Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Deewana Tha (Last Episode)

Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal

کھڑکی سے ٹیک لگائے وہ خاموش سی سوچوں میں گم اپنے ماضی کو یاد کر رہی تھی کیا تھا ان کا ماضی ایک بڑا خاندان _ بزرگوں کا پیار

مگر اب _ یہ زندگی کسی جنت سے کم نہ تھی ان کی زندگی میں خوشیوں کا بسیرا تھا ۔

بھاؤ!! اعراش نے پیچھے آئے رباشہ کو ڈرایا تھا جو چیخیں مارتی جلد بازی میں اپنا پاؤں بیڈ پر مار گئی ۔

حسینہ جانم ڈر گئی وہ کھلکھلاتے رباشہ کا مزاق بنا رہا تھا ۔

حسینہ جانم تم ڈرتی بھی ہو !

عشو بڑی ماما ہوں میں تمہاری مجھے بڑی ماما کہا کرو ۔یہ گیارہ سال کا اعراش تھا جس نے وشمہ اور دانیال تو کیا پورے گھر والوں کا جینا حرام کیا ہوا تھا ۔

کیوں وہ ہیر بھی تو آپ کو حسینہ جانم کہتا ہے نہ !!

ہیر رباشہ تو کنگ سی اسے دیکھ رہی تھی ۔

بڑے بابا ہیں وہ !!

نہیں نہیں حسینہ جانم آپ کو نہیں پتا وہ بہت تیز ہیں جب آپ نہیں ہوتی نہ وہ دوسری گندی آنٹیوں سے باتیں کرتے ہیں ۔

اوئے کھوتے کونسی پٹیاں پڑھا رہا ہے میری حسینہ جانم کو کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی باتیں سنتے ضماہیر نے اس کے سر پہ ایک چت رسید کی تھی ۔

میں تو کچھ نہیں پڑھا رہا بس سچی باتیں بتا رہا ہوں اپنی حسینہ جانم کو!!

سالے یہ تیری حسینہ جانم کب سے ہوی !! تو ٹھرکیوں کی طرح میری بیوی پہ لائنیں نہ مارا کر ۔

دیکھ لو حسینہ جانم پھر تم مجھے کہتی ہو بڑے بابا کہا کروں انہیں ؟

پھر حسینہ جانم!! اپنی بیوی کو کہا کرنا حسینہ جانم!! خدا کے لیے میری بیوی کا پیچھا چھوڑ دے ۔

حسینہ جانم!! بیوی کو کہا جاتا ہے ماتھے کو دو انگلیوں سے مسلے وہ سوچنے والے انداز میں بولا تھا ۔

ہاں !! اب نکل میرے کمرے سے کیا سوتنوں کی طرح میرا گھر برباد کرنے کے طریقے ڈھونڈتا رہتا ہے ۔

عنیزا چلو یہاں سے !! ضماہیر کو اگنور کیے کونے میں سات سال کی بیٹھی لڑکی جو ایک کاغذ پر کچھ اڑھی ترچھی لکیریں کھینچ رہی تھی اس کی آواز سنتے فوراً سیدھی ہوی تھی ۔

او ہیلو جناب میری بیٹی کہاں ؟ کہاں لے کر جارہے ہو اسے ۔

تم اپنی حسینہ جانم کے ساتھ میں اپنی حسینہ جانم کے ساتھ آنکھیں مٹکائے وہ ضماہیر کو چھیڑنے لگا ۔

کمینے تو تو اپنے باپ ،تایا ،چچا سے بھی زیادہ کمینہ ہے ضماہیر دانت پیسے ہلکی آواز میں غرایا تھا ۔

آنے والی نسل بزرگوں سے ہی سیکھتی ہے دانتوں کی نمائش کیے وہ عنیزا کا ہاتھ پکڑے اسے باہر تک لایا تھا ۔

او ہاں بڑے بابا عرف ہیر !! میری حسینہ جانم سے دور رہا کریں میں نہیں چاہتا میری حسینہ جانم تمہاری طرح بے شرم بنے شیطانی مسکراہٹ مسکرائے وہ کمرے سے باہر نکلا تھا ۔

رک جا سالے بتاتا ہوں میں تجھے میری بیٹی پہ تو ایسے حق جماتا ہے جیسے ملکیت ہے تیری بیڈ سے کشن اٹھائے ضماہیر نے اسے مارا تھا جو اس کی پیٹھ کو چھوتے فرش پہ گرا تھا ۔

کیا ہوا تمہارے پاؤں پر رباشہ کو لڑکھڑاتے دیکھ ضماہیر اس کے پاس آیا تھا ۔

بیڈ سے ٹکرا گیا رباشہ نے بیڈ پر اپنا پاؤں رکھا تھا جو سرخ ہوچکا تھا ۔

دیہان کہاں تھا تمہارا ؟ضماہیر کا چہرہ سرخ ہوا تھا ۔

وہ عشو نے ڈرا دیا تھا میں جلدی سے اٹھی تو بیڈ سے ٹکراگئی ۔

بیڈ کے ڈرار سے ائینٹمنٹ نکالے ضماہیر اسے رباشہ کے پاؤں پر لگانے لگا ۔

اس اعراش کو تو دل کرتا ہے کچا چبا جاؤں بازل بھی تو ہے کتنا اچھا ہے اور ایک یہ ؟؟ اللہ بچائے اس شیطان کے شر سے اعراش کو سوچتے ضماہیر کے لبوں پہ مسکراہٹ پھیلی تھی ۔

چاہے وہ جتنا مرضی اسے ڈانتا تھا مگر اعراش کی الٹی سیدھی حرکتیں ان کی زندگی میں رنگ بھر دیتی تھی ۔

ضماہیر وہ بچہ ہے آپ اس کے ساتھ ضد نہ لگایا کریں ۔

بچہ !! وہ بچہ ہے ایک موقع تو ایسا ہاتھ سے جانے نہیں دیتا جس میں وہ تم پر یا عنیزا پر ٹھرک نہ جھاڑ سکے ۔

ابھی چھوٹا ہے نہ سمجھ نہیں ہے جب بڑا ہوگا خود ہی سنبھل جائے گا ۔

نہیں او بھئی نہیں مجھے تمہارے معاملے میں کسی پر بھروسہ نہیں ۔کیا بھروسہ اس کا کل کو کہ دو مجھے حسینہ جانم سے شادی کرنی ہے ۔ویسے بھی مجھ سے زیادہ تم اس گھوچو سے پیار کرتی ہو آخر میں ضماہیر نے رباشہ کو اسی کی شکایت لگائی تھی ۔

کچھ تو خدا سے ڈریں بڑی ماما ہوں میں اس کی اور آپ شادی کی بات کررہے ہیں ضماہیر کی بے تکی سی بات اسے زچ کرگئی تھی ۔

اچھا سوری رباشہ کا چہرہ وہ اچھے سے جانچ گیا تھا ۔

حسینہ جانم مجھے بہت جیلیس فیل ہوتی ہے جب تم مجھ سے زیادہ اسے پیار کرتی ہو قسم سے دل کرتا ہے اسے اٹھا کے کوڑے دان میں پھینک آؤ ۔

ضماہیر بچہ ہے وہ ابھی صرف گیارہ سال کا ہے اور آپ ضد بازی کرتے ہیں اس کے ساتھ ۔

آج کیا کیا میری جانم نے رباشہ کی باتوں کو اگنور کیے ضماہیر نے رباشہ کی کمر کو بازوؤں میں جکڑے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا ۔

بس کچھ بھی نہیں میں سوچ رہی تھی اگر اس دن آپ کو کچھ ہوجاتا تو ۔

حسینہ جانم کیا فضول فضول باتیں سوچتی رہتی ہو مجھے کچھ نہیں ہوسکتا ابھی تو پورے ہزار سال جینا ہے تمہارے ساتھ رباشہ کی کان کی لو کو ہلکے سے دانتوں میں دبائے وہ رباشہ کے ماتھے سے ماتھا ٹکاگیا ۔

یہ ماضی کی باتیں یاد نہ کیا کرو ماضی صرف بھولنے کے لیے ہوتا ہے ۔

ہمم !! رباشہ نے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔

تم دن بدن میری قربت میں خوبصورت ہوتی جارہی ہو یا شاید میرا پیار تمہیں نکھار رہا ہے ۔

رباشہ کے لبوں پہ سختی سے جھکے وہ ان کو ہلکا سا دانتوں میں دباگیا ۔

زاویار سنبھالو اسے زاویار کے گھر میں داخل ہوتے ہی مناہل نے بازل کو کان سے پکڑ کر زاویار کے آگے کیا تھا ۔

کیا کردیا میرے شیر نے جو تم اس پر ظلم کر رہی ہو ۔

ظلم اور میں _یہ پوچھیں کیا نہیں کیا لڑکے کے سر پر بلا مار کر اس کا سر پھاڑ آیا ہے ۔

بازل تم نے سر پھاڑا ہے اس کا زاویار کا لہجہ خشک ہوا تھا جبکہ سامنے کھڑا دس سال کا بازل مکمل خاموش تھا ۔

جی !!!

وجہ جان سکتا ہوں اس غنڈہ گردی کی !

وہ وانیہ کے ساتھ بیٹھا تھا ۔

پلر کے پیچھے خاموش سی کھڑی سات سال کی وانیہ گھر میں ہونے والا تماشہ دیکھ رہی تھی جو اس وجہ سے ہوا تھا کہ اس کی کلاس کا ایک لڑکا اس کےساتھ بیٹھ گیا تھا جو بازل کو طیش دلا گیا ۔

بازل اس کا کیا مطلب ہے اگر کل کو وہ یونیورسٹی جائے گی تو تم تو یہ کہو گے کہ وہ ہر لڑکے سے ہزار میل دور رہے اور کوئی اس کے نزدیک آیا تو تم نے تو قتل ہی کردینا ہے اس کا ۔

معصوم بچی پہ اتنی روک ٹوک نہ کیا کرو ویسے بھی تمہارا کوئی حق نہیں بنتا اسے ایسے تنگ کرنے کا ۔

شادی کروادیں میری وانیہ پر سارے حق خود ہی مجھے مل جائیں گے ۔

کیا ؟؟

جو آپ نے سنا ۔

ان سب کی باتیں سنتے ضماہیر اور رباشہ دونوں نیچے آئے تھے ۔

وہ دونوں تو خود حیران تھے ان کی دو جڑواں بیٹیاں وانیہ اور عنیزا جو شکل و صورت میں تھوڑی بہت ایک دوسرے سے مختلف تھی ان کے دیوانے ابھی سے اس حویلی میں پیدا ہو چکے ہیں ۔

زاویار تو فکر نہ کر بازل کو تو میں پھر بھی وانیہ دے دوں گا مگر یہ جو اعرش ہے نہ !!! اس کمینے کو تو میں کبھی اپنی بیٹی نہ دوں ۔

ضماہیر نے حویلی کے وسطی اندرونی صحن میں کھڑے زور سے آواز لگائی تھی جو بآسانی اعراش کے کانوں تک پہنچ چکی تھی ۔

گھر سے اٹھا کر لے جاو گا تمہاری نظروں کے سامنے وہ بھی اعراش تھا ضماہیر کی ایک ایک بات کا جواب موجود ہوتا تھا اس کے پاس ۔

ایک نمبر کا کمینہ ہے یہ اپنے باپ پہ گیا ہے بلکل اعراش کی بات سنتے ضماہیر کا ایک گرجدار قہقہہ بلند ہوا تھا ۔

کیا ہورہا ہے یہ سب کیوں اتنی زور زور سے بول رہے ہو ۔

نہیں نہیں کچھ نہیں دادا سائیں بس آپ کے جو یہ پر پوتے ہیں نہ میری بیٹیوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ۔

اس معاملے میں میں تو کچھ نہیں کہ سکتا جو بھی سیکھ رہے ہیں اپنے باپ دادا سے ہی سیکھ رہے ہیں دادا سائیں اپنی بات پر خود ہی قہقہہ لگانے لگے کیونکہ دادا نہیں پردادا ہی صحیح مگر ان کے دادا تو دادا سائیں ہی تھے ۔

بازل میں آج کے بعد دوبارہ تمہاری ایسی کوئی حرکت نہ دیکھو سرخ چہرہ لیے زاویار نے دانت پیسے تھے ۔

آج کے بعد وانیہ بھی مجھے کسی کے ساتھ نظر نہ آئے پاؤں پٹختے بازل تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا اوپر چلاگیا جبکہ پیچھے سب گھر والے حیران پریشان سے اسے جاتا دیکھ رہے تھے ۔

خیر ہے بچے ہیں بڑے ہوکر خود ٹھیک ہو جائیں گے سب کے پریشانی میں لٹکے چہرے دیکھ دادا سائیں نے انہیں تسلی دی تھی ۔

جان !! وشمہ جو اپنا سر بازوؤں میں دیے بیٹھی تھی دانیال کی آواز سنتی اپنا چہرہ اونچا کیے اسے دیکھنے لگی ۔

کیا ہوا ہے؟ وشمہ کا آنسوؤں سے بھیگا چہرہ دیکھ دانیال بے چین ہوا تھا ۔

دانیال اعراش بہت تنگ کرتا ہے خاص طور پر عنیزا کو اور میں تنگ آجاتی ہوں اسے سمجھاتے سمجھاتے وشمہ رونے لگے تھی ۔

اچھا رو تو نہ میں نے ایک حل سوچا ہے اس کا ۔

کیا وشمہ نے آنکھوں کو گھمائے اس سے سوال کیا تھا ۔

ہم نا ایک چھوٹی سی پرنسز لے آتے ہیں پھر اعراش سارا دن اس کے ساتھ لگا رہا کرے گا اور وہ ہماری ساری باتیں بھی مانیں گی ۔

بلکہ ہم ضماہیر اور رباشہ کے طرح دو پرنسز ایک ساتھ اس دنیا میں لائیں گے ۔

دانیال کی بات سنتے وشمہ سر تا پیر سرخ ہوی تھی ۔انکھیں فوراً سے نیچے زمین کی جانب جھکی تھی ۔

یار جانو اب یہ شرمانا کیسا گیارہ سال ہوگئے ہیں ایک ساتھ بلکہ ساڑھے گیارہ !!!

دانیال بے شرمی کی بھی حد ہوتی ہے ۔

اور میں وہ حد پار کر چکا ہوں وشمہ کو بانہوں میں بھرے دانیال نے اسے بیڈ پہ لٹایا تھا ۔

اب ہمیں پرنسز لانے کی تیاری کرنی چاہیے وشمہ کی گردن پہ جھکے وہاں اپنے لب رگڑے اس کی سانسیں منتشر کر گیا ۔

دانیال کے لب اس کی گردن پہ طواف کرتے اس کے کاندھوں کے گرد گھومنے لگے ۔

وشمہ کے جسم سے اٹھتی دھیمی خوشبو دانیال کے حواس پہ طاری ہوے اسے مدحوش کرنے لگی ۔

اب ہماری بھی پرنسز آئے گی ۔ اپنی شدت نچھاور کیے وہ وشمہ کو مکمل طور پر خود میں قید کرگیا ۔

ہر گزرتا لمحہ دانیال کی شدتوں میں اضافہ ہوا تھا اپنے ہر عمل سے اس نے واضح کروایا تھا کہ وہ اپنی قاتل حسینہ کا دیوانہ ہے ۔

ان کی زندگی مکمل ہوچکی تھی ۔وہ ایک دوسرے کو حاصل کر چکے تھے ۔

مناہل !!

ہمم بولیے !!

جان !!

کیا ہے زاویار کیوں تنگ کر رہے ہیں ۔

یار ادھر آؤ نہ دیکھو میرے یہ ہونٹ کتنے خشک ہوگئے ہیں اپنی مسکراہٹ دبائے وہ مناہل کو تنگ کرنے لگا ۔

تو میں کیا کروں ؟

اپنے ہونٹ ملانا ان کے ساتھ کچھ تو نم ہونگیں۔

زاویار ایسی باتیں نہ کیا کریں ! چہرہ موڑے وہ شرمانے لگی تھی ۔

ایسی باتیں نہ کروں تو پھر کیا تمہیں بیٹھ کے مفتیوں کے بیان سناؤ زاویار کا چہرہ ایک دم سنجیدہ ہوا تھا۔ جبکہ اس کی بات پر مناہل کھلکھلا کر ہنسی تھی ۔

اچھا نہ آؤ میرے پاس ویسے بھی جنت میں مجھے حوریں ملیں گی ۔

انسان کے جنت میں جانے والے کام بھی ہونے چاہیے۔اپنے کام دیکھیں ہیں کبھی خود مجھے تنگ کرتے ہیں اور کبھی اپنے بیٹے کو نئے نئے طریقے سکھاتے ہیں اپنی ماں کو تنگ کرنے کے ۔

تم کونسا مجھے اپنے پاس آنے دیتی ہو ۔

میں آپ کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی لڑاکا بیویوں کی طرح وہ کمر پہ ہاتھ باندھے اس سے لڑنے کے لیے تیار تھی ۔

کہاں آنے دیتی ہو اگر آنے دیتی نا تو آج ہماری پوری فٹ بال ٹیم اس حویلی میں گھوم رہی ہوتی ۔۔

میں نہیں آنے دیتی آپ کو اپنے پاس اپنے پیٹ پہ ہلکے سے ہاتھ رکھے وہ آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھنے لگی ۔

اس کا بھرا بھرا وجود چہرے پہ موجود خوشی کے رنگ _ زاویار کی محبتوں کا نکھرتا عکس ہر بار کی طرح زاویار کے دل کو ڈگمگاگیا ۔

خود پر سے کنٹرول کھوئے وہ مناہل کے لبوں پہ جھکا چند ہی پل کے بعد اس سے دور ہوا تھا ۔

اپنے آنے والے مہمان کا خیال ہے وگرنہ تمہاری ایک ایک سانس خود میں نچوڑ لیتا ۔

زاویار کے سینے پہ سر ٹکائے مناہل اپنی سانسوں کو اکھٹا کرنے لگی ۔

میں بہت انتظار میں ہوں اپنے نئے مہمان کے ۔

زاویار بس ایک مہربانی کیجیے گا اسے بازل کی طرح ڈھیٹ نہ بنائے گا ۔

آپ کو اور بازل کو جھیل جھیل کر میں بوڑھی ہوگئی ہوں ۔

مناہل کی بات سنتے زاویار کا قہقہہ بلند ہوا تھا ۔وہ شخص مسکراتے ہوے بہت خوبصورت لگتا تھا اس کی مسکراہٹ ہی مناہل کی جان لینے کے لیے کافی تھی ۔

دونوں کو مسکراتے دیکھ دروازے کے پیچھے کھڑے بازل کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی ۔

حسینہ جانم ہمیں اپنی بیٹیوں کی حفاظت کے لیے ایک باڈی گارڈ اس دنیا میں لانا ہی ہوگا ۔

ضماہیر!! الفاظ کو کھینچتے اس نے ضماہیر پکارا تھا ۔

جی جانم !

تھوڑی تو شرم کیا کریں !

اگر شرم کرتا رہا نہ تو ساری زندگی عنیزا اور وانیہ پر ہی گزارا کرنا پڑے گا ۔

رباشہ کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں قید کیے وہ اس کے لبوں پہ جھکا اپنی پیاس مٹانے لگا ۔

روز محشر محبت کرنے والوں کو ساتھ اٹھایا جائے گا میری خواہش ہے مجھے تمہارے ساتھ اٹھایا جائے رباشہ کے لبوں سے پیچھے ہوے _ وہ ہلکی ہلکی سرگوشیاں کرنے لگا ۔

اپنی گردن پہ ضماہیر کی گرم سانسوں کی تپش محسوس کرتے وہ اس کی قربت میں پگھلنے لگی تھی ۔

خود کو ضماہیر کے حوالے کیے رباشہ اس کی کمر کے گرد اپنے دونوں ہاتھ باندھ گئی ۔

سب لوگوں کی زندگی مکمل ہوچکی تھی سب مشکلات برداشت کر کے اپنی اپنی محبت حاصل کرنے میں کامیاب ہوے تھے مگر ان سالوں میں وہ حویلی ماں کو کھو چکے تھے ۔۔۔

عاشقی یہ شدتیں یہ قربتیں یونہی نہیں تجھ

پہ جانثار

تجھ کو سما کے خود میں دیوانہ ہوا ہوں تیرا

_______ ختم شد ______________

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *