Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522

Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Last updated: 10 February 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal

کیا کہا ایک عورت رکھ لوں ۔یہ عورتوں کے سستے نشے میں نہیں کرتا وہ دھاڑا تھا ۔میں ابھی اتنا کمزور نہیں ہوا کہ ان عورتوں کے سستے نشے مجھ پر غالب آجائیں دفعہ ہوجاؤ اپنے گھر اور اگر مجھے تمہارے گھر سے کچھ نہ ملا تو تمھاری یہ بوڑھی ہڈیاں ایک دن میں ہی مٹی میں گل جائیں گی۔پرسوں دوبارہ آؤں گا میں گاؤں والو خود کو تیار رکھو یہ کہتا وہ اپنے گھوڑے کو اسی راستے پر ڈال گیا جس پر سے وہ آیا تھا ۔گاؤں والوں کے پاس اس کی بات ماننے کے علاؤہ کوئی دوسرا راستہ نہ تھا کیونکہ وہ اس کے خلاف کچھ کر تو نہیں سکتے تھے یہی سوچ کر وہ اپنا سارا مال خاموشی سے پچھلے تین سالوں سے اس کے سپرد کر دیا کرتے تھے۔
امی بہت بہت مبارک ہو آج مجھے آخر کار اپنی ایم بی بی ایس کی ڈگری مل گئی رباشہ نے ڈگری ملتے ہی سب سے پہلے اپنے گھر کال کی اور ان کو یہ خوشخبری سنائی گاؤں میں چونکہ کالج وغیرہ نہیں تھےاس لیے وہ پہلی لڑکی تھی جو اپنے گاؤں سے پڑھنے باہر نکلی تھی اور اسی وجہ سے آج گاؤں میں کالج بن رہا تھا۔میری بچی مجھے پورا یقین تھا ایک دن تم ضرور اپنے باپ کا خواب پورا کرو گی ۔بیٹا بس اب واپس آجا پانچ سال ہوگئے اپنی لخت جگر سے ملے ہوے ۔ماں تھی اپنی بیٹی کی یاد پل پل ستاتی تھی مگر کبھی اس کے سامنے ظاہر نہ کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ ان سے اتنے دور بیٹھی پریشان ہو۔مگر آج ان کی ہمت کی دور ٹوٹی تھی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے
امی آپ روئے تو نہ میں بس بہت جلد آپ کے پاس ہونگیں دیکھنا ۔رباشہ جو اپنی امی سے بات کر رہی تھی موبائل پر دوسری کال آ نے پر اس کی جا نب متوجہ ہوی جہاں سولمیٹ نام جگمگا رہا تھا ۔یہ نام دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تیرنے لگے پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ اس کال کا تو انتظار کر رہی تھی امی میں بعد میں بات کرتی ہوں یہ کہتے ہی اس نے کل کاٹ دی اور دوسری کال اٹھا لی ۔اسلام و علیکم موبائل کی دوسری جانب سے آواز آئی ۔وعلیکم السلام دانیال میں کب سے آپکی کال کا انتظار کر رہی تھی بغیر کسی جھجک کے وہ اپنا شکوہ دانیال کے سامنے رکھ چکی تھی۔سوری تھوڑا مصروف تھا بہت بہت مبارک ہو میری جان آخر تم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ۔جی یک لفظی جواب میں شکریہ ادا کیا گیا ۔کیا ہوا؟ دانیال اس کی خاموشی سمجھ کر اس سے پوچھنے لگا ۔نہیں کچھ نہیں
تم پاکستان کب جارہی ہو ؟کل ۔۔ہمم۔اور اپنے گھر بات کب کرو گی ہمارے رشتے کے بارے میں ۔۔۔دانیال شاید اس کی پریشانی سمجھ چکا تھا۔۔۔میں بات کر لوں مگر تم جانتے ہو میں کسی اور سے بھی منسلک ہوں۔۔میں کسی کی منگ ہوں۔۔۔۔اور کیا وہ مجھے ایسے چھوڑ دے گا۔۔۔یہ سب کچھ تمہیں مجھ سے محبت کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا دانیال اس کی طرف سے ملنے والے جوابات پر اپنے غصے کو کنٹرول کرتے بولا۔۔۔اگر تم کچھ نہیں کر سکتی تو نہ کرنا مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں تمہیں گھر سے اٹھوا سکتا ہوں۔۔اب جو بھی ہے پاکستان جاؤ اور گھر بات کرو۔۔۔اور اس بے نام رشتے سے چھٹکارا حاصل کرو۔۔۔۔مگر ۔۔۔اس سے پہلے وہ کچھ بولتی دانیال کال بند کرچکا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *