Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh NovelR50439 Intezaar Ishq Episode 22
Rate this Novel
Intezaar Ishq Episode 22
Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh
وہ پیاس کی وجہ سے اٹھی تو برابر میں حیدر کو نا پایا
“کہاں گئے؟یا آئے ہی نہیں تھے ؟”وہ حیران ہوئی پھر اسے یاد آیا حیدر نے اسے انتظار کرنے کو کہا تھا اور وہ اقرا کی باتوں پر اپ سیٹ ہوکر سو گئی تھی “اف “وہ سر پکڑ کر رہ گئی اور اٹھ کر باہر کی جانب چلی وہ لاونج میں ہی دکھ گئے تھے ٹی سی کھولے سنجیدہ سے انداز سے ہی لگ رہا تھا تیش میں ہیں
وہ ان کے برابر ہی صوفے پر جا بیٹھی “کیا دیکھ رہیں ہیں؟،مل کر دیکھتے ہیں مجھے بھی نیند نہیں آرہی “وہ بات بنا تے گویا ہوئی
ریموٹ اس کی طرف کہسکا کر وہ کمرے کی طرف چل دیے رائنا نے ہاتھ پکڑ کر روکا “آئی ایم سوری حیدر”
“یو شڈ بی(you should be)”درشتی سے کہتے اس کا ہاتھ ہٹا یا
وہ اچانک سے دونوں ہاتھوں میں منہ چھپائے بری طرح سسک اٹھی تھی اس کا اس طرح رونا اس کے زہنی سکون کے درہم برہم ہونے کی نشانی تھا اتنا تو اس کے ساتھ رہ کر وہ بھی جان گئے تھے کے وہ اس طرح بات بات پر دل چھوڑنے والی نا تھی
اور آج وہ جس طرح سسک رہی تھی حیدر حقیقتاً پریشان ہوگئے تھے
وہ اس کے برابر آگئے اور اسے کندھوں سے پکڑے کمرے میں لے گئے اور بیڈ پر بٹھا دیا وہ ایسے ہی روتی رہی وہ اس کا سر سہلاتے رہے انہیں چند ہفتوں پہلے کی فون کال یاد آئی جو رائنا کی دوست ربیعہ کی تھی وہ اس وقت آفس میں تھے
“سردار حیدر بخت بات کر رہے ہیں؟”
“جی آپ کون خاتون؟”وہ حیران تھے
“میں ربیعہ رائنا کی دوست آپ سے ملی تھی پہلے بھی رائنا سے ریلیٹڈ بات کرنی تھی ایاز سے نمبر لیا آپ کا”
وہ تھوڑا جھجھکتے بولی
“فرمائیے ” ان کی بھاری آواز ایر پیس پر ابھری
“وہ دکھیے پلیز آرام سے بات سمجنے کی کوشش کیجیے رائنا کی مینٹل ہیلتھ اس واقعے سے ڈسٹرب ہوئی ہے پہلے نہیں تھی وہ ایسی ،بہت سوشل تھی ہنس مکھ بھی ،اب وہ کسی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر نہیں ہے میرے علاوہ کسی۔ بھی پرانی دوست سے بات نہیں کرتی وہ جیسے کسی کا بھی سامنا کرنے سے کتراتی ہے اسے۔۔”
“ایک منٹ خاتون ٹھریے آپ کی فکر کی قدر کرتا ہوں مگر رائنا بلکل ٹھیک ہے مینٹلی فٹ ہے وہ بس ڈسٹرب ہے جو کافی معقول ہے ایسی کنڈیشن میں ،رہی بات سوشل ہونے کی وہ اب بلکل آرام سے نئی جگہ نئے ماحول میں ایڈجسٹ ہے نئے کولیگز ہیں اس کے ،اپ اوور تھنک کررہی ہیں،اسے سائیکیٹرسٹ کی ضرورت نہیں ہے” وہ کافی بے لچک لہجے میں بولے تھے ایک پل خاموشی چھا گئی
“سردار صاحب میں صرف اپنی دوست کے لیے کنسرن ہوں بس ،اپ کی بات ٹھیک ہے کے وہ نئے ماحول میں ایڈجسٹ ہورہی ہے ہر پر ماضی سے وابستہ کسی بھی شخص سے سامنا کرنے سے خوفزدہ ہے، میرے اور اپنے پیرنٹس کے علاوہ،اپ اور وہ لاکھ اووائیڈ کریں تب بھی اچانک سامنا کہیں بھی ہو سکتا میں یہ نہیں کہہ رہی اسے سائیکٹرسٹ کو دیکھائیں مگر اگر ایسی سیچویشن ہو تو پلیز آپ میں بس ۔۔۔کیا بولوں سوری میں بس رائنا کے لیے فکر مند ہوں “وہ تھک کر بولی
اس کی آواز میں بے بسی اور فکر تھی وہ کچھ نرم ہوئے بات رائنا کی تھی آخر
“ٹھیک خاتون آپ کی کفیت سمجھ سکتا ہوں رائنا بیوی ہے میری میں اس کا خیال بہتر رکھ سکتا ہوں اور رکھوں گا آپ کی فکر کی قدر کرتا ہوں “
“تھینک یو پلیز رائنا کو نہیں بتائی گا پلیز”
“ہوں “انہوں نے ہنکارا بھر کر ہامی بھر لی
وہ اس لڑکی ربیعہ کی جرات اور بےغرض دوستی پر حیران تھے یہ دوسری بار تھا پہلی بار تب جب رائنا ہاشم کی تحویل میں تھی ایاز کو الگ بے بس کر رکھا تھا ہاشم نے حیدر ملک سے باہر تھے تب ربیعہ اور ارشد نے کیسے کیسے جتن کرکے رابطہ کیا تھا وہ اس وقت بھی اپنی دوست کے ساتھ تھے جب اسے سب مشکوک ٹہرا رہے تھے یہی وجہ تھی جو حیدر رائنا کے ان سے ان ٹچ رہنے پر رضامند تھے
آج رائنا کی یہ حالت دیکھ انہیں ربیعہ کی بات یاد آئی وہ صحیح تھی رائنا کو اپنے ماضی سے وابستہ لوگوں سے وقتاً فوقتاً ان ٹچ رہنے کی ضرورت تھی ایسے چھپ کر تو زندگی نہیں گزر سکتی تھی وہ اب بھی رو رہی تھی حیدر نے اسے بھڑاس نکالنے دی وہ ابھی اسے وقت دے کر دیکھنا چاہتے تھے سائیکٹرسٹ کے پاس لے جانا نہیں چاہتے تھے ورنہ وہ مزید دکھی ہوتی ہاں اگر بہتری نا آئی تب وہ ضرور سائیکٹرسٹ یا سائیکالوجسٹ سے رابطہ کریں گے یہ انہونے سوچ لیا تھا ،اخر وہ روتے روتے تھک سی گئی تب حیدر نے ہاتھ بڑھا کر اس کے اشک سمیٹے
“یہ اتنی پیاری آنکھیں کیو سجاتی ہو بیوی “ایسی محبت پر وہ پیاری آنکھیں پھر بھر آئیں
“چچ رائنا دیکھو ادھر بتاؤ مجھے کس نے ستایا بولو”وہ اسے پیار سے پچکار رہے تھے
“ائیم سوری حیدر ،میں نے بہت تنگ کر دیا آپ کو “وہ سنمبھلتی آنسو صاف کرتی بولی
تو انہونے اس ساتھ لگالیا اور اس کا سر سہلانے لگے
“رو لو جتنا رونا ہے ،ارام سے کوئی حرج نہیں ، آ ج سب بھڑاس نکال لو تاکہ آئیندہ ایسے نا رونا پڑے”وہ رسان سے کہہ رہے تھے وہ کافی دیر ایسے ہی اشک بہاتی رہی پھر دل ہلکا ہوا تو سیدھی ہوئی اور خود ہی آنکھیں صاف کرنے لگی
“بس یہ لاسٹ ٹائم اب میں کوئی بات کسی کے طنز طعنے پر اپنی اور آپ کی زندگی ایسے نہیں مشکل کروں گی ،اب میں فیس کروں گی جب میں غلط ہوں ہی نہیں تو
۔۔۔میں کیو شرمندہ ہوں “وہ ایک عزم سے بولی تو حیدر نے ہاتھ بڑھا کر اسے خود سے لگایا کبھی کبھی ہاتھ پکڑنا گلے لگانا رومینس کرنا نہیں ہوتا ساتھ دینا ہوتا جذباتی سہارا دینا ہوتا یہ بتانا ہوتا ہے کے ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم قدم ہیں تم ڈرو نہیں ہم سنمبھال لیں گےاور اسی سہارے کی رائنا کو ضرورت تھی جو حیدر نے پوری کردی تھی تھوڑی دیر بعد وہ دونوں ہی ہاتھ پکڑے نیند کی وادی میں تھے آنے والی صبح یقینا روشن ہونی تھی رائنا نے اپنے ایک اور ڈر کا سامنا کر لیا تھا ماضی کی ایک اور کیل نکل گئی تھی ماضی کے سب تلخ باب بند ہو گئے تھے انسان جب اپنے اندرونی خوف کا سامنا کر لیتا ہے تو وہ وقتی طور پر ٹوٹ جاتا ہے یہ ٹوٹنا اسے مضبوط کردیا ہے اس ڈر کو نکال پھینکتا ہے جو اسے اندر ہی اندر کھا رہا ہوتا ہے یہی رائنا کے ساتھ ہوا تھا اب کوئی ڈر نا بچا تھا جو ماضی سے منسلک ہوتا ۔اب سب کیلیں نکل گئیں تھی گڑیا کیلوں سے آزاد ہوگئی تھی
————![]()
صبح وہ حیدر سے پہلے ہی اٹھ گئی تھی ،جلدی سے فریش ہوکر کچن میں گئی اور ان کے اور اپنے کیے ناشتہ بنا یا تبھی کبرا(ملازمہ )ہوسکتی جولتی آئی
“ہائے صدقے جائے کبرای بیبی سرکار کے، بیبی آپ سلامت رہیں آباد رہیں کبرا ہیں نا یہ سب کاموں کو میری بیبی کیو تھکیں “اس کی خوشامدانہ لن ترانی نے رائنا کو بے زار کردیا
“کبرای جاؤ کواٹر میں ضرورت ہوئی تب بلا لوں گی”
وہ ایسے تاؤ سے بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی پر اب یہ اس کی ضرورت تھی وہ بڑی سرکار تھی اس نے اسی رتبے کے لحاظ سے رویے کا تعین کرنا تھا
“جی جی بیبی جو حکم “وہ کھسیانی ہو کر چلی گئی
وہ روم میں گئی تو حیدر وہاں نا تھے ملازم نے بتایا لان میں ہیں
وہ لان میں رکھی کرسی پر دراز کسی سے کال پر مصروف تھے”ملو اس سے بتاؤ اس کو حیدر بخت سے دشمنی اس کو کتنی مہنگی پڑے گی ،نسلیں بھگتیں گی ،عبرتناک حال ہوگا ” رائنا کو دیکھ وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور ہاتھ تھام کر اپنے برابر والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔”جانے کس کی بات ہورہی تھی مگر ایسا سرد اور سفاک لہجہ تھا کہ اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنا ہٹ دوڑ گئی ہاتھ ہنوز حیدر کے ہاتھ کی قید میں تھا دل کیا چھڑا کر اندر چلی جائے اس کے کانپنے پر حیدر نے دیکھا زرد پڑی تھی وہ کال ختم کر کے اسکی طرف متوجہ ہوئے اور اس کی کرسی گھسیٹ کر اپنی طرف کی اب وہ ان کے سامنے تھی
حیدر نے اس کے چہرے پر پیار سے ہاتھ رکھا “کیو پریشان ہو ، تمہیں کیا ضرورت ہے گھبرانے کی ،میری ساری سختی دوسروں کے لیے ہے اور ساری نرمی “وہ رکے پھر نرم نگاہوں سے اسے دیکھا اور جملہ مکمل کیا “تمہاری لیے ہے بس” “وہ اس کے گال کو پیار سے سہلاتے اسے بہلاتے پسلاتے بولے تو وہ پھیکا سا مسکرا دی بزدل نہیں تھی وہ مگر اسے سیدھی سادھی زندگی پسند تھی اور زندگی کو اس کے لیے یہ جنجال پورہ پسند تھا وم
دل کہیں الجھا تھا اور دماغ وہ الگ ہی بین بجا رہا تھا اسے الجھن میں دیکھ حیدر نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی “اے کیا ہوا ؟,کہاں کھو گئیں؟”
“حیدر کیا یہ سب یہ سب ٹھیک لگتا ہے آپ کو؟”
وہ بول بیٹھی “یہ عجیب سے دھاگوں میں الجھی گنجلک سی زندگی “
“زندگی ایسی ہی ہوتی ہے جاناں ہر کسی کی اپنی خواہشات اپنی باؤنڈریز اپنی فکریں اپنی اسٹرگل ہوتی ہے ہر کوئی اپنی کہانی لیے پھرتا ہے کوئی پھولوں کی سیج پر نہیں سوتا جاناں”
“بڑا فلسفیانہ جواب ہے”وہ مسکرائی پھر گویا ہوئی”کیا یہ لوگوں کو ڈرانے..”
اس کی بات حیدر نے بیچ سے ہی اچک لی
“یہ برادری کے مسائل ہیں پنچائیت کے معملات کبھی سیاسی باتیں بھی ہوتی ہے تم مت الجھو ان میں میں تمہیں زیادہ نہیں یقین دلاؤں گا آج آخری بار وضاحت کروںگا پھر تمہیں یقین کرنا ہوگا حق الیقین ویسا یقین۔ جو مجھے تم پر ہے پھر کوئی کچھ بھی بولے تم مجھ پر اعتماد کرو گی بولو کروگی ایسا ؟اگر جواب ہاں میں ہے صرف تب بات ہوگی اس معاملے پر”وہ ہاتھ بڑھائے منتظر تھے اس نے آہستگی سے منظورہ دے دی کے نا دینے کا فایدہ کیا تھا اس صورت میں وہ اسے کچھ بھی نہیں بتاتے
“فلحال جسکے بارے میں بات کر رہا تھا وہ سیاسی مسائل میں سے ہے اپوزٹ جو پارٹی ہے وہ مسلسل بیٹھنے پر زور دے رہی کبھی دھن کی لالچ دے کر کبھی زن کی لالچ اب دھمکیوں پر اترے ہیں خیر ہے یہ سب آنی جانی چیزیں “انہونے سرسری سا بتا کر اخر میں لاپرواہ انداز اختیار کیا
“اور۔ جو یہ پنچائیت کے مسائل ہوتے ہیں کیا وہ خطرناک نہیں؟”وہ پھر بولی
“ہیں بھی نہیں بھی یہ زیادہ تر وقتی جوش کھائے زمیندار ہوتے ہیں جنھیں وقتا فوقتاً ڈوز کی ضرورت پڑتی ہے ،ڈوز ملتے واپس اپنے دائرے میں گھومنے لگتا ہیں”وہی سرسری سا انداز
“آپ ۔۔”وہ کچھ بولتی اس سے پہلے حیدر نے روک دیا
“سنو میری بات رائنا !میں یہ ماحول بدلنا چاہتا ہوں اپنے گاؤں کی ترقی میری دیرینہ خواہش ہے تمہیں پتا ہے چینج آتا کیو نہیں ہے حالات میں ملک میں کیو جو چینج لا سکتے ہیں وہ راہ فرار اختیار کر لیتے ہیں پرخار راہ سے ڈر کر اور جو بچتے ہیں وہ خود ان حالات پر شیر و شکر ہوتے ہیں تو کیو کوشش کریں گے سدھار کی میں اپنے گاؤں کو ایسے ہی لوگوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑوں گا ،جانتی ہو تمہیں کیو بتا رہا ہوں کیو کے پہلے میں اکیلا تھا مگر اب تمہارا نام مجھ سے جڑا ہے تمہیں یہ سب جاننا ضروری ہے ،میرے لیے تمہارا ساتھ ضروری ہے تو کیا میں امید رکھوں تمہارے ساتھ کی؟”
“اسٹرینج سردار حیدر کو ایک عورت کا ساتھ چاہیے”اس نے پرانی بات کا حوالہ دیا جب بھی وہ حیدر کے ساتھ دینے کی بات کرتی وہ ہنستے اسے عجیب لگا تو پوچھ لیا ان کے جواب نے اس کا دل دکھایا تھا”بھئی یہ مردوں کے معملات ہیں تم کیا ساتھ دوگی “لہجہ تلخ نا تھا پھر بھی لفظ غلط تھے وہ اس وقت چپ رہ گئی تھی مگر آج جب وہ اس کے ساتھ دینے کا پوچھ رہے تھے تو وہ خاموش نا رہ پائی اور جتا دیا
وہ تھوڑی دیر اسے ایسے ہی گھورتے رہے پھر ہاتھ پکڑ کر ہلکا سا کھینچا “سردار حیدر کو کسی عورت کے ساتھ کی ضرورت نہیں سمجھی”وہ زور دیتے بولے”سوائے اسکی اپنی عورت کے اسکی بڑی سرکار کے آئی سمجھ “وہ اس کی کنپٹی پر انگوٹھے سے ٹیسکا دیتے مسکراتے بولے
تو وہ پہلے تو حیران رہ گئی پھر ہنس پڑی “ناشتہ کر لیں سردار صاحب ڈائیلاگز کافی ہوگئے “
وہ بھی ہنس دیے
“ناشتے کے بعد ریڈی رہنا آج پورا دن تمہارا باہر بھی جائیں گے اور واپسی میں تمہارے میکے بھی “وہ بولے تو وہ خوش ہوگئی
————![]()
وہ گھوم پھر کر واپس ہوئے تو شام ہوچکی تھی رائنا نے گاڑی میں بیٹھے امی ابو کو فون کرکے اپنے اور حیدر کے آنے کی اطلاع دی
“ہاں بچے یاد آگئی میری اولاد کو ،تمہاری خالہ دادی بھی آگئی واپس انگلینڈ سے گھوم پھر کر کچھ عرصہ رکیں گی”
ابا نے خوشی خوشی بتایا
“سچی ؟”وہ خوش بھی تھی اور حیران بھی خالہ دادی کو انگلینڈ اپنے بیٹے کے پاس گئے سال ہونے کاتھا اب وہ واپس آئیں اس کی شادی جو امی ابا نے کیسے ہر جگہ سنمبھالا تھا وہ ایک الگ ہی کہانی تھی مگر خالہ دادی کو تھیں تو اس کے ابو کی خالہ پر رہی کافی عرصہ ان کے ساتھ تھیبڑی دلچسپ خاتون تھی بڑھاپے نے البتہ کچھ گڑبڑے کردیں تھیں کے وہ کچھ بھی بول دیتی تھی کبھی بے حد سمجھدار برتاؤ کرتیں اور کبھی ۔مسامنے والے کو زچ کردیتیں رائنا ان کی لاڈلی تھی وہ سوچنے لگی حیدر اور خالہ دادی کا ٹکراو کچھ گڑبڑ نا کردے پر اب ان کو کیا کہہ کر روکتی
“حیدر تھک گئیے ہیں آپ تو گھر چلیں ؟”
“نہیں میں ٹھیک ہوں “
“مگر”
“کیا بات ہے رائنا اب اطلاع بھی دے چکے ہیں “انہونے ٹوکا اس کی کال پر کی گئی باتوں سے سمجھ چکے تھے کے کوئی مہمان ہے وہاں اب وہ اس کے کترانے کو الگ ہی سمجھ رہے تھے
آخر منزل آہی گئی اور وہ دونوں اترے
“ایک بار پھر سوچ لیں,خالہ دادی آئی ہیں وہ کچھ بھی بول سکتیں ہیں”اس نے وارن کرنا ضروری سمجھا
آگے بڑھو شاباش “وہ اسے گیٹ میں آگے جانے کا کہتے بولے اس نے بھی کندھے اچکادیے
————![]()
“یار ایک بڑے مزے کی خبر ملی ہے”سعود کا کارن فلیکس میں چمچ چلاتا ہاتھ رک گیا کل ہی تو فلک سے بات ہوئی تھی شہرینہ کو شرجیل کے گیا تھا اور ابھی فلک کا بھی اس سے کونٹیکٹ نہیں تھا ایسے مایوسی کے عالم میں حمزہ (رپورٹر)کی پرجوش آواز نے امید باندھ دی
“ہاں بول ؟”جلدی بول”
“وہ ہیں نا تیرا حیدر بخت اس کے وائٹ کالر پر کچھ کچھ کلنک ملا ہے مجھے ایک پارٹی نے بھی آفر کی ہے ایسے کلنک ڈھونڈنے کی پر کنفرم کچھ نہیں ہے “
“ابے ہے کیا ،ڈونٹ جسٹ بیٹ اراونڈ دا بش کم ٹو دی دی پوائنٹ مین(don’t just beat around the bush come to the point man)(معنی:بات کو گھماؤ مت مدے پر آؤ)”سعود اسکی لن ترانی سے زچ ہوا
“یار دیکھ ابھی نا سب ہوائی بات ہے پر کام کی ہے تھوڑی یہ فیوڈلز کا تو پتا ہے نا تجھے کیسے ہوتے ہیں یہ حیدر کے شاید کسی کزن وغیرہ نے کسی غلط فہمی کی بنا پر لڑکی اٹھائی کسی کی کس کی یہ نہیں پتا بات بڑی دبائی ہے حیدر نے اس کا نام آیا ،اس کے کزن کا نام آیا پر بھائی لڑکی نہیں پتا چلی شاید وہ اس لڑکی کے ذاتی جان پہچان والے کو پتا ہو میڈیا میں نہیں پھیلا یہ معاملہ
بہرحال کزن تو شاید بھیج دیا کیا کیا انہوں نے پتا نہیں۔ لڑکی بھی نہیں پتا مگر اس واقعے کے تھوڑے عرصے میں حیدر بخت کا نکاح ہوگیا اب دیکھ سنا یہ ہے شہری لڑکی سے ہوا تو مجھے لگتا ہے کے حیدر نے کیا ہوگا سب اغوا وغیرہ اور بلی چڑھادیا کزن کو لڑکی عام سے گھرانے کی ہوگی وہ کیا کرسکتے ہوں گے اس کے ،بس یہ بات تھی دیکھ کوئی ثبوت کوئی گواہ نہیں ہے آئی کڈ بی رونگ تو دیکھیے خود باقی میں بھی تلاشی میں ہوں اچھی رقم ملے گی حیدر بخت کی مخالف پارٹی سے”
“یہ تو بہت ہوائی بات ہے یار پھر بھی شاید واقعی ایسا ہو پر تو بتا یہ صحافت کو ایسے بیچنا ٹھیک ہے”
“بھائی پیٹ بھرنا ٹھیک ہے میں کوئی ریپ کیڈنیپنگ یا چوری ڈکیتی نہیں کر رہا حق حلال کی کما رہا ہوں”
اسی فیصد ابادی کی طرح حمزہ کو بھی حرام صرف وہی کمائی لگتی تھی جو جسم فروخت کرنے والے کی ہو چوری کی ہو یا ڈکیتی کی حالانکہ غیر قانونی کام ،کم تولنا ،ورک پلیس پر ہراس کرنا ،کسی کا حق مارنا ،کام کو کم وقت دینا بھی حلال تنخواہ کو حرام کی طرف لے جاتا ہے پر کون پڑے ان گہرائیوں میں سعود نے بھی سر جھٹک کر ان سوچوں سے جان چھڑائی ۔
وہ اب فون رکھے سوچوں میں گم تھا جب یکلخت زہن میں جھماکا ہوا “ڈاکٹر رائنا “
“یس اٹ کس بی پوسبل “اسے رائنا سے اس کے اور حیدر کے ایک ڈیفرنس کا پوچھنا اور رائنا کا ٹالنا یاد آیا ،وہ آفیشل نیم فائلز پر بھی رائنا علی کے نام سے تھی
“ایج ڈیفرنس نہیں پتا ہونا دو باتوں میں آتا ہے ایک لاپرواہی دوسرا نکاح کے وقت یہ بات نوٹ ہی نہیں کی ہو اس نے مگر شادی ارینج ہو یا لو ایج تو بتائی ہی جاتی ہے بھئی پھر اپنی شادی کے ٹاپک پر کترانا،نیم رائنا علی ہی رکھنا بیٹا دال میں کچھ تو کالا ہے یا ساری دال ہی کالی ہے مگر ڈاکٹر رائنا کسی آؤٹ اسپوکن کیریر اورینٹڈ لڑکی اپنے گنہاگا ر کو سر کا تاج کیو بنائے گی مجبورا یہ مجبوری سب کراتی ہے “وہ خود ہی سوال کرتا ان کے جواب ڈھونڈتا تھوڑی کھجاتا تانے بانے جوڑ رہاتھا
————![]()
“اے چڑیا کیا روپ رنگ ہے تیرا ہیرا بائی صدقے جائے ایسے حسن کے “ہیرا بائی نے فلک کو ہاسٹل سے نکلوا دیا تھا شرط کے مطابق وہ فلک کے ایگزامز ہوتے ہی اسے کوٹھے پر لے آئی تھی شہرینہ سے کوئی رابطہ نا تھا شرجیل بھی آخری بار جب آیا کچھ نا بتایا تھا
فلک مجبورا طوعاً کرہا گھنگھورے باندھے ناچنا سیکھ رہی تھی
“ہیرا بائی ہیرا تو واقعی قیمتی تراشنے کے بعد دگنا قیمتی ہوجائے گا وہ بخت صاحب (شرجیل)کے لیے مخصوص کرے گی”
استاد نواز نے ٹوہ لینی چاہی
“نا استاد صاحب بخت صاحب دیالو ضرور ہیں مگر ہیرے پر تسلط جما لیتے ہیں پھر یاد ہے نینا مخصوص کرائی تھی پھر شہرینہ اب نینا بیچاری فارغ پڑی ہے کسی کو نا دے سکوں اسے شہری بھی یہی حال سے گزرے گی نقصان کس کا ہیرا کا نا ہیرا نے یہ ہیرا (فلک)اب انہیں نا دینی اس کے تو دام کھرے کروں گی بار بار کھرے کروں گی وہ انگریجی میں کہتے ہیں نا کیا زرا ہاں ری سیل (re sale) ویلیو ہے اسکی “اس کی عیار آنکھوں میں چمک بڑھ بڑھ گئی تھی لب پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی
“اور بخت کی کو پتا لگا پھر”
” انہیں فلحال میں کوئی اور اچھا کھلونا دے دوں گی جس سے نا میرا نقصان ہو نا ان کا اور اسے چپا دوں گی بعد میں پتا لگ بھی گیا تو طوائف کی پہنچ سے زیادہ کسی کی پہنچ نہیں ایک بخت جی کیا یہاں تو کئی بڑے بڑے پولیٹیشنز ہمارے منتظر ہیں کبھی وہ ہمیں استعمال کرتے ہیں کبھی ہم انہیں بخت کی کیا کر لیں گے بھلا ویسے بھی ڈر عزت کا ہوتا ہے چاہے نقلی ہو یا اصلی اور ہم تو بدنام زمانہ ہیں ہمیں کیا ڈر “وہ مکروہ قہقہہ لگا کر بولی تو استاد صاحب اسکی سوجھ بوجھ پر آر دھننے لگے دوسری طرف فلک کا زہن شہرینہ میں اٹکا تھا سعود سے بات ہوئی تھی وہ جانے والا تھا کچھ عرصے کے لیے اس نے فلک کو یہاں نارمل رہنے کو بولا تھا تاکہ کوئی شک میں نا پڑے ابھی بائی کی باتیں سن کر اسے اتنا تو حوصلہ ہوا تھا کے فلحال وہ اسے کسی کو پیش نہیں۔ کرے گی بخت صاحب کی وجہ سے
————![]()
رائنا کے میکے میں ان کا پر تپاک استقبال ہوا تھا ،وہ اندر گئے ہی تھے کے ایک وہیل چیئر پر کالر والا سفید کرتا پہنے سفید ہی ٹراؤزر تھا گلے میں اسٹالر چند بالوں کا جوڑا بنائے خاتون چلی آئیں
صاف شفاف گلابی جلد جس پر جھریاں تھی آنکھیں سکیڑیں ان کا معائنہ کر رہیں تھی رائنا آگے بڑھی اور گلے لگی “خالہ دادی کیسی ہیں “جوابا خالہ دادی نے اسے بھینچا اور خوب روئی اغواہ کاروں کو صلواتیں سنائی پھر آنسو پوچھ کر ایسی نارمل ہوگئی جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو “چھوڑو اب بچی میاں کہاں ہے تمہارا ؟اللہ !”وہ اچانک دل پر ہاتھ رکھے بولیں :” بیڑا غرق ہو ،علی احمد میری پھول سی بچی کے لیے تم ایسے پکی عمر کے بدشکل آدمی کے لیے مان کیسے گئے “رائنا کو کوئی موقع دیے بغیر وہ شروع ہوچکی تھیں حیدر کا خون کھول اٹھا ان لوگوں نے انکی(خالہ دادی) نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو نشانہ حیدر کا ملازم تھا جو بیچارا ان کی لائی سوغاتیں رکھ رہا تھا اندر لاکر اب خون خشک ہوئے کھڑا تھا حیدر الگ تپے سردار حیدر بخت کی بیوی کو کیسے کسی اور کی بیوی سمجھ سکتی ہیں یہ خاتون سامنے ہی تو کھڑے تھے وہ ان کے آخر
“نہیں نہیں خالی دادی یہ تو”علی احمد اور رائنا دونو بولنے کی کوشش کر ہی رہے تھے کے وہ پھر ریس پکڑ چکی تھیں “ائے ہائے اب یہ موا شوہر ہے تو ہے علی میاں جیسا ہے داماد ہے کام کیو کرا رہے ہو اس طرح “
وہ اور بولتیں اس سے پہلے رائنا نے غصے سے سرخ پڑتے حیدر کا ہاتھ تھاما جو سامنے کھڑے ہوتے ہوئے بھی خالہ دادی کو نادکھے جانے کیو۔”خالہ دادی بس کریں سن بھی لیجیے یہ یہ ہیں میرے شوہر “حیدر بخت””اب خالہ دادی صدمے سے خوشی میں چھلانگ لگا چکیں تھیں “اچھا ہے، پر کیا بخت نام ہے تو تختے کی طرح اکڑا رہے گا تمہارے سسر کی خالہ ہوں تمہاری ساس کی ساس تو تمہاری بھی ساس ہوئی (حیدر کو دل میں سلجھی ہوئی ساس پر جی بھر کر ترس آیا) “سلام نہیں کرو گے”وہ بمشکل خود کو کمپوز کیے آگے بڑھے اور ان کو سلام کرکے سر جھکا یا اور سر آگے کیا جب کے خالہ دادی نے ہاتھ آگے کیا وہ دونو ہی حیران تھے جب علی صاحب بیچ میں آئے
“خالہ پیار لے رہا ہے آپ سے داماد “
“ہاں تو میں بھی پیار ہی دے رہی ہوں” وہ ابھی بھی ہاتھ بڑھائیں تھی “وہ تو ناسمجھ سکتی تھیں علی صاحب داماد کی طرف متوجہ ہوئے”بیٹا جی بات یہ۔ ہے کے خالہ دادی ترکی کے ڈراموں کی رسیا ہیں وہاں بزرگوں کا ہاتھ چومتے ہیں “
“اوہ “(“اچھے خاصے نارمل خاندان میں یہ ایسی کیو ہیں”)وہ دل میں سوچتے چڑتے محظ ان کی بزرگی کاحاظ کرتے ان کی خواہش کی تکمیل کی تب انہوں نے سر پر ہاتھ رکھ دعائیں دی
رائنا نے ان کو جتاتی نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہی “اور نا مانیں میری”
وہ دل کڑا کرتے آگے بڑھے ابھی خالہ دادی سے ملاقات ہونے کے اور بھی امتحان تھے وہ سسرال کے خوشگوار ماحول کو پسند کرتے تھے اور دیگر کمپلیکس مردوں میں سے نا تھے جو بیوی کے میکے میں گیڈر سے شیر بنتے ہیں بلکہ وہ تو عزت دینے والے مان دینےوالے داماد تھے ساس سسر بھی ان کے سونے میں تولنے والے تھے مگر کہتے ہیں نا ہر پھول کے ساتھ کانٹے ہوتے ہیں تو خالہ دادی وہی کانٹا تھیں
چائے پر کافی اہتمام تھا وہ سسر صاحب سے حالت حاضرہ پر گفتگو فرما رہے تھے رائنا والدہ کے ساتھ کچن میں تھی اور خالہ دادی معائنہ میں حیدر کے معائنے میں غرق تھیں تبھی رائنا اور سائرس خاتون ٹرالی لے آئیں اور کانچ کی میز پر سب چن دیا سب ہی متوجہ ہوگئے
دوران چائے اچانک رائنا جو نگٹز کو کیچپ لگا کر کھا رہی تھی ہاتھ پر لگ گئی اور ہاتھ سے چہرے پر حیدر نے اسے اشارہ کر کے بتایا مگر وہ نا سمجھی اور ان سے صاف کرنے کو بولا تو وہ ٹشو کے کر آنکھ کے پاس لگی کیچپ صاف کرنے لگے منٹوں یاسین تھا کوئی خاص متوجہ نا تھا مگر خالہ دادی تو تھیں دل ہی دل بلائیں لیں لاڈلی کے لاڈ آٹھ رہے تھے آخر
“بھئی علی میاں رائنا اپنی ہے نصیب والی”وہ ان دونو کو دیکھتے بولیں سب ہی مسکرائے مگر ان لوگوں کے مسکراتے لب ان کی انگلی بات پر سکڑ گئے
“سارے ہی مرد لاڈ اٹھانے والے ہیں اس کے “
اس قدر متنازع بیان وہ بھی داماد کے سامنے جی کیا ٹیپ لگادی خالی ساس کے منہ پر اور رائنا باپ اور شوہر کے سامنے اس بات پر اس کا دل چاہا کانو پر ہاتھ رکھ دے(اپنے نہیں حیدر کے کانو پر)حیدر نے مٹھیاں بھیچے اٹھنا چاہا کے رائنا نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ ملتجی نظروں سے دیکھا گہری سانس بھر کر انہوں نے سسر صاحب کی طرف دیکھا وہ بے بس دیکھائی دیے “آپ یہ کہنا چاہتیں ہیں کے زندگی میں آنے والے مرد یعنی باپ اور شوہر رائٹ”انہوں نے چبا کر کہتے خاتون کو احساس دلانا چاہا
“ظاہر ہے بھئی کوئی پہلی جماعت کے بچے ہیں یہاں جو ہر بات کو وہ وہ کہتے ہیں نا “اب زہن پر زور ڈالا جا رہا تھا” ڈیفائین ہاں یہی تو لفظ تھا ڈیفائین کروں”
“یا اللہ مجھے صبر دے)وہ دل ہی دل دعا گو تھے وہی نہیں خالہ دادی کے علاوہ سب یہی دعا کر رہے تھے کے اللہ حیدر کو صبر دے
