دن اسے چوری چھپے شہرینہ کے روم سے نکلتا دیکھ رہی تھی پہلے شرجیل پھر سعود ٹرائینگل سمجھ نہیں آرہا تھا پھر بھی اس نے سعود کی اس روم سے نکلنے کی ویڈیو ریکارڈ کر لی تھی کیونکہ وہاں فریدہ کے علاوہ جانا منع تھا تو جو سعود نے کیا وہ آفیشل مس کنڈکٹ تھا رائنا کسی کا کیرئیر برباد نہیں کرنا چاہتی اسی لیے تصدیق سے پہلے کوئی قدم نہیں اٹھا رہی تھی اب شہرینہ کی ہسپتال سے چھٹی اور سعود کی پریشان حالت معاملہ مزید الجھا رہیں تھیں

💖————💖

“ڈیم اٹ ڈیم اٹ !گاڈ وائے می ؟ڈیڈ کو بھی ابھی پاکستان آنے کا سوچنا کب سے سب سے چھپ کر بزنس وائنڈ آپ کر رہے تھے تبھی تو اچانک سو کالڈ سرپرائز دیا اب انہیں شہرینہ کی رئیلٹی پتا چل جائے گی پھر ؟اوہ نو

اور یہ شہرینہ کی بھی چھٹی کرادی گئی فون بھی نہیں لگ رہا کیا کروں اب اس پنکی کے ڈاکومنٹس سبمٹ کرانے کا فایدہ ڈیڈ خود یہاں آرہے ہیں نیکسٹ منتھ واٹ ٹو ڈو “وہ سر نوچتا پاگل یوریا تھا

اسے اب تک اس کے رپورٹر دوست نے کچھ خبر نا دی تھی شہرینہ کو میڈیکل ایڈوائس کے خلاف چھٹی دلوادی گئی تھی “یقینا یہ اس شرجیل کا کام ہوگا”وہ بھی پر یقین تھا مگر اب اسے بلکل سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے اس کے ڈیڈ نے کچھ وقت میں اسے یو ایس آنے کا بھی بولا تھا وہ سب سمیٹ پاکستان آکر بسنا چاہتے تھے سعود کو گھیرا تنگ سے تنگ ہوتا محسوس ہوا ڈیڈ کو اگر شہرینہ کی اصلیت پتا چلتی تو وہ پیچھے ہٹ جاتے مگر سعود اب اس لڑکی کو ایسے نہیں چھوڑ سکتا تھا اس کے اندر بیٹھا انسان زندہ تھا دل پر قفل ابھی نہیں لگا تھا

“کوئی نا کوئی وے آؤٹ ضرور ہوگی ،ائی کین دو اٹ” وہ خود کو ہی یقین دلانے لگا

💖————💖

وہ گھر آئی تو موڈ خراب تھا اس کے کولیگز ہوسپٹل بند ہونے کی خوشی میں اسٹنگ پر جا رہے تھے مگر اس کے کال پر پوچھنے پر حیدر نے سختی سے منع کردیا رائنا کو سب کے سامنے سبکی سی ہوئی تھی “کیا سوچتے ہوں گے سب میرے ہسبنڈ کیسے شکی ہیں “یہ سوچ اس کا دل خراب کر رہی تھی وہ سر جھٹکتے آمنہ کی طرف چلی وہاں سکینہ آئی تھی اس نے سکینہ کو آمنہ کو بھی اردو سکھانے کا بولا تھا آمنہ بھی خوش تھی شرجیل نے اس پر ہر خوشی بند کی ہوئی تھی وہ اس کی غیر موجودگی میں سجنا سنورنا دور کوئی کڑھائی والا یا شوخ رنگ لباس نہیں پہن سکتی تھی باہر اکیلے جانا تو دور وہ خود بھی اسے کہیں لے کر نا گیا تھا آمنہ تو اپنے گاؤں سے بھی ناواقف تھی بس کبھی کبھار ر خاندان میں شادی ہی اس کی تفریح تھی ،ٹی وی ،موبائل ،کی بھی پابندی تھی ناپاکی میں غوطہ زن شرجیل اپنی نصف بہتر پر زندگی تنگ کیے جانے کو جنت کمانے کا ذریعہ سمجھے بیٹھا تھا رائنا سے آمنہ کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی اس نے سوچ لیا تھا آمنہ کی زندگی میں بہتری لانے کا سکینہ کو اس نے وقتی طور پر اسی لیے رکھا تھا کے بچوں کے بہانے آمنہ کو بھی اردو سکھانے محض دو ہفتے میں یہ نا ممکن تھا پر اس نے بعد کی بعد پر اٹھا رکھی وہ وہاں بیٹھی سب پر غور کرتی رہی بھولی سی آمنہ کے چہرے پر بڑی معصوم سی لگن اور اشتیاق تھا رائنا کو سکون سا محسوس ہوا

💖————💖

“بڑی سرکار !”

“ہاں بولو “

“آپ کا بڑا احسان ہے جو آپ نے میری بات سنی میری مدد کی وہ کل بھی آیا تھا اور صبح بھی ، بچے پڑھ چکے اور بیبی بھی کیا میں تھوڑا اور وقت رک جاؤں بس گھر میں کم سے کم رہ کر ہی اس سے بچ سکتی ہوں “وہ ملتجی ہوئی

” اچھا ٹھیک ہے ،ویسے تم اپنے والدین کو کیو نہیں بتاتی کے وہ آدمی تمہیں تنگ کرتا ہے “

“بس کیا کریں بڑی سرکار یہاں ماحول ہی ایسا کوئی رشتہ مانگ لے پھر ہر صورت دینا ہوتا ہے میری اماں تو ویسے بھی اسے اچھا سمجھتی ہے سب سے اچھی شکل نوکری سب کچھ تو نہییں نا ہوتی وہ آج میری مرضی کے بغیر مجھے چھیڑتا ہے شادی کے بعد کیسے رکھے گا بھلا ،اماں ابا کو بتایا تو پہلی صورت میں مجھے اسی سے بیاہ دیں گے دنیا سے بچنے کے لیے”

“ہممم ٹھیک “کیسا افسوس کا مقام ہے دنیا کی باتیں اولاد سے بڑھ کر ہوجاتیں ہیں اسے اپنا وقت یاد آیا اس نے بھی تو مجبوری میں رضامندی دی تھی مگر پھر اس کے ابا اس کے پاس چلے آئے وہ ماضی میں کھو گئی

“رائنا بچے !تم خوش نہیں ہو گڑیا؟”

“نکاح میں ایک دن ہے ابا اب کیا فائدہ”

“نا میرے بچے دنیا کے ڈر سے نہیں بیاہ رہا تمہیں نا اس ڈر سے بیاہ رہا ہوں کے لوگ کیا کہیں گے یا بعد میں رشتہ نہیں ہوگا جو اللہ اب سبب بنارہا ہے تب بھی بنا دے گا ،مگر وہ دوسرے قبیلے والے کافی ظالم ہیں وہ اپنی دوکوڑی کی آنا کی تسکین کے لیے ہر صورت شک پہنچائیں گے جبکہ حیدر صاحب نا آنا میں اپنا رہیں ہیں نا مجبوری میں وہ خود جب بتانے آئے تھے تمہاری وہاں موجودگی کارشتہ دے کر گئے تھے اپنا “ابا رسان سے بتاتے بولے

“کیا؟” وہ انگشت بداناں رہ گئی

“میں نے یہی کہا۔کے آپ بہت اچھے ہوںگے مگر ماحول الگ ہے اللہ میری بیٹی کا کہیں اور سبب بنادے گا تب بھی اس اتنی بڑی پوزیشن والے نے آنا کا مسئلہ نا بنایا ہماری پھر بھی مدد کی پھر یہ فتنہ پرور آگئے بیٹی اب مجھے لگا کے تمہیں ان سے صرف ایسے ہی بچا سکتا ہوں مگر تم اولاد ہو میری تمہارے لیے تمہارا باپ کھڑا رہے گا ہمیشہ نہیں چاہتی میری بیٹی تو نا سہی میں ساتھ ہوں تمہارے جھوٹی آنا عزت دنیاداری پر اولاد قربان کرنے کے لیے نہیں دیتا اللہ”وہ آنسو پوچھتے بولے۔ باپ کا شفیق چہرہ رائنا کا دل پسیج گیا وہ تڑپ ہی اٹھی ان کی شفیق آغوش میں آزمائی

“ابا آپ کو یقین ہے ؟اپ کو یہ فیصلہ صحیح لگتا ہے ؟”

“گڑیا یقین صرف اللہ پر ہے اس کی کامل زات پر ،دل کو کہیں فیصلہ صحیح بھی لگتا ہے “وہ اس کا سر سہلاتے بولے

“مجھے بھی آپ کے یقین پر یقین ہے پھر ابا آج تک آپ کے یقین پر یقین کیا ہے آج بھی وہی کرنا چاہوں گی”اس نے ان سے لگے لگے حامی بھری

مگر بعد میں اس واقعہ کے اثرات بی اماں کے طعنوں تشنوں اسے اگلے دن میکے نا جانے دینے اور ماں باپ کی خاموشی نے منتفر کردیا مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ وہ اس کفیت سے نکل ہی آئی اسے اپنے ابا پر فخر تھا جنہون نے اس وقت بھی اولاد کو دنیا پر قربان نا کیا تھا آج سکینہ کی باتوں نے اسے ماضی میں پھر گھسیٹ لیا تھا مگر اب ماضی کی یاد اتنی تکلیف دہ نہیں لگی تھی اسے

“بڑی سرکار ” اس کی آواز نے رائنا کو سوچوں سے باہر نکالا

“ہاں “وہ چونکی

“میں پھر کہاں بیٹھوں ؟”

“ایسا کرو تم یہیں بیٹھ جاؤ” وہ سوچتی بولی اسے ڈر تھا بی اماں شور نا کریں تو سکینہ کو اپنے کمرے میں ہی روک لیا ،یہاں کوئی حویلی کی عورت ان لوگوں پر ایسی مہربان نا تھی یہاں تک کے آمنہ بھی الگ تاؤ سے بات کرتی مگر رائنا کی نرم گوئی اور خیالات سے سکینہ رائنا سے متاثر ہوئی وہ اسکے پناہ دینے پر ممنون تھی اس نے اس دن بڑے ڈرتے یہ سب رائنا کو بتا کر ایک طرح سے جوا کھیلا تھا نہیں جانتی تھی رائنا مدد کرے گی یا نہیں مگر صد شکر اسے مدد مل ہی گئی

💖————💖

رائنا کمرے سے منسلک بالکونی میں تھی اور پودوں کی کانٹ چھانٹ میں لگی تھی جب حیدر چلے آئے اس کے دکھی ہونے کا اندازہ تو تھا وہ ساتھ ہی اس کے لیے گفٹ بھی اٹھا لائے بڑے خوشگوار موڈ سے کمرے میں داخل ہوتے دھچکا سا لگا سامنے حجاب لپٹے سے سفید گلابی رنگت لیے گرے آنکھیں بوٹے سے قد کے ساتھ جو لڑکی کھڑی تھی وہ ان کی بیوی تو نا تھی تو پھر وہ ان کے بیڈروم میں اس اطمینان سے کیو تھی بھلا حیدر کا چہرہ لال ہونے لگا وہ ناک کرتے اندر آئے سکینہ بھی ہڑبڑا گئی جھٹ سے نقاب لگائی “سسس سرکار سلام۔ “وہ کہلاتی سلام کرنے لگی

“رائنا رائنا “وہ بلند آواز میں اس کو پکارے۔