406.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intezaar Ishq Episode 28

Intezaar Ishq by Mariyam Sheikh

اسےفلک کے لیے مدد کی ضرورت تھی شہرینہ باہر نہیں نکل سکتی تھی سعود نےاسے سختی سے منع کیا تھا فلک فلحال محفوظ تھی کے وہ رندھاوا نامی شخص کچھ وقت کے لیے کہیں گیا تھا اس نے پتا کرا یہ وہی شخص تھا جو اسی علاقے سے انتخابات میں کھڑا تھا جہاں سے حیدر بخت کھڑے تھے

“لوہے کو لوہا ہی کاٹ سکتا ہے .”یہ حمزہ کا کہنا تھا

“آبے پر وہ کیو کرے گا میری مدد “

سیاسی معاملہ ہے ،سیاسی حریف ہے وہ رندھاوا کا ،پارٹیاں تو اور بھی ہے مگر ٹاکرے پر فلوقت یہ دونوں ہیں باقی اور کسی کو تو جانتا کہاں ہے”

اور یہی باتیں اسے . حیدر بخت کے افس لے ائی تھیں بڑے ترلو سے اپاونٹمنٹ ملا تھا حیدر بخت صاحب کا وہ کافی دیر سے ویٹنگ ایریا میں تھا جب مکرم نے باہر اکر اسے اندر بلایا

اب وہ حیدر کے سامنے کرسی پر براجمان تھا وہ فائلز میں گم تھے اس کے سلام کا جواب بھیسر کی جنبش سے دیا گیا تھا

” جی سعود صاحب کیسے تشریف لائے یا میں یہ کہو کیو تشریف لائے،میری بیوی سے اپ کی بات چیت . ہسپتال تک کی ہے اسے وہیں تک محدود بلکہ کم سے کم ہی رکھیں تو بہترہے اس طرح کے معملات میں اسے انوالو اج کیا ہے اپ نے ائندہ نا ہو “

وہ سخت کبیدہ خاطر تھے ان کے اور ان کے سیکرٹری کے کال نا اٹھانے پر اس نے رائنا کو سب کہہ سنایا تھا پھر جب وہ ہسپتال سے گھر ائی تو اس نے سعود کو کال کر کے فون حیدرکو پکڑا دیا یہ سعود کی خوش قسمتی تھی کے رائنا نے کوئی حمایت وغیرہ نہیں کی تھی “ائیندہ وہ تم سے اس بارے میں کچھ بھی کہے تم بیچ میں نہیں پڑو گی “خلاف توقع وہ بنا کیو کیا کیے مان گئی تھی وہ نہیں چاہتے تھے کہ رائنا ایسے مسائل میں پڑے

سعود نے اس “بھنوٹ ادمی “کو دیکھا

“انوالو نہیں کیا میں نے انہیں ،صرف آپ سے بات کرانے کا فیور مانگا تھا “(اف یہ مجبوری ،اب وضاحت دو)

“ڈونٹ بیٹ اراونڈ دا بش ،مقصد بتائیے ؟”

“آپ کو پتا ہے میری کزن کا معاملہ “

“اور میں آپ کو بتا چکا ہوں شرجیل کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے بستر پر ہے ایک ٹانگ ناکارہ ہوگئی ہے اسکی آپ کی کزن کو اس سے خطرہ نہیں ہے”وہ اس کی بات کاٹتے بولے

“آپ پلیز میری بات سنیے پلیز ” اس نے گزارش کی پھر ان کے سر ہلانے پر آہستہ آہستہ فلک کا معاملہ گوش گزار دیا

“بہت افسوس ہوا سن کر مگر میں کیو اس معاملہ میں پڑوں گا یہ نہیں سوچا آپ نے”

“رندھاوا آپ کا سیاسی حریف ہے ،اور اس سے آپ کو بھی فائدہ ہوگا “

اس کی بات پر حیدر نے قہقہہ لگایا

“ایم سوری ٹو برسٹ یور ببل ،مگر مجھے اسے ہرانے کے لیے کسی کی ضرورت نہیں ہے”وہ دو ٹوک بولے

“آپ جا سکتے ہیں “

سعود نے کوشش کی بولنے کی مگر مکرم اسے باہر لے گیا

“شٹ اب اب کیا کروں”

💖————💖

وہ گھر پہنچے تو پہلے شرجیل کے پاس گئے حالت قدرے سنمبھل گئی تھی اس کی وہ لوگ جنہوں نے یہ کیا ان کی تلاش جاری تھی مگر انسپیکٹر داور کے بقول ملنا مشکل تھا کے شرجیل نے ان کی شکل تک نا دیکھی تھی

وہ اندر کمرے میں آئے تو وہ سو رہا تھا ،

“اب کیسی طبیعت ہے ؟”انہوں نے بی اماں سے پوچھا وہ وہیں رہنے لگیں تھی اس کی دیکھ بھال کے لیے

“زہنی حالت اب تو اس نرس(میل نرس) کو دیکھ کر نہیں ڈرا,بس روتا ہے کرب میں ہے ،صحت دن بدن گر رہی ہے بخار بھی رہتا ہے”

“ہمم ٹیسٹ کراتے ہیں پھر ،معلوم تو ہو کیا بات ہے “

“معافیاں مانگتا رہتا ہے بس”وہ آبدیدہ ہوئیں :آمنہ کو بلاتا ہے ,وہ نہیں آتی”

“ان پر زور نہیں دی گا اب اگر وہ خوش رہیں شاید تبھی ہمارے بھائی کے لیے آسانی ہو “

💖————💖

“کیا بنا بتاؤ ؟”شہرینہ اسے دروازے پر دیکھ ہی شروع ہوگئی تھی

“خاک کچھ نہیں بنا”

وہ اندر آگیا اس کی وجہ سے وہ آج کل حمزہ کے ساتھ رہنے لگا تھا

“کھانا کھاؤ گے ,ایسے مت دیکھو سکون سے سوچ سمجھ کر ہی حل نکال سکتے ہیں “وہ س کے سر ہلانے پر کھانا نکال کر لے آئی

“ہمم اچھا بناتی ہو کھانا”وہ چکھ کر بولا تو آزردہ سی مسکرائی

“امی باہر کمانے جاتیں تھیں گھر ٹیوشن دینے تب سارا گھر سنمبھالتی تھی ‘”

“ایک بات بتاؤ شہرینہ تمہیں اگر وہ مارتا نہیں تب ،تب بھی نکلنا چاہتیں وہاں سے”

“میں مار سے نہیں ڈری سعود حرام سے ڈری ہوں ،پہلے میں صرف فلک کا سوچتی تھی مجھے یہ دنیا قبول ہی نہیں کرےگی یہ سوچ کر مگر جب تم آئے تو مجھے لگا اللہ مجھے بچانا چاہتا ہے تبھی برسوں بعد ماموں کو خیال آیا ہمارا ،اور اگر اللہ بچا نا چاہتا ہے تو دنیا سے کیا مطلب ،اسی خیال نے میرے اندر اتنی ہمت پیدا کردی “

اس کی باتیں سن سعود کو شرمندگی ہوئی وہ باہر تھا تو اسکی گرل فرینڈز بھی تھیں گو کے اس نے کبھی حد پار نا کی تھی مگر اسے حرام کا اتنا خوف نا تھا

“تم بہت اچھی لڑکی ہو نیک لڑکی ہو شہرینہ ،کیو کے تم نیک رہنا چاہتی ہو “وہ بولا تو وہ نم آنکھوں سے مسکرائی

“ہمیں کچھ نا کچھ کرنا ہوگا فلک کے لیے ” وہ حمزہ کو کال کرتا بولا

💖————💖

وہ اگلے دن کی صبح تھی ،وہ کافی دیر سے اٹھے تھے ،”رائنا نے جگایا کیو نہیں “وہ برابر میں اپنی جگہ پر بھی نا تھی (اسے کیا ہوگیا اب) ،وہ کمفرٹر ہٹاتے بیڈ سے اترے کے تبھی نظر صوفے کے پاس رکھی ٹرالی پر گئی

وہاں ایک خوبصورت سا تھری لیر ملک کیک تھا جس پر ہیپی اینی ورسری لکھا تھا اور ایک کینڈل لگی تھی جس پر فرسٹ لکھا تھا سائیڈ میں اسٹک سے کیک پر ہی چھوٹے چھوٹے کارڈزلگا رکھے تھے جن میں سے ایک پر “تھینکس فار بینئگ بیسٹ وکیل “لکھا تھا جب کے دوسرا ان کی ایک ساتھ لی گئی تصویر تھی

حیدر کے لبوں پر مسکراہٹ در آئی نظریں گھمائی مگر یہ سب کرنے والی نا دکھی (کہاں گئی )تبھی وہ جو کب سے بالکونی میں ٹنٹڈ گلاس کی آڑ سے جھانک رہی تھی باہر آئی اور ان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا

وہ ہاتھ پیچھے لے جا کر اسے ہاتھ سے پکڑ کر سامنے لے آئے اور اس کی ہتھیلی پر لب رکھے ،اب دونوں ہاتھ اس کے کندھوں پر جمائے اس کا جائزہ لیا ،ڈارک بلیو کلر کے کڑھائی والے جوڑے میں سادہ سی بس پلاسٹک لگائے انہیں بہت پیاری لگی

“یہ سب تم نے کیا ہے”انہوں نے پوچھا تو وہ ہنس دی جواب واضح تو تھا

“تھینکس آ لوٹ رائنا فور میکینگ مائی مارننگ بیوٹی فل “اس کے ماتھے پر لب رکھے وہ جذب سے بولے

“اب کیک کاٹیں “دونوں نے کیک کاٹ کر ایک دوسرے کو کھلایا

“ہممم چلو اب تمہارا گفٹ تو دےدیں “وہ اٹھے دراز کی طرف بڑھے “آپ کو یاد تھا حیدر “اسے حیرت ہوئی اسے لگا نہیں یاد

“یاد تھا ،مگر بیچ میں حالات ایسے آئے کے کچھ اور پلین نا کر سکا “وہ بولے وہ بھی سمجھ سکتی تھی یہ بات

انہوں نے فائل اسکی طرف بڑھائی اس نے حیرت سے دیکھا “یہ وہ گھر کراچی والا میں نے تمہارے نام کردیا “

“میں جانتا ہوں کہ حویلی کا رہن سہن تمہارے لیے موافق نہیں ہے اسی لیے وہاں کا انتخاب کیا عنقریب مکمل شفٹ کرادوں گا تمہیں وہاں،سوچ تو کب سے ہی رہا تھا تم اپنی پریکٹس بھی زیادہ ایزیلی کر سکو گی “

وہ کافی دیر انہیں دیکھتی رہی “خود سے دور رکھنا چاہتے ہیں “

“کیا رکھ سکتا ہوں ؟ وہاں بھی تو رہتا ہوں نا جا کر تم یہاں انتظار کرتی ہو یہاں کرو یا وہاں کیا فرق ہے”

“فرق ہے حیدر آپ کام کے سلسلے میں جاتے ہیں دل آپ کا یہیں ہوتا ہے اس طرح آپ بٹ جائیں گے میرے پاس ہوں گے تو حویلی کی فکر ہوگی ان کے پاس ہوں تو میری ,مجھے آپ بٹے ہوئے نہیں چاہیے پوری توجہ کی عادت آپ نے ڈالی ہے مجھے ،مجھے بس آپ کے ساتھ رہنا ہے،پریکٹس ہو جائے گی اگر آپ کا ساتھ ہوگا اب بھی تو کر ہی رہی ہوں,مگر آپ ساتھ رہیں میرے”

وہ نم آنکھوں سے ضدی لہجے میں بولی ان کا دل زور سے دھڑکا جی کیا اسسے پوچھے تو کیا میرا انتظار ختم ہوا مگر رک گئے جو مزا اس کے خود سے کہنے میں تھا کہلوانے میں کہاں تھا انہوں نے اسے ساتھ لگا یا

“زندگی مشکل ہے یہاں “

“میرا وکیل ساتھ ہے کافی ہے”وہ مزے سے بولی تو انہونے مزید قریب کیا

“آپ کا گفٹ اچھا تھا بٹ میرے گفٹ کا مقابلہ نہیں “

“تم خود میرا گفٹ ہو”

“ہاہاہا۔۔جو گفٹ میرا ہے اس کے آگے آپ یہ بات بھول جائیں گے “وہ متعجب ہوئے

اس نے بھی ایک فائل آگے کی حیدر نے حیران پریشان فائل کھولی “پریگنینسی رپورٹ”.

“یہ یہ سچ ہے جاناں” وہ خوشی سے پاگل ہوتے بولے تو وہ ہنسی اور ہاں میں سر ہلایا

انہوں نے اس کا ماتھا چوما

“مجھے اس سے بڑا گفٹ کبھی مل ہی نہیں سکتا “وہ آنکھوں میں جگنو سجائے اسے دیکھنے لگے

“ائو سب کو خبر کرتے ہیں “وہ اسے لیے باہر کی طرف بڑھ گئے

💖————💖

آج عرصے بعد حویلی کی رونق بحال ہوئی تھی بی اماں نے صدقہ کے بکرے کٹوائے ،کمیں کمین میں خیرات تقسیم کرائی گئی باہر مسلسل فائرنگ یو رہی تھی یہ رواج تھا خوشی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کرنے کا

حیدر اسے اس کے میکے بھی لے گئے

امی ابا سب نہال تھے خبر ہی ایسی تھی ،خالہ دادی بار بار نظر اتار رہیں تھیں

“سب اچھا ہے بس بچے جائے میری رائنا پر “وہ حیدر کو زچ کرنے کا کوئی موقع نا چھوڑتی تھی سب ہنس دیے

ااج کا دن ان دونوں کے لیے خوبصورت ترین دن تھا

💖————💖

وہ بہت لگن سے پڑھائی کر رہی تھی دماغ کی سمتیں درست ہو گئیں تھی ہاں دل کبھی شور کرتا پر ڈپٹ دیتی وہ ، ابا نے اسے گاؤں بلایا تھا اس کے بھائی کے گھر بیٹے کی ولادت ہوئی تھی گو کے اس کے بھائی کا سلوک اچھا نہیں تھا مگر سکینہ پر پھوپھو بننے کی خوشی حاوی تھی ،”حویلی سے سوغاتیں آئیں ہیں بڑی سرکار کے ہاں خوش خبری ہے “

اس کی ماں نے سامان دیکھتے خوشی سے بتایا

سکینہ پل بھر کو ٹھٹھکی پھر سر جھٹکا “یہ تو بہت خوشی کی بات ہے اللہ بڑی سرکار اور بڑے سرکار آباد رکھے “دعا اس نے دل سے دی تھی گو کہیں دکھن ضرور تھی مگر حسد نہیں تھا

“اے سکینہ سن زرا یہ مٹھائیاں بانٹ آ “ماں نے کہا تو وہ اٹھی

💖————💖

سعود حمزہ کے گھر تھا ،”تو کب تھا یہاں ڈیرہ جمائے گا “

“جب تک میری کزن میرے ہاں ڈیرہ جمائے گی”حمزہ نے افسوس سے سرہلا یا اب وہ بھی تھوڑا بہت معاملہ جان گیا تھا

“تو گیا تھا وہاں “

“ہاں نہیں مانا وہ ،کیو مانتا بھلا “حمزہ نے سعود کو اتنا سنجیدہ اور افسردہ پہلے نہیں دیکھا تھا

“تو اپنی کزن سے پہلی بار ملا کوئی جذباتی وابستگی نہیں پھر کیو اتنا کنسسٹنٹ ہے اتنے خطرے میں کیو ڈال رہا ہے خود کو”وہ متعجب تھا

“کیو کے مجھے کنسسٹنسی پسند ہے ،نیچر ہے میری ،پہلے میں اسی لیے پڑا اس معاملے میں ایڈوینچر سمجھ کے مگر اب اس لڑکی کی حلال سے محبت دیکھ کر میں اب صرف ثواب کے لیے کوشش کر رہا ہوں” وہ کہتا کچن میں چلا گیا جب سے وہ ایا تھا حمزہ کو صاف گھر اور اچھا کھانے کو مل رہا تھا اس کا(حمزہ کا) فون آیا اور وہ چابیا اٹھاتا باہر بھاگا

💖————💖

“آخر کتنی بار میں بلاک کروں اب کیا میسج ہے”اس نے ڈرتے ڈرتے میسج کھولا

“تمہارا شوہر ہی تمہارا مجرم ہے ،وہ سب حیدر بخت نے ہی کرایا تھا مجھ سے ،میں یاد ہوں تمہیں کیسے بھولو گی ہاشم کو “

“یہ یہ ہاشم۔ نہیں یہ۔ کیسے ۔۔اگیا “تبھی کال آنے لگی وہی نمبر تھا اس نے جی کڑا کرتے کال اٹھائی

“کیسی ہیں ڈاکٹر صاحبہ ” ہاں یہ وہی تھا ہاشم یہ آواز آج بھی کانوں کے لیے تکلیف دہ تھی ” آ ں اب تو بڑی سرکار بھی ہیں آپ ،جاننا نہیں چاہیں گی کیسے ہوا یہ…”وہ خباثت سے بولے جا رہا تھا مگر رائنا کے حواس جواب دے گئے وہ لہرا کر زمین پر آ رہی تھی اس سے پہلے ہی اندر آتے حیدر نے اسے لپک کر تھاما

💖————💖

وہ بیڈ پر بے سود لیٹی اپنی بیوی کو دیکھ رہے تھے جسے ڈرپ لگائی گئی تھی اس کا بیپی لو تھا

حیدر اس کے ہاتھ سے موبائل لیے یہ نیا الزام دیکھ چکے تھے انہیں اس کے اٹھنے کا انتظار تھا

وہ سرہانے ہی بیٹھے تھے جب وہ ہوش میں آئی اور ہڑبڑا کر اٹھ کر بیٹھنے لگی

“سکون سے لیٹی رہو “وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے بولے

اس نے انکا ہاتھ سر سے ہٹا کر اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا

“وہ وہ واپس آگیا حیدر کیو؟ کیسے ؟آپ نے کہا تھا اب نہیں آئے گا”وہ ڈر رہی تھی

حیدر نے اس کے شانوں پر بازو پھیلایا ان کے لیے یہ خوش آئیند تھا کے وہ ان سے بدگمان نا تھی

“وہ تم سے جو کہہ رہا تھا،تمہیں یقین تھا اس پر؟ “وہ ہاشم کی بقیہ گفتگو سن چکے تھے انکی آواز پر اس نے ہڑبڑا کے کال کاٹ دی تھی

ان کے استفسار پر اس نے نفی میں سر ہلایا وہ جزباتی تھی پربیوقوف نہیں تھی کے اس بکواس پر یقین کرتی وہ جانتی تھی حیدر سے مدد اس کے دوستوں نے مانگی تھی ،اور پھر حیدر کو اتنا ڈرامہ کھیلنے کی کیا ضرورت تھی،ہاشم صرف اسے بدگمان کر رہا تھا

“پھر مجھے بتایا کیو نہیں”

“آپ آل ریڈی پریشان تھے اس لیے بس “وہ بولی “حیدر وہ کیو آیا ہے اب”

“پریشان مت ہو رائنا میں ہوں تمہارے ساتھ ،ٹینشن مت لو سویٹ ہارٹ “وہ اسے یقین دلاتے بولے ذہن کے گھوڑے ایک ہی سمت دوڑ رہے تھے انہیں کچھ دن پہلے مکرم نے اطلاع دی تھی کے ہاشم رندھاوا کے بندوں کے ساتھ دیکھا گیا ہے انہوں نے تب توجہ نا دی تھی مگر رندھاوا نے اب رائنا کو اس میں گھسیٹا تھا اب وہ نظر انداز نہیں کرسکتے تھے یہ معاملہ اب

💖————💖

ہاشم کی ٹانگیں کانپ رہیں تھیں وہ دو مگرمچھوں میں پھنس کر رہ گیا تھا رندھاوا واپس آگیا تھا اور جان گیا تھا کے اس کا پلان فلوپ ہوگیا وہ غصہ تھا شدید غصہ اس نے سارے کمرے کی چیزیں تہس نہس کردیں تھیں ،زیادہ غصہ اسے ہاشم کے پکڑے جانے کا تھا

“اس نالائق کو گودام میں لے کر آؤ ،ایک عورت نہیں سنمبھلی اس سے “

اس کے آدمی ہاشم کو گودام میں لے آئے

“میں نے بہت ک ککوششش کی پپ پر ووہ نہیں ۔۔۔”

وہ ہکلاتا صفائی دے رہا تھا

رندھاوا نے اسے بالوں سے تھام لیا اور پستول کس لی

“اب دوسرے جہاں جا کر کرنا کوشش “

“ٹھاہ “کی زوردار آواز فضا میں گونجی

رندھاوا کے دست راست نے افسوس سے دیکھا الیکشن کے وقت ایسا رسک اس نے دل ہی دل میں اسے “اسٹوپڈ موو” قرار دیا

اور بکسوں کے پیچھے کیمرے میں منظر قید کرتے شخص کا بھی یہی خیال تھا

💖————💖

“آج دل بڑا اداس ہے ہیرا بائی ،کوئی اچھا سا ناچ گانے کا انتظام کر “

“اسکی فرمائش پر ہیرا مسکرائی اور فلک کو بلایا

نیم عریاں لباس میں کم عمر سی فلک اپنی مجبوری پر کرلاتی بائی کے اشارے پر رقص کرنے لگی رندھاوا کی لال آنکھیں اس پر جمی تھیں ہیرا آتش شوق بھڑکا رہی تھی اسے یقین تھا اب وہ یقینا بڑی رقم کے لیے مان جائے گا

💖————💖

“تیری سانس کیو پھول رہی ہے؟”سعود اسے پریشانی سے دیکھتے بولا

“یہ یہ دیکھ “ویڈیو دیکھ سعود کے اوسان خطا ہوگئے حمزہ بول رہا تھا

“اب تو حیدر بخت سے رابطہ کر ،یہ” بیٹ”(bait) دے اسے ،اگر وہ ساتھ ہو تو ہم بچا لیں گے اس بچی کو ورنہ محض وائرل ہو کر اس ویڈیو کا کوئی فایدہ نہیں”

“تو یہ مجھے دے رہا ہے،پیسے نہیں کمائے گا”؟سعود حیران تھا

“نہیں ثواب کماؤں گا”حمزہ کی بات پر دونوں ہی مسکرائے (شہرینہ صحیح تھی اللہ اسے بچانا چاہتا ہے)

💖————💖

وہ آج پھر حیدر کے سامنے تھا اس سے پہلے وہ کال کرتا حیدر کے سیکرٹری کی کال آگئی تھی ،ساری تفصیلات کے بعد اب وہ لوگ اگلا لائحہ عمل طے کر رہے تھے