Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 28)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 28)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
رباشہ ہماری پوتی ہے ہمارے بیٹے کی نشانی ! حویلی ماں تو ناسمجھی سے اپنے شوہر کو دیکھنے لگی تھی ان کے لہجے میں خوشی اور حیرانی کے ملے جلے تاثرات ہی دادا سائیں کو بہت کچھ سمجھا گئے تھے ۔
ہیر میں جاتی ہوں ہیر کے پاس بتاتی ہوں اسے _ اس کی ہمت کیسے ہوی ہمیں اتنی بڑی خوشی کی خبر سے دور رکھنے کی مصنوعی غصہ کیے وہ ضماہیر کے کمرے کی جانب گئی تھی ۔
کمرے کے باہر پہنچتے ہی وہ حیران ہوی تھی کمرا مکمل طور پر تنہا تھا گویا وہاں کوئی زی روح کبھی موجود ہی نہ رہا ہو _ گھپ اندھیرا حویلی ماں کی پریشانی کو بڑھا گیا ۔
ہیر کہاں گیا اور رباشہ کہاں ہے ؟ دونوں کا کمرہ خالی کیوں ہے ؟ ضماہیر کی زندگی میں حویلی ماں کی اتنی حیثیت ہی کہاں تھی کہ وہ انہیں اپنی زندگی میں چلتے مسائل بتاتا ۔
دادا سائیں بھی حیران ہوے اس کمرے کا معائنہ کر رہے تھے جہاں ہر چیز ترتیب سے لگی تھی ۔
حویلی ماں اور دادا سائیں پریشانی کے عالم میں ڈوبے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔
فاطمہ! فاطمہ فاطمہ کو پتا ہوگا حویلی ماں نے اندازہ لگایا تھا ۔
فاطمہ کے کمرے میں داخل ہوتے ہی انہوں نے فاطمہ خالہ کو پکارا تھا جو شاید اس وقت کمرے میں موجود نہیں تھی ۔
فاطمہ!! دوسری آواز میں لہجہ زرا تیز استعمال کیا تھا ۔
جی حویلی ماں فاطمہ بیگم جو کچن میں کام کر رہی تھی اپنے دوپٹے سے ہاتھوں کو خشک کرتے حویلی ماں کے سامنے آئی تھی
ہیر کہاں ہے ؟
مجھے نہیں پتا
اور رباشہ ! ضماہیر کے ساتھ ساتھ رباشہ بھی کمرے میں موجود نہیں تھی –
رباشہ اپنے گھر گئی ہے
اپنے گھر ؟ کونسا گھر ؟
کونسا گھر فاطمہ بیگم کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوے تھے ۔
اپنے مائیکے گئی ہے !
اس کا مائیکہ اور سسرال دونوں ہی یہ حویلی ہے!_
تمہیں معلوم ہے رباشہ کی حقیقت _ اس حویلی کی بیٹی ہے وہ میرے بیٹے کی نشانی _ میں لے کر آتی ہوں اسے _
میں اپنی پوتی کو وہاں نہیں چھوڑ سکتی ۔
کوئی کہیں نہیں جائے گا ضماہیر جو ابھی ابھی اجڑی سی حالت میں انگلیوں میں سگریٹ دبائے گھر میں داخل ہوا تھا حویلی ماں کی بات پر لہو چھلکاتا چہرہ لیے دھاڑا تھا ۔
کیوں ؟ میری پوتی ہے وہ میں جاؤ گی اسے لانے –
آپ کو معلوم ہوگیا ہے نہ کہ وہ آپ کی ہوتی ہے تو اب اسے قبول کرلیں اور میری اور اس کی زندگی تباہ نہ کریں لہجے میں التجا تھی ۔
ہیر ! ضماہیر کی بات پر حویلی ماں کا دل یک دم تیزی سے چلنے لگا تھا نم لہجہ لیے انہوں نے ضماہیر کو اپنے سینے سے لگایا تھا ۔
دور ہٹیں مجھ سے ! اور میری بیوی سے
جس وقت اس نرم حصار کی ضرورت تھی تب تو یہ موجود نہیں تھا تو اب دکھلاوا کیسا !
