Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Deewana Tha (Episode 19)

Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal

رباشہ کمرے میں آکر اس کی پسند کا ڈریس دیکھنے لگی مگر الماری کھولتے ہی اس کی اچانک ہنسی چھوٹی تھی ۔

الماری میں تو سارے ہی اس کی پسند کے کپڑے تھے بلکل یونیفارم کی طرح سب کا رنگ سرخ تھا ۔

اب میں کونسا پہنوں؟ وہ کنفیوز ہوگئی تھی ان سب کو دیکھ کر ۔

ہاتھ بڑھا کر اس نے ایک فراق نکالی تھی جو اس کے پاؤں کو چھوتی تھی ۔

فراک پہن کر اس نے ہلکا سا میک اپ کیا اور کھانا لگانے کے لیے کچن میں آگئی ۔

مناہل اسے دیکھ کر کڑھنے لگی گی مگر اسے ضماہیر کے آنے کا انتظار تھا ۔

کیا ہوا ؟ کہاں ہے لڑکی تم لوگوں سے یہ لڑکیاں نہیں سنبھالی جاتی میں نے یہ کوٹھا کس لیے بنوایا ہے تاکہ تم ان لڑکیوں کو اٹھا کر یہاں لے آؤ جو اپنے ماں باپ کی عزت خراب کرتی ہیں اور تم لوگ تم سے یہ سنبھالی نہیں جارہی ۔

سردار صاحب ہمیں نہیں پتا وہ کیسے بھاگ نکلی ۔ہم نے بہت ڈھونڈا مگر وہ نہیں مل رہی ۔

چہرے کو رومال کے پیچھے ڈھکے وہ کوٹھے کے بڑے کمرے میں داخل ہوا تھا جہاں کوٹھے میں موجود ساری لڑکیاں ایک جگہ جمع تھی ۔

وہ ان سب لڑکیوں سے نظریں ہٹائے اپنی مخصوص چال چلتا ایک بڑے صوفے پر آبیٹھا تھا ۔

کیا مسلہ ہے تم لڑکیوں کے ساتھ ؟

کیا یہاں کوٹھے پہ تمہاری عزت محفوظ نہیں خیر تم لوگوں کو کہاں عزت کی پرواہ تم تو بڑی خوشی سے اپنے گھروں کو چھوڑ کے لڑکوں کے ساتھ بھاگ جاتی ہو ۔

اس کا لہجہ بہت سخت تھا ۔

آج سے پورے گاؤں میں مشہور کروا دو کہ یہ کوٹھا ہے اور اگر کوئی آدمی یہاں آئے تو اس کا قتل کر دو ۔

مگر سردار صاحب!

اگر مگر کچھ نہیں!!! جتنا کہا ہے وہ کرنا یہ جو لوگ کوٹھوں پہ آتے ہیں نیک پارسا نہیں ہوتے ۔۔۔اپنی بیویوں کو چھوڑ کے حوس پوری کرنے کوٹھوں کا رخ کرتے ہیں ذلیل لوگ۔

اور تم لڑکیوں اگر تم میں سے اب کسی نے بھاگنے کی کوشش کی تو تم سب کو اس دنیا سے میں خود ہی مٹادوں گا ۔

اس کا غصہ کسی طرح کم نہیں ہورہا تھا ۔

جب سے وہ ایک لڑکی کی وجہ سے جیل گیا تھا تب سے اس نے عہد کیا تھا کہ وہ ایسی لڑکیوں کا جینا عزاب کردے گا جو اپنے ماں باپ کی عزتیں پاؤں میں روندھ کر انھیں سسکنے کے لیے چھوڑ جاتی ہیں ۔

اس نے محسوس کیا تھا یہ درد ۔۔۔کسی کے دور ہونے کا درد ۔۔۔وہ بھی تو اپنی لٹل فیری کو کھو چکا تھا ۔

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ لڑکیاں کیا اتنی سخت جان ہوتی ہیں کہ بڑی بہادری سے گھروں کو چھوڑ کے نکل جاتی ہیں انہیں تو خدا نے صنف نازک بنایا ہے ۔گھروں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے ان لڑکیوں کو ۔۔۔اور یہ اپنے ہی محافظ کو اپنی عزت کا لٹیرا بنادیتی ہیں ۔

وہ بھی تو پانچ سال پہلے ایک ایسے ہی گناہ کی سزا کاٹ کر آیا تھا جو اس نے کیا بھی نہیں تھا ۔

ضماہیر حویلی میں داخل ہوتے ہی اپنا کوٹ بازو پہ ڈالے شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھولے سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔

اس کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہورہا تھا ۔

حسینہ جانم رباشہ کو کمرے میں موجود نہ پا کر اس کا پارہ مزید ہائی ہو اتھا وہ پہلے ہی غصے میں تھا اور اب اس کی حسینہ جانم اس کا سکون کمرے میں موجود نہیں تھی ۔

ضماہیر کی سخت آواز سن کر رباشہ کہ ہمت ہوا ہوی تھی ۔

جججی!! جی

کیا کر رہی ہوں یہاں میں نے کہا ہے نہ جب میں گھر میں ہوں تو تم کمرے سے باہر نہیں نکلو گی میرے پاس رہو گی وہ کچن میں اس کے سر پہ پہنچا تھا ۔

مجھے پتا نہیں تھا آپ آگئے ہیں ۔

چلو اب پتہ چلا گیا ہے نہ اب چلو کمرے میں ۔

میں نے آپ کے لیے بریانی بنائی ہے ۔

میرا موڈ نہیں ہے بریانی کھانے کا مجھے بریانی کی نہیں کسی اور چیز کی بھوک ہے ۔

میں نے بہت پیار سے بنائی ہے اس کا چہرہ ایک دم مرجھایا تھا ۔

اچھا چلو میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں تم تب تک ٹیبل پہ لگاؤ ۔

وہ ہاتھ دھو کر بریانی پلیٹ میں ڈالنے لگا ۔

تم نہیں کھاؤ گی ۔

نہیں پہلے آپ کھائیں ۔

ضماہیر نے جونہی بریانی کا ایک چمچ لیا اس کے پورے منہ میں نمک پھیل گیا ۔ اسکے منہ کا ذائقہ یک دم تبدیل ہوا تھا ۔

رباشہ کہ چہرے پہ پھیلی مسکراہٹ شاید اس نمک کے ذائقہ پہ حاوی تھی جس وجہ سے وہ بریانی کی پوری پلیٹ صاف کر گیا ۔

کیسی بنی ہے

بہت لذیز ۔

اب تحفہ دیں میرا اس نے جلدی سے ہاتھ آگے بڑھایا تھا ۔

تحفہ کیسا ؟

جب بیوی پہلی دفعہ اپنے شوہر کے لیے کچھ بناتی ہے تو شوہر کو اس کے بدلے میں تحفہ دینا پڑتا ہے چور شوہر جی !

اف جانم کمرے میں چلو بہت سے تحفے دوں گا ۔

فلحال تو اس کے منہ کا ذائقہ ہی اتنا خراب تھا مگر وہ رباشہ کو نہیں کہہ سکتا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ رباشہ کی مسکراہٹ ختم ہو ۔

اچھا میں کھانا کھا لوں ۔

نہیں حسینہ جانم تم کیا کرو گی کھا کر یہ بریانی تو ساری میری ہے ۔

اس نے جلدی سے بریانی کی پلیٹ کو رباشہ سے دور کیا تھا ۔

مناہل دور کھڑی انتظار کر رہی تھی کہ کب رباشہ کی جان نکالے گا ضماہیر ان دونوں کو ہنستا دیکھ وہ حیران ہونے لگی ۔

ضماہیر ایسے کیسے اتنے نمک والی بریانی کھا سکتا ہے ۔

کہیں اس نے کچھ کر تو نہیں دیا ۔یا کہیں نئی بریانی تو نہیں بنالی ۔

وہ سوچتی ان دونوں کے پاس آئی تھی ۔

دکھانا مجھے میں بھی تو کھا کر دیکھو کیسی بریانی بنائی ہے تمہاری بیوی نے ۔

ایک چمچ بریانی کا لیتے ہی اس نے فوراً سے اسے منہ سے باہر نکالا تھا ۔

اتنا نمک ! کوئی کیسے کھاسکتا ہے یہ

کسی کے کھانے کے لیے بنایا بھی نہیں میری بیوی نے اس نے یہ کھانا میرے لیے بنایا ہے جس کو مسئلہ ہے وہ نہ کھائے ۔

مناہل کے ہاتھ سے بریانی کی پلیٹ لیتا وہ اسے ٹیبل پر رکھ گیا ۔

ضماہیر اس میں تو بہت نمک ہے رباشہ نے جونہی ایک نوالا لیا تھا وہ نگلنا ہی اس کے لیے مشکل ہوگیا تھا جبکہ ضماہیر تو اس کے سامنے پوری پلیٹ کھا گیا تھا ۔

جانم چلو کمرے میں نمک ختم کرتے ہیں رباشہ کا ہاتھ پکڑے وہ اسے کمرے کی جانب لے جانے لگا ۔

اوہ ہاں مناہل اگلی دفعہ نمک ڈالو تو زرا ایسا کرنا دو پیکٹ ڈالنا اتنا کم نمک مجھے اچھا نہیں لگتا ۔

مناہل کے منہ پہ بات مارتا وہ رباشہ کو لیے اپنے کمرے کی طرف مڑ گیا ۔

مناہل پیچھے حیران پریشان سی یہ سوچنے لگی کہ اسے کیسے پتہ چلا نمک میں نے ڈالا تھا ۔

آپ کو مجھ سے شادی کرنی ہے ؟

وشمہ دانیال کے پاس کمرے میں آئی تھی جو کرسی پہ بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا ۔

یہ کیا بد تمیزی ہے رات کو کسی کے کمرے میں نہیں آتے خاص طور پر ایک لڑکے کے وہ دھاڑا تھا ۔

میں نے آپ سے ایک سوال کیا ہے مجھے جواب چاہیے اس کا ؟وشمہ بلکل دروازے کے ساتھ جڑی کھڑی تھی ۔

نہیں!

تو پھر مجھے اپنی منگیتر کیوں کہا تھا ؟

مجھے نہیں پتا وہ بلکل خاموش ہوا تھا ۔

اگر آپ کے دل میں کسی اور لڑکی کے لیے جزبات ہیں تو آپ مجھے بتادیں ۔

میں کسی کا حق چھیننے کی قائل نہیں اور اپنے حق لینے سے پیچھے نہیں ہٹتی ۔

دانیال کے گلے میں گلٹی ابھری تھی نہ تو وہ خود کو اس لڑکی سے دور کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی اسے اپنانا چاہتا تھا ۔

اگر میں نے تم سے شادی کر لی تو میرا نہیں خیال کے تم اور میں ایک ساتھ خوش رہ سکیں گے ۔

اگر آپ کی اور میری شادی ہوگئی تو مجھے پورا یقین ہے میں آپ کو خود سے محبت کرنے کے لیے مجبور کردوں گی اس کی آنکھوں میں اپنی بات کی سچائی تھی ۔

میں نے ہمیشہ آپ سے محبت کی ہے بچپن میں،میں اپنے ان جزبات کو نہیں سمجھ سکتی تھی مگر اب میں جانتی ہوں یہ محبت ہے ۔

میں ایک کھوکھلا انسان ہوں مجھ سے جڑنے سے تمہاری زندگی برباد ہو جائے گی ۔

ہر کھوکھلی چیز کو بھر دیا جاتا ہے میں آپ کے ادھورے پن کو مکمل کردوں گی ۔

تمہیں جانا چاہیے ؟ وہ اسے پکڑ کر کمرے سے باہر نکال گیا ۔

یہ سب کیا ہورہا ہے میرے ساتھ میں کیوں اس لڑکی کی جانب کھینچا چلا جا رہا ہوں وہ پیچھے سگریٹ سلگاتا صوفے پر بیٹھ گیا ۔

حسینہ جانم اب زرا کچھ میٹھا بھی کھلا دو قسم سے اتنا نمک تھا میرا تو بی پی ہائی ہوگیا ہے ۔

آپ کو کس نے کہا تھا وہ اتنی نمک والی بریانی کھائیں

میں لاتی ہوں کچھ ۔۔۔وہ کمرے سے باہر جانے لگی تھی ۔

نہیں حسینہ جانم کچھ لانے کی ضرورت نہیں تمہارے یہ لب ہیں نہ میٹھے میٹھے رباشہ کے لبوں پہ جھکا وہ اپنے اندر موجود نمک کے زایقے کو کم کرنے لگا ۔

آپ جب ایسا کرتے ہیں تو مجھے بہت درد ہوتا ہے ۔

ضماہیر کے دور ہوتے ہی رباشہ نے اس سے شکوہ کیا تھا ۔

ایسا کیسا ؟

جب آپ ایسے مجھے ۔۔۔میرے لبوں پہ ۔۔۔۔میرے کاندھے پہ وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کر رہی تھی ۔

حسینہ جانم جب تک مجھے یہ درد محسوس نہیں ہوگا مجھے کیسے پتا چلے گا کہ تمہیں کتنا درد ہوتا ہے وہ رباشہ کی بات کو مکمل سمجھ چکا تھا مگر انداز ابھی بھی سیریس تھا ۔

رباشہ نے ضماہیر کی شرٹ کے بٹن کھولے اور اس کے کاندھے پہ اپنے دانت گاڑھ دیے۔

آہ جنگلی بلی !!!درد کے مارے ضماہیر کے منہ سے آہ نکلی تھی ۔

اب پتہ چلا رباشہ دانت دکھاتی اس سے استفسار کرنے لگی ۔

وہ اونچا ہوتی ضماہیر کے لبوں کو بھی اپنے لبوں کی دسترس میں لے گئی اور وہاں بھی اپنے دانتوں سے ہلکا سا زخم لگا گئی۔

جانم اب میری باری رباشہ کے بالوں میں انگلیاں پھنسائے ضماہیر اس کو مزید نزدیک کرتا رباشہ پہ اپنی گرفت مزید سخت کرگیا

۔

حسینہ جانم ویسے تمہیں کس کرنی نہیں آتی ۔اب سے تم روز مجھے دن میں پچاس دفعہ کس کرو گی رباشہ کے لبوں سے اپنی پیاس بجھائے وہ اس سے دور ہو اتھا ۔

نہیں میں ایسا نہیں کر سکتی اوپس بلکہ مجھے ایک کام یاد آیا ۔

میں ابھی آئی ضماہیر سے دور ہوتے وہ کمرے سے باہر بھاگی تھی ۔

آپ میرے پیچھے نہیں آئیں گے دروازے کے باہر سے ہی اس نے آواز لگائی تھی ۔

وشمہ کے دروازے پہ پہنچ کہ اس نے سانس خارج کیا جبکہ جلدی سے دروازہ بجاتی وہ اندر داخل ہوی تھی ۔

بھابھی آپ یہاں ؟سب خیریت ہے ؟

تمہیں میرا ایک کام کرنا ہوگا وہ وشمہ کے ساتھ بیٹھتی اسے اپنا خطرناک پلین بتانے لگی ۔

واہ زبردست بھابھی کیا آئیڈیا سوچا ہے آپ نے ۔

میں زرا اپنے شوہر کو بلا لوں آخر ان کی بھی تو مدد چاہیے ہوگی نہ رباشہ کمرے سے نکلتی ضماہیر کے پاس آئی تھی اور اسے کمرے سے باہر لاتے بلکل سیڑھیوں کے سامنے کھڑا کرگئی ۔

کیاکر رہی ہو حسینہ جانم!

آپ دو منٹ چپ نہیں ہوسکتے

رباشہ کی بات سنتا ضماہیر بلکل خاموش ہوا تھا ۔

ضماہیر آپ یہ کیا کر رہے ہیں کوئی دیکھ لے گا ضماہیر کے دونوں ہاتھ اپنی کمرے کے گرد باندھتے رباشہ نے تھوڑی اونچی آواز میں بولنا شروع کیا تھا ۔

جبکہ ضماہیر تو اسی حیرت میں ڈوبا تھا کہ اس کی حسینہ جانم کیا کر رہی ہے ۔

مناہل جو نیچے کچن میں تھی ان دونوں کی آواز سنتے سیڑھیوں کے پیچھے چھپتی انہیں دیکھنے لگی ۔

چور شوہر جی !! رباشہ نے زرا سرگوشیانہ انداز میں کہا تھا اپنی حسینہ جانم کا ساتھ دینا زرا ۔

ضماہیر بھی اپنا گھیرا رباشہ کے گرد تنگ کر گیا ۔

جانم اب تمہیں کھلے عام رومینس کرنے کا اتنا شوق ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں ہم تو ہیں ہی بیچارے تمہاری ایک ایک اد اپر جان نکلتی ہے ہماری ۔

رباشہ کو کمر سے کھینچے وہ اپنے ساتھ لگائے اس کی پیشانی کو ہولے ہولے لبوں سے چھونے لگا ۔

رباشہ نے ضماہیر سے نظریں ہٹائے مناہل کے کمرے کی جانب دیکھا تھا جہاں کچھ دیر پہلے وشمہ گئی تھی ۔

اتنا بڑا کام تو نہیں تھا اچھا شاید دیر لگ رہی ہوگی وہ خاموش سی سوچنے لگی ۔

مناہل رباشہ اور ضماہیر کو کھڑا دیکھ کر ان کے پاس پہنچی تھی ۔

تم لوگوں کو شرم نہیں آتی ایسے حویلی میں بے حیائی پھیلاتے ہوے ۔

شرم !! کہاں سے ملتی ہے ؟حسینہ جانم تمہیں پتا ہے وہ کیا چیز ہے ۔

نہیں شوہر جی مجھے تو نہیں پتا معصوم چہرہ بنائے اس نے اپنے شوہر کی نہ میں نہ ملائی تھی ۔

ویسے مس چمکادڑ پتا تو آپ کو بھی نہیں ہے شرم کیا ہوتی ہے ۔اگر پتا ہوتا تو ایسے دو میاں بیوی جب رومینس کر رہے ہوں تو ان کے درمیان نہیں آتے رباشہ کہاں مناہل کی مداخلت برداشت کر سکتی تھی ۔

ضماہیر اس لڑکی کی تو سمجھ آتی ہے یہ پاگل ہے اور تم !!

او ہیلو مس میک اپ کی دکان !!پاگل کس کو بولا اپنی شکل تو کہیں شیشے میں نہیں دیکھ لی تم نے ۔

بدتمیز لڑکی!! اس سے پہلے مناہل کا ہاتھ رباشہ کے گال تک پہنچتا ضماہیر اسے پکڑ کر واپس پیچھے پھینک گیا ۔

میری بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت کسی کو نہیں خود ضماہیر گوندل کو بھی نہیں اگر اگلی دفعہ یہ گناہ کیا تو گناہ کا کفارہ ادا کرنا ہوگا تمہیں ۔

یہ حویلی ہے یہاں سرعام جو تم کرتے ہو وہ گناہ نہیں ؟

کیا کرتا ہوں سرعام ۔تمہیں چپکتا ہوں نہیں نا ۔بیوی ہے میری چاہے میں سات پردوں کو ہٹا کر کچھ کروں یا سات پردے ڈال کر میرے پاس قانونی سرٹیفکیٹ ہے ۔

جس کو اس سب سے مسلہ ہے وہ اس گھر سے چلا جائے میں نے کسی کے پیر نہیں پکڑے ۔

وشمہ مناہل کے کمرے سے نکلتی اپنے کمرے میں چلی گئی جسے مناہل تو نہیں دیکھ سکی البتہ رباشہ نے دیکھ لیا تھا ۔

شوہر جی آپ چھوڑیں یہ اس جیسی آنٹیاں اپنے چہرے پر ڈھائی کلو میک اپ لگا کے دوسروں کے شوہروں کو چپکتی ہیں چمکادڑ کی طرح مناہل کو جلاتی وہ ضماہیر کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے کمرے میں لے آئی تھی ۔

جب کہ ضماہیر تو مناہل کی حالت پہ ہی ترس کھا کر رہ گیا اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کی بیوی اس کی حسینہ جانم اس قدر جھگڑالو ہے ۔

حسینہ جانم تم تو بلکل جنگلی بلی کی طرح لڑتی ہو ۔

اب آپ میرا مزاق نہ بنائیں

نہیں نہیں میں کہاں مزاق بنا رہا ہوں میں تو تعریف کر رہا ہوں اپنی جان کی ۔

اب کیا کروں شوہر کو تو اپنی فکر نہیں ہے مگر میں تو اپنا شوہر نہیں کھو سکتی نہ کیا پتا کل کو میرے سر پہ سوتن لے آئیں ۔

یہ ضماہیر مر جائے گا مگر ہمیشہ تمہارے رہے گا حسینہ جانم ۔

یہ بتاو کونسا کارنامہ سر انجام دیا ہے تم دونوں نے مل کر رباشہ کو اپنے سینے سے لگائے وہ اس سے استفسار کرنے لگا ۔ ضماہیر کی گرم سانسیں رباشہ کے کانوں کو چھوتے اسے لرزنے پہ مجبور کر گئی۔

وہ تو آپ کو صبح پتا ہی چل جائے گا چور شوہر جی ۔

ویسے آپ کی وہ پورانی محبوبہ کہیں غم کے مارے خود کشی ہی نہ کر لے ۔

جانم تم یہ اتنے نام اس بیچاری کے لیے کہاں سے لاتی ہوں ۔

بیچاری ہمم آئی بڑی بیچاری کچھ زیادہ افسوس نہیں ہورہا آپ کو ۔

ہاں تو ہوگا نہ آخر میری پورانی محبوبہ جو تھی ۔

ضماہیر کھینچ کر ادا کرتی وہ ضماہیر کو گھورنے لگی تھی ۔

جانم !!! میں بے قرار ہوں سکون دو مجھے رباشہ کو بانہوں میں بھرے وہ اسے بیڈ پہ لایا تھا ۔

چور شوہر جی جب آپ ایسی باتیں کرتے ہیں تو بلکل دیوانہ لگتے ہیں ۔

جانم دیوانہ ہی تو کردیا ہے تم نے ۔

تمہاری یہ زلفیں ۔۔۔ان کی خوشبو مجھے اپنی جانب کھینچتی ہے رباشہ پہ جھکا اس کی خوشبو کو وہ اپنے اندد سمیٹنے لگا ۔

تمہارے یہ لب ۔۔۔۔ان کی نرماہٹ مجھے بیچین کرتی ہے رباشہ کے لبوں پہ انگھوٹا پھیرتا وہ ان پہ جھکا ان کی نرماہٹ محسوس کرنے لگا ۔

تمہاری یہ سنہری آنکھیں ۔۔ان میں ابھرتا پانی مجھے کسی گہری کھائی کی طرح اپنے اندر کھینچتا ہے اس کی آنکھوں پہ جھکا وہ باری باری ان کو اپنے لبوں سے چھونے لگا ۔

رباشہ کی آنکھوں سے ایک آنسو اس کے گالوں پہ پہنچا تھا جسے ضماہیر اپنے لبوں سے چن گیا ۔

میری پناہوں میں آنسو نہ بہایا کرو جانم تمہارے ایک آنسو کی قیمت میرے پورے جسم کا خون بھی ادا نہیں کرسکتا ۔

تم مجھے بہت عزیز ہو ۔

میں تمہارے لیے یہ پوری دنیا چھوڑ سکتا ہوں جانم مگر تم اس دنیا کے لیے مجھے کبھی نہ چھوڑنا رباشہ کو اپنے سینے سے لگائے وہ اس سے اپنا حال بیان کر رہا تھا ۔

آپ میری ایک بات مانیں گے ۔

تم کچھ حکم کرو اور میں نہ مانو ایسا کبھی نہیں ہوگا ۔

مجھے کل گھر لے جائیے گا پلیز

یہ پلیز کیا ہے شوہر سے التجا نہیں کی جاتی ۔

میرے چور شوہر جی کل مجھے گھر لے کر جانا ہے آپ نے ۔

رباشہ کی بدلتی ٹون پہ ضماہیر کی ہنسی چھوٹی تھی ۔کتنے دن رہو گی اپنے میکہ میں ۔

ایک ہفتہ !!

کیا ایک ہفتہ ؟ اب میں کیا ایک ہفتے اپنے سسرال میں پڑا اچھا لگوں گا کیا جانم ۔

تو آپ کو کس نے کہا آپ رہیں آپ واپس آجانا ۔

تمہارے بغیر یہ بیڈ بھی مجھے سکون نہیں دے گا حسینہ جانم ۔شام کو میں ساتھ واپس لاؤ گا اپنے ۔

جی ٹھیک ہے ۔وہ جانتی تھی اس شخص سے ضد کرنا مطلب کل گھر نہ جانا تھا ۔

آپ کبھی مجھے چھوڑیں گے تو نہیں جب سے مناہل واپس آئی تھی رباشہ کو صرف ضماہیر کو کھونے کا ڈر لگا تھا ۔

روح کے بغیر جسم مردہ کہلاتا ہے حسینہ جانم اور مردہ جسم دفنا دیا کرتے ہیں ۔

رباشہ پہ اپنی محبت ظاہر کرتا وہ اس پہ حاوی ہونے لگا تھا ۔

رباشہ کو اب صرف ضماہیر کا ساتھ چاہیے تھا وہ بھول چکی تھی دانیال نام کی شخصیت۔۔۔۔

آج میں نے آپ کی پسند کا ڈریس پہنا تھا اور آپ نے تو تعریف بھی نہیں کی ضماہیر کے نزدیک آتے ہی اس کی زبان سو گز کی ہوجایا کرتی تھی جو دنیا جہاں کی فضول باتیں اسی وقت کرتی تھی ۔

جانم روز تو تم میری پسند کے ڈریس پہنتی ہو ۔

میں ناراض ہوں آپ سے !!

اگر میں نے منایا تو تمہیں میرا طریقہ پسند نہیں آئے گا ۔

کیسے منائیں گے آپ مجھے ۔

میں پہلے تمہارا دوپٹہ ہٹاؤ گا ضماہیر کے ہاتھ رباشہ کے دوپٹے کو چھوتے اسے دوپٹے

سے بے نیاز کر گئے ۔

پھر میں تمہاری شرٹ ہٹاؤ گا رباشہ کے کاندھے سے شرٹ ہٹاتے وہ اس کے کاندھے پہ جھکا تھا ۔

اس کے بعد میں اپنا حق وصول کروں گا ۔

مگر میں اس سے راضی نہیں ہوں گی ۔

تو میں کونسا مناؤ گا یہ منانے کے کام مجھے رومینس کے وقت بلکل پسند نہیں ۔

بلکہ اچھا تو یہی ہوگا کہ تم ناراض ہوجاؤ منا میں صبح لوں گا ۔

اسی بہانے کچھ دیر کے لیے تمہاری یہ قینچی کی طرح چلتی زبان کو بریک تو لگے گی ۔

میرے منہ نہ لگیں ۔

جانم کہاں لگ رہا ہوں میں تو تمہاری گردن پہ لگا ہوں رباشہ کی شہ رگ پہ جھکا جابجا اپنا لمس چھوڑنے لگا ۔

میں ناراض ہوں اس نے ایک دفعہ دوبارہ بات دہرائی تھی ۔

تو رہو !!!

مگر!!

ششششش!! اگر اب آواز آئی نہ تو پہلے تمہاری زبان ہی کاٹوں گا کچھ دیر اس کو سکون بھی دیا کرو تم زبان سے زیادہ کام لیتی ہو دیکھنا روز قیامت یہ اللہ سے شکوہ کرے گی رباشہ کو گھوری سے نواز کر وہ ایک دفعہ پھر اس کے لبوں کو اپنی دسترس میں لے گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *