Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode10)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode10)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
آپ بلکل فارغ انسان ہیں مگر میرے پاس بہت سے کام ہیں ضماہیر کو خود سے دور کرتی وہ نیچے فاطمہ بیگم کے پاس آئی تھی ۔
لڑکی کے تو رنگ ڈھنگ ہی بدل گئے ۔۔۔۔۔اس کے چہرے پہ آئی خوشی کو حویلی ماں اچھے سے بھانپ گئی تھی انہیں کہاں گوارا تھا کہ رباشہ ایسے خوش رہے ان کے لیے تو وہ ضماہیر کے گلے میں اٹکا ایک پھندا تھا جسے وہ بہت جلد ضماہیر سے دور کرنے کا ارادہ رکھتی تھی ۔
لڑکی زیادہ ہواؤں میں اڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔یہ جن ہواؤں میں تم اڑ رہی ہو بہت جلد یہی تمہیں نیچے فرش پر پٹخیں گی ۔۔۔ایک دفعہ مناہل کو آجانے دو ضماہیر تمہارے یہ سارے پر پرزے خود ہی کاٹ دے گا تب تک کے لیے اڑ لو ہواؤں میں ۔۔۔حویلی ماں کی باتیں اس کے دل کو بری طرح سے زخمی کر گئی تھی خود کو رونے سے بعض رکھ کر وہ فاطمہ بیگم کے پاس جاکر بیٹھ گئی۔
خالہ میرا ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے !! میں نے کبھی کسی کا برا نہیں چاہا میں نے ضماہیر کو نہیں کہا تھا مجھے اپنی زندگی میں شامل کر یں ۔۔۔۔۔مجھے شامل کرنے کے بعد وہ کیسے مجھے اپنی زندگی سے بے دخل کر سکتے ہیں
میں سب کچھ ویسا تو کر رہی ہوں جیسا آپ نے کہا تھا کبھی میں نے ان کو اپنا حق لینے سے نہیں روکا انہیں اپنے پاس آنے دیا پھر بھی ۔۔۔۔۔۔بیوی ہوں میں ان کی اور وہ ۔۔۔۔۔کیسے کر سکتے ہیں وہ میرے ساتھ یہ سب ۔۔۔۔
کیا کہا تم نے بیوی ہو تم ان کی ؟؟
جی خالہ !! وہ فاطمہ بیگم کی بات کا مطلب سمجھے بغیر انہیں دیکھنے لگی
تو کیا ضماہیر پر اپنی ملکیت قائم رکھنے کے لیے یہ ایک دلیل کافی نہیں۔۔۔۔۔ضماہیر تمہاری ملکیت ہے ۔۔۔۔اتنے بڑے ملک میں رہ کر آئی ہو کیا تمہیں اپنا حق لینا نہیں آتا
مگر وہ خود مجھے چھوڑنا چاہتے ہیں !!!
اس کا شوہر محافظ تھا اس کا اس کی حفاظت کرنے کے لیے ہر وقت تیار تھا ۔۔۔۔۔۔اس نے خود سے کبھی نہیں کہا تھا کہ وہ علیحدگی اختیار کرے گا رباشہ سے
ضماہیر نے کہا ؟؟؟ فاطمہ بیگم اس کی بات سن کر پریشان ہوگئی
ابھی کل ہی تو ضماہیر نے کہا تھا کہ رباشہ اس کی بیوی ہے وہ مرتے دم تک اس کا ساتھ نبھائے گا اور اب یہ ۔۔۔۔
فکر نہ کرو بچے !! سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔انتظار کرو اپنی قسمت کے فیصلے کا قسمت لکھنے والے نے جو کچھ تمہارے نصیب میں لکھا ہوگا تمہیں مل جائے گا ۔۔۔بس اپنی ملکیت پر اپنا قبضہ برقرار رکھنا
یہ زندگی اتنے بڑے امتحان کیوں لیتی ہے وہ ہار گئی تھی شاید ان امتحانات سے ۔۔۔۔۔اچھا بس بس بچے رو تو نہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلتے دیکھ کر فاطمہ بیگم نے جلدی سے اس کے آنسو پونچھے تھے۔
جاؤ کمرے میں جاؤ اپنے کپڑے وغیرہ دیکھ لو پارلر والی آنے والی ہوگی
فاطمہ بیگم کی بات سنتے وہ بوجھل قدموں سے اپنے کمرے کی جانب چل دی
یہ سب کیا ہورہا ہے میرے ساتھ ! سارے امتحان کیا مجھ پر فرض ہیں ۔۔۔۔۔۔میری زندگی کیا چاہتی ہے مجھ سے
مجھے جس کا ساتھ چاہیے تھا وہ اتنی دور ہے کہ مجھے اس کی خبر نہیں اور جس کے بارے میں کبھی معلوم نہیں تھا وہ اس قدر قریب ہوچکا ہے کہ میرا دل اس کی قربت چاہتا ہے
کیوں میرا دل ضماہیر کا ساتھ چاہتا ہے ۔۔۔۔کیوں میں اس کی غیر موجودگی میں محفوظ فیل نہیں کرتی ۔
میرا دل ضماہیر کو چاہتا ہے کیا ؟ کیا مجھے ضماہیر کا ساتھ چاہیے وہ اپنے بالوں میں انگلیاں پھسائے کمرے کی لائٹ بند کیے بیڈ سے ٹیک لگائے خود ہی سارے سوالوں میں الجھ رہی تھی ۔
نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے میری محبت! وہ تو صرف دانیال ہے میں نے ہمیشہ ان سے محبت کی ہے ! میں اس بے وفا دنیا میں بے وفا نہیں کہلا سکتی
مگر !!! اس کے دماغ کی نسیں پھٹنے کو تھی
مگر دانیال نے کہا تھا وہ مجھے کبھی خود سے دور نہیں کریں گے آج میں اتنی دور ہوں کیا ان کو احساس نہیں ۔۔۔۔۔ان کو محسوس نہیں ہوا کیا کہ رباشہ بہت دور چلی گئی ہے ان سے ۔۔۔۔
کیا یہی تھی محبت کے انسان زرا دور ہو جائے تو اسے زندگی سے نکال باہر پھینکو !!
اس نے غصے میں کمرے میں چلتی ڈم لائٹ بھی بند کر دی
اب صرف یہ اندھیرا میرا سہارا ہے میں رو سکتی ہوں اس میں اگر میں بکھر جاؤ تو یہ سمیٹ لے گا مجھے ۔
نہیں حسینہ جانم !! تمہارا سہارا میں ہوں میری بانہوں میں بکھر جاؤ میں سمیٹ لوں گا تمہیں ۔۔۔۔۔۔تمہارے ہر زرے کو اپنی بانہوں میں بھر لوں گا کمرے کو لاک کیے ضماہیر رباشہ کی جانب بڑھا تھا
جانم !! یہ رونا کیسے اس کے سر کو اپنے کندھے سے لگائے ضماہیر اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیرنے لگا ۔وہ اسے پر سکون کرنا چاہتا تھا
یہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی میری زندگی مجھے کہاں لے جا رہی ہے
میں بے بس ہوں ہار گئی ہوں میں وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی جبکہ اس کا ایک ایک آنسو ضماہیر کے دل پر گہرا زخم لگا رہا تھا
جانم اسے بانہوں میں بھرتے ضماہیر رباشہ کو بیڈ پر لایا تھا
تم فکر نہ کرو کچھ نہیں ہوتا برا وقت آتا رہتا ہے سمجھ لو یہ تم پر آزمائش آئی ہے
رباشہ کا سر اپنی گود میں رکھے وہ اس کے سر کو ہلکا ہلکا دبانے لگا
یہ آزمائشیں کیا مجھ پر فرض ہیں ؟
اس سوال کا جواب تو ضماہیر کے پاس بھی نہیں تھا وہ اسے کیا بتاتا کہ بلکل اسی طرح ایک وقت وہ بھی ایسے ہی زندگی سے بیزار ہو اتھا
میں تمہاری زندگی میں رنگ بھردوں گا حسینہ جانم ۔تمہارا ہر دکھ درد خود میں سمیٹ لوں گا
مگر مناہل !!! مناہل کو یاد کرتے وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی تھی
مناہل !! ضماہیر نے آنکھیں اچکائے اسے دیکھا تھا
مناہل آگئی تو آپ مجھے چھوڑ ۔۔۔۔۔۔ضماہیر اس کے الفاظ پورے ہونے سے پہلے ہی اس کے لبوں پر قفل لگا گیا
حسینہ جانم میں نے آج تک کسی لڑکی کی خواہش نہیں کی مگر اب میں کرتا ہوں ۔۔۔۔۔میں تمہاری خواہش کرتا ہوں میں تمہیں اپنے لیے مانگتا ہوں ۔۔۔۔میں تمہیں پانا چاہتا ہوں
وہ دیوانہ وار اس کے چہرے پہ جھکا اس کے ایک ایک نقش کو حفظ کر رہا تھا
میں تو مل چکی ہوں نہ آپ کو ؟ رباشہ نے جیسے سارے مسلہ کا حل نکالا تھا
حسینہ جانم ملنے اور حاصل کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے اس کی آنکھوں کو اپنے ہاتھوں سے ڈھانپیں وہ رباشہ کی آنکھیں بند کر وا گیا
سوجاؤ ! تمہیں آرام کی ضرورت ہے میں یہیں ہو کچھ چاہیے ہو تو آواز لگا دینا
کمبل ٹھیک کرتے اس نے واشروم کا رخ کیا تھا
چہرے پر آئے وضو کے پانی کو خشک کرتے اسنے جائے نماز اٹھائی اور سٹڈی روم میں بند ہوگیا ۔
اے میرے مالک ! تیرا بندہ بہت گناہگار ہے مگر تیری رحمت بہت وسیع ہے میرے مولا رحم فرما مجھ پر میری بیوی پر ۔۔۔۔۔جو کچھ میرے ساتھ سات سال پہلے ہوا میں نے کچھ شکوہ نہیں کیا نہ ہی کبھی کسی چیز کا گلہ کیا مگر میری بیوی!!!
آج میری بیوی اس سب سے گزر رہی ہے میرے مالک ! وہ تکلیف میں ہے مجھے محسوس ہورہا ہے اس کا درد اسے سکون دے میرے مالک ۔۔۔
وہ بیوی ہے میری ۔۔۔۔۔نہیں دیکھ سکتا میں اسے تکلیف میں میں نے کبھی کسی لڑکی کی طلب نہیں کی مگر مجھے طلب ہے۔۔۔۔طلب ہے مجھے میری بیوی کی ۔۔۔۔۔تو تو دلوں کےحال سے بخوبی واقف ہے پھر کیسے نہیں جانتا اس کا درد مجھے ازیت دے رہا ہے ۔۔۔مجھے معلوم نہیں کیسے مگر اب وہ اتنی ضروری ہوگئی ہے کہ وہ میری ضرورت ہے
یہ حاجت کے نوافل میں نے اپنی بیوی کے سکون قلب کے لیے پڑھے ہیں میرے مالک اسے سکون قلب دے
اس کی دعائیں طویل ہورہی تھی یہ پہلی دفعہ تھا جب اس کی دعا میں کوئی لڑکی شامل تھی وہ گڑگڑارہا تھا اپنی بیوی کے سکون قلب کے لیے ۔۔۔۔۔وہ اللہ سے رحمت طلب کررہا تھا
ہاتھوں کو چہرے پر پھیرتے اس نے جائے نماز فولڈ کی اور سٹڈی سے باہر رباشہ کے پاس آیا تھا
قرآن پاک اٹھا کر وہ رباشہ کے نزدیک بیٹھا سورہ رحمٰن پڑھنے لگا ۔بچپن میں جب جب میرا دل پریشان ہوا جب جب مجھے سکون قلب کی کمی ہوی مجھے اس سورت کی تلاوت سے سکون ملا ۔ یقیناً تمہیں بھی سکون ملے گا رباشہ کے ایک ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھامے وہ سورہ رحمٰن کی تلاوت کررہا تھا
قرآن کو واپس الماری میں رکھتے اس نے رباشہ پر پھونک ماری تھی اور خود اس کے نزدیک جگہ بناتا اس کا سر اپنے سینے پر رکھ کر لیٹ گیا
جانم یہی سکون تو مجھے تمہاری جانب کھینچتا ہے انگلیاں ابھی بھی رباشہ کے بالوں میں گردش کر رہی تھی
تم فکر نہ کرو جب خوشی کے دن زیادہ دیر نہیں رہتے تو غم کے دن کیسے رہ سکتے ہیں۔
اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھتا وہ آنکھیں بند کرگیا
جا فاطمہ اسے لڑکی کو بلا لا پارلر والی آگئی ہے
اچھا حویلی ماں میں جاتی ہوں
رباشہ بیٹا پارلر والی آگئی ہے بھیج دوں کمرے میں فاطمہ بیگم نے دروازہ نوک کر کے باہر سے ہی آواز لگائی تھی
خالہ بس پانچ منٹ رباشہ سورہی ہے میں اٹھا دو پھر بھیج دیجئے گا جواب ضماہیر نے دیا تھا
پارلر والی اپنا ہنر دکھا چکی تھی اللہ نے رباشہ کو پہلے ہی اتنے خوبصورت نین نقش دیے تھے اور پھر اوپر اس کا سجا سنورا روپ قیامت ڈھا رہا تھا ۔وہ ضماہیر کو زیر کرنے کے لیے تیار تھی ۔خود کو شیشے کے سامنے دیکھ کر ایک مرتبہ اسے خود پر ہی شک ہوا تھا
یہ میں ہوں؟؟ وہ خود کو ہی پہنچاننے لگی
خوبصورت!!!
ضماہیر جو کپڑے تبدیل کر نے کے لیے ابھی کمرے میں آیا تھا رباشہ کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا تھا
بلا کی خوبصورت!!
اپنی ی بیوی کی تعریف کرتے وہ رباشہ کی جانب قدم لینے لگا
اس کے قدم جو واشروم کی جانب تھے اب رباشہ کی طرف چل پڑے تھے
حسینہ جانم تم تو ہتھیاروں سے لیس ہو مجھے گھائل کرنے کا ارادہ ہے کیا
تم خوبصورت ہو مگر اتنی مجھے معلوم نہیں تھا حسینہ جانم !! وہ آہستہ آہستہ اس کی جانب بڑھنے لگا
جبکہ رباشہ اسے اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر اپنے قدم پیچھے کی جانب موڑنے لگی
پیچھے دیوار کی وجہ سے وہ دیوار سے جا ٹکرائی تھی۔
وہ مکمل طور پر ضماہیر کے رحم و کرم پر تھی جو بے شرموں کی طرح اسے گھورتا اس کی جانب بڑھ رہا تھا
ضماہیر پلیز!
کیا پلیز ابھی تو کچھ کیا بھی نہیں تم تو پہلے ہی رونا شروع کر دیتی ہو اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کیے ضماہیر نے رباشہ کو اپنی جانب کھینچا تھا
وہ ایک جھٹکے میں اس کے سینے سے جالگی تھی جبکہ شرم و حیا میں ڈوبی رباشہ اپنا سر تک نہ اٹھا سکی
جانم دیکھ تو لینے دو !!
ضماہیر رباشہ نے کھینچ کر اس کا نام پکارا تھا
جی جانم !! اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں بھرے اس نے رباشہ کے چہرہ کو زرا اونچا کیا تھا
اس کے بلڈ ریڈ لپسٹک سے سجے ہونٹ ضماہیر کا صبر آزما رہے تھے
وہ یک لخت اس کے لبوں پہ جھکا انہیں اپنی گرفت میں لے گیا
حسینہ جانم !!! لبوں کو چھوڑتے اب اس کے لب رباشہ کی گردن کا طواف کر رہے تھے
ضماہیر میرا میک اپ خراب ہورہا ہے ؟
اور میرے موڈ کا کیا جسے تم نے خراب کیا ہے
کس نے کہا تھا اتنی خوبصورت لگو ! تم نے خود میرا موڈ خراب کیا ہے اس کی شہ رگ کو آزادی دیتے وہ ایک دفعہ پھر اس کے لبوں پہ جھکا تھا
لپسٹک مکمل طور پر خراب کرنے کے بعد ضماہیر اس سے دور ہوا تھا
تمہارے ان لبوں پہ صرف میرے لب اچھے لگتے ہیں۔۔۔۔۔انہیں خوبصورت بنانے کے لیے میرا لمس کافی ہے ۔۔۔۔اس کے لبوں کو آزادی بخشتے اس کے ہونٹوں کو اپنے انگھوٹے سے چھونے لگا
وہ ایک دفعہ پھر اس کی شہ رگ پہ قابض ہونے لگا تھا
میرا میک اپ خراب!!!!
ضماہیر نے اسے گھوری سے نواز کر خاموش کیا تھا کیا میک اپ میک اپ لگا یا ہوا ہے
میں کردوں گا دوبارہ ۔۔۔۔۔۔ضماہیر نے اتنے پر سکون ہو کر کہا تھا جیسے میک اپ کرنا اس کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے
اس کا مطلب ہمارے سارے پیسے ضائع ہوگئے
پیسے تمہارے تھے کیا ؟؟ جو اتنا دکھ منا رہی ہو رباشہ اس کے اچھے خاصے موڈ کی ایسی تیسی کر چکی تھی
تمہارے شوہر کے پاس ہیں اتنے پیسے کہ وہ تم پر خرچ کر سکے
ہاہاہاہا بلکل بلکل چوری کے پیسے !!!! رباشہ کا زور دار قہقہہ کمرے میں گونجا تھا
