Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Deewana Tha (Episode 23) Part 1

Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal

وہ ناجانے کتنے آنسوؤں سے اس کے چہرے کو بھگو چکا تھا مگر آج وہ اس سب سے بیگانہ تھی ۔

کسی کے بھی آنسو اس پر کوئی اثر نہیں رکھتے تھے ۔

حسینہ جانم تم ایسا کیسے کر سکتی ہو میرے ساتھ ۔۔۔تم مجھے سزا دے دیتی مگر یوں خاموش تو نہ ہوں ۔۔

تمہاری آواز سے میری دھڑکنیں ہیں حسینہ جانم

اتنی بڑی سزا تو نہ دو مجھے !! آواز گھٹنے لگی تھی ۔

رباشہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں تھامے وہ اسی کے ساتھ جگہ بنائے بیڈ پر بیٹھا تھا ۔

کب تک ٹھیک ہو جائے گی میری بیوی ؟

ہم کچھ نہیں کہ سکتے ۔۔۔ایسے کیسز میں پیشنٹ کو خود بھی تھوڑی امپرومنٹ دکھانی پڑتی ہے مگر شاید یہ نہیں چاہتی کہ یہ ٹھیک ہوں ۔

انہوں نے کسی قسم کی امپرومنٹ نہیں دکھائی ۔

ڈاکٹر کی بات سنتے ہی اس کا دل مزید دہل گیا تھا اس کا دل چاہ رہا تھا اس پوری دنیا کو تباہ کردے ۔۔۔دانیال !! دانیال کو سوچتے ہی اس کا غصہ سوا نیزے پہ پہنچا تھا ۔

تمہاری زندگی بدتر سے بد تر بنادوں گا میں ۔

آپ کی بیوی آپ کو سن سکتی ہیں بس یہ حرکت کرنے سے قاصر ہیں ۔

رباشہ تم سن سکتی ہو مجھے ۔۔۔۔بیوی تم نے بھی مجھے بیچ سفر میں چھوڑ دیا نا

تم بچپن میں بھی مجھے ایسے چھوڑ کے چلی گئی تھی لٹل فیری اور اب بھی ۔۔۔۔۔

لٹل فیری ہم نے اپنا بچہ کھودیا رباشہ کے پیٹ کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے چھوے وہ شاید اسے اپنے نقصان کا احساس دلارہا تھا ۔

میں گھر لے کر جانا چاہتا ہوں اپنی بیوی کو آپریشن تھیٹر سے باہر نکلے وہ سیدھا ڈاکٹر کے آفس میں پہنچا تھا ۔

نہیں آپ اتنی جلدی نہیں لے کر جاسکتے کم از کم دو دن انہیں ہسپتال میں رہنا ہوگا ۔

ٹھیک ہے بس دو دون اس سے زیادہ نہیں!! اس کی حسینہ جانم کی زندگی کا سوال تھا اس لیے فوراً ہی رضامند ہوا تھا ۔

آپ سب لوگ گھر چلے جائیں میں ہوں یہاں ؟

نہیں نہیں بچے ہم ہیں تم آرام کرو ۔۔۔۔

میری بیوی آرام کر رہی ہے کیا ؟؟ نہیں نہ !!! تو میں کیسے کرسکتا ہوں

انکل مجھے آپ سے بات کرنی ہے نظریں گھمائے وہ ان کا ہدف رباشہ کے باپ کو بنا گیا ۔

مجھ سے

جی !! چہرے پر کرخت آثار تھے ۔

چلیں !! افتخار صاحب آگے آگے جبکہ ضماہیر ان کے پیچھے چلنے لگا تھے ہسپتال کے ایک کمرے میں پہنچ کر اس نے دروازے کو اندر سے بند کیا تھا ۔

رباشہ بچپن سے آپ لوگوں کے پاس تھی تو آپ لوگوں نے حویلی کیوں نہیں بھیجا اسے؟ اس کے ذہن میں کب سے ایک یہ سوال گردش کر رہا تھا

( ماضی)

ضماہیر بیٹا !!

جی انکل بولیے

ہم میں سے کوئی بھی رباشہ کو خون نہیں دے سکتا

کیوں ؟؟ وہ دھاڑا تھا اعضاء یک دم تن گئے تھے ۔

بس میں نے کہا ہے نہ !! اور ویسے بھی اس کے خون سے ہمارا خون میچ نہیں کرتا

میچ نہیں کرتا ؟ کیا مطلب ؟

بیٹی ہے آپ کی ۔۔۔کیسے میچ نہیں کرتا اس کا دماغ گھومنے لگا تھا وہ شخص اسی کے سامنے کھڑا اس کی حسینہ جانم اس کی بیوی اس کی زندگی کو خون دینے سے انکار کر رہا تھا ۔

اگر آپ رباشہ کے باپ نہ ہوتے تو کب سے زیر گور

( قبر میں )ہوتے ۔۔۔۔وہ ابھی بھی تمیز کے لہجے میں تھا مگر اس کا دماغ گرم ہوگیا تھا ۔۔۔چہرہ کا رنگ سرخی میں تبدیل ہوا تھا ۔

چھوٹے سردار ہمیں معلوم نہیں تھا کہ آپ لوگ زندہ ہیں اور ہمیں رباشہ کو حویلی کی چھوٹی مالکن نے لا کر دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ حویلی کے سارے لوگ آگ میں جل گئے ہیں اور وہ اس بچی کو ساتھ نہیں رکھ سکتی ۔

اس کا مطلب رباشہ میری لٹل فیری ہے میرے چاچو چاچی کی امانت ۔۔۔

تو یہ زاویار!!! اسے تو اس سب سے بے تحاشا غصہ آرہا تھا زاویار کی ماں دانیال کی ماں اور ضماہیر کی تائی تھی ۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس عورت کو آگ لگا دے ۔۔۔۔اس عورت نے ان تمام لوگوں کی زندگی برباد کی تھی ۔۔۔۔

وہ عورت زندہ کیسے ہے اسے تو مرجانا چاہیے تھا وہ غصے میں سٹریچر پہ پڑی چادر اٹھا کر نیچے پھینک گیا ۔۔

کہاں ہے وہ اس وقت ؟ لہجہ سخت ہونے لگا تھا ۔

ضماہیر بیٹا ہوش سنبھالو اگر تم ایسا کرو گے تو وہ رباشہ کو نقصان پہنچائے گی ہم نے تمہیں یہ سب کچھ اسی لیے بتایا ہے تاکہ تم اس عورت سے رباشہ کی حفاظت کرسکو ۔

بھلے ہی وہ ہماری اولاد نہیں مگر اتنی چھوٹی سی تھی ( ہاتھ کو زمین سے زرا اونچا کیے وہ اشارہ کرنے لگے )

جب ہمارے پاس آئی تھی۔۔۔ بہت پیار سے پالا ہے ہم نے رباشہ کو۔ بیٹی ہے وہ ہماری ہم نہیں چاہتے کہ اسے کوئی نقصان پہنچائے ۔

میں اس عورت کی جان لے لوں گا ۔۔۔۔۔غصے میں دروازہ بند کیے اس کے قدم آپریشن تھیٹر کی جانب بڑھے تھے ۔

( حال )

ہمیں معلوم نہیں تھا کہ حویلی کے لوگ زندہ ہیں بس اتنا پتا تھا کہ سب لوگ اس آگ میں جھلس گئے ہیں ۔۔۔

کیا آپ نے یہ سب رباشہ کو بتایا ہے

نہیں!! اسی کا تو ڈر ہے اگر اسے پتا چل گیا تو وہ کہیں ہم سے دور نہ چلی جائے ۔

نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا میں وعدہ کرتا ہوں آپ

سے ۔۔۔۔۔

دانیال کہاں ہے ؟ کھانے کی ٹیبل پہ بیٹھے دادا سائیں نے آواز لگائی تھی ۔

دانیال پورے گھر میں نہیں ہے حویلی ماں کب سے اسے ڈھونڈ رہی تھی مگر وہ پوری حویلی میں کسی جگہ پر نہیں تھا ۔

کہیں وہ واپس تو نہیں چلا گیا ۔۔۔اس نے کہا تھا وہ چلا جائے گا ۔۔۔۔داد سائیں نے اپنا شبہ ظاہر کیا ۔

ہمیں معلوم نہیں

اچھا میں کال کرکے پتا کروں گا ۔

دادا سائیں میں ہسپتال جارہی ہوں ضماہیر کے لیے کھانا لے کر فاطمہ بیگم سر پہ چادر اوڑھے _ ہاتھ میں لنچ بکس اٹھائے دادا سائیں سے بات کرنے لگی ۔

وشمہ کو بھی ساتھ لے جاؤ !! بچی ہے اس کا بھی دل ہوگا اپنے بھائی اور بھابھی سے ملنے کا ۔

جی !! وہ محض اتنا کہتی وشمہ کے کمرے کی جانب بڑھی تھی ۔

وشمہ بیٹا چلو ہسپتال ۔

ہسپتال کیوں ؟ وہ ناسمجھی سے فاطمہ خالہ کو دیکھنے لگی کیونکہ وہ اسی کمرے میں قید تھی حویلی میں کیا ہورہا تھا وہ اس سب سے ناواقف تھی ۔

رباشہ کا ایکسیڈنٹ ہو اہے ؟

کیا !!!! بھابھی

کیسی ہیں وہ اور بھائی ۔۔۔اسے فوراً سے ضماہیر کا خیال آیا تھا وہ جانتی تھی رباشہ ضماہیر کے لیے کتنی خاص ہے ۔۔اگر اسے کچھ ہوا تو ضماہیر بھی زندہ نہیں رہ سکے گا ۔

وشمہ اور فاطمہ خالہ دونوں حویلی سے باہر نکلی تھی ۔

فاطمہ خالہ دانیال نظر نہیں آیا دل کے ہاتھوں مجبور وہ فاطمہ خالہ سے دانیال کے بارے میں سوال کر چکی

تھی ۔

وہ اٹلی چلا گیا ہے ۔

اچھا !!محض اتنا کہتی وہ گاڑی کے شیشے کی جانب اپنا چہرہ کرگئی۔

بس اتنی سی محبت تھی دانیال کی اگر میں نے منع کیا تو چھوڑ کر چلا گیا ۔

آنکھیں لبا لب پانی سے بھرنے لگی تھی مگر اس نے خود کو رونے سے بعض رکھا ۔

وشمہ تم یہاں رکو میں گاڑی میں اپنا پرس بھول آئی ہوں وشمہ کو ہسپتال کے سامنے روکے وہ گاڑی کی جانب مڑی تھی ۔

جی خالہ!!

وشمہ کہاں گئی تم فاطمہ خالہ پرس اٹھا کر واپس آئی مگر اس جگہ پر وشمہ نہیں تھی ۔

وشمہ کو ڈھونڈتے وہ ہسپتال کے اندر آئی تھی ۔

ضماہیر!!!وہ کمرے میں داخل ہوی تھی ۔۔۔

ضماہیر جو رباشہ کے بیڈ کے ساتھ کرسی رکھے رباشہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے بیڈ پہ چہرہ ٹکائے ہلکی نیند میں تھا فاطمہ خالہ کی آواز پہ فورا سیدھا ہوا تھا ۔

جی خالہ !!

ہیر بیٹا کھانا کھا لو کھانا ضماہیر کے آگے کیے وہ اسے ساتھ پڑی میز پر رکھ گئی ۔

وشمہ آئی تھی کیا ؟

نہیں!!

نہیں آئی وہ

مگر وہ میرے ساتھ ہسپتال آئی تھی پھر کہاں جاسکتی ہے وہ فاطمہ خالہ کو وشمہ کی فکر ہونے لگی تھی جو ناجانے کہاں چلی گئی تھی ۔

ہسپتال!! پھر کہاں ہے وہ خالہ ؟ رباشہ کے ہاتھوں کو ابھی بھی اپنے ہاتھوں میں لیے تھا ۔

میں دیکھتی ہوں کہاں گئی وہ ؟

تم کھانا کھاؤ !! چھوٹے چھوٹے نوالے بنائے وہ ضماہیر کو کھانا کھلانے لگی ۔

خالہ میری رباشہ کب ٹھیک ہوگی

ہیر ہمت نہ ہارو اللہ پاک سب صحیح کردیں گے

یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے میں نے اپنی بیوی پہ یقین نہیں کیا ۔۔۔مجھے بھروسہ رکھنا چاہیے تھا اپنی بیوی پر وہ ایک مرتبہ پھر ہمت ہار گیا تھا ۔

ضماہیر یہ زندگی بہت مشکل ہے یہ اتنی خوبصورت نہیں ہے جتنی ہمیں بچپن میں لگتی ہے ۔۔۔ہمت سے کام لو میرے بچے ۔۔۔

مگر مجھے تو یہ بچپن میں بھی خوبصورت نہیں لگی لوگوں کے لیے زندگی بچپن میں پھولوں کا بستر ہوتی ہے مگر میرے لیے تو شروع سے یہ کانٹوں کا بچھونا رہی ہے ۔

پانی !! وشمہ ہلکے ہلکے ہوش میں آنے لگی تھی

یہ لو !! پانی کی بوتل فوراً اس کی جانب بڑھی تھی ۔

تم !! تم کیوں لائے ہو یہاں مجھے دانیال کو دیکھتے ہی وہ پانی کی بوتل کو دور پھینکے چلائی تھی ۔

شادی کرنے کے لیے _کرسی پہ بیٹھے ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے وہ پرسکون سا جواب دینے لگا ۔

دماغ خراب ہے تمہارا!!

ہاں خراب ہوگیا ہے تمہاری محبت میں ۔

میں تم سے ہرگز شادی نہیں کروں گی ۔۔۔

جانتی ہو یہ کون ہے ۔۔۔۔موبائل پہ چلتی ویڈیو وہ وشمہ کے سامنے کر گیا ۔

بھابھی !! وہ ویڈیو میں موجود عورت کو پہچاننے لگی تھی ۔

رباشہ کی زندگی صرف اس آکسیجن ماسک پہ چل رہی ہے اگر تم نے مجھ سے شادی نہیں کی تو یہ آکسیجن ماسک ہٹ جائے گا پھر دینا اپنے بھائی کو جواب!!

بلکہ نہیں پھر ساتھ اپنے بھائی کی میت بھی اٹھانا ۔

گر تم نے مجھ سے شادی نہیں کی تو حویلی سے چار جنازے نکلیں گے ایک تمہاری بھابھی کا تمہاری ضد کی وجہ سے _ ایک تمہارے بھائی کا اپنی بیوی کے غم میں _ ایک تمہارا مجھ سے بے وفائی کرنے کے لیے مجھ سے شادی نہ کرنے کی وجہ سے _ ایک میرا اس سزا میں کہ میں اپنی قاتل حسینہ کا قاتل بنوں گا ۔

تمہارا بھائی اپنی حسینہ جانم کے بغیر نہیں رہ سکتا اور میں اپنی قاتل حسینہ کے بغیر اب یہ تم پر ہے خود سے جڑے لوگوں کو تمہیں زندہ رکھنا ہے یا انہیں بے قصور موت دینی ہے ۔

وشمہ کے پورے جسم میں خوف کی لہریں دوڑ رہی تھی ۔۔۔

میرے پاس مت آؤ ۔

نہیں آرہا قاتل حسینہ بس کچھ دیر اور پھر تم میرے نکاح میں ہوں گی پھر آؤ گا میں تمہارے پاس ۔۔۔۔بہت پاس ۔۔۔اتنا پاس کے تم مجھ میں چھپ جاؤ گی ۔۔۔۔ساری دنیا سے چھپا لوں گا میں تمہیں ۔۔

یہ لو تیار ہوجاؤ دانیال نے کچھ لفافے وشمہ کی جانب بڑھائے تھے ۔۔

میں تیار نہیں ہوں گی

میں پوچھ نہیں رہا بتا رہا ہوں !!

میں بھی بتا رہی ہوں میں نہیں پہنو گی

نہ پہنو میں خود ہی پہنا دیتا ہوں ہاتھ بڑھائے وہ وشمہ کا دوپٹہ کھینچ گیا ۔

نن نہیں میں پہنتی ہوں ۔۔۔دانیال نے اپنی ہنسی دبائی تھی ۔

کچھ ہی دیر میں وہ سرخ لباس میں سجی سنوری اپنا آنچل دانیال کے نام کر چکی تھی وہ وشمہ دانیال گوندل بن چکی تھی ۔

قاتل حسینہ آج بلکل قاتل حسینہ لگ رہی ہو دانیال کے لیے وشمہ سے نظریں ہٹانا مشکل ہورہا تھا ۔

جبکہ وشمہ تو آنسو بہائے اس سب کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔

کمرے میں جاؤ ! میں آرہا ہوں وشمہ کو حکم دیتا وہ مولوی صاحب کو چھوڑنے ان کے ساتھ دروازے تک آیا تھا ۔

مولوی صاحب کو دروازے سے باہر چھوڑ کر وہ کمرے کی جانب بڑھنے لگا ۔

دروازہ جلدی سے کھولتا وہ آہستہ آہستہ قدم بیڈ کی جانب بڑھانے لگا جہاں وشمہ چہرے پہ گھونگھٹ ڈالے بیٹھی تھی ۔

مجھے یہ نہیں لگا تھا کہ تم ایسے میرا انتظار کرو گی وشمہ سے تھوڑا دور وہ بیڈ کے ساتھ کھڑا تھا ۔

میں آپ کے انتظار میں بیٹھی بھی نہیں!!

پھر کس کے انتظار میں بیٹھی تھی تم ؟ اسے غصہ آگیا تھا وشمہ کی بات سن کر وہ دانت چباتا ایک ایک لفظ ادا کرنے لگا ۔

وشمہ مکمل خاموش رہی ۔۔۔۔

آپ میرے پاس نہیں آسکتے جونہی دانیال نے گھونگھٹ ہٹایا وہ جلدی سے پیچھے ہوی تھی ۔

یہ جانتی ہو کیا ہے جیب سے ایک کاغذ نکالے اسے وشمہ کے سامنے کرگیا ۔

وشمہ سوالیہ انداز میں اس بند کاغذ کو گھورنے لگی ۔

ہمارا نکاح نامہ !! عام الفاظ میں کہوں تو تمہیں چھونے کا_ محسوس کرنے کا_ اپنے اندد قید کرنے کا _تمہارے وجود پہ اپنا نقش چھوڑنے کا _تمہاری اس خوبصورتی کو سراہنے کا لائیسنس ہے یہ ۔

وشمہ کی کمر کے گرد اپنی بازوؤں کو حائل کیے اس کی ناک کو نوزپن سے آزاد کیے وہ اس کے لبوں پہ جھکا اپنے خشک لبوں کی پیاس مٹانے لگا ۔

میں ابھی تیار نہیں!! دانیال کے دور ہوتے ہی وہ اپنی اتھل پتھل ہوی سانسوں کو ترتیب دیے اس سے دور ہوی تھی ۔

یہ کیا کسی ڈرامے کا سین ہے یا ناول کا کردار جو تم رشتہ بنانے کے لیے ابھی تیار نہیں۔

تم بیوی ہو میری _شادی ہوی ہے ہماری آج نہیں تو کل ہمارے درمیان رشتہ بنے گا اور ایسے نیک کاموں میں مجھے دیر منظور نہیں ۔

آہستہ آہستہ نرمی سے اپنے ہاتھوں کو حرکت دیے وہ وشمہ کو زیور سے آزاد کرنے لگا ۔

تم جانتی ہو میں نے ہمیشہ رباشہ سے محبت کی تھی مگر شاید میری قسمت میں تم لکھی جاچکی تھی ۔۔۔

لاکھ کوشش کی خود کو بعض رکھنے کی مگر یہ منافق دل ہر بار دغا دے گیا ۔۔۔ہر بار یہ تمہاری جانب مجھے کھینچ گیا ۔۔۔

وشمہ کے گلے کو ہار سے آزاد کیے وہ اپنے تشنہ لب اس کی گردن کے ساتھ مس کرگیا ۔

وشمہ کے پورے جسم میں سنسناہٹ دوڑ گئی وہ کہاں دانیال سے اپنی محبت کا اظہار کرتی رہتی تھی اور آج ۔۔۔وہ شخص اس کے سامنے تھا مگر اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ نظریں اٹھا کر اس سوہان روح کو دیکھ سکے ۔

دانیال!! لرزتے لبوں سے وہ بامشکل ہی دانیال ادا کرپائی تھی ۔

جی دانیال کی جان !! وشمہ کو بیڈ پہ گرائے وہ اس پہ قابض ہونے لگا تھا ۔

آپ نے ہار دفعہ میری محبت کو ٹھکرایا ہے وہ اپنا شکوہ بیان کر گئی ۔

آج کے بعد میں روز تم سے اپنی محبت کا اظہار کروں گا ۔

آپ نے ہر دفعہ میری عزت نفس کو ٹھیس پہنچائی ہے ۔

تمہاری عزت آبرو سب مجھ سے ہے میں آئیندہ تمہاری ہر چیز کی حفاظت کروں گا ۔

آپ نے میرے جزبات کی ناقدری کی ہے

میرے سارے جزبات آج سے تمہارے نام !! دانیال آج سے تمہارا ہوا ۔۔۔

آپ کو کیا لگتا ہے یہ سب اتنا آسان ہے جانتے ہیں چھوٹی سی تھی میں تب سے آپ سے محبت کر رہی ہوں ۔

تب تو یہ بھی نہیں جانتی تھی یہ محبت کیا ہوتی ہے کیسی ہوتی ہے ۔۔

مگر اس میں میرا قصور نہیں جب بھائی سکول جاتے تھے آپ میری ساتھ کھیلتے تھے مجھے چیز لاکر دینا ۔۔۔ میرا خیال رکھنا ۔۔۔میں آپ کی گرویدہ ہوگئی تھی بچپن ہی سے ۔۔اپ کے جانے کے بعد میں بہت اکیلی ہوگئی تھی بھائی تو ساتھ رہتے ہی نہیں تھے ۔

مجھے معاف کر دینا وشمہ جو کچھ ہوا سب میری وجہ سے ہوا ہے مگر اس میں میرا کیا قصور تھا مجھے کیا معلوم تھا میری ماں !!!

معافی مانگنا بہت آسان ہے مگر معاف کرنا اتنا ہی مشکل اگر آپ سچے دل سے کریں تو !!

چہرے سے گرتے آنسو دانیال کے دل پہ کاری ضرب لگانے لگے ۔

وہ تو اپنی قاتل حسینہ اپنی بیوی اپنے ہم سفر کا ہر دکھ درد بانٹنا چاہتا تھا مگر آج وہ اسی کے سامنے آنسو بہا رہی تھی اسے کہاں گوارا تھا کہ اس کی بیوی ایسے آنسو بہائے ۔

تم جانتی ہو ٹوٹا تارہ سب کی خواہشات کیوں پوری کرتا ہے ؟

وشمہ نے نظریں اوپر کی تھی ۔

کیونکہ اسے ٹوٹنے کا درد معلوم ہوتا ہے ۔

میں بھی وہی ٹوٹا تارہ ہوں مگر میں صرف تمہاری ساری خواہشات پوری کرنا چاہتا ہوں ۔

وشمہ کے سارے زیور ساتھ پڑی میز پہ رکھے وہ اس کے لبوں پہ جھکا اپنی مہر لگانے لگا۔

وشمہ یک دم خاموش ہوی تھی اس کا جسم حرکت چھوڑ چکا تھا ۔

ایک ایک نقش کو چھوتے وہ وشمہ کا غم اپنے اندر انڈیلنے لگا ۔۔۔

دانیال !ایک دفعہ پھر وشمہ نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی ۔

قاتل حسینہ میں پہلے ہی کہ چکا ہوں مجھے تمہاری مزاحمتیں بلکل پسند نہیں تم بیوی ہو میری تمہیں میرا ہونا ہے اب چپ چاپ پڑی رہو اور یہ سب برداشت کرو ۔۔

میں تیار نہیں ہوں ابھی وہ ایک دفعہ پھر سے اپنی بات دہرا گئی ۔

میں کہ چکا ہوں مجھے تمہیں اپنا بنانا ہے اب اگر تمہاری زرا سی آواز بھی آئی تو یاد رکھنا میرے ہر عمل میں شدت پاؤ گی ۔

آنکھوں سے گھورے وہ وشمہ کو خاموش کرواگیا جبکہ وشمہ وہی بیڈ پہ خاموش سی پڑی اپنا آپ مکمل طور پر اس کے حوالے کر گئی ۔

گڈ گرل krelace

ایک ایک نقش کو چھوتے وہ مدحوش ہونے لگا تھا اس کی خوبصورتی کے آگے وہ بے بس ہوگیا تھا اپنی بیوی کی

جوبصورتی کے آگے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *