Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 17)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 17)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
کچھ لوگ میری پرمیشن کے بغیر ناول کاپی پیسٹ کر رہے ہیں اوپر سے سونے پہ سہاگا رائٹر نیم بھی ریموو ہے اور ناول کا نام بھی چینج کیا ہے ایسے چوروں سے گزارش ہے یا تو رائیٹر نیم مینشن کریں اور ناول نیم درست کریں ورنہ آپ کی آئی ڈی خطرے میں پڑ سکتی ہے
____________________________________
رباشہ ساری رات ضماہیر کی گستاخیاں برداشت کرتی کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی ۔
ضماہیر مکمل طور پہ اسے اپنا بنا چکا تھا ۔
رباشہ ضماہیر کی تھی صرف ضماہیر گوندل کی ۔
حسینہ جانم اٹھو ! ضماہیر اسے نیند سے جگانے لگا ۔
نہ کریں نامیں ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو سوئی تھی ۔
بس اب اٹھ جاؤ
مگر مجھے نیند آئی ہے
نہیں نہ جان مجھے تمہارا یہ نکھرا نکھرا روپ دیکھنا ہے ۔
کل رات کے بعد سے رباشہ میں اتنی ہمت بھی نہ رہی تھی کہ وہ ضماہیر سے نظریں ملاسکے ۔
وہ اتنا تو جان گئی تھی ضماہیر کی خالی دنیا کو رنگوں سے بھرنا اب اس کی زمہ داری ہے ۔
وہ شخص بہت تنہا تھا اپنی زندگی میں اسے ساتھ چاہیے تھا اپنی بیوی کا ۔
وہ مجھے آپ سے ایک بات پوچھنی تھی؟ رباشہ آدھی سوئی آدھی کافی کیفیت میں تھی جبکہ زبان مکمل طور پر جاگ رہی تھی ۔
پوچھو !!!
میں آپ کو کیا کہا کرو ؟ ایک بچگانہ سوال کیا گیا تھا
مطلب! وہ جب میں ضماہیر کہتی ہوں تو مجھے اچھا نہیں لگتا فاطمہ خالہ کہہ رہی تھی شوہر کو نام سے نہیں پکارتے
تو اب تم خالہ سے کلاسس لے رہی ہو ۔اچھی بات ہے ۔ان سے یہ بھی پوچھ لینا شوہر کو کیسے خوش کیا جاتا ہے ۔
آپ نے بتایا نہیں میں کیا کہو آپ کو ؟
میں کیا ہو ں تمہارا
شوہر
تو شوہر کہا کرو نہ جان !
شوہر وہ عجیب نگاہوں سے ضماہیر کو دیکھنے لگی ۔
ہاں شوہر
نہیں چور شوہر صحیح رہے گا !! ویسے بھی آپ نے میرا دل چوری کر لیا ہے ۔
جان جو مرضی کہنا مگر گھر والوں کے سامنے یہ خوبصورت نام نہ لینا ۔۔۔وہ تو چور شوہر پہ ہی ٹھٹک گیا تھا ۔
چلو اب کس کرو مجھے حسینہ جانم
میں نے آپ کو بتایا ہے نہ مجھے شرم آتی ہے
چلو پھر ایسا کرو مجھ سے لے لو ! وہ واپس سے کل والی ٹون میں آیا تھا ۔
نہیں مجھے نہیں چاہیے
تمہیں چاہیے یا نہیں چاہیے یہ تو تمہیں روز ملے گی بلکہ ہر وقت ملے گی رباشہ کی کمر پہ اپنی پکڑ جمائے وہ اس کے لبوں پہ جھکا قفل لگا گیا ۔
ضماہیر کو کل والی ٹون میں آتا دیکھ وہ جلدی سے ضماہیر سے دور ہو کر واشروم بھاگی تھی ۔
میری پکڑ اتنی کمزور نہیں حسینہ جانم! تم میری قید سے آزاد ہوی ہو تو صرف اس لیے کیونکہ میں نے تمہیں جانے دیا
رباشہ کو اپنی قید سے نکل کر بھاگتا دیکھ اس نے واشروم کے باہر کھڑے ہی رباشہ پہ اس کی آزادی کی وجہ ظاہر کی تھی ۔
دانیال !
جی دادا سائیں
کہاں جارہے ہو تم ؟
داد سائیں کالج جا رہا تھا یونیورسٹی والوں نے بلایا ہے ۔
اچھا وشمہ کو لے کر جانا ساتھ اس نے بھی یونیورسٹی جانا ہے
جی صحیح ہے وہ فرمانبرداری سے کہتا باہر نکلا تھا جبکہ دادا سائیں وشمہ کو بلانے اس کے کمرے کی جانب بڑھے تھے ۔
یہ سب کچھ وشمہ کا کیا دھرا تھا اس نے دادا سائیں سے کہا تھا کہ اسے آج سے یونیورسٹی جانا ہے کیونکہ آج دانیال یونیورسٹی جا رہا تھا ۔
دانیال بھی کہیں نہ کہیں وشمہ کی محبت کا اعتراف کرنے لگا تھا وہ جانتا تھا محبت کھونے کا درد کیا ہے ۔
اس نے بھی تو یہ درد محسوس کیا تھا ۔
وشمہ دانیال کے پاس سے گزرتی گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولتی آگے بیٹھی تھی ۔
اثر ہوگیا ہے میری بات کا
Krelace ( queen)
ایک دن میں آپ کی اس فارسی کا جواب ضرور دوں گی وہ اکتانے لگی تھی اس کی فارسی سن کر کیونکہ یہ اس کی سمجھ سے باہر تھی ۔
وہ خوش ہوا تھا اس کے آگے آکر بیٹھنے پر ۔
اثر تو آپ کی بہت سی باتوں کا ہوا ہے مجھ پر ! بچپن سے تو آپ کی ہر چیز کا اثر لے رہی ہوں ۔
وہ تو حیران تھا وہ کبھی حویلی کے واقعے کے بعد نہیں ملے تھے پھر اس لڑکی کو اس سے اتنی محبت کیسے ۔کیا محبت میں ملاقات ضروری نہیں
وہ وشمہ سے سوال کرنے لگا۔
اگر آپ کو کسی سے محبت ہو جائے تو ساری زندگی خود کو اس کی امانت سمجھنا پڑتا ہے خیر آپ کہا جانیں گے یہ باتیں ۔۔۔۔یہ سب تو آپ کی سمجھ سے باہر ہے ۔۔۔اپ کو محبت تھوڑی ہوی ہے ۔
وہ کیا بتاتا اسے وہ تو محبت کرکے ہار گیا تھا دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہو کر بھی ایک دوسرے کا ساتھ نہ پاسکے
ویسے آپ میری یونیورسٹی جارہے ہیں
ہاں دانیال کا فوکس مکمل طور پر سٹیرنگ پہ تھا وہ اس لڑکی کی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتا تھا جہاں اس کے لیے عزت ،محبت کا سمندر موجود تھا ۔
ہم تو عشق کے ع میں ایسے الجھے کہ عیب دار ہوے
جو ق تک پہنچیں ہوں گے انہوں نے تو قیامت ڈھائی ہوگی ۔
وہ یہ محض دل میں ہی سوچ سکا۔
اگر مجھے تم سے محبت ہوگئی ؟ آج وہ ناجانے وشمہ سے کس چیز کا اقرار کروانا چاہتا تھا جو اس سے ایسے سوال پوچھ رہا تھا ۔
میں ساری زندگی آپ کی شکرگزار رہوں گی
اور شکریہ کیسے ادا کرو گی
میں سورہ رحمٰن کی روز تلاوت کیا کروں گی ۔
وہ کیا لڑکی تھی جو محبت کے جواب میں شکریہ ادا کرنا جانتی تھی ۔محبت کا صلہ محبت سے دینا جانتی تھی ۔
اور اگر مجھے تم سے محبت نہ ہوی ۔
تو ساری زندگی انتظار کروں گی
انتظار کیسے کرو گی ؟
سورہ یسین پڑھ کر اپنے لیے محبت مانگوں گی ۔
اور اگر محبت کا وقت نکل گیا تو ؟
پھر سورہ یوسف پڑھ کر خود کو تسلی دوں گی ۔
دانیال تو اس لڑکی کی باتوں میں ہی ڈوب گیا تھا جو ناجانے اتنی خوبصورت باتیں کرنے کا ہنر کہاں سے لائی تھی ۔
پھوپھو آج کچھ بھی کریں مجھے ضماہیر کے ساتھ وقت گزارنا ہے میں اسے اپنی محبت کا یقین دلاؤ گی ۔
وہ میرے ساتھ بے وفائی کیسے کر سکتا ہے ۔
مناہل تو جب سے آئی تھی اس کا دماغ کام کرنا بند ہوچکا تھا ۔
اس کے سر پر صرف ضماہیر کو پانے کا بھوت سوار تھا اسے صرف ضماہیر چاہیے تھا ۔
آج کچھ بھی ہو جائے میں اسے اپنا بنا کر رہوں گی میں یہاں ضماہیر کی شادی کی خوشیاں منانے نہیں آئی تھی ۔
میں کیا کر سکتی ہوں ؟ اگر میں اس دن نہ گئی ہوتی تو آج ضماہیر بھی میرے ہاتھوں کی کٹ پتلی ہوتا ۔
مگر افسوس!
پھوپھو یوں افسوس کرنے سے کچھ نہیں ہوتا اب میں بھی کچھ ایسا کروں گی جس سے یہ ضماہیر میرے ساتھ ہوجائے ۔
آخر ہے تو لڑکا کب تک خود پہ قابو رکھے گا ایک شیطانی مسکراہٹ نے مناہل کے چہرے کا احاطہ کیا تھا ۔
زاویار تم ؟ اس کی ماں تو خوشی کے مارے پاگل ہوے جارہی تھی جو بار بار زاویار سے سوال کر کے اس کی موجودگی کا یقین کر رہی تھی ۔
امی میں ہی ہوں ؟ آپ تو ایسے بار بار پوچھ رہی ہیں جیسے یہ میں نہیں میرا کوئی بھوت ہو ۔
نہ نہ بچے مجھے یقین نہیں ہورہا نہ کہ میرا بچہ اتنے وقت کے بعد میرے سامنے !
اب یقین کر لیں ! اب تو کچھ وقت کے بعد آپ کی بہو بھی آپ کے سامنے ہوگی ۔
ہاں ہاں بلکل بلکہ ہم تو بھائی صاحب کے گھر بھی نہیں گئے اب تو آگیا ہے نہ پھر جائیں گے رباشہ بھی واپس آگئی ہے ۔
رباشہ !! وہ سوچ کر ہی محفوظ ہوا تھا ۔۔۔اس کی منگ ۔۔۔کتنے خواب سجائے تھے اس نے رباشہ کے ساتھ ۔۔۔کتنا کچھ کرنا ہے اسے ۔۔۔۔۔اس اتنی بڑی دنیا میں گھومنا ہے اسے رباشہ کے ساتھ ۔۔۔
اسے تو انتظار ہی نہیں ہورہا تھا کہ کب یہ وقت گزرے اور وہ اپنی رباشہ کے سامنے ہو ۔۔
حسینہ جانم یہ تمہارے ماتھے پہ نشان کیسا ہے ؟
شیشے کے سامنے کھڑا وہ رباشہ کے بالوں سے الجھ رہا تھا ۔
مجھے نہیں پتہ میں نے امی سے پوچھا تھا انہوں نے کہا تم بچپن میں گر گئی تھی یہ اس کا نشان ہے ۔
اچھا !!ماتھے سے بال ہٹائے اس نشان پہ ضماہیر نے اپنے لب رکھے تھے ۔
تم محبت کا مطلب جانتی ہو ؟ایک عجییب سوال کیا گیا۔
مجھے محبت کا مطلب تو معلوم نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ محبت جو بھی ہے اگر وہ آپ جیسی ہے تو بہت خوبصورت ہے ۔
محبت کا مطلب ہے کسی ایک انسان کا دوسرے کی نظروں میں دنیا میں سب سے زیادہ خوبصورت ہونا ۔
اور تم میرے لیے اس دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر ہو حسینہ جانم ضماہیر اسے اپنے سینے سے لگائے کھڑا تھا ۔
موبائل کی ارتعاش پر اس کا دیہان رباشہ سے ہٹ کر موبائل پر گیا
ہیلو السلام علیکم!
موبائل کی دوسری جانب سے آواز آئی تھی
والسلام بڑے سردار کوٹھے سے ایک لڑکی بھاگ گئی ہے
وہ رباشہ سے دور ہوتا سٹڈی روم میں گیا تھا ۔
کیا ؟
تم لوگ کہاں تھے ؟ یہ لڑکیاں نہیں سنبھالی جاتی تم سے
سردار صاحب ہمیں نہیں پتہ وہ کہاں گئی ہے مگر ہم نے بہت ڈھونڈا وہ نہیں ملی
میں پہنچتا ہوں کچھ دیر تک ڈھونڈو لڑکی کو اگر لڑکی نہیں ملی نہ تو تمہارے گھروں سے ایک ایک لڑکی اٹھوا لوں گا میں وہ ایک بھوکے شیر کی طرح گرجنے لگا تھا ۔
جبکہ رباشہ کمرے سے باہر جاچکی تھی ۔
آج میڈم کچھ زیادہ ہی لال نہیں لگ رہی مناہل نے اس کے نزدیک آتے ہی اس کے لال ہوتے گالوں پہ طنز کیا تھا ۔
وہ کیا ہے نہ جب شوہر پیار کرتا ہے تو بیوی خود ہی لال ہو جاتی ہے ۔
خیر تمہیں کیا پتا اس سب کا تمہاری شادی تھوڑی ہوی ہے ۔
وہ اتنا تو جان گئی تھی کہ یہ مناہل ضماہیر کو پانے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے ۔
شادی تو تمہاری بھی نہیں بچے گی بے بی مناہل نے آگے بڑھ کر رباشہ کے پھولے گالوں کو چھو اتھا ۔
میری بیوی کو چھونے کی اجازت کسی کو نہیں ضماہیر جو رباشہ کو ڈھونڈتا کچن میں آیا تھا مناہل کے ہاتھ رباشہ کے گال پہ دیکھ کر آگ بگولا ہو ا۔
اس نے فوراً سے مناہل کے ہاتھ کو جھٹکا تھا ۔
تمہاری بیوی کوئی حسن کی ملکہ نہیں جسے اتنا بچا کر رکھ رہے ہو ۔
ضماہیر کی بات پر مناہل نے حسد میں دانت پیسے تھے
یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ تم لوگ میری حسینہ جانم کو حسن کی ملکہ نہیں سمجھتے کیوں کہ میں خود چاہتا ہوں میری حسینہ جانم کا حسن صرف مجھ تک محدود رہے ۔وہ کسی اور کو خوبصورت نہ لگے ۔
ضماہیر کے الفاظ جہاں رباشہ کو سکون دے رہے تھے وہیں مناہل کے اندر جلتی آگ مزید ہوا پکڑنے لگی ۔
تم پاگل ہوگئے ہو کیا ؟ تم ایسے تو نہیں تھے ضماہیر
ہاں شاید میں پاگل ہوگیا ہوں اپنی حسینہ جانم کی محبت میں ۔۔۔میں تبدیل ہوگیا ہوں اس کی قربت
میں ۔۔۔۔۔۔وہ عشق ہے میرا
عشق کے ہر ع سے وہ میرے ہر عیب کا پردہ ہے ۔
عشق کے ہر ش سے وہ میری شاموں کا سکون ہے ۔
عشق کے ہر ق سے اس کی قربت میں سکون ہے ۔
وہ مکمل عشق ہے میرا ۔
ضماہیر یہ محبت برباد کرتی ہے
اسی لیے تو میں نے عشق منتخب کیا ہے اپنی حسینہ جانم کے لیے ۔
حسینہ جانم کیا کر رہی ہو یہاں کہا تھا نہ میرے ساتھ نیچے آیا کرو
مناہل کو اگنور کرتا وہ مکمل طور پہ رباشہ کے پاس آیا تھا ۔
آپ کال پر بات کر رہے تھے
جانم آئیندہ میرے ساتھ آنا
جی چور شوہر جی ! زرا سا اونچا ہو کر رباشہ نے ضماہیر کے کان میں سرگوشی کی جسے مناہل تو بلکل سن نہیں پائی تھی مگر ضماہیر کے چہرے پہ پھیلتی مسکان اسے مزید تکلیف دے گئی۔
میری پاگل جان ! ضماہیر فوراً سے رباشہ کے گرد بانہوں کو پھیلا گیا ۔
مناہل اب آپ جائیں گی یہاں سے
ہمیں رومینس کرنا ہے وہ مزید مناہل کو جلانے لگا جبکہ رباشہ تو سر تا پیر لال ہوی تھی
یہ رومینس کرنے کی جگہ نہیں
جس کی بیوی اتنی خوبصورت ہو اس کے لیے تو ہر جگہ رومینس کرنے کی ہوتی ہے ضماہیر نے رباشہ کو کمر سے پکڑ کے شیلف پہ بٹھایا تھا ۔
مناہل آگ بگولا ہوتی کچن سے باہر نکلی تھی ۔۔۔۔ہنس لو جتنا ہسنا ہے یہ خوشی کے دن جلدی روٹھ جاتے ہیں ۔۔۔
آپ نے مس چمکادڑ کو اتنا کیوں جلایا ؟ رباشہ مناہل کو ایک چمکادڑ کا نام دے گئی
چمکادڑ!! ضماہیر کا زور دار قہقہہ بلند ہوا
اور نہیں تو کیا جب دیکھو بس آپ کو چپکنے کے بہانے بناتی رہتی ہے ۔
تو میری بیوی جلتی ہے کیا ؟
جلتی ہے میری ناک
ناک کس کی جلتی ہے ؟
میری جلتی ہے
پر ناک تو بہتی ہے
چھی چھی کتنے گندے ہیں آپ ۔۔۔ڈرٹی مین
میں بتا رہی ہوں دوبارہ وہ مس چمکادڑ مجھے آپ کے ساتھ نظر آئی نہ تو ؟
تو میں اس کو سارا ایکسپائر میک اپ لا دو گی ۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا یہ کوئی نیا طریقہ ہے غصہ نکالنے کا کیا؟
یہ میرا طریقہ ہے چور شوہر جی !!!
