Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 08)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 08)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
گاؤں کا راستہ ایک بہت بڑے جنگل سے گزرتا تھا اس لیے کھانا کھاتے ہی ضماہیر نے گاڑی کا رخ گھر کی جانب کیا تھا سورج غروب ہونے لگا تھا اور رات کے وقت جنگل میں موجود جنگلی جانور سڑک پر نکل آتے تھے اس لیے وہ جلد سے جلد گھر پہنچنا چاہتا تھا۔
آج میں بہت تھک گئی ہوں ؟؟ رباشہ نے اپنا سر گاڑی کی سیٹ سے لگایا تھا
میں گھر جاکر ساری تھکن اتار دوں گا حسینہ جانم !
ضماہیر خیریت ہے آپ کو کیا ہوا ہے ؟
کیا ہوا ہے کا کیا مطلب ؟؟
خیریت ہے آپ کیوں مجھ پر اتنے مہربان ہورہے ہیں؟ آپ جانتے بھی ہیں یہ رشتہ زیادہ وقت کا نہیں ۔اس رشتے میں مزید ڈوب کر سوائے اذیت کے کچھ نہیں ملے گا آپ کیوں اپنے اور میرے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں وہ شاید تھک گئی تھی اب اس سب سے وہ نہیں چاہتی تھی کہ ضماہیر اسے طلاق دے مگر اس کے ساتھ رہنے کی آرزو تو اس نے بھی نہیں کی تھی
اگر میں تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہوں ؟؟
یہ ناممکن ہے اس نے اپنی جانب سے ہاتھ کھڑے کیے تھے
مگر کیوں ؟؟؟
ہمارے درمیان نکاح کا پاک رشتہ ہے جب تک وہ ہے تب تک تم مجھ سے دور نہیں ہوسکتی
مگر آپ تو یہ رشتہ رکھنا ہی نہیں چاہتے
جانم کل جب تم میرے لیے تیار ہوں گی تب تمہارے ہر سوال کا جواب دوں گا
آئس کریم!! مجھے یہ کھانی ہے لاکر دیں مجھے ۔ وہ راستہ میں آئس کریم کی دکان دیکھ کر کسی چھوٹے بچے کی طرح ضد کرنے لگی
جانم ہم پہلے ہی بہت لیٹ ہیں مزید دیر ہو جائے گی ہمیں
مجھے نہیں پتامجھے کھانی ہے لاکر دیں مجھے
مگر ایک شرط ہے میری
بولیں!!!
تم گاڑی میں بیٹھ کر ہی کھاؤ گی اور میرے لیے بھی آئس کریم چھوڑو گی
ٹھیک ہے وہ فوراً ہی رضامند ہوی تھی جبکہ ضماہیر گاڑی سے اترا آئس کریم والی دکان کی طرف چل دیا
میرے لیے چاکلیٹ فلیور رباشہ نے پیچھے سے آواز لگائی تھی ۔
یہ کیا یہ تو ونیلا فلیور ہے ضماہیر نے گاڑی میں بیٹھتے رباشہ کو آئس کریم دی تھی
ہاں تو!!!!
میں نے چاکلیٹ کہا تھا
یہ میرا فیورٹ ہے
آپ کا فیورٹ ہے تو کیا مطلب ؟؟ اب میں اپنی پسند کی آئس کریم بھی نہیں کھاسکتی
نہیں نہیں تم آئس کریم کھاسکتی ہو مگر میری پسند کی وہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے چھو نے لگا
آئس کریم کھائیں گے آپ رباشہ نے جلدی سے آئس کریم کھول کر اسے پیش کش کی تھی
پہلے تم کھالو میرے لیے تھوڑی سی چھوڑ دینا میں اپنے سٹائل سے آئیس کریم کھاؤں گا
یہ لیں!! اب یہ نہ کہیے گا تم نے بہت تھوڑی چھوڑی ہے آپ لائے ہی ایک تھے اور اوپر سےاور وہ بھی میں نے آدھی کھائی مجھ کوئی فائیدہ ۔۔۔۔۔۔ضماہیر نے اس کے ہاتھوں سے آئیس کریم ل نہی اور اس کے لبوں پہ پھیرنے لگا
یہ ک ک کیا کر رہے ہیں آپ
آئیس کریم کھاؤں گا
ایسے میرا مطلب کیسے ؟؟
چپ ہوجاؤ جب تم آئس کریم کھارہی تھی میں نے تمہیں تنگ نہیں کیا تھا اس لیے اب مجھے بھی سکون سے کھانے دو
وہ اس کے لبوں پہ جھکا اپنے لبوں سے آئس کریم کھانے لگا ۔۔۔اج تک اس سے زیادہ مزے کا ونیلا فلیور میں نے کبھی نہیں کھایا حسینہ جانم
وہ اس کے لبوں کی نمی کو اپنے لبوں سے کم کرنے لگا ۔۔۔۔اس کے لبوں پہ جھکا اس کی سانسوں کو خود میں گھولنے لگا
ہم باہ۔ہ۔ہر ہیں !!!
پتا ہے مجھے
کوئی دیکھ لے گا
بیوی ہو تم میری مجھے کسی کا ڈر نہیں ۔۔۔
یہ تو چاکلیٹ والی آئس کریم ہے یہ مجھے پہلے کیوں نہیں دی
ضماہیر نے اس کے لبوں کو چھوڑتے چاکلیٹ آئیس کریم اس کی جانب بڑھائی تھی
کیونکہ پہلے میں تمہیں ٹیسٹ کرنا چاہتا تھا
میں یہ نہیں دوں گی وہ جلدی سے آئس کریم کھانے لگی
نہ دینا بس تھوڑی سی چھوڑ دینا
تاکہ آپ دوبارہ اس طرح آئس کریم کھا سکیں ۔۔۔۔وہ ہڑبڑاہٹ میں نا جانے کیا بول گئی تھی ۔
نہیں میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر تم چاہتی ہو تو میں اس کو بھی ضرور ٹیسٹ کرنا چاہوں گا رباشہ کی لٹھوں کو پیچھے کرتے جو اس کی چادر سے باہر آرہی تھی اس نے رباشہ کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے
کتنا سکون تھا اس شخص کی قربت میں۔۔۔۔۔وہ کوئی شہزادہ تھا جو اپنی شہزادی کو ایک الگ دنیا میں لے جاتا تھا ۔
جانم چلیں گاڑی حویلی کے آگے روک کر اس نے سارے شاپنگ بیگز ہاتھ میں پکڑے رباشہ کی جانب کا دروازہ کھولا
مجھے دے دیں میں پکڑ لوں گی یہ
نہیں رہنے دو تم تھک گئی ہو ۔۔۔۔۔اسے فکر تھی رباشہ کی اس کے لیے تو یہی کافی تھا کہ اس کا ہم سفر اس کا خیال رکھتا تھا
بچے دیر نہیں لگادی آپ لوگوں نے آنے میں انہیں گھر میں داخل ہوتا دیکھ کر فاطمہ بیگم جو ان کے انتظار میں بیٹھی تھی ان کی جانب بڑھی تھی
خالہ آپ کی بہو کو کچھ پسند ہی نہیں آتا ؟؟ اس نے اپنا شکوہ بیان کیا تھا
استغفار !! کتنے جھوٹے انسان ہیں آپ !!! آنٹی میں نے تو کچھ بھی اپنی پسند کا لیا ہی نہیں سب ان کی پسند کا ہے ۔۔۔۔۔وہ رونے کو تھی
ہیر یہ کیا کہ رہی ہے بچی کو ساتھ کس لیے بھیجا تھا ۔۔۔۔اگر سب کچھ تم نے خود خریدنا تھا تو بچی کو اتنی دور ساتھ کیوں لے گئے۔۔۔۔فضول میں تھک گئی ہوگی ۔۔۔۔۔اچھا رباشہ بیٹا کچھ دن بس یہ پہن لینا پھر صرف تم اور میں جائیں گے اپنی پسند کے ڈریس لینا تم۔
ہم ضماہیر کو نہیں لے کر جائیں گے ؟؟؟؟ اس نے بچوں کی طرح چہرہ گول کیا فاطمہ بیگم سے سوال کیا تھا ۔
بالکل ضماہیر ساتھ نہیں جائے گا صرف تم اور میں ۔
آنٹی پکا نہ !!!
ہاں ہاں پکا چلو اچھا کھانا کھا لو رات بھی زیادہ ہوگئی ہے
نہیں نہیں خالہ کھانا ہم کھا کر آئے ہیں ۔۔۔۔۔
میں کمرے میں جارہا ہوں ۔۔۔۔
سنا نہیں تم نے رباشہ جو خاموش سی فاطمہ بیگم کے ساتھ کھڑی تھی اس کی بات پر ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی
کس نے میں نے ؟؟
ہاں تم نے میں کمرے میں جارہا ہوں !!
تو !! اس نے ایبرو اچکائی تھی۔
کمرے میں چلو !! مگر میں ۔۔۔۔۔وہ اس کے لبوں پر انگلی رکھے اسے خاموش کروا گیا
جب کہا ہے نہ چلو تو مطلب چلو جب میں کمرے میں ہوں گا تو تم یہاں نیچے کیا کرو گی اس کا ہاتھ پکڑے کمرے کی جانب لے جانے لگا جبکہ رباشہ آنکھوں میں نمی لیے فاطمہ بیگم کو دیکھنے لگی
وہ تو ابھی انہیں اپنی شاپنگ دکھانا چاہتی تھی
جاؤ بیٹا فاطمہ بیگم نے اسے آنکھوں سے اشارہ کیا وہ اپنا دل مارتی اس کے ساتھ کمرے میں جانے لگی
کیوں لائے ہیں مجھے میں نے آنٹی کو شاپنگ دکھانی تھی ؟؟ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سمندر بہنے لگا
کیوں کا کیا مطلب ہے میں تھک گیا ہوں ؟؟
تو میں کیا کروں ؟؟
تھکن اتارو میری !!
آپ کو صرف اپنے کام سے مطلب ہے آپ ایک نمبر کے خود غرض انسان ہیں اس کے رونے میں شدت آئی تھی
یہ کیا تم بات بات پر رونا شروع کر دیتی ہو !!! میرے بچوں کو چشماٹو ماں نہیں چاہیے اس کی آنکھوں پہ جھکا آنسوؤں کو اپنے لبوں میں جذب کرنے لگے
وہ سہم کر پیچھے دیوار سے لگی تھی جبکہ اب آنسو تھم چکے تھے
جان ایسا نہ کیا کرو !! کیوں مجھے غصہ دلاتی ہو اس کی گردن پہ جھکا اپنی گرم سانسیں چھوڑنے لگا ۔۔۔۔رباشہ نے مضبوطی سے اس کے کالر کو تھاما تھا جیسے ایک واحد سہارا وہ کالر تھا اگر وہ اسے نا تھامتی تو وہ زمین پر گر جاتی ۔۔۔۔وہ اس کے لبوں پہ جھکا اپنی پیاس مٹانے لگا اسے دور کرنے کی غلطی رباشہ نے بلکل نہیں کی تھی ۔ وہ جانتی تھی ضماہیر کو اس کی مزاحمت بری لگتی ہے اسے غصہ آتا ہے اس کی مزاحمتوں پر ۔۔۔۔۔وہ اب اسے غصہ دلانا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔وہ مزید اس کے لبوں پہ اپنی شدت نچھاور کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔جبکہ وہ صرف اپنی آنکھیں بند کیے اس کے دور ہونے کا انتظار کر رہی تھی
ضما۔۔۔ا۔۔ہیر پلیز ہٹ جائیں!!!!
وہ اس کے شرمانے سے محفوظ ہوا تھا جبکہ رباشہ کے لبوں پہ اس کا قفل ابھی بھی موجود تھا ۔
اپنی پیاس بجھاتے ۔۔۔۔اس سے دور ہوا تھا ۔
میں تھک گئی ہوں !! وہ اس سے دور ہوی تھی
میں دبا دوں!!
اس کی بات سن کر رباشہ کے پورے جسم میں سرسراہٹ ہوی تھی ۔
میں کپڑے تبدیل کر آؤں ۔۔۔۔وہ جلدی سے واشروم میں گھسی تھی
آپ یہاں کیوں لیٹے ہیں؟؟ ضماہیر بیڈ پر پر سکون سا لیٹا موبائل استعمال کر رہا تھا
کیوں لیٹے ہیں کا کیا مطلب ؟؟
مطلب آپ صوفے پر ۔۔۔۔۔تم یہ کیا ٹیپیکل بیویوں کی طرح مجھے صوفے پر سلاتی ہو ۔میں بیڈ پر سوں گا آج ۔۔۔
وہ بچوں کی طرح ضد کرنے لگا
ٹھیک ہے آپ یہاں سوجائیں میں صوفے پر سوجاؤ گی ۔۔وہ ہار ماننے والے انداز میں صوفے کی جانب بڑھی تھی ۔
نہیں تم یہاں بیڈ پر سوجاؤ میں جاتا ہوں وہ اپنا تکیہ اٹھائے صوفے پر آیا تھا
جبکہ رباشہ اپنی مسکراہٹ دبائے جلدی سے پیروں تک خود کو کمبل میں چھپائے بیڈ پر لیٹی تھی
وہ کب سے رباشہ کو کمبل میں چھپا دیکھ رہا تھا کتنا بے بس تھا وہ ۔۔۔۔۔حلال رشتے کے باوجود وہ اس کی قربت کے لیے بے چین تھا۔۔۔۔اسے محبت ہونے لگی تھی اپنی بیوی سے ۔۔۔۔وہ دیوانہ ہونے لگا تھا اپنی حسینہ جانم کا ۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں یہاں صوفے پر اور تم بیڈ پر سکون سے اکیلے سو جاؤ گی ۔۔۔۔اس نے ا پنی جیب سے نقلی چھپکلی نکالی تھی جو اس نے آئیس کریم خریدتے ہوے ساتھ والی دکان سے لی تھی ۔
چلو جانم تمہیں آئس کریم دلوانے کا کچھ فائیدہ مجھے تو ہوا یہ صرف اس نے دل میں سوچا تھا ۔
جانم اب میں نہیں تم خود میرے پاس آؤ گی چھپکلی رباشہ کے اوپر پھینک کر وہ بھر پور انداز میں سونے کا ڈرامہ کرنے لگا ۔
کمبل پر کوئی چیز محسوس کر کے رباشہ نے چہرہ سے کمبل ہٹایا تھا ۔
چھپکلی چھپکلی وہ چیخیں مارتی ہوی صوفے پر ضماہیر کے پاس آئی تھی
کیا ہوا بیگم ؟؟؟ کیوں اتنی رات کو چیخیں مار رہی ہو ۔۔سونے دو سکون سے۔۔
آنکھوں پر ہاتھ ہنوز موجود تھا
اٹھیں بیڈ پر چھپکلی ہے !!
تو چھپکلی بڑی ہے یا تم
میں
پھر اتنا ڈر کیوں رہی ہو ؟؟؟
چھپکلی میں زہر ہوتا ہو وہ کاٹ لے تو بندہ مر جاتا ہے وہ ضماہیر کو بچوں والے انداز میں سمجھانے لگی
تمہیں موت سے ڈر لگتا ہے
شاید آج سے پہلے نہیں لگتا تھا !!!! مگر اب میں جینا چاہتی ہوں!! بہت لمبی زندگی !!!!!
تم ادھر سوجاؤ میرے ساتھ صوفے پر
صوفے پر وہ آنکھیں نکالے اس کی جانب دیکھنے لگی
ہاں صوفے پر
پھر آپ کہاں سوئیں گے
اسی صوفے پر جانم
آپ نیچے سوجائیں
تو کیا چھپکلی مجھے کچھ نہیں کہے گی !! زہر ہوتا ہے اس میں !! اگر مجھے کچھ ہوگیا تو اپنی اتنی لمبی زندگی کس کے ساتھ گزارو گی جانم اس کو بانہوں میں بھرے صوفے پر لایا تھا ۔۔
اس کو صوفے پر لٹائے اس پر جھکا اپنا سایہ اس پر بنا گیا ۔۔۔۔رباشہ مکمل طور پر اس کی بانہوں میں قید ہو چکی تھی
ضماہیر!!! اس نے کھینچ کر الفاظ ادا کیے تھے
جانم سوچ لو اگر چھپکلی سے بچنا ہے تو ایسے گزارا کرنا پڑے گا
آپ میری مجبوری کا فائیدہ اٹھا رہے ہیں
ایسے تو تم نزدیک آنے نہیں دیتی ۔۔۔۔۔ویسے میں بہت شکر گزار ہوں اس چھپکلی کا ۔۔۔۔۔اس کی وجہ سے تم میرے نزدیک تو آئی
اس کی گردن سے دوبٹہ سائڈ پر کرتے تل پہ جھکا تھا
دشمن !!! میرا دشمن ہے یہ گردن پہ جھکے ضماہیر نے سرگوشی کی تھی
دشمن کیسا ؟؟
یہ تمہیں محسوس کرنے سے روکتا ہے مجھے رکاوٹ بنتا ہے یہ ہمارے درمیان
ضماہیر کچھ تو خدا کا خوف کریں یہ اتنا چھوٹا ہے کہ آسانی سے نظر تک نہیں آتا
مگر یہ مجھے نظر آتا ہے !! میں اسے ختم کروں گا !!! وہ آنکھوں میں جنون لیے بھرپور شدت سے اپنا گرم لمس رباشہ کی گردن پہ چھوڑنے لگا ۔۔۔۔
ضماہیر مجھے وقت چاہیے
کیوں؟؟؟
میں ابھی آپ کو نہیں جانتی نہ آپ کے ماضی کو اور نہ ہی آپ مجھے اور میرے ماضی کو جانتے ہیں
میرا ماضی اتنا سیاہ ہے کہ میں نہیں چاہتا تم میرے حال کی دیواریں پار کرکے میرے ماضی میں داخل ہو اور تمہارا ماضی میرا نہیں خیال مجھے اسے جاننے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔وہ اس کے سارے بہانوں پر پانی پھیر گیا
ایسا کیا ہوا تھا آپ کے ساتھ ؟؟ آپ کے اور حویلی ماں کے درمیان بھی تعلقات اچھے نہیں ہیں؟؟
جانم ایسے حسین لمحات ان بے تکی باتوں میں ضائع نہیں کرتے رباشہ کے بال کان کے پیچھے اڑیس کر اس نے رباشہ کے کان کی لو کو ہلکا سا دبایا تھا
جانم تم اتنی خوبصورت ہو کہ شاید مجھے بنایا ہی تمہارے لیے گیا تھا اس کا ماتھے کو نرمی سے چھوتے اس کے لبوں پہ جھکا تھا ۔۔۔۔۔رباشہ اس کی ان میٹھی سرگوشیوں کو خاموشی سے سن رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ شخص خاص ہوتا جارہا تھا اس کے لیے ۔۔۔۔۔۔شاید وہ اس کے دل میں رہنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ اس کی قربتوں پر مزید اس کی بانہوں میں پگھل رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ بے بس ہورہی تھی اس شخص کی شدتوں کے آگے ۔۔۔۔۔۔۔۔
جانم یہاں بھی میرا دشمن ضماہیر نے رباشہ کے کندھے سے شرٹ سرکائی تھی مگر وہاں بھی اس کا دشمن موجود تھا
وہ اس تل پہ جھکا اپنے لبوں سے اس کو رگڑنے لگا
جانم اور کتنے دشمن چھپائے ہیں تم نے میرے !!!! تم تو مکمل طور پر میرے دشمنوں سے لیس ہو
