Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Deewana Tha (Episode 13)

Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal

ضماہیر کب سے تیار ہوا رباشہ کا انتظار کر رہا تھا جو شیشے کے سامنے کھڑی خود کو نکھار رہی تھی ۔

حسینہ جانم اور کتنی دیر ہے وہ وہیں بیڈ پہ بیٹھا موبائل پر نظریں جمائے اس کے انتظار میں مگن تھا ۔

بس تھوڑی سی دیر اور ! ضماہیر آپ کہاں گئے تھے رات ؟؟ رات تو اسے موقع ہی نہیں ملا تھا کہ وہ اس سے کچھ پوچھ سکے ۔

دادا سائیں کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا ہسپتال گیا تھا وہ موبائل بند کرتا مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ تھا ۔

دادا سائیں ؟؟وہ تو کبھی ان سے نہیں ملی تھی اور نہ ہی کبھی حویلی میں دیکھا تھا

ہاں وہ جرمن ہوتے ہیں اپنے دوسرے بھتیجے کے ساتھ ان کا علاج ہورہا ہے وہاں ۔ہارٹ پیشنٹ ہیں وہ

جرمن ؟؟

ہاں جرمن !

میں بھی جرمن رہ کر آئی ہوں ؟ مجھ سے تو کبھی نہیں ملے وہ

میری پاگل جان اب دادا سائیں کو تھوڑی نہ پتہ تھا ان کی بہو یہاں جرمن میں ہے انہیں ملنا چاہیے اپنی بہو سے وہ بیچارا تو اس کی عقل پہ ماتم منانے لگا

او ہاں یہ تو میں نے سوچا نہیں! رباشہ کے ہاتھ لپسٹک کی جانب بڑھے تھے

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟ آپ کو دادا سائیں کے پاس ہسپتال ہونا چاہیے

وہ حویلی آچکے ہیں ہڈی میں ہلکا سا فریکچر ہوا ہے وہ اپنے قدم آہستہ آہستہ رباشہ کی جانب بڑھانے لگا جس کے ہاتھ لپسٹک اٹھائے ہونٹوں تک پہنچنے لگے تھے ۔

حسینہ جانم ! تمہیں اس لپسٹک کی کوئی ضرورت نہیں رباشہ کے ہاتھ سے لپسٹک لے کر وہ اسے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ گیا ۔

مگر مجھے لگانی ہے سب کیا کہیں گے نئی نویلی دلہن ہے اور لپسٹک تک نہیں لگائی ؟ یہ تو اس نے ظاہری بہانہ بنایا تھا حقیقیت میں تو وہ ضماہیر کے لیے تیار ہونا چاہتی تھی کہیں نہ کہیں اس کا دل اس رشتہ کا اعتراف کر چکا تھا ۔وہ خود ضماہیر کی محبت چاہنے لگی تھی ۔

جانم میں ابھی انہیں چھو کر لال کر دیتا ہوں ! اس کے ہونٹوں پہ اپنا انگھوٹا پھیرتا وہ اسے سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اس کے لبوں پہ جھکا اس کی سانسیں منتشر کر گیا ۔

رباشہ اپنے نازک ہاتھوں سے مزاحمت کرنے لگی جس کا ضماہیر پہ کچھ زیادہ تو اثر نہیں ہوا مگر وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے گرفت میں لیے اس کی کمر کے گرد باندھ گیا ۔

جانم دیکھا کہا تھا نہ ہوگئے نہ لال؟ اپنی من مانی کرکے وہ رباشہ سے دور ہوا تھا ۔

رباشہ نظریں جھکائی زمین کو گھورنے لگی ۔

واہ حسینہ جانم ! میرا ارادہ تو صرف تمہیں لپسٹک لگانے کا تھا مگر یہاں تو تمہارے گالوں پہ بلشن بھی لگ گیا ۔

اس کے شرم سے سرخ ہوتے گالوں کو وہ اپنی انگلیوں کی پوروں سے چھونے لگا جبکہ اس کی بے باک سرگوشیاں ابھی بھی جاری تھی ۔

چلیں ! رباشہ کو اس کی بڑھتی منمانیاں روکنے کا صرف ایک یہی رستہ نظر آیا ۔

ہاں !! رباشہ کا ہاتھ تھامے وہ دروازے کی جانب بڑھنے لگا۔ رباشہ پر نظر پڑھتے ہی اس کے بڑھتے قدم رکے تھے ۔

رکو ! اس کا لہجہ تھوڑا سخت ہوا تھا

ضماہیر کے ہاتھ رباشہ کے کاندھے پہ جھولتے دوپٹے کی طرف بڑھے جو اب ضماہیر کے ہاتھ میں تھا ۔

جان اس کو ہمیشہ ایسے رکھنا دوپٹے کو صحیح طرح اس کے گرد اوڑھاتا وہ رباشہ کی دوپٹے سے باہر نکلی لٹھوں کو کان کے پیچھے اڑیسنے لگا ۔

تم میری امانت ہو میری امانت میں خیانت نہ کرنا ! حسینہ جانم

اس کا لہجہ التجا کرنے سا تھا۔

جبکہ رباشہ کی نظریں تو اس ستم گر کے چہرے پر ہی تھی وہ کتنی بے لوث محبت کرنے لگا تھا اپنی بیوی سے ۔

وہ اسے حقیقت میں اپنی بیوی کا درجہ دے چکا تھا ۔

رباشہ صرف ضماہیر کی تھی وہ اس کی تھی ۔وہ حسینہ جانم تھی ضماہیر کی ۔

رباشہ کا ہاتھ تھامے وہ آہستہ آہستہ اسے لیے سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگا ۔

کتنی خوش ہونے لگی تھی ان کی زندگی ۔وہ ایک دوسرے کے ادھورے پن کو مکمل کرنے لگے تھے ۔مگر دور کھڑی زندگی شاید ان کے لیے نیا امتحان سوچ رہی تھی ۔

وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے چہرے پہ مسکراہٹ سجائے سیڑھیوں سے نیچے آچکے تھے ۔

یہ کیسے رنگ کا لباس ہے ؟

وہ اس کے کالے رنگ کی قمیض شلوار پہ چوٹ کرنے لگی ؟ جبکہ ضماہیر حویلی ماں کے چہرے کو تکنے لگا جو اس کی بیوی سے عجیب سوال کر رہی تھی ۔

شادی کے بعد لڑکیاں اس رنگ کے کپڑے نہیں پہنتی ! وہ غصے سے رباشہ کے سامنے آ کھڑی ہوی تھی ۔

مجھے کالا رنگ پسند ہے اپنی بیوی پہ اور وہ وہی پہنے گی جو مجھے پسند ہے وہ رباشہ کا ہاتھ کھینچ کر اسے اپنے پیچھے چھپا گیا ۔

رباشہ ایک دفعہ پھر اس شخص کی محبت کی قائل ہوی تھی جو اس کی عزت کی خاطر اپنی پسند تک بدل چکا تھا ۔

کیا ہوا ؟ کیا ہو رہا ہے یہاں ؟ دادا سائیں دانیال کا سہارا لیے ڈائنگ ٹیبل کی جانب بڑھ رہے تھے ۔

رباشہ کی پیٹھ ان کی جانب تھی اس لیے وہ دانیال اور دادا سائیں کا چہرہ نہیں دیکھ سکی تھی ۔

ضماہیر رباشہ کا ہاتھ پکڑے اسے دادا سائیں کے پاس لانے لگا ۔

جونہی رباشہ ان کی جانب پلٹی تھی مانو اس کے جسم سے روح پرواز کر گئی ۔اس کی سانسیں ہوا ہونے لگی تھی ۔

دانیال کو وہاں دیکھ کر اس کے سر پر آسمان آگرا تھا ۔

دانیال !! وہ خوف سے کانپنے لگی ۔ دانیال جو دادا سائیں کو کرسی پہ بٹھائے موبائل پہ کسی کام میں مصروف ہوا تھا اپنے بلکل نزدیک کسی عورت کا وجود پاکر نظریں اٹھائے اسے دیکھنے لگا ۔

رباشہ !! اس کی حالت بھی رباشہ سے کسی حال کم نہ تھی ۔

رباشہ وہ رباشہ کا نام ادا کر چکا تھا

جبکہ رباشہ اس کے منہ سے اپنا نام سن کر مزید خوفزدہ ہوگئی تھی اسے ڈر محسوس ہونے لگا تھا دانیال سے ۔۔۔اگر دانیال نے سب کچھ ضماہیر کو بتادیا تو یہ سوچ ہی بار بار اس کی روح پہ وار کر رہی تھی

رباشہ ! تم کیسے جانتے ہو اسے حویلی ماں اور وہاں موجود سب لوگ دانیال کے منہ سے رباشہ کا نام سن کر اسے حیران کن نظروں سے دیکھنے لگے ۔

یونیورسٹی میں میری جونئیر تھی یہ !

یہ نہیں بھابھی بولو ! ضماہیر کو تو ویسے ہی دانیال سے الجھن تھی مگر اب رباشہ کے متعلق اس کے منہ سے سن کر تو اسے غصہ ہی آنے لگا تھا

سوری بھابھی! ضماہیر سے پہلے تو رباشہ اس کا حصہ تھی مگر آج بھابھی !

مبارک ہو شادی دانیال نے ضماہیر کو مبارکباد دینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا جسے اگنور کرتا ضماہیر ،رباشہ کے ہاتھ کو مزید مضبوطی سے تھامے کرسی پر اپنے ساتھ بٹھا گیا ۔

دانیال وہ تو اپنی تباہی پہ ماتم بھی نہ کرسکا ! اس کی محبت نے دغا کی تھی اس سے ! کیا یہ تھی محبت ؟ وہ خود کے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے لگا ۔

بار بار اس کی نگاہیں رباشہ کی جانب اٹھ رہی تھی جسے ضماہیر اچھے سے دیکھ چکا تھا

حسینہ جانم ! اپنی پلیٹ سے نوالا بنائے وہ رباشہ کی جانب ہاتھ بڑھا گیا

خوف سے سہمتی رباشہ نے جلدی سے وہ نوالا منہ میں ڈالا تھا وہ کھونا نہیں چاہتی تھی ضماہیر کو ! دانیال اس کی محبت تھا مگر ضماہیر وہ شوہر ہے اس کا ۔شوہر سے غداری تو خدا بھی معاف نہیں کرتا

ضماہیر اب رباشہ کو اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کروانے لگا شاید اس کا ارادہ دانیال پہ اپنا رشتہ واضح کرنے کا تھا وہ اسے دیکھانا چاہتا تھا کہ رباشہ اس کی بیوی ہے ۔ ابھی تو وہ مکمل حقیقت سے بھی ناآشنا تھا ! دانیال کا رباشہ کو دیکھنا ہی اس کو اندر تک جلا گیا تھا مگر جب اسے حقیقت پتہ چلے گی تو ! رباشہ یہ سوچ کر ہی خوف میں ڈوبنے لگی تھی ۔

بھائی ! دروازے پہ کھڑی وشمہ نے دور سے ہی ضماہیر کو آواز لگائی تھی

وشمہ ! اپنی بہن کی آواز سن کر اس کا چہرہ ایک دم خوشی سے کھل اٹھا تھا وہ جلدی سے حویلی کے دروازے کی جانب مڑا تھا ۔

وشمہ ضماہیر نے بھاگ کر اسے گلے لگایا تھا ۔میری بچی ۔

بیٹی جیسی ہی تو تھی وہ اس کے لیے ماں باپ کے جانے کے بعد ضماہیر نے اسے ماں باپ کی طرح ہی تو پالا تھا ۔ ضماہیر اس کا باپ ،اس کی ماں ،اس کا بھائی ،اس کا دوست المختصر اس کی کل کائنات تھا ۔

اپنی بھائی کے سینے سے لگی وہ اپنے آنسوؤں سے اس کی شرٹ بھگونے لگی ۔

بس بس پگلی اپنے بھائی کو اپنے آنسوؤں کے سمندر میں ڈوبانے کا ارادہ ہے کیا ۔

بھائی وہ میٹھے لہجے میں بھائی کو پکارتی اس سے دور ہوی تھی

گڑیا بتایا بھی نہیں آنے کا میں ائیرپورٹ آجاتا لینے کے لیے ۔

سرپرائز پھر کیسے ہوتا ؟

ہمم اب میری چڑیا اتنی بڑی ہوگئی کہ وہ بھائی کو سرپرائز دے گی ناٹ بیڈ !!!!!

وشمہ ضماہیر سے مل کر باقی سب سے ملنے لگی تھی

تم لیٹ نہیں ہوگئی بچے ؟ حویلی ماں نے گلے لگاتے ہی اس سے پوچھا تھا ڈرائیور دس بجے کا گیا ہوا تھا ائیرپورٹ۔

ہم تو کب سے پہنچ گئے تھے مگر آپ کی مناہل اسے شاپنگ کرنی تھی وہ چہرے کا نقشہ بگاڑے رباشہ کے سامنے آئی تھی ۔

آپ ؟ وہ اسے پہچاننے کی تگ ودو میں لگی تھی رباشہ تو خود اس حالت میں نہیں تھی کہ وہ اس سے اپنا تعارف کروا سکے

تمہاری بھابھی !

بھابھی بھائی آپ نے شادی کرلی ۔اب میں آپ کے لیے اتنی اہمیت بھی نہیں رکھتی کیا جو آپ نے مجھے اس بارے میں بتانا تک گوارا نہیں کیا

اتنی دور تو نہیں تھی میں ؟

نہیں نہیں بچے مجھے موقع نہیں ملا شادی بہت جلدی میں ہوی تھی ۔

ہمم اچھا چلو مگر اس کی سزا ملے گی آپ کو!

اسلام وعلیکم! دانیال کے سامنے آتے ہی وشمہ کی زبان کو بریک لگی تھی۔

وعلیکم اسلام !

آپ کب آئے ؟ دانیال

تمہارا مسلہ نہیں وہ پہلے ہی رباشہ کی وجہ سے غصے میں تھا اور اب وشمہ وہ اس کے سوال کا جواب دیے بغیر اوپر کمرے میں چلا گیا ۔

وشمہ تو پریشان سی یہی سوچنے لگی کہ ایسا مشکل سوال تو اس نے نہیں کیا جس کا جواب دانیال نہ دے سکے وہ واپس پلٹ کر رباشہ کے پاس آئی تھی ۔

بھابھی ویسے آپ ہیں بہت کیوٹ ! وہ رباشہ کے گالوں کو اپنے ہاتھوں سے کھینچنے لگی وہ چاہے تئیس سال کی تھی مگر عقل سے وہ ابھی بھی بچی تھی ۔

اس کا بچپنہ بلکل ایک بارہ سال کے بچے جیسا تھا ۔

بیوی ہے میری کوئی ٹیڈی بیئر نہیں ضماہیر نے جلدی سے وشمہ کے ہاتھ رباشہ کے گالوں سے ہٹھائے تھے۔

بھائی آپ تو بہت جلتے ہیں ! دیہان رکھنا کہیں آپ کا خون ہی ختم ہو جائے جل جل کے ۔

بیوی ! مناہل جو شاپنگ بیگ سنبھالے حویلی میں داخل ہوی تھی بیوی سن کر دروازے سے ہی چلائی تھی ۔

یہ میرا گھر ہے یہاں اونچا بولنے کی اجازت کسی کو نہیں ؟ ضماہیر سخت آواز میں دھاڑا تھا

بیوی تم نے شادی کرلی

مناہل ضماہیر کے سامنے آ کھڑی ہوی تھی

ہاں کیوں ؟ نہیں کرنی چاہیے تھی ؟

تم تو مجھ سے محبت کرتے تھے نہ ؟

میں نے ایسا کبھی نہیں کہا!

مگر تم تو جانتے تھے میں تم سے منسلک ہوں ؟ اس کا لہجہ بلند ہونے لگا تھا

یہ تم نے اپنے دماغ میں عکس بنایا ہو اتھا ورنہ ایسا کبھی کسی نے نہیں چاہا

پھوپھو سن رہی ہیں آپ ؟ آپ کی بات کا کوئی درجہ نہیں اس حویلی میں ۔

وہ اپنی باتوں کے تیر حویلی ماں پہ چلانے لگی تھی

میں کسی کے فیصلوں کا قائل نہیں ۔میری شادی ہوچکی ہے رباشہ میری بیوی ہے رباشہ کا ہاتھ تھامے وہ اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے جانے لگا ۔

چلو بیوی! جب یہ ڈرامہ ختم ہو جائے ہمیں مت بولائے گا آپ جانتے تو ہیں نہ نئی نئی شادی ہوی ہے میاں بیوی کو پرائیویسی چاہیے ہوتی ہے مناہل کے اندر لگی آگ پہ مزید آگ ڈالتا وہ

رباشہ کو مزید خود سے لگائے کمرے میں لے گیا ۔

دادا سائیں یہ سب کیا ہے ؟ آپ کیوں چپ ہیں مناہل اب دادا سائیں کے پاس آئی تھی جو اس معاملے کی سمجھ بوجھ نہ رکھنے کی وجہ سے اس سب میں خاموش تھے ۔

ہم کیا کہیں ؟ یہاں سب خود مختار ہیں وہ وشمہ کا سہارا لیے وہاں سے اٹھ کر حویلی سے باہر لان میں جانے لگے ۔

تم دور رہنا اس دانیال سے !

کمرے میں داخل ہوتے ہی ضماہیر اسے واشروم میں لاکر شاور کے نیچے کھڑا کر گیا

وہ مجھے بلکل پسند نہیں جو مجھے پسند نہیں وہ تمہیں پسند نہیں یاد رکھنا ۔

کیسی نظروں سے دیکھ رہا تھا وہ تمہیں ؟ وہ پاگلوں کی طرح شاور کی سپیڈ تیز کیے اسے مزید نیچے کرگیا

یہ کیا کر رہے ہیں آپ ؟ مجھے سردی لگ رہی ہے پانی بہت ٹھنڈا ہے ضماہیر کے کالر کو اپنے ہاتھوں سے تھامے وہ اس کے مزید نزدیک ہونے لگی ۔

اس آدمی کی نگاہیں مٹا رہا ہوں مجھے بلکل منظور نہیں کوئی میری عزت پہ نظر رکھے ۔۔۔۔وہ رباشہ کے چہرے پہ ہاتھ پھیرنے لگا گویا دانیال کی نظروں کا عکس ختم کرنا چاہتا ہو۔

تم بس دور رہنا اس آدمی سے حسینہ جانم !

رباشہ تو اس کی شدت پسندی پہ ہی خوف سے تھر تھر کانپنے لگی ابھی تو ضماہیر اس کے اور دانیال کے رشتے سے ہی واقف نہیں تھا اگر ضماہیر کو سب معلوم ہوگیا تو !! وہ تو اسی خوف سے لرزنے لگی

نہیں مجھے ضماہیر کو اپنا قائل کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔میں نہیں چھوڑ سکتی انہیں ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *