Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Deewana Tha (Episode 07)

Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal

گاؤں چونکہ شہر سے تھوڑے فاصلے پر تھا اس لیے قریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد رباشہ اور ضماہیر ایک پلازہ کے سامنے رکے تھے

حسینہ جانم اٹھ جاؤ!!! رباشہ شاید ضماہیر سے تنگ آکر سو چکی تھی

ہم آگئے گھر

جانم ہم گھر نہیں پلازہ آئے ہیں!!!

اوپس میں تو بھول گئی اسے اپنی بیوقوفی پر ہنسی آنے لگی مگر اس سوچ سے کے ضماہیر اس کا مزاق بنائے گا اس نے خود کو ہسنے سے بعض رکھا

چلو اچھا اب چلو ضماہیر گاڑی سے نیچے اترا اور رباشہ کی جانب کا دروازہ کھولا

یہاں کوئی نہیں ہے جس کے سامنے آپ میرا اتنا خیال رکھنے کا ناٹک کر رہے ہیں

یہی تو سارے لوگ موجود ہیں جن کو میں بتا سکتا ہوں کہ میں اپنی حسینہ جانم کا دیوانہ ہوں اس نے بے شرموں کی سی ڈھٹائی سے رباشہ کے کان میں جھک کر سرگوشی کی

انتہائی برا مزاق کرتے ہیں آپ !!

جانم جو بھی کرتا ہوں سب تمہارے ساتھ کرتا ہوں ضماہیر نے اس کا ہاتھ پکڑا اور پلازہ میں لے جانے لگا

میرا ہاتھ تو چھوڑ دیں میں کوئی بچی نہیں ہوں جو آپ نے مجھے ایسے پکڑا ہوا ہے

لو چھوڑ دیا اسے شاید رباشہ کا ہاتھ پکڑنے سے منع کرنا برا لگا تھا اس لیے اس نے فوراً ہی رباشہ کا ہاتھ چھوڑا تھا

وہ دونوں خاموشی سے پلازہ میں داخل ہوے پلازہ میں لوگوں کا رش دیکھ کر رباشہ نے جلدی سے ضماہیر کے بازو کے گرد اپنی گرفت جمائی تھی وہ کیلیفورنیا رہ کر آئی تھی مگر وہ ہمیشہ سے ایسی تھی زیادہ لوگوں کو دیکھ کر سہم جایا کرتی تھی

ابھی تو کوئی کہ رہی تھی وہ بچی نہیں ہے اور اب دیکھو میرا ہاتھ کیسے پکڑا ہے بچی ڈر گئی ہے لگتا ہے

جی نہیں میں ڈری نہیں ہوں یہ تو بس میں نے اس لیے پکڑا ہے کہیں آپ گم نہ ہوجائیں ۔

اگر میں گم ہوگیا تو ؟؟؟ شاید وہ اس کے احساسات جاننا چاہتا تھا

نہیں میں نے پکڑا ہے نہ اب آپ گم نہیں ہوں گے میں آپ کو گم ہونے ہی نہیں دوں گی

اگر میں پھر بھی گم ہوگیا تو ؟؟؟

میں آپ کو ڈھونڈ لوں گی ۔۔۔اس نے ضماہیر کے ہاتھوں پر مزید گرفت بڑھائی تھی مانو وہ حقیقت میں اسے کھونے سے ڈر گئی ہو

تمہیں کونسا رنگ پسند ہے ؟؟وہ اس کے بارے میں جاننا چاہتا تھا اور کیوں نہ جانتا بیوی تھی اس کی۔۔۔۔۔۔ اس کا فرض تھا اس کی ہر چھوٹی بڑی بات اس کی پسند ناپسند کا علم رکھنا ۔

ویسے تو میں ہر رنگ میں اچھی لگتی ہوں مگر مجھے گلابی رنگ زیادہ پسند ہے وہ پلازہ ہال میں ضماہیر کا ہاتھ پکڑے زرا اس کے پیچھے چلنے لگی

بیوی شوہر کے ساتھ چلتی اچھی لگتی ہیں نہ کہ پیچھے اس نے رباشہ کو نرمی سے کھینچ کر اپنے برابر کیا تھا

رباشہ صرف اس شخص کے چہرے کو دیکھتی رہ گئی اسے آج خود پر رشک ہوا تھا صرف تین دن تو ہوے تھے اسے اس شخص کے ساتھ رہتے ہوے وہ اس نازک لڑکی کو مزید معتبر کر گیا

وہ اتنی نرمی سے اس نازک موم کی گڑیا کو چھوتا تھا جیسے اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی شدت اس لڑکی کی معصومیت کو پگھلا نہ دے

کیا ہوا ؟؟ خود کو تاکتے پاکر ضماہیر نے اس کے چہرے کو چھوا تھا

وہ جلدی سے اپنا چہرہ نیچے جھکا گئی مانو کوئی بہت بڑا گناہ سرانجام دے آئی ہو

تم مجھے دیکھنے کا حق رکھتی ہو حسینہ جانم مگر یہاں نہیں گھر ایسے دیکھنا تاکہ میں اپنا بھی حق استعمال کر سکوں وہ زرا مشکل سے ہی اس کے کاندھے تک آتی تھی اس لیے ضماہیر اس کی جانب نیچے جھکا تھا

جبکہ وہ اس کے جھکنے کو غلط سمجھتے ہوے تھوڑا پیچھے ہوی تھی ضماہیر ہم باہر ہیں جیسے وہ اسے یاد دلوانا چاہتی تھی

استغفرُللہ حسینہ جانم تم نے کیا مجھے اتنا بے شرم سمجھا ہوا ہے کہ میں ایسے سرعام تمہارے ساتھ کچھ۔۔۔۔۔ نعوذباللہ کتنی غلط سوچ ہے تمہاری

رباشہ کے لیے تو شرم کے مارے چہرہ اٹھانا ہی مشکل ہوگیا تھا

وہ بس خود پر افسوس کرتی رہ گئی اس نے کیوں ضماہیر کو ایسا کہا تھا !!

حسینہ جانم مگر جس کی بیوی اس قدر خوبصورت ہو وہ تو کہیں بھی شروع ہوسکتا ہے !!!!! وہ جلدی سے اس کے ماتھے کو چھوتا پیچھے ہوا تھا

ضماہیر ۔۔۔ہم۔شاپنگ کرنے آئے ہیں وہ محض اس کی بے باکی پر اتنا ہی یاد دلا سکی تھی اسے

فاطمہ !!!!

جی حویلی ماں تم نے ضماہیر کو کہا تھا کہ لڑکی کو ولیمہ کا جوڑا بھی دلا لائے

گاؤں والے بار بار اس لڑکی کے متعلق سوال کر رہے ہیں ہم چاہتے ہیں ولیمہ کرکے سارے گاؤں کو بتا دیا جائے کہ یہ ضماہیر کی بیوی ہے

جی حویلی ماں میں نے کہ دیا تھا مگر !!!

مگر کیا!!!

ہیر نے رباشہ کو طلاق دے دینی ہے جب گاؤں والوں کو طلاق کا پتہ چلے گا تو ہماری حویلی کی کتنی بدنامی ہوگی ۔۔۔۔۔ہمارے خاندان میں آج تک کسی لڑکے یا لڑکی پر اس قسم کا داغ نہیں لگا

جو ہوگا دیکھا جائے گا مگر وہ لڑکی زیادہ وقت تک حویلی کی بہو نہیں بن سکتی ہم تو ہیر کے لیے مناہل چاہتے تھے اور میرا نہیں خیال ابھی زیادہ دیر ہوی ہے ویسے بھی وہ بچی بہت اچھی ہے ۔۔۔۔خاندانی بھی ہے حویلی کو اچھے سے سنبھال لے گی

حویلی ماں رباشہ کا کیا؟؟؟؟

وہ تو بس یوں سمجھ لو چند دن کی مہمان ہے ہیر کی زندگی میں اپنے دادا سائیں کے جاتے ہی وہ چھوڑ دے گا اسے

ہمممم !!! فاطمہ بیگم نے ظاہری طور پر حویلی ماں کے فیصلے میں حامی بھری تھی مگر وہ حقیقت میں رباشہ کا ساتھ ہمیشہ ضماہیر کے ساتھ چاہتی تھی وہ جانتی تھی ایک یہی لڑکی ہے جو اسے اس کے سیاہ ماضی سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے

بابا ہم کب تک ایسے بیٹھیں رہیں گے ہمیں آپی کو ڈھونڈنا ہوگا رباشہ کے گھر میں تین دن سے سوگ کا عالم تھا وہ پچھلے تین دنوں سے رباشہ کو ڈھونڈ رہے تھے مگر اب تک انہیں رباشہ کی خیر خبر تک نہیں ملی تھی

بیٹا ہر جگہ ڈھونڈ لیا !!! ہم کیا کریں خدا نے ہمیں اتنی بڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے

ہم کہاں ڈھونڈیں گے اپنی بچی کو !! میری بچی تو اس گاؤں کے بارے میں زیادہ جانتی بھی نہیں پتا نہیں وہ منھوس لوگ کہاں لے گئے ہوں گے

مجھے سرپنج صاحب سے بات کرنی ہوگی میں مزید اپنی بیٹی سے دور نہیں رہ سکتا مجھے ڈھونڈنا ہوگا اسے

سرپنج صاحب ہم نے اس گاؤں میں ہر جگہ ڈھونڈ لیا مگر رباشہ کہیں نہیں مل رہی

افتخار میں نے بھی اپنے لوگوں کو بچی کو ڈھونڈنے پر لگایا ہوا ہے مگر وہ کہیں نہیں مل رہی

میں پھر بھی کوشش جاری رکھوں گا تم بھی ہمت نہ ہارو آس پاس والے گاؤں میں لوگ بھیجے ہیں دعا کرو انہیں کچھ پتا چل جائے بچی کے بارے میں

کوشششش!! اب تک یہی تو کر رہے ہیں افتخار صاحب کا لہجہ زرا سخت ہوا تھا

دماغ ٹھنڈا رکھو ۔ دماغ گرم کرنے سے کیا بچی مل جائے گی

ساتھ والے گاؤں کے سرپنج کا ولیمہ ہے کل میں وہاں سے آکر خود لوگوں کے ساتھ رباشہ بچی کو ڈھونڈنے جاؤں گا۔

سرپنج صاحب آپ کا بہت بڑا احسان ہوگا مجھ پر بس میری بچی کو کیسے بھی کہیں سے بھی ڈھونڈ لائیں اب اتنی ہمت نہیں ان بوڑھی ہڈیوں میں کہ جوان بیٹی کا غم دیکھ سکیں افتخار صاحب کی آنکھوں میں نمی اتر آئی

نہیں نہیں حوصلہ رکھو بچی کو کچھ نہیں ہوگا ہم انشاللہ ڈھونڈ لائیں گے ۔۔۔۔تسلی رکھو

ہم یہاں کیوں آئے ہیں وہ برائڈل ڈریسز کے ایریا میں پہنچے تھے

دلہن کے لیے کپڑے خریدنے!!

دلہن کون ؟؟؟

تم اور کون !

مگر ہم تو یہاں گھر کے کپڑے لینے آئے تھے

لگتا ہے تمہیں خالہ نے بتایا نہیں کہ کل ولیمہ ہے ہمارا

ولیمہ کل اتنی جلدی !!

اتنی جلدی کی مطلب شادی کے ایک دن بعد ولیمہ ہوتا ہے جبکہ ہماری شادی کو تین دن ہوگئے ہیں

وہ ڈریسز اٹھا کر رباشہ کو دیکھا نے لگا جو قریباً سارے ہی سرخ رنگ کے تھے۔

کیا میں یہ لے لو ؟؟ وہ ایک خوبصورت گلابی رنگ کا لہنگا تھا جس پر موتیوں سے ہلکا کام کیا گیا تھا

ہاں لے لو !!

یہ ڈریس پیک کردیں مگر سرخ رنگ میں اس نے ڈریس کو کاؤنٹر پر رکھا تھا

سرخ؟؟ مگر میں نے تو یہ کلر پسند کیا ہے یہ کلر مجھے بہت پسند ہے

حسینہ جانم مگر تم مجھے سرخ میں زیادہ اچھی لگتی ہو

Go to hell!!

Ok janumm with you

ضماہیر نے کاونٹر سے ڈریس اٹھایا اور اب وہ اسے جوتے دلوانے کے لیے جوتوں کی دکان کی طرف بڑھنے لگا

میں نے آپ کو

Go to hell

کہا آپ کو برا نہیں لگا ؟؟؟یہ میری عادت ہے میں بات بات پر ایسے کہ دیتی ہوں سوری اسے احساس ہوا تھا اپنی غلطی کا

نہیں بلکل برا نہیں لگا !

مگر کیوں؟؟

کیونکہ مجھے اب جہاں جانا ہے تمہارے ساتھ جانا ہے چاہے تم میرے ساتھ جنت میں چلو یا جہنم میں

آپ نے ڈریس کا کلر کیوں چینج کروایا جبکہ مجھے گلابی رنگ پسند ہے

کہا ہے نہ مجھے سرخ میں زیادہ اچھی لگتی ہو جب تم نے تیار ہی میرے لیے ہونا ہے تو کپڑے بھی میری پسند کے ہونے چاہیے

مگر!!!!

مگر کچھ نہیں جس کام سے میں منع کرو وہ نہ کیا کرو وہ اسے بچوں کی طرح سمجھانے لگا جبکہ رباشہ سٹول پر بیٹھ کر جوتا پاؤں میں ڈالنے لگی

یہ نہیں آرہا مجھے اس نے شوپ کیپر کو آواز لگائی تھی

میم یہ ایک دفعہ دوبارہ پہنیں میں سیٹ کرتا ہوں شوپ کیپر نے شوز رباشہ کو پکڑوایا تھا

اس نے جوتا ٹھیک کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا مگر اس سے پہلے ہی ضماہیر شوپ کیپر کا ہاتھ پکڑ چکا تھا

آپ ہٹیں میری بیوی ہے میں پہناتا ہوں اس نے رباشہ کا پاؤں اپنے گھٹنوں پر رکھا تھا

ضماہیر رباشہ کے قدموں میں بیٹھا اسے جوتا پہنانے لگا

صحیح ہے کیا اب ؟؟

رباشہ اس دنیا میں ہوتی تو اس کی بات کا جواب دے پاتی وہ تو کسی اور ہی دنیا میں کھو گئی تھی یہ اس قدر جازب نظر دکھنے والا انسان اس کے قدموں میں بیٹھا اسے جوتا پہنا رہا تھا ۔۔۔۔کیا یہ سچ ہے اس یقین نہیں آیا ۔۔۔کیا وہ سچ میں اس کے پیروں میں بیٹھا ہے ۔۔۔

کیا ضماہیر سچ میں میرے قدموں میں۔۔۔۔وہ یہ دل میں سوچ رہی تھی مگر لاشعوری طور پر یہ الفاظ اس کی زبان سے ادا ہوچکے تھے

جی بلکل حسینہ جانم تمہارا یہ دیوانہ تمہارے قدموں میں بیٹھا تمہیں جوتے پہنا رہا ہے ۔۔۔۔۔یہ حقیقت ہے ۔۔۔۔

وہ اچانک ہی ہوش کی دنیا میں لوٹی تھی۔۔۔

ججج۔۔یییی۔۔جی صحیح ہے ۔۔۔۔یہ لے لیں اس نے جلدی سے نظریں جھکائی تھی

مگر ساتھ ساتھ اس کے جسم میں ایک خوف کی لہر دوڑی تھی وہ شخص اس قدر شدت پسند ہے کہ اس نے شوپ کیپر تک کو اسے چھونے نہیں دیا کیا اسے یہ گوارا ہوگا کہ اس کی بیوی شادی سے پہلے کسی غیر محرم کے ساتھ تعلق میں تھی ۔۔۔۔۔۔یہ سوچ ہی اس کی جان لینے کے درپے تھی

جو سوچیں گے سوچنے دو میرا کیا ویسے بھی مجھے طلاق تو ہوجانی ہے ۔۔۔۔۔مگر یہ شخص کیوں مرے دل میں جگہ پانے لگا ہے ۔۔۔۔۔۔کیوں یہ میرے جسم میں خون کی جگہ لینا چاہتا ہے۔۔۔۔۔اگر مجھے ضماہیر سے محبت ہوگئی تو ؟؟؟؟

نہیں نہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا !! محبت وہ بھی اس کروے کریلے سے !!!

نہیں نہیں یہ تو کیا سوچ رہی ہے ۔۔۔۔اس نے خود کو ایسا سوچنے پر ہی ملامت کی تھی

چلیں جانم !! ضماہیر رباشہ کا ہاتھ پکڑے اسے پلازہ اے باہر لایا تھا

بھوک لگی ہے تمہیں ؟؟

جی جی بہت

ساتھ میں ایک اچھا ہوٹل ہے وہاں چکتے ہیں اس نے سارے شاپنگ بیگز گاڑی میں پیچھے سیٹ پر رکھے تھے

واہ گاؤں والے کب سے ہوٹلنگ کرنے لگے

گاؤں والے تو بہت کچھ کرتے ہیں !! اس نے زومعانی انداز میں کہا تھا

کیا مطلب ہے آپ کا

مطلب سادہ ہے گاؤں والے تو آبادی بھی بہت بڑھاتے ہیں پھر کیا خیال ہے ہم بھی اپنی آبادی بڑھانے کا خیال کریں اس نے ایک آنکھ ونگ کی تھی

آپ انتہا درجے کے بے شرم لوفر انسان ہیں ٹھرکی !! آج

ضماہیر کو ایک نیا لقب ملا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *