Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Deewana Tha (Episode 23)Part 2

Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal

تم بہت حسین ہو قاتل حسینہ ۔۔۔تم سچ میں قاتل ہو ۔۔۔تم نے قتل کیا ہے میری انا کا میری عزت نفس کا ۔۔۔تم جب جب مجھے خود سے دور کرو گی میں تب تب تمہارے پاس آؤ گا اتنا پاس کے تم میں اور مجھ میں کوئی فاصلہ نہ رہے ۔

تمہیں صرف وجود چاہیے میرا وشمہ نے اپنا طنزیہ تیر چھوڑا تھا ۔

ہاں مجھے صرف تمہارا وجود چاہیے کان میں سرگوشی کیے وہ ابھی ابھی اس کی شہ رگ پہ جھکا اس پہ اپنی چھاپ چھوڑ رہا تھا ۔

چاہتے کیا ہو تم مجھ سے ؟ وشمہ کی آواز بوجھل مگر سخت ہوی تھی

پانچ بیٹیاں اور پانچ بیٹے ! یقین کرنا اس کے بعد دانیال کبھی تمہارے سامنے نہیں آئے گا ۔

اس کے بعد تم ہوں گے بھی نہیں اس قابل کے میرے سامنے آؤ۔

اپنے بارے میں کیا خیال ہے قاتل حسینہ تم خالی پانچ بچے ہی پیدا کرلو یہی کافی ہے ورنہ جتنی تم کمزور ہو مجھے تو لگتا ہے مجھ معصوم کو صرف دو بچوں پہ ہی گزارا کرنا پڑے گا ۔

تم سمجھتے کیا ہو خود کو ؟ وشمہ کو غصہ آگیا تھا دانیال کی بات سن کر

تمہارے ہونے والے بچوں کا باپ !! اور تمہاری بہو کا سسر اطمینان سے جواب دیے وہ وشمہ کے لبوں کو اپنی قید میں لے گیا ۔

تمہیں کیا لگتا ہے یہ زبردستی رشتہ بناکر تم مجھے حاصل کرلو گے

اس میں لگنے والی کونسی بات ہے جب تم میرے بچوں کی ماں بن جاؤ گی تو تم میری ہوجاؤ گی ۔

ایک ماں اپنی اولاد کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے کسی بھی شخص کے ساتھ رہ سکتی ہے ۔

تم بھی میرے ساتھ رہ لو گی ۔

تو اب تم یہ طریقہ اختیار کرو گے مجھے اپنے ساتھ رکھنے کے لیے ۔

بلکل !! اور اب بلکل خاموش ہوجاؤ مجھے اختیار کرنے تو دو طریقہ آخر تمہاری بہو کا سسر جو بننا ہے _ایک آنکھ ونگ کیے وہ وشمہ کا دوپٹہ اتارے اسے بیڈ سے دور پھینک گیا ۔

دانیال!!

ششششش !!!خاموش وشمہ کے لبوں پہ انگلی رکھے وہ مکمل اسے خاموش کرواگیا ۔

ان رات کی تنہائیوں میں صرف مجھے محسوس کرو تمہیں بولنے کی اجازت نہیں صرف محسوس کرنے کی

اجازت ہے ۔۔۔محسوس کرو میری دھڑکنوں کو ۔۔۔میرے جزبات کو جو تمہارے آگے میرا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں میرے نہیں رہتے ۔۔۔

وشمہ پہ قابض ہوے اس کے گرد اپنا حصار تنگ کیے وہ مکمل اسے خود میں چھپا گیا ۔۔

اپنے اور وشمہ کو وجود کو لحاف میں ڈھکے وہ کمرے میں مکمل اندھیرا کرگیا ۔

پورے کمرے میں صرف دانیال اور وشمہ کی بوجھل ہوی سانسوں کی آواز گونج رہی تھی جو مزید دانیال کو بہکنے پر مجبور کر نے لگی ۔

گزرتی رات کے ساتھ دانیال کے ہر عمل میں شدت آئی تھی وہ اپنے ایک ایک عمل سے وشمہ کو مہکارہا تھا ۔اپنے وجود میں اسکا وجود گم کر رہا تھا ۔۔۔

وشمہ کہیں نہیں مل رہی ! کہاں جاسکتی ہے بچی ؟

فاطمہ تم لے کر گئی تھی نہ اسے اب ڈھونڈ کر بھی لاؤ پہلے ہی ضماہیر بہت پریشان ہے رباشہ کی وجہ سے اور اب وشمہ وہ بھی نہیں مل رہی ۔

داد سائیں وہ میرے ساتھ ہی ہسپتال گئی تھی مگر ہسپتال داخل ہوتے ہی میں اپنا پرس گاڑی میں بھول گئی اس کے بعد سے وشمہ نہیں مل رہی ۔

وشمہ نہیں ہے !! دانیال نہیں ہے کہیں یہ دونوں بھاگ تو نہیں گئے ۔

تم چپ کرو مناہل تمہارے پاس فضول بکواس کرنے کے علاؤہ اور کوئی کام نہیں ہے کیا ؟

میں بکواس نہیں کر رہی جو ہورہا ہے وہ بتا رہی ہوں ۔

بس تم رہنے دو جو ہورہا ہے ہمیں سب کو نظر آرہا ہے۔

مناہل خاموش ہوجاؤ دادا سائیں نے مناہل کو خاموش کروایا تھا ۔

مگر دادا سائیں!!

شرم نہیں آتی تمہیں فاطمہ سے زبان لڑاتے ہوے ۔

دادا سائیں شرم انہیں آنی چاہیے کیسی پرورش کی ہے وشمہ کی ایک لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی حویلی کی عزت وآبرو مٹی میں ملادی اس نے ۔

کمرے میں جاؤ مناہل حویلی ماں غصے میں چلائی تھی ۔

ہاں ہاں مجھے ہی خاموش کروانا ۔۔مجھے ہی کمرے میں بھیجنا سچ تو سن نہیں سکتے نہ آپ ۔

فاطمہ مجھے لگتا ہے ہمیں پولیس کو اس معاملے میں نہیں لانا چاہیے کہیں مناہل صحیح تو نہیں کہ رہی کہیں نہ کہیں دادا سائیں کو مناہل صحیح لگنے لگی تھی ۔

نہیں دادا سائیں اگر وشمہ کو دانیال سے شادی کرنی ہوتی تو وہ ذین کا نام کیوں لیتی ؟

ہمیں بتانا ہوگا پولیس کو ۔۔۔

تمہیں کیا لگتا ہے مجھ سے بچ کر تم ضماہیر کی ہوجاؤ گی رباشہ_ اپنے قدم اٹھائے زاویار رباشہ کے بیڈ کے نزدیک آنے لگا ۔

تم میرے علاوہ کبھی کسی کی نہیں ہوسکتی ۔۔۔۔بچپن سے انتظار کیا ہے میں نے تمہارا اور میرے انتظار کا پھل کسی اور کو مل جائے ۔۔۔۔یہ میں کبھی نہیں ہونے دوں گا ۔

یا تو تم میری ہوں گی یا پھر خدا کی ۔

رباشہ کے نزدیک پہنچتے ہی زاویار نے رباشہ کا آکسیجن ماسک چہرے سے ہٹایا تھا جبکہ پائپ کو کھینچ کر توڑ تے _ خود تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا ۔

کمرے میں چلتی مشین کی آواز تیز ہوی تھی _ رباشہ کی سانسیں قریباً اکھڑنے لگی ۔۔۔وہ سانس کھونے لگی تھی اپنے ۔

مشین کی تیز ہوتی ہر آواز رباشہ کو موت کے نزدیک لے جارہی تھی ۔

مشین کی تیز آواز سن کر ضماہیر کی آنکھ کھلی تھی وہ جو ساتھ صوفے پر سویا تھا رباشہ کے چہرے سے ہٹا آکسیجن پائپ دیکھ کر فوراً سے اس کی جانب بڑھا تھا ۔

جلدی سے آکسیجن ماسک کو اٹھائے اس سے رباشہ کے چہرے کو ڈھانپ گیا مگر یہ سب بے کار تھا اس کی حالت مزید بگڑنے لگی تھی ۔

اس کی سانسیں اسی طرح اس کا ساتھ چھوڑ رہی تھی ۔

جونہی نظر نیچے گئی نیچے سے آکسیجن پائپ ٹوٹا ہوا تھا _ ماسک کو دور پھینکے رباشہ کے لبوں پہ جھکے اس میں اپنی سانسیں انڈیلنے لگا ۔۔۔اسے اپنی سانسوں سے زندہ رکھنے لگا ۔

ڈاکٹر!! رباشہ کے لبوں پہ ہنوز جھکے وہ چیخنے لگا تھا ۔

یہ کیا کر رہے ہیں آپ !! ! کمرے میں داخل ہوے نرس ضماہیر کو رباشہ پہ جھکے دیکھ حیران ہوی تھی ۔

ماسک ! ماسک اٹھائے وہ جلدی سے اسے نرس کے آگے پھینک گیا ۔

یہ آکسیجن ماسک یہ کس نے ہٹایا !! میں ابھی سیٹ کرتی ہوں ۔۔۔

حسینہ جانم اگر میرے پاس آخری سانس ہو اور اس کی تمہیں ضرورت ہو تو میں وہ بھی تمہیں دے دوں گا ۔۔۔

سر ہٹیں یہ سیٹ ہوگیا ہے ضماہیر رباشہ کے لبوں سے دور ہوا تھا جبکہ نرس آکسیجن پائپ سیٹ کرتی کمرے سے باہر نکلنے لگی تھی ۔

ایک منٹ !! نرس کے دروازے پہ پہنچتے ہی کی کمرے میں ضماہیر کی آواز گونجی تھی ۔

یہ آپ لوگوں کا ہسپتال ہے !! یہ کس قسم کا گھٹیا ہسپتال ہے ۔۔میری بیوی کا ماسک کیسا ہٹا تھا ۔

سر ہمیں نہیں پتا اور ویسے بھی کمرے میں آپ تھے یہ تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے نا دروازے کو بند کیے نرس باہر نکل گئی ۔

بیوی سنا تم نے میں تمہاری حفاظت نہیں کرسکا وہ صحیح تو کہ رہی تھی کمرے میں ،میں تھا مجھے دیہان رکھنا چاہیے تھا رباشہ کا ہاتھ پکڑے اس کے نزدیک بیٹھے اس کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کر رہا تھا ۔

میں ناکام ہوگیا تمہاری حفاظت کرنے میں ۔

کیا فائیدہ میرے اتنے بڑے گھر کا ،میرے ان پیسوں کا اس ہسپتال کا جب میری بیوی کو زندہ رہنے کے لیے صرف دو انچ کے آکسیجن پائپ کی ضرورت ہے ۔

حسینہ جانم مزید امتحان نہ لو ٹھیک ہوجاؤ تمہارا چور شوہر بہت اکیلا ہے تمہارے بغیر ۔۔۔۔چور شوہر ادا کرتے ہی اس کے لبوں پہ ایک مسکان باقی رہی تھی ۔

دیکھو میرے ان ہونٹوں کو _ تمہیں ترس نہیں آتا ان پر _ دیکھو ترس گئے ہیں یہ تمہارے لبوں کو چھونے کے لیے _خشک ہوتے جارہے ہیں یہ _ ان کی تازگی صرف تمہارے لب واپس لا سکتے ہیں

بیوی !! ضماہیر کی آنکھوں سے آنسو نکل کر رباشہ کے ہاتھوں پہ گرنے لگے تھے ۔

بیوی!! میں وعدہ کرتا ہوں تمہارے ہر غم کا ازالہ کردوں گا ہر غم خود پر لے لوں گا اٹھ جاؤ جان ! نہیں رہا جاتا اب _ تمہارے بغیر ایک دن گزارنا قیامت کے ایک دن کے برابر ہے ۔

تمہاری جدائی کا قہر بہت برا ہے حسینہ جانم اور تم قہر برسا رہی ہو مجھ پر ۔

میرے ان لبوں نے آج پورے ایک دن کے بعد تمہارے لبوں کو چھوا ہے مگر میں تمہیں محسوس نہیں کرسکا۔۔

حسینہ جانم مجھے محسوس کرنا ہے تمہیں ۔۔۔تمہارا یہ تل دیکھو مجھے منھ بنا کر دکھا رہا ہے کہ میں اسے کچھ نہیں کہ سکتا۔۔۔یہ مجھے بتا رہا ہے کہ آج میں ناکام ہوگیا ۔۔ میری بے بسی ہر ہنس رہا ہے یہ _اج میں تمہیں اپنے نزدیک نہیں کرسکتا ۔

حسینہ جانم ٹھیک ہوجاؤ بتاؤ اسے میں تمہیں چھو سکتا ہوں تمہارے نزدیک آسکتا ہوں _ بتاؤ اسے ضماہیر بے بس نہیں ہے ۔۔۔کیا تم چاہتی ہو کہ تمہارا شوہر ناکام انسان کہلوائے ۔

عجیب باتیں کیے وہ رباشہ کو کسی چھوٹے بچے کی طرح بہلا رہا تھا جس نے شاید قسم اٹھائی تھی کہ اسے کسی کی بات نہیں سننی۔

کہاں کئے تھے تم زاویار ؟ گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی ماں اس سے استفسار کرنے لگی ۔

ریلیکس مام !!کچھ دیر بعد ایک اعلان سننے کو ملے گا آپ کو جو کام اس ایکسیڈنٹ میں ادھورا رہ گیا تھا بس اسی کی تکمیل کر کے آیا ہوں ۔

آپ کی حویلی کے ایک ستون کو ہلا کر آیا ہوں !

جس ستون کو ہلا کر آئے ہو پہلے یہ دیکھ لینا تھا اس کو سہارا دینے والا ستون تو ساتھ نہیں ماں تھی زاویار کی سمجھ گئی تھی وہ کیا کر کے آیا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *