Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 25)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 25)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا جو تم اس سے شادی کرو گی ۔
حویلی ماں آپ کیوں نہیں سمجھ رہی ہیں اگر زاویار اس گھر میں آگیا تو ہم دونوں مل کر ضماہیر اور رباشہ کو الگ کرسکے گیں ۔
اسے رباشہ چاہیے مجھے ضماہیر
نکاح کیا گڈا گڑیا کا کھیل ہے جو آج تم اس سے کرو گی اور کل کو ضماہیر سے ۔
نکاح تو نہیں مگر طلاق تو ہے نہ ! ضماہیر میرا ہوتے ہی وہ مجھے طلاق دے دے گا اور میں ضماہیر سے شادی کرلوں گی ۔
دیکھ لو مگر اس مرد زات کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا کسی بھی وقت اپنی حوس پوری کرنے اگر وہ تمہارے نزدیک آیا تو ؟ اپنا اندیشہ ظاہر کرتی حویلی ماں مناہل کا ہاتھ پکڑے اسے بیڈ پہ لائے اپنے ساتھ بٹھاگئی ۔
یہ مرد زات خود کو سکون دینے کے لیے جب کوٹھوں کا رخ کرسکتے ہیں تو تم تو بیوی ہوں گی اس کی ۔۔اگر اس نے تمہارا استعمال کیا ۔
نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا میں کبھی اسے اپنے نزدیک نہیں آنے دوں گی وہ یک دم کھڑی ہوی تھی مگر کہیں نہ کہیں حویلی ماں والا ڈر اس کے دل میں بھی بیٹھ گیا تھا ۔
ماتھے پہ پسینہ ابھرنے لگا تھا ۔
وہ اچھے سے جانتی تھی کہ وہ ایک مرد ہے اور اگر مرد اپنی میں پر اجائے تو اس کے سامنے کسی کی نہیں چلتی ۔
تمہیں پتہ ہے میں تمہارے لیے روتا ہوں ؟
جانتی ہوں کیوں؟
کیونکہ تم میری پسندیدہ عورت ہو
ایک مرد صرف اپنی پسندیدہ عورت کے لیے اپنا چہرہ بھگوسکتا ہے ۔
وہ تب روتا ہے جب وہ کسی کو کھونے سے ڈرتا ہے
۔
اور میں تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں حسینہ جانم۔
تمہارے بغیر اگر میں کچھ جمع بھی کرلوں تب بھی سب تفریق ہے
حسینہ جانم اس کے لہجے میں کرب تھا پچھتاوا تھا مگر شاید رباشہ اپنے دل کو مردہ کر چکی تھی ۔
تم نہیں اٹھ رہی نہ بیوی چلو پھر ۔۔۔اب موت موت کا کھیل شروع کرتے ہیں دیوانہ ہوا وہ بلکل رباشہ کے نزدیک کھڑا اس کے آکسیجن ماسک پر ہاتھ رکھ گیا ۔
لو تم یہ پکڑو اور مجھے شوٹ کرنا اور میں گولی کھاتے ہی تمہارا ماسک ہٹا دوں گا ۔
رباشہ کے ہاتھ سے ڈرپ کھینچ کر اتارنے والے انداز میں وہ اس کا ہاتھ تھامے اس اپنے ہاتھوں میں لیے گن پر رکھ گیا ۔
جبکہ گن کا رخ مکمل طور پر ضماہیر کے چہرے کی جانب تھا ۔
تم کھو دو گی آج اپنا شوہر _ اپنی سانسیں حسینہ جانم یک لخت اس کی ناک کے نزدیک اپنی ناک کیے اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکائے اس کی سانسوں میں اپنی سانسیں گھولنے لگا ۔
بیوی دیکھو ہم دونوں ہار گئے میں تمہیں پانے میں اور تم اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں ۔۔
گن کے ٹریگر پر زور دیے وہ اپنے آپ کو شوٹ کرگیا ۔
گولی ضماہیر کے وجود سے گزری تھی جبکہ رباشہ ایک دم ہوش میں آئے بیڈ پہ اٹھ بیٹھی تھی ۔
ضماہیر وہ چیخی تھی۔۔۔رباشہ سے دور ہوتے ضماہیر فرش پہ کمر کے بل الٹے منہ گرا تھا ۔
بیڈ سے جلدی سے نیچے اترے وہ اس کے پاس فرش پہ بیٹھی تھی ۔
ضماہیر!! ضماہیر آنکھوں سے آنسو تیز رفتاری سے بہت اس کی پشت کو بھگو رہے تھے ۔
اٹھ جائیے ! آپ مجھے ایسے نہیں چھوڑ کے جا سکتے !
آپ نے کہا تھا آپ مجھے ساتھ موت دیں گے تو مجھے زندہ کیوں چھوڑا ! اٹھیے !اپنے دونوں ہاتھوں کی مدد سے وہ ضماہیر کو سیدھا کرنے لگی تھی ۔
جلدی سے سیدھا ہوے وہ ایک ہاتھ کو رباشہ کی کمر کے گرد پھنسائے اسے خود پر جھکا گیا وہ اس حملے کے لیے تیار نہیں تھی اس لیے فوراً ہی اس کے سینے پہ گری تھی ۔
رباشہ کے لبوں پہ جھکا اس کی سانسوں کو بے ترتیب کیے ضماہیر ان پہ اپنی شدت نچھاور کرنے لگا حسینہ جانم مجھے یقین تھا تم صحیح ہوجاؤ گی ۔۔۔۔دیکھو کتنا بے بس کردیا تھا تم نے مجھے ۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں مرجاؤ گا اور تمہیں کتوں کے لیے چھوڑ جاؤں گا ۔۔۔
پوری شدت سے رباشہ کی گردن پہ دانت گاڑھے وہ وہاں زخم لگا گیا ۔
دور ہٹیں مجھ سے اپنی سانسوں کو ترتیب میں لانے کی کوشش کیے اس نے ضماہیر کو گھور کر پیچھے دھکیلا تھا جس کے بازو سے خون رس رہا تھا ۔
دیکھ لو حسینہ جانم تمہاری وجہ سے گولی کھائی ہے ۔گولی ضماہیر کے بازو کو چھو کر گزری تھی ۔
اب یہ دوریاں مجھے منظور نہیں!! ایک مرتبہ پھر رباشہ کو خود پہ گرائے وہ اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لے گیا ۔
نرس ! ضماہیر سے دور ہوے اس نے بلند آواز میں نرس کو پکارا تھا ۔
حسینہ جانم فکر نہ کرو بس یہ زرا سی بازو پہ لگی ہے رباشہ کے سامنے بازو کیے وہ بے حد پرسکون تھا ۔
کیا ہوا ہے سر کو ؟کمرے میں داخل ہوتے ہی نرس نے ضماہیر کے بازو سے رستے خون کو دیکھ کر استفسار کیا تھا ۔
دماغ خراب ہو گیا ہے ان کا ضماہیر کو سہارا دیے بیڈ پہ بٹھائے وہ خود دور پڑے صوفے پہ بیٹھی تھی ۔
ہاں ہوگیا ہے بلکہ ہو نہیں گیا کر دیا ہے یہ میری بیوی دیکھ رہی ہو ! پورا ایک مہینہ تڑپایا ہے مجھے !
رباشہ کو ہاتھ سے اشارہ کیے اسے اپنی جانب بلانے لگا ۔
سمجھ نہیں آرہی کیا چلارہا ہوں میں ! اپنے پاس رباشہ کے نہ آنے کی وجہ سے اس کا میٹر یک دم گھوما تھا ۔
کومے میں رہ کر لگتا ہے سب بھول گئی ہو یاد کروانا پڑے گا کون ہو میں اور کیا کہتا ہوں آنکھوں کو بڑی کیے جو اب سرخی کی وجہ سے لال تھی وہ چلتا رباشہ کے پاس آ یا تھا ۔
گولی نکالو میری !! ایک نیا حکم جاری کیا تھا ۔
میں! میں ! وہ گھبرانے لگی تھی ۔
نہیں پانچ سال اٹلی میں تو میں ڈاکٹر بن کر آیا ہوں صوفے پہ جھکے وہ رباشہ پہ اپنی نظریں گاڑھے اسے خوفزدہ کر گیا ۔
نکالو گولی !
سر یہ کیا کر رہے ہیں آپ ؟ وہ ابھی ابھی کومے سے باہر آئی ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہی پیشنٹ کے ٹھیک ہونے پر خوش ہوں یا آپ کی اس حرکت پر افسوس کروں ۔۔
نرس ضماہیر کی جانب بڑھی تھی جو اپنے غصے میں بے قابو ہوے کھا جانے والی نظروں سے رباشہ کو گھورنے لگا تھا ۔
تم سے مطلب ؟ اب میری بیوی صحیح ہوگئی ہے تو تم جاسکتی ہو نرس کی جانب چہرہ گھومائے وہ اسے بھی دھمکا گیا ۔
نکلو اب میرے کمرے سے تیز آواز میں گرجے وہ نرس کو باہر جانے کا اشارہ کر گیا ۔
گولی نکالنی ہے میری ؟
نہیں اس نے جلدی سے نہ میں سر ہلایا تھا ۔
چلو ٹھیک ہے پھر یہ اب سے میرے ساتھ میرے بازو میں رہے گی لیکن دیکھ لینا حسینہ جانم مجھے تمہیں ہی گود میں اٹھانے میں مسلہ ہوگا ۔
بے شرموں کی سی ڈھٹائی سے رباشہ کے گلے سے دوپٹہ نکالے وہ اسے اپنے زخم کے گرد لپیٹ گیا ۔
آپ آپ لیٹیں! وہ لڑکھڑاتی آواز میں ضماہیر کو پکارنے لگی تھی ۔
کیوں تم نے میری عزت لوٹنی ہے حسینہ جانم ایک بازو کو رباشہ کی کمر کے گرد پھنسائے وہ اسے اپنے گھیرے میں لے گیا ۔
میں گولی نکالتی ہوں ۔۔
ضماہیر سیدھا ہوے بیڈ پہ لیٹا تھا جبکہ رباشہ نرس کو آواز دیے اسے کمرے میں بلا گئی ۔
تم اکیلی نہیں نکال سکتی کیا وہ تنگ آگیا تھا رباشہ کے نرس کو کمرے میں بلانے کی وجہ سے ۔
نہیں میں نے پہلے کبھی ایسے کیس ہینڈل نہیں کیے ۔
ایسے مطلب کیسے ؟
ایسے آپ جیسے پاگل
بس دیکھ لو حسینہ جانم یہ پاگل مجنوں دیوانہ ساری زندگی کے لیے تم سے جڑ گیا ہے یہ ہمیشہ کے لیے تمہارا ہے ۔
ضماہیر کی گولی نکالے وہ سیدھی کھڑی ہوی تھی ۔جبکہ بیماری سے اٹھنے کی وجہ سے وہ اس قدر کمزور ہو چکی تھی کہ اسے اچانک چکر آیا اور وہ ضماہیر کے سامنے ہی بیڈ پہ گری تھی ۔
حسینہ جانم! رباشہ کے چہرے پہ دیوانہ وار ہاتھ پھیرے وہ اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگا
۔
دانیال! کمرے میں بیٹھے ہی وشمہ نے دانیال کو آواز لگائی تھی ۔
جب سے دانیال کو پتا چلا تھا وشمہ پریگننٹ ہیں وہ ایک منٹ بھی اسے خود سے دور نہیں کرتا تھا جبکہ کمرے سے باہر قدم رکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔
دانیال! دانیال کے کمرے میں نہ آنے پر اس نے ایک دفعہ پھر دانیال کو آواز لگائی تھی ۔
مگر دانیال کمرے میں نہیں آیا تھا ۔
آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترے وہ نیچے آئی تھی جسے دانیال کسی جگہ بھی نہیں ملا تھا ۔
کہاں چلے گئے آپ ؟ اس سارے دورانیہ میں وہ دانیال کو تم سے آپ پر لے آئی تھی ۔
کیا کر رہی ہو تم یہاں ! جونہی دانیال نے ہال میں قدم رکھا تھا وہاں وشمہ کو پائے اس کی نسیں تن گئی تھی ۔
میں کب سے آپ کو بلا رہی تھی اس کی گھور کو خاطر میں نہ لاتے ہوے دانیال کی نظروں میں نظریں گاڑھے وہ اسے جواب دینے لگی تھی ۔
باہر گیا تھا میں ! جواب دیے وشمہ کو اپنی بانہوں میں بھرے وہ سیڑھیوں پہ اپنے قدم رکھنے لگا ۔
یہ کیا کرتے ہیں آپ مجھے کیا چلنا نہیں آتا ! وہ پریشان ہوگئی تھی دانیال کی ان حرکات سے
میں یہ سب تمہارے لیے نہیں اپنے بچوں کے لیے کر رہا ہوں کہیں یہ نہ ہو تم گر جاؤ تمہاری ٹانگ ٹوٹ جائے تم لگڑانے لگ جاؤ ۔
پھر میں کیا کہوں گا اپنے بچے کو ! کہ اس کی ماں لنگڑی ہے چہرے پہ مکمل معصومیت سجائے وہ وشمہ پہ اپنا خدشہ ظاہر کرنے لگ گیا ۔
آپ کو شرم نہیں آتی زرا سی بھی ۔ آپ کیسے میرے بارے میں اتنا برا سوچ سکتے ہیں اسے تو دانیال کی دماغی حالت پہ شک ہوا تھا ۔
شرم وہ بھی مجھے ! ہا ہا ہا اچھا مزاق ہے قاتل حسینہ کمرے میں داخل ہوے دروازے کو پاؤں سے بند کیے وہ وشمہ کو بیڈ پہ لٹائے خود اس پہ جھکا تھا ۔
دوبارہ اگر میں گھر میں نہ بھی ہوں تو تم تب بھی کمرے سے باہر نہیں نکلو گی ۔
Got it !!!
انگلش بول کر کیا جتلانا چاہتے ہیں کہ آپ کو انگلش آتی ہے ۔
دانیال کی ساری بات کو اگنور کیے وہ گوٹ اٹ پہ رکی تھی ۔
آتا تو مجھے بہت کچھ ہے !
مطلب!
تم پر پیار ! تمہیں میرے بچوں کی ماں بنانا ! تمہارے ہونٹوں کو لال کرنا ! تمہارے گالوں کو دہکانا ! تمہاری شہ رگ پہ اپنا نقش چھوڑنا !
بس بس اپنے دونوں کانوں پہ ہاتھ رکھیں وہ آنکھیں بند کر گئی تھی ۔
تمہیں لرزنے پہ مجبور کرنا وشمہ کے نزدیک ہوے وہ ابھی بھی اپنی بات جاری کیے تھا ۔
بس کر جائیں اب ! آنکھیں ابھی بھی بند تھیں۔
آنکھیں کھولو ! وشمہ کی تھوڑی پہ اپنی انگلیاں ٹکائے اس نے وشمہ کا چہرہ بلند کیا تھا ۔
آنکھیں کھولو ! دانیال کی بات کا وشمہ پی زرا اثر نہیں ہو اتھا جس وجہ سے وہ لہجہ سخت کیے اس کی تھوڑی پہ اپنی انگلیوں کا دباؤ بڑھا گیا ۔
وشمہ نے فورا آنکھیں کھولی تھی ۔
وشمہ کو اپنی جانب آہستہ سے کھینچے وہ اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکائے اس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں الجھانے لگا ۔
دانیال کے قریب آتے ہی وشمہ کی آنکھیں بند ہوی تھی جبکہ چہرہ شرم سے دہکنے لگا تھا ۔
اگر اب تمہاری آنکھیں بند ہوی تو میں انہیں نکال کے پھینک دوں گا۔ کیا فائیدہ ایسی آنکھوں کا جن میں ہماری محبت! ہماری قربت کا عکس نہ ہو ۔۔۔۔جس میں میرے وجود کا نقش نہ ہو ۔
تمہاری آنکھوں میں تمہارے وجود پہ تمہارے جسم کے ہر نقش پہ صرف دانیال کی چھاپ ہو رباشہ کے لبوں پہ سختی سے جھکے وہ اس کے نچلے ہونٹ کو ہلکا سا کھینچے اس میں اپنے دانت گاڑھ گیا ۔
آنکھوں میں بلا کی شدت تھی ۔
اس کی آنکھوں میں موجود جزبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ ایک پل کو وشمہ لرزی تھی ۔
ان کی شادی کو مہینہ ہوچکا تھا اور اب وشمہ پریگننٹ بھی تھی مگر وہ اب بھی دانیال کی قربت میں لرزتی تھی ۔۔۔دانیال کے نزدیک آتے ہی وہ کانپنے لگتی تھی
جبکہ چہرہ اور آنکھیں مکمل طور پر اس کا ساتھ چھوڑ جاتی تھی وجود بے جان ہوجاتا تھا ۔
وشمہ پہ مکمل جھکے دانیال اسے اپنے حصار میں قید کرگیا ۔
دانیال آپ نے مجھے بتایا نہیں ؟
کیا ناسمجھی سے وہ وشمہ کو دیکھنے لگا تھا ۔
کیا محبت اتنی سستی ہوتی ہے کہ ایک انسان نہ ملے تو دوسرے سے محبت کا دعویٰ کر کے اسے زندگی میں شامل کر لیا جائے ۔
وہ قریباً روز دانیال سے یہ سوال کرتی تھی ۔
تم نے بھی تو نہیں بتایا کہ تم مجھ سے محبت کرتی تھی پھر اتنی نفرت کیسے ؟
مجھے آپ سے نفرت ہوی تھی کیونکہ آپ ایک لڑکی کی عزت کرنا نہیں جانتے بھابھی کی بھائی سے شادی ہوچکی ہے اس کے باوجود آپ نے انہیں بلیک میل کیا تھا ۔
بلیک میل ! میں نے کب ! میں نے ایسا کچھ نہیں کیا یہ الزام ہے مجھ پر
ان کے سامنے آنے پر آپ انہیں عجیب نگاہوں سے دیکھتے تھے ان کے سامنے اپنا ماضی بیان کرنا ! آپ کو کیا لگتا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی تھی ۔
جانتے ہیں ایک لڑکی کو بہت تکلیف ہوتی ہے جب اسے ڈرایا جاتا ہے وہ گھٹنے لگتی ہے اپنے اندر اس کا وجود اس کی روح کے لیے تنگ پڑجاتا ہے وشمہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے کیونکہ اس نے رباشہ کی آنکھوں میں ضماہیر سے دور جانے کا ڈر دیکھا تھا ۔
اور وہ ڈر وشمہ کو اندر سے ہلا گیا تھا ۔
میں جانتا ہوں میں نے سب غلط کیا مگر میرے ساتھ بھی تو غلط ہوا تھا نہ !
وہ ماضی تھا میں اسے دوہرانا نہیں چاہتا میرا حال میرا مستقبل سب تمہارے ساتھ ہے اور میں بہت خوش نصیب ہوں کہ تم میری ہمسفر ہوں۔
وشمہ کے پیٹ کے گرد اپنے بازو گھومائے وہ سختی سے اسے خود میں بھینچ گیا ۔
حسینہ جانم! رباشہ کے ہوش میں آتے ہی وہ اسے اپنے سینے سے لگا گیا جیسے کسی گڑیا کو خود سے جوڑے بیٹھا ہو وہ گڑیا ہی تو تھی ضماہیر کی گڑیا مگر بچپن سے وہ اس کے لیے ایک فیری تھی اس کی لٹل فیری!
دور ہٹیں مجھ سے خود کو سنبھالے اس نے ضماہیر کو پرے دھکیلا تھا ۔
مجھے اپنے گھر جانا ہے مجھے اپ کے ساتھ نہیں رہنا اس نے جلدی سے اپنے مدعا بیان کیا تھا ۔
تم میرے ساتھ رہو گی
مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ ! میں کیا کوئی بھی عورت ایک ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی جسے اپنی بیوی پر یقین نہ ہو ! ضماہیر کا رباشہ پر یقین نہ کرنا اس کی روح تک کو چھلنی کرگیا تھا ۔
میں معافی مانگتا ہوں تم سے
معافی ! وہ طنزیہ مسکرائے الماری میں گھسی اپنے کپڑے نکالنے لگی۔
مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا یہ میرا آخری فیصلہ ہے ۔
اس دنیا کا سب سے دردناک لمحہ جانتی ہو کونسا ہوتا ہے رباشہ کی جانب بڑھے وہ رباشہ کو خود میں بھینچ گیا ۔
جب آپ کے پاس آپ کی پسندیدہ چیز ہو مگر آپ کو اسکے چھن جانے کا خوف ہو ۔
اور یہ خوف پچھلے پورے مہینے میں نے ہر پل محسوس کیا ہے۔ یہ خوف ہر وقت میرے ساتھ تھا مجھے ڈراتا تھا کہ میں تمہیں کھو دوں گا ۔
اور تم آج پھر مجھے اس خوف میں مبتلا کر رہی ہو رباشہ کے ماتھے کے نزدیک اپنا ماتھا لے جائے _ اس کی کمر کے گرد بازو اڑائے اسے زرا سا اونچا کیے ضماہیر اس کی سانسیں منتشر کرنے لگا ۔
آج مجھے افسوس ہوا ہے۔ کاش تم ہوش میں نہ آتی جب تم کومے میں تھی تب تم میرے ساتھ تو تھی ۔
مجھے اپنے گھر جانا ہے اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے ۔
ٹھیک ہے تم چلی جاؤ مگر یاد رکھنا واپس تم اکیلی آؤ گی میں تمہیں لینے نہیں آؤ گا ۔
آپ دعا کرنا میں واپس ابھی جاؤ۔
تم مجھ سے کبھی جدا نہیں ہوسکتی یہ بات اچھے سے زہن نشین کرلو وہ رباشہ کے لبوں پہ جھکا اس کے لبوں کے گرد اپنا قفس بنائے اس کی ایک ایک سانس کو پینے لگا تھا ۔
مبارک ہو دادا سائیں چھوڑ دیا میں نے آپ کے پوتے کا پیچھا زاویار سے نکاح کیے مناہل اور زاویار دونوں دادا سائیں کے سامنے پیش ہوے تھے ۔
بہت اچھا کیا جو میرے پوتے سے دور ہوگئی تم ورنہ تم جیسی لڑکی تو کبھی بھی اس حویلی کی بہو بننے کے قابل نہیں
اب جہاں اس گھر میں کیا کر رہی ہو جب نکاح کر ہی لیا تو اپنے شوہر کے ساتھ جاتی نہ ۔
وہ کیا ہے نہ میرے شوہر کو گھر جمائی بننے کا شوق ہے زاویار کا ہاتھ تھامے وہ داد سائیں کے کمرے سے باہر نکلی تھی ۔
کہاں جارہے ہو تم کمرے سے باہر آتے ہی اس نے زاویار کا ہاتھ جھٹکا تھا ۔
اپنے گھر ! مگر یہاں کمرے میں ! تم نے تو کہا تھا ہم حویلی میں رہیں گیں حویلی کے دروازے کی جانب اٹھتے زاویار کے قدم دیکھ وہ فوراً رکی تھی ۔
شادی کے بعد لڑکا گھر نہیں بدلتا لڑکی کی رخصتی ہوتی ہے اور مجھے کوئی شوق نہیں گھر جمائی بننے کا ۔
مناہل کو اپنے کاندھے پہ ڈالے وہ حویلی سے باہر نکلا تھا ۔
جنگلی انسان مجھے چھوڑ! نیچے اتارو مجھے۔ مجھے یہیں حویلی میں رہنا ہے۔وہ اپنے ہاتھوں سے زاویار کی کمرے پہ مکے مارنے لگی تھی ۔
شادی کے بعد بیوی اپنے شوہر کے ساتھ ایک کمرے میں رہتی ہے اور جانتی ہو شوہر اس کے ساتھ بہت کچھ کرتا ہے کمرے میں وہ بھی بلکل اکیلے !
میں بھی وہی سب کرو گا تمہارے ساتھ ! صرف تم اور میں اور ایک اندھیرا کمرہ ۔۔۔
زاویار کی باتوں سے مناہل کے جسم میں خوف سرائت کر گیا آنے والے وقت کے بارے میں سوچ کر اس کی روح تک لرزنے لگی تھی ۔
حویلی مان نے صحیح کہا تھا تم مرد حوس کے پوجاری ہو ۔
