Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 21)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 21)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
آپ لے کر جائیں گے مجھے حویلی میں اتنا تماشہ ہونے کے بعد رباشہ کا یہ خیال تو ختم ہوچکا تھا کہ ضماہیر وشمہ کو حویلی چھوڑ کر اسے اس کے گھر لے کر جائے گا ۔
کیوں ؟ وہ ناسمجھی سے رباشہ کو دیکھنے لگا ۔
وہ ۔۔۔وشمہ۔یہاں اکیلی
میں اچھے سے جانتا ہوں کہ بیوی اور بہن کے حقوق کیسے ادا کرنے ہیں رباشہ کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی وہ اس کی بات کاٹ چکا تھا ۔
میں چادر لے آؤں ۔
ہاں جاؤ ۔۔
رباشہ نے اچھے سے محسوس کیا تھا اس کا پھیکا پن اس کا لہجہ تبدیل سا تھا آج اس کا لہجہ پہلے کی طرح شوخ نہیں تھا اس کے لہجے میں روکھا پن صاف واضح تھا ۔
رباشہ خاموشی سے اس کے نزدیک سے اٹھتی کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔
وشمہ اس کے زہن میں خیال گونجا تھا جو کچھ ہوا سب کی وجہ وہ ہی تو تھی ۔
نہ وہ اس دن جزبات میں بہہ کر وشمہ کو سب کچھ بتاتی اور نہ یہ سب ہوتا ۔
ضماہیر اس کے پیچھے ہی کمرے میں داخل ہوا تھا لے لی تم نے چادر ۔
جی چلیں
ہاں ایک منٹ رباشہ کو نزدیک کیے وہ اس کے سر پہ چادر کو مزید صحیح کر گیا جبکہ اس کے ہوا سے اڑتے بال وہ اب اس کے کان کے پیچھے اڑیسنے لگا تھا ۔
حسینہ جانم تمہارے ناخن سے لے کر بال تک صرف میرا حق ہے یہ سب بہت قیمتی ہیں میرے لیے اور قیمتی چیزوں کو چھپا کے رکھا جاتا ہے ۔
رباشہ کے ماتھے پہ بوسہ دیے وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ نیچے لایا تھا ۔
کہاں جارہے ہو ہیر حویلی ماں نے اسے حویلی سے نکلتا دیکھ آواز لگائی تھی ۔
اپنے سسرال وہ ایک ادا سے کہتا پیچھے مڑا تھا
ویسے میں آپ کا جوابدہ نہیں مگر میری بیوی چاہتی ہے کہ میں آپ سے تمیز سے پیش آؤں رباشہ کے ہاتھ پہ موجود اس کی پکڑ مزید سخت ہوی تھی ۔
جیسے حویلی ماں کو باورا کروانا چاہتا ہو کہ اس کی بیوی اس کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے ۔
گاڑی کا دروازہ کھول کر اس نے رباشہ کو آگے سیٹ پر بٹھایا تھا ۔
خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر اس نے دروازے لاک کیے تھے ۔
دادا سائیں نہیں کرنی مجھے اس انسان سے شادی پلیز دادا سائیں ۔۔۔اس کے رونے نے مزید شدت پکڑی تھی ۔
جبکہ وہ خود دروازے کے ٹیک لگائے اپنی محبت کا ماتم منا رہی تھی ۔
کیوں رو رہی ہو ؟ وشمہ کو روتا دیکھ وہ غصے میں دروازہ کھولے اندر داخل ہوا تھا ۔
اسے معلوم نہیں تھا کہ وشمہ دروازے کے ساتھ بیٹھی ہے اس کے ہاتھوں نے بہت تیزی سے دروازہ کھولا تھا جس وجہ سے وشمہ کی کمر پر زخم لگا تھا دروازہ اس کی کمر کو زخمی کرتا ہوا آگے کی جانب کھلا تھا ۔
وہ درد کے مارے سسک اٹھی تھی ۔
کوئی مر گیا ہے کیا ؟کس چیز کا سوگ منا رہی ہو وہ تنگ آچکا تھا اس کے رونے سے
اپنی محبت دفنا کر آئی ہوں وہ اٹھ کر ایک جانب کھڑی ہوی تھی آواز میں بے تحاشہ سختی تھی ۔
محبت دفنانا اتنا آسان نہیں دانیال کی آنکھوں میں گزرے ماضی کا عکس تھا ۔
دیکھ لیں پھر مسٹر دانیال میں وہ مشکل بھی سر کر آئی ہوں لبوں کو سختی سے بھینچا تھا جبکہ آنکھیں شاید اب اس کے سامنے درد بیان کرنا نہیں چاہتی تھی ۔
چہرے پر آنسوؤں کے نشان تھے ۔
محبت ہوگئی ہے مجھے تم سے شاید تم سے بھی زیادہ وہ ہار مانتا وہی دروازے کے ساتھ دیوار سے ٹیک لگائے نیچے بیٹھا تھا ۔
محبتوں کے متبادل نہیں ہوتے ۔
یہی تو اس نے رباشہ کو کہا تھا مگر آج اسے متبادل مل گیا تھا وشمہ کی صورت میں تو کیا اسے رباشہ سے محبت نہیں تھی اس کے زہن میں ایک خیال ابھرا تھا ۔
تم خفا کیوں ہو مجھ سے ؟
خفا !!یہ کیا کہ رہے ہو تم نفرت ہے مجھے تم سے اس کا
ایک بے جان سا مصنوعی قہقہہ گونجا تھا جب کہ چہرے پہ کرب ناک مسکراہٹ تھی ۔
جن سے محبت ہو جائے ان سے نفرت نہیں ہوتی ۔
جب صبر آ جائے تو محبت نہیں رہتی آنکھوں میں بلا کی تنہائی تھی ۔
مجھ سے شادی کرو گی وہ ہار گیا تھا وشمہ کی محبت کے آگے ۔
آپ کو کیا ایک بات ایک دفعہ میں سمجھ نہیں آتی میں آپ سے پہلے ہی کہ چکی ہوں کہ مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی ۔
جواب سنتے ہی اس کے جسم میں غصے نے سرائیت کی تھی وہ بجلی کی رفتار سے اٹھا تھا اور وشمہ کو اپنے شکنجے میں کیے دیوار سے لگا گیا ۔
کیوں نہیں کرنی ؟
جواب آپ جانتے ہیں ۔
تمہیں اس سب کے بارے میں کس نے بتایا گرجدار آواز سے وہ چیخا تھا ۔
وشمہ نے اس کا یہ روپ پہلی دفعہ دیکھا تھا وہ تو ڈر کے مارے کانپنے لگی تھی ۔
آپ سے مطلب ؟ آپ بس اتنا جان لیں میں آپ کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکتی ۔
میں زبردستی تم سے نکاح کروں گا ۔
میں کوئی پورانے زمانے کی لڑکی نہیں جو آپ کی زبردستی کی وجہ سے آپ سے نکاح کر لوں گی خود کو دانیال کی گرفت سے آزاد کرائے وہ دانیال سے دور ہوی تھی ۔
تمہیں لگتا ہے تم جو کچھ کہ رہی ہو اس میں کامیاب ہوجاؤ گی ۔۔۔۔چلو صبر کرو اس کے بعد اپنے صبر کا پھل لینا وشمہ کے گال تھپتپاتے وہ اسے وہی کمرے میں چھوڑ کر باہر نکلا تھا ۔
باہر آتے ہی اس نے دروازے کو لاک کیا چابی اپنی پاکٹ میں رکھتے وہ نیچے حال میں آیا تھا جہاں دادا سائیں اس کا انتظار کر رہے تھے ۔
کیا کر رہے ہو تم آخر تم بھی اپنی ماں پر چلے گئے ۔۔۔تمہاری تربیت ہم نے کی تھی تاکہ تم پر اپنی ماں کا اثر نہ ہوں مگر دیکھو خون پر خون کا رنگ چڑھا ہے دانیال کے نیچے آتے ہی وہ صوفے سے اٹھتے اس کا گریبان دونوں ہاتھوں سے جکڑ کر اسے جنجھوڑ نے لگے ۔
میری ماں نے بابا کو دھوکہ دیا تھا وہ ان کے بیوی تھی مگر پھر بھی وہ ایک آدمی کے ساتھ رابطے میں تھی مگر میں ۔۔۔۔میں تو اس عورت کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں جس سے مجھے محبت ہے ۔
اس میں گناہ کچھ نہیں اور اللہ نے قرآن میں خود کہا ہے جو عورت پسند ہو اس سے نکاح کر لو تسلی سے جواب دیتا دادا سائیں کے ہاتھ کالر سے پیچھے ہٹا گیا ۔
وشمہ تیار نہیں تم سے شادی کے لیے ۔
ہر لڑکی کو ایک اچھا انسان چاہیے ہوتا ہے اپنے ہم سفر کے روپ میں جو اس کا ساتھ دے رباشہ !!!! کیا وہ ضماہیر کے ساتھ خوش تھی شروع میں ۔۔۔مگر آہستہ آہستہ جب آپ اس شخص کے ساتھ رہتے ہیں تو آپ اس کو جانتے ہیں ۔۔۔۔اس کو سمجھتے ہیں ۔۔۔
دانیال صحیح تو کہ رہا تھا ایک شوہر ہونا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔۔۔۔اسے سمجھنا پڑتا ہے اپنی بیوی کو ۔۔۔اپنی بیوی کی برائیوں پہ پردہ ڈالنا پڑتا ہے ۔۔۔۔اس کی کمی پیشی کو معاف کرنا پڑتا ہے جتنا یہ رشتہ ایک لڑکی کے لیے الجھا ہوا ہوتا ہے اتنا ہی ایک لڑکے کے لیے ۔۔۔دونوں کو مل کر اسے سلجھانا پڑتا ہے ۔۔۔گرہ لگنے سے اس کی حفاظت کرنی پڑتی ہے ۔۔
میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں میں کبھی وشمہ کے لیے برا ثابت نہیں ہوں گا ۔
آخری فیصلہ وشمہ کا ہوگا اور جو فیصلہ وہ کرے گی اسے سب مانیں گے وہ بچپن میں بھی ان دونوں بہن بھائیوں کے ساتھ بہت زیادتی کر چکے تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ اب ایک دفعہ پھر ان کا ماضی دوہرایا جائے ۔
مجھے منظور ہے وہ تباہی کے دہانے پہ تھا وہ جانتا تھا کہ وشمہ نے کبھی اس کے حق میں فیصلہ نہیں دینا ۔چہرے کا رنگ فق پڑا تھا ۔اس کے اندر کوئی چیز ٹوٹی تھی ۔
وشمہ کا فیصلہ سننے سے پہلے ہی وہ ہار مان گیا تھا ۔
رباشہ کہاں ہے چاچو؟ زاویار کا تو خوشی سے برا حال تھا وہ ناجانے کتنی دفعہ رباشہ کو ڈھونڈتے گھر کا مکمل جائزہ لے چکا تھا ۔
چاچو کہاں ہے رباشہ ؟
وہ وہ باہر گئی ہے بس آتی ہی ہوگی آواز لڑکھڑانے لگی تھی ۔
آپ لوگ صبح سے مجھے یہی کہ رہے ہیں کال کریں آپ اسے ایسا بھی کیا کام کرنے گئی ہے جو وہ اب تک نہیں آئی زاویار کو غصہ آنے لگا تھا اب۔
وہ کب سے رباشہ کا انتظار کر رہا تھا اور ایک وہ تھی جو گھر آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔
بابا گھر میں داخل ہوتے ہی رباشہ نے اپنے باپ کا نام لیا تھا زاویار صوفے سے پشت ٹکائے سامنے کی جانب چہرہ کیے بیٹھا تھا اس لیے وہ رباشہ کو نہیں دیکھ سکا تھا ۔
بابا اپنے باپ کو پکارتے اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا آج وہ آزاد ہو کر اس گھر میں داخل ہوی تھی۔
پچھلی دفعہ وہ ایک نامحرم کی محبت میں جکڑی ان کے سامنے تھی مگر آج ۔۔۔۔اج اس کے ساتھ اس کا محافظ تھا ۔
بابا پکارنے پر زاویار فورا سے پیچھے مڑا تھا ۔
رباشہ !!چہرہ کسی تازہ کھلے پھول کی مانند کھل گیا اسی کا تو انتظار کر رہا تھا وہ ۔۔۔۔اس کے دل کو قرار پہنچا تھا ۔۔۔اج اسے انتظار کے میٹھے درد سے رہائی ملی تھی ۔۔۔مگر وہ تو اس سے بے خبر تھا کہ انتظار کا میٹھا درد ساری زندگی کے لیے اس کی قسمت میں لکھا جا چکا ہے ۔
وہ ایک بھوکے شیر کی طرح رباشہ کی جانب لپکا تھا ۔کتنا انتظار کر رہا تھا میں تمہارا کہاں تھی تم رباشہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامے وہ اس سے سوال کرنے لگا ۔
زاویار اس کی روح جسم سے پرواز کر گئی پورا جسم خوف سے تھر تھر کانپنے لگا تھا ۔
زاویار ایک مرتبہ پھر دماغ پہ زور ڈالا تھا ۔
میری بیوی سے ہاتھ ہٹا ضماہیر جو گاڑی کو پارک کرکے گھر میں داخل ہو تھا رباشہ کا ہاتھ زاویار کے ہاتھ میں دیکھ کر اس کے تن بدن میں آگ لگی تھی ۔
برقی رفتار سے بڑھتے ہوے اس نے زاویار کو دور دھکا دیا تھا ۔
بیوی ؟ میری منگیتر ہے رباشہ زاویار خود کو سنبھالے
واپس ضماہیر کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا ۔
منگیتر!! ہا ہا ہا ہا ہی کہاں کا رشتہ ہے یہ ؟ ضماہیر نے اس کی دلیل کا مزاق بنایا تھا ۔
رباشہ کیا کہ رہا ہے یہ زاویار اپنی نظروں کو رباشہ پہ مرکوز کر گیا ۔
زاویار کی نظر پڑتے ہی وہ جلدی سے ضماہیر کی پشت کو پکڑے اس کے پیچھے چھپی تھی وہ اچھے سے واقف تھی کہ پچھلی دفعہ دانیال کی وجہ سے اس نے بہت مصیبت اٹھائی تھی ۔
رباشہ کے پیچھے چھپنے پر ضماہیر کے دل کو سکون ملا تھا ۔
وہ محافظ تھا اپنی بیوی کا اسے خوشی ہوی تھی کہ اس کی بیوی جانتی ہے اس کی حفاظت صرف اس کا محافظ کر سکتا ہے ۔
رباشہ کے والدین تذبذب کا شکار تھے وہ زاویار کے گھر والوں کو کیسے سب بتائیں گے ۔
رباشہ تو ان کی امانت تھی اور وہ اس کی حفاظت بھی نہ کر سکے ۔
انہیں اپنی جان کی فکر ہونے لگی تھی ۔
یہ کیا کہ رہا ہے یہ ؟ زاویار چیخا تھا ۔
یہ نہیں!! اس گھر کا داماد سکون سے قدم اٹھاتے رباشہ کا ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ صوفے پر بٹھا گیا ۔
اتنا سب ہوگیا ہمیں بتانا کسی نے گوارا نہیں کیا ؟ رباشہ کہ والدین زاویار کے خوف سے سہمنے لگے تھے ۔
وہ اچھے سے جانتے تھے ضماہیر کے گھر سے جانے کے بعد انہیں سزا ملے گی ۔
وہ خود کو بچانے کے بہانے ڈھونڈنے لگے ۔
رباشہ !! حسینہ جانم رباشہ ضماہیر کے کندھے سے لگی بیہوش ہوچکی تھی ۔
حسینہ جانم !! آنٹی پانی لائیں
پانی !! وہ ڈر گیا تھا رباشہ کو بیہوش دیکھ کر وہ کہاں اپنی بیوی کو کھونے کا اتنا بڑا خسارہ برداشت کرسکتا تھا ۔
وہ ہڑبڑاکر پورا پانی کا گلاس ہی رباشہ کے منہ پر الٹ گیا ۔
چلو یہاں سے حسینہ جانم! رباشہ کو بانہوں میں بھرے وہ گھر سے باہر لایا تھا ۔
آنٹی ہم پھر کبھی آئیں گے جب آپ کے یہ مہمان چلے جائیں گے اور تم !! اگر میری حسینہ جانم کو کچھ ہوا تو خود کو دنیا سے خود غائب کر دینا اگر میں نے کیا تو تمہاری راکھ بھی نہیں ملے گی ۔
اس کا اشارہ زاویار کی طرف تھا جو ہولناک ہوے ضماہیر کو گھور رہا تھا ۔
رباشہ اس کی بانہوں میں اس کے سینے سے لگی تھی جبکہ اس کی آنکھوں میں ایک خونی سرخ پن تھا ۔
رباشہ کو ہسپتال لائے وہ اس کا چیک اپ کروارہا تھا ۔
کیا ہوا ہے ؟ کچھ ہوا تو نہیں رباشہ کو ؟
آپ کون ہیں ؟
رباشہ کا شوہر !! شوہر اس کے لبوں پہ ٹہرا تھا کتنا خوبصورت رشتہ تھا اس کا رباشہ سے ۔۔۔۔ہم سفر ٹہرا تھا وہ اس کا ۔۔۔
مبارک ہوں آپ باپ بننے والے ہیں
Your wife is 2 week pregnant
چہرے پہ ایک عجیب مسکراہٹ آئی تھی ۔
Is that true?
کیا یہ سچ ہے ؟ اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔۔وہ یقین کرنا چاہتا تھا کہ وہ باپ بننے والا ہے ۔
Yes , this is true…but your wife is too week …
جی ہاں یہ بلکل سچ ہے مگر آپ کی بیوی بہت کمزور ہے ان کا خیال رکھنا ہوگا آپ کو اگر اس دفعہ کوئی مسلہ وہا تو آگے کی گارنٹی ہم نہیں لے سکتے ۔
میں اپنی بیوی کا پورا خیال رکھوں گا ۔۔۔وہ خوشی سے عجیب طرح سے پیش آنےلگا تھا ۔
ڈاکٹر کو مکمل طور پر پرے رکھتے وہ رباشہ کے ماتھے پہ بوسہ دے گیا ۔
شکریہ حسینہ جانم ! مجھے اتنی بڑی خوشی دینے کا ۔
رباشہ تو شرم سے زمین میں گڑھنے کو تھی اسے بہت خوشی ہوی تھی اپنی پریگنینسی کا جان کر ۔۔۔۔۔مگر اسے شرم آنے لگی تھی یہ سوچ کر کہ وہ گھر والوں کا سامنہ کیسے کرے گی ۔۔
اور اوپر سے ضماہیر اس کا بار بار رباشہ کو عجیب نگاہوں سے دیکھنا اسے مزید شرم دلا رہا تھا ۔
گالوں پہ سرخی پھیلی تھی ۔
اب یہاں سے بھی اپنی بانہوں میں بھر کر لے جاؤ تمہیں حسینہ جانم ! رباشہ کے نزدیک ہوتے وہ آہستہ سے سرگوشی کرنے لگا ۔
رباشہ کی زبان منہ میں موجود ہوتے ہوے بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔
وشمہ کیا چاہتی ہو تم ؟ دانیال اچھا لڑکا ہے تمہیں خوش رکھے گا ۔
نہیں دادا سائیں مجھے دانیال سے شادی نہیں کرنی میں زین سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔
زین ! آنکھوں میں سوال تھا
جی زین !
میں محبت کرتی ہوں زین سے ! وہ اپنی محبت بدل گئی
تھی آج ۔۔۔
کیا تم اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنا چاہو گی ۔
نہیں دادا سائیں مجھے صرف زین کا ساتھ چاہیے ۔۔۔زین اسے تو خود پتا نہیں تھا کہ وشمہ اس کا نام لے کر اسے مصیبت کے منہ میں پھینک رہی ہے ۔
دانیال بہت چاہتا ہے تمہیں ؟ انہوں آخری کوشش کی تھی ۔
یک طرفہ محبت آج سے سات پہلے اس حویلی کو راکھ بنا چکی ہے کیا آپ چاہتے ہیں کہ ماضی دوبارہ دوہرایا جائے ۔
آنکھوں میں سرد پن تھا ۔
دادا سائیں خاموش سے اس کے پاس سے اٹھے اور دانیال کے کمرے کی جانب چل دیے جو کمرے میں چکر کاٹتا اپنی ہار کے اعلان کا انتظار کر رہا تھا ۔
وہ نہیں کرنا چاہتی تم سے شادی ۔
جانتا تھا میں ۔۔۔روح ریزہ ریزہ ہو کر بکھری تھی مانو جسم سے سارا خون پل بھر میں سوکھ گیا ہو ۔
مگر !!
دادا جان میں جھوٹے دلاسوں پر یقین نہیں رکھتا اپنے قدم سٹڈی روم کی جانب بڑھاتا وہ خود کو اندر بند کر گیا ۔
دادا سائیں کچھ کہنا چاہتے تھے مگر وہ انہیں خاموش کروا گیا ۔
کل واپس چلا جاؤں گا میں ۔اپ کروادیجیے گا وشمہ کی شادی زین سے ۔۔ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنی بات مکمل کرنے لگا ۔
کتنا دکھ بچتا ہے میری زندگی میں ؟ یہ خالی ہاتھ شاید دکھوں کو بھرنے کے لیے خالی ہیں ۔
جیب سے سگریٹ نکالے وہ صوفے سے ٹیک لگائے اسی کے سہارے نیچے بیٹھا سگریٹ سلگانے لگا ۔
سگریٹ کا دھواں کمرے میں پھیل گیا ۔۔۔۔۔دھواں اس قدر تھا کہ اس میں سانس لینا مشکل تھا مگر وہ ۔۔۔وہ سانس لے رہا تھا ۔۔۔۔
نہیں شاید اس کی سانسیں اسی وقت رک گئی تھی جب وشمہ نے اسے انکار کیا تھا ۔
اس کی سانسیں شاید تھم گئی تھی ۔۔۔وہ اپنی سانسیں وہی وشمہ کے پاس چھوڑ آیا تھا ۔۔۔۔وہ بغیر سانس کے ایک مردہ جسم تھا ۔
ہم اس بچے کو قبول نہیں کرتے گوندل خاندان کا بچہ اسی خاندان کی عورت سے ہوگا نہ کہ کسی نیچ خاندان کی ۔۔۔۔ضماہیر ہمیں یہ بچہ قبول نہیں ہے۔۔۔تمہیں رباشہ کا ابارشن کروانا ہوگا۔۔۔۔مروا دو اس بچے کو یہ ہمارے خاندان کا بچہ نہیں ہے ۔۔۔۔
ضماہیر اپنی خوشی میں سب کو شامل کرنا چاہتا تھا وہ تو اتنا خوش تھا جیسے دنیا جہان کی دولت اس کی جھولی میں سماگئی ہو ۔
یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ حویلی ماں یہ میرا بچہ ہے یہ سردار سید ضماہیر کا بچہ ہے۔۔۔اور میں کیوں اپنے بچے کی جان لوں ۔۔۔۔کیوں ایک بے گناہ کا گناہ گار بنوں۔
اسے حیرت ہوی تھی حویلی ماں کی سوچ پر وہ خود بھی ایک ماں تھی مگر ۔۔۔۔۔وہ کیسے ایک معصوم بچے کہ جو ابھی اس دنیا میں آیا بھی نہیں قتل کا کہ سکتی ہیں ۔
کیا جادو کیا ہے تم پر اس کل کی آئی لڑکی نے تم سمجھتے کیوں نہیں ہو وہ تمھارا بچہ نہیں ہے وہ اس لڑکی رباشہ کا بچہ ہے۔۔۔
اس لڑکی کا گندا خون بہتا ہے بچے کی رگوں میں۔۔
رباشہ کا بچہ وہ اکیلی تو اسے اس دنیا میں نہیں لائی ۔۔۔۔میری وجہ سے وہ بچہ اس دنیا میں آیا ہے ۔۔۔اور جس خون کی آپ بات کر رہی ہیں مت بھولیں اس میں میرا بھی خون ہے اس میں گوندل خاندان کا بھی خون بہتا ہے ۔۔۔جو بچہ اس دنیا میں ابھی آیا بھی نہیں آپ اسے مروانے کا سوچ رہی ہیں مجھے حیرت ہے آپ کی سوچ پر۔۔۔۔
تم کچھ نہیں کر سکتے ٹھیک ہے میں خود ہی مار دوں گی اسے۔۔۔۔
ایسا سوچیے گا بھی مت ضماہیر شیر سی آواز میں دھاڑا تھا ۔۔۔۔ہر مرتبہ آپ کے سامنے آپ کا پوتا ہوتا تھا مگر اب آپ کا سامنہ ایک باپ اور ایک شوہر سے ہوگا۔۔۔۔ ایک باپ اپنی اولاد کی زندگی اور ایک شوہر اپنی بیوی کی حفاظت کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔کسی بھی حد تک جاسکتا ہے کسی کی جان بھی لے سکتا ہے۔۔انکھوں میں موجود سرخی بڑھی تھی جو ایک پل کے لیے حویلی ماں کو بھی خوفزدہ کر گئی ۔
یہ بات اچھے سے زہن نشین کر لیں آپ وہ کوئی کل کی آئی لڑکی نہیں بیوی ہے میری جسے خود آپ نے میری زندگی میں شامل کیا تھا وہ رباشہ ضماہیر گوندل ہے۔۔۔یہ بات مجھے بار بار یاد نہ دلانی پڑے۔
ضماہیر تو بہت خوش تھا اس اتنی بڑی خوشی کی خبر پر اور یہاں حویلی ماں اس کا دماغ مکمل طور پر گھوم چکا تھا ۔
رباشہ تم کمرے میں جاؤ میں آتا ہوں وہ شاید نہیں چاہتا تھا کہ اپنے غصے میں اپنی حسینہ جانم کو تکلیف دے ۔۔۔اسے کمرے میں جانے کا کہتا وہ خود حویلی سے باہر نکلا تھا ۔
ہم اس بچے کو زندہ نہیں رہنے دیں گے حویلی ماں پر تو عزاب ٹوٹ پڑا تھا رباشہ کے ماں بننے کی خبر کا سن کر وہ تو کبھی نہیں چاہتی تھی کہ حویلی کا سرپرست اس خاندان کی عورت سے نہ ہو ۔
انہیں تو ضماہیر کی نسل مناہل سے بڑھانی تھی مگر یہاں سب الٹ پڑ چکا تھا ۔
رباشہ کے قدم کمرے کی جانب بڑھے تھے مگر وشمہ اس کا زہن پھر وشمہ پر آیا تھا اسے ملنا تھا وشمہ سے ۔۔۔۔
کمرے کے باہر کھڑی کمرہ لاک دیکھ کر وہ دانیال کے کمرے کی جانب بڑھنے لگی ۔
مجھے جانا چاہیے کیا وہ خود سے سوال کرنے لگی ؟
میں کچھ غلط تو نہیں کر رہی مجھے صرف وشمہ کے کمرے کی چابی چاہیے ۔۔۔دروازہ کھولتے وہ اندر داخل ہوی تھی ۔
مجھے وشمہ کے کمرے کی چابی چاہیے ؟ دانیال کے سامنے ہاتھ کیا تھا ۔
کیوں؟ مجھے ملنا ہے اس سے ۔۔۔
دانیال صوفے سے اٹھتا اس کی جانب بڑھا تھا ۔
تمہاری ہمت کیسے ہوی وشمہ کو سب بتانے کی دانیال اچھے سے جانتا تھا کہ اس کے رشتہ کا یا تو صرف وہ جانتا ہے یا رباشہ یا ضماہیر ۔۔
ضماہیر تو اپنی بہن کو دکھ پہچانے سے گیا بچی تھی تو صرف رباشہ
میں نے صرف اس لیے بتایا تھا کہ اسے کل کو کہیں اور سے پتہ چلے اس سے پہلے میں ہی بتادوں ۔۔۔
میں نہیں دوں گا ۔چابی کو اپنی پینٹ کی پوکٹ میں رکھ گیا ۔
ایسے زبردستی محبت نہیں ہوتی دانیال وہ سمجھانے والے انداز میں اپنا لہجہ دھیما کر گئی۔
میں نے تو محبت سے بھی محبت کی تھی مگر ملی کیا ؟ آنکھوں میں سرد لہر دوڑ گئی۔
تم سچ میں محبت کرتے ہو وشمہ سے
تمہیں محبت ہے ضماہیر سے ۔۔۔۔کیسی محبت تھی ان کی جو آج وہ ایک دوسرے سے ہی ان کی محبت کے متعلق سوال کر رہے تھے ۔
شوہر ہیں وہ میرے ان سے محبت کرنا مجھ پر فرض ہے ۔
بیوی بنے گی وہ میری اس سے محبت کرنا مجھ پر فرض ہوگا دانیال نے لہجہ اسی کہ لہجہ میں ڈھالا تھا ۔
محبت تو تمہیں بھی مجھ سے تھی نہ پھر اس کا کیا؟ کہیں نہ کہیں اس کے دل میں سوئے رباشہ کے لیے اس کے جزبات ابھرے تھے ۔
ہاں مجھے محبت ہوی تھی تم سے ۔۔۔تم تھے میری محبت اور میں نہیں جانتی مجھے کیسے تم سے محبت ہوی ۔۔۔۔بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس کے چہرے پہ ایک نشان پڑا تھا ۔
ضماہیر!! ضماہیر کو وہاں کمرے میں دیکھ کر اس کا دل جکڑا تھا ۔۔۔۔
ضماہیر رباشہ کو ڈھونڈتے ساری حویلی میں گھوم رہا تھا مگر رباشہ یہاں دانیال ۔۔۔۔کیا کر رہی ہو یہاں ۔۔۔وہ چیختا رباشہ کے بازو کو سختی سے ہاتھ میں جکڑ گیا
جیسے رباشہ کے بازوؤں کو جسم سے الگ کر دے گا ۔
وہ میں دانیال ۔۔۔۔الفاظ منہ میں دم توڑنے لگے تھے
یہی تو پوچھ رہا ہوں کیا کر رہی ہو یہاں ۔۔۔
پوچھو اپنی بیوی سے کیا کر رہی ہے وہ میرے کمرے میں وہ سکون سے شیطانی مسکراہٹ لیے اپنے قدم پیچھے بڑھا گیا ۔
رباشہ کو کھینچے ضماہیر اسے کمرے سے باہر لے جانے لگا ۔
اپنی بیوی سے یہ بھی پوچھ لینا یہ بچہ کس کا ہے بلکہ میری مانو تو ڈی این اے ٹیسٹ کروا لینا ویسے بھی تمہاری بیوی مجھ سے بہت دفعہ اکیلے میں مل چکی ہے ۔
اس نے اپنے تیر چھوڑے تھے وہ خود ناواقف تھا کہ وہ کیا کہ رہا ہے ۔
رباشہ تو کبھی اس سے ملی ہی نہیں تھی مگر آج !!! آج وہ اس کے کردار کو داغ لگا گیا اس کے شوہر کے سامنے اس کی عزت چھلنی کر گیا ۔
اس کے کردار پہ داغ لگاتا وہ یہ تک بھول گیا کہ اس کے کافر دل کی پہلی تمنا وہی لڑکی تھی ۔
ضماہیر کا غصہ ساتویں آسمان پہ تھا ۔۔۔۔۔اسے غصہ آیا تھا رباشہ کو اس کمرے میں دیکھ کر ۔۔۔وہ اظہار محبت کر رہی تھی دانیال سے ۔۔۔۔کیا اسے محبت نہیں تھی ضماہیر سے ۔۔۔۔وہ تو بیوی تھی اس کی پھر بھی ۔۔۔
ضماہیر غصے میں رباشہ کو گھسیٹتے اسے کمرے میں بیڈ پر پھینک گیا ۔۔