حویلی ماں کو خود سے دور کیے اپنی شرٹ کا تیسرا بٹن کھینچ کر توڑتے وہ سگریٹ کو سختی سے لبوں میں دباگیا ۔
میرے پیچھے نہ آنا !! قدم کمرے کی جانب سیڑھیوں کی طرف بڑھے تھے ۔
میں اپنی پوتی کے پاس جارہی ہوں _ کتنے سالوں بعد تو اسے اپنی پوتی ملی تھی _ اپنے بیٹے کی نشانی _ انہیں تڑپ تھی اپنی پوتی سے ملنے کی _ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ رباشہ کے پاس اڑ کر پہنچ جائیں اور اسے خود سے لگالیں ۔
سمجھ نہیں آئی میں نے کیا کہا ہے کوئی میری بیوی کے پاس نہیں جائے گا وہ اپنی مرضی سے گئی ہے خود ہی واپس آجائے گی۔
اور اگر کوئی اس کے پاس گیا پھر چاہے وہ کوئی بھی ہو خود کو اس گھر میں داخل کرنے سے پہلے زہر کھالے _
کیونکہ میں نے موت دی تو وہ دردناک ہوگی ۔
تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے وہ کمرے میں گیا تھا ۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو بھی معلوم ہے رباشہ اس گھر میں موجود نہیں ہے وہ دانیال کے پاس ہے ۔
الماری سے کپڑے لیے وہ واشروم میں گیا خود پر ٹھنڈا پانی ڈالے اپنے اندر کے غم کو مٹانا چاہ رہا تھا ۔
وشمہ !! اپنی حالت بہتر بنائے بالوں میں کنگھا کیے بلیک قمیض شلوار پہنے آستینوں کو کہنیوں تک چڑھائے وہ اپنے فارم ہاؤس کے تہ خانے میں داخل ہوا تھا جہاں اس کی بہن وشمہ موجود تھی ۔
بھائی ! ضماہیر کو دیکھتے ہی وہ فورا اس کی جانب لپکی اس کے سینے پہ سر ٹکا گئی ۔
گڑیا کیسی ہو ؟ جب سے وشمہ اس کے پاس آئی یہ ان کے درمیان پہلی گفتگو تھی ۔
وہ وشمہ سے صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا اسے دانیال کے ساتھ رہنا ہے ۔
وہ جانتا تھا زبردستی کے رشتے قائم نہیں رہتے _ مگر اپنی باری میں وہ بہت خود غرض تھا _ وہ خود بھی تو رباشہ کے ساتھ زبردستی کر رہا تھا ۔
میں الحمدللہ بلکل ٹھیک _ مکمل پرسکون جواب ملا تھا جبکہ وشمہ کے چہرے پہ پھیلے خوشی اور محبت کے رنگ چیخ چیخ کے دانیال کی محبت کا ثبوت دے رہے تھے ۔
اس کا بھرا بھرا وجود _ چہرے پہ کھلا گلال ضماہیر کو گواہی دے رہا تھا کہ اس کی بہن کے لیے دانیال سے بہتر کوئی ہم سفر نہیں ۔
گڑیا تم رہنا چاہتی ہو دانیال کے ساتھ ؟
بھائی میں نے آپ سے کب کہا کہ مجھے ان کے ساتھ نہیں رہنا ؟ وشمہ نے پلٹ کر اسی سے جواب مانگا تھا ۔
اس نے تمہیں زبردستی اس رشتے میں باندھا ہے تمہیں ہم سے دور رکھا ہے ۔
بھائی میں مانتی ہوں رشتہ زبردستی قائم ہوا تھا مگر وہ اب شوہر ہیں میرے _ اور شوہر کے پیٹھ پیچھے ان کی برائی نہیں کی جاتی
تم خوش ہو دانیال کے ساتھ ؟
خوشی کا تو معلوم نہیں مگر جب سے ان کی زندگی میں شامل ہوی ہوں بچپن کے ہر غم کا ازالہ ہونے لگا ہے ۔
مگر مجھے وہ انساں بلکل پسند نہیں تم جانتی بھی ہو ہم نے کتنا غم برداشت کیا ہے اس کی وجہ سے _ ہمارا بچپن کتنا تکلیف دہ گزرا ہے ۔
جو کچھ ہوا اس میں دانیال کا قصور نہیں تھا بھائی _ کیا آپ یہ چاہتے ہیں جو جو تکلیف ہم نے برداشت کی ہے وہ میرے بچے بھی کریں _ وہ بھی بغیر ماں باپ کے زندگی گزاریں ؟
ماں باپ کے بغیر ؟ ناسمجھی کی حالت میں وشمہ کو دیکھے وہ سوال کرنے لگا کیونکہ وہ تو صرف دانیال سے اسے رہا کروانا چاہتا تھا _ اس کے بچے کے پاس باپ موجود نہ ہوتا مگر ماں تو ہے نہ
اگر میں دانیال سے جدا ہوی تو میں بھی مرجاؤ گی _
مجھ لگتا ہے کہ اگر میری نصبت اس سے ختم ہوی تو میرا وجود اس دنیا سے منھ موڑ لے گا ۔
وشمہ کی آنکھوں میں چھپا پیار ہی ضماہیر کے ہر سوال کا جواب دے رہا تھا جب اس کی بہن خوش ہے تو وہ کیوں اس سے اس کی خوشی چھنیے ۔
اسے مل گیا تھا اس کے ہر سوال کا جواب _ مگر اس دفعہ پھر ایک دفعہ وہ دوراہے پر کھڑا تھا _ ایک طرف وہ شخص تھا جس کے وجود سے اسے نفرت تھی جبکہ _ دوسری طرف اس کی بہن کی محبت تھی _ خوشی تھی اس کی بہن کی ۔
بھائی مجھے یقین ہے آپ مجھ سے میرا سہارا نہیں چھینے گے _ آنکھوں سے جاری ہوا سمندر لیے وہ بیڈ پہ بیٹھی سسکیاں لینے لگی ۔
وشمہ میرے بچے تم رو نہ ! تمہارا بھائی اتنا سنگ دل نہیں کہ وہ تم پر قیامت سے پہلے قیامت ڈھائے ۔
وہ آج سب ہار گیا تھا اس کی بیوی اس کے پاس موجود نہیں تھی _ اس کی بہن _ اس کی بہن وہ شخص چاہتی تھی جس کے وجود سے ضماہیر کو کراہت تھی _ اور وہ بذات خود _ وہ بچپن کا تنہا آج بھی اپنے ہر فیصلے میں تنہا تھا ۔
رباشہ مجھے وشمہ چاہیے! کسی معصوم بچے کی طرح اس کا لہجہ کرب سے بھرپور تھا ۔
دانیال مل جائے گی وشمہ ضماہیر اتنے سخت دل نہیں ہیں کہ وہ تمہیں تمہاری بیوی سے دور کریں ۔
اور اگر اس نے ایسا کیا ؟ وہ اچھے سے جانتا تھا ایک بھائی کے لیے اپنی بہن کو قدر عزیز ہوتی ہے
وہ نہیں کریں گے ایسا رباشہ نے ایک دفعہ پھر تسلی دی تھی ۔
اگر اس نے ایسا کیا تو تم بیوہ ہوجاؤ گی وشمہ سے دوری کا ڈر ہی اس کے لیے سوہان روح تھا _ اور وہ جانتا تھا اس ڈر کو مکمل کرنے کی ہمت ہے ضماہیر میں ۔
میرے شوہر ہیں وہ محبت کرتے ہیں وہ مجھ سے _ محبت میں جدائی کے غم سے واقف ہیں وہ _ میں جانتی ہوں وہ کبھی تمہیں وشمہ سے دور نہیں کریں گے ۔
تم معاف کر دو ضماہیر کو ؟ دانیال نے ضماہیر کی سائیڈ لی تھی ۔
معاف کرنا کیا اتنا آسان ہے ؟
معاف کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے ۔
کیا دل دکھانے والوں کو اللہ ناپسند نہیں کرتا ؟
اسے پچھتاوا ہے _ تمہیں معاف کرنا چاہیے اسے
ایک عورت کیا اتنی کمزور ہوتی ہے کہ اگر اس کے خلاف بات کی جائے تو اس کا شوہر اس پر یقین نہ کرے ۔
رباشہ جو کچھ ہوا اس سب میں ضماہیر کا قصور نہیں _ سب میری وجہ سے ہوا ہے _ میں مجرم ہوں تمہارا _ اس وقت میں نے جو گواہی دی وہ تمہارے خلاف تھی _
میں بیوی ہوں ان کی _ نکاح میں ہوں ان کے _ انہیں یقین کرنا چاہیے تھا مجھ پر ۔
معاف تو میں تمہیں بھی نہیں کرسکتی مگر میں تمہاری مدد صرف اس لیے کر رہی ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتی ایک معصوم بچہ دنیا میں آتے ہی اپنے باپ کے دیدار سے محروم ہو _ اسے وہ تمام خوشیاں نہ ملیں جو باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے ۔۔
رباشہ کا غم ایک دفعہ پھر تازہ ہوا تھا جبکہ دانیال تو اس کے الفاظ کی تہوں میں ہی گم ہوگیا تھا ۔
اس کی چلتی زبان تالو کو چپکی تھی ۔
کمرے میں صرف رباشہ کی سسکیوں کی آواز گونجنے لگے تھی ۔
مجھے ملنا ہے تم سے میرے فارم ہاؤس پر آؤ! ضماہیر نے دانیال کو کال ملائی تھی ۔
ضماہیر کی کال پر کمرے میں ارتعاش پیدا ہوا تھا جبکہ خاموشی کا وہ دورانیہ جو پیدا ہوا تھا اس میں بھی خلل آیا تھا ۔
اپنی بات کہے وہ فوراً کال کاٹ گیا ۔
تمہارے شوہر کی کال آئی ہے بلا رہا ہے مجھے ؟ موبائل پینٹ کی پاکٹ میں رکھتے اس نے رباشہ کی سوالیہ نظروں کو جانچتے جواب دیا تھا ۔
کیوں ؟
معلوم نہیں!!
میں جارہا ہوں تم دروازہ دیہان سے بند رکھنا _
وہ دونوں ہی ایک دوسرے کی امانتوں کی حفاظت بخوبی کر رہے تھے _ کیونکہ وہ جانتے تھے ان کی بیویاں ان کی طاقت کے ساتھ ساتھ ان کی کمزوری بھی ہیں اگر انہیں کچھ ہوا تو دونوں ایک دوسرے کے غضب کا شکار ہوں گے ۔
ان کا دائرہ مرکز _ ایک دوسرے کی تباہی ٹہرے گا ۔
صبح ہوتے ہی وہ سب سے پہلے ضماہیر کے فارم ہاؤس پہ پہنچا تھا ۔
شاہانہ چال چلتے _ چہرے پہ کرخت آثار لیے ضماہیر سیڑھیاں اترتے نیچے دانیال کے پاس آیا تھا ۔
وشمہ !! وشمہ کہ کر ضماہیر نے جملے کو ادھورا چھوڑا تھا ۔
وشمہ کیا ہوا ہے وشمہ کو _ ضماہیر کا تاثرات سے عاری چہرہ چند پل کے لیے دانیال کو پریشان کرگیا ۔
وشمہ اسی فارم ہاؤس پر ہے !
کہاں ہیں وہ ؟ وشمہ کی موجودگی کا سنتے دانیال کی روح میں تازگی آئی تھی اور وہ لپک کر ضماہیر کے گلے سے لگا تھا ۔
ضماہیر کہاں ہے میری وشمہ ؟
پہلے مجھے رباشہ کا بتاؤ کہاں ہے وہ ؟
میں خود تمہیں رباشہ لاکر دوں گا پر پلیز مجھے وشمہ سے ملنے دو ۔
میں نے اور میری بہن نے بہت تکلیف برداشت کی ہے تمہاری وجہ سے مگر میں اب نہیں چاہتا کہ وہ مزید تکلیف برداشت کرے صرف اسی وجہ سے میں تمہیں وہ واپس لوٹا رہا ہوں کیونکہ وہ تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہے ضماہیر نے دانیال کو خود سے دور کیا تھا ۔
ضماہیر جو کچھ ہوا اس میں میرا قصور نہیں تھا مجھے خود بھی وہ عورت ناپسند ہے _ اگر وہ میرے سامنے اجائے تو یقین کرو ان ہاتھوں سے قتل کروں گا اس کا _
وہ ماں ہونے کا درجہ ہی نہیں رکھتی _ ماں جیسے رشتے کی بھینٹ چڑھا دی اس نے ۔
وہ پاکستان میں ہے _
کون ؟؟؟؟ میری ماں !! گویا دانیال کو اپنے کانوں پر یقین ہی نہ آیا ہو ۔
ہاں تمہاری ماں
کہاں ہیں وہ ؟؟ غصے میں چہرے کے آثار سرخ ہوے تھے
۔
دانیال!! دانیال کو دیکھتے ہی وشمہ نے اسے پکارا تھا ۔
وشمہ! وہ ترس گیا تھا جس آواز کو سننے کے لیے آج اس نے وہ سن لی تھی _ آج اس کا ہجر مکمل ہوا تھا _
وشمہ ہر چیز بھلائے وہ وشمہ کے پاس پہنچا اسے اپنے سینے سے لگایا ۔
اس نے وشمہ کو اتنی زور سے خود میں قید کیا تھا گویا وشمہ اس سے دور نہ ہو جائے ۔
وشمہ کو سینے سے لگائے آنکھیں بند کیے وہ اس کی بھینی بھینی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا ۔
وہ کہاں چاہتا تھا کہ ایک پل بھی اسے اپنی بیوی کے بغیر گزارنا پڑے _ قاتل حسینہ تم نے تو جان لے لی تھی میری وشمہ کے کان میں۔ سرگوشی کیے اس نے وشمہ کو اپنی قید سے آزاد کیا تھا مگر اس کے ہاتھ وہ وشمہ کے ہاتھوں میں ہی الجھے تھے ۔
بھائی! دانیال کے بڑھتے ہاتھ دیکھ اس نےجانچتی نظروں سے ضماہیر کو دیکھا تھا ۔
ضماہیر نے آنکھوں سے اشارہ کیا تھا جو ہاں کی صورت میں تھا ۔
ضماہیر کے اشارے کا مطلب سمجھتی وہ فوراً سے دانیال کا بڑھا ہاتھ تھام گئی ۔
دانیال!! ضماہیر نے دانیال کو پکارا تھا جو قدم پلٹ کر اس سے ملا تھا ۔
ضماہیر نے دانیال کو اپنے گلے لگایا تھا بیٹی دے رہا ہوں اپنا بیٹا سمجھ کر _ یہ رباشہ کو پلا دینا اور اسے میرے اس فارم ہاؤس پر لے آنا _ ضماہیر نے جیب سے ایک شاپر جو سفید رنگ کا ٹرانسپیرنٹ تھا _ دانیال کی جیب میں ڈالا تھا ۔
کیا ہے یہ ؟ وہ ناسمجھی سے دانیال کے گلے لگے ہی اس سے استفسار کرنے لگا ۔
Anasthesia powder
بیہوشی کی دوا _
کیا ؟ تو تم کیا کرنے والے ہو
اس کا مطلب تم سے نہیں بس جو میں نے کہا ہے وہ کردینا ۔
ضماہیر سے دور ہوے دانیال وشمہ کا ہاتھ تھامے اس فارم ہاؤس سے باہر لایا تھا ۔
جانتی ہوں سانسیں ساتھ چھوڑ گئی تھی میرا ؟ بوجھل لہجے میں سرگوشی کیے دانیال نے وشمہ کا سیٹ بیلٹ لگایا تھا ۔
دانیال کی بڑھتی گرم سانسیں وشمہ کی گردن کو سرخ کرنے لگی ۔
مگر مجھے خوشی ہوی تم سے دور ہو کر ؟
خوشی!! وشمہ نے منھ اونچا کیے اس کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھے خوشی کو کھینچا تھا ۔
ہاں خوشی!!
تو اس کا مطلب مجھ سے دوری آپ کے لیے خوشی کا باعث ہے _ کھلا چہرہ یک دم کسی مرجھائے ہوے پھول کی طرح زرد آلود ہوا تھا ۔
ہاں کیونکہ مجھے اس بہانے یہ تو معلوم ہوا کہ صرف میں ہی نہیں تم بھی میرے عشق میں پاگل ہو _ یہ عشق کی آگ ہم دونوں کو جھلسا کر راکھ کرنے کو ہے ۔
یہ آتش عشق ہے _ اس میں جھلسنا ہم دونوں کا مقدر ہے _ گاڑی کو بریک لگائے اپنے جذبات کو لگام دینے کی ناکام کوشش سے تنگ آئے وہ بہک گیا تھا _ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ دیکھ کر ۔
اس کا بھرا بھرا وجود _ سفید گالوں پہ پھیلی سرخی _ چہرے کو چھیڑتی شرارتی لٹھیں جو بار بار اس کے چہرے کو چوم رہی تھی _ جھکی نگاہیں _ دانیال کو اکسا رہی تھی اس کی قربت کے لیے ۔
اپنے جذبات پر سے کنٹرول کھوئے وشمہ کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھامے اس کے لبوں پہ جھکا اس کی سانسیں نتھارنے لگا ۔
اس کی ایک ایک سانس کو خود میں نچوڑے وہ وشمہ سے دور ہوا تھا ۔
دانیال کے دور ہوتے ہی وشمہ کا ہاتھ اپنے سینے پہ گیا تھا جہاں اس کا بیگانہ دل باہر آنے کے لیے تیار تھا ۔
جان لے لو میری ! قاتل حسینہ
ایک عجیب بات اس کے لبوں سے ادا ہوی تھی ۔
میرا بس چلے تو جان کا ایک قطرہ بھی آپ میں نہ چھوڑو _ ساری جان آپ کے جسم سے کھینچ لوں ۔اج پہلی بار وشمہ نے اتنی بے باک بات کی تھی جو دانیال کے بڑھتے جذبات پر تیل کا کام کرنے لگی ۔
کچھ چھوڑا ہے تم نے مجھے _ جان کیا تم تو مجھے بھی مجھ سے چھین چکی ہو _
ویسے میری بیوی مجھ سے دور رہ کر رومنٹک ہو گئی ہے وشمہ کے چہرے پہ اپنی سانسیں چھوڑے وہ اسے لرزنے پہ مجبور کر گیا
تم اندر جاؤ میں آیا ؟ وہ اسی فارم ہاؤس پر آیا تھا جہاں رباشہ تھی !
یہ دیا ہے ضماہیر نے رباشہ کے سامنے آئے دانیال نے جیب سے وہ پیکٹ نکالا تھا ۔
بیوہشی کی دوا !!!
کیا پر کیوں ؟
مجھے معلوم نہیں اس نے کہا ہے کہ رباشہ کو یہ پلا کر میرے پاس بھیج دینا ۔۔
اس کا مطلب وشمہ مل گئی تمہیں ؟
ہاں میرے ساتھ ہے مگر میں صبح اس سے تمہیں ملواؤں گا ۔
تم پیو گی ؟ اس نے سوال پوچھا تھا ۔
ناچاہتے ہوے بھی پینی پڑے گی _
