Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 12)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 12)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
کیا ہوا حویلی ماں ؟ دادو سائیں کیسے ہیں وہ تیزی سے گاڑی چلاتا ہسپتال پہنچا تھا
ائیرپورٹ سے آتے ہوے ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا حویلی ماں نے بھیگے لہجے میں جواب دیا
اب کیسے ہیں ؟ زیادہ چوٹ تو نہیں لگی یہ ضماہیر اور حویلی ماں کے درمیان پر سکون طریقے سے کی جانے والی پہلی گفتگو تھی ۔
نہیں زیادہ چوٹ نہیں آئی بس بازو کی ہڈی میں ہلکا سا فریکچر ہوا ہے
شکر ہے خدا پاک کا ! حویلی ماں سے بات کرتا وہ دادو سائیں کے کمرے کی جانب بڑھا تھا مگر راستے میں دانیال کو کھڑا دیکھ کر اس کے تن بدن میں آگ لگی تھی ۔
دانیال کو اگنور کرتا وہ کمرے کی جانب رواں تھا ۔
ضماہیر مجھ سے نہیں ملو گے ضماہیر کو خود کو اگنور کرتا دیکھ دانیال نے اسے پکارا تھا ۔
بچپن سے تو دیکھ رہا ہوں اپنی بربادی کی وجہ کو دانت پیس کر اس نے دبے لہجے میں جواب دیا
جو کچھ ہوا اس میں میرا قصور نہیں تھا ۔۔۔۔۔مجھے کچھ معلوم نہیں تھا ۔۔۔تم کیوں مجھے قصور وار ٹہرا رہے ہو اس گناہ کا جو میں نے کبھی نہیں کیا
میرے خیال سے ہم ہسپتال میں ہیں دانیال کو جواب دیتا وہ دادو سائیں کے کمرے میں داخل ہوا ۔
اسلام وعلیکم! دادو کیسے ہو آپ ؟
او آ میرا شیر مجھے اپنے شیر کا ہی تو انتظار تھا دادو سائیں جلدی سے ضماہیر کے گلے لگے تھے
دیہان سے دادو سائیں کہیں دوسری ہڈی پر بھی فریکچر چڑھانا پڑے وہ دانت دکھائے اپنے دادا کو پریشان کرنے لگا ۔
ہاں ہاں چڑھ جانے دو تم ہو نہ میری خدمت کے لیے ۔
صرف میں نہیں اب تو آپ کی بہو بھی ہے دادو
بہو !! وہ پریشان سے ضماہیر کے چہرے کو تک رہے تھے
ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں میں نے کوئی عجیب بات تو نہیں کی ۔
بہو!! مطلب میں سمجھا نہیں
بہو مطلب میری حسینہ جانم !! میری بیوی رباشہ کو یاد کرتے ضماہیر کے ہونٹوں پہ میٹھی سی مسکان نے احاطہ کیا تھا۔
تم نے کب شادی کی ؟ ہمیں بتانا تک گوارا نہیں کیا ؟ وہ مصنوعی غصے کی کیفیت میں ضماہیر کو گھورنے لگے ۔
دادو سائیں سب کچھ اتنا جلدی ہوا تھا کہ کسی کو بتانے کا موقع نہیں ملا۔
ابھی تم صبر کرو مجھے گھر آنے دو باتا ہوں میں تمہیں ؟ مجھے ڈسچارج کرواؤ بہو سے ملنا ہے مجھے ۔۔۔وہ اوتاولے ہو رہے تھے اپنے ضماہیر کی بیوی کو دیکھنے کے لیے
ضماہیر کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ دیکھ کر وہ ضماہیر کی محبت کا اندازہ تو بخوبی لگا چکے تھے ۔
دادو سائیں کو ڈسچارج کروا کے وہ ہسپتال سے حویلی لایا تھا اور خود جلدی سے اپنی شرٹ کے بٹن کھولتا اپنے کمرے میں داخل ہوا جہاں اس کی حسینہ جانم ابھی بھی ولیمے والے کپڑوں میں بیڈ پر آڑی ترچھی سوئی ہوی تھی۔
جانم ! میری غیر موجودگی کا فائیدہ اٹھا کر پورے بیڈ پر قابض ہو گئی تم ۔
اب میں کہا سوں گا رباشہ کے سراہنے بیٹھتا وہ اپنی شرٹ اتار چکا تھا ۔اس کا دل بے ایمان ہو رہا تھا اپنی حسینہ جانم کو ان کپڑوں میں دیکھ کر وہ پہلے بھی بہت مشکل سے خود پہ پہرے بیٹھائے اسے حویلی چھوڑ کر ہسپتال گیا تھا مگر اب اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا رباشہ کو بخشنے کا ۔
بہت کر لیا میں نے صبر! اب مجھے پھل چاہیے صبر کا رباشہ کا لحاف ہٹا کر وہ اس پر اپنا سایہ بناگیا ۔
رباشہ پہ جھکا اپنی وہشت اس میں انڈیلنا لگا اپنی محبت سے اسے مہکانے کا خواب لیے وہ پوری شدت سے اس کی گردن کو چھونے لگا۔
اپنی گردن پہ گرم سانسوں کا لمس محسوس کرتی رباشہ نے جلدی سے آنکھیں کھولی تھی
آپ آگئے !!اس کے شرٹ لیس سینے پہ ہاتھ رکھے رباشہ اسے خود سے دور کرنے لگی جبکہ نگاہوں کے پردے ابھی بھی جھکے ہوے تھے ۔
رباشہ پل بھر بھی اس کی آنکھوں میں نہ دیکھ سکی جبکہ ضماہیر اپنی آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر لیے اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو آنکھوں میں اتارنے لگا مانو وہ رباشہ کو حفظ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
حسینہ جانم ثبوت دے تو رہا ہوں واپس آنے کا اس کے کان میں سرگوشی کرتے ضماہیر نے اپنی گرم سانسیں اس کی گردن پہ چھوڑی تھی ۔
رباشہ کا وجود سست پڑنے لگا تھا وہ بے جان ہونے لگی تھی اس کی زرا سی قربت پہ ۔
اس کی سانسیں تھم چکی تھی
جانم سانس تو لے لو! رباشہ کی رکی سانسیں محسوس کر کے ضماہیر نے اسے یاد کروایا تھا کہ اسے سانس بھی لینا ہے ۔
رباشہ کی یہ حالت اسے مزید محفوظ کر رہی تھی شرم سے لال پڑتے گال اس کے لیے مزید مشکلات پیش کر رہے تھے ۔
جانم ان کپڑوں میں کیوں ؟ کپڑے تبدیل کر لینے تھے نہ بہت بھاری ہیں یہ ؟ لبوں کا طواف ابھی بھی گردن پہ تھا مگر اس کو اس بھاری لباس میں دیکھ کر وہ تھوڑا حیران ہوا تھا کہ کہاں وہ یہ پہننا نہیں چاہتی تھی اور اب اتارنے کا ارادہ تک نہ تھا۔
مجھے نیند آرہی تھی ہمت نہیں ہوی ! وہ اس کی قربت میں سہمی بوجھل لہجے میں جواب دینے لگی ۔
بہانے کیوں بنا رہی ہو سیدھا کہو نہ مجھے زیر جو کرنا تھا ۔تمہیں شوق ہے میرا صبر آزمانے کا ۔
وہ پوری شدت سے اس کے لبوں پہ جھکا اس کی سانسوں کو پینے لگا
نن نہیں ایسی بات نہیں تھی ۔
ہممم جو بھی تھا میرے اندر کا یہ شیطان تم نے جگایا ہے اب اسے واپس سلانا بھی تمہارا کام ہے جانم !!
آج خیریت ہے میری حسینہ جانم خاموش خاموش ! رباشہ کی خاموش زبان پہ چوٹ کرتا وہ اپنے لب اس کے کاندھے پہ رگڑنے لگا
مجھے نیند آرہی ہے ضماہیر ۔سونے دیں
مجھے پیار کرنا ہے تمہیں وہ سدا کا بے شرم ،بے شرمی کے سارے ریکارڈ توڑے اس کی پیشانی کو اپنے لبوں سے چھونے لگا
ویسے اگر تم چاہو تو میں تمہارے وجود کو اس بھاری لباس سے آزادی دلوا سکتا ہوں ۔
ضماہیر مجھے نین ند آرہی ہے سونے دیں وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کرتی اس سے اجازت طلب کرنے لگی ۔
تم ایسا کرو آنکھیں بند کرو اور سوجاؤ ۔جب میں پیار کر لوں گا میں بھی سوجاؤ گا اس نے حل پیش کیا تھا
رباشہ شاید اسی قسم کے کسی حل کی تلاش میں تھی جو ضماہیر کی اجازت پانے پر جلدی سے آنکھیں بند کر گئی ۔
ویسے جان اگر تم ایسے ہی خاموش رہی تو میں بہت کچھ کر سکتا ہوں ۔بلکہ میں بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں رباشہ کی جھکی پلکوں پہ اپنے لب رکھے وہ سرگوشی کرنے لگا
رباشہ تو شاید دن کی تھکی ہاری گدھے گھوڑے سب بیچ کر سو چکی تھی
میری جان !
حسینہ جانم! وہ مکمل خاموشی اور اس کی بند آنکھیں پاکر اسے آواز لگانے لگا جبکہ وہ تو خوابوں خرگوش کے مزے لوٹنے کسی پرستان میں پہنچ چکی تھی
یہ کیا بات ہوی! ایسے کیسے سوگئی تم ! میں جاگ رہا ہوں اور تم سوگئی یہ اچھی بات نہیں جانم اس کے لبوں کو چھوتے وہ اس سے ہٹ کر مگر بلکل نزدیک جگہ بنائے اسے اپنی گرفت میں قید کر گیا ۔
جانم تم دیوانہ بنارہی ہو مجھے ! چلو آج میں نے تمہارا خیال کیا رباشہ کو اور خود کو اچھی طرح کمبل میں ڈھانپ کر وہ رباشہ کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا ۔
کیا بنوانا ہے بڑے صاحب کے لیے ناشتہ میں حویلی ماں! فاطمہ بیگم حویلی ماں کے پاس آئی جو اس وقت قرآن کی تلاوت میں مگن تھی ۔
میں آتی ہوں نیچے بس تم ڈرائیور کو بولو ائیرپورٹ سے وشمہ اور مناہل کو لے آئیں جاکر ان کی 10 بجے کی فلائٹ تھی اب تک تو وہ پہنچ چکی ہوگی ائیرپورٹ ۔
آج ! مگر انہوں نے تو کل آنا تھا
کیوں کوئی مسلہ ہے ان کا اپنا گھر ہے جب چاہیں آئیں حویلی ماں تو آج خوشی سے پھولے نہیں سمارہی تھی آخر ان کی بھتیجی ان کے گھر آرہی تھی وہ بھی وہ بھتیجی جسے وہ اپنے گھر کی بہو بنانے کا خواب سجائے ہوے تھی ۔
نہیں نہیں میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی فاطمہ بیگم جلدی سے کہتی کمرے سے باہر نکلی تھی کیونکہ اب انہیں رباشہ کے لیے خطرہ نظر آنے لگا تھا مگر انہیں بھروسہ تھا ضماہیر کی محبت پہ !! اس کی دیوانگی پہ !! انہیں یقین تھا مناہل کبھی ضماہیر کی زندگی میں رباشہ کی جگہ نہیں لے سکتی
ہاں سنو ! دانیال کو اٹھا دینا ٹائم زیادہ ہوگیا ہے بچے کو بھوک لگی ہوگی ۔
حویلی ماں نے کمرے سے ہی فاطمہ بیگم کو آواز دی تھی ۔
سرپنج صاحب آپ نے کہا تھا ولیمہ سے ہو آئیں پھر آپ خود میری بچی کو ڈھونڈنے میرے ساتھ دوسرے گاؤں چلیں گے
افتخار صاحب صبح صبح ہی سرپنج کے گھر کے سامنے کھڑے تھے آخر ان کی بیٹی کا سوال تھا
ہاں ہاں ہم چلیں گے
مگر مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے
جی جی پوچھیے! انہیں فکر ہونے لگی تھی کہیں رباشہ کے متعلق کوئی بری خبر نہ ہو
میں کل جس گاؤں کے سرپنج کے ولیمہ میں گیا تھا اس کی بیوی کا نام رباشہ ہے
کیا مطلب اس بات کا میری رباشہ ! ان کی آنکھوں میں آنسوں بھر آئے تھے
مجھے یقین نہیں مگر حالات کا اشارہ اسی طرف ہے۔ اس لڑکی کا چہرہ بھی کسی نے نہیں دیکھا اور نہ ہی گاؤں والوں کو اس لڑکی کے خاندان کا معلوم ہے اور نہ سرپنج کی شادی کی خبر کسی کو ہے
نہیں نہیں ایسا بلکل نہیں ہوسکتا میری رباشہ کیسے وہاں؟ اور شادی تو سرپنج کی تھی نہ جس انسان نے ہم پر ظلم کیا وہ تو ایک حیوان ڈاکو تھا!! وہ سرپنج کیسے ۔
یہ بات تو ہے مگر میرے خیال سے تم ایک دفعہ بھابھی اور حمنہ کو اس حویلی لے جاؤ کیا پتہ وہی رباشہ ہو ۔
میں لے جاتا ہوں مگر مجھے یقین ہے میری رباشہ وہاں نہیں ہوسکتی!
اور کتنے امتحان باقی ہیں میرے !
افتخار صاحب خود ہی منہ میں بڑبڑاتے آنکھوں میں آنسو لیے اپنے گھر کی جانب بڑھنے لگے ۔
ابھی تو وہ صحیح طرح اپنی بیٹی سے ملے تک نہیں تھے اور اتنا سب کچھ ہوگیا !!
صبح رباشہ کی آنکھ ضماہیر کی گرم سانسوں کو گردن پہ محسوس کر کے کھلی تھی ۔
ضماہیر اس کی گردن میں منہ دیے کسی چھوٹے بچے کی طرح اس کے گرد بازو جمائے سورہا تھا ۔
رباشہ کچھ سیکنڈ تو اسے ایسے ہی دیکھتی رہی وہ کتنا خوبصورت ہے سیاہ آنکھیں ،سفید رنگت ، کسرتی وجود ،لمبا قد ،وہ بکھرے بالوں میں بھی پرکشش تھا ۔
آپ بہت خوبصورت ہیں ! ضماہیر کے چہرے کو اپنی گردن سے دور کرنے کی تگ ودود میں لگی رباشہ نہ آہستہ سے اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا ۔
یہ ضماہیر کی جانب اٹھنے والا رباشہ کا پہلا قدم تھا ۔مگر اپنی اس حرکت پر وہ جلدی سے خود ہی میں جھینپ گئی۔
جانم صبح صبح موڈ خراب کرنے کا ارادہ ہے رباشہ کی نازک کمر میں اپنی بانہیں ڈالے ضماہیر اسے خود پر گرا گیا ۔
جبکہ وہ اس کے شرٹ لیس سینے پہ سر رکھتے بھی شرمانے لگی۔
اگر شوہر سویا ہو تو اس کا کیا مطلب شوہر کی عزت لوٹ لو وہ بیچاروں کی سی شکل بنائے اس سے سرگوشیاں کرنے لگا
اس کا لہجہ ہمیشہ رباشہ سے بات کرتے ہوئے سرگوشی کرنے سا ہوتا تھا آواز تھوڑی بوجھل ضرور ہوتی تھی مگر لہجہ دھیما استعمال کرتا تھا ۔
اس کے لیے وہ ایک نازک موم کی گڑیا تھی جسے زرا سے بھی تپش پگھلا سکتی ہے
استغفار! میں نے ایسا کچھ نہیں کیا
اچھا جو ابھی کر رہی تھی وہ کیا تھا ؟؟ وہ آنکھوں میں شرارت لیے اس سے سوال کرنے لگا
اپنی حرکت یاد کرکے رباشہ نے زبان دانتوں میں دبائی تھی ۔
اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا جو سارا دن ساری رات میرے ساتھ کرتے ہیں وہ کیا ہے ؟ وہ کچھ زیادہ ہی بول گئی تھی
ہاہاہاہا ضماہیر کا زور دار قہقہہ بلند ہوا جانم اسے عزت لوٹنا تھوڑی کہتے ہیں وہ تو میں اپنا حق وصول کرتا ہوں تم سے
تو میں نے تھوڑی آپ کی عزت لوٹی ہے میں نے بھی اپنا حق لیا ہے آپ سے
ہائے !! جانم اگر یہ حق وصول کرنے ہیں تو بندہ چوبیس گھنٹے آپ کے پیش ہے جب جب وصول کرنا چاہو یہ ناچیز آپ کی خدمت میں حاضر ہوگا
ضماہیر ہم ویسے ہی بہت لیٹ اٹھے ہیں ! ہٹ جائیں مجھے تیار ہونا ہے وہ جلدی سے ضماہیر کو دور کرتی بیڈ سے نیچے اتری تھی
جانم ویسے میری کل رات والی آفر قابل قبول ہے ۔
کونسی؟ وہ واشروم کی جانب جاتے جاتے پیچھے مڑی تھی
اگر تم چاہو تو میں تمہیں ان کپڑوں سے آزادی دلوا سکتا ہوں وہ آنکھ ونگ کرتا اس کی جانب بڑھنے لگا
ٹھرکی ! وہ اسے ایک نیا خطاب دیتی جلدی سے واشروم میں گھسی تھی
ٹھرکی ! مبارک ہو ضماہیر آج تمہاری حسینہ جانم نے ایک نیا خطاب دیا ہے تمہیں۔ٹھرکی وہ زیرلب بڑبڑایا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے الماری میں گھسا اپنے کپڑے نکالنے لگا ۔
