Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 14)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 14)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
وشمہ بچے پھر کیا سوچا ہے تم نے اب تم اتنی بڑی ہوگئی ہو شادی کا کیا خیال ہے دادا سائیں وشمہ کے ساتھ بیٹھے اس سے باتیں کر رہے تھے ۔
نہیں نہیں دادو ابھی نہیں ابھی تو مجھے بہت بڑی سائیکالوجسٹ بننا ہے
وہ کیا بتاتی انہیں کہ جو شخص صدیوں سے اس کے دل میں مکیں ہیں اسے تو اس بارے میں علم بھی نہیں ۔
اچھا چلو پھر خوب پڑھائی کرو ۔
دادو سائیں میں کمرے میں جارہی ہوں وہ دادا سائیں کے پاس سے اٹھنے لگی
شگفتہ کو کہنا ضماہیر کو میرے کمرے میں بھیج دیے
جی میں کہ دوں گی
رباشہ کب سے شاور کے ٹھنڈے پانی کے نیچے کھڑی خوف اور سردی کی رلی ملی کیفیت کی وجہ سے کانپ رہی تھی
ضماہیر اسے سینے سے لگائے شاور کے نیچے ہی کھڑا تھا مگر پانی اس نے ابھی تک بند نہ کیا تھا ۔
وہ محبت کرتا تھا رباشہ سے اسے خیال تھا اپنی بیوی کا مگر دانیال کا رباشہ کو دیکھنا اسے اندر تک غصہ دلا گیا تھا ۔اسے بلکل گوارا نہیں تھا کہ کوئی اس کی چیز پہ نظر رکھے رباشہ تو پھر اس کی بیوی تھی اس کی حسینہ جانم ۔
پلیز مجھے گھر چھوڑ آئیں مجھے گھر جانا ہے وہ اس کے سینے پہ سر ٹکائے گھر جانے کی ضد کرنے لگی ۔مجھے امی ابو کے پاس جانا ہے ۔
تمہیں ابھی گھر نہیں جاسکتی ۔
اب تو آپ سب جانتے ہیں نہ میں نے وہ سب کچھ جان بوجھ کر نہیں کیا تھا پلیز مجھے گھر چھوڑ آئیں آنسوؤں کاسمندر مزید تیزی سے اس کی آنکھوں کی سرحدوں کو پار کرتا باہر نکلا تھا ۔
تم تب تک گھر نہیں جاسکتی جب تک تمہیں مجھ سے محبت نہ ہو جائے ۔ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ضماہیر نے اس کے سامنے شرط رکھی تھی ۔
اگر میں آپ سے محبت کرنے میں ناکام رہی تو؟ رباشہ نے اپنا خوف بیان کیا تھا ۔
میں تمہارے نام کے ساتھ مرحومہ لگانے میں کامیاب ہوجاؤں گا حسینہ جانم ۔
ضماہیر نے اپنے سلگتے لب اس کے لبوں پہ رکھے تھے ۔گویا اس نے رباشہ کو خود سے محبت کرنے کاحکم دیا تھا ۔
رباشہ کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز بار بار جھپک کر آنسو بہا رہی تھی دوسری جانب اس کا شوہر تھا جو اس سے محبت کرتا تھا ۔اس کا۔خیال رکھتا تھا مگر آج رباشہ کا رونا بھی اس کی شدت میں کمی نا لاسکا ۔
ضماہیر رباشہ کو بانہوں میں بھرے واشروم سے باہر لایا تھا اور ڈرائیر نکال کر اس کے بال خشک کرنے لگا ۔
آپ نیچے آدھا ناشتہ چھوڑ کر آگئے ۔وشمہ کمرے میں دانیال کے پاس آئی جو سگریٹ لبوں میں دبائے اپنا غصہ کنٹرول کر رہا تھا ۔
اسے دھوکہ ملا تھا آج ۔ وہ اپنی محبت حاصل کرنے میں ناکام ہوا تھا ۔
دانیال جو ریلنگ پہ ایک ہاتھ ٹکائے کھڑا تھا وشمہ کو بازو سے کھینچ کر اسی ریلنگ سے لگا گیا ۔
کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ ؟ تمہیں زیادہ شوق ہے چمکادڑ کی طرح ہر چیز سے چپکنے کا سگریٹ کا دھواں وشمہ کے منہ پہ چھوڑتا وہ مزید غصہ میں اس کے بازو پر اپنا دباؤ بڑھا گیا ۔
سگریٹ کے دھوئیں سے کھانستی وہ خود کو دانیال کی گرفت سے آزاد کرنے کے لیے پھڑپھڑانے لگی ۔
میں نے کہا تھا یہاں آؤ ؟ اب آئی ہو سزا تو ملے گی نا ۔
وہ مزید سگریٹ کے کش لگاتا دھواں اس کے چہرے پہ ہی چھوڑنے لگا ۔
دھوئیں کی وجہ سے وشمہ کی آنکھیں پھرنے لگی اس کا سر گھومنے لگا تھا وہ بامشکل ہی خود کو سہارا دیے کھڑی تھی ۔
کیا کرنے آئی تھی یہاں ؟ وہ اسے تکلیف پہنچاتا کمرے میں آنے کی وجہ پوچھنے لگا ۔
وہ آپ نے ناشتہ نہیں کیا تھا س لیے ناشتہ کا پوچھنے آئی تھی
زہر اگر ہو تو وہ لادینا اس کی ضرورت ہے مجھے اور اب نکلو یہاں سے شکل گم کرو اپنی دوبارہ یہ شکل لیے میری اجازت کے بغیر اس کمرے میں داخل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
دانیال نے وشمہ کو اپنی گرفت سے آزاد کیا تھا ۔
وہ کیا کسی دوسرے کے جزبات سمجھتا ابھی تو وہ خود کو ہی سمجھنے سے قاصر تھا ۔
آپ بہت برے ہیں وشمہ نے دانیال کی گرفت سے آزاد ہوتے ہی اسے آئینہ دکھانے کی ایک ہلکی سی کوشش کی ۔
میں نے کب کہا میں اچھا ہوں ؟
میں بہت برا ہوں ۔۔۔۔اتنا کہ تمہاری سوچ سے بھی زیادہ !
دوبارہ میرے سامنے نہ آنا ورنہ مجھے مزید برا بننے میں وقت نہیں لگے گا ۔
پھوپھو کیا ہے یہ سب ؟ آپ نے کہا تھا میری اور ضماہیر کی شادی کریں گی مگر یہاں ؟
یہاں تو سب کچھ ہی الٹ ہے ۔ وہ تو بہت خوشی سے اپنی بیوی لیے گھوم رہا ہے
مناہل حویلی ماں کے سامنے بیٹھی انہیں ان کے وعدے یاد کروا رہی تھی ۔
مناہل فکر نہ کر میری بچی یہ لڑکی چند دن کی مہمان ہے جب تک ۔
تمہارے بڑے سردار یہاں ہیں صرف تب تک ان کے جاتے ہی ضماہیر اسے طلاق دے کر پھینک دے گا ۔
اگر ایسا نہ ہوا ؟
ایسا ہی ہوگا !!
میں پہلے بتا رہی ہوں حویلی ماں میں ضماہیر کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد کو پار کرسکتی ہوں اس کی آنکھوں میں جنون تھا ضماہیر کو پانے کا ۔
میں ہر قدم پہ تمہارے ساتھ ہوں میری بچی ۔
مجھے کچھ بھی کر کے اس لڑکی رباشہ کو ضماہیر سے دور کرنا کا ہوگا وہ خود سے بولتی کمرے سے باہر نکلی تھی ۔
سردار صاحب!
جی شگفتہ باجی کمرے کے باہر سے اپنے گھر کی نوکرانی شگفتہ کی آواز پر اس نے جواب دیا تھا ۔
سردار صاحب آپ کو بڑے سردار بولا رہے ہیں
باجی آپ دادا سائیں کو بولیں وہ پانچ منٹ تک آرہا ہے
ٹھیک ہے سردار صاحب! شگفتہ کو بھیجتا وہ واپس سے رباشہ کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔
جو مرجھایا چہرہ لیے آئینے کے سامنے بیٹھی تھی ۔
کچھ ہوا ہے تمہیں ؟
نن نہیں
شکل سے تو نہیں لگ رہا ؟ کوئی مسلہ ہے کیا ؟ کسی نے کچھ کہا ہے ؟
نہیں نہیں کسی نے کچھ نہیں کہا
بس مجھے گھر جانا ہے جب سے اس نے دانیال کو حویلی میں دیکھا تھا تب سے اس کی گھر جانے کی ضد میں شدت آئی تھی ۔اسے اب صرف گھر جانا تھا ۔
اسے ڈر لگنے لگا تھا ضماہیر سے ۔
میں نے ایک دفعہ منع کیا ہے نا ۔پہلے بھی ہزار دفعہ کہہ چکا ہوں جس پر میں نہ کہ دوں اس کا مطلب ہے نہ رباشہ کے گالوں کو دونوں ہاتھوں میں بھرے وہ اس کے لبوں پہ جھکا اپنی پیاس مٹا کر پیچھے ہوا تھا ۔
میں دادا سائیں کی بات سن کر آتا ہوں حسینہ جانم ۔
کوشش کرنا دانیال کے سامنے دوبارہ نہ آؤ ۔اور اگر اس سے سامنا ہو تو میرا ہاتھ تھام لینا وہ اسے سختی سے نصیحت کرتا اچھے طرح دروازہ بند کرکے باہر نکل گیا ۔
جی دادا سائیں آپ نے بولایا ؟
ہاں ادھر آؤ ۔ یہ کیا ہورہا ہے حویلی میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔
کون ہے یہ بچی ؟ کن حالات میں تم نے شادی کی اس سے ۔
دادا سائیں میں صبح سیر سے واپس آرہا تھا تو یہ بیچاری باغ کی ایک جانب پڑی تھی ۔
میں انہیں حویلی میں لے آ یا اور پھر جب میں نے سب کچھ پوچھا تو مجھے پتا چلا کہ کچھ لوگوں نے رباشہ کو اٹھایا تھا اور پھر اسے یہاں چھوڑ کر چلے گئے ۔
وہ بڑی ہی مہارت سے جھوٹ بول رہا تھا ۔
اب مجھے ایسا صحیح نہیں لگا کہ میں ایک غیر لڑکی کو ایسے حویلی میں رکھو کیونکہ رباشہ کو بھی یاد نہیں کہ وہ کہاں رہتی ہے وہ کچھ دن پہلے ہی اٹلی سے اپنی پڑھائی پوری کر کے آئی تھی بس اس لیے میں نے شادی کر لی ۔
وہ جھوٹ پہ جھوٹ بولتا دادا سائیں کے سامنے اپنی کہانی کا ایک ایک پہلو سچ میں تبدیل کروا رہا تھا ۔
یہ تو تم نے صحیح کیا ؟ مگر تم۔جانتے ہو ہماری حویلی میں صرف ہمارے خاندان کی ہی لڑکی بہو بن کر آتی ہے ۔اس لڑکی کی تو زات بھی معلوم نہیں ہمیں ۔
زات !! اس کی زات تو اب مجھ سے منسلک ہے یہ رباشہ حبیب تھی کبھی مگر اب رباشہ ضماہیر گوندل ہے وہ مکمل طور پر سکون اختیار کرتا دادا سائیں کے سامنے رباشہ کے لیے اپنی محبت بیان کر گیا ۔
ٹھیک ہے ہم تمہارے فیصلے میں تمہارے ساتھ ہیں ! مگر مناہل
یہ تو وہ بھی اچھے سے جانتے تھے کہ بچپن سے یہی کہا گیا تھا کہ مناہل کو ضماہیر کی دلہن بنایا جائے گا ۔
مناہل کو دیکھ کر ہی میرے خیال سے آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ وہ میری بیوی بننے کے قابل ہے یہ نہیں ۔وہ مناہل کی بولڈ ڈریسنگ پہ طنز کرگیا جس کا حصہ دوپٹہ نام کی چیز تو کبھی تھا ہی نہیں
بچے ہم کچھ نہیں کرسکتے تم جانتے ہو اس کی پھپھو!
داد سائیں میں ان کے کسی فیصلے کو نہیں مانتا اور نہ ہی وہ اتنا حق رکھتی ہیں کہ میرے لیے کوئی فیصلہ کریں ۔اپنے تمام حق انہوں نے خود ختم کیے ہیں ۔
امید کرتا ہوں آپ سمجھیں گے ۔
وہ دادا سائیں کا ہاتھ پکڑے کمرے سے باہر نیچے ہال میں لایا تھا جہاں کچھ مہمان ان کے انتظار میں تھے ۔
السلام وعلیکم! ان مہمانوں کو سلام کرتے ہی ضماہیر نے انہیں دوبارہ دیکھا تھا
وہ حیران ہوا تھا انہیں یہاں دیکھ کر رباشہ کے والدین ! یہ اس نے صرف دل میں سوچا تھا
آپ کون ؟ دادا سائیں نے جونہی ان کے چہرے پر نگاہ دوڑائی وہ فوراً ہی انہیں پہچان گئے
افتخار تم !
بڑے صاحب آپ ! افتخار بھی جلدی سے ان کی جانب بڑھا تھا
بڑے صاحب آپ لوگ ؟ آپ لوگ تو وہ گاؤں والی حویلی انہیں خود سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے وہ بڑے سردار کو دیکھ کر خوش ہو یا غمزدہ
آپ لوگ تو اس دن ؟
ہاں اس دن وہ حادثہ پیش آیا مگر ہم خدا کے شکر سے محفوظ رہے تھے ۔
آپ چھوٹے صاحب ؟
افتخار ضماہیر کے جانب بڑھا تھا آپ ہیر ہیں نہ !
جبکہ ضماہیر تو اس سب کو سمجھنے میں ہی لگا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے
ہیر یہ بوڑھے بابا یاد ہیں تمہیں ؟ تم سکول جاتے تھے ان کے ساتھ
بوڑھے بابا ضماہیر کا لہجہ نم ہوا تھا اس کی کتنی یادیں تھی ان کے ساتھ
بوڑھے بابا آپ ؟ وہ جلدی سے ان کے گلے لگ گیا ۔
بڑے سردار مجھے بہت خوشی ہوی آپ کو یہاں صحیح سلامت دیکھ کر ۔
بیٹھو افتخار کیسے آنا ہوا ؟
افتخار صاحب کی آنکھیں فورا نم ہوی اور وہ بلاجھجک اپنا پورا مسلہ بڑے سردار کو بتانے لگے ۔
کیا اتنا سب کچھ ؟
ہمیں لگتا ہے ہماری بیٹی رباشہ یہی ہیں
رباشہ کا نام سنتے ہی بڑے سردار نے ضماہیر کو دیکھا تھا جس کی سانسیں ایک دم خشک ہوی تھی اسے رباشہ کے دور جانے کا خوف آنے لگا تھا ۔
ضماہیر کی بیوی کا نام رباشہ ہے مگر وہ اسے باغ کی ایک کونے میں بیہوش ملی تھی بڑے سردار افتخار کو سب کچھ بتانے لگے ۔
بڑے سردار وہ ہماری ہی بیٹی ہوگی اسے بولا دیں ایک دفعہ! وہ التجا کرنے لگے
ہاں ہاں شگفتہ جاؤ رباشہ کو بلا کر لاؤ
ٹھہریے دادا سائیں میں بولا کر لاتا ہوں ضماہیر شگفتہ کو رکنے کا اشارہ کرتا خود اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگا ۔
حسینہ جانم تمہارے امی ابو آئے ہیں ۔
اپنے ماں باپ کا نام سنتے ہی رباشہ خوشی کے مارے جلدی سے کمرے سے باہر نکلنے لگی ۔
یہی تمنا تو وہ کر رہی تھی کہ کچھ ایسا ہو وہ اپنے ماں باپ کے پاس چلی جائے
اسے باہر نکلتا دیکھ کر ضماہیر نے اسے دروازے کے ساتھ پن کیا تھا جبکہ وہ دروازے کو لاک کر گیا ۔
نیچے جاکر کوئی ہوشیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو کچھ میں نے کہا ہے اس بات میں ہاں میں ہاں ملانا اور اگر اپنے امی ابو کے ساتھ ان کے گھر جانے کی بات کی تو تم مجھ سے واقف ہو جانم ! اس کی تھوڑی کو اونچا کرتے وہ رباشہ کی گردن پہ جھکا اپنا گرم لمس اسے محسوس کرانے لگا ۔
پر میں نے جانا ہے !!!
شششششش ! ٹھیک ہے چلی جانا پھر جب اپنا یہ منہ اٹھا کر یہاں واپس آؤ گی تو اس ضماہیر کو کھو دو گی اسے دھمکی دیتے وہ دروازے کو کھولتا بہت محبت سے اس کا ہاتھ تھامے نیچے بڑھا تھا ۔
امی ! اپنی ماں کو دیکھ کر رباشہ جلدی سے اپنی ماں کے پاس آکر ان کے سینے لگ گئی
ابو !!
دیکھا میں تمہیں کہتا تھا نہ اللہ پہ بھروسہ رکھو ہماری بچی محفوظ ہوگی
رباشہ پتا ہے ہم کتنا ڈر گئے تھے مگر رب کا لاکھ لاکھ شکر وہ لوگ تجھے باغ میں چھوڑ گئے ۔
رباشہ تو باغ کا نام سن کر ہی حیران ہوگئی تھی کیونکہ وہ تو کبھی کسی باغ میں گئی ہی نہیں ۔
ضماہیر سے دور ہٹ کر وہ اپنی ماں کے سینے لگی تھی ۔
بڑے صاحب ہم آپ کے بہت بہت شکرگزار ہیں آپ نے ہماری بچی کی حفاظت کی مگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم کچھ دن کے لیے رباشہ کو گھر لے جائیں ۔
لو بھئی اس میں اجازت لینے کی کیا بات آپ کی بیٹی ہے ۔
بیٹی بیشک ہماری ہے مگر اب وہ اس حویلی کی بہو بن چکی ہے وہ آپ لوگوں کی امانت ہے ہم سے زیادہ چھوٹے صاحب کا حق ہے رباشہ پہ۔
چھوٹے صاحب اگر آپ کی اجازت ہو تو ہم لے جائیں رباشہ کو ؟ وہ ضماہیر سے اجازت لینے لگے
جو خونخوار نظروں سے رباشہ کو گھورتے دانت پیسسے انہیں رباشہ کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔
میں سامان لے آؤ اپنا رباشہ تو اجازت ملنے پر ہر غم بھلائے جلدی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی تاکہ جلدی سے سامان پیک کر کے لے آئے ۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کا سامنا اندھیرے سے ہوا تھا جبکہ کمرے میں اڑتا سگریٹ کا دھواں اسے کھانسنے پر مجبور کرگیا ۔
لائٹ اون کرتے اس کی نظر ضماہیر پہ گئی جو صوفے پہ بیٹھا سگریٹ کے کش لگا رہا تھا
آپ سگریٹ بھی پیتے ہیں ؟ وہ حیران کن نظروں سے اس سے سوال کرنے لگی
ہاں! اپنا نشہ پورا کرنے کے لیے
مگر آج سے تو پہلے میں نے کبھی آپ کو سگریٹ پیتے نہیں دیکھا ؟
آج سے پہلے میرا نشہ تم تھی!
آپ جانتے ہیں کہ کتنی نقصان دہ ہے صحت کے لیے ۔اس سے پھیپھڑوں کا کینسر ہوجاتا ہے ۔
انسان مر جاتا ہے
تم تو خوش ہوں گی نہ میری موت پر ! آخر آزاد ہوجاؤ گی مجھ سے وہ زہر آلود الفاظ ادا کرنے .
اپنی سرخ آنکھوں میں وحشت لیے رباشہ کی جانب بڑھا تھا ۔
کیا کہا تھا میں نے بولو!
بھوکے شیر کی طرح رباشہ کو بازوؤں میں جکڑے وہ دھاڑنے لگا
کیا ؟
تو اب میری باتیں بھی تمہارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔
منع کیا تھا نہ کی گھر نہیں جانا ان کے ساتھ ؛!
مگر آپ نے خود اجازت دی ہے وہ معصومیت سے جواب دینے لگی ۔
میں نے اجازت دی چلو تم نیچے جاکر کہو کہ مجھے گھر واپس نہیں جانا وہ حل بتانے لگا
نہیں میں ایسا کیسے کروں گی
تم نہیں کر سکتی ایسا ؟ وہ اپنی نگاہوں کی تپش سے رباشہ کو جھلسا نے لگا ۔
نہیں!
آہ!!! آپ پاگل ہوگئے ہیں وہ درد کے مارےبہت زور سے رونے لگی
ضماہیر اپنی جیب سے چاقو نکال کر اس کے ہاتھ کو بری طرح زخمی کرگیا جس سے اب خون بہت تیزی سے بہ رہا تھا ۔
دادا سائیں! دادا سائیں!! وہ رباشہ کو کمرے میں چھوڑ کر جلدی سے کمرے سے باہر آیا تھا
رباشہ کا ہاتھ کٹ گیا ! اتنا کہتا وہ واپس کمرے میں آکر اس کے ہاتھ پہ بینڈیج کرنے لگا ۔
یہ کیسے ہوگیا ؟ ابھی تک تو صحیح تھی
یہ گلدان اس کے ہاتھ پہ لگا ہے وہ ساتھ پڑ اگلدان پہلے ہی فرش پر پھینک کر توڑ چکا تھا ۔
چوٹ بہت گہری لگی ہے ! خیال کرو بچی کا
آنٹی انکل معاف کرنا میں اپنی بیوی کو اس حالت میں آپ کے ساتھ نہیں بھیج سکتا ورنہ مجھے ہر وقت ٹینشن ہوتی رہے گی وہ معزرت کرتا رباشہ کے والدین کو حویلی سے بھیج چکا تھا
کوئی مسلہ نہیں چھوٹے صاحب! اب ہمیں اتنی تسلی تو ہوگئی ہے نہ کہ ہماری بچی محفوظ ہے یہی کافی ہے ہمارے لیے ۔ہم پھر کبھی لے جائیں گے
حسینہ جانم ! اگر تمہیں اپنے ساتھ رکھنے کے لیے مجھے تکلیف بھی پہچانی پڑی تو میں اس سے بھی گریز نہیں کروں گا رباشہ کے ہاتھ پر بندھی پٹی کو لبوں سے چھوتے وہ اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں چلانے لگا ۔
جانم دوبارہ کبھی غصہ نہ دلوانا مجھے ! اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کر وہ اسے بیڈ پر لٹائے خود اس کے ساتھ لیٹ گیا ۔
افتخار! سردار صاحب تو زندہ ہیں اگر انہیں ہمارا سچ پتا چل گیا تو
نہیں نہیں تم فکر نہ کرو کچھ نہیں ہوگا انہیں کبھی کچھ نہیں پتا چلے گا
اور اگر پتہ چل گیا تو ہم رباشہ کو کیا جواب دیں گے بڑے سردار کو صحیح سلامت دیکھ کر ان کی زندگی میں ایک نیا طوفان آیا تھا ۔
ماضی میں جو کچھ ہوا تھا وہ واپس پلٹ رہا تھا
