Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 18)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 18)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
کیا کھانا ہے تم نے ؟
ضماہیر رباشہ کو شیلف پہ بٹھائے خود کھانا بنانے کی تیاری میں چھری ہاتھ میں اٹھا گیا ۔
آپ کو ؟ اس کا لہجہ ایک دم شوخ ہو اتھا ۔
یہ ڈش تو مجھے بھی بہت پسند ہے حسینہ جانم چلو ہم یہی کھاتے ہیں ۔
نہیں نہیں میں تو مزاق کر رہی تھی
پر میں اب سیسریس ہو حسینہ جانم ضماہیر رباشہ کے لبوں پہ اپنا انگھوٹا پھیرنے لگا ۔
آپ اتنے بے شرم کیوں ہیں ؟
تمہیں دیکھ کر شرم ختم ہو جاتی ہے
حسینہ جانم ضماہیر مزید رباشہ کے قریب ہو اتھا ۔
مم مجھے نوڈلز کھانے ہیں بنا دیں ۔
نوڈلز ؟؟؟
جی نوڈلز
یہ بھی کوئی کھانے کی چیز ہے
اور جو ڈش آپ کو پسند ہے وہ بھی کوئی کھانے کی چیز ہے وہ جانے انجانے میں ضماہیر کو اپنے عقل مند ہونے کا ثبوت دے چکی تھی ۔
ہا ہا ہا ہا ۔۔۔۔جانم وہ تو اتنے مزے کی ڈش ہے کہ میں ساری زندگی اس پہ زندہ رہ سکتا ہوں ۔
آؤ تمہیں ٹیسٹ کرواؤ وہ زومعانی انداز میں کہتا اس کے لبوں کو اپنا نشانہ بناگیا ۔
ہم کچن میں ہیں ۔۔۔۔ضماہیر سے دور ہوتے ہی رباشہ نے اپنی سانسیں بحال کی تھی ۔
چلو پھر کمرے میں چلتے ہیں جانم
ہیر کچن میں یہاں ؟
فاطمہ بیگم کی نظر کچن میں داخل ہوتے ہی ضماہیر پہ گئی تھی جس کے پہلو میں رباشہ شیلف پہ بیٹھی تھی مگر وہ ضماہیر کے پیچھے ایسے چھپی تھی کہ فاطمہ بیگم اسے نہ دیکھ سکی ۔
فاطمہ خالہ رباشہ نے دانتوں میں زبان دبائی تھی ۔اسے تو اپنی پوزیشن پہ ہی شرم آرہی تھی ۔
اب کیا کریں گے ہم چور شوہر جی ! ضماہیر کے نزدیک ہوتے اس نے ہلکی سی سرگوشی کی تھی ۔
جی خالہ پیاس لگی تھی کمرے میں پانی نہیں تھا اس لیے پانی پینے آگیا ۔
اچھا چلو آؤ شاباش میں ناشتہ لگا دیتی ہوں وہ بھی کر لیتے ہیں بڑے سردار کی تو طبیعت خراب ہے اس لیے ان کا ناشتہ میں نے کمرے میں ہی بھیج دیا ہے ۔
رباشہ !! رباشہ کو ضماہیر کے ساتھ نہ پاکر انہیں رباشہ یاد آئی تھی ۔
وہ کہاں ہے اسے بھی بلا لاتے ۔
اپنا نام سنتے ہی رباشہ کا سانس سوکھا تھا
خالہ کمرے میں ہے وہ آپ بلالائیں ۔
اچھا چلو میں جاتی ہوں انہیں عجیب لگا تھا ضماہیر کا ایسا کہنا کیونکہ وہ جانتی تھی ضماہیر خود سے کبھی ایسا بول ہی نہیں سکتا ۔رباشہ کو لے کر تو وہ اتنا شدت پسند ہے کہ اسے خود پر بھی یقین نہیں ۔
فاطمہ خالہ کمرے میں جانے کے لیے مڑی تھی ۔
چلو اب مجھے میری فیورٹ ڈش کھلاؤ
رباشہ تو اس کی اتنی بے باک باتوں پر گھبرا سی گئی تھی ۔
نہیں
کس کر رہی ہو یا نہیں
نہیں
خالہ رباشہ کو زچ کرنے کے لیے اس نے خالہ پکارا تھا مگر آہستہ ۔
سوچ لو ورنہ ابھی بھی تم شیلف پہ ہو اور میں تمہیں نیچے اترنے نہیں دوں گا ۔
اگر خالہ نے تمہیں ایسے دیکھ لیا تو ؟؟ سوچو سوچو
اچھا اچھا آپ آنکھیں بند کریں میں کرتی ہوں رباشہ کی آواز سرگوشی کرنے سی تھی ۔
ضماہیر شیلف سے تھوڑا پیچھے ہٹ کر آنکھیں بند کر گیا ۔
رباشہ ضماہیر کے سامنے آئی اور اپنے پیر اٹھا کر اس کے کاندھے تک پہنچی تھی ۔
سوری چور شوہر جی ! اس وقت وہ ڈش موجود نہیں ضماہیر کے پاس سرگوشی کرتے ہی وہ کچن سے باہر بھاگی تھی ۔
بیوی ! اسے بھاگتا دیکھ ضماہیر بھی رباشہ کے پیچھے بھاگا تھا ۔
ان دونوں کی کھلتی مسکراہٹ کو دیکھ کر مناہل کا خود پر سے کنٹرول کھونے لگا ۔
اس کے اندر جلتی آگ انہیں ایک ساتھ دیکھ کر مزید بڑھ جاتی تھی ۔
ہیلو ! مناہل نے دانیال کو کال ملائی تھی ۔
ہاں بولو کیا کام ہے ؟ بغیر کسی رسمی سلام دعا کے وہ سیدھے مدعے پہ آیا تھا ۔
گھر آؤ ۔
وجہ ؟؟؟ کیوں آنا ہے
جب آؤ گے تو پتہ چل ہی جائے گا نا اتنا کہتی مناہل کال کاٹ گئی ۔
وشمہ کلاس میں داخل ہوتے ہی ایک لڑکے کے پاس بیٹھی تھی جسے پہچاننے میں اس لڑکے نے زرا دیر نہیں لگائی تھی ۔
وشمہ ؟ وہ لڑکا وشمہ کو پہچاننے لگا
جی آپ کون ؟
وش اتنی جلدی بھول گئی مجھے
وش ! نام سنتے ہی اس کے زہن میں اس کا کالج گھوما تھا یہ نام تو اسے زین نے دیا تھا ۔
زین! شکر ہے وش تمہیں نام تو یاد ہے
اپنے بھالو کو کون بھول سکتا ہے۔
وش تم سدھری نہیں نہ ۔
نہیں بلکل نہیں!
وش سائیکالوجی تو تمہیں پسند نہیں تھی نہ
بھالو کیا کروں پاگلوں کو پڑھنے کا شوق ہوگیا ہے مجھے دونوں کا ایک زور دار قہقہہ بلند ہوا تھا ۔
تمہیں دیکھ کے لگتا نہیں کہ آج تمہارا پہلا دن ہے یونیورسٹی میں ۔
تمہیں دیکھ کہ بھی نہیں لگتا کہ تم زین ہو تم تو اتنے موٹے تھے اب کونسے غم لگ گئے تمہیں ۔
غم یار غموں کا تو نہ ہی پوچھو کوئی لڑکی سیٹ ہی نہیں ہوتی ۔
استغفر اللہ!! وشمہ تو اس کی بات پر توبہ کرتی رہ گئی۔
السلام علیکم کلاس ! وہ دونوں اپنی باتوں میں اتنا مگن تھے کہ کلاس میں داخل ہوتے ٹیچر کو بھی نہ دیکھ سکے ۔
دانیال ٹیچر پر نظر پڑتے ہی وشمہ کا تو سانس سوکھ گیا تھا ۔
دانیال وہ تھا اس کا ٹیچر !
جبکہ دانیال کی نظروں کا تعاقب مکمل طور پہ وشمہ اور زین تھے ۔
کیا آپ لوگوں کو اتنا معلوم نہیں کہ جب ٹیچر کلاس میں موجود ہو تو اس کی باتوں پر دیہان دیا جاتا ہے دانیال وشمہ کو اس لڑکے کے ساتھ دیکھ کر ہی آگ بگولا ہوگیا تھا ۔
آپ ٹیچر ہیں وشمہ دانیال سے سوال کرنے لگی جو پہلے ہی دن اس کی اچھی خاصی بے عزتی کر گیا تھا۔
وشمہ تم آگے آکر بیٹھو وہ پوری کلاس کے سامنے اس کا نام لے گیا ۔
وشمہ خاموشی سے اپنا بیگ اٹھاتی بلکل اس کے سامنے موجود کرسی پر بیٹھ گئی جبکہ دانیال اس کے آس پاس پڑی کرسیاں جن پر کلاس کے دوسرے لڑکے موجود تھے انہیں وشمہ کی کرسی سے کوسوں دور کر گیا ۔
کلاس میں آپ سب کو کچھ دن تک سائیکالوجی پڑھاؤ گا کیونکہ آپ کے پروفیسر کچھ دن یونیورسٹی نہیں آسکیں گے ۔
میرا نام دانیال گوندل ہے وہ کلاس سے اپنا تعارف کروانے لگا ۔
جبکہ یہ لڑکی جسے میں نے ابھی پیچھے سے آگے بٹھایا ہے میری منگیتر ہے وشمہ دانیال گوندل امید کرتا ہوں اس کا اتنا تعارف بہت ہے دوبارہ مجھے کوئی لڑکا اس سے تعارف پوچھتا ہوا نظر نہ آئے ۔
وشمہ دانیال کو بے یقینی سے دیکھنے لگی وہ کہاں اس کی منگیتر تھی ۔
منگیتر!! کلاس وشمہ کی قسمت ہر رشک کر اٹھی ۔ جس کو اتنی چارمنگ پرسنیلٹی والے شخص کا ساتھ پوری زندگی کے لیے ملا تھا ۔
ٹیچر زین نے دانیال کو پکارا تھا ۔
بولیے ! دانیال زین کو وشمہ کے نزدیک بیٹھا دیکھ کر ہی جل چکا تھا اب اس کے بلانے پر تو وہ مزید آگ بگولا ہوا تھا ۔
اگر وش آپ کی منگیتر ہے تو آپ نے ساری کلاس کے سامنے اس پر غصہ کیوں کیا ۔
وہ ہمارا نجی مسلہ ہے اگر آپ کو اتنا شوق ہے جاننے کا تو میرے گھر آ جانا سب کچھ بتا بھی دوں گا اور اچھے سے سمجھا بھی دوں گا ۔
اور یہ کیا وش وش لگایا ہوا ہے کہا ہے نا یہ وشمہ دانیال گوندل ہے اس کا نام سو دفعہ لکھو وشمہ دانیال گوندل ۔
پر سر ؟؟
جتنا کہا ہے اتنا کرو اگر تب بھی وشمہ کا نام یاد نہ ہو تو ہزار دفعہ لکھنا مگر یاد رکھنا وشمہ دانیال گوندل اس کے لہجہ میں سختی ابھری تھی ۔
جی جی ٹیچر۔
جانم بس تمہارا شوہر بھاگ بھاگ کر تھک گیا ہے اب۔ ضماہیر کب سے رباشہ کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا ایک وہ تھی جو ضماہیر کے ہاتھ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔
ضماہیر کا موبائل ایک دفعہ پھر بجنے لگا تھا ۔
موبائل پر جگمگاتا نمبر دیکھ کر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
سردار صاحب نہیں مل رہی وہ لڑکی ہم نے بہت ڈھونڈا ہے ۔
آتا ہوں میں اور باقی لڑکیوں پہ نظر رکھنا کہیں وہ بھی بھاگنے کے چکر میں نہ ہوں ۔
یہ لڑکیاں ہوتی ہی ایسی ہیں موقع ملنے کی دیر ہوتی ہے بھاگ جاتی ہیں وہ کال بند کرکے واپس رباشہ کے پاس باہر آیا تھا ۔
جانم مجھے کچھ کام ہے میں باہر جا رہا ہوں دیہان رکھنا ضماہیر رباشہ کے پاس آیا تھا جو اس وقت فاطمہ خالہ سے باتوں میں مصروف تھی۔
جی صحیح ہے
کیا صحیح ہے ؟
چلو مجھے دروازے تک چھوڑنے آؤ.
رباشہ ضماہیر کی بات سنتی اس کے ساتھ پیچھے آئی تھی ۔
اب جاؤں میں دروازے پر پہنچتے ہی اس نے واپس جانے کی اجازت لی تھی ۔
یہاں تک میں کیا خالی تمہیں اس لیے لایا تھا جب شوہر گھر سے باہر جاتا ہے تو اسے کس کی جاتی ہے ۔
یہ پہلی دفعہ ہے اس لیے تمہیں سمجھا رہا ہوں اگلی دفعہ ایسا ہوا تو سزا ملے گی ۔
وہ رباشہ کے ماتھے کو چھوتا گھر سے باہر نکلا تھا ۔
رباشہ اپنی قسمت پر خدا کا شکر ادا کرتی فاطمہ بیگم کے پاس واپس آئی تھی اسے محبت ہونے لگی تھی اپنے شوہر سے جس نے اس کا ماضی جاننے کے بعد بھی اس کا ساتھ دیا تھا ۔
جو اپنے ماضی کے اندھیروں کو اس میں انڈیل کر اپنا غم بانٹ چکا تھا مگر ابھی تو وہ آدھی حقیقت سے ناواقف تھی ۔
ضماہیر بہت خیال رکھتا ہے نہ تمہارا ؟
جی خالہ ! پتا ہے شروع میں میں اس رشتے سے آزادی چاہتی تھی مگر اب لگتا ہے اگر میں اس رشتے سے آزاد ہوی تو ہمیشہ کے لیے غموں میں قید ہوجاؤ گی ۔
اس کی آنکھوں کی لڑی سے آنسو بہ گیا تھا ۔
نہیں بچے روتے نہیں اب تو تم جاننے لگی ہو اسے اس کا ساتھ دینا ہمیشہ وہ کچھ گناہوں پر ہے مگر تم ہی ہو جو اسے ان گناہوں سے نکال سکتی ہے ۔
اپنے شوہر کو اپنے ساتھ جنت میں پانے کے لیے تمہیں اسے ان سب سے باہر نکالنا ہوگا ۔
وہ بچپن سے ہی بہت اکیلا رہا ہے مگر اب تمہیں اس کا ساتھی بننا ہوگا ۔
وہ خاموشی سے اپنے اندر عہد کر چکی تھی اسے بدلنے کا اسے بدلنا تھا اپنے شوہر کو ۔۔۔
کلاس کے بعد آفس میں آنا
Krelace (queen)
وہ پوری کلاس کے سامنے وشمہ کو حکم دیتا کلاس سے باہر نکلا تھا جبکہ اس کا ایسا کرنے پر وشمہ پوری کلاس کے سامنے شرم سے نظریں نہیں اٹھا پارہی تھی ۔
ٹیچر میں آجاؤ ؟ وشمہ نے دروازے کے باہر کھڑے ہوکر دانیال سے اجازت مانگی تھی ۔
آجاؤ!!
دانیال ریلنگ چیر پہ دونوں ہاتھ جمائے اسے آفس میں داخل ہوتا دیکھنے لگا ۔
کیوں بیٹھی تھی اس کے ساتھ ؟
جگہ نہیں تھی
مجھے بتا دیتی میں تمہیں جگہ بنادیتا
وہ میرے بچپن کا دوست ہے ۔
مگر اب تم بڑی ہوچکی ہو ! اب تمہارا صرف ایک دوست ہونا چاہیے دانیال ۔۔۔وہ ناجانے کیوں اپنا نام کہہ چکا تھا ۔
دوست وہ بھی آپ ؟ حیران ہوں میں
اس میں حیرانی کی کیا بات ہے ۔
محبت تو آپ سے سنبھالی نہیں جاتی دوستی سنبھالیں گے آپ ۔۔۔
میرے سامنے زیادہ زبان نہ چلایا کرو ۔۔۔۔وشمہ کو دھکیل کر وہ اسے دیوار سے پن کر گیا جبکہ اس کی دونوں جانب دانیال کا قفس موجود تھا ۔
مسٹر دانیال زرا دور ہو کر میرا نہیں خیال کہ ہمارے درمیان ایسا کوئی رشتہ ہے جو آپ میرے اتنا نزدیک موجود ہیں ۔
دانیال کو خود سے دور ہٹائے وہ اس کی قید سے نکلی تھی ۔
دانیال کو اپنی جلد بازی پہ غصہ آنے لگا تھا
صحیح تو کہا تھا اس نے ان کے درمیان ایسا تو کوئی رشتہ نہیں تھا جو وہ ایک دوسرے کہ اتنا قریب آسکیں ۔
میں گاڑی نکال رہا ہوں باہر آجاؤ ۔
ہممم وہ محض اتنا کہتی اس کے ساتھ ہی باہر نکلی تھی ۔
وش تم جارہی ہو ؟ دانیال وشمہ کی فرمائش پہ کینٹین پر رکا اس کے لیے پاپڑ لینے گیا تھا جبکہ وشمہ پیچھے اکیلی تھی ۔
وشمہ کو اکیلا پاکر زین اس کے پاس آیا تھا ۔
ہاں وہ ہیں نہ ہمارے ٹیچر ان کے رحم وکرم کی وجہ سے مجھے واپس جانا پڑے گا ۔
مگر وہ تو تمہارے منگیتر بھی ہیں ۔
وشمہ نے خاموشی سے دل میں انشاللہ کہا تھا جبکہ زین اس کے جواب کا منتظر تھا ۔
کیا کر رہے ہو یہاں ؟ زین کو ایک دفعہ پھر وشمہ کے ساتھ دیکھ کو دانیال کا میٹر گھوم چکا تھا ۔
دانیال کو وہاں دیکھ کر زین بغیر کوئی جواب دیے جلدی سے
وہاں سے واک آؤٹ کر گیا ۔
میں نے قتل کردینا ہے اس کا وہ غصے میں وشمہ پہ دھاڑا تھا جو ہر بار اس کے ساتھ کھڑی ہو جاتی تھی ۔
اب آپ کو جیلسی بھی ہورہی ہے ویسے ایک بات بتاؤ جیلیس ہونا پیار ہونے کی پہلی نشانی ہے وہ ایک آنکھ ونگ کرتی گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر آگے بیٹھی تھی ۔
استغفرُللہ!!!!
جتنا آپ استغفار کرتے ہیں میرے خیال سے تو آپ جنت میں جائیں گے
ہاں تمہیں جو ساتھ لے کے جانے کے ارادے ہیں
krelace (queen)
کیا مطلب ؟
بہت جلد سمجھاؤ گا
ویسے تم ماشاءاللہ بہت زہین ہو دانیال کی نظریں سٹیرنگ سے ہٹ کر بار باروشمہ کے چہرے کا طواف کر رہی تھی ۔
جی الحمدللہ! میں تو بچپن سے ہی بہت زہین ہوں ۔
ماشاءاللہ رزلٹ دیکھا ہے میں نے تمہارا سب میں اللہ کا کرم ہے ایک نمبر سے ہی بچی ہو ۔
وشمہ کہاں یہ سوچ رہی تھی کہ اسے اس کی پڑھائی کے متعلق کچھ نہیں پتہ اب اس کے منہ سے اپنا رزلٹ سن کر تو اس کی جان ہوا ہوی تھی ۔
تو ؟؟ پڑھائی اتنی مشکل ہے مجھ سے نہیں ہوتی ۔
پھر پڑھ کیوں رہی ہو کیوں اتنے پیسے ضائع کر رہی ہوں نہ پڑھو ۔۔۔۔۔چھوڑ دو پڑھائی ۔دانیال نے اس کی مشکل حل کی تھی ۔
پڑھائی چھوڑ کر تو سب شادی کرتے ہیں ۔
چلو پھر ہم شادی کر لیں گے ۔
تمہارے اس چھوٹے سے دماغ میں یہ ساری باتیں کہا سے آتی ہیں ۔
میرا دماغ چھوٹا نہیں بہت موٹا ہے۔ موٹا دماغ ہے میرا ۔
ہاں وہی تو کہ رہا ہوں دماغ موٹا ہے تمہارا ۔
اپنی بات ہر غور کرنے پر وشمہ اس کا مطلب سمجھی تھی ۔
نہیں نہیں میرا دماغ موٹا نہیں ہے۔
پہلے تو تم نے خود کہا تھا موٹا دماغ ہے تمہارا ۔
میں تو یہ بھی کہتی ہوں مجھے آپ سے محبت ہے ۔
وشمہ کی بات پر وہ بلکل خاموش ہوا تھا وہ کیا جواب دیتا اسے اس سوال کا جواب تو اس کے پاس بھی نہیں تھا ۔
اترو گاڑی سے ۔
کیوں ؟
حویلی اگئی۔۔۔
وشمہ گاڑی سے باہر نکلی تھی ۔
یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا اس کا زکر میں دوبارہ تمہارے منہ سے نہ سنو
Krelace (queen)
وشمہ خاموشی سے اس کی بات پر ہاں میں سر ہلاتی حویلی میں داخل ہوی تھی۔
بہت نین مٹکا نہیں چل رہا تمہارا مناہل دانیال کو حویلی میں آتا دیکھ اس کی جانب آئی تھی مگر وشمہ کو اس کے ساتھ پاکر اس نے طنز کے تیر چلائے تھے ۔
نین مٹکا نہیں نہیں ۔۔۔۔سیدھا بیوی بناؤ گا ۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسے اس کے اور رباشہ کے درمیان موجود رشتہ کا علم ہو ۔
میں نے تمہیں بلایا تھا تم کیوں نہیں آئے ؟
مجھے تم نے خریدا نہیں ہے جو میں تمہارے حکم کا پابند ہوں ۔
یہ جو تمہاری ساری اکڑ ہے نہ مسٹر دانیال یہ میں ایک دن میں ہی ختم کر سکتی ہوں اگر میرا گھر نہیں بسا تو بسنے میں تمہارا بھی نہیں دوں گی ۔
مس مناہل اگر میرا گھر نہیں بسا تو میں تمہارا بستا گھر اجاڑ دوں گا ۔
وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے تھے مگر دشمنی ان میں آج بھی موجود تھی ۔ہمیشہ سے ہی دانیال اور ضماہیر کو ایک لڑکی ناپسند تھی اور وہ تھی مناہل ۔
ضماہیر کے جاتے ہی رباشہ کچن میں گھسی اس کے لیے کھانا بنانے لگی ۔رباشہ کو کچن میں دیکھ کر دانیال اس کی جانب بڑھا تھا ۔
کیا کر رہی ہوں ؟ دانیال کی آواز سنتے ہی اس کے اوسان خطا ہوا تھے اس کے ہاتھ خوف سے لرزنے لگے تھے جبکہ ہاتھ میں موجود چمچ چھوٹ کر زمیں پہ گرا تھا ۔
یہی ڈر اگر پہلے کر لیا ہوتا تو آج یہ نوبت نہ آتی ؟ کہا تھا نہ میں نے تم سے تم میری امانت ہو ۔۔۔۔میرے پاس تمہارا متبادل نہیں اور تم اس نے لپک کر رباشہ کو بازوؤں میں جکڑا تھا ۔
چمچ گرنے کی آواز سنتے ہی وشمہ کچن میں آئی تھی ۔
کیا ہوا بھابھی ؟
کچھ نہیں! بس چمچ چھوٹ گیا تھا آپ کو کچھ چاہیے تھا وہ وشمہ کو وہاں پاکر دانیال سے پوچھنے لگی ۔
جبکہ وشمہ کی آواز سنتے ہی دانیال نے رباشہ کو آزاد کیا تھا اور خود اس سے دور ہوا تھا ۔
ہاں وہ مجھے بھوک لگی تھی۔
کچھ دیر تک کھانا بن جائے گا میں لگا دوں گی آپ کے لیے وشمہ نے دانیال کے لیے فریج سے کیک نکالا تھا
ابھی آپ اس پر گزارا کریں ۔
دانیال کیک لیتا کچن سے باہر چلا گیا ۔
بھابھی آپ کیا بنا رہی ہیں ؟
وہ میں بریانی بنا رہی تھی ۔
واہ آپ کو تو بھائی کی پسند بھی معلوم ہوگئی ۔
میں ہیلپ کروں آپ کی ۔
تمہیں بنانی آتی ہے ۔
بنانی تو نہیں آتی مگر کوئی تھوڑی بہت ہیلپ کردوں گی میں ۔
وشمہ تم اس مس چمکادڑ کے ساتھ کیسے رہ کر آئی ہو ؟
مس چمکادڑ اس نے نا سمجھی سے ایبرو اچکائی تھی ۔
یہی مناہل !!! اس کے منہ کا زاویہ تبدیل ہوا تھا ۔
ہائے میری سویٹ بھابھی کونسا ٹاپک چھیڑ دیا آپ نے کیوں میرے زخموں کو ہرا کر رہی ہو ۔
دونوں کا زور دار قہقہہ بلند ہوا تھا ۔
بھابھی آپ تیار تو ہوجائیں بھائی آنے والے ہوں گے ۔
میں کیوں تیار ہوں؟
ہا آپ کو نہیں پتا شوہر کے دل پہ راج کرنا ہو تو پیارا پیارا تیار ہو کے رہنا پڑتا ہے ۔
مگر انہیں میں ایسے ہی اچھی لگتی ہوں ۔
یہ تو سب لڑکے کہتے ہیں ؟ مگر جب آپ تیار ہوں گی پھر دیکھنا ۔
اچھا میری ماں ہو رہی میں تیار رباشہ اور وشمہ چولہا بند کرکےکچن سے نکل گئے ۔
جبکہ پیچھے مناہل اپنی کارستانی کرتی بریانی میں نمک کا پورا پیکٹ الٹ گئی ۔
داد چاہیے نہ تمہیں! چلو اب لینا ضماہیر سے داد اپنے کارنامے پر خوش ہوتی وہ ضماہیر کے گھر آنے کا انتظار کرنے لگی ۔
